Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt NovelR40491 Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 06)
Rate this Novel
Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 06)
Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt
نور کو صبح چار بجے الارم بجنے کی وجہ ہوش آئی۔ وہ اٹھی وضو کر کے نماز پڑھی اور تیار ہو کر نیچے آگئی۔ ناشتہ کر کے یونی کے لیے روانہ ہو گئی۔
@@@@@@
عالیار بھی یونی پہنچ چکا تھا۔ اسے آج مکمل یقین تھا کہ آج نور یونی نہیں آئی گی کیونکہ جو کل ہوا وہ اسی صدمے سے باہر نہیں نکلی ہوگی۔ آرزو یونی آ چکی تھی۔ لیکن نہ اس نے عالیار کو دیکھا اور نہ عالیار نے اسے دیکھا۔۔
نور بھی یونی پہنچ چکی تھی۔ لیکن آج عالیار گیٹ پر کھڑا نہیں تھا_ اس سے اس کو کچھ خاص فرق نہیں پڑا۔ وہ کلاس کی طرف جا رہی تھی۔ عالیار اور اس کے دوست کینٹین پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے ایک دوست نے نور کو وہاں سے جاتے ہوئے دیکھ لیا۔ ” بھائی! وہ دیکھو بھابھی جا رہی ہیں” اس سے پہلے عالیار نور کو دیکھتا نور کلاس روم میں جا چکی تھی۔ ” ارے تو پاگل ہو گیا کہاں ہے نور تو نے اس کا بھوت دیکھ لیا ہوگا ” عالیار کی اس بات پر اس کے سارے دوست ہنس پڑے_ نور کلاس روم میں آئی تو آرزو وہی تھی۔ نور نے جا کر آرزو سے سلام لیا۔ ” نور تم آج بھی آگئی یونی ” آرزو نے حیرانگی سے پوچھا ” تو کیا نہ آتی ویسے بھی کل جو ہوا وہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گا” نور نے جواب دیا۔ ” “اچھا چلو کینٹین پر چلتے ہیں کچھ کھا لو میں” آرزو نے کہا۔۔ نور اور آرزو کینٹین کی طرف آرہے تھے۔ عالیار اور اس کے دوست وہی بیٹھے ہوئے تھے۔ ” بھائی وہ دیکھو” اس کے ایک دوست نے پیچھے کی طرف اشارہ کیا_ ” کیا ہے پیچھے ” عالیار نے پیچھے دیکھا تو وہاں نور کھڑی تھی۔ ” یہ اسے گھر پر چین نہیں ہے کیا؟؟ ” عالیار دانت پیستے ہوئے بولا۔ ” “مجھے لگا تھا کہ یہ پورا مہینہ کالج نہیں آئے گی پر یہ تو اگلے دن ہی آگئی۔رکو اس سے بات کر کے آتا ہوں” عالیار کو اپنی طرف آتا دیکھ نور کلاس روم کی طرف بڑھ گئی۔ آرزو بھی جا چکی تھی۔ عالیار کو اس کی اس حرکت پر بہت غصہ آیا لیکن اب وہ جا چکی تھی_ کلس میں عالیار نور کے سائیڈ والے ٹیبل پر جا کر بیٹھ گیا_ لیک۔ نور نے اسے دیکھنا تک گورا نہ کیا_ عالیار کو بہت غصہ آیا اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ اس کی جان لے مگر کلاس میں ہونے کی وجہ سے چپ چاپ بیٹھا رہا۔ لیکچر کر دوران عالیار نے کافی دفعہ نور کی طرف دیکھا لیکن اس نے اسے ایک دفعہ بھی نہ دیکھا اور اپنے کام میں مگن رہی_ کلاس ختم ہونے کے بعد نور فوراً باہر چلی گئی۔ عالیار بھی اٹھا اور اس کے پیچھے گیا۔ ” رکو میری بات سنو” عالیار نے نور کو بلایا پر نور نہ رکی اور گیٹ سے باہر چلی گئی۔پیچھے عالیار کو خوب غصہ آیا اور اس نے اپنے دانت پیستے ہوئے بولا ” اکڑو کہی کی” اور وہ بھی چلا گیا۔
@@@@@@
اگلے دن نور نیچے آئی ناشتہ کر نے کے لیے۔ ” نور” صالح نے بلایا_ ” جی بھائی” نور نے جواب دیا۔ ” وہ یار آج یونی نہ جاؤ اور بھابھی کے ساتھ شاپنگ پر چلی جاؤ آج میری بہت ایمپوڑٹنٹ میٹینگ ہے ورنہ میں چلا جاتا” صالح نے اصل مدہ بیان کیا_ نور آج یونی جانا ہی نہیں چاہتی تھی اور نہ چاہتی تھی کہ اس کا آمنہ عالیار سے ہو۔ اس لیے اس نے ہاں کہہ دیا۔ اوپر کمرے میں آئی اور آرزو کو فون کیا۔ ” آرزو آج میں یونی نہیں آئوں گی” ” کیوں؟؟'” آرزو کے سوال پر نور نے ساری بات اسے بتائی۔۔ ” چلو ٹھیک ہے” آرزو نے کہا اور فون بند کر دیا۔ کچھ دیر بعد نور نیچے آئی اور حریم سے کیا ” بھابھی چلیں” ” ہاں چلو” حریم نے جواب دیا_ آرزو یونی پہنچ چکی تھی۔ عالیار اس کے پیچھے سے آکر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہا ” وہ تمھاری دوست نور کہاں ہے؟؟” ” گھر پر” آرزو نے کہا۔ ” یونی کیوں نہیں آئی آج ؟؟” عالیار نے ایک اور سوال پوچھا ” مجھے نہیں پتا” آرزو لا علمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلاس کی طرف بڑھ گئی۔ عالیار بھی کلاس کی طرف بڑھ گیاحریم اور نور بازار سے واپس آئی اور نور سب کو سلام کر کے کمرے میں چلی گئی۔ جب کہ حریم ان کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی
@@@@@
اگلے دن نور یونیورسٹی آئی۔ عالیار بھی اس کے کچھ ہی دیر بعد پہنچ گیا۔” تم کل یونی کیوں نہیں آئی تھی؟؟ ” عالیار نے سوال کیا نور سے لیکن وہ جواب دیتا بغیر ہی آگے بڑھ گئی۔۔ عالیار کو غصہ اور دل میں سوچا ” آج تو اسے میں چھوڑو گا نہیں” __
