231.1K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 03)

Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt

“نور تم یونی کے فنکشن پر کیوں نہیں جاؤ گی؟؟”صالح نے نور سے سوال پوچھا”بھائی آپ کو پتہ ہے نہ کہ میں نے کبھی نائٹ فنکشنز اٹنینڈ نہیں کئے اور یہ بھی آج رات کو ہے اس لیے نہیں جاؤ گی” نور نے جواب دیا۔”چلو ٹھیک ہے جیسی تمھاری مرضی” صالح نے جواب دیا۔”بھائی بھابھی کہاں ہیں؟؟” نور نے سوال کیا”تمھاری بھابھی کی کچھ طبعیت ٹھیک نہیں تھی اس لیے مڈیسن لے کر سوئی ہیں-” صالح نے جواب دیا”اللہ انھیں صحت دے میں اپنے کمرے میں جارہی ہوں کچھ دیر آرام کرنا چاہتی ہوں کافی تھکن ہو گئی ہے” نور نے کہا۔””ٹھیک ہے گڑیا” صالح نے پیار سے جواب دیانور اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد امی کمرے سے باہر آئی۔”بیٹا نور نہیں آئی ابھی تک” امی نے صالح سے سوال پوچھا “امی آگئی ہے اوپر اپنے کمرے میں ہے” صالح نے جواب دیا۔ “اچھا ٹھیک ہے اسے کہو کہ آکر کھانا کھا لیں”امی نے کہا”امی اس نے کہا ہے کہ آج وہ بہت تھک گئی ہے اس لیے آرام کرنا چاہتی ہے میں بھی اپنے کمرے میں جارہا ہوں” صالح نے کہا۔ “ٹھیک ہے میرا بیٹا جاؤ تم بھی آرام کرو” امی نے پیار سے کہا”جی ٹھیک ہے امی” صالح کہہ کر چلا گیانور کمرے میں آئی۔ظہر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا۔اس لیے فورآ کپڑے بدلے اور نماز ادا کی دعا منھ کر جائے نماز سے اٹھی اور صوفے پر بیٹھ گئیاس کے ذہن میں عالیار کا خیال آیا”کتنا اکڑو ہے ایک دفعہ کہنے کے باوجود بار بار میرے پیچھے آ جاتا ہے پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتا ہے پوری یونی اس سے ڈرتی ہو گی پر میں بھی نور درانی ہوں میں اس سے نہیں ڈرتی شائید ابھی وہ جانتا نہیں مجھ کو”نور خود سے گویا تھی۔وہ خود سے باتیں کر ہی تھی کہ آرزو کا فون آیا۔”اسلام علیکم” آرزو نے کہا”وعلیکم السلام” نور نے جواب دیا”کیا حال ہے؟؟”آرزو کی طرف سے سوال کیا گیا”الحمدللہ رب کا شکر ہے” نور نے جواب دیا”نور آج یونی کے نائٹ فنکشن کا پتہ ہے نہ ” “ہاں آرزو مجھے پتہ ہے”نور نے جواب دیا_ “تم آؤ گی نہ” آرزو نے کہا۔ “نہیں” “کیوں؟؟” “تم اچھے طریقے سے جانتی ہو-“نور نے جواب دیا۔ “پلیز آجاؤ” آرزو نے اصرار کیا”بالکل بھی نہیں ” نور نے جواب دیا”پر” اس سے پہلے کہ آرزو بات مکمل کرتی نور بولی “آرزو اس وقت میں بہت تھکی ہوئی ہوں آرام کرنا چاہتی ہوں اس لیے خدا حافظ!” کہہ کر آرزو نے فون بند کر دیا__


رات کو یونی میں فنکشن سٹارٹ ہو چکا تھا۔تمام سٹوڈنٹس وہاں موجود تھے۔عالیار شاہ اور اس کے دوست بھی پہنچ چکے تھے۔آرزو بھی آئی تھی اور اپنی دوسری فرنڈز کے ساتھ تھی۔پوری یونی کی لڑکیاں موجود تھی۔ لیکن عالیار کی نظریں صرف “نور” کو تلاش کر رہی تھیلیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ نور فنکشن میں نہیں آئی تھیاس کو جب کہیں بھی نور نہ ملی۔۔لیکن اچانک اس کی نظر آرزو پر پڑھی۔وہ اس کے پاس گیا “سنو تمھاری وہ دوست کہاں ہے؟؟” عالیار نے آرزو سے پوچھا۔ “کون” آرزو نے انجان بننے کا ناٹک کیا“تم اچھی طرح جانتی ہوں میں کس کی بات کر رہا ہوں؟” عالیار نے کہا“اچھا وہ نور وہ نہیں آئی” آرزو نے کہا۔ “کیوں؟؟” عالیار نے حیرانگی سے پوچھا“کیونکہ کہ وہ اس طرح کی نائٹ فنکشنز اٹنینڈ نہیں کرتی” آرزو نے اسے بتایا_یہ سن کر عالیار وہاں سے چلا گیا


رات کو کھانا کھانے کے لیے سب کھانے کی میز پر جمع ہوئے۔”بھابھی! اب کیسی کی طبیعت ہے آپ کی؟؟؟” نور نے حریم سے پوچھا“نور اللہ کا شکر ہے کہ اب کافی بہتر ہے میری طبیعت۔”“چلو اللہ صحت دے” نور نے جواب دیا_”نور آج تم نے کھانا کیوں نہیں کھایا دوپہر کا؟؟” امی نے فکر کرتے ہوئے پوچھا۔۔”ہاں بھئی نور کیوں نہیں کھایا؟؟” ابو نے پوچھا“امی ابو آج مجھے کافی تھکن ہو گئی تھی اس لیے سو گئی تھی.بھوک نہیں لگی تھی اس لیے” نور نے انھیں جواب دیا“چلو کوئی بات نہیں” ابو نے کہا۔


اگلے دن نور کالج آئی لیکن آج وہاں عالیار نہیں تھا اس نے غور نہیں کیا اور آگے بڑھ گئی۔دراصل عالیار آج لیٹ ہو گیا تھا۔ نور کلاس روم میں جا چکی تھی۔عالیار بعد میں پہنچا۔ کلاس حتم ہونے کے بعد نور کلاس سے باہر نکلی اور گیٹ کی طرف بڑھی۔لیکن عالیار اس کے سامنے آکے کھڑا ہو گیا اور اسے روک لیا۔ “یہ کیا بدتمیزی ہے” نور غصہ سے بولی_عالیار نے اس کے سوال پر غور نہیں کیا اور پوچھا “تم رات کو کیوں نہیں آئی تھی” “آپ سے مطلب اپنے کام سے کام رکھیں” نور کہتے ہوئے گیٹ سے باہر چلی گئی۔۔۔


اگلے دن نور یونی پہنچی تو عالیار پھر وہی کھڑا تھا۔ نور اسے اگنور کرتی ہو آگے بڑھ گئی۔عالیار کو غصہ تو بہت آیا پر غصہ پر قابو پا کر اس کے پیچھے گیا۔ “ارے رکو سہی” عالیار نے کہا۔ “کیا کام ہے ” نور غصے سے بولی۔ آپ سے کچھ کام ہے” عالیار نے کہا۔۔ “کیا کام” “وہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ نور اس کی بات سنے بغیر آگے بڑھ گئی۔عالیار نے اس کا ہاتھ پکڑ اسے روکنا چاہا۔۔ نور پلٹی اور اس کے چہرے پر زور سے تھپڑ مارا_