61.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8 Part 3

تو دل سے نہ اتر سکا از عینا بیگ
آٹھویں قسط (تیسرا پارٹ)
“امی ابا سے ملنے کب جاؤ گی؟ وہ پوچھ رہی تھیں تمہارا۔”
“ابھی وقت نہیں۔۔ کوشش کروں گی کہ اتوار کو چلی جاؤں۔”
“اور مجھ سے ملنے کب آؤ گی؟۔” لہجے میں اپنائیت تھی۔
“جب حالات ہمیں ملوادیں۔” اس بار عشنا کھلکھلائی تھی۔ وہ ابھی مزید کچھ کہتی کہ فون کی دوسری طرف اسے چیخ و پکار کی آواز سنائی دی۔ “یہ کیا ہورہا ہے؟۔” وہ چونکی۔
“یہ تو باریال بھائی کی آواز تھی۔” غنایہ کو بوکھلانا عشنا کی پریشانی میں اضافہ کر گیا۔ اس کے ساتھ ہی مزید چیخنے کی آوازیں آنے لگیں تو وہ بری طرح گھبرا گئی۔ “میں دیکھتی ہوں۔” کمرے کا دروازہ لاک تھا۔
“کال مت کاٹنا۔ میرے ساتھ رابطے میں رہو۔” اس نے تیزی سے تنبیہ کی۔
غنایہ ابھی دروازے کی جانب بڑھتی ہی کہ کسی نے دستک دے کر تیزی سے دروازہ کھولا۔ اجنبی چہرے کو دیکھ کر وہ خوف سے چیخ اٹھی۔ وجاہت نے اسے بری طرح بدک کر دور ہٹتے ہوئے دیکھا۔ کانوں سے لگا فون فرش پر گر کر ٹوٹ گیا۔ آہستگی سے اسے دیکھتے ہوئے وہ اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔
“میرے قریب مت آنا۔” وہ چیخ کر گھبراتی ہوئی دیوار سے لگ گئی۔ ہونٹ لرزنے لگے۔
“کیسی ہو غنایہ۔” وہی مخصوص مسکراہٹ۔
“تت۔تم کون ہو؟۔” وہ زور سے چیخ کر بولی۔
“میں؟۔” اس نے اپنی طرف اشارہ کیا۔ “تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔۔ میں ساویز کا پرانا دوست ہوں!۔” ہاتھ میں پکڑ پستول پر اس نے انگلی رگڑی۔ غنایہ نے اس کی ہری آنکھوں میں ایک غصہ دیکھا۔
“میرے قریب مت آنا خدارا! میں مر جاؤں گی۔” ہونے کپکپا رہے تھے جس کی وجہ سے الفاظ صحیح سے ادا نہیں ہوسکے۔ آنسوؤں نے رخسار کا رخ کیا۔ وہ دیوار سے گویا چپک کر کھڑی تھی۔ اس کے کنارے سے ہوتے ہوئے وہ باہر کی جانب بھاگنے لگی جب وجاہت تیزی سے اس کے آگے آکر کھڑا ہوا۔
“میں تمہارے ساتھ کچھ نہیں کروں گا غنایہ! کم از کم میں بے غیرت نہیں!۔” چہرہ بلا کا سنجیدہ تھا۔
“مجھے مت مارو۔۔” ہچکیوں کے درمیان وہ اس کی پستول کو دیکھتے ہوئے بولی۔ سنگھار میز کی کرسی کھینچ کر اس نے غنایہ کی طرف کچھ دور فاصلے پر رکھی، اور بیٹھ گیا۔
“یہ پستول۔۔۔” وہ ٹھہرا اور اپنے ہاتھ میں موجود پستول دیکھنے لگا۔ “یہ پستول میں کیوں لایا ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہا۔ تم غلط سمجھ رہی ہو! میں ساویز نہیں ہوں جو کسی لڑکی کا قتل کردوں۔” اس کا کہنا تھا کہ غنایہ کی آنکھیں ششدر ہوتے ہوئے پھٹیں۔ “تم محفوظ ہو۔۔ بس چند باتیں ہیں! جو میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں۔”
“کون سی بات؟۔” وہ سسکتے ہوئے دور ہٹی۔
وجاہت مسکرایا تھا۔۔ مگر یہ مسکراہٹ بھی عارضی تھی۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ ماند پڑ گئی۔
“چلو پھر میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں! سنو گی؟۔” اس کا لہجہ بے حد ٹھہرا ہوا تھا۔ آخری میں اس نے سوال کیا مگر غنایہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ہنس پڑا۔ “اس سوال کی کوئی تک نہیں! تمہیں یہ کہانی سننی ہی پڑے گی۔”
“میری ایک بہن ہے۔۔ کائنہ!۔” لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ پھیلی۔۔ شاید یہ بہن کے ذکر کا جادو تھا۔ غنایہ پیشانی پر الجھے تاثرات پھیلائے اسے دیکھنے لگی۔ “کائنہ سلطان! ایک بے حد خوبصورت لڑکی جس کے اندر اس کی بھائی کی جان ہے۔ میرے لبوں کی مسکراہٹ ہے۔”
غنایہ کو اس کا یہ سب بتانے کا مقصد سمجھ نہ آیا۔ نجانے کیوں وہ اس کی کہانی بہت غور سے سن رہی تھی۔
“میری اکلوتی بہن! جس کے منہ سے نکلے ہر لفظ کو میں نے پورا کیا ہے۔۔ اور اس کو اپنے ہاتھوں سے ہی دفنا دیا۔” آخری جملے میں غنایہ کی آنکھیں بے یقین سے پوری کھلیں۔ وہ سہم سی گئی۔ یہ چھوٹی سی داستان کتنی خوفناک معلوم ہوتی تھی۔
“وہ مر گئی۔۔” زخمی مسکراہٹ کے سہارے وہ کہہ پڑا۔ “مگر اسے مارا گیا تھا۔ اس کے سینے میں ایک اور کندھوں پر دو گولیاں گھسی ہوئی تھیں۔” آنکھیں سرخ ہونے لگیں اور اسے لگا وہ جلد آنسوؤں سے بھر جائیں گی۔ غنایہ کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑا۔
“جانتی ہو اس کا قتل کس نے کیا؟ ساویز خانزادہ نے!۔” اس نے دانت پیس کر الفاظ ادا کیے۔ غنایہ کو اپنے نیچے سے زمین کھسکتی ہوئی محسوس کوئی۔ حیرت اور بے یقینی کا ایک پہاڑ اس کے سر پر ٹوٹا تھا۔ اس نے کچھ کہنا چاہا مگر الفاظ حلق میں اٹک گئے۔ یہ کیسے ممکن تھا؟ ایسا ہو ہی نہیں سکتا! ساویز کسی کرائم میں ملوث ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔ اتنے عرصے میں وہ اس کی فطرت، عادات اور مزاج سب جان چکی تھی اور اسے ساویز کے کسی بھی روپ میں ‘قاتل’ نظر نہیں آیا تھا۔
“جھوٹ کہتے ہو تم!!۔” وہ کپکپاتے ہوئے بولی۔ “میں جانتی ہوں انہیں، ساویز کبھی ایسا نہیں کرسکتے! یہ بہتان ہے۔” وہ سسکتے ہوئے رو پڑی۔
“کوئی میری بات کا یقین ہی نہیں کرتا۔۔ سب کہتے وجاہت جھوٹ کہتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ میں ایک مضبوط ثبوت نہیں دے پایا۔۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں ساویز کو قتل نہیں کر پاتا۔” وہ ضبط کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
“قتل؟۔” آواز حلق سے گھٹتے ہوئے نکلی۔ “تم ایسا نہیں کرو گے۔” وہ حلق کے بل چیخی۔ وجاہت کی یہ بات اس کا ہر خوف لمحے بھر کے لیے دور کر گئی۔ وہ بنا کچھ سوچے سمجھے چیخ پڑی۔
“اگر بنا سوچے سمجھے مجھے قتل ہی کرنا ہوتا تو اس وقت کا انتظار نہیں کرتا۔ جانتی ہو تم اس کی بیوی کیوں ہو؟ کیونکہ وجاہت سلطان اس کا دشمن ہے۔” سرخ ہوتی آنکھوں کے باجود وہ انتقاماً مسکرایا۔ “اگر وجاہت نہ ہوتا تو غنایہ بھی یہاں نہ ہوتی۔”
“تم ایسا کر بھی نہیں سکتے۔۔ کیونکہ تم جھوٹ کہتے ہو۔” وہ کسی صورت اس بات پر یقین نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وجاہت نے مڑ کا اس کا سفید پڑتا چہرہ دیکھا۔ یکدم ہی کمرے میں زور دار قہقہے کی آواز گونجنے لگی۔
“اپنا چہرہ دیکھو۔۔” پستول کی نوک سے اس نے غنایہ کے چہرے کی جانب اشارہ کیا۔ “یہ بات تمہارے دل میں ٹھہر چکی ہے مگر تم اسے ماننا نہیں چاہتی۔ محبت واقعی ایک ظالم چیز ہے۔” اس نے بے چارگی سے نفی میں سر ہلایا۔ “محبوب کا قصور بھی ماننے کو جی نہیں چاہتا۔”
“اس بار وہ خاموش رہی۔ وجاہت جانے کو پلٹ رہا تھا جب کسی بات نے اس کے قدم روکے۔
“آج کے بعد سے تم وجاہت سلطان کو اپنی کہانی کا ولن سمجھو گی۔” وہ انکشاف کر رہا تھا۔ ایک افسوس جو وجاہت کے چہرے پر ٹھہر گیا۔ “مگر یہ بھی جاننے کی کوشش کرنا کہ اگر تمہاری کہانی کا ولن ‘میں’ ہوں! تو وجاہت سلطان کی کہانی کا ولن کون ہوگا؟۔” یہ ایک ذو معنی جملہ تھا جو اس نے ادا کیا تھا۔ قدم پلٹ گئے۔۔ وہ جیسے اوپر آیا تھا نیچے کی جانب بڑھ گیا۔
زینے اترتے ہوئے اس نے لاونج کی صورتحال پر نگاہ دوڑائی۔ چھوٹے بچے کی ناک سے خون اب فرش خراب کر چکا تھا۔ باریال دیوار سے ٹیک لگائے سن بیٹھا تھا۔ ملازمہ خالہ اور چوکیدار صوفے پر سہمے ہوئے بیٹھے تھے۔ وجاہت کا ارادہ رکنے کے بجائے سیدھا باہر نکل جانے کا تھا مگر اس چھوٹے لڑکے نے اسے رکنے پر مجبور کیا۔
“اسے کیوں مارا ہے؟۔” ماتھے پر سختی پھیلی۔ خرم ڈگمگایا۔
“اس نے ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی باس!۔” وہ جانتا تھا کہ اگر وہ یہ جھوٹ نہیں بولے گا تو وجاہت یقیناً خرم پر برس اٹھے گا۔ اس مبالغہ آرائی پر باریال نے خرم کو سر اٹھا کر دیکھا۔
“ایک چھوٹا بچہ تمہیں کیا نقصان پہنچائے گا؟ شرم کرو!۔” باریال نے دانت پیسے۔
وجاہت اس کی بات نہ سمجھتے ہوئے تیزی سے باہر بڑھ گیا۔ وہ جانتا تھا غنایہ چاہے جتنا بھی کہہ دے کہ ساویز مجرم نہیں مگر وجاہت کی یہ بات اس کے دل میں شک پیدا کر گئی ہوگی۔۔ اور یہی تو وجاہت چاہتا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“کیا مطلب ہے؟ بھلا ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟۔” وہ آفس کی عمارت کے باہر کھڑی اپنی گاڑی کا انتظار کر رہی تھی جو گارڈ لینے گیا تھا۔
“مجھے نہیں معلوم عاشی! اس نے ایسا کیوں کہا۔۔ مگر مجھے یقین ہے۔ ساویز ایسا کبھی نہیں کرسکتے۔ وہ ایسے نہیں ہیں! وہ ٹھنڈے مزاج کے مرد ہیں۔” اس کے رونے کی آواز وہ دوسری جانب بھی سن سکتی تھی۔
عاشی نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔
“کیا اس وجاہت نامی شخص نے اپنی مقتولہ بہن کا نام بتایا؟۔” دماغ وہیں جا اٹکا تھا۔ بھلا کوئی بھی شخص کسی پر اتنا بڑا الزام آسانی سے کیسے لگا سکتا ہے؟۔
“کائنہ۔۔” ساتھ ہی ہچکی بندھ گئی۔ “مجھے بہت زیادہ رونا آرہا ہے۔”
“اچھا میں مزید کوئی سوال نہیں پوچھ رہی۔ رونا بند کرو اور اپنا حلیہ ٹھیک کرو۔ ساویز آتے ہی ہوں گے۔” کسی بات کو سوچتے ہوئے اس نے جلدی سے کہا اور پیشانی کجھاتے ہوئی کال رکھ کر اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گئی۔ یہ سچ ہے یا جھوٹ!! اس بارے میں ایک شخص ضرور بتا سکتا تھا۔
خدشے جنم لینے لگے۔۔ ایک ڈور تھی جو الجھ رہی تھی۔ موبائل پر کال ملاتے ہوئے اس نے فون کان سے لگایا۔
“ہیلو؟۔” کال اٹھا لی گئی تھی۔ گھمبیر آواز ابھری۔
“مجھے تم سے ابھی فوراً ملنا ہے۔ پلیز منع مت کرنا۔” آخری بار ان کی ملاقات جس طرح اختتام پائی تھی، اس کے بعد عشنا کا التجا کرنا ضروری تھا۔
دوسری جانب چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
“کہاں؟۔” مختصر سا سوال۔
“میں ایڈرس بھیج دیتی ہوں۔ جتنی جلدی ہو سکے وہاں پہنچنے کی کوشش کرنا۔” بات مکمل کر کے اس نے کال کاٹی اور ایڈرس اسے سینڈ کیا۔ پیشانی پر اس بات کو لے کر عجیب تاثرات پھیلے ہوئے تھے۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک شخص گھر میں گھس کر اس کی بیوی کو خبر دے۔ بھلا وہ ایسا کیوں کرے گا؟ طرح طرح کے سوالات اس کے سر پر سوار ہونے لگے تو وہ سر جھٹکتی ہوئی گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اس نے غنایہ کو صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھے دیکھا۔ جوتے اتارے بغیر ہی وہ تیزی سے اس کی جانب بڑھا اور پاس بیٹھ گیا۔ ہلکی ہلکی سسکیاں اب بھی گونج رہی تھیں جو اس بات کی گواہ تھیں کہ غنایہ گہری نیند میں نہیں ہے۔ شاید وہ روتے روتے اب نیند کی وادیوں میں داخل ہو رہی تھی۔ رخسار پر ٹھہرا آنسو پرانا نہیں تھا۔ ساویز بنا کچھ سوچے ہی اس کے رخسار پر ہاتھ پھیرا۔ وہ کسی کی موجودگی محسوس کرتی ہوئی خوف سے اٹھ کر بدکتے ہوئے دور ہٹی۔ وجاہت کا خوف اب بھی اس کے حواسوں پر سوار تھا۔ آنکھیں کھلتے ہی ساویز کا چہرہ نظر آیا تو آنسوؤں کا لمبا سلسلہ دوبارہ سے جاری ہوگیا۔
“تم ٹھیک ہو؟۔” وہ زیادہ کچھ کہہ بھی نہ سکا۔
“وہ جھوٹ کہتا ہے کہ آپ نے اس کی بہن کا قتل کیا ہے۔” یہی ایک جملہ وہ بار بار دہرا رہی تھی۔۔ نجانے وجاہت کے کہنے میں کون سی سچائی تھی کہ وہ مزید کچھ سوچ نہیں پا رہی تھی۔
ساویز ششدر ہوا۔ چہرہ سفید پڑنے لگا تو وہ تیزی سے اٹھ کر کھڑا ہوا۔
“وجاہت نے تم سے۔۔۔ یہ کہا ہے؟۔” جس بات کا ڈر تھا گویا وہ مکمل ہی ہوگئی تھی۔ غنایہ نے تیزی سے اثبات میں سر ہلایا۔
“آپ نے ایسا کیا ہے؟۔” وہ اب اس سے جاننا چاہتی تھی۔ چہرہ صاف تھا۔۔ آنسو خود ہی صاف کرتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے ساویز کو دیکھا جو بے یقینی سے غنایہ کو دیکھ رہا تھا۔
ایک یہی سوال۔۔ جس کو وہ مزید نہیں سہنا چاہتا تھا اور آج غنایہ نے بھی اس سے یہی سوال کیا تھا۔ آنکھیں سرخی مائل ہوگئیں۔
“تمہیں کیا لگتا ہے؟۔” اس نے جان کر غنایہ سے پوچھنا چاہا کہ وہ اس بارے میں کیا سوچتی ہے۔
“یہ سب الزام ہے! ہے نا؟۔”
“ساویز نے اس کو موت کی گھاٹ نہیں اتارا غنایہ۔۔” وہ بے خودی میں بولا۔ غنایہ کا دل سکون سے بھرنے لگا۔
“میں جانتی ہوں مگر اس نے ایسا کیوں کہا ساویز۔۔”
“اسے لگتا ہے کہ کائنہ کو میں نے مارا ہے۔۔ حالانکہ اس بات کا ایک مضبوط ثبوت اس کے پاس بھی نہیں۔ کیا کوئی قاتل ایسی سکون بھری زندگی گزار سکتا ہے؟ اس قدر اطمینان سے؟۔” غنایہ اس کی زندگی کی پہلی لڑکی تھی جس کے آگے وہ سب واضح دے رہا تھا۔۔ اپنے کردار کی صفائی دے رہا تھا۔
“میں جانتی تھی! آپ ایسا نہیں کرسکتے۔۔ وہ شخص ہمارا رشتہ خراب چاہتا ہے محض کچھ بھی نہیں۔” اس کے پیچھے وہ بھی کھڑی ہوئی۔ ساویز نے اس کو کلائی سے تھام کر اپنے نزدیک کیا۔
“تم ٹھیک ہو؟ میں بہت زیادہ گھبرا گیا تھا۔” دل کی تکلیف کا اندازہ ہوا تو اس کی زلفوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“خالہ نے بتایا کہ باریال بھائی نوفل کو ہسپتال لے کر گئے ہیں۔۔ جانے وہ گھر میں کیسے گھس آئے اور اس کے پاس پستول بھی تھی۔ میں بھی بہت ڈر گئی تھی ساویز۔۔” آنکھوں میں جگنو چمکے۔
“اور میں تمہارے ڈر سے ڈر گیا تھا۔ تمہیں کہا تھا نا میں نے کہ کوئی ساویز کی بیوی کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تمہیں مجھ پر بھروسہ ہے۔” اس کا سر اپنے سینے سے ٹکاتے ہوئے وہ بےحد جذب سے بولا۔
“میں اب خوفزدہ نہیں ہوں کیونکہ آپ آگئے ہیں۔ آفس تو نہیں جائیں گے دوبارہ؟۔” دل مطمئن ہوگیا۔
“مجھے جانا ہے۔۔ مگر آفس نہیں!۔”
“کہاں؟۔” وہ گھبرائی۔
“اسی سلسلے میں کسی سے ملنا ہے لیکن تم فکر مت کرو! زیادہ دیر باہر نہیں رہوں گا اور تمہارے پاس دوبارہ آجاؤں گا۔ تم اب مزید نہیں رو گی۔ اب خطرہ نہیں ہے۔۔” وہ بھوری آنکھیں اور معصوم چہرہ اس کی جان لینے لگا۔ اس نے رخ موڑ کر خود کو سنگھار میز کے آئینے میں دیکھا۔ آنکھیں شدت ضبط سے لال ہو رہی تھیں۔ چہرے پر بلا کی سختی اور سنجیدگی تھی۔
“میں آپ کا انتظار کروں گی۔ نوفل کیسا ہے؟۔” شاید کہ اسے معلوم ہو۔
“اس کی ناک پر چوٹ آئی ہے۔ باریال بھی گھر آجائے گا اور تم مزید کمرے میں مت ٹھہرنا۔ یہاں رہو گی تو ان سب باتوں کو سوچتی رہو گی۔ میں خالہ کو سمجھا جاتا ہوں۔” وہ اس سے دور نہیں ہٹنا چاہتی تھی مگر ساویز کو جانا تھا۔ وہ مزید یہاں فالحال نہیں رکنا چاہتا تھا۔ میز سے چابی اٹھاتے ہوئے اس نے ایک نظر آئینے کے عکس میں بستر پر بیٹھتی غنایہ کو دیکھا۔ پر مطمئن تاثرات کے ساتھ وہ لیٹ کر آنکھیں موند گئی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“تم اب بھی ناراض ہو؟۔” پانچ منٹ اوپر ہوگئے تھے مگر دونوں کے درمیان اب تک کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔
“پتا نہیں۔۔ کیا یہ کافی نہیں کہ تمہاری پہلی آواز پر تم سے ملنے چلا آیا؟۔” ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھے ہوئے میرویس نے کچھ سنجیدگی سے کہا۔
“عجیب ہے۔۔” یہ سب واقعی عجیب تھا۔
“بہت عجیب۔۔”
“مجھے برا لگا تھا۔”
“اور مجھے خوشی نہیں ہوئی تھی۔”
“میں تمہیں ثابت کر کے دکھاؤں گی کہ مینجر بلکل ٹھیک کہتے ہیں۔ وہ کانٹریکٹ کے بعد رافع کو نکالیں گے۔”
“اگر کل کنٹریکٹ ہوا تو۔۔۔” میرویس نے دھیرے دھیرے الفاظ مکمل کیے۔ وہ چونکی اور پھر شرمندہ ہوگئی۔
“ہاں اگر وہ ہوگیا۔” اس دن میرویس یہ بات واضح کر چکا تھا کہ وہ کانٹریکٹ نہیں ہونے دے گا۔ “مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔”
“تمہیں اجازت لینے کی ضرورت کب سے پڑنے لگی؟۔”
“مجھے لگتا ہے میں تمہیں بہت جلد بازی میں بلا لیا۔ حالانکہ ابھی غنایہ سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے! وہ محض کچھ الزامات ہیں مگر میرا دل مطمئن نہیں ہو رہا۔”
“سب ٹھیک ہے؟۔” وہ چوکنا ہوا۔
“وجاہت سلطان کون ہے میرویس؟۔” یہ اس کا پہلا سوال تھا۔ وہ ٹھہر کر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
“کیا ہوا ہے؟۔” خطرے کی گھنٹی بجنے لگی۔ تو کیا غنایہ اور عشنا دونوں کو ہی معلوم ہوگیا تھا؟۔
“میرے سوال کا جواب دو۔”
“میرا اور ساویز کا یونیورسٹی فیلو ہے۔ ہم تینوں بہت گہرے دوست رہ چکے ہیں۔۔ ولیمے والے دن وہ ہال میں اپنے گارڈز کے ساتھ آیا تھا۔” وہ پہچان جانے کے قریب تھی۔
“کیا وہ ہری آنکھوں والا؟۔”
“ہاں۔” اس نے گہری سانس خارج کی۔
“اس کی بہن کیسے مری تھی؟ میں جاننا چاہتی ہوں۔” سوالوں میں سب سے اہم سوال۔۔
“ہوا کیا ہے؟ میں اب جواب نہیں دوں گا اگر تم نے نہیں بتایا۔” اس نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی۔
“وجاہت نے کہا کہ اس کی بہن کا قتل ساویز نے کیا ہے! میں ہمارے رشتے کو کیا نام دوں سمجھ نہیں آرہا مگر مجھے سچ جاننا ہے میرویس! غنایہ نے مجھے سب بتایا ہے اور میں بہت پریشان ہوں۔” حالانکہ غنایہ نے کچھ دیر پہلے کال کر کے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ ساویز سے سب کچھ پوچھ چکی ہے اور یہ سب جھوٹ ہے۔
“پہلی بات! ساویز نے اس کی بہن کا قتل نہیں کیا ہے۔”
“مگر یہ کوئی عام سی بات نہیں کہ کوئی بھی اٹھ کر الزام لگادے۔” عشنا نے تیزی سے کہا۔
“ہاں مگر کوئی کیوں یقین کرے جب وجاہت کے پاس کوئی ثبوت ہی نہیں؟ تمہیں اس بکواس میں نہیں پڑنا چاہئیے بس یہ یاد رکھو کہ یہ جھوٹ ہے، کہانی ہے! وہ غلط سمجھتا ہے اور یقینا اسے مستقبل میں اپنے لگائے گئے الزام پر افسوس بھی ہوگا۔” وہ گویا بات ختم کرنے کے انداز میں بولا۔ عشنا لاجواب ہوئی۔
“تم سچ کہہ رہے ہو نا؟۔” ایک عجیب سا ڈر دل میں پیدا ہوا۔ کافی پیتے میرویس نے ایک آئبرو اچکا کر اسے حیرت سے دیکھا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے؟۔” اسے میرویس پر بھروسہ تھا یا نہیں۔۔
“تم جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔” وہ ٹھہر کر بولی۔ میرویس دل ہی دل میں مبہم سا مسکرادیا۔
“میرا یقین کرو۔۔ اس نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا عاشی! ساویز ایسا کر ہی نہیں سکتا۔ وہ لڑکی اسے پسند کرتی تھی مگر ساویز نہیں۔۔ تو کیا ساویز نے اسے اس لیے مارا؟ حد ہے۔۔”
“بس میں تھوڑا گھبرا سی گئی تھی۔۔ غنایہ بہن ہے میری شاید اس لیے۔۔ تمہارا بہت شکریہ!۔” وہ مبہم سا مسکرا دی۔ اب ایک اور پہاڑ سر کرنا تھا۔۔ عشنا کے پوچھنے کی بھی ہمت نہ ہوئی کہ کیا اس کی کمپنی کانٹریکٹ کرے گی؟ یا نہیں۔۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں داخل ہونے کی۔۔” وجاہت کا گریبان اس کے ہاتھ میں تھا۔ دھاڑ پورے کمرے میں گونجنے لگی۔ وجاہت نے ساویز کی جانب لپکتے گارڈز جو رکنے کا اشارہ دیا۔
“حالانکہ تمہیں تو شکریہ ادا کرنا چاہئیے کہ میں نے اسے مارا نہیں۔۔” ذو معنی لہجے میں کہتا ہوا وہ دھیرے سے مسکرایا۔ “تمہیں برا لگا؟۔”
“کیا لگتا ہے تمہیں؟ کائنہ کو میں نے مارا ہے؟ ٹھیک ہے مارو مجھے! رکھو یہ پستول میری کنپٹی پر اور چلاؤ گولی۔۔ لیکن اگر میرے گھر کی عورت پر نگاہ رکھی تو میں چھوڑوں گا نہیں وجاہت!۔” وہ اس کا گریبان چھوڑ کر دور ہٹا اور پوری قوت سے چیخا۔ اس کے روم کے باہر بیٹھے ایمپلائز ساویز کی آواز پر حیران تھے۔ وجاہت کے اشارے پر عادل نے گلاس وال پر پردے گرائے تاکہ باہر کی عوام اندر نہ دیکھ سکے۔ “مگر جانتے ہو سچ کیا ہے؟ تم مجھے مار ہی نہیں سکتے کیونکہ تمہارے اندر ہمت ہی نہیں ہے۔ اس رات جس شخص کو تم نے دیکھا وہ کوئی بھی ہوسکتا تھا۔۔ یہ پیچھے کھڑا تمہارا گارڈ عادل بھی ہوسکتا تھا اور تمہارا سب سے ‘بہترین’ اور خفیہ بندہ ‘خرم’ بھی۔۔” اس نے کہتے ساتھ ہی مڑ کر خرم کو دیکھا تھا جس کے چہرے پر ایک رنگ آکر گیا تھا۔ ساویز نے اسے ذو معنی نظروں سے گھورا۔ “میری بیوی سے دور رہو وجاہت ورنہ بیوی تو تمہاری بھی ہے۔۔” یہ جملہ جتنا عام سا تھا اتنا ہی گہرا ثابت ہوا۔
“پریزے کا نام بھی مت لینا۔” وجاہت کا چہرہ یکدم ہی سرخ ہوا۔ “میں وجاہت نہیں ہوں جو کسی سے انتقام کے چکر میں ان کی کمزوریوں کا استعمال کروں۔” تڑخ کر کہا گیا۔ “کب تک یوں اپنے گناہوں کو چھپا تک رہوں گے مسٹر خانزادہ! یہ بات کیسے ثابت کرسکتے ہو کہ جو گولی کائنہ کو مجھ سے دور کر گئی وہ اس پستول کی تھی جو میں نے اس دن تمہیں تھمائی تھی۔” ہری آنکھوں میں سرخی پھیل رہی تھی۔
“ایک اور کمزور ثبوت! یہ بات تمہیں اپنے خاص بندوں پوچھنا چاہئیے کیونکہ ان کے پاس اس سب کا جواب موجود ہوگا۔ تم جنہیں مخلص سمجھتے ہو، وہی تمہیں اندر سے کھا رہے ہیں۔” اس نے اپنا کوٹ اٹھا کر بے دردی سے پکڑا اور خرم کو دیکھتا ہوا پاس سے گزر کر باہر نکل گیا۔ خرم نے وجاہت کو دیکھا جس نے میز پر پوری قوت سے مکا مارا تھا۔
“وہ کبھی نہیں مانے گا باس!۔” خرم نے ہمت جمع کرتے ہوئے بلآخر کہا۔
“وہ کیوں نہیں اپنا جرم قبول کرتا۔” میز پر رکھے لیپ ٹاپ کو اس نے ہاتھ مار کر نیچے پھینکا۔
“ہمیں اسے شوٹ کردینا چاہئیے۔ اگر آپ کہیں گے تو یہ کام میں کردوں گا۔” اس کے دماغ میں بہت سی باتیں چل رہی تھیں۔ آج اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد وہ کم از کم ساویز کو مزید کچھ بولنے کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا۔۔ جبکہ دور کھڑا عادل خرم کو بغور دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے کا بدلتا رنگ وجاہت کی نظروں میں نہ آسکا مگر پاس کھڑا عادل اسے نوٹ کر گیا تھا۔
“یہ ناممکن ہے۔ اس کے کچھ بھی قبول کرنے سے پہلے میں ایسا نہیں کرسکتا۔” وہ وہیں کرسی پر بیٹھتا چلا گیا تھا۔۔پریزے نے اسے صرف ایک موقع دیا تھا اور اس کے بعد بھی وجاہت کا کام نہیں نکل سکا۔ ایک بار پھر ناکامی پر اس نے پوری قوت سے میز پر مارا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
ایک مشکل ٹلی نہیں تھی کہ دوسری آکھڑی ہوئی تھی۔ اس کی آنکھ صبح بارہ بجے بابا کی دھاڑ پر کھلی تھی۔ ان کے آج پاکستان آنے کا وہ یکثر ہی بھول چکا تھا۔ غنایہ کو اوپر ہی ٹھہرنے کا کہہ کر وہ نیچے کی جانب بڑھا۔
“اسلام علیکم۔” انہیں صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا دیکھ کر وہ ان کے سامنے کھڑا ہوا۔ کوٹ اور پینٹ میں ملبوس تقی خانزادہ نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔
بکھرے بال، اور آنکھوں میں نیند جمع کیے وہ انہیں بغور دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ان کتنے سالوں میں ان کے چہرے پر مزید پختگی آگئی تھی۔ پہلے سے بھی زیادہ سنجیدے اور غصے والے معلوم ہوتے۔ باپ کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے اس نے نگاہ جھکا لی۔
“کون ہے وہ لڑکی؟۔” ایک ایک لفظ سختی سے ادا کیا گیا تھا۔ غنایہ سب سے اوپر والی سیڑھی پر کھڑی انہیں کنارے سے دیکھ رہی تھی جسے ساویز تو دیکھ سکتا تھا مگر تقی نہیں۔۔
“غنایہ نام ہے۔” اس نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ اتنے سالوں بعد انہوں نے اپنے بیٹے کو دیکھا تو اس سے حال چال دریافت کیوں نہیں کی۔ وہ یہ سوچ کر سر جھٹک گیا کہ کون سا اسے فرق پڑتا ہے۔
“بلاؤ اسے!۔” اس بار انہوں نے بلند آواز میں کہا۔ غنایہ کو سانسیں اکھڑتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ ساویز نے نگاہ اٹھا کر غنایہ کو دیکھا جس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار کافی نمایاں تھے۔
“آپ اس سے کچھ کہنے والے ہیں؟۔” پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔
“ہاں!۔” انہوں نے آنکھیں دکھائیں۔ “مجھے بھی تو پتا چلے کہ جس پر پہلے سے ہی ایک قتل کا الزام لگا ہوا ہے اس سے شادی کیسے کر لی جاتی ہے۔ کون سا باپ ہوتا ہے جو اپنی بیٹی کو یوں بنا سوچے سمجھے بیاہ دیتا ہے۔” ان کا مزاج ویسا ہی تھا۔۔ اکھڑا اکھڑا۔۔ ایک بات تو طے تھی۔ وہ کبھی نہیں بدل سکتے تھے۔
ساویز کے کان کی لو سرخ ہوئی۔ وجاہت سے گفتگو کے بعد دماغ پہلے ہی الجھا ہوا تھا۔
“کم از کم وہ اپنی اولاد کو چھوٹی عمر میں تنہا نہیں کر جاتے ہیں۔” زندگی میں پہلی بار وہ بلآخر بول پڑا۔ اسے تکلیف ہوئی جب اس کے باپ نے قتل کے الزام کا خود ذکر کیا۔
“تو اتنے بڑے ہوگئے ہو کہ باپ کے آگے کھڑے ہو کر اس کو جواب دو گے؟۔” وہ تیزی سے اٹھ کر کھڑے ہوئے۔ “یاد ہے یا بھول گئے یہ گھر کس کا ہے اور یہ بزنس جس کے حاکم بنے تم پھرتے ہو؟؟۔” لہجہ حاکمانہ تھا۔
ساویز نے بمشکل ضبط کیا۔
“میں جانتا ہوں بابا۔ یہ سب آپ کا ہے۔۔ مگر یہ سب میرے لیے اتنا ضروری نہیں کہ میں کوئی الزام برداشت کرسکوں۔” لہجہ دھیما مگر گھمبیر تھا۔
“تو یعنی تم گھر چھوڑ کر بھی جا سکتے ہو؟۔”
“اگر ضرورت پڑی تو۔۔” اس کا یہ کہنا ہی کافی تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
پوری رات اس ٹینشن میں گزار دینے کے بعد کہ کیا فاری کمپنی کے ساتھ کنٹریکٹ ہو سکے گا یا نہیں، وہ بلآخر آفس کے کیفیٹیریا میں بیٹھی تھی۔
“تم دیکھ لینا۔۔ وہ نہیں آئے گا۔ بہت خوددار ہے! میرے اتنے برا بھلا کہنے کے بعد تمہیں کیا لگتا ہے کہ وہ اپنے باس کے آگے خاموش رہے گا؟ یقینا اس نے ہماری کمپنی کے بارے میں شکایت کردی ہوگی۔” پریشانی سے پیشانی مسلتے ہوئی وہ صوفیہ کی مسکراہٹ گہری کر گئی۔
“تم اگر اس سے سنبھل کر بات کرتی تو شاید وہ ایسا نہیں کرتا۔ آؤ کیبن میں چلتے ہیں۔ بہت وقت ہوگیا ہے ہمیں کیفیٹیریا میں۔۔” اس کی کافی ختم ہوئے آدھا گھنٹہ ہوچکا تھا۔
“اوہ نہیں! بلکل بھی نہیں۔۔ مینجر دیکھ لیا تو پوچھ بیٹھیں گے کہ کیا صورتحال ہے اور میں ان سے کیسے کہوں گی یہ سب؟۔” دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر وہ میز کو تکنے لگی۔
“تو بلآخر فیصلہ ہوا کہ رافع اسی آفس میں ٹھہرنے والا ہے۔ بہرحال تم جو بھی کہو! اب تو مجھے میرویس پر بھی تھوڑا تھوڑا یقین ہو رہا ہے۔ اگر مینجر چاہتا تو باس سے کہلوا کر رافع کو فائر کرسکتا تھا۔ بلکہ یہ تو ایک اچھا قدم ہے۔ اس سے باس فاری کمپنی سے خود ریکویسٹ کرتے اور معاملہ بحال ہوجاتا۔” وہ اس کا ہاتھ تھتھپاتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔ عشنا نے اس کا چہرہ اور سوچ میں پڑ گئی۔
“میرا دل چاہ رہا ہے میں رو پڑوں! یہ کانٹریکٹ تو میری جان پر بن آیا ہے۔” صوفیہ کے ہمراہ وہ اندر کی جانب بڑھ رہی تھی۔
“سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا عشنا۔ تم دماغ پر زیادہ سوار کر رہی ہوں۔ پریشانیوں کو ڈیل کرنا آنا چاہئیے یار۔۔”
سامنے میٹنگ روم تھا اور ادھر پورا اسٹاف اپنا کام کر رہا تھا۔ وہ اس کی بات کا ابھی کوئی جواب ہی دیتی جب میٹنگ روم سے نکلتے گہرے نیلے رنگ کے کوٹ میں ملبوس میرویس پر نگاہ پڑی۔ نگاہ ساکت ہوئی تھی جبکہ قدم ٹھہر گئے تھے۔ صوفیہ نے بھی کافی چونک کر اسے دیکھا۔ پلکیں جھپکیں اور پھر ایک اور بار آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں فائل تھی جس پر نگاہ دوڑاتے ہوئے اس نے بند کی اور ارد گرد نگاہ دوڑانے لگا۔ نظر اس پر پڑی تو ٹھہر سی گئی۔ پیشانی پر سنجیدگی کے بل نمایاں تھے۔ نعمان کے پکارنے پر اس کی جانب متوجہ ہوتا ہوا وہ آگے بڑھ گیا۔
“کانٹریکٹ۔” صوفیہ نے بےخودی میں مختصراً کہا۔
“وہ آگیا صوفیہ۔۔ اس سب کے باوجود بھی وہ آگیا۔” عشنا کو یہ سب بے یقین سا لگا۔
“وہ خوددار ضرور ہے مگر بے حس نہیں۔۔ اسے تمہاری پرواہ ہے۔” ایک نگاہ عشنا پر مسکراتے ہوئے ڈالتی، وہ اپنے کیبن کی جانب بڑھ گئی۔ میٹنگ روم میں یقیناً کانٹریکٹ پر بات ہو رہی تھی۔ اسے وہ لڑکی رابعہ بھی نظر آئی جو میرویس کے ساتھ اسے ریسٹورینٹ میں دکھی تھی۔ تو گویا سب کچھ اس کی پسند کا ہو رہا تھا۔ دل یکدم ہی ڈھیروں اطمینان سے بھر گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“طلاق دو اس لڑکی کو! میں یہ سب اس گھر میں برداشت نہیں کرسکتا۔ تمہیں لگا تھا یوں چھپ کر نکاح کرو گے اور خبر تک نہ ہوگی؟ جس آفس میں باس کی حیثیت سے کام کرتے ہو وہ میرا ہی ہے۔ اندر کام کرنے والے لوگ بھی میرے ہیں!۔” ایک غصہ تھا جو ختم ہی نہیں ہو رہا تھا۔
غنایہ کا وجود لمحہ بھر کو کپکپایا۔
“جہاں اتنے سالوں سے باہر تھے، وہاں اب ایک خبر سن کر پاکستان چلے آئے؟؟۔” وہ ایسا نہیں کہنا چاہتا تھا۔ “میں مروں یا جیوں آپ کو کبھی کوئی غرض نہیں رہا تو اب کیوں حق جتا رہے ہیں بابا؟ آپ کو کبھی فیملی نہیں چاہئیے تھی! آپ امی سے شادی کے بعد بھی اکیلے ہی تھے اور امی کے بعد بھی اکیلے ہی ہیں! مگر میں آپ جیسا نہیں۔۔ مجھے سکون بھری زندگی چاہئیے۔ میری زندگی میں جو کمیاں تھیں وہ میری بیوی پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔۔ اب مجھے اس کے سوا کچھ نہیں چاہئیے۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا کہ میں اس طلاق کے لفظ میں کیسے نہیں چیخ پڑا۔ شاید آپ میرے باپ ہیں۔۔ اور میں آپ کی عزت کرتا ہوں۔” چہرے کے تاثرات خطرناک حد تک پھیلے ہوئے تھے۔
“مجھے لگا تھا تم اپنے کیرئیر کو ترجیح دو گے۔”
“کون سا کیرئیر بابا؟ پڑھائی مکمل ہوگئی اور بزنس تو ساتھ ساتھ چل ہی رہا تھا۔ جس بزنس پر میں نے اپنے کتنے سال برباد کیے اور آج مجھے کہا جا رہا ہے کہ وہ میرا تھا ہی نہیں۔۔ میں نے اس کاروبار کو آگے بڑھایا حالانکہ آپ کے جانے کے بعد کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اپنی محنت، اپنا وقت، اپنی طاقت لگادی مگر مجھے کیا ملا؟ بلآخر آپ نے احساس دلا دیا کہ نہ یہ گھر میرا اور نہ وہ بزنس۔۔ میں بس ہاتھوں میں نچانے والا کھیل کا حصہ بن گیا۔” چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔ اتنے سالوں کی محنت باپ کے الفاظوں سے ڈوبتی ہوئی محسوس ہوئی۔ “مجھے سکون چاہئیے۔۔ صرف سکون! جو مجھے ان چوبیس پچیس سالوں میں کبھی حاصل نہیں ہوا۔ ایک سے بڑھ کر ایک مشکل کا سامنا کرتے کرتے میں بھی گیا ہوں۔ نہیں چاہئیے یہ گھر اور نہ ہوس ہے اس بزنس کی۔۔ ایک سکون بھری زندگی کا طلب گار ہی رہ گیا ساویز۔۔ بدقسمت ساویز۔۔” ہونٹ لرز اٹھے۔
“تو جاؤ اور دفع ہو جاؤ اس گھر سے! کچھ دن دور رہو گے سے تو عقل ٹھکانے آجائے گی کہ پیسوں کے بنا زندگی نہیں گزرتی۔ پاکستان سے باہر ہو کر بھی میں بزنس پر نظر رکھ رہا تھا۔ جانے کیا کمال ہے تمہارا! بیوی نہیں چھوڑ سکتے تو گھر سے جا سکتے ہو۔” شخصیت میں ہمیشہ سے ایک رعب تھا۔ وہ کبھی کسی کی بات کو اپنے آگے ٹھہرنے نہیں دیتے تھے۔۔ تو یہی کچھ ساویز کے ساتھ ہوا۔ وہ لمحے بھر کو ششدر ہوا اور پھر ٹھہر کر انہیں دیکھنے لگا۔ ہمیشہ سے اپنی انا کے اشاروں پر چلنے والے تقی خانزادہ اس بار بھی اپنی انا کے ہاتھوں ہی مجبور ہو گئے تھے۔ ساویز نے نگاہ اٹھا کر غنایہ کو دیکھا جو پھٹی آنکھوں سے ساویز کو ہی دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک خوف تھا۔۔ اب کیا ہوگا؟ کیسے گزرے گی زندگی؟
البتہ تقی خانزادہ کا دل عجیب طرح سے لرزا تھا مگر انا کا پلڑا زیادہ بھاری تھا۔
“جاہل نہیں ہوں میں۔۔ ایک بہترین ڈگری میرے پاس موجود ہے۔ اچھی جاب مل سکتی ہے مجھے۔۔ جو کماؤں گا اسی کے سہارے زندگی جیوں گا اور جی کر دکھاؤں گا۔” لہجہ دھیما اور بے حد عام سا تھا۔ وہ بس ایک بات کہہ رہا تھا جسے وہ سچ کر کے دکھانے والا تھا۔ “مجھے ان سب کی ضرورت نہیں۔۔ البتہ آپ کو میری یاد آئے تو پکار سکتے ہیں۔” دل بوجھل ہوگیا۔۔ اداس۔۔ خوابوں کی کرچیاں کبھی ایسے بھی ٹوٹ کر بکھر جاتی ہیں۔ غنایہ نے اسے بغور دیکھا۔ باپ کے اتنا چیخنے پر وہ ایک بار بھی جواباً نہیں چیخا تھا نہ اپنی بات منوانے کی کوشش کی تھی۔ وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھنے لگا جب ان کی آواز نے اسے پلٹ کر دیکھنے پر مجبور کیا۔
“تو یعنی تم یہ عیاشیاں چھوڑ سکتے ہو مگر بیوی نہیں؟۔”
“سکون کیسے چھوڑ دوں؟۔” یہ چار لفظ عام سے تھے مگر بلا کے گہرے۔۔ کہ تقی بھی اس کا چہرہ ہی دیکھتے رہ گئے تھے۔ ساویز نے باپ کو دکھی دل سے دیکھا تھا اور اوپر کی جانب بڑھ گیا۔۔ کہ چلو زندگی کو یہ منظور ہے تو یہی سہی۔۔ وہ ایک ایک بات ثابت کر کے دکھائے گا کہ پیسے سے آپ سکون نہیں خرید سکتے مگر ہاں محبت سے خرید سکتے ہیں!۔
۔۔۔★★★۔۔۔
تمام فائلز اکھٹی کر کے اس نے مینجر کے کمرے کا رخ کیا۔
“یہ میں دے آتی ہوں۔ مجھے بھی کام کی وجہ سے مینجر کے روم کی طرف جانا ہے۔” صوفیہ کی آواز پر وہ مڑی۔
“نہیں مجھے ان سے اب رافع کے بارے میں بھی بات کرنی ہے۔ میٹنگ ختم ہونے والی ہے اور مینجر ابھی ابھی میٹنگ روم سے باہر آئے ہیں۔ شاید یہ صحیح موقع ہے۔” اسے سمجھاتے ہوئے وہ دوبارہ آگے کی جانب بڑھ گئی۔
وہ کوئی چار پانچ بھاری فائلز تھیں جنہیں بمشکل تھام کر وہ مینجر کے روم کے باہر پہنچی تھی۔
“کیسے ہو سکتا ہے؟۔” رافع کی ادھوری بات اس کے کانوں پر پڑی۔ عشنا چونکی۔ بھلا رافع مینجر کے روم میں کیا کر رہا تھا۔
“تم کہیں نہیں جا رہے بے فکر رہو! میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا سوائے اس کے کہ مس عشنا کو کہتا کہ میرویس سے بات کرے۔” مزاج بہت اچھا تھا۔ عشنا جہاں کی تہاں رہ گئی۔
“اسے لگتا ہے کہ وہ رافع کو نکلوائے گی؟۔” رافع کے ہنسنے کی آواز اس نے واضح سنی۔ دماغ یکدم ہی سن ہو گیا۔
“کانٹریکٹ سائن ہوگیا ہے اور میٹنگ بس ختم ہی ہونے والی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس کے بعد وہ میرے پاس ضرور آئے گی مگر میں بہلا دوں گا۔ اس کمپنی کو تمہاری ضرورت ہے اور تمہیں کوئی نہیں نکال سکتا۔” مینجر کے قہقہے نے جیسے عشنا کے رخسار پر شرمندگی کا طمانچہ مارا تھا۔ وہ اپنے ہی کمپنی کے مینجر کے ہاتھوں بے وقوف بن گئی تھی۔ چال ڈھیلی پڑنے لگی تو وہ فائلز وہیں پھینکتی ہوئی اپنے کیبن کی جانب بڑھی۔
“کیا ہوا ہے؟۔” صوفیہ نے اسے پرس میں چیزیں رکھتے دیکھا تو کچھ حیران ہوئی۔
اعتماد، بھروسہ سب ٹوٹ کر بکھر گیا تھا۔۔ اب رہ گیا تو صرف پچھتاوا اور شرمندگی۔۔
آنکھیں نم ہونے میں ذرا وقت لگا تھا مگر اس سے قبل ہی وہ جان چکی تھی کہ میرویس کی کہی تمام باتیں درست تھیں۔
“تم رو رہی ہو؟ ہوا کہا ہے عاشی؟۔” صوفیہ کا پریشان ہونا جوابی تھا۔
“مجھے ابھی جانے دو۔” پلکیں گیلی ہونے لگیں تو وہ پرس کندھوں پر لٹکاتی گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے تیزی سے وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“یہ کیسے ہوگا ساویز۔۔” گھٹی گھٹی سی آواز حلق سے نکلی۔
“کچھ ضروری سامان پیک کر لو۔ میں کسی سے وقتی طور پر گھر کا کہتا ہوں۔” وہ موبائل پر کسی کا نمبر ملا رہا تھا۔
“امی ابا؟۔” وہ انہیں کیا بتائے گی۔ اس کے لفظوں پر وہ ٹھہر کر غنایہ کو دیکھنے لگا۔
“انہیں خود بتاؤ گی یا پھر میں بتادوں؟۔” یہ سب اس لیے کہا گیا تاکہ وہ اس کے تاثرات جانچ سکے۔
“میں بتادوں گی۔۔ مگر آپ مجھے طلاق تو نہیں دیں گے نا؟۔” ایک خوف کے بعد ایک اور خوف میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔
“یہ ناممکن کی فہرست میں ہے۔ تمہارے لیے سب چھوڑ رہا ہوں۔ بس میرا ساتھ مت چھوڑنا۔” دونوں کے دل ہی غم سے بوجھل تھے۔
“اگر کسی گھر کا انتظام نہ ہوا تو؟۔”
“میرے کافی تعلقات ہیں۔ یہ کام بھی ہوجائے گا۔”
“اگر نہ ہوا تو ہم امی ابا کے گھر کچھ دن ٹھہر سکتے ہیں۔” اس کا یہ مشورہ ساویز کا دل ڈگمگا گیا۔
“نہیں بلکل نہیں! ہم روکھی سوکھی سے گزارا کر لیں گے مگر کسی کا احسان لے کر ان پر بوجھ نہیں بنیں گے۔ تم ساتھ دو گی؟۔” کہیں وہ اس بات پر آمادہ ہی نہ ہو۔
“ہاں۔” ان حالات میں بھی وہ اپنے لبوں پر مسکراہٹ لے آئی تھی۔ مزید دل اداس کر کے وہ ساویز کو دکھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“تمہیں کیا لگا تھا مجھے آفس سے نکلوانے کے لیے کامیاب ہوجاؤ گی؟۔” وہ استہزایہ انداز میں کہتے ہوئے اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔ عشنا جو آفس کی اس خالی منزل سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی، ٹھہر سی گئی۔ “بہت بہادر بننے کی کوشش کرتی ہو؟ جیسے تم جو کہو گی وہ سب مان لیں گے۔” اس کا ایک ایک لفظ عشنا کا دل چھلنی کر رہا تھا۔ اس موقع پر یاد آیا تو میرویس۔۔ وہ ٹھیک کہتا تھا۔۔ اس کا ایک ایک لفظ سچ تھا۔ یہ سب ایک دھوکا تھا۔
“تمہارا دو نمبر مینجر صرف تم سے کام نکلوارہا ہے عاشی! ایک بار یہ کانٹریکٹ ہو جانے دو، پھر نہ تو وہ رافع کو فائر کرے گا اور نہ تمہیں کچھ کہنے کا موقع دے گا۔” میرویس کے یہ الفاظ اس کی آنکھیں نم کر گئے۔ وہ اس بار بھی ہار گئی تھی۔
“میں اس بار تمہارے ساتھ کچھ نہیں کروں گا۔” لبوں پر چلاکی سے مسکراہٹ ابھری۔ “یہ آنسو میرے دل کو تسکین پہنچا رہے ہیں۔ مینجر ہمیشہ سے جانتا تھا کہ میں تمہارے پیچھے ہوں! اس نے تب کچھ نہیں کیا تو اب کیا کرے گا۔۔” فلک شگاف قہقہہ عشنا کی جان کھینچنے لگا۔ آنکھوں میں ڈھیروں آنسو ایک ساتھ بھر آئے۔ وہ اپنا پرس مضبوطی سے پکڑتی تیزی سے باہر کی جانب بھاگی۔ رافع کی ہنسی کی آواز اسے بہت دور سے سنائی دینے لگی۔ وہ عمارت سے باہر نکل رہی تھی جب مردانہ آواز کانوں پر پڑی۔
“کہاں جا رہی ہو۔” اس کی بھیگی آنکھیں وہ پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔ آواز پر وہ ساکت ہوئی۔ گردن موڑ کر اسے دیکھا اور پھر ضبط مزید نہ ٹھہر سکا۔ آنکھوں سے آنسو رخسار پر بہنے لگے۔ میرویس نے اندر سانس کھینچی۔
“رک جاؤ۔” اس نے روکنا چاہا مگر وہ اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے پارکنگ ایریا کی جانب بڑھ گئی۔ میرویس تیزی سے لوگوں کے درمیان سے نکلتا اس کے پیچھے بڑھا۔
“آپ کی گاڑی لے آؤں مس عسنا؟۔” گارڈ کی آواز پر میرویس نے دونوں کو باری باری دیکھا۔
“نہیں! فالحال یہ میرے ساتھ جا رہی ہیں۔” جیب سے گاڑی کی چابی نکالتے ہوئے اس نے عشنا کے تاثرات دیکھے۔
“مجھے تم سے ابھی کوئی بات نہیں کرنی میرویس۔” اس نے آج سے قبل کبھی خود کو یوں کمزور محسوس نہیں کیا تھا۔
“تمہیں نہیں لگتا کہ تم نے اپنی بہت من مانی کر لی؟ کبھی کبھار سامنے والے شخص کی بات سن لینا بھی اچھا ہوتا ہے۔” لہجہ قدرے دھیما تھا۔ اس نے اپنی گاڑی کا دروازہ عشنا کے لیے کھولا۔
وہ مزید اپنی نہ کرسکی۔ سست قدم اٹھاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی۔ میرویس نے لب کاٹتے ہوئے اسے دیکھا تھا اور گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھ گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“سب غلط ہوگیا۔” آنکھیں رو رو کر تھک چکی تھیں۔ “تم نے ٹھیک کہا تھا۔”
آگے کی جانب گہری کھائی تھی اور پیچھے کچھ دور ہوٹل۔۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں وہ دونوں پانچ سال بعد پہلی بار ملے تھے۔
“اس نے کیا کہا؟۔”
“میں نے رافع کے ساتھ اس کی گفتگو سنی۔ جانتے وہ کیا کہہ رہا تھا؟ یہی کہ وہ اسے کبھی نہیں نکالے گا۔ اس نے میرا استعمال کیا ہے میرویس۔”
میرویس نے نگاہوں کا مرکز کھلے آسمان کو بنا لیا۔
“تم مجھے کچھ کہو گے نہیں؟۔” تھوڑی دیر بعد عشنا نے حیرانی سے پوچھا۔
“کیا کہوں؟۔” وہ خود بھی چونک پڑا تھا۔
“مطلب میں نے تمہاری بات نہیں مانی اور تمہیں یوں برا بھلا کہا۔۔”
“نہیں۔۔ میں تمہیں بھلا کچھ کیوں کہوں گا۔” پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر وہ سیدھا کھڑا ہوا۔
“مجھے تو سمجھ بھی نہیں آتا کہ کیا کہوں جب لوگ مجھ سے تمہارا پوچھتے ہیں۔۔ دوست کہوں یا ایک ایسا شخص جو میری مدد کرنے چلا آتا ہے۔”
میرویس نے ہلکا سا مسکرا کر اسے دیکھا۔
“کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں
تم کہہ دینا کوئی خاص نہیں
ایک دوست ہے کچا پکا سا
ایک جھوٹ ہے آدھا سچا سا
ایک خواب ادھورا پورا سا
ایک پھول ہے روکھا سوکھا سا
ایک سپنا ہے بن سوچا سا
ایک اپنا ہے اندیکھا سا
ایک رشتہ ہے انجانہ سا
حقیقت میں فسانہ سا
کچھ پاگل سا دیوانہ سا
ہے کوئی انجانہ سا
جیون کا ایسا ساتھی ہے
جو دور ہو تو کچھ پاس نہیں”
آخری جملہ اس نے عشنا کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا۔
کیا انداز تھا۔۔ وہ ساکت رہ تھی۔۔ کیا احساس تھا۔۔ اس کا دل ڈولنے لگا۔
“مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس بے نام رشتے کو ختم کردینا چاہئیے میرویس۔۔ جانے یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ ایک عجیب سا تعلق ہے جو ہمارے درمیان قائم ہے۔۔ اور ویسے بھی۔۔ تمہیں جتنا برا میں نے کہا اس کے بعد تو کچھ بچتا ہی نہیں۔” وہ پرس تھامتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ “اللہ حافظ میرویس۔۔” اس نے بمشکل تھوک نگلا۔ “شاید یہی بہتر ہے۔۔”
میرویس کی سانسیں رکنے لگی۔ وہ رکی نہیں۔۔ اسے وہیں کھڑا چھوڑ کر پلٹ گئی۔
“پانچ سالوں بعد اگر اب ہم بچھڑیں گے تو کبھی نہیں مل پائیں ہے۔” گھمبیر آواز اس کے قدموں میں زنجیر ڈال گئی۔ دل میں عجیب کچھاؤ سا محسوس ہوا۔ “میرویس اب کھو گیا تو لوٹ نہیں سکے گا۔” یہ الفاظ اپنے اندر سحر رکھتے تھے۔ یکدم ہی اس نے پلٹ کر میرویس کو دیکھا۔۔ جیسے وہ ایسا نہ چاہتی ہو۔۔
“تو کیوں نا راہیں جدا ہی نہ کی جائیں؟۔” وہ اسے نہیں دیکھ رہا تھا۔
“میرویس۔۔” وہ یکدم ہی بولی۔
“میں دوریاں نہیں چاہتا۔۔ تمہیں ارادہ کرنا ہے۔۔ میرا یقین کرو۔ تمہارا ایک فیصلہ میرویس کو تمہاری نگاہوں سے اوجھل بھی کرسکتا ہے، اور تمہارے قریب بھی کرسکتا ہے، گر تم چاہو تو۔۔” ایک امید تھی۔۔ ایک آرزو۔۔ اسے بغور دیکھتے ہوئے وہ کچھ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ عشنا کی نظریں اس کے چہرے پر ٹک کر اس کے الفاظوں کو محسوس کر رہی تھیں۔
“میں کیا چاہتی ہوں۔۔ مجھے کچھ علم ہی نہیں۔” ایک بار پھر تھوک نگل کر کہا۔ میرویس دھیما سا مسکرایا۔
“کیا یہ ‘ہاں’ ہے؟۔”
“یہ ‘ناں’ بھی نہیں۔۔” جانے وہ کیوں اتنے اچانک سے مان گئی۔۔ بس یاد رہا تو یہ کہ وہ میرویس کو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میرویس لب بھینچ کر مسکرایا۔ شاید یہ یقین کرنے کا ایک طریقہ تھا۔۔ وہ لڑکی اس کی نگاہوں کے سامنے کھڑی تھی جس کے لیے وہ پانچ سال بھی ٹھہر گیا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔