Tu Dil Se Na Utar Saka By Ayna Baig Readelle50173 Episode 8 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8 Part 2
تو دل سے نہ اتر سکا از عینا بیگ
آٹھویں قسط (دوسرا پارٹ)
“اس نے کہا وہ مینجر صرف میرا استعمال کر رہا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اسے ایسا کہنا چاہئیے تھا! اور جب تب دونوں کمپنیوں کے درمیان کانٹریکٹ سائن ہونے والا ہے۔ اتنا تو میں جان گئی ہو کہ اسے مینجر نہیں پسند۔۔” وہ کہتے ہوئے اپنے سسٹم کی جانب متوجہ ہوئی۔
“مینجر بھلا ایسا کیوں کریں گے۔ اگر انہوں نے کہا ہے تو لازمی رافع کو فارغ کرنا ہی ہوگا۔۔ لیکن اب تو رافع کہیں نہیں جانے والا۔ تم ہی نے تو کہا تھا کہ میرویس نے کانٹریکٹ کے لیے انکار کردیا ہے۔ پھر یقیناً وہ اب تک اپنے باس کو سب کچھ بتا چکا ہوگا۔” صوفیہ نے اپنی کافی کا کپ اٹھا کر لبوں سے لگایا۔
“مجھے اس سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ یوں میرے ہی سامنے میرے اسٹاف کو برا کہے گا۔ ایک دفعہ یہ سب کچھ ہو جانے دو پھر میں اسے ثابت کر کے دکھاؤں گی مینجر اس کے کہے کے مطابق نہیں۔۔۔ ہاں وہ اپنی کمپنی کے لیے اچھا مینجر ہے مگر خود کو ہی بہترین سمجھنا کہاں کی عقلمندی ہے۔” آخری جملہ اس نے افسوس سے کہا تھا۔ صوفیہ نے کندھے اچکائے۔ وہ اب مزید اس بات کو ڈسکس نہیں کرنا چاہتی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“تجھے دوست یاد نہیں آتا؟۔” اس کی آفس ٹیبل پر چابی رگڑتے ہوئے وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
“ہیلو!۔” ساویز لیپ ٹاپ پر نگاہ ڈالتا ہوا فون کی جانب بڑھا۔ “میں نے نیلی فائل کے لیے کال کی ہے۔ جیسے ہی وہ مکمل ہوجائے، میرے پاس بجھوادیں۔” دوسری طرف کمپنی کا ایمپلائی تھا۔ میرویس گہری سانس خارج کرتا ہوا ساویز کو تکتا ہی رہ گیا۔
“تجھے دوست یاد نہیں آتا؟۔” اس بار کچھ دانت پیس کر پوچھا۔
“وہ نوٹ پیڈ پکڑانا۔” ساویز اسے اس بار پھر نظر انداز کر چکا تھا۔ میرویس نے اپنے جانب رکھا نوٹ پیڈ اس کی جانب تقریبا پھینکا تھا۔ پانچ منٹ مزید انتظار کر کے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“ہاں تو تم کچھ کہہ رہے تھے۔” لیپ ٹاپ بند کر کے اس نے کھڑے ہوتے میرویس کو دیکھا۔
“میرا یار بدل گیا۔” میر نے بے حد افسوس سے اسے دیکھا۔ “بیوی نے کہا تھا کہ آفس میں کسی بات نہیں کرو گے؟۔”
ساویز کا قہقہہ گونجا۔
“نہیں یار۔۔ وہ بیچاری کیا کہے گی۔ تم کیوں اٹھ گئے؟ بیٹھ جاؤ!۔”
“آفس جانا ہے مجھے! آج باس آنے والے ہیں۔ میں نے سوچا تھا جم کی واپسی پر تم سے مل کر چلا جاؤں گا مگر تمہارے کام! یار واقعی بدل گیا ہے۔” جان کر افسوس سے کہتا وہ اپنی چابی اٹھاتے ہوئے باہر کی جانب بڑھ گیا۔ ساویز کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
“میں تم سے ملنے آؤں گا۔ میرا انتظار کرنا۔” کام کا بوجھ بہت زیادہ تھا۔ میرویس نے اثبات میں سر ہلایا اور باہر نکل گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“میں خود اس سے بات کرتا اگر میرے اس کے ساتھ تعلقات اچھے ہوتے۔۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ ہم دونوں کی ہی آپس میں نہیں بنتی۔ اس دن جو کچھ ہوا مجھے صرف اس کمپنی کے کانٹریکٹ کے خاطر اسے مخاطب کرنا پڑا۔۔ یاد نہیں ہے کیسے غصے میں ہمارے ایمپلائیز کے بارے میں کہا تھا؟۔” روم سے آتی آوازیں باہر کھڑی عشنا کو سننے پر مجبور کر گئیں۔ وہ جو اپنے لیے چائے بنانے آئی تھی، وہیں ٹھہر کر مزید سننے لگی۔ مینجر کی بات پر وہ ٹھٹھکی۔۔
“تو تمہیں کیا لگتا ہے؟ کنٹریکٹ ہوجائے گا؟۔” اسسٹنٹ کی آواز کانوں پر پڑی۔
“عشنا نے کوئی خاص جواب نہیں دیا۔ یہ کوئی چھوٹا کانٹریکٹ نہیں! اگر ہاتھ سے نکل گیا تو باس بہت خفا ہوں گے۔” یہ آخری بات تھی جو اس نے مینجر کی سنی تھی۔ بھرا ہوا مگ اٹھاتے ہوئے وہ اپنے کیبن کی جانب بڑھ گئی۔ دماغ مسلسل کئی سوچوں میں الجھا ہوا تھا۔ نجانے آگے کیا ہونے والا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
ڈوپٹہ درست کرتے ہوئے وہ کچن میں داخل ہوئی تھی جہاں باریال پہلے سے کھڑا تھا۔ چائے دو مگ میں نکالتا ہوا وہ ذرا ٹھہر کر مسکرایا۔
“یہ ایک کپ تمہارے لیے۔۔” وہ جب سے آیا تھا کوئی نہ کوئی کام اس کے کرنے سے پہلے کردیا کرتا تھا۔ غنایہ سوچتی ہی رہ گئی تھی کہ آخر وہ اس سے چاہتا کیا تھا۔
“میرے لیے کیوں؟۔”
“کیونکہ تمہیں چائے پینا اچھا لگتا ہے اور تم ناشتہ میں ضرور چائے لیتی ہو۔ میں ناشتہ بنانے آیا تو سوچا تمہارے لیے بھی بنادوں۔” پیچھے سے ایک پلیٹ اٹھا کر اس نے غنایہ کے قریب رکھی۔ غنایہ کو عجیب سی حیرت ہوئی۔ دو ابلے ہوئے انڈوں کے ساتھ چند بریڈ کے سلائس تھے۔
“مگر میرے لیے ناشتہ کیوں بنایا باریال بھائی!۔” اس نے ایک بار پھر پوچھا۔
“شاید اس لیے کیونکہ آج کل ہم دونوں ہی پڑھائی میں مصروف ہیں۔۔ اور ہم دونوں کو ہی وقت پر ناشتہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اچھے سے پڑھ سکیں۔” اس کے پاس کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے یہی بول پڑا۔
“تھینک یو۔” وہ دھیما سا مسکرائی اور ٹرے تھام کر باہر چلی گئی۔ پیشانی پر بندھا کپڑا مزید ٹائٹ کرتا ہوا وہ ذرا سا مسکرایا تھا۔ اس کا یوں پہلی بار خود کی طرف دیکھ کر مسکرانا اسے اچھا لگا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
اس نے وقت دیکھتے ہوئے سنگھار میز کے آئینے میں خود کو دیکھا۔ ساویز آنے والا تھا اور وہ بلکل تیار کھڑی تھی۔ خوبصورت گلابی رنگ کی شرٹ پر ویسا ہی ڈوپٹہ اس پر اچھا لگ رہا تھا۔ اسے شوخ رنگ کبھی اتنے نہیں بھائے جتنے شادی کے بعد اچھے لگنے لگے تھے۔
“تم یہ جھمکے پہنو۔۔ یہ زیادہ بڑے بھی نہیں اور تم پر اچھے لگیں گے۔” ملازمہ خالہ اس کی بیوٹی باکس سے گولڈن جھمکیاں نکالتی ہوئی بولیں۔
“یہ سب بہت زیادہ نہیں ہوجائے گا خالہ؟ مطلب یہ سوٹ کافی نہیں؟ اور ہلکا پھلکا میک اپ تو کر ہی چکی ہوں۔” اس نے ایک بار پھر خود کو آئینے میں دیکھا۔ عجیب عجیب سے خیالات دماغ میں جاگنے لگے۔۔ کیا ہو اگر وہ ساویز کو پسند ہی نہ آئے؟ اس کے لیے یوں پہلی بار اتنا تیار ہوتے ہوئے وہ بہت شرم محسوس کر رہی تھی۔
“نہیں بیٹا۔ یہ سب تیاریاں شوہر کے لیے ہی تو ہوتی ہیں۔ اسے اچھا لگے گا۔” وہ ٹھیک کہتی تھیں۔ جھمکیاں بڑی نہیں تھی۔۔ بلکہ چھوٹی چھوٹی خوبصورت نگینوں والی یہ جھمکیاں اسے واقعی اچھی لگنے لگیں۔ ساویز کی گاڑی کا ہارن بجا ہی تھا کہ غنایہ کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ ایک عجیب سی شرم، جھجھک اور خوف سا پھیل گیا۔ ملازمہ خالہ نیچے چلی گئی تھیں اور وہ اپنے ڈولتے دل کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“کاش کہ میں گم ہو جاؤں۔” شرم کے مارے الفاظ پورے ادا نہ ہوسکے۔ انگلیاں مڑوڑتے ہوئے سنگھار کے آگے ہی کھڑی ہوگئی۔
“پانچ منٹ بھی نہیں گزرے تھے جب ساویز کمرے میں داخل ہوا تھا۔ آنکھیں گویا پھیلی تھیں اور ہاتھ سے لیپ ٹاپ بیگ چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا۔
گہرے رنگ کے گلابی کپڑوں میں ملبوس وہ لڑکی اسے اپنے دل کے بے حد قریب محسوس ہوئی۔ دوسری جانب کھڑی غنایہ سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ نگاہ جھکا چکی تھی۔ دونوں کے درمیان خاموشی ہی پھیلی تھی۔ نہ ساویز بولا اور نہ غنایہ نے ہمت کی۔ وہ اسے تقریباً پھٹی آنکھوں سے سر تا پیر دیکھ رہا تھا۔ جب خاموشی لمبی ہونے لگی تو غنایہ نے ساویز کو دیکھا۔ کیا وہ اسے اچھی نہیں لگی تھی؟
“آج تم پہلے سے زیادہ میرے دل کے قریب محسوس ہو رہی ہو۔” کانوں کی جھمکیاں اس کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ یہ جملہ تھا کہ کوئی منتر۔۔ لبوں پر غنایہ کے مسکراہٹ پھیل گئی۔۔ خوبصورت سی شرمیلی سی۔۔
انہماک سے اسے دیکھتا ہوا وہ لیپ ٹاپ بیگ اور بازو میں لٹکا کوٹ وہیں رکھ کر اس کی جانب بڑھا۔ دل موہ لینے والی صورت اس کی توجہ کھینچ رہی تھی۔ اس کی جھمکیوں کو چھوتا ہوا وہ غنایہ کی بھوری آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
“اگر آج دل بے قابو ہوگیا تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔۔” لبوں پر محبت بھری ایک خوبصورت مسکراہٹ قائم تھی۔ اس کا دل بے قابو ہونے سے پہلے غنایہ کی مسکراہٹ بے قابو ہوگئی۔ وہ حیا کے باعث نمودار ہونے والی رخسار کی سرخی کم کرنے کی کوشش کرنے لگی، مگر یہ سب جیسے ناممکن سا محسوس ہوا۔ اس کی حرکت نوٹ کرتا وہ زور سے ہنس دیا۔
“یہ تیاری میرے لیے ہے؟۔” لٹ اس کی آنکھوں سے دور کرتا ہوا وہ کان پیچھے کرنے لگا۔
“میں آپ کی ایک ہی بیوی ہوں۔” اس نے جواب دوسرے انداز میں جواب دینا چاہا تھا۔
“کیوں؟ تم سوکن لانا چاہ رہی ہو؟۔” لہجہ شریر ہوگیا۔ وہ لمبا چوڑا اس کی کلائی تھامے، نزدیک کھڑا تھا۔ بازوؤں کے ابھرے مسلز واضح محسوس ہو رہے تھے۔
“اللہ نہ کرے۔” وہ یکدم ہی بولی، مگر پھر احساس ہوا کہ وہ جلدی ہی بول گئی۔ ساویز کا قہقہہ گونجا تھا جب کہ وہ کھلکھلا دی تھی۔
“مجھے یہ سب خواب سا کیوں محسوس ہو رہا ہے غنایہ؟۔” اس کی تعریف وہ جتنا کرتا، کم تھا۔
اس کا انتظار، صبر رائیگاں نہیں گیا تھا۔ وہ جو چاہتا تھا اسے مل گیا تھا۔۔ ایک محبت اور فکر کرنے والی بیوی جو اب بھی اسے دیکھ کر اپنائیت سے مسکرا رہی تھی۔ ایک ایسی بیوی جسے دیکھ کر محبت کم نہیں ہوتی تھی۔۔ بلکہ مزید بڑھ جایا کرتی تھی۔
اگر وہ خود کو خوش قسمت لوگوں میں شامل کرتا تو شاید اپنا نام سے اونچا اور اور سب سے پہلے لکھتا۔
وہ آج بلا جھجھک اس کی کلائی تھامے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا اور غنایہ نے ایک بار بھی اس سے نظریں نہیں چرائی تھیں۔۔ وہ بدک کر دور نہیں ہٹی تھی۔ خوف زدہ نگاہوں کی جگہ محبت نے لے لی تھی۔
اسی دم ساویز نے کرسی پر رکھے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ باہر نکالا تھا۔ کلائی نرمی سے تھام کر اپنی جانب کی اور گجرے کھول کر اس کی کلائی میں ڈالنے لگا۔ دل خوش کردینے والی مہک کمرے میں پھیل رہی تھی۔ گلاب اور چنبیلی کے گہرے بھاری گجرے، اس کا دل مٹھی میں جکڑ گئے۔ انہیں گھروں کے درمیان سے ساویز نے گلاب کا حصہ توڑا تھا۔۔ یہ ایک چھوٹا سا پھول تھا جسے اب وہ غنایہ کے کان کے پیچھے لگا رہا تھا۔ اس نے آنکھیں موند لیں۔ یہ احساس پہلے سے زیادہ خوبصورت اور نیا تھا۔۔ ساویز ٹھیک کہتا تھا۔ یہ سب خواب کی مانند ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ابھی نیند سے جاگ جائیں گے اور پھر نہ غنایہ ہوگی، اور نہ ساویز۔۔
“یہ سنگھار صرف آپ کے لیے ہے!۔” گویا محبت کا کلام پھونکا گیا ہو۔ وہ نہال ہوگیا۔
“میں ساری زندگی کا ساتھ چاہتا ہوں غنایہ۔” آواز دھیمی تھی۔۔ مگر بلا کی گھمبیر!
“میں ساری زندگی ساتھ رہوں گی ساویز۔” ایک مان تھا۔۔ احساس تھا۔۔ ایک یقین تھا۔۔
اتنے عرصے میں وہ جان چکی تھی کہ مضبوط سایہ دار دیوار کسے کہتے۔۔ صحیح معنوں میں حفاظت کسے کہتے ہیں۔۔ اسے فخر تھا اپنے باپ پر جس نے بہت سے مردوں میں اسے کے لیے ساویز کو ہی چنا۔۔
محبت سے دیکھتے ہوئے وہ ساویز کو اپنا اسیر کر رہی تھی۔ اس کی زندگی کی پہلی ایسی لڑکی جس پر وہ اب جان دیتا تھا۔ دونوں ہی قید تھے۔۔ ایک دوسرے کی محبت نے دونوں کے پیروں میں زنجیر ڈال دی تھی۔۔
جو دل کو اچھے لگتے ہوں انہیں زبردستی قید نہیں رکھتے۔۔ کہ جن کو آپ سے محبت ہوتی ہے، وہ خود ہی قید رہتے ہیں۔۔
۔۔۔★★★۔۔۔
موبائل پر آتی کال کی آواز پر اس کی آنکھ کھلی تھی۔ کروٹ لیتے ہوئے وہ اٹھ کر بیٹھا۔ غنایہ کہیں نہیں تھی ایک نگاہ صبح کے گیارہ بجاتی گھڑی پر ڈال کر اس نے بجتا موبائل اٹھایا۔
اسکرین پر نگاہ پڑی ہی تھی کہ آنکھیں حیرت سے ابل کر باہر نکلنے کو ہوئی۔ ایسے میں غنایہ کمرے میں داخل ہوئی۔ موبائل مسلسل بج رہا تھا مگر ساویز ششدر موبائل کو گھور رہا تھا۔
“آپ کال کیوں نہیں اٹھا رہے ساویز؟۔” وہ بھی کچھ حیران ہوئی۔
“بب۔بابا۔” ہکلاتے ہوئے الفاظ ادا ہوئے۔ وہ حیران ہونے کے بجائے مسکرا دی۔
“یہ تو اچھی بات ہے کہ ان کی اتنے وقتوں بعد خود کال آگئی۔ آپ کال پِک کریں ورنہ بند ہو جائے گی۔” نیلے لان کا سوٹ پہنی غنایہ فریش تھی۔ البتہ ساویز بکھرے بالوں اور نیند سے اڑا چہرہ لیے بیٹھا تھا۔
غنایہ جانتی نہیں تھی کہ کیا قیامت آنے والی ہے۔
گہری سانس خارج کرتے ہوئے ساویز نے کچھ سہم کر کال اٹھائی۔
“ہیلو۔۔” آواز نیند سے اٹھنے کی وجہ سے قدرے بھاری تھی۔
“الو کے پٹھے!!۔” دوسری جانب سے دھاڑ گونجی تھی اور ساویز نے موبائل کان سے دور کیا تھا۔
“کیا کہا انہوں نے؟۔” اسے یوں موبائل کان سے دور کرتے دیکھ کر سنگھار میز کی طرف کھڑی غنایہ نے جلدی سے پوچھا۔
“کہہ رہے ہیں ‘میرے بچے’۔” لبوں پر زبردستی مسکراہٹ لائی گئی۔ اس نے دوبارہ موبائل کان سے لگایا۔
“تھینک یو بابا۔” کمبل خود پر سے ہٹاتے ہوئے بستر سے اتر کر فرش پر کھڑا ہوا۔
“تو نے شادی کرلی ہے؟؟ مجھے ابھی میرے اسسٹنٹ نے بتایا ہے۔” وہ غصے میں چیخ رہے تھے اور غنایہ حیرانی سے فون سے باہر آتی ان کی آواز سن رہی تھی۔
“بابا وہ۔۔۔” وہ ابھی مزید کچھ کہتا کہ آگے سے ان کی کان پھاڑ دینے والی آواز ابھری۔
“آیک لفظ مزید نہیں!۔” ان کی شخصیت کا ایک رعب تھا جو ساویز پر اب بھی قائم تھا۔ گویا اسے چپ لگ گئی۔ غنایہ اتنا تو جان چکی تھی کہ گفتگو خوشگوار نہیں۔۔
ساویز نے لب بھینچ کر ٹیرس کے کھلے دروازے کی جانب دیکھا۔ “میں آرہا ہوں پرسوں کی فلائٹ سے پاکستان! دیکھتا ہوں وہاں آکر تمہیں!۔” ان کی سنجیدہ آواز ساویز کو لب بھینچنے پر مجبور کر گئی۔ اب یقیناً جو ہونے والا تھا وہ ٹھیک نہیں تھا! بابا ہمیشہ غصے کے تیز رہے تھے۔۔ فون بیڈ پر پھینکتے ہوئے اس نے پیچھے مڑ کر غنایہ کو دیکھنا چاہا۔۔ مگر وہ وہاں کہیں نہیں تھی جس کا مطلب تھا کہ وہ نیچے جا چکی۔ گہری سانس خارج کرتا ہوا وہ واش روم کی جانب بڑھ گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“کیا وہ چلا گیا؟۔” اندھیرے کمرے میں ملگجی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ ایک ہاتھ میں موجود سفید چھوٹے کپڑے سے دوسرے ہاتھ میں موجود پستول صاف کر رہا تھا۔
“نہیں! عادل کا کوئی فون نہیں آیا باس!۔” خرم نے ایک نگاہ فون پر ڈالی۔
“عادل سے کہنا ہمارا وہیں انتظار کرے۔” پیشانی پر ہلکے بل نمودار تھے اور ہری آنکھیں سنجیدگی کے باعث آدھی کھلی تھیں۔
“اس کے گھر میں ایک لڑکے کا اضافہ ہوا ہے۔” اس نے بتانا ضروری سمجھا۔
“باریال؟۔” ایک آئبرو اچکائی گئی۔
“ہاں شاید۔۔ عادل نے یہی نام بتایا تھا۔”
وجاہت کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی تو بائیں گال کا ڈمپل گہرا ہوگیا۔
“وہ کوئی بڑی بات نہیں!۔”
“مگر ساویز کی بیوی کے علاؤہ چار لوگ ہیں باس! ایک بوڑھی عورت، ایک چھوٹا لڑکا، چوکیدار اور باریال!۔” وہ چاہتا تھا کہ وجاہت اس بارے میں سوچے اور آج جانے کا سلسلہ ملتوی کردے! اتنے سارے لوگوں کو قابو میں کرنا مشکل ہوگا۔
“وجاہت کسی کے باپ سے نہیں ڈرتا۔” یکدم ہی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ خرم کی جانب اپنی چمکتی پستول اچھالی اور کرسی کی پشت سے کوٹ اٹھاتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
وہ آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا جب ساویز کی کال سے موبائل بج اٹھا۔ ایک نظر وقت دیکھتے ہوئے وہ کال اٹھانے بڑھا۔
“اسلام علیکم۔”
“وعلیکم اسلام! کیا ہم مل سکتے ہیں؟۔” وہ پریشانی سے گویا ہوا۔
“سب خیریت ہے؟۔” اس کا یوں ملنے کا کہنا یقینا کوئی ایمرجنسی لایا ہوگا۔
“یہ ابھی بتانے کا فائدہ نہیں۔۔ آدھے گھنٹے میں رایل ریسٹورینٹ پہنچ جانا۔ میں ناشتے کی میز پر جا رہا ہوں۔” اس نے تاکید کرتے ہوئے کال رکھی اور موبائل میں جیب میں ڈالتا ہوا نیچے بڑھ گیا۔
“تم آج یونیورسٹی نہیں جاؤ گی؟۔” غنایہ کچن میں تھی جب اس نے زینے اترتے ہوئے اس سے پوچھا۔
“نہیں! میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک ہفتہ گھر میں گزار کر امتحان کی تیاری کروں۔” کچن کی کے دروازے سے غنایہ نے سر نکال کر جواب دیا۔
اس کی آواز سن کر وہ مسکراتا ہوا اب مزید بہتر محسوس کرنے لگا۔ میز پر ناشتے کے لوازمات سجائے ہوئے تھے۔
“میز تو سجی ہوئی ہے مگر میز سجانے والی کہاں ہے؟۔” کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس نے کچن میں مڑ کر دیکھا۔ ساویز کی گھمبیر آواز گونجی۔ غنایہ دھیما سا مسکراتے ہوئے کچن سے باہر آئی۔
“آپ کافی پیتے ہیں یا چائے؟۔” اسے معلوم نہیں تھا اس لیے کچن کے دروازے پر کھڑے ہو کر پوچھنے لگی۔
“میں محبت کا جام پیتا ہوں۔” شریر سی مسکراہٹ لبوں کا حصہ بنی تھی۔ وہ اٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے میز کی جانب لے کر آیا اور اس کے لیے کرسی کھینچنے لگا۔
“محبت کا جام پینے سے محبت ہوجاتی ہے؟۔” اس کی ہلکی ہلکی شیو دیکھتے ہوئے کچھ مختلف انداز میں بولی۔
“مجھے تو تم سے ہوجاتی ہے محبت! اور جب میری جانب مسکرا کر دیکھتی ہو تو یہ مزید بڑھ جاتی ہے۔” بریڈ کا لقمہ توڑ کر اس نے غنایہ کے لبوں کے آگے کیا۔ وہ کچھ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔ مقصد سمجھنے پر حیا سی آنے لگی۔ ساویز نے بنھویں اچکائیں۔ غنایہ نے دھیما سا مسکرا کر اس کے ہاتھ سے ناشتے کا پہلا نوالہ منہ میں ڈالا۔
“اب اتنا شرماؤ گی تو میں تمہیں یونہی دیکھتا رہوں گا۔” وہ جواباً ہنس کر ناشتہ شروع کر چکا تھا۔
“مجھے بہت شرم آتی ہے۔” اس بات پر وہ مزید شرم سے نگاہیں نیچی کر گئی۔
“چند ماہ میں یہ شرم بھی مٹ جائے گی جب تمہیں میری محبت اور اس کے اظہار کی عادت ہوجائے گی۔” اس کے آگے ناشتے کی پلیٹ رکھتا ہوا وہ بریڈ کے سلائس نکالنے لگا۔
“نہیں! مجھے ہمیشہ آپ سے یونہی شرم آئے گی ساویز۔ مجھے یقین ہے!۔”
“ایک سال بعد بھی؟۔” وہ کچھ حیران ہوا۔
“پانچ سال بعد بھی!۔” اور غنایہ اسے مزید حیران کر گئی۔
“مجھے حیرانی ہے۔”
“اور مجھے بھوک!۔” اس کے جواب پر وہ دونوں ہی مسکرا دیے۔ وہ اب مزید انتظار نہ کرتے ہوئے ساویز کے ساتھ ناشتہ کرنے لگی۔ “آپ کی بابا سے کیا بات ہوئی؟ کیا وہ غصہ تھے؟۔” وہ اس بارے میں کافی دیر سے بات کرنا چاہ رہی تھی۔
“انہیں شادی کے بارے میں پتا چل گیا ہے۔ اگر میں انہیں خود پہلے بتا دیتا تو شاید وہ کبھی اتنا غصہ نہ کرتے۔” اس نے خشک لبوں پر پھیری۔
“کیا یہ فکرمندی کی بات ہے؟۔” وہ جلدی ہی پریشانی ہوجاتی تھی۔ ساویز نے اس کا چہرہ دیکھا اور پھر چاہ کر بھی نظر نہ ہٹا سکا۔ تازہ دم، نیلے رنگ کے سادے سے لان کے سوٹ میں ملبوس وہ اسے ہمیشہ کی طرح پیاری لگی۔ پیشانی پر ہلکی ہلکی پریشانی کی شکنیں تھیں، جو ہمیشہ جلد ہی نمودار ہوجایا کرتی تھیں۔
“فکر کی بات ہوگی تو اسے میں سنبھالوں گا غنایہ! تم میری بیوی ہو۔۔ ہمیشہ ان سب سے محفوظ رہو گی۔” اس کے لہجے میں ایک یقین تھا کہ کبھی وہ غنایہ کو پریشانی/ تکلیف سہنے کا موقع ہی نہیں دے گا۔ ہونٹوں پر مطمئن مسکراہٹ سی پھیل گئی۔ ساویز نے ناشتہ ختم کر کے ٹھنڈے پانی کی جانب ہاتھ بڑھایا۔
“آپ آفس چلے جائیں گے تو میں آپ کے لوٹ آنے کا انتظار کروں گی۔” اس نے آخری لقمہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
“اور میں تمہارے اس انتظار کا انتظار کروں گا۔” وہ کیا لڑکی تھی۔۔ پل بھر میں روپ بدل لینے والی۔۔ مگر ہاں یہ روپ زیادہ سہانا تھا کہ وہ ساری زندگی غنایہ کے اس روپ کے ساتھ ہی گزار دینا چاہتا تھا۔
“آپ کی باتوں سے مجھے احساس ہوتا ہے کہ اللہ نے مجھے ایک مضبوط مرد کا ساتھ دیا ہے۔” نگاہیں میز کو تک رہی تھیں۔ وہ مسکرا نہیں رہی تھی۔۔ یہ اس کے جذبات تھے۔
“ایک بے پناہ محبت کرنے والا شوہر بھی۔۔” خود سے ہی جملے میں اضافہ کرتا ہوا وہ اس کی ٹھوڑی چھوتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ غنایہ ہنسی نہیں تھی۔۔ وہ خاموش رہی کیونکہ وہ ساویز کی بات سے اتفاق کرتی تھی۔
اس کے ساتھ چلتے ہوئے وہ گیراج تک آئی۔ ساویز نے اپنا لیپ ٹاپ بیگ گاڑی میں رکھا اور اس کی جانب بڑھا۔ وہ اس کو یوں پلٹتا دیکھ کر تھوڑا حیران ہوئی تھی۔
“کچھ رہ گیا ہے کیا؟۔” یہ سوچ کر کہ اگر کچھ رہ گیا ہوگا تو وہ اوپر سے لے آئے گی، پوچھ بیٹھی۔
“ہاں۔۔” کہتے ساتھ ہی اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے، بھوری آنکھوں میں اپنا عکس دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں کے بھورے رنگ میں ایک خاص بات تھی جو ساویز کو کبھی اپنی آنکھوں کے رنگ میں نہ ملی۔ وہ رنگ ہمیشہ روشنی میں آکر مزید ہلکا ہوجایا کرتا تھا۔۔ دھوپ پڑنے سے پہلے ہی۔۔
“تمہارا شکریہ غنایہ۔۔ تم نے خود کو میرے لیے بدلا ہے۔” اس کے ہاتھ کی پشت سہلاتا ہوا وہ قدرے محبت سے بولا۔
“میں نے یہ بدلاؤ اپنے لیے بھی کیا ہے ساویز۔۔ میں بھی ایک سکون بھری اور خوبصورت زندگی کی خواہشمند تھی۔ اللہ نے میرے دل میں آپ کی جانب سے اطمینان ڈال دیا۔” غنایہ کو خود بھی امید نہیں تھی کہ وہ یہ سب ساویز سے کہہ رہی ہے۔ وہ مسکرایا تھا اور جانے سے پہلے ایک آخری بار صحیح سے دیکھ رہا تھا۔
گاڑی میں بیٹھتے ہوئے نجانے اس کا دل کیوں چاہا کہ وہ ٹھہر جائے۔ ایک عجیب سا احساس دل میں پیدا ہونے لگا۔۔ گاڑی کا سیاہ شیشہ نیچے کرتے ہوئے اس نے کچھ ہی دور کھڑی مسکراتی غنایہ کو دیکھا تو شدت سے دل چاہا کہ اسے رک جانا چاہئیے۔ دل بے سکون ہونے لگا۔ چوکیدار کو خدا حافظ کرتے ہوئے گاڑی باہر سڑک پر لے آیا۔ دروازہ بند ہورہا تھا جب ساویز نے ایک بار پھر غنایہ کو دیکھا۔۔ اس کی غنایہ!
۔۔۔★★★۔۔۔
“کیا؟؟۔” میرویس نے چونک کر کافی کا مگ میز پر رکھا۔ “مگر کیسے اور کیوں؟ اتنے سالوں میں تو ایک بار چکر نہیں لگایا اور اب اچانک سے دو دن بعد پاکستان آرہے ہیں؟۔” آنکھیں حیرت پھٹی ہوئی تھیں۔
“مجھے نہیں علم تھا کہ بات میری کمپنی سے سنگاپور پہنچ جائے گی! ظاہر ہے یہ بات تو چلنی ہی تھی۔ اس لیے میں فالحال آفس میں بتانا نہیں چاہتا تھا۔ تم نہیں جانتے کیا ہنگامہ ہونے والا ہے!۔” ٹانگ پر ٹانگ جماتے ہوئے پیشانی رگڑتا ہوا بولا۔
“زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا؟ وہ غصہ کریں گے، چند گالیوں سے نوازیں گے۔۔ تم یہ سب برداشت کرلینا۔” میرویس جو کبھی ٹینشن میں آیا ہو۔ اس کے پاس تو مشوروں کی ایک فہرست تھی۔ ساویز نے گہری سانس بھری۔
“میں نے بھی کچھ یہی سوچا ہے۔ امید کرتا ہوں کہ بات زیادہ نہیں بڑھے گی۔” وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ “مجھے آفس کے لیے نکلنا ہے اس لیے مزید نہیں رک سکتا۔” اس کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بولا۔
“ہاں! اور ویسے بھی اگلی ملاقات تو لگتا ہے انکل کے آنے پر ہو ہی جائے گی۔” مسکراہٹ گہری ہوئی تو ساویز محض بےبسی میں سر ہلاتا رہ گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“باریال بھائی میں ناشتہ کر چکی ہوں۔ آپ میرے لیے ناشتہ مت بنائے گا۔” میز سے ناشتے کے برتن سمیٹتے ہوئے وہ، کمرے سے باہر آتے باریال سے بولی۔
“یعنی آج مجھے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔” وہ مسکراتے ساتھ وہیں میز کے ساتھ لگی کرسی پر بیٹھ گیا۔
“آپ کہیں گے تو میں آپ کا ناشتہ بنادوں گی۔” موڈ آج بے حد خوش گوار تھا۔
“نہیں اس کی ضرورت نہیں غنایہ! بلکہ ایک کام کرتے ہیں! دوپہر کا کھانا میں بنانے کا سوچ رہا ہوں۔ تو بتاؤ کیا کھانا چاہو گی؟۔” پیشانی پر اب بھی سیاہ کپڑا بندھا ہوا تھا۔
“ملازمہ خالہ بنادیں گی باریال بھائی۔ آپ کے امتحانات چل رہے ہیں۔” اسے یاد تو وہ کیسے دو، تین پرچے ان چند دنوں میں دے کر آیا تھا۔
“ارے بس کرو! میں کل رات کا جاگا ہوا ہوں اور پڑھ پڑھ کر اب تھک گیا ہوں۔ کل آخری امتحان ہے اور اب میں سوچ رہا ہوں کہ آج بریانی بنا لینی چاہئیے۔”
غنایہ مسکرا دی۔
“پھر تو میں بھی بریانی ہی کھانا چاہوں گی۔” وہ برتنوں کو کچن میں رکھ کر باہر آئی۔
“خالہ کہاں ہیں؟۔” اسے یکدم ہی یاد آیا تو پوچھ بیٹھا۔
“وہ اسٹور روم میں کوئی کام کر رہی ہیں۔ آتی ہوں گی۔” غنایہ زینے کی جانب بڑھ رہی تھی جب کسی سوال نے اس کے قدم روکے۔ “آپ سے ایک بات پوچھوں؟۔” نگاہ اس کی پیشانی پر بندھے سیاہ کپڑے کی جانب تھی۔
“ہاں۔”
“یہ کالا کپڑا کیوں باندھتے ہیں آپ؟۔” ایک عجیب سا تجسس تھا۔۔
“اوہ یہ!۔” اس نے کپڑا اتار کر میز پر رکھا۔ “میں جب کھیت میں ابا کے ساتھ کام کرتا تھا تو یہ کپڑا بندھا کرتا تھا۔ بس تب سے ہی عادت ہے۔”
“ویسے آپ اس کالے کپڑے کے بغیر بھی اچھے لگتے ہیں۔” وہ مسکراتی ہوئی اوپر بڑھنے لگی۔ “میں پڑھنے جا رہی ہوں۔ میری ضرورت پڑے تو بلا لے گا۔”
عشنا سے بات ہوئے عرصہ ہوگیا تھا۔ موقع ملا تو سوچا کیوں نہ بات کر لی جائے۔ ارادہ کرتی ہوئی وہ اوپر بڑھ گئی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“عجیب مصیبت ہے! مجھے سمجھ نہیں آتا جب یہ اپنے ایمپلائیز سے اتنا کام لیتے ہیں تو انہیں اتنا معاوضہ کیوں نہیں دیتے! اتنی مہنگائی ہوگئی ہے۔ اب تو میں ہر ہفتے میک ڈونلڈز بھی نہیں کھا پاتی!۔” جانے غصہ کس بات کا تھا۔ مہنگائی کا یا میک ڈونلڈز نہ کھانے کا۔
“میرے خرچے تو سراقہ دیکھتا ہے۔” صوفیہ مزے میں بولی۔
“تو پھر تمہاری سیلری؟۔” عشنا نے آنکھیں پھاڑیں۔ “پھر تو تم وہ سیلری صرف اپنی ذات پر ہی خرچ کرتی ہوگی۔” ایک آہ بھری گئی۔
“نہیں۔۔ میں سیونگز کر رہی ہوں۔ سیلری سیدھا میرے بینک اکاؤنٹ میں جاتی ہے۔ میری خواہشات اور ضروریات پوری کرنے والا موجود ہے۔” وہ اپنے شوہر کو سوچتے ہوئے مسکرائی۔
“سراقہ کتنا اچھا ہے۔” اسے اپنے خرچے یاد آنے لگے۔ گھر کے بل اور گروسری اس کی آدھی سے زیادہ سیلری کھا جاتی تھی۔
“سراقہ میرا شوہر ہے عشنا۔ یہ سب اس کی ہی ذمہ داری ہے۔ اپنی بیوی کی ضروریات پوری کرنا شوہر پر فرض ہے۔ اس لیے تو میں کہتی ہوں کہ تم بھی شادی کرلو۔”
“افف اب تم مجھے میرا دل شادی کی طرف راغب کر رہی ہو۔” صوفیہ کی باتیں ہمیشہ اس کا دل شادی کی جانب موڑ دیتی تھیں۔ وہ ابھی مزید اس بارے میں بات کرتی اگر غنایہ کی کال اسے موبائل کی جانب متوجہ نہ کرتی۔ لبوں پر ہلکی ہلکی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے کال اٹھا کر موبائل کان سے لگایا۔
“ہیلو؟۔”
“کیسی ہو عشنا؟۔” دھیمی خوشگوار آواز ابھری۔
“میں ٹھیک ہوں۔ تم بتاؤ؟ آواز سے بہت اچھی محسوس لگ رہی ہو۔”
“تمہارا اندازہ بلکل ٹھیک ہے۔ اب سب کچھ بہتر ہے۔۔ ساویز کے لیے میرے دل میں محبت بڑھ رہی ہے۔” آواز میں خوشی واضح تھی۔
“یہ تو واقعی ایک بے حد اچھی بات ہے! مجھے تم دونوں کے لیے خوشی ہے۔” ساتھ ساتھ کیبورڈ پر انگلیاں بھی چل رہی تھیں۔
“انہوں نے کہا ہے وہ میرا ساتھ تمام عمر کے لیے چاہتے ہیں۔ تم جانتی ہو یہ جملہ کتنا گہرا محسوس ہوتا ہے۔” جہاں غنایہ خوش تھی وہیں عشنا کو عجیب سا محسوس ہوا۔
“نہیں میں نہیں جانتی۔۔” کچھ عجیب سے تاثرات چہرے پر پھیلے۔ “تم جانتی ہو مجھے کبھی محبت نہیں ہوئی اس لیے یہ جملے مجھے بلکل نہیں بھاتے۔”
اس کی بات پر غنایہ کھلاکھلا دی تھی جبکہ عشنا مسکرا دی۔
“اب تمہیں بھی شادی کرلینی چاہئیے!۔” اس نے کچھ سوچ کر کہا۔ عشنا کا جھنجھلانا وہ فون کے اس پار محسوس کر سکتی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“کون؟۔” دروازہ بجنے پر چوکیدار نے دروازے کے سوراخ سے باہر جھانک کر پوچھا۔ عادل بندوق کو ہاتھ سے کمر کے پیچھے چھپائے کھڑا آواز پر ہوشیار ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ دروازے کے سوراخ سے چوکیدار اسے دیکھ سکتا ہے۔
“میں ساویز صاحب کے آفس سے آیا ہوں۔ انہوں نے مجھے پیلی فائل لینے گھر بھیجا ہے۔” بظاہر بے چارگی سے کہتا ہوئے وہ اسے جال میں پھنسانے لگا۔ کچھ ہی دور اپنی سیاہ گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا وجاہت، عادل کی اداکاری پر مسکرایا۔
“مگر صاحب جی کا اس متعلق کوئی فون تو نہیں آیا۔” دروازے کے پار کھڑے چوکیدار کی پیشانی پر پریشانی کے تاثرات ابھرے۔ اس سے قبل وہ یہ کہتا کہ میں گھر کے ٹیلیفون سے ساویز کو کال کرتا ہوں، عادل نے موبائل نکال کر کچھ الٹا سیدھا ٹائپ کیا اور موبائل کان سے لگا لیا۔
“ہیلو باس! میں گھر آیا ہوں مگر چوکیدار اندر نہیں آنے دے رہا۔ اگر آپ اپنے گارڈ سے بات کرلیں تو وہ شاید مجھے وہ فائل لینے دے۔”
چوکیدار اسے چھوٹے سے سوراخ سے اب بھی جھانک رہا تھا۔
“اوہ اچھا!۔” عادل نے مہارت سے موبائل کان سے ہٹایا اور دروازے کی جانب نگاہ مرکوز کی۔
“اگر آپ کو یقین نہیں تو یہ لیں۔۔ ساویز صاحب سے بات کرسکتے ہیں، وہ کال پر ہی ہیں۔ انہوں نے کہا ارجنٹ میٹنگ کی وجہ سے وہ آپ کو آگاہ نہیں کرسکے تھے۔” اس کی بات پر جہاں چوکیدار کے شک دور ہوئے وہیں دور کھڑے خرم نے گاڑی سے ٹیک لگائے وجاہت کی جانب مسکرا کر دیکھا تھا۔ وجاہت کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ خرم کے ہاتھ سے چنوں کی تھیلی لیتے ہوئے اس نے ایک ساتھ کئی چنے منہ میں ڈالے۔
“ساویز صاحب اب بھی کال پر ہیں؟۔” اسے شک تھا۔۔ مگر وہ یہ سوچنے لگا کہ اگر اس نے شک کی بنیاد پر باہر کھڑے اس آدمی کو مشکوک سمجھا اور ساویز صاحب واقعی کال پر ہوئے تو بے حد غلط بات ہوجائے گی۔ بظاہر دروازہ کھول کر کال پر بات کرنے کی ہامی بھرتے ہوئے وہ دروازے کا لاک کھولنے لگا۔
“بے وقوف آدمی!۔” وجاہت استہزایہ ہنستے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگا۔ عادل نے مڑ کر دونوں کو سرسری نگاہ دیکھا تھا جیسے کہہ رہا ہوں کہ کام بن رہا ہے۔ وہ ابھی مسکرا نہیں سکتا تھا کیونکہ چوکیدار اس سوراخ سے اسے دیکھ رہا تھا۔
دروازہ کھلنا ہی تھا کہ باہر آتے چوکیدار کی پیشانی پر عادل نے پستول رکھی۔
“اندر چلو!۔” سختی سے کہتے ہوئے اس نے گھبرائے چوکیدار کو دروازے کے اندر کیا اور خود بھی اندر بڑھ گیا۔ وجاہت نے چنوں کی تھیلی خرم کو تھمائی اور دروازے کے اندر بڑھ گیا۔ وہ چوکیدار سہم کر کھڑا اس سے التجا کر رہا تھا۔
“خدارا ایسا مت کریں!۔” دروازہ کھولنا اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
“بندوق گاڑی میں رکھ کر آؤ! اندر ایک چھوٹا بچہ بھی ہے۔” بھاری آواز میں اس نے عادل سے کہا۔ خرم نے اپنے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر پستول کو محسوس کیا۔ عادل نے اثبات میں سر ہلایا اور چوکیدار کو خرم کے حوالے کر کے گاڑی میں بندوق رکھنے بڑھا۔
“اندر ساتھ چل ہمارے!۔” بوڑھے چوکیدار کو بازو سے پکڑ کر خرم نے آگے دکھیلا۔
وجاہت ان دونوں سے آگے لاؤنج کی جانب بڑھ رہا تھا۔ لان خالی تھا۔ وہ ہر چیز کو بے حد غور سے دیکھ رہا تھا۔ یکدم ہی ملازمہ خالہ وجاہت کو دیکھ کر خوف سے چیخیں۔ ان کی چیخ پر باریال اپنے کمرے سے باہر آیا اور پھٹیں آنکھوں سے وجاہت کو دیکھ رہا تھا۔ اسے باریال سمیت کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ عادل نے پستول دکھا کر سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
“تم کہاں چلے آرہے ہو۔” باریال اس کی جانب بڑھ رہا تھا جب خرم نے اس کے سینے پر بازو رکھ کر، اسے روکا۔
“خاموش!!۔” وہ چیخا۔ تیرہ چودہ سال کا نوفل گھبرا گیا۔ اس نے لاونج کے دروازے سے باہر بھاگنا چاہا تھا جب خرم نے تیزی سے پکڑ کر اسے پیچھے زمین پر دھکا دیا۔ وہ بری طرح پلٹی کھا کر زمین پر گرا تھا۔
“دھیرے خرم! کسی کو زخمی نہیں ہونے دینا۔” وجاہت نے اس موقع پر پہلی بار کچھ کہا۔ اس کا رخ سیڑھیوں کی جانب تھا۔
“وجاہت تم ایسا نہیں کرسکتے!!۔” باریال نے اس بار التجا کی۔ سانسیں پھولی ہوئی تھی۔ وہ کسی طور اسے اوپر جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔
وجاہت مسکرایا اور پلٹ کر اسے دیکھنے لگا۔
“وجاہت ایسا کرسکتا ہے باریال! بلکہ یہ کہو کہ وجاہت ‘ہی’ ایسا کرسکتا ہے۔ تم فکر نہیں کرو! غنایہ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔ چند باتیں کر کے پلٹ جاؤں گا۔” مسکراہٹ گہری ہوئی تو ڈمپل واضح ہونے لگے۔ باریال نے لب بھینچ لیے۔۔ “پستول کا بلکل استعمال نہ ہو! خیال رکھنا۔” ایک نظر عادل اور خرم پر ڈالتا ہوا وہ اوپر کی جانب بڑھ گیا۔ نوفل اٹھ کر دوبارہ بھاگنے کی کوشش کرنے لگا جب خرم نے غصے سے مکا اس کی ناک پر مارا۔ وہ ایک بار پھر لڑھک کر گرا تھا۔ ناک سے بہتا خون فرش پر ٹپکنے لگا تو باریال نے اذیت سے خرم کو دیکھا۔
“تمہاری یہ ہمت!!۔” قدم اس کی جانب بڑھے جب اس نے باریال کو گریبان سے پکڑ کر سر پر پستول ماری تھی۔
“اب کچھ نہیں بولے گا!۔” استہزایہ ہنس کر وہ دور ہٹا۔
باریال دیوار کے سہارے اپنا سر پکڑ کر نیچے بیٹھ گیا۔
“ایسا مت کرو خدارا! تم لوگوں کے گھروں میں مائیں بہنیں نہیں ہیں؟۔” خالہ خوف سے رو پڑیں۔
“خاموشی سے کونے میں پڑے رہو! یہ پستول چل بھی سکتی ہے۔” اس بار عادل منہ بگاڑ کر بولا تھا۔ گویا ماحول میں خاموشی چھا گئی۔
