50.3K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6 Part 1

تو دل سے نہ اتر سکا از عینا بیگ
چھٹی قسط (پہلا پارٹ)
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی سے چاہت کے بدلے چاہت مانگنے لگتے ہیں۔۔ امیدیں بڑھا لیتے ہیں اور جب کچھ مرضی کے خلاف ہونے لگتا ہے تو تب محسوس ہوتا کہ وہ امیدیں ہی غلط تھیں۔۔ ہر بار چاہت کے بدلے چاہت نہیں ملا کرتی۔ دو دن مزید بیت گئے۔۔ وہ تقریباً ایک گھنٹے سے آنکھیں کھولے چھت کو تک رہا تھا۔ بازو سر کے نیچے تھا اور بے تاثر آنکھیں پوری کھلی ہوئی تھیں۔ ماحول میں قدرے خاموشی تھی۔ سورج کی کرنیں ٹیرس کے دروازے سے ہوتے ہوئے کمرے کو روشن کر گئیں۔ آنکھ کھلنے کے بعد اس نے ایک بار گردن پھیر کر غنایہ کو دیکھا تھا جو بستر پر لیٹی گہری نیند کے زیر اثر سو رہی تھی۔۔ اس کے بعد آنکھیں پھیر کر چھت کو نگاہوں کا مرکز بنا لیا تھا۔ کچھ بھی ویسا نہیں ہوا تھا جیسا ساویز سوچتا تھا۔۔ مگر ہاں اب ایک احساس تھا۔ کسی کے پاس ہونے کا۔۔ ایک فکر تھی۔ کسی کے ساتھ ہونے کی۔۔ اور خیال تھا۔۔ اس نے ایک بار پھر گردن پھیر کر غنایہ کو دیکھا جس کے چہرے پر ڈوپٹہ تھا۔ وہ اپنا چہرہ ڈوپٹے سے ڈھانپ کر سویا کرتی تھی۔۔ یہ عادت شاید اس کی پرانی تھی۔ اس پردے کے باوجود بھی وہ اس کی بھوری آنکھیں محسوس کرسکتا تھا۔ ٹی شرٹ سے نکلتے اس کے بازوؤں پر لکیریں واضح ہورہی تھیں۔ سینے پر رکھا موبائل اٹھا کر وقت دیکھتا وہ اٹھ کھڑا ہو گیا۔ آج آفس لازمی جانا تھا۔۔ وہ مزید کوئی چھٹی افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے ملازم کو کال کر کے اپنا کوٹ لانے کو کہا اور واش روم کی جانب بڑھ گیا۔ واش روم سے باہر نکلا ہی تھا کہ دروازے پر ہلکی دستک ہوئی۔ پانی سے تر چہرے کو تولیے سے صاف کرتے ہوئے وہ دروازہ کھولنے بڑھا۔ ملازم نے کوٹ اس کی جانب بڑھایا جسے وہ تھام کر اندر مڑ گیا۔ ماحول میں بے حد خاموشی تھی۔ پندرہ منٹ اپنی تیاری پر لگا کر اس نے ایک آخری نگاہ آئینے پر ڈالی۔ پرفیوم کی خوشبو سے کمرا مہک اٹھا۔ لیپ ٹاپ بیگ میں ڈال کر وہ صوفے پر رکھتا ہوا گھوم کر اس کی جانب آیا۔ ڈوپٹہ اب بھی چہرے پر تھا۔ جارجٹ کا ڈوپٹہ پکڑ کر نرمی سے ہٹاتے ہوئے وہ اسے بغور دیکھنے لگا۔ سوتے ہوئے وہ اسے کوئی چھوٹی لڑکی معلوم ہوئی۔ گھنی لمبی پلکیں اب وہ بغور دیکھ سکتا تھا۔ اگر وہ اٹھ جاتی تو نجانے کتنا گھبرا جاتی۔ ساویز کے لبوں پر یہ سوچ کر مبہم سی مسکراہٹ پھیلی۔ دھیرے سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اس کا ہاتھ پکڑا ہی تھا کہ چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے۔ ہاتھ چھوڑ کر پیشانی پر ہاتھ لگایا گیا۔۔ وہ یکدم ہی پریشان ہوگیا۔ تیز بخار میں تپتی غنایہ اس کی فکرمندی میں اضافہ کر گئی۔ ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔ وہ اسے ایک نظر دیکھتے ہوئے دراز سے تھرما میٹر نکال کر اس کی جانب بڑھا۔
“غنایہ؟۔” اس نے سوتی غنایہ کو آواز دی۔
ساویز کی آواز پر جھٹکے سے آنکھیں کھول کر وہ اسے دیکھنے لگی۔ ہر حالت سے بے خبر آنکھوں میں حیرانی اور کچھ پریشانی تھی۔
“جی؟۔” لہجہ نڈھال تھا۔۔ اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتی وہ اٹھ کر بیٹھی۔
“یہ تھرما میٹر لگاؤ، بخار چیک کرنا ہے۔” اس نے موبائل پر اسٹاپ واچ کھولی اور اس کے برابر بیٹھ گیا۔ سیاہ پینٹ کوٹ میں وہ آفس جانے کے لیے تیار تھا مگر اب یوں غنایہ کو اس حالت میں چھوڑ کر جانے کا رسک وہ کسی طور نہیں لے سکتا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
الارم کی آواز پر اس کی آنکھ کھلی تھی۔ اوندھا منہ لیٹا میر الارم بند کرنے کے لیے اٹھ کر بیٹھا۔ وہ آواز اس کی آنکھیں مکمل طور پر کھول چکی تھی۔ پیر زمین پر رکھتے ہوئے اس نے موبائل فرش سے اٹھایا۔۔ ہمیشہ کی طرح وہ جو چیزیں رات بستر پر رکھ کر سویا تھا، صبح انہیں فرش سے اٹھا رہا تھا۔ تولیہ، والٹ، گاڑی کی چابی اور اپنا لائٹر۔۔ باری باری اٹھا کر اس نے دوبارہ بستر پر اچھالا تھا۔۔ وہ بستر کی طرف سے گزر رہا تھا جب اسے کنارے پر اپنا تکیہ فرش پر نظر آیا۔
“یا اللہ میر!۔” خود سے حیرت کا اظہار کرتا تکیہ اٹھانے بڑھا۔ اسے اپنے بارے میں بھی زیادہ معلوم نہیں تھا۔۔ یہی سوچتا رہتا کہ آخر وہ کیسے سوتا ہے کہ یہ سب چیزیں اسے اگلے دن یوں فرش سے اٹھانی پڑتی ہیں۔ موبائل پر آئی رابعہ کی مس کالز دیکھتے ہوئے وہ گہری سانس خارج کرتا واش روم کی جانب بڑھ گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“مگر مجھے تو کچھ نہیں ہوا ہے۔” بخار کی وجہ سے آواز گھٹی گھٹی سی تھی۔ وہ اس پر ایک نگاہ ڈالتا ہوا تھرما میٹر کو دیکھنے لگا جو غنایہ کے ہاتھ میں تھا۔
“تمہیں تیز بخار ہے غنایہ۔۔ تھرما میٹر لگاؤ تاکہ بخار دیکھ سکوں۔” اس کو مزید کچھ کہنا نہیں پڑا۔ اس نے بنا آگے سے کچھ کہے تھرما میٹر لگا لیا اور انتظار کرنے لگی۔ اسٹاپ واچ پر وقت ختم ہونے پر ساویز نے بخار چیک کیا۔
“ایک سو دو!۔” گہری سانس خارج کرتے ہوئے پریشانی سے بتایا۔ غنایہ خاموش رہی۔
“تم پوری رات ٹیرس پر تھی؟۔” وہ اب اس بخار کی وجہ پوچھ رہا تھا۔ ولیمے کی رات کے بعد سے وہ اب بھی کافی رات ٹیرس پر گزارا کرتی تھی۔
“جی۔” بخار سے تپتا چہرہ ہلکا سرخ ہورہا تھا۔ ساویز نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔
“اتنی ٹھنڈک کے باوجود اندر کیوں نہیں آئی؟۔” اسے گزری رات چلتی ٹھنڈی ہوائیں یاد آئیں۔ اسے لگا تھا کہ وہ محض ایک گھنٹہ ہی ٹیرس پر ٹھہر سکے گی۔ پوری رات کا بتا کر وہ اس کے چھکے چھڑا گئی تھی۔
“چاند کو تکتے ہوئے وقت کا اندازہ نہ ہوسکا۔۔” اس کی آنکھوں میں دیکھے بغیر وہ گھبرائی گھبرائی بول رہی تھی۔
“پوری رات کھڑی رہی؟۔” ساویز کو اب بھی یقین نہیں آیا۔۔
“نہیں۔ جھولے پر بیٹھی تھی۔۔۔ کب آنکھ لگی اندازہ ہی نہ ہوا اور جب آنکھ کھلی تو فجر ہورہی تھی۔” وہ اس کو فکرمند ہوتا دیکھ رہی تھی۔ سمٹ کر پیچھے ہوتے ہوئے اس نے مسہری سے ٹیک لگا لیا۔ ساویز کی نگاہیں تھرما میٹر پر تھیں۔ موبائل نکال کر ملازمہ کو کال ملائی اور پرہیزی کھانا لانے کا کہا۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔” وہ جلدی سے بولی ہی تھی کہ گلے کی تکلیف سے کراہ کر رہ گئی۔ ساویز نے موبائل کان سے ہٹاتے ہوئے اسے دیکھا۔
“تو پھر بیمار کون ہے؟۔” یکدم ہی لبوں پر مسکراہٹ پھیلی۔ غنایہ نے کچھ جھجھکتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ “چاند پسند ہے؟۔” بھوری آنکھوں نے بھوری آنکھوں کو دیکھا۔ وہ پریشان تھا مگر اسے ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ جان کر کہتے ہوئے وہ اسے باتوں میں مشغول کرنے لگا تاکہ وہ بیماری کو زیادہ محسوس نہ کرے۔
“بہت۔۔” ایک ‘چاند’ پر ہی تو وہ ڈھیروں باتیں کرسکتی تھی۔
“کیوں؟۔” تھوڑا پیچھے ہو کر بستر پر ایک کہنی ٹکاتے ہوئے وہ لیٹنے کے انداز میں بیٹھا۔ “مجھے چاند دیکھنے میں کبھی دلچسپی نہیں رہی اس لیے تم سے پوچھ رہا ہوں۔”
غنایہ کے لبوں پر ہلکی مسکراہٹ پھیلی۔ ساویز نے ان مسکراتے لبوں کو دیکھا۔۔۔ شاید پہلی بار تھا کہ غنایہ اس کے ساتھ گفتگو کے درمیان مسکرائی تھی۔ آج پہلی بار ساویز کو احساس ہوا کہ اس کی مسکراہٹ میں خوبصورتی ہے۔۔ کرنی سادہ اور دلکش مسکراہٹ تھی۔
“جب آپ کا لوگوں میں کوئی نہیں ہوتا تو آپ کا چاند ہوتا ہے۔ مجھے وہ پسند ہے کیونکہ وہ مجھ سے مماثلت رکھتا ہے۔۔ اکثر ادھورا نکلتا ہے اور۔۔ میں بھی تو ادھوری ہوں۔” اس کا یوں کہنا ساویز کو تھوک نگلنے پر مجبور کر گیا۔
“تمہیں کس نے کہا تم ادھوری ہو؟۔” دھیما راز دار لہجہ۔۔
“میرے اندر کافی کچھ ادھورا ہے۔ میری دوست کہتی ہے کہ اتنا کوئی عام لڑکی بھی نہیں ڈرتی جتنا میں لوگوں سے ڈرتی ہوں۔۔ تب مجھے احساس ہوا کہ میرے اندر کچھ خالی پن سا ہے۔ میں ادھوری ہوں۔۔” تھوڑی دیر کے لیے وہ بھول گئی تھی کہ یہ وہی ساویز ہے جس سے وہ گھبراتی اور سہمتی ہے۔ ساویز اس کی آنکھوں میں خود کو کھوتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔
“کیا تمہیں لگتا ہے یہ ادھورا پن کوئی شخص مکمل کر سکتا ہے؟۔” ذو معنی لہجہ۔
“نہیں۔۔ میں ایسی ہوں۔” وہ پھیکا سا مسکرا کر نگاہیں جھکا گئی۔
“ایسی ہی رہنا چاہتی ہو؟۔” اس کے خیالات جاننا ضروری تھے۔ وہ ٹھہر سی گئی۔
“پتا نہیں۔۔ شاید۔۔” وہی پھیکی سی مسکراہٹ۔ چہرے پر آتے بالوں کو اس نے کانوں کے پیچھے کیا۔ ساویز کو اپنا دل کچھ ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔
“مجھ سے پوچھو تو یہ ادھورا پن نہیں ہے۔” اس نے کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے گہری سانس خارج کی۔
“یہ ادھورا پن ہے۔۔ یا پھر۔۔۔ پتا نہیں۔۔” وہ الجھنے لگی۔ ” پریشانی میں رونے لگتی ہوں، گھبراہٹ میں ہر کام غلط کرتی ہوں، ڈرنے لگتی ہوں انگلیاں مڑوڑنے لگتی ہوں۔ میری دوست کہتی ہے یہ سب نارمل نہیں۔۔۔” جانے کیوں وہ اسے اپنی باتیں بتا رہی تھی اور ساویز دل میں مسکراتا یہ سوچ رہا تھا کہ یہ لڑکی تو امید سے زیادہ بھی معصوم ہے۔ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“وہ ابنارمل ہے۔” کہتے ساتھ ہی اس نے سر بستر پر رکھا۔ غنایہ نے کسی غم سے بھنویں اٹھا کر لیٹے ساویز کو دیکھا۔
“ایسا نہیں ہے۔ وہ کانفیڈنٹ ہے!۔” ساویز کا یوں کہنا اسے ذرا نہیں بھایا۔
“کانفیڈنٹ کا مطلب آپ کی ڈکشنری میں غلط درج ہے۔ دراصل یہ سب نارمل ہے۔” وہ اطمینان سے اس کی ہر بات کا جواب دے رہا تھا۔
“چھوٹی بات کو خود پر حاوی کر کے کون روتا ہے بھلا؟۔”
“جب میں انیس سال کا تھا تو صرف اس وجہ سے ایک دن رو گیا تھا کہ بابا آسٹریلیا مجھے بغیر بتائے چلے گئے تھے۔ حالانکہ انیس سال بھی کوئی چھوٹی عمر نہیں ہوتی غنایہ۔۔” وہ جس اطمینان سے اسے بتا رہا تھا غنایہ حیران تھی۔
“آپ کے بابا؟۔”
“میں ان کے ساتھ جانا چاہتا تھا مگر وہ خود چلے گئے۔ مجھے لگا تھا انہیں میری پرواہ ہے مگر اس دن خوب رولینے کے بعد یہ بات خود کو باور کروالی کہ مجھے اپنی پرواہ خود کرنی ہے۔” ہاتھ میں موجود موبائل وہ کچھ اچھال کر پکڑ رہا تھا۔ غنایہ کو حیرانی ہوئی مگر وہ خاموش رہی۔
“اس کے بعد ہر دو مہینے بعد آنا جانا کرتے رہے۔۔ بزنس اس وقت سنبھالنے کے قابل تو نہیں تھا مگر جلد یہ بھی سیکھ لیا۔ پھر یوں ہوا کہ ان کا آنا کم ہوگیا اور مجھے فرق پڑنا۔۔” غنایہ کے تاثرات دیکھ کر وہ جان گیا تھا کہ وہ مزید اس بارے میں جاننا چاہتی ہے مگر کسی خوف سے نہیں پوچھ پا رہی۔ “آخری بار وہ دو سال پہلے آئے تھے صرف یہ خوشخبری سنانے کہ اب وہ سنگاپور میں شفٹ ہورہے ہیں۔ اس بات کو بھی دو سال گزر گئے۔”
“یاد آتے ہیں؟۔” اس نے آہستگی سے پوچھا۔
“نہیں۔ میں نے کبھی کسی انسان سے امیدیں نہیں لگائیں۔۔ نہ کسی سے محبت کی نہ بدلے میں محبت مانگی۔۔” اس نے آخری جملہ غنایہ کو دیکھ کر ادا کیا۔ اسے دیکھتے ہوئے وہ سوچنے لگا کہ غنایہ کو کیسے بتائے کہ اس کی زندگی میں شامل ہونے کے بعد ساویز اپنے اصولوں کو آہستہ آہستہ توڑ رہا ہے۔ اس نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے غنایہ کا ہاتھ پکڑنا چاہا۔ وہ ہاتھ سہم کر چھڑاتی دور ہٹی۔ وہی خوف، وہی گھبراہٹ۔۔ جیسے ابھی دونوں کے درمیان کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔۔ ساویز جہاں ٹھہرا تھا وہیں ٹھہرا ہی رہ گیا۔ یکدم ہی ملازمہ نے دروازہ بجایا۔
“تو بلآخر ناشتہ آگیا۔” ابھی ہوئے واقعے کو جھٹ سے بھلاتا وہ خوش دلی سے کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
“آدھے گھنٹے میں سوپ لے آئے گا۔” ملازمہ ٹرے رکھ کر پلٹ رہی تھیں جب ساویز نے روک کر کہا۔ وہ اثبات میں سر ہلاتی باہر نکل گئیں۔ ایک نگاہ غنایہ پر ڈالتے ہوئے وہ اپنا لیپ ٹاپ لے کر صوفے پر ہی بیٹھ گیا۔ آج اسے گھر سے کام کرنا پڑ رہا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“میں نے گہرے رنگ کی گلابی میکسی پہنی ہے۔ کیا یہ پارٹی کے لیے مناسب رہے گی؟۔” وہ خود کو آئینے میں گھوم گھوم کر دیکھ رہی تھی۔ کان پر لگے فون کے دوسری طرف صوفیہ جھنجھلائی۔
“پچھلے آدھے گھنٹے سے یہی پوچھ رہی ہو اور میں بارھویں دفعہ بتا چکی ہوں کہ میکسی پارٹی کے لیے ٹھیک رہے گی۔”
گہرے رنگ کی گلابی یہ میکسی بے حد سادہ تھی۔۔ کسی طرح کا نہ کام تھا اور نہ پرنٹ۔۔ خوبصورت رنگ کی یہ میکسی اس نے خاص طور پر آج پارٹی کے لیے خریدی تھی۔ گلے میں گولڈن چین پہن کر وہ تیار تھی۔ ہاتھ خالی تھے جبکہ کانوں میں بھی اس نے کچھ نہیں ڈالا تھا۔ بالوں کو کرل کرکے خوبصورت انداز میں بٹھایا گیا تھا۔
“تمہیں یقین ہے نا کہ رافع نہیں آئے گا؟۔” وہ اپنا دل برا نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“میں نے اس سے کہہ دیا تھا کہ عشنا نہیں آئے گی! اب بھلا وہ کیوں آئے گا؟۔” صوفیہ کے ہنسنے کی آواز پر وہ مسکرادی۔
“سراقہ سے کہو تمہیں ریسٹورینٹ چھوڑ دے۔ میں بھی گھر سے نکل رہی ہوں۔۔ کہیں ہم لیٹ نہ ہوجائیں۔” وہ اپنا پرس نکال رہی تھی۔
“تم بے فکر رہو ہم وقت پر پہنچیں گے۔ سراقہ اپنے شو روم سے گھر آنے کے لیے نکل چکا ہے۔ آتا ہی ہوگا۔” وہ مسکراتی ہوئی اسے بتا کر کال رکھنے لگی۔ عشنا جس کے جانے کا پہلے دل نہیں تھا، وہ اب اپنی تیاری سے خوش ہو کر جلد از جلد وہاں جانا چاہتی تھی۔ گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے وہ اپنا سامان سمیٹنے لگی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
گانوں کی آواز اور پارٹی کا شور بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ لوگوں کے ہاتھ میں جوس کے گلاس تھے اور وہ ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے تھے۔ دور خوبصورت سی میز کے ساتھ بیٹھے رابعہ اور میر عجیب طرح سے چلتی پارٹی کو دیکھ رہے تھے۔
“اب کیا ہوگا میرویس!۔” وہ گھبرائی گھبرائی بولی۔
“خدا کی قسم مجھے ذرا اندازہ ہوتا تو میں یہاں کبھی میٹنگ نہیں رکھواتا۔ کلائنٹ آتے ہی ہوں گے اور یہ شور و غل!!!۔” وہ بیچارگی سے درد کرتے سر کو تھامتا ہوا بولا۔
“مینجمنٹ کو ہمیں پہلے آگاہ کرنا چاہئیے تھا۔ یہ میز خاص طور پر کلائنٹ سے میٹنگ کے لیے بک کی گئی تھی اور مینجمنٹ جانتی تھی۔ پھر ہمیں کیوں نہیں بتایا گیا؟۔” وہ منہ کھولے حیرت کا مظاہرہ کر رہی تھی۔
“مسٹر حسام کو معلومات لینی چاہئیے تھی۔ بہرحال وقت کم ہے اور اب ہم لوکیشن تبدیل نہیں کر سکتے۔ کسی طرح مینج کرنے کی کوشش کرنا۔” کرسی کی پشت سے ٹیک لگایا ہوا تھا۔۔ ٹانگ پر ٹانگ جمی ہوئی تھی آنکھوں پر سیاہ چشمہ تھا۔ کلائی پر بندھی گھڑی کو ایک نظر دیکھتا ہوا وہ اپنا پاؤں ہلانے لگا جو دوسرے پاؤں کے اوپر جما تھا۔ رابعہ فائلز دیکھنے لگی۔
“اسلام علیکم! فاری کمپنی؟۔” پیچھے سے آنے والی آواز نے دونوں کو چونکایا۔ ان کا چہرہ پہچان کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
مسہری سے ٹیک لگائے بیٹھی وہ کھلی کھڑکی سے باہر آسمان دیکھ رہی تھی۔ تین گھنٹے گزر چکے تھے۔ سوپ کا آدھا بھرا پیالہ برابر میں رکھا تھا۔ اس نے نگاہیں گھما کر سامنے صوفے پر ڈالی۔
سر صوفے کی پشت سے ٹکائے وہ آنکھیں موند کر کب سویا ساویز کو خود علم نہیں تھا۔ گود میں رکھا لیپ ٹاپ کھلا ہوا تھا۔ ایک ہاتھ صوفے کی پشت پر تھا جب دوسرا لیپ ٹاپ پر۔۔ اسے دو گھنٹے پہلے کی ساویز کے ساتھ گفتگو یاد آئی۔ آج سے پہلے اس نے کبھی کسی غیر مرد سے یوں گفتگو نہیں کی تھی۔۔ اگلے ہی پل اس کے لبوں پر بہت ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔ ‘مگر یہ غیر تھوڑی تھا’ اسے ساویز کی ہلکی ہلکی شیو پرکشش لگی۔۔ کوٹ چینج کیے بغیر وہ صوفے پر ہی بیٹھے گہری نیند میں جا چکا تھا۔ موبائل پر آتی مینجر کی کال پر اس کی آنکھ کھلی۔ غنایہ نے نگاہوں کا مرکز کھڑکی کو بنالیا۔ ساویز آنکھ کو مسلتے ہوئے ایک نظر اس پر ڈال کر موبائل اٹھانے لگا۔
“کینسل ہے آج کی میٹنگ۔۔” خود کو زبردستی بیدار کرتے ہوئے وہ بمشکل کہہ رہا تھا۔
“نہیں ابھی نہیں! میں آفس نہیں آسکتا۔”
“اچھا میں کوشش کرتا ہوں۔” نظریں غنایہ پر تھیں۔ موبائل صوفے پر رکھ کر اس نے گود سے لیپ ٹاپ اٹھا کر برابر میں رکھا۔
“سوپ نہیں پیا؟۔”
“بھوک نہیں ہے۔” مخصوص دھیمی آواز۔۔
“سوپ کا بھوک سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔۔” وہ گھومتا ہوا اس کی جانب بڑھا۔ غنایہ نے نظریں جھکا لیں۔ ساویز اس کے نزدیک آتا پیشانی پر بخار چیک کرنے لگا۔ غنایہ نے پیچھے ہٹنا چاہا مگر مسہری سے ٹیک لگانے کی وجہ سے وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہوسکی۔
“مجھے اچانک آفس جانے پڑ رہا ہے۔ بخار کافی بہتر ہے مگر مکمل طور پر ابھی اترا نہیں۔۔ تم اب کیسا محسوس کر رہی ہو؟۔” بالوں میں برش پھیرتے ہوئے وہ اپنا لیپ ٹاپ بیگ میں ڈال رہا تھا۔
“ٹھیک ہوں۔” وہ فوراً سے بولی۔ ساویز اس کے اچانک جواب پر مڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
“کیا میں رک جاؤں؟۔”
“نہیں میں ٹھیک ہوں۔ آپ آفس چلے جائیں۔” غنایہ نے بغیر کسی وقفے سے کہا۔ ساویز اس کا مطلب سمجھتے ہوئے کسی عجیب احساس سے سر جھٹکتے ہوئے مسکرا دیا۔
“ملازمہ کو کمرے میں بجھوارہا ہوں۔ دوائی وقت پر کھا لینا اور ہاں۔۔” وہ ٹھہر کر پلٹا۔ “اب باہر لان میں نہیں جانا۔” سنجیدگی سے کہتے ساویز باہر نکل گیا۔ غنایہ نے تھوک نگل کر اس کی چوڑی پشت دیکھی اور نگاہیں پھیر دوسری جانب کر لیں۔ اس کا دل ہر احساس و جذبات سے خالی تھا۔ وہ کسی احساس کو محسوس نہیں کرنا چاہتی تھی۔ محبت کیا ہے اور اس میں مبتلا ہونے کے بعد کیا حاصل ہوگا۔۔۔ وہ ان سب باتوں سے دور تھی۔ باصم کے خوف سے شادی کرنا اس کے لیے محض ایک مجبوری رہی۔ اسے لگتا تھا سب ٹھیک ہو جائے گا مگر یہ نہیں معلوم تھا کہ سب کچھ یوں ہوتا چلا جائے گا۔ ساویز کو دیکھ کر ہمیشہ دماغ میں ایک خیال آتا تھا۔۔ کیا وہ اسے کبھی قبول کر پائے گی؟
۔۔۔★★★۔۔۔
“بہت خوبصورت!۔” اس کے الفاظ اور نگاہیں عشنا کو عجیب گھبراہٹ مبتلا کر گئے۔
“تھینک یو سر۔۔” صوفیہ کا ہاتھ سختی سے بھینچتی ہوئی وہ تیزی سے اس جگہ سے نکل کر دوسری طرف آکھڑی ہوئی۔ ڈوپٹہ اچھے سے پھیلایا ہوا تھا۔ تیز گانوں کی آواز جہاں لوگوں کو خوش کر رہی تھی وہیں عشنا کے سر کے درد میں اضافہ کرنے لگی۔
“میں نے پہلی بار مینجر کو یوں کہتے سنا۔” صوفیہ اب تک حیران تھی۔ عشنا نے ہونٹ کاٹے۔
“میں نے بھی۔۔ کیسے عجیب طرح سے دیکھ رہا تھا۔” اسے محسوس ہوا جیسے اس پارٹی میں آنا اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
“کم از کم رافع نہیں ہے۔۔” صوفیہ نے جان چھڑانی چاہی۔ وہ ابھی مزید کچھ کہتی کہ اندر داخل ہونے والے شخص کو دیکھ کر بوکھلائی۔ “یہ کیسے آگیا۔” ششدر لہجہ۔۔
“کون آگیا؟۔” عشنا نے اس کی نگاہوں کے تعاقب میں پیچھے دیکھا تو رنگت فق ہوگئی۔ گہرے بھورے رنگ کے کوث میں رافع اندر داخل ہوا تھا۔ سب سے گلے ملتے ہوئے نگاہ عشنا کی جانب ڈالی تھی۔ چہرے پر یکدم مسکراہٹ پھیل گئی۔
“یہ یہاں کیسے آگیا؟۔” اس نے صوفیہ کو پکڑ کر جھنجھوڑا۔
“مم۔مجھے نہیں معلوم عشنا۔۔ جب میں نے اسے تمہارے نہ آنے کا بتایا تھا تو مجھے لگا کہ وہ اب پارٹی میں نہیں آئے گا مگر۔۔۔” وہ گھبرائی گھبرائی بولی۔
“یا اللہ! اب وہ جان کر میری طرف آئے گا۔ داخلے کی طرف کھڑے ہونے کے بجائے ہمیں چاہئیے کہ اندر کی جانب چلے جائیں۔ کم از کم یہ ہمیں ڈھونڈھ تو نہیں پائے گا۔” یہ ریسٹورینٹ کافی بڑا تھا۔ صوفیہ کے ہمراہ وہ اپنا پرس اٹھاتے ہوئے وہاں سے آگے بڑھ گئی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
کلائنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر فائل دیکھتے میرویس کے کانوں میں رابعہ سرگوشی کرنے لگی۔
“اس شور کا کچھ کرو میرویس!۔”
“میں کیا کرسکتا ہوں۔” اس نے کندھے اچکائے۔
“یہ ریسٹورینٹ بک کرنے کا تمہارا آئیڈیا تھا اور جانتے ہو نا کہ یہ سب بھی کتنا معنی رکھتا ہے؟ کیا سوچ رہے ہوں گے وہ لوگ؟ ایک ڈھنگ کا ریسٹورینٹ بھی ملاقات کے لیے طے نہ کر پائے۔” وہ دو لوگ تھے جو ان کے مقابل بیٹھے میرویس کی پیش کی گئی ڈیل پر غور کر رہے تھے۔ میرویس نے بیزاریت سے گہری سانس خارج کی۔
“معاف کیجیے گا۔۔” وہ ان دونوں کو متوجہ کرواتا اٹھ کھڑا ہوا۔ “مجھے دو منٹ کی اجازت دیجئے۔” یہ شور و غل اس کا دماغ خراب کر رہی تھی۔ رابعہ کو آنکھوں سے اشارہ کرتا وہ اس ایریا کی جانب بڑھنے لگا جہاں پارٹی چل رہی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“اس کی بیوی کا نام غنایہ ہے۔۔ دو بہنیں ہیں۔۔ کل جس لڑکی کا آپ میرویس سے پوچھ رہے تھے میں نے اس کے بارے میں معلوم کروایا ہے۔ وہ غنایہ کی بہن ہے۔ نام عشنا!۔” خرم دروازے کی طرف کھڑا اسے معلومات دے رہا تھا۔ اس کی طرف پشت کیے کھڑا وجاہت گلاس وال کے باہر دیکھ رہا تھا۔ لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“غنایہ۔۔ نائس نیم!۔” کسی تیسرے کی موجودگی سے بے خبر وہ دونوں گفتگو کر رہے تھے۔ “بھابھی سے ملنا پڑے گا۔” اس کے ہنسنے کی آواز گونجی۔
“ساویز صبح آفس جاتا ہے اور گھر میں سوائے دو ملازموں کے کوئی نہیں ہے۔ ایک بوڑھی ملازمہ ہے جو عام طور پر کھانا بنا کر جلدی ہی چلی جاتی ہے مگر ملازم جس کی عمر زیادہ نہیں وہ سارا دن ٹھہر کر رات کو رخصت ہوتا ہے۔ دروازے پر ایک بوڑھا چوکیدار ہے جو اس ملازمہ کا شوہر بھی ہے۔” یہ ساری معلومات اکھٹی کرنے میں اسے کافی وقت لگا تھا۔ اس بات سے بے خبر کہ گلاس ڈور سے کوئی داخل ہوا ہے، وہ اپنی کہے جا رہا تھا۔ یکدم ہی اس کی نظر اندر داخل ہونے والے شخص پر نظر پڑی جو نجانے کب سے دروازے پر کھڑا تھا، تو الفاظ حلق میں ہی پھنس گئے۔ پریزے نے خرم کو خاموش رہنے کا اشارہ دیا اور وجاہت کا جواب سننے لگی۔
“کیا فرق پڑتا ہے ملازم دو ہوں یا آٹھ! وجاہت کسی سے نہیں ڈرتا۔” وجاہت کی بات خرم کے پسینے چھوٹ گئی۔ کاش وہ اسے بتا سکتا کہ پریزے پیچھے ہی کھڑی ہے۔
“اسے لگتا ہے وہ شادی کر کے بچ جائے گا؟ حالانکہ اس کی شادی سے ہمیں مزید آسانی ہوگئی ہے۔” وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ “ابھی تو صرف وہ وجاہت کو برداشت رہا ہے۔۔ اس کی بیوی سے ایک ملاقات تو کرنی ہی پڑے گی!!!۔” کہتے ساتھ وہ کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھتا ہوا مڑا۔ نگاہ کلائی سے اٹھائی تو ساکت ہوگئیں۔ پریزے کے تاثرات نارمل نہیں تھے۔ بےیقینی سے چہرہ پھیلا ہوا تھا۔ وجاہت کو کچھ بہت برا ہوجانے کا احساس ہوا۔ اس نے خرم کو دیکھا جو آنکھیں پوری کھولے پریشانی میں کھڑا تھا۔
“تم اب اس کے گھر کی عورت کو اپنے منصوبے میں شامل کرو گے؟۔” اسے حیرت تھی یا بےیقینی۔۔ وہ پہچان نہیں پایا۔ ہونٹ سل گئے اور وہ کچھ چاہنے کے باوجود بھی نہ کہہ پایا۔ “مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی وجاہت۔” دل بوجھل ہوگیا۔ قدم پیچھے بڑھنے لگے۔ وجاہت جہاں کا تہاں رہ گیا۔ دل بھاری ہونے گیا۔ قدم جم گئے۔۔ وہ بے یقینی سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے نکل گئی اور وجاہت صفائی میں کچھ کہہ بھی نہ سکا۔
“ایسا نہیں ہے۔۔” حلق سے گھٹ کر آواز نکلی۔ خرم کو ایک نظر دیکھتا ہوا وہ کوٹ کی جیب سے ہاتھ باہر نکال کر پریزے کے پیچھے بھاگتا ہوا باہر بڑھا تھا۔ خرم نے پریشانی سے گہری سانس اندر کھینچی۔ اس کی بیوی کو بھی ابھی آنا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔ گلابی رنگ اور یہ گلابی لپ اسٹک تم پر کھل رہی ہے۔” اسے اکیلا پاکر وہ ہمیشہ کی طرح اس پر جملے کس رہا تھا۔
“مجھے یہاں سے جانا ہے۔۔ راستہ دیں مسٹر رافع!۔” بظاہر سپاٹ لہجے میں کہتی عشنا کا دل خوف کھا رہا تھا۔ اس نے برابر سے نکلنا چاہا مگر رافع نے اس جگہ اپنا ہاتھ ٹکا لیا۔ وہ ششدر اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہ گئی۔۔ آج اس نے حد ہی پار کردی تھی۔
“کیا کر رہے ہیں آپ یہ؟ اپنا ہاتھ ہٹائیں۔” ارد گرد کچھ فاصلے سے لوگ کھڑے تھے۔ ماحول میں بہت زیادہ شور ہونے کی وجہ سے کسی کی بھی توجہ اس طرف نہ تھی۔
“جب صوفیہ نے مجھ سے یہ کہا کہ تم پارٹی میں نہیں آنے والی ہو تو میرا دل بہت اداس ہوگیا تھا۔ تمہارے بغیر میں بہت افسردہ ہوجاتا ہوں عشنا۔” نگاہیں اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ عشنا نے ارد گرد صوفیہ کو تلاشنا چاہا جو واش روم گئی تھی مگر اب تک نہیں لوٹی تھی۔ رافع کا ہاتھ اب بھی ویسے ہی دیوار پر ٹکا تھا تاکہ عشنا نہ جا سکے۔
“یہ ٹھیک نہیں کر رہے ہو تم! تمہیں جلد اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا رافع۔۔” ہلکا غصہ اور ہلکا خوف۔۔ ایک عجیب تاثر بنارہے تھے۔ رافع کا قہقہہ چھوٹا۔
“ابھی تو میں نے کچھ کہا ہی نہیں۔۔” اسے سر تا پیر دیکھتے ہوئے اس کی خوفزدہ پھٹی آنکھوں کو دیکھا۔ عشنا نے اپنا دوپٹہ مٹھی میں بھینچ کر سختی سے پکڑ لیا۔
“اگر سرخ لپ اسٹک لگاتی تو بھی اتنی ہی خوبصورت لگتی۔” وہ اس سے کم فاصلے پر کھڑا اسے بغور دیکھ رہا تھا۔ اس نے کچھ کہنا چاہا کہ نظر سامنے سے گزرتے میرویس پر پڑی۔ آنکھیں حیرت سے پھیلنے لگیں۔ رافع کی اس کی جانب پشت تھی۔ اس نے میرویس کو گزرتے ہوئے ساؤنڈ سسٹم کے طرف بیٹھے لوگوں کی جانب دیکھا۔ رافع اب بھی اس کو کچھ کہہ رہا تھا مگر اس کی ساری توجہ میرویس نے کھینچ لی تھی جسے عشنا کی موجودگی کا علم بھی نہیں تھا۔ سر کچھ اٹھاتے ہوئے اس نے دور اپنے کولیگز سے میرویس کو گفتگو کرتے پایا۔ وہ قدرے سنجیدہ معلوم ہو رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ گفتگو مکمل کرتا ہوا واپس عشنا کے پاس سے گزرتا ہوا باہر نکل رہا تھا جب اس کی نگاہ بے دھیانی میں عشنا پر پڑی۔ وہ چونکے بنا نہ رہ سکا۔ رافع اب اس کے بے حد قریب کھڑا تھا۔ دیوار پر اب بھی بازو ٹکا ہوا تھا۔ اس شخص کا یوں عشنا کے اس قدر نزدیک ہونا میرویس کا چہرہ سرخ کر گیا۔ اس نے عشنا کی آنکھوں میں دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔ خوفزدہ آنکھیں الجھی ہوئی تھیں۔ اس کے تاثرات کچھ سہمے ہوئے تھے اور وہ کسی امید سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔ میرویس جس کا دماغ اس شور سے پہلے ہی پھٹ رہا تھا اس شخص نے مزید گھمادیا۔ گانے کی آواز اس کی ریکوسٹ پر آہستہ کردی گئی تھی۔
“کیا ہورہا ہے یہاں؟۔” وہ پوری قوت سے دھاڑا۔ آس پاس سب لوگوں میں خاموشی چھا گئی۔ رافع ہڑبڑا کر عشنا سے دور ہٹا۔ اس کی دھاڑ پر گانا مکمل بند ہوگیا اور سب تماشائیوں کی طرح انہیں دیکھنے لگے۔ میرویس کی کڑی نفرت بھری نگاہ رافع کے چہرے پر تھی۔ اس کے دماغ کی نسیں پھٹ رہی تھیں اور وہ غصے کی آخری حدوں میں معلوم ہوتا تھا۔
“کک۔کیا؟۔” رافع بمشکل بولا۔
“کون ہے یہ؟۔” اس نے عشنا سے پوچھا۔
“کک۔کولیگ ہے۔” اس کے یوں دھاڑنے پر عشنا کی بھی سٹی گم ہوگئی تھی۔
“اتنا بے غیرت اور بے شرم آدمی تمہارا کولیگ ہے؟۔” دانت پیس کر اس نے رافع کو دیکھا جو اس بات پر بھڑک اٹھا اذتھا۔
“تو یار لگتا ہے اس کا جو مجھے کوس رہا ہے؟۔” اس پر حاوی ہونے کے لیے وہ برابر چیخا۔ میرویس نے لال انگارہ ہوتی آنکھوں کے ساتھ ہاتھ میں پکڑے گلاس پر اس قدر گرفت مضبوط کی کہ وہ چھن کی آواز سے ٹوٹ کر بکھر گیا۔ چھوٹی چھوٹی کانچ اس کی ہتھیلی میں چبھ گئی تھیں مگر وہ کسی تکلیف کی پرواہ کیے بغیر اسے دیکھ رہا تھا۔ مقابل کھڑا شخص اس کی جانب بڑھا تھا جب میرویس نے پوری قوت سے مکا بنا کر اس کی ناک مارا۔
“ایڈیٹ!۔” ہاتھ جھٹکتے ہوئے وہ خطرناک تاثرات سے دور ہٹا۔
“کیا ہوا ہے؟۔” مینجر تقریبا بھاگتا ہوئے آیا تھا۔ میرویس نے مڑ کر اس کو اپنا چہرہ دکھایا۔ کچھ دور صوفیہ ششدر کھڑی یہ سب ہوتا دیکھ رہی تھی۔
“مینجر میرویس؟۔” اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹیں۔ “یہ میرویس ہیں! فاری کمپنی کا مینجر۔۔ اگلے مہینے ان کے ساتھ ایک کانٹریکٹ سائن ہونے والا ہے۔” وہ معاملے کو سنبھالتا ہوا بات کسی اور طرف موڑنے لگا۔ رافع کی ناک سے خون بہہ رہا تھا اور وہ دیوار سے ٹیک لگائے بے سدھ بیٹھا تھا۔
“ہاں دیکھا ہے میں نے آپ کی کمپنی کے امپلائیز کو۔۔” جملے میں واضح طنز تھا۔ اس نے پل بھر میں عشنا کے مینجر کو شرمندہ کردیا۔
“اب بھی یہیں ٹھہرو گی؟۔”رافع سے منہ پھیر کر عشنا سے پوچھا۔ اسے میرویس کا لہجہ سرد محسوس ہوا۔ وہ تیزی سے وہاں سے نکلتی اس کی جانب آئی۔ ایک نظر مینجر کو دیکھ کر وہ باہر نکل گیا تھا۔
دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی۔ وہ کلائنٹ کی میز کے قریب جانے سے پہلے رکا۔
“میں اس میز پر ہوں۔ میٹنگ اختتام کی طرف ہے۔ تم یہی کسی میز پر ٹھہر جاؤ۔ بس تھوڑی دیر میں آتا ہوں تمہاری طرف۔۔” اس کے لیے کلائنٹ کی میز کے سامنے والی میز کی کرسی دھکیل کر بیٹھنے کا اشارہ دیتے ہوئے وہ مڑنے لگا۔
“میں گھر چلی جاتی ہوں۔” عشنا تیزی سے بولی۔ یکدم دوسرے ایریا سے رافع باہر نکلا تھا۔ انہیں کھا جانے والی نگاہوں سے تکتے ہوئے وہ وہاں سے گزر گیا۔
“میں یہیں ٹھہر جاتی ہوں۔” پل بھر میں سٹی گم ہوئی تھی اور وہ اس کی باہر نکالی گئی کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔ میرویس اس کے یوں اچانک کہنے پر دل ہی دل میں مسکرا دیا۔ انک بلو کوٹ میں ملبوس وہ ہمیشہ کی طرح اچھا لگ رہا تھا۔ لمبا قد اور چوڑے کندھے ہمیشہ سے عشنا کی توجہ کھینچتے تھے۔ وہ نظریں چراتی ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ رابعہ کی آواز پر وہ متوجہ ہوتا اپنی میز کی جانب بڑھا۔ عشنا وہیں میز پر اپنے ناخن سے خھروچ لگاتی ابھی تک ہڑبڑاہٹ میں بیٹھی تھی۔ اس نے سامنے والی میز پر میر کو دیکھا جو اسے بار بار دیکھ رہا تھا۔ نجانے کیوں عشنا کو اس سے ڈھیروں شرمندہ محسوس ہو رہی تھی۔ وہ اس کے لیے آج کتنا پریشان ہوا تھا۔۔ عشنا کو آج پہلی بار معلوم ہوا تھا کہ میرویس فاری نام کی جانی مانی کمپنی کا مینجر ہے حالانکہ اس کے غیر سنجیدہ لہجے سے وہ کبھی یہ بات نہ جان سکی تھی۔ ائیر کنڈیشنر کی تیز ہوا اس کی انگلیاں سرد کرنے لگیں۔ کلائنٹ سے گفتگو کرتا میر اسے پہلی بار یوں سنجیدہ معلوم ہوا۔ ماتھے پر ہلکے ہلکے بل اور آئبرو کسی وجہ سے الجھی ہوئی تھی۔ یکدم وہ چاروں ساتھ کھڑے ہوئے اور آپس میں ہاتھ ملانے لگے۔ ان کے درمیان سے میر نے ایک بار پھر عشنا کو دیکھا تھا جو اس کے دیکھنے پر جھجھکتے ہوئے نگاہ میز کی جانب کر چکی تھی۔ رابعہ کو ان کے پیچھے بھیج کر وہ اپنا لیپ ٹاپ بند کرتا ہوا اس کی جانب بڑھنے لگا۔ عشنا کو گھبراہٹ کا احساس ہوا۔۔ ایسا پہلی بار تھا کہ وہ میرویس سے گھبرا رہی تھی۔ خود کو اس کے سامنے مضبوط پیش کرتے کرتے اتنے سال گزر گئے اور آج وہ یہاں بے بس ہوچکی تھی۔۔۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں پلیز میری فکر مت کریں۔” ملازمہ اسے دیکھنے بار بار کمرے میں آرہی تھی۔ غنایہ کا دل مزید یہاں نہ لگا تو وہ ڈوپٹہ پہن کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ کمرے میں روشنی اور ہوا کے باوجود اسے گھٹن محسوس ہورہی تھی۔
“بیٹا سوپ لے آؤں؟۔” لہجہ فکر مند تھا۔
“نہیں میں مزید سوپ نہیں پینا چاہتی۔ تھوڑی تازہ ہوا کے لیے لان میں جا رہی ہوں۔” انہیں تسلی دیتی وہ نیچے چلی آئی۔ رنگت بیماری کی وجہ سے اتری ہوئی تھی۔ ڈھیلی سی پونی بنا کر اس نے چہرے پر آتے بالوں کو کان کے پیچھے کیا ہوا تھا۔ لان میں بھی ٹیرس کی طرح جھولا لگا تھا مگر وہ ٹیرس کے جھولے کی مناسبت کچھ اور کشادہ تھا۔ ہری بھری گھانس اور کنارے پر دیوار کے ساتھ رکھے گملے اسے بہت اچھے لگتے تھے۔ وہ جھولے پر آبیٹھی۔ کھلی فضا اس کی طبیعت کو جہاں پر سکون کرنے لگی وہیں اسے ٹھنڈک کا احساس ہوا۔
“میں نوفل کے ہاتھ فریش جوس بھیج دیتی ہوں۔” وہ بوڑھی عورت لاونج سے اسے دیکھتے ہوئے بولنے لگی۔ غنایہ نے کچھ نہیں کہا۔ جانے یہ نوفل کون تھا اور جوس اس کے ہاتھ کیوں بجھوانے کا کہا تھا۔ وہ پاؤں کو گھانس پر ٹکاتی ہوئی کچھ زور لگاتے ہوئے ہلکا جھولا جھلانے لگی۔ ساویز کے منع کرنے کے باوجود بھی یہاں بیٹھی تھی۔
“یہ آپ کے جوس کا گلاس!۔” کسی لڑکے کی آواز پر اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔ وہ کوئی تیرہ، چودہ سال کا ایک لڑکا تھا جس کے لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ تھی۔
“ہاں۔۔” وہ جیسے ہوش میں آئی۔ گلاس اس کے ہاتھوں سے تھام کر پکڑا۔ “تھینک یو۔” قد میں بظاہر لمبا اور دبلا پتلا تھا۔ چہرے پر مسکراہٹ چپکی ہوئی تھی۔ اسے دیکھتے ہوئے مسکراتا وہ اندر چلا گیا۔ غنایہ اب تک لاونج کے دروازے کو دیکھ رہی تھی جہاں سے وہ لڑکا اندر گیا تھا۔ کیا یہ لڑکا وہی ملازم تھا جس کا ذکر ساویز نے کیا تھا؟ چہرے سے کتنا معصوم اور بھولا معلوم ہورہا تھا۔ سوچ جھٹکتے ہوئے اس نے جوس کا گلاس اٹھایا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“تو یہ ہے تمہاری کھٹارا۔” لبوں پر شریر مسکراہٹ تھی۔ دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں تھے اور وہ کسی وثوق سے اس کی گاڑی کو دیکھ رہا تھا۔ عشنا نے لب کاٹے۔
“اسے ایسا مت کہو!۔” جو کچھ ابھی ہوا تھا اس کے بعد عشنا غصہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“کسے؟۔”
“میری ڈارلا کو۔۔” وہ اب بھی ہونٹ کاٹ رہی تھی۔ ماتھے پر ہلکے ہلکے بل تھے اور آواز دھیمی تھی۔ میرویس نے حیرت سے بھنویں اچکائی۔ وہ آسمانی رنگ کی تھوڑی چھوٹی گاڑی تھی۔
“تو یہ گاڑی ہے جسے تم ڈارلا کہتی ہو؟۔” وہ چونکا تھا۔
“ہاں۔” اس نے مختصر جواب دیا۔ میر مسکرا کر رہ گیا۔
“ڈارلا کہو یا ڈارلنگ۔۔ ہے تو کھٹارا۔” کہتے ہوئے وہ اس کا دل جلا گیا۔
“میں نے تم سے کہا نا کہ ایسا مت کہو۔”
“کیوں؟۔”
“بس مجھے اچھا نہیں لگتا۔” ماتھے پر ہلکے ہلکے بل تھے۔ وہ اس کو دیکھنے لگا جس کی ناک پر ہلکا ہلکا غصہ بیٹھا تھا۔
“غصہ آتا ہے؟۔”
“کس پر؟۔” وہ الجھی۔
“جب کوئی تمہاری ڈارلا کو برا کہتا ہے تو تمہیں غصہ آتا ہے؟۔”
“ہاں!۔”
“غصے میں کیا دل چاہتا ہے؟۔”
“دل چاہتا ہے اس شخص کا سر پھاڑ دوں۔” اس کا چہرہ بگڑا۔
“تو جب کوئی چھیڑ رہا ہوتا ہے تب غصہ نہیں آتا؟۔” سرد آواز اس کے کانوں پر پڑی تو عشنا نے مڑ کر اسے دیکھا۔ چہرہ سپاٹ تھا۔ عشنا کی رنگت فق ہوئی۔
“کیا مطلب ہے تمہارا؟۔”
“اگر یہی غصہ تم اس وقت کرتی تو شاید اسے کوئی موقع نہیں مل پاتا۔” چہرے پر گہرے بل تھے۔
“میں نے اس سے کہا تھا۔۔” آواز حلق میں پھنسنے لگی۔
“ہونہہ! کیا کہا تھا؟ بلکہ کیا ہی کہا ہوگا تم نے! کہ ہٹ جاؤ؟ یا دور ہٹو؟ تمہیں لگا تھا وہ تمہاری بات مان کر دور ہٹ جائے گا؟ یا یہ کہے گا کہ سوری مجھ سے غلطی ہوگئی؟۔” وہ عشنا کا دل ڈوبتے ہوئے محسوس کر سکتا تھا۔ اسے حیرانی تھی کہ وہ لڑکی ایک اکیلے گھر میں کیسے رہتی ہوگی جب وہ اپنے ساتھ کچھ غلط ہوتا دیکھ کر آواز نہیں اٹھا پاتی تھی۔
“مجھے نہیں پتا تھا کہ پارٹی میں میرے ساتھ یہ سب بھی ہوسکتا ہے۔” ہونٹ تھرتھرانے لگے۔ گزرے وقت کو کچھ سوچنا محال تھا۔ میر نے نگاہ پھیر لی۔۔ سوچتے ہوئے بھی اسے اذیت ہونے لگی کہ اگر وہ وہاں نہ جاتا تو وہ کمینہ شخص مزید کیا کر جاتا۔
“اپنا خیال رکھا کرو۔۔” یہ اس کی بات کا جواب نہیں تھا مگر وہ پھر بھی یہی کہہ رہا تھا۔ آنکھیں اس کی آنکھوں کے رنگ میں الجھی تھی۔ دل میں عجیب ہلچل سی مچ گئی۔
“آئم سوری۔۔” اسے آج شرمندگی محسوس ہونے لگی۔ وہ شخص جو اس کے مقابل کھڑا تھا، نگاہوں میں اس کے لیے عزت بڑھ گئی تھی۔ ایک طرف ایک ایسا مرد تھا جس کے غلط ارادوں سے وہ اتنے ہجوم میں بھی بچ نہیں پارہی تھی اور ایک یہ مرد تھا جو اس تنہا جگہ پر بھی اس کو نصیحت کر رہا تھا۔
عشنا کو اپنا آپ چھوٹا محسوس ہونے لگا۔
“مجھ سے نہیں۔۔۔ خود سے معافی مانگو کہ آئیندہ تم کبھی خاموش نہیں رہو گی۔ اگر عورت کو اپنی طاقت کا اندازہ ہوجائے تو دنیا بھر کے مرد اس ڈر سے کوئی غلط ارادے نہ رکھیں۔” وہ اسے آخری حد تک سنجیدہ معلوم ہورہا تھا۔ “خدا حافظ۔” ایک نظر اس دیکھتا ہوا وہ اس کی گاڑی کے پیچھے پارک ہوئی اپنی گاڑی کی طرف چلا بڑھ۔ اس کے الفاظوں میں گم عشنا مزید شرمندہ ہوگئی۔ دو منٹ بھی نہیں گزرے تھے جب گاڑی کے ہارن کی آواز سنائی دی۔ اس نے میر کو دیکھا جو اسے توجہ دلا رہا تھا کہ اب اسے بھی جانا چاہئیے۔
جب تک وہ گاڑی میں بیٹھ کر آگے نہ بڑھ گئی میرویس اس کا انتظار کرتا رہا۔ بیک مرر سے اس نے کافی آگے تک بھی میر کو اپنے پیچھے آتا دیکھا۔ عشنا جانتی تھی وہ یہ اس کی حفاظت کے لیے کر رہا ہے۔۔ پھر وہ راستہ بھی آیا جہاں دونوں اپنی اپنی منزلوں کی جانب بڑھ گئے۔۔ سرمئی شام ڈھلنے لگی اور آسمان رنگ بدلنے لگا۔۔