Tu Dil Se Na Utar Saka By Ayna Baig Readelle50173 Episode 11 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11 Part 1
تو دل سے نہ اتر سکا از عینا بیگ
گیارہویں قسط (پہلا پارٹ)
وہاج کی موت کو ایک ہفتہ مزید بیت گیا۔ میرویس جب سے لاہور سے لوٹا تھا کچھ خاموش سا تھا۔ روٹین ویسے ہی ٹف تھی۔ صبح آٹھ بجے آفس جانا اور بارہ بجے لوٹنا۔ وہ اتنا کام کرتا کہ تھک جاتا۔ طرح طرح کے لوگوں کو فیس کر کے رات تاخیر سے پہنچتا تو خاموش ہی رہتا تھا۔
آج رات بھی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے اس کے تاثرات سپاٹ تھے۔
“لاؤ مجھے لیپ ٹاپ بیگ دے دو۔” اس نے میرویس کے ہاتھوں سے بیگ لینا چاہا مگر میرویس نے بیگ دور کیا۔
“ضرورت نہیں ہے۔” وہ اسے کوئی بوجھ اٹھانے دینا نہیں چاہتا تھا۔ عشنا نے اس کی ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے اتاردی۔
“میں نے تمہارے لیے کپڑے نکال دیے ہیں۔ اب کھانا نکال دیتی ہوں۔” وہ ضرورت کے علاؤہ کوئی اور بات نہیں کر رہی تھی۔ میرویس کی پیشانی پر شکنیں نمودار تھیں۔
“کیا بنایا ہے؟۔”
“آلو مٹر۔۔ تمہارا پسندیدہ۔” کہتے ہوئے لبوں پر مبہم سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
“ہوں۔ میں شاور لے کر آتا ہوں۔” کپڑے بستر سے اٹھاتے ہوئے مزید ٹھہرے بنا واش روم کی جانب بڑھ گیا۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ دونوں ہی ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے تھے۔ عشنا جو پہلے ہی کھانا کھا چکی تھی اب اس کے حکم پر ساتھ بیٹھی تھی۔ میرویس نے کھانے کا پہلا لقمہ ڈالتے ساتھ ہی سالن کے پیالے کو دیکھا تھا۔ شاید کھانے میں نمک نہیں تھا۔۔ نمک میں کھانا تھا۔ منہ میں نمک محسوس کرتے ہوئے میرویس نے عشنا کو دیکھا اور دوبارہ کھانے میں مصروف ہوگیا۔ وہ کسی ارادے سے اٹھنے لگی تھی جب میرویس نے ترچھی نگاہ اس پر ڈالی۔
“کہاں جا رہی ہو؟۔”
“تمہارے لیے پانی لے کر آتی ہوں۔”
“ضرورت نہیں ہے۔۔ بیٹھ جاؤ۔” نگاہوں میں سختی تھی۔
“اچھا چاول اور لانے دو۔” اس نے ٹرے اٹھانی چاہی مگر میر نے اس کا پکڑ کر زبردستی بٹھایا۔
“اتنا ہی کھاؤں گا۔ مزید کی ضرورت نہیں۔۔” گیلے بال بکھرے ہوئے تھے۔ چہرے پر سنجیدگی کے بھرپور آثار نمودار تھے۔
“تم نے آج کل اپنا کھانا پینا کافی کم کیا ہوا ہے۔ تمہاری صحت گر رہی ہے۔ اپنی حالت دیکھو۔ صبح اٹھ کر بھی جم جانا ضروری ہے مگر رات کا کھانا تم روما سے بھی کم کھاتے ہو۔ آخر چاہتے کیا ہو میرویس؟۔” وہ فکرمندی سے اسے تقریباً ڈانٹتے ہوئے بولی۔
“کھانا کھا لیا ہے تم نے؟۔” اس کی بات کو نظرانداز کرتا ہوا وہ دھیرے سے پوچھنے لگا۔
“ہاں۔”
“تو میرا دماغ کیوں کھا رہی ہو؟۔” پیشانی پر غصے کے بل نمودار ہوئے۔ عشنا کی چلتی زبان خاموش ہوئی۔ وہ اسے بہت آرام سے لاجواب کر گیا تھا۔
“میں آئیندہ تمہارے ساتھ نہیں بیٹھوں گی۔ اکیلے کرنا ڈنر!۔” منہ پھیرتے ہوئے وہ دوسرے جانب رخ کرکے بیٹھ گئی۔ اس نے ذرا سا مسکراتے ہوئے عشنا پر نگاہ ڈالی اور کھانا ختم کرنے لگا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“مجھے اب بھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ سب کل کی بات ہو۔” غنایہ کی آواز نے اس کی نیند میں خلل پیدا کیا تھا۔
“اور مجھے لگتا ہے جیسے وہ ہمارے درمیان ہو۔” ساویز کی بھاری آواز ابھری۔
“ان کی امی کے لیے مجھے بہت تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ میرویس بھائی نے بتایا تھا کہ وہ اب تک اس کی موت کو قبول نہیں کر پائیں۔”
“جوان اولاد کا دکھ ایسا ہی ہوتا ہے غنایہ۔”
“ایسے کیسے ہو سکتا ہے وہ ایکسیڈنٹ ہو جبکہ وہ پل اکثر سنسان پڑا رہتا ہے۔” غنایہ کی بات پر ساویز نے کچھ سوچا تھا۔ کم از کم یہ اکسیڈنٹ نہیں تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“کتنا سر کھاتی ہو تم!۔” آدھے گھنٹے سے اس کی مستقل باتیں سنتے ہوئے وہ بلآخر سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
عشنا جی بھر کر چونکی۔۔ بلکہ بوکھلا گئی۔ اسے کیا ہوا تھا؟ ابھی تو اچھا خاصا بیٹھ کر اس کی باتیں سن رہا تھا۔۔
“میں تم سے آج کے دن کی باتیں کر رہی تھی۔” خفا خفا سا لہجہ۔۔
“باتیں؟ باتیں وہ ہوتی ہیں جو دو لوگ آپس میں کرتے یعنی کچھ تم کہو، کچھ میں! مگر یہاں صرف تم ہی کہہ رہی ہو وہ بھی آدھے گھنٹے سے۔۔” اس کی ٹھوڑی کھینچتے ہوئے وہ اپنی جگہ پر لیٹ گیا۔
عشنا کو اس کا یوں کہنا بہت برا لگا۔ آنکھیں بھر آتیں اگر وہ رخ موڑ کر اپنی جگہ پر جلدی سے لیٹ نہ جاتی۔ میرویس نے اسے تیزی سے لیٹتے ہوئے دیکھا تو جان گیا کہ وہ ناراض ہوگئی ہے۔
“مذاق کر رہا ہوں یار۔ دیکھو تمہارے لیے ہی لیٹا ہوں تاکہ زیادہ سکون سے بات سن سکوں۔” وہ کہتا ہوا اس کا بازو تھپتھپانے لگا تاکہ وہ اٹھ جائے۔
“تم سے نہیں کرنی مجھے کوئی بھی بات!۔” بھرائی ہوئی آواز میرویس کے کانوں پر پڑی تو سٹپٹا گیا۔
“عاشی اٹھو!۔” وہ اب لیٹے لیٹے ہی اس کا بازو کھینچ رہا تھا۔
“میں نے کہا نا میرویس نہیں کرنی مجھے کوئی بات۔ ہاتھ دور کرو سونا ہے مجھے۔” غصے سے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے وہ تھوڑا آگے سرکی۔
“عاشی تنگ نہیں کرو۔” اس کو بازو سے کھینچ کر سختی سے جانب کیا۔ “اتنی دنوں بعد ایسا ہوا کہ آفس سے آنے کے بعد میں غصہ نہیں کر رہا۔ پلیز غصہ مت دلاؤ۔” اسے اپنے نزدیک کرتے ہوئے وہ اس کا موڈ مزید خراب کر گیا۔
“غصہ نہیں کر رہا؟ کھانے کے دوران بھی تم نے غصہ کیا۔” وہ جھٹکے سے اٹھ کر اس سے لڑنے کے لیے بیٹھی۔
“اچھا؟ بتاؤ کیا کہا تھا؟” دلچسپی سے کہتے ہوئے وہ اسے بغور سننے لگا۔
“دماغ کیوں کھا رہی ہو میرا اگر کھانا کھا لیا ہے تو۔۔” اس کی نقل اتارتے ہوئے وہ بھڑکی۔ “میرے پاس بیٹھے رہا کرو۔۔ ہزار بار کہا ہے کھانے کے دوران میں باتیں نہیں کرتا۔ میرے پاس سے ہلنا بھی مت۔۔ کھانا حلق میں پھنسنے کی وجہ سے میں مر بھی رہا ہوں تو بھی پانی لے کر آنے کے لیے میرے پاس سے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔” باری باری اس کے سارے جملوں کی نقل اتارتے ہوئے وہ میرویس کو زور سے قہقہہ لگانے پر مجبور کر گئی۔
“اتنا بھیانک انداز مہں کہتا ہوں میں؟۔” اس کے شریر لہجے پر وہ ہنسی نہ روک سکی۔
“اچھا مجھ سے باتیں کرو۔ پھر آگے کیا کہہ رہی تھیں؟ اصغر نے تمہاری ہی چائے میں چینی نہیں ملائی اور تمہیں پھیکی پینی پڑی۔۔ غصہ تو آیا ہوگا۔۔ آگے؟۔” بے حد وثوق سے اسے دیکھتے ہوئے اشتیاق بھرے لہجے میں بولا۔
“اب نہیں کرنی مجھے اس موضوع پر بات۔” ناراضگی دوبارہ واضح ہونے لگی۔
“مگر مجھے کرنی ہے۔ میں تمہیں چھیڑ رہا تھا۔ سچ کہوں تو اس لیے لیٹا تھا تاکہ سکون سے بات سن سکوں۔” اس کا ہاتھ چومتے ہوئے وہ محبت سے بولا تو عشنا کو غصہ آیا۔
“تم بہت زیادہ غصہ کرنے لگے ہو۔”
“ابھی کب کیا میں نے؟۔” وہ الٹا حیرت زدہ ہوا۔
“تو جب سے تمہاری روٹین ٹف ہوئی ہے تب سے تو غصہ کر رہے ہو نا۔”
“یار میں تھک جاتا ہوں۔” اس کے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں پر رکھتے ہوئے وہ اس کا لمس محسوس کرنے لگا۔ “دن میں اتنے لوگوں کا سامنا کرنا، ڈھیر سارا کام، پھر سب ایمپلائیز کو دیکھنا۔ صبح آٹھ بجے کا نکلا شخص جب رات بارہ بجے گھر میں داخل ہوگا تو دو پل سکون ہی مانگے گا نا۔” نظروں میں اس کے لیے بے پناہ محبت امڈی۔
“میں تمہیں سکون نہیں دیتی؟” عشنا کا دل بوجھل ہوا۔
“تم ہی تو سکون دیتی ہو۔ اس لیے کھانے کے بعد میں تم سے آدھی رات تک باتیں کرتا رہتا ہوں۔”
“مجھ سے اکتا جاتے ہو گے۔” عشنا نے لب کچلے۔
“تم سے؟۔” قہقہہ گونجا۔ “ہوش میں ہو؟۔”
“درست کہہ رہی ہوں۔”
“بلکل غلط کہہ رہی ہو۔ آفس میں پورا وقت بس وقت گزرنے کا انتظار کرتا ہوں۔ تاکہ گھر آسکوں۔ اور گھر میں کون ہے؟ تم! ورنہ گھر تو میں پہلے بھی آتا تھا۔ مگر پہلے اتنی دلچسپی نہیں تھی جلدی گھر آنے کی۔۔ اب ہے!۔” وہ بھلا اس سے کیسے اکتا سکتا تھا۔ “دن میں آٹھ دس بار کال کرتا ہوں لیکن تم بڑی ظالم ہو۔ مجھے آج کال پر ہی ڈانٹ دیا یہ کہہ کر میں آفس میں مصروف ہوں اور مجھے کال کم کیا کرو!۔” آخر میں وہ خفا ہوا۔ عشنا مسکرا دی۔
“مجھے اس وقت غصہ تھا۔ اپنے حصے کا کام کر کے میری آف ہونے لگی تھی مگر مینجر نے اور کام پکڑا دیا۔ اس لیے تم سے یوں کہہ دیا۔” اس کی سیاہ آنکھیں بولتی تھی۔ عاشی اس کی آنکھوں کو دیکھتی رہ گئی۔ وہ صاف بتاتی تھیں کہ اسے عشنا سے کتنی محبت ہے۔
“اگر تم نے مجھے اب یوں ڈانٹا نا تو۔۔” دھمکی۔
“کیا کرو گے؟۔” اس نے بھی بنھویں اچکائیں۔
“گھر نہیں آؤں گا۔ انتظار کرتی رہنا میرا۔۔” وہ اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔
“پھر میں اپنی ڈارلا کو لے کر تمہیں ڈھونڈنے باہر چلی جاؤں گی۔” وہ بھی جواباً بولی۔
“یا خدایا نہیں! تم اور تمہاری بےشرم ڈارلا۔۔” ساتھ ہی ہنسی کی آواز آئی۔
“اف ہو! میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ تمہیں میری ڈارلا سے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ ہاں ٹھیک ہے! وہ نہیں ہے تمہاری کرولا کے برابر مگر عشنا کی جان ہے اس میں۔۔”
“میری بھی تم میں جان ہے۔ مجھے بھی اتنا عزیز رکھو۔” وہ اسے چھیڑ رہا تھا جب عشنا یکدم ہی سرخ ہوئی۔
“تم بھی عزیز ہو مجھے۔۔ ایسی بات نہیں ہے۔”
“لانگ ڈرائیو پر چلیں؟”
“جی نہیں! صبح آپ نے آفس جانا ہے۔ میں لائٹ بند کر رہی ہوں۔” وہ لائٹ بند کرنے بڑھی تو وہ اس کی بات پر مسکراتا رہ گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“میں نے عادل سے کہہ دیا ہے۔ ساویز کو ایک بار پھر ڈرانا دھمکانا ضروری ہے باس! ورنہ وہ بھول رہا ہے۔۔ سمجھتا ہوگا کہ آپ اپنی بہن کو بھول گئے ہیں۔” خرم نے جان کر اسے مزید بھڑکایا تھا۔
“میں اپنی بہن کو بھول نہیں سکتا۔” اس کا چہرہ سرخ ہوا۔ “وجاہت کا قصہ اس کی زندگی سے اتنی جلدی ختم نہیں ہوسکتا۔”
“آپ کیا کرنے والے ہیں؟ اس کو مارنا ٹھیک رہے گا۔” وہ یکدم ہی خوش ہوا۔ اگر ساویز زندہ رہا تو شاید خرم کی جان سینے میں ہی اٹکی رہے گی۔
وجاہت ایک انداز سے مسکرایا۔ بائیں گال کر ڈمپل گہرا ہوا۔
“میں اس سے بھی کچھ زیادہ برا کرنے والا ہوں۔” ذہن میں کسی کا چہرہ ابھرا تھا اور وہ شاطرانہ ہنسی ہنستا ہوا کام میں مصروف ہوگیا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“تم تھکتے نہیں؟۔” تقی کا زور دار قہقہہ گونجا تھا۔
“کس لیے؟۔” باریال نے افسوس سے تاش کے پتے میز پر رکھے۔
“ہر کھیل میں مات حاصل کرتے ہوئے؟۔” کہتے ساتھ بیچارگی سے نفی میں سر ہلانے لگے۔
“اب تو لگ رہا ہے میرے نصیب میں تاش میں جیتنا ہے ہی نہیں۔۔” اس نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
تقی محض مسکرا کر رہ گئے۔ ایک وہی تو تھا جس کی وجہ سے اس بڑے گھر میں ان کا دل بہلا رہتا تھا۔ وہ ابھی اندر ہی جا رہا تھا جب کچھ یاد آنے پر مڑ کر انہیں دیکھنے لگا۔
“مجھے آپ کو ایک اطلاع دینی تھی۔ کل صبح کی گاڑی سے میں گاؤں واپس جا رہا ہوں۔ پہلے آپ کے لیے مزید ٹھہر گیا تھا مگر اب اماں چاہتی ہیں میں گاؤں لوٹ جاؤں۔ امتحانات بھی ختم ہوگئے ورنہ کوئی نہ کوئی بہانہ کر ہی دیتا۔” اس کے چہرے سے صاف محسوس ہوتا کہ وہ یہاں سے جانا نہیں چاہتا مگر مجبوری ہے۔ تقی کی آنکھوں کی پتلیاں اس کے چہرے پر ساکت رہ گئیں۔ وہ جا رہا تھا۔۔ یعنی وہ مکمل طور تنہا ہونے والے تھے۔ سنگا پور پلٹ جاتے اگر انہیں اس بڑے گھر اور بزنس کو یوں چھوڑ دینے کا خوف نہ ہوتا۔ ان کی مجبوری تھی۔۔ مگر یہ گھر انہیں ان کے بیٹے کی یاد دلاتا تھا۔ گزری رات وہ اس کے کمرے میں سوئے تو احساس ہوا کہ اس کا کمرہ بھی اس کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ دل میں ایک عجیب سا درد ہوا۔ وہ اسے تھامتے رہ گئے۔۔ باریال کمرے میں جا چکا تھا۔ تقی نے تکلیف سے ہوا میں سانس خارج کی۔۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“مجھے ساویز پسند ہے۔” اس رات وہ بیرسٹر محمود کے بیٹے کو بے دھیانی میں تھپڑ مار کر تھرتھراتے ہوئے گھر پہنچی تھی۔ اس کی دوست نے یہ کہہ کر مزید سہما دیا کہ وہ نہیں جانتی کہ حذیفہ محمود کیا کرسکتا ہے۔
رات اس پارٹی میں جس طرح وہ بار بار اس کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کر رہا تھا، کائنہ برداشت نہ کر سکی۔ ہاتھوں میں ڈرنک تھی جو حذیفہ محمود کے ہاتھ سے گر کر زمین پر چھناکے کی آواز سے ٹوٹی تھی۔ سب ساکت رہ گئے تھے۔ گانا بھی روک دیا گیا۔ وہ جو اس بار گارڈز سے بچ بچا کر پارٹی میں گئی تھی وہاں سے نکلنا محال ہوگیا تھا۔ اس کی دھمکیاں سنتی کائنہ کا حلق خشک تھا جب اس کی دوست نے اسے یہاں سے فوراً جانے کو کہا۔۔ اور ساتھ یہ بھی تاکید کی کہ چند دنوں تک گھر میں ہی ٹھہرنا۔۔
اس دن وجاہت نے اس کے چہرے پر ایک خوف محسوس کیا تھا۔ وہ سارا دن اپنے کمرے کی کھڑکی پر ہی بیٹھی رہی تھی۔ یہ جانے بغیر کے نیچے لان سے کوئی اوپر اسے فرصت سے دیکھ رہا ہے۔ جس کی نگاہوں میں محبت کا شعلہ ہے۔ کمرے کے دروازے پر کھڑا وجاہت جب اسے یوں چاند کو تکتے پایا تو اندر آگیا۔
“تم ٹھیک ہو کائنہ؟”
“ہاں بھائی!” وہ سہم اٹھی۔
“تو پھر چاند کو کیوں تک رہی ہو؟” لبوں پر ہلکی ہلکی مسکراہٹ ابھری۔ “حالانکہ چاند کو تکنا تو محبت کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔” نگاہوں میں شفقت تھی۔ کائنہ نے سیاہ آسمان سے نگاہ لان پر ڈالی جہاں اسے کوئی وثوق سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے کائنہ کی نگاہ پڑتے ہی اپنی نظریں دوسری جانب مرکوز کر لی۔ “کیا دیکھ رہی ہو؟۔” جواب موصول نہ ہونے وہ الجھ کر بولا۔
“کچھ نہیں۔۔ تم ٹھیک کہہ ہو۔ چاند کو اکثر وہی لوگ دیکھتے ہیں جنہیں محبت ہو۔۔ اور میں بھی اس لیے دیکھ رہی ہوں۔” کھڑکی کھلی ہوئی تھی اور ان دونوں کی گفتگو نیچے لان میں کھڑا وہ شخص بھی سن رہا تھا۔
“کس سے؟۔” وجاہت کو تجسس ہوا۔
“تم اسے جانتے ہو۔” یوں صاف صاف بتانا اسے ٹھیک نہیں لگا۔
“میرویس؟۔” وہ چونکا۔
“نہیں وجاہت! اس کی تو منگنی ہونے والی ہے۔” وہ جھنجھلائی۔
“تو؟۔”
“مجھے ساویز پسند ہے۔” اس نے سانس روک کر بتایا۔ وجاہت نے اپنے یار کا نام سن کر آنکھیں پھاڑیں۔۔ اور تب کائنہ کو محسوس ہوا کہ شاید وہ غلط بول اٹھی ہے۔ نیچے کھڑا وہ آدمی کائنہ کے اظہار پر لال بھبھوکا ہوا تھا۔ دانت پیس کر اس نے دیوار پر مکا مارا۔
“تمہیں اچھا نہیں لگا؟”
“ایسا نہیں ہے یار۔۔” اس کا چہرہ یکدم ہی خوشی میں بدلا۔ ہنستا ہوا محبت سے بہن کو دیکھنے لگا۔ “مجھے کیوں نہیں اچھے لگے گا۔۔ اور کیا ہی اچھا ہو جائے اگر وہ میرا بہنوئی بن جائے۔”
“میں شادی کرنا چاہتی ہوں۔” اسے حوصلہ ملا تو وہ مسکرا دیا۔
“میں اس سے بات کروں گا اور وہ مان بھی جائے گا۔ جانے میں نے اس بارے میں پہلے کیوں نہیں سوچا۔” خود پر ہی ہنستے ہوئے وہ باہر نکل گیا تھا۔۔ اور اس سب میں کائنہ اسے آج شام ہوئے واقعہ چھپا گئی تھی۔۔ مگر شاید جان کر وجاہت غصہ کرتا۔ یہ بات وجاہت سے ہمیشہ چھپی رہی۔
کائنہ کی جو عادتیں وجاہت سے اب تک چھپی ہوئی تھیں، ساویز اسے ہمیشہ سے جانتا تھا۔
اسے لڑکے لڑکیوں کا یوں بے تکلف ہونا کبھی نہیں بھایا اس لیے خود کائنہ سے کھینچا کھینچا رہتا تھا۔
اس کی عادت اور مشغلوں کی وجہ سے کبھی وہ اس کو پسند نہ آسکی۔ یہ بات میرویس ہی جانتا تھا کہ وہ کائنہ کی موجودگی سے بھی کتنا چڑتا ہے۔
وجاہت کو لگا تھا ساویز مان جائے گا مگر توقع کے برعکس وہ بپھر گیا تھا۔ اس سے شادی سے صاف انکار کر کے مزید ٹھہرے بنا ہی مڑ گیا۔ وجاہت کو اتنا برا لگا کہ ایک مہینے تک دونوں کے درمیان کوئی گفتگو نہ ہوئی۔ نہ وجاہت ملنے گیا اور نہ ساویز۔۔
دوست تو دوست ہوتے ہیں۔۔ دوستی میں تڑپ اٹھی تو ساویز گھر ملنے چلا آیا۔
وہ شادی اب بھی نہیں کرنے والا تھا مگر وجاہت سے دوستی برقرار رہے، اس لیے ملنے آگیا۔ دونوں میں اتنی بے تکلفی تو تھی ہی ایک دوسرے کے کمرے میں جا سکیں۔ وہ جب اوپر پہنچا تو کمرہ خالی تھا۔ کائنہ اس کی موجودگی پاکر باہر نکل آئی اور اسے وجاہت کے آفس میں ہونے کا علم دیا۔ ساویز نے فون پر اسے اپنے آنے کا بتایا تو وجاہت نے گھر آنے کا فیصلہ کیا۔
وجاہت کے لوٹنے تک سب ختم ہو چکا تھا۔ آدھے لباس میں موجود بےجان کائنہ اس کی سانسیں روک چکی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“میں نے محسوس کیا ہے غنایہ۔۔ تم میرے دل بستی جا رہی ہو۔ اب کہ سوچتا ہوں کہ یہ عادت اتنی گہری ہے’ کہیں میری جان نہ لیلے۔” اس کے دونوں ہاتھ تھام کر کہتے ہوئے اس نے محبت سے پیشانی چومی۔
“اللہ نہ کرے۔ میں روز نماز میں آپ کی سلامتی کی دعا مانگتی ہوں۔۔ اور اللہ سے یہ بھی کہتی ہوں کہ وجاہت کے شر سے آپ کو دور رکھے۔” وہ آخر میں ہنس پڑی تو ساویز بھی مسکرا دیا۔
“تمہاری دعائیں بھی تمہاری طرح بہت اچھی ہوتی ہیں۔ اپنا خیال رکھنا۔ اب یہ میرا کوئی بزنس تو ہے نہیں کہ میں تاخیر سے دس بارہ بجے تک جاؤں۔” اس کا قہقہہ گونجا تو وہ ایک بار پھر ہنس دی۔
اسے رخصت کرتے ہوئے وہ بار بار مسکرا رہی تھی۔ امتحانات ختم ہوئے کافی وقت ہو چلا تھا۔ ساویز کی سیلری سے اس کی یونیورسٹی کی فیس بھر گئی تھی اور اب وہ بے حد مطمئن تھی۔ زندگی اب پہلے سے زیادہ پرسکون تھی۔ ساویز ذہنی طور پر مطمئن تھا اور اب اسے اس ماحول کی عادت ہو چلی تھی۔ کام والی کے آنے میں کچھ ہی دیر باقی تھی اس لیے وہ گھر سمیٹنے کی نیت سے جلدی سے اندر بڑھ گئی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“بارش ہو رہی ہے۔۔” آفس کی گلاس وال سے باہر شہر دیکھتے ہوئے وہ ہونقوں کی طرح بولی۔
“ہاں اور پہلی بار نہیں ہو رہی ہے۔” صوفیہ اس کے انداز پر مسکرائی۔
“وہ مجھے یاد کر رہا ہوگا۔” میرویس اس کی رگ رگ میں بستا جا رہا تھا۔
صوفیہ نے اپنے گلاسز چڑھا کر اسے دیکھا۔
“شادی کے بعد سے تمہیں تو ہر چیز میں شوہر کا عکس نظر آرہا ہے عشنا۔ کیا بات ہے؟ محبت ہوگئی ہے؟”
عشنا ہنس دی۔
“میرویس شوہر ہے میرا۔۔ محبت نہ بھی ہو تو ایک انسیت تو ہوتی ہے۔۔ رشتے کے اعتبار سے پیار تو ہوتا ہے۔” دونوں ہاتھ گلاس ہر رکھتے ہوئے وہ ٹھنڈ محسوس کرنے لگی۔
“تو تم نہیں مانو گی کہ تمہیں اس سے محبت ہے؟”
“مجھے اس کی عادت ہے، انسیت ہے، کبھی کبھی بہت زیادہ پیار بھی آجاتا ہے مگر میں اسے محبت کیوں کہوں صوفیہ جب میرا دل اسے محبت کا نام دینے کے لیے ابھی نہیں مان رہا۔”
صوفیہ نے اثبات میں سرہلایا تو وہ پھر سے بارش دیکھنے لگی۔
“مجھے حیرت ہو رہی ہے۔ اس کی نہ تو کال آئی اور نہ کوئی میسج۔۔ حالانکہ جب بھی بارش ہوتی ہے ہم دونوں ایک دوسرے کو پکارتے ہیں۔” دل اداس ہونے لگا۔
“کیوں کرے گا وہ تمہیں کال؟ یاد نہیں تم نے کل اس سے کتنی سختی سے بات کی تھی۔۔ اور ڈانٹ بھی دیا تھا۔ اب تڑپو!۔” صوفیہ نے ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھا۔ عشنا نے لب بھینچ لیے۔
“مجھے اس کی یاد کیوں آرہی ہے؟ حالانکہ یہ تو میں نے کہا تھا اس سے کہ بارش تمہیں ہمیشہ میری یاد دلائے گی۔۔ لیکن اس بارش میں مجھے اس کی یاد آرہی ہے اور بے تحاشہ آرہی ہے۔” شہر بھیگ رہا تھا۔ بارش کی آواز کانوں کو سکون پہنچا رہی تھی۔
“کیونکہ تمہیں اس سے محبت ہوگئی ہے۔” بھاری اور گھمبیر جانی پہچانی آواز نے اس کو ششدر کیا۔ وہ تیزی سے پلٹی جہاں میرویس اس سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑا اپنے لمبے سے کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ لبوں پر مسکراہٹ تھی اور اتنی گہری تھی اس کی عشنا واری واری جا رہی تھی۔
“تم۔۔۔” دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ وہ ایک خواب سا معلوم ہو رہا تھا۔ صوفیہ نے اسے دیکھ کر حیرت سے منہ کھولا۔ دونوں کینٹین میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ آس پاس چند ہی لوگ تھے جو ان سے بہت دور کھڑے تھے۔
“جہاں تم وہاں ہم!۔” وقار سے چلتا ہوا وہ اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔ عشنا کی آنکھیں نم ہوجاتیں اگر وہ ضبط نہ کرتی۔ صوفیہ وہاں سے اپنا سامان اٹھاتی باہر جانے کا اشارہ کر کے نکل گئی۔
“کیسے۔۔” ایسا بھلا کیسے ممکن تھا کہ اس کی دعا اتنی جلدی قبول ہوگئی تھی۔
“بھول گئی؟ تمہاری کھٹارا کمپنی کے ساتھ جانی مانی فاری کمپنی کا کانٹریکٹ سائن ہوا تھا؟ اب تو یہاں آنا جانا لگا رہے گا۔۔ خیر سے بیوی اپنی ہی ہے۔” اس کی آنکھوں میں چمک ابھری تو وہ ذرا سا مسکرادی۔
“کوٹ اس قدر کیوں بھیگا ہوا ہے؟۔” اسے فکرمندی ہوئی تو چیک کرنے لگی۔
“جی محترمہ! چھتری کی کمی ہوگئی تھی اس لیے ایسے آنا پڑا۔ آپ سنائیں! بارش میں کس کو یاد کر رہی تھیں؟۔” وہ دونوں ہی اب گلاس وال سے باہر دیکھ رہے تھے۔
“میرویس افتخار کا۔” نجانے اسے کیا سوجھا۔ پل بھر میں میرویس کے تاثرات تبدیل ہوئے تھے۔ بری شکل بنا کر اسے دیکھتا ہوا وہ مڑنے لگا جب عشنا نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑا۔ “مگر میرویس چوہدری زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔” یہ جملہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ لے آیا۔
“یہ تم آج کل میرویس کیوں بنتی جا رہی ہو؟ یہ چھیڑ چھاڑ صرف مجھ پر سوٹ کرتی ہے۔ تم صرف مجھے تنگ کرتی رہو۔”
“میرویس تم نے مجھے بھی اپنی طرح بنا لیا ہے۔” اس کا بھیگا ہوا کوٹ بازو کی طرف سے پکڑتے ہوئے وہ محبت سے بولی۔
“مجھ سے دور ہٹو ورنہ کوٹ کی وجہ سے گیلی ہوجاؤ گی۔” اسے جان کر خود سے دور کرتا ہوا وہ تاکید کرنے لگا۔
“اور اگر تمہیں بخار چڑھ گیا تو؟ پورے کے پورے بھیگے ہوئے ہو۔ عجیب کھٹارا کمپنی ہے تمہاری! اپنے مینجر کو چھتری بھی مہیا نہ کر سکی۔” جان کر اس کی کمپنی پر چوٹ کر گئی۔
“میری کمپنی کو کچھ مت کہنا۔ تمہاری دو نمبر کمپنی سے بہت بہتر ہے۔ جو کانٹریکٹ ہمیں اپنے ایک درجہ اوپر والی کمپنی سے سائن کروانا چاہئیے تھا وہ تم لوگوں کے ساتھ کر لیا۔”
“میری کمپنی زیادہ بہتر ہے۔”
“ہاں بہت زیادہ بہتر ہے۔۔ جو اپنے ایمپلائز کو وقت پر تنخواہ بھی نہیں دیتی۔” وہ طنزیہ ہنسا۔۔
“آپ کی معلومات کے لیے عرض کہ آج ہی میری سیلری میرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردی گئی ہے۔” اسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کچھ اترائی۔
“اچھا؟” وہ چونکا۔ “پھر ٹریٹ کب دے رہی ہو؟”
“کس بات کی؟”
“اپنی شادی کی۔”
“ہونہہ! تم سے ہی ہوئی تھی۔ بہرحال میں اپنا پیسہ تم پر خرچ نہیں کرنے والی۔” اس نے نگاہوں کا رخ موڑا۔
“آؤ آج میک ڈونلڈز چلتے ہیں۔ بیوی کے پیسوں کی تھوڑی عیاشی کر کے گھر لوٹ جائیں گے۔ بتاؤ کیا کھلاؤ گی اپنے غریب شوہر کو؟” وہ اس ‘غریب شوہر’ پر ٹھہر گئی۔ ہاں وہی غریب شوہر جو اس سے دگنا کماتا تھا۔
“ڈانٹ!۔” منہ پھیر کر وہ اپنے کیبن کی طرف مڑ گئی جبکہ میرویس مسکراتا رہ گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
شام کا وقت تھا جب وہ سارا کام کر کے فارغ ہوگئی تھی۔ اس نے گھڑی دیکھ کر ساویز کے آنے کا اندازہ لگایا۔ الماری سے اچھے کپڑے نکالے اور شاور لے آئی۔ روز اس کے آنے سے قبل تیار ہونا اسے اچھا لگتا تھا۔ وہ چاہتی تھی ساویز کے آفس کی تھکن اسے دیکھتے ساتھ ہی اتر جائے۔
کانوں میں بالیاں پہنتے ہوئے اس نے ہونٹوں پر لپ اسٹک لگائی۔ بالوں کو خشک کرنے کے لیے کھلا ہی چھوڑ دیا۔ کچن میں دو کپ چائے کا پانی چڑھا کر اس نے پتی ڈالی۔ یکدم ہی بیل بجی تو اسے ساویز کے آنے کا گمان ہوا۔ گھڑی چھ بجا رہی تھی۔ چولہے کی آنچ دھیمی کرتی ہوئی وہ اس کا دروازہ کھولنے تقریباً بھاگتے ہوئے گئی تھی۔
“کون ہے؟۔” پوچھتے ہوئے وہ جواب کا انتظار کیے بنا ہی دروازہ کھول بیٹھی۔ بھلا اس کے سوا اور کون ہوسکتا تھا مگر جب سامنے نگاہ پڑی تو روح فنا ہوگئی۔
“اتنا تیار؟ میرے لیے ہی ہوئی ہوگی۔” دروازے پر ہاتھ رکھ وہ سیدھا اندر داخل ہوا تھا
“یہاں سے جاؤ!۔” غنایہ سہم کر دور پٹی مگر وہ سیدھا اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔
“ابھی ابھی تو آیا ہوں۔ ٹھہرو ذرا۔۔ دیدار تو کرلوں۔” وہ اس کی جانب لپکا تھا اور غنایہ اوپر والے مالک مکان کے پورشن میں بڑھنے کے لیے بھاگی تھی۔ باصم اس کا ہاتھ سیڑھیوں کی طرف جانے سے قبل ہی گرفت میں لے چکا تھا۔ “کہا بھی تھا کہ میرا انتظار کرنا۔ مگر تم لوگوں نے باصم کو کبھی اہمیت ہی نہیں دی۔” اس نے دانت پیس کر اسے سختی سے اپنی جانب کھینچا۔ غنایہ نے چیخنے کی کوشش کی مگر باصم کا ہاتھ اس کے منہ پر تھا۔ “بہت بہادر ہوگئی ہو تم تو۔۔ اب پہلے کی طرح زبان بند نہیں رہتی۔” اس کا چہرہ دبوچتے ہوئے وہ اپنی جانب کرتا ہوا بولا۔
“چھوڑو مجھے۔۔” اس کی چیخ دبنے لگی۔ آنسو تیزی سے بہہ رہے تھے۔ خود کو اس سے چھڑاتے ہوئے وہ اسے دھکا دینے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی۔
“ابھی سے؟۔” سختی سے مسکرا کر کہتے ہوئے وہ اسے گھسیٹ کر کمرے میں لے جانے لگا۔ غنایہ کا دل حلق میں آچکا تھا۔ وہ اس کی گرفت سے خود کو چھڑانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی۔ “بہت خوبصورت ہو تم۔۔ شادی کے بعد تو اور بھی خوبصورت ہوگئی ہو۔ جس طرح مسکراتے ہوئے تم نے دروازہ کھولا تھا لگتا ہے میرے آنے پر بہت خوش تھیں؟۔”
اس کا دم گھٹ رہا تھا۔ مزید اس کی گرفت میں رہتی تو بے ہوش ہوجاتی۔ ابھی وہ کچھ کہتا ہی کہ کمرے کے دروازہ پر کوئی ظاہر ہوا۔ دونوں نے ہونق ہوتے ہوئے دروازے کی جانب دیکھا۔ ساویز کی نگاہ ساکت باصم کے چہرے پر ٹکی تھی۔
باصم تیزی سے دور ہٹا۔
“اس نے مجھے بلایا تھا۔” چہرے کا رنگ بدلا۔ غنایہ ششدر رہ گئی۔ وہ کافی لمحوں تک دونوں کو دیکھتا رہ گیا۔
“اس نے ہی کہا تھا کہ میرا شوہر گھر پر نہیں۔ ملنے کا مناسب موقع ہے۔” خشک لبوں پر زبان پھیری۔
وہ تقریباً بھاگتے ہوئے ساویز کے پاس آئی۔
“میں جانتا ہوں۔ بہرحال تم جاؤ۔” ساویز کی گھمبیر آواز اسے تلوار کی طرح محسوس ہوئی۔ جہاں باصم مطمئن ہو کر باہر نکل گیا تھا وہیں غنایہ نے خود کو دلدل میں دھنستے پایا تھا۔
“ایسا نہیں ہے ساویز۔” وہ زار و قطار رو دی۔
“تم کیوں رو رہی ہو؟۔” اسے خود سے قریب کرتے ہوئے وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولا۔ تھوڑی دیر پہلے کا منظر نگاہوں سے دور کرنا بہت دشوار محسوس ہو رہا تھا۔
“آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں؟ میں نے اسے نہیں بلایا ساویز۔۔ میں اسے کیوں بلاؤں گی۔ مجھے تو معلوم بھی نہیں تھا کہ دروازے کے اس پار باصم ہوگا۔ میں تو آپ کا انتظار کر رہی تھی ساویز۔” اس سے بڑا اور کیا ہی تکلیف ہوتی کہ ساویز اس کا اعتبار نہ کرتا۔
“میں تمہیں غلط نہیں سمجھ رہا غنایہ۔ اب رو مت اور ختم کرو اس بات کو۔ دروازہ ہمیشہ پوچھ کر کھولا جاتا ہے۔” اسے خود سے دور کرتے ہوئے وہ اب اس کی پھیلی ہوئی کہ اسٹک ٹشو سے صاف کر رہا تھا۔ دنگ کھڑی غنایہ ساکت ہی رہ گئی۔ وہ کچھ کیوں نہ بولا؟ اگر اس کو غنایہ پر اعتبار تھا تو وہ باصم کو یونہی جانے کیسے دے سکتا تھا؟ اتنے اطمینان بھرے لہجے میں کیسے بات کرسکتا تھا؟
“تم چائے بنا رہی تھیں؟ میں شاور لے کر آرہا ہوں پھر دونوں ساتھ مل کر چائے پئیں گے۔ تب تک تم یہ لپ اسٹک دوبارہ لگا لو۔ آنسو بھی صاف کرو۔ مجھے روتی ہوئی غنایہ نہیں چاہئیے۔” اپنے بکھرے ہوئے بالوں پر ہاتھ پھیرتا ہوا وہ غنایہ کے نکالے ہوئے کپڑے اٹھانے بڑھا جو وہ پہلے ہی استری کر چکی تھی۔ غنایہ کو اس کا ٹھنڈا لہجہ اندر سے کوڑے مار رہا تھا۔ تو کیا اسے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر کوئی غیر مرد اس کی بیوی کے اس قدر پاس کھڑا ہو؟
بمشکل قدم بڑھاتے ہوئے وہ سنگھار میز تک پہنچی اور مرے مرے ہاتھوں سے لپ اسٹک اٹھا کر لگانے لگی۔ نہ چہرے پر کسی قسم کے تاثرات تھے نہ آنکھوں میں آنسو۔۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“مجھے رات میں امی کے پاس جانا ہے۔” ماحول کی خاموش توڑتی ہوئی وہ مگ میز سے اٹھاتے ساتھ بولی۔ ساویز اس کی آواز پر بری طرح چونکا جیسے غنایہ کی آواز نے اس کے خیالوں میں خلل پیدا کیا ہو۔
“ہاں؟ کچھ کہہ رہی ہو؟۔” نجانے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔
“مجھے امی کے پاس جانا ہے۔” نم آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو روکتے ہوئے وہ پھر سے بولی۔
“ہوں۔ ٹھیک ہے۔ چھوڑ آؤ گا۔ بلکہ رات میں کیوں؟ ابھی چلتے ہیں۔” مگ میں آدھی چائے چھوڑتا ہوا وہ اٹھ کر گھر کی چابی ڈھونڈنے لگا۔ غنایہ نے اسے پھر حیرت سے دیکھا۔ وہ عجیب طرح سے برتاؤ کر رہا تھا۔
“میں باہر تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔” اسے باہر آنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ باہر نکل گیا۔ غنایہ کمرے کی جانب بڑھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“کیا بات ہے۔ مجھے لگا تھا میرویس تمہارا دوست ہے۔ اس سے شادی کر سکتی تھی تو مجھ سے کیوں نہیں؟ میری باتیں تمہیں کیوں بری لگتی تھیں؟۔” وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ رہی تھی جب رافع کی آواز کانوں پر پڑی۔
“کیونکہ میرے یار شادی انسانوں سے کی جاتی ہے۔ اور تم تو وحشی درندے ہو جو عورتوں کو چیر پھاڑ کر کے اپنے لیے استعمال کرنا جانتے ہو۔” اسی دم پیچھے آتے میرویس نے رافع کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔ رافع کی سٹی گم ہوئی جبکہ عشنا مسکرا دی۔ “شادی ان لوگوں سے کی جاتی ہے جن کی عزت ہو۔۔۔ اور بس اسی بات پر تم مارے گئے۔” افسوس سے کہتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ “اس دن بھی دیکھا تھا میں نے تمہیں! مرزا چاچا کے گھر کے باہر ان کے بیٹوں سے پٹ رہے تھے۔ یقیناً ان کی بیٹی کو چھیڑ رہے ہوگے۔ اب جو انسان روز ہی کسی سے پٹ پٹا کر گھر لوٹتا ہو تو کون بیچاری کرے گی اس سے شادی؟۔” جان کر اس کے کندھے پر اپنے بازو کا وزن بڑھاتا ہوا وہ اسے تکلیف میں مبتلا کرنے لگا۔ رافع کراہنے لگا۔
“میں تو بس اس سے یونہی پوچھ رہا تھا۔” لہجہ بھیگی بلی بن گیا۔
“نہ میری جان! وہ دیکھو۔” اس نے رخ عشنا کی جانب موڑا۔ “وہ لڑکی صرف میری بیوی نہیں۔۔ محبت بھی ہے، دوست بھی ہے۔۔ اور اگر وہ تمہارے بارے میں کوئی جھوٹی شکایت بھی لگائے گی نا تو آنکھوں پر پٹی باندھ کر تمہیں دھونے آؤں گا۔ میرویس کی گھر والی سے اپنی ہوس زدہ نظریں دور رکھو راجہ بھیا ورنہ میرا ہاتھ اور میری بیوی کی چپل! دونوں ہی بھاری ہیں۔۔ ساتھ پڑیں گے تو اگلی نماز آپ کی میت پر سارے آفس کے مرد پڑھیں گے۔۔” مسکراتے وہ اس کا کالر درست کرتا ہوا پیٹھ تھپتھپانے لگا۔ عشنا کا دل چاہا زور سے ہنس پڑے۔ میرویس واقعی لاکھوں میں ایک تھا۔ اس کی باتیں واقعی دل موہ لینے والی تھی۔ گاڑی میں بیٹھ کر بھی وہ کتنی دیر تک ہنستی رہی تھی۔ رافع معافی مانگتا ہوا اوپر بھاگ گیا تھا جبکہ میرویس اس کی جانب آیا۔
“اتنی بہادر لڑکی کبھی نہیں دیکھی جو آگے سے ایک جواب نہ دے سکے۔” گاڑی کی چھت پر ہاتھ رکھ کر کیا خوبصورت طنز کیا تھا۔
“میں کہنے ہی والی تھی کہ تم آگئے۔” عشنا بھی اپنے نام کی تھی۔ “گھر کب تک آؤ گے؟۔”
“تمہارے ساتھ ہی چل لیتا اگر گاڑی کا کوئی کام نہ کروانا ہوتا۔ تم جاؤ میں پندرہ منٹ تک پہنچتا ہوں۔” وہ گاڑی سے دور ہٹنے لگا تاکہ وہ چلا سکے۔
“پھر میں تمہارا انتظار کرتی ہوں۔” عاشی خوشی سے بولی۔
“ایک کام کرتے ہیں۔ اماں سے ملتے ہوئے چلتے ہیں۔ تم اماں کے گھر پہنچو۔ میں وہیں آجاؤں گا۔ شام کی چائے پی کر ساتھ ہی گھر چلیں گے۔” عشنا مان گئی تھی۔ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی وہ گاڑی اسٹارٹ کر کے آگے بڑھ گئی۔ اس کو جاتے دیکھ کر میرویس اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
اماں کے گلے لگتے ہوئے نجانے اسے پھر سے کیوں رونا آگیا تھا۔ ابرار گھر پر نہیں تھے ورنہ پریشان ہو جاتے۔
“کیا ہوا ہے؟۔” عفت تو گھبرا ہی گئی تھیں۔
“تم پھر رو رہی ہو؟۔” ساویز کی نگاہوں نے اسے گھورا تھا مگر وہ اس بار بھی چپ نہیں ہوئی تھی۔ اس کو دیکھتے ہوئے وہ غصے سے مٹھی بھینچ کر باہر نکل گیا۔ عفت داماد کو طیش میں نکلتا دیکھ کر مزید گھبرا گئیں۔
“وہ تمہیں یہاں چھوڑ کر کیوں چلا گیا؟۔” کہیں ان کے درمیان یہ کوئی لڑائی تو نہیں تھی؟
“امی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ باصم آج گھر تک آگیا تھا۔ ساویز نے ہم دونوں کو ساتھ دیکھ لیا۔ وہ کمینہ شخص میرے چہرے کو سختی سے دبوچا ہوا تھا امی۔۔ میں بہت زیادہ ڈر گئی تھی۔ مجھے لگا تھا ساویز میرا یقین کریں گے۔” وہ ہچکیوں سے رو دی۔ عفت کو لگا ان کا دل پھٹ جائے گا۔
“اس نے تمہارا یقین نہیں کیا؟۔” وہ سناٹے میں بولیں۔
“انہوں نے کچھ کہا ہی نہیں اماں۔۔ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا جس سے میں اندازہ لگا پاتی کہ وہ اس سب کو کیا سمجھے ہیں۔” اسے مزید رونا آنے لگا۔ وہ نڈھال ہوتے ہوئے ماں کے سینے سے جا لگی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“میری دوستیں ٹھیک کہتی تھیں۔ تم شادی کے بعد پہلے والے میرو نہیں رہو گے۔” وہ اس پر اپنی بھڑاس نکالتے ہوئے کمرے میں چلی گئی تھی۔ کمرا بند ہونے کی زوردار آواز پر عشنا چونک اٹھی۔ میرویس نے ماں کو دیکھا تو وہ کندھے اچکانے لگیں۔ مسکراتے ہوئے صوفے سے اٹھا اور اس کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ عشنا نے پلیٹ سے بسکٹ اٹھا کر اپنی چائے میں ڈبایا اور ایک نظر جاتے میرویس کو دیکھنے لگی جو دروازہ کھول کر اندر بڑھ چکا تھا۔
“اسے میرویس کا کافی انتظار رہتا ہے اور جب اتنی دنوں سے ملنے نہیں آیا تو خفا ہوگئی۔ ان کی بات پر وہ محض مسکرا دی تھی۔
“کبھی آفس سے جلدی فارغ ہوجاؤ تو بتانا۔ میرویس کی خالہ سے ملوانے لے جاؤں گی۔ بڑی سگھڑ بچی ہے میری بہن کی۔۔ اگر یہاں تم نہ ہوتی تو رائمہ میرے میرویس کی بیوی ہوتی۔” بڑی چاہ سے کہتی ہوئیں وہ اس کو اندر تک جلا کر راکھ کر گئیں۔ عشنا نے بمشکل خود پر ضبط کیا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
دروازہ کھلتے ہی وہ دھڑکے سے اندر داخل ہوا تھا۔ سامنے میز کے ساتھ لگی کرسی پر بیٹھے شخص کو دیکھ کر آنکھوں میں اشتعال ابھرا۔ پوری قوت سے اس کا گلے پکڑتے ہوئے جھٹکے سے دیوار پر مارا۔
“کون ہو تم۔۔۔” وہ عورت زور سے چیخ رہی تھی۔ لڑکا گھبرا کر اس سے خود کو چھڑانے لگا تھا مگر ساویز کی گرفت سخت تھی۔ ساتھ اس نے زور دار مکا اس کی ناک مارا تو وہ کراہتا ہوا نیچے گر گیا۔
“جب اپنا بیٹا سنبھالا نہیں جاتا تو اس کی رسی کیوں کھولتے ہیں؟۔” وہ پوری قوت سے چیخا۔ گھر میں دھاڑ گونج رہی تھی جب تایا بھی کمرے میں داخل ہوئے۔
“ارے کیا کیا میرے لڑکے نے تمہارے ساتھ۔۔” اس بار تایا چیخے تھے۔
“آپ کا آوارہ بدمعاش لڑکا میری بیوی نظر رکھتا ہے۔” کہتے ساتھ باصم کا گریبان پکڑا۔
“اس نے مجھے خود بلایا تھا۔” باصم برابر چیخا۔
“اس نے بلایا تھا یا تو زبان نکالتا ہوا گھر تک آیا تھا؟” دیکھتے ساتھ ہی اس نے اسے بری طرح مارنا شروع کردیا۔
“ارے چھوڑو میرے لڑکے کو۔۔ ہم معافی مانگتے ہیں۔” بیٹے کے سر سے خون نکلتا دیکھ کر وہ گھبرا گئے۔
“میں مرجاؤں گا۔” وہ کراہ رہا تھا۔
“اسی لیے ہی تو مار رہا ہوں۔۔ تاکہ تم مرجاؤ۔” وہ دھاڑا۔
“ہم معافی مانگتے ہیں بیٹا۔ خدارا ایسا مت کرو!” تائی بھی رونے کو ہوئیں۔۔
“معافی تو یہ مانگے گا۔ میری بیوی سے۔۔” سختی سے اسے کھڑا کرتے ہوئے وہ اسے گھسیٹتا ہوا گھر سے باہر نکلا۔ آس پاس شور سے محلہ اکھٹا ہو رہا تھا۔ تایا تائی تیزی سے اس کے پیچھے لپکے۔ اس کی ناک منہ سے خون آرہا تھا۔ جبڑا تقریباً ٹوٹ چکا تھا مگر ساویز کا غصہ اب بھی کم نہیں ہوا تھا۔ گھر کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے دروازہ بجایا۔ لوگ خبر لینے کے لیے اس کے ساتھ آئے۔
“کون؟”
“ساویز۔”
ابرار نے تقریباً گھبرا کر کھولا تھا۔
“تم کہاں گئے تھے بیٹا اور یہ کیوں رو رہی ہے؟۔” پیچھے بیٹی پر نگاہ ڈالتے ہوئے جب انہوں نے آگے دیکھا تو دنگ رہ گئے۔ غنایہ کی آنکھیں پھٹنے کو ہوئیں۔
“یی۔یہ کیا ہے۔” وہ بوکھلائے۔
ساویز نے باصم کو گریبان سے پکڑ کر دروازے کے اندر کیا۔ غنایہ کی سوجی ہوئی آنکھیں ساکت رہ گئیں۔
“اپنے داماد سے کہو ہمارے بیٹے کو چھوڑ دے خدارا! ایسا نہ کرے۔۔ مرجائے گا میرا بیٹا۔” تایا کی گزارشیں ابرار کے لیے حیرت کے باعث تھیں۔
“معافی مانگو!!۔” غنایہ کے پاؤں پر اس کا وجود پھینکتے ہوئے غرایا۔ غنایہ سہم کے پیچھے ہٹی۔
“آئم سوری۔۔ میں آئیندہ تمہیں اپنی شکل بھی نہیں دکھاؤں گا۔” وہ بمشکل اٹھ کر کھڑا ہوا۔
“میں نے کہا تھا نا غنایہ۔ ایک دن آئے گا جب تم اس کا مقابلہ کرسکو گی۔” چہرہ غضب ناک تھا۔ غنایہ نے ایک نظر شوہر کو دیکھا اور پھر باصم کو۔۔
یہ وہ لمحہ تھا جس کا وہ کبھی شدت سے انتظار کیا کرتی تھی۔
“مجھے تم سے نفرت ہے۔ یاد ہے تم نے کہا تھا کہ ایک دن تم مجھ پر الزام لگا کر پورے محلے میں بدنام کرو گے۔” آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے۔ “آج تم بدنام ہوگئے ہو باصم! پیچھے مڑ کر دیکھو۔۔ محلے والے تمہیں ذلیل ہوتا دیکھنے آئے ہیں۔” اس کے کہتے ہی باصم نے حیرانی سے مڑ کر دیکھا تھا۔ واقعی۔۔ وہاں ہجوم لگ چکا تھا۔ سب کھڑے اس کا تماشا دیکھ رہے تھے اور تایا اپنے ہاتھ ملتے رہ گئے تھے۔
“ساویز نے تمہارا حشر کردیا۔” وہ کہتے ساتھ زور سے ہنس دی۔ باصم کا چہرہ سرخ ہوا “تم لوگوں نے ہمیشہ ہمارا حق کھایا اور دیکھو ذرا۔۔ کھیل کیسا پلٹ گیا۔” ساویز نے اس کے چہرے کی معصومیت اپنے اندر جذب کرلینی چاہی۔
“یہ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ابرار صاحب!” ساویز نے کہتے ساتھ تایا کو دیکھا۔ “دوسروں کے مال پر ناحق قبضہ کر کے اپنا اور اپنی اولادوں کا پیٹ بھرتے ہیں۔” لہجے کی کڑواہٹ تایا کو مزید شرمندہ کر گئی۔ یہ بے عزتی سہنا بہت مشکل تھا۔
“ہاں دے دوں گا تم لوگوں کا حق۔۔ اس گھر سے مل جائے گا حصہ! مگر میرے بیٹے کو چھوڑ دو۔ میری اکلوتی اولاد ہے۔” وہ روتے ہوئے ساویز کے آگے التجا کرنے لگے تو ساویز نے باصم کو اپنی جانب موڑا۔
“لے جائیں اپنا اوباش قسم کا لڑکا۔ بیغیرت آدمی” تایا کی طرف اسے دھکا دیتے ہوئے وہ انہیں باہر جانے کا اشارہ دینے لگا۔
پانچ منٹ میں ہی ہجوم صاف ہوگیا۔ ساویز بھی یہ کہہ کر چلا گیا کہ وہ آدھے گھنٹے میں اسے لے جائے گا۔ ابرار صاحب کا دل چاہا تھا کہ ساویز کا ماتھا چوم لے۔ آبدیدہ ہوتے ہوئے غنایہ کو گلے لگا کر وہ آنکھیں موند گئے۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“کیا تم نے روما کو منا لیا تھا۔” وہ اپنی فائلز سمیٹتے ہوئے پرس میں رکھ تھی۔ بستر پر لیٹے میرویس نے موبائل سے نگاہ ہٹا کر اسے دیکھا۔
“میں مناؤں اور وہ نہ مانے؟ ایسا بھلا کیسے ہوسکتا ہے۔” ہنستے ہوئے بتایا گیا۔
“تمہاری یہ ٹف روٹین کب بحال ہوگی؟ کیونکہ اب میرے اندر اتنی ہمت نہیں ہے کہ تمہارا چڑچڑا پن مزید برداشت کرسکوں۔” آج کتنے دنوں بعد وہ آفس سے لیٹ نہیں آیا تھا۔
“اب یہ مت کہنا کہ اس چڑچڑے پن سے تھک کر تم مجھے چھوڑنے والی ہو۔” لبوں پر مسکراہٹ قائم تھی۔
“تمہیں چھوڑوں گی نہیں البتہ اپارٹمنٹ کے باہر تمہارے لیے ایک کمرہ بنوادوں گی۔ جس وقت موڈ خراب ہونے لگے تو میرا موڈ خراب کرنے کے بجائے اس کمرے میں چلے جانا۔” اب وہ چادر سمیٹ رہی تھی۔
میرویس اٹھتا ہوا سنگھار میز کی جانب بڑھنے لگا جب فرش پر پھیلے پانی سے پھسلتا ہوا وہ دھڑام سے نیچے گرا۔ تیزی سے کمر میں تکلیف کا احساس ہوا تو اس نے عشنا کو دیکھا تاکہ کچھ ہمدردی حاصل کر سکے۔ عشنا اسے دیکھ کر کام میں مصروف ہو چکی تھی۔ لبوں پر ایک جاندار مسکراہٹ تھی جس سے میرویس واقعی چڑ گیا تھا۔
“گر گیا ہوں میں۔۔” بھرم ہوتے ہوئے احساس دلایا۔
“نظروں سے؟” بھلا عشنا کہاں پیچھے رہ سکتی تھی۔ چہرہ لال بھبھوکا ہوا۔ اسے اتنا برا لگا کہ سنگھار میز سے لیپ ٹاپ لینے کے بجائے دوبارہ بستر پر آگیا۔ چادر چہرے تک ڈال کر کروٹ لیتے ہوئے کمر اس کی جانب کی۔ عشنا کھلکھلا دی۔
“تم اتنی جلدی ناراض ہوگئے؟” وہ حیران نہ ہوتی تو کیا ہوتی۔
“مجھے تو پہلے ہی پتا تھا تمہیں میری فکر نہیں ہے۔۔ آج ثابت بھی کردیا۔” وہ آگ دوبارہ موبائل استعمال کر رہا تھا۔ لہجہ خفا خفا سا تھا مگر عشنا کو اسے منانا آتا تھا۔
“اچھا ناراض مت ہو! تمہیں میری شادی کی ٹریٹ چاہئیے تھی نا؟ چلتے ہیں۔” ہنستے ہوئے وہ شوخ لہجے میں بولی تو میرویس نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔
“ایک بج رہا ہے۔”
“تو کیا ہوا؟ سڑکوں پر گاڑی دوڑاتے ہوئے آوارہ گردی کرتے ہیں۔”
اگلے ہی لمحے وہ جلدی سے بستر سے اٹھ کر اب تیار ہو رہے تھے۔ میرویس نے پرفیوم چھڑکا تھا اور عشنا نے اس کے اتنا پرفیوم چھڑکنے پر چھینک ماری تھی۔ ڈوپٹہ سنبھالتی ہوئی وہ اس کے پیچھے بڑھ گئی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“مجھے پتا ہے تم کھانا کم کیوں کھا رہی ہو۔” عفت نے بیٹی کو ڈپٹا۔
“نہیں امی۔ یہ دیکھیں میں نے سالن لیا تو ہے۔” ساویز اب تک گھر نہیں لوٹا تھا۔
ابرار نے اس کی پلیٹ میں اور شوربہ ڈالا تو وہ باپ کا چہرہ تکتی رہ گئی۔۔
“کھانے سے کیا ناراضگی بیٹا۔”
غنایہ زیر لب مسکرائی۔۔
“اماں ساویز کے لیے سالن نکال دیا ہے نا۔” اس نے پتیلی میں جھانکا جو خالی ہوگئی تھی۔
“ہاں کچن میں رکھ دیا ہے۔” عفت اپنے حصے کا کھانا ختم کرتی ہوئی برتن سمیٹ رہی تھیں۔ ابا بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ غنایہ نے ارد گرد دیکھا جہاں کوئی بھی نہیں تھا اور خاموشی سے کچن میں داخل ہوئی۔ ساویز کے لیے نکالے گئے سالن کو عفت نے پیالے میں رکھا ہوا تھا۔ اس نے پیالہ ڈھکن اٹھا کر اندر شوربہ دیکھا۔ وہ اتنا نہیں کہ ساویز پیٹ کر کھا پاتا۔ ابرار اور عفت کم ہی کھانا کھایا کرتے تھے اس لیے عفت بھی زیادہ نہیں بنایا کرتی تھیں۔ غنایہ نے اپنی پلیٹ کا شوربہ اس پیالے میں الٹ دیا۔ گوشت کے ٹکڑے بھی اس میں ہی ڈال کر ڈھکن لگا دیا۔
“پتا تھا مجھے تم کچن میں یہی کام کرنے گئی ہوگئی۔” پیچھے سے عفت داخل ہوئیں تو مصنوعی گھوری سے نواز کر بھرا ہوا پیالہ دیکھنے لگیں۔
“نہیں اماں۔۔ اچھا ہے نا گھر جا کر ساویز کے ساتھ بھی تھوڑا کھا لوں گی۔ ویسے بھی پچھلے دو ہفتوں سے طبیعت زیادہ بہتر نہیں۔ الٹیاں اور کمزوری ہو رہی ہے۔ گھر جاؤں گی تو ساویز یہ جاننے کے بعد بھی دوبارہ سے کھانا کھلائیں گے کہ میں کھا چکی ہوں۔”
“میں دوبارہ بنالیتی سالن مگر تمہیں کھانا پورا کھانا چاہئیے تھا۔” ان کے خفا لہجہ محسوس کرتے ہوئے غنایہ نے انہیں کس کر گلے لگایا۔ اب وہ شام کے برعکس بہت مطمئن تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
رات کے اس اندھیرے میں ہلکے لیمپ کی روشنی میں انہوں نے البم کھولا تھا۔ یہ گھر ویران تھا۔ بس ایک چھوٹا لڑکا جو اپنے کام میں ہی مصروف رہتا تھا۔ نوفل کو دیکھ کر انہیں ہمیشہ ساویز کی یاد آئی۔ لگتا تھا جیسے ہمیشہ سے خاموش طبیعت کا مالک ساویز اپنے کھیلنے میں مصروف ہے۔ پیسہ کمانے میں وہ اتنا مصروف رہ گئے کہ ایک نظر بیٹے کو بھی نہ دیکھا۔
انہوں نے دھیرے سے ساویز کی تصویر پر ہاتھ پھیرا جو اپنی ماں کی گود میں بیٹھا ہنس رہا تھا۔ دل میں ایک تکلیف اٹھی اور اتنی زور سے اٹھی کہ انہیں مجبوراً دل تھامنا پڑا۔
ساویز کی ماں تقی کی خالہ زاد تھیں مگر ان کی پسند نہیں۔ وہ جس لڑکی سے شادی کرنا چاہتے تھے وہ ان کے انتظار میں دو سال تک بیٹھی رہی۔ یہاں پڑھائی ختم ہوئی اور وہاں بزنس سنبھال لیا۔ اماں سے سبین سے شادی کا اظہار کیا تو اماں پہلے تو صاف انکار کر گئیں۔ وہ اپنی بھانجی کو بہو بنا کر لانا چاہتی تھیں مگر تقی کے دل میں ان کے لیے ذرا چاہت نہیں تھی۔ جتنا وقت تقی کو اپنی اماں کو منانے میں لگا’ سبین کے گھر والوں نے اس کا رشتہ پکا کر دیا۔ وہ گزارش کرنے بھی گئے مگر یہ کہہ کر صاف انکار ہوگیا کہ ہم تمہارے لیے اپنی لڑکی کو مزید گھر نہیں بٹھا سکتے۔ کون جانے کہ جو تقی کی اماں پھر انکار کردیں۔ تین مہینے اور آٹھ دن انہوں نے تکلیف میں گزاری۔ اب کی بار اماں نے جب اپنی بھانجی سے شادی کو کہا تو وہ محض سر ہلا کر ہی رہ گئے۔ یوں رشتہ پکا ہوا اور شادی ہو کر وہ گھر آگئیں۔ ان سے دس سال چھوٹی نازک اور پیاری سی لڑکی جس کے لیے تقی کے دل میں ذرا الفت نہیں تھی۔
صبیحہ پہلے بھی ان کی توجہ کا مرکز نہیں تھیں اور چند سالوں میں ساویز کے آنے کے بعد تو ان کی طرف ذرا توجہ ہی نہ رہی۔ بیٹے کے آنے کی خوشی صرف اس کی پیدائش تک ہی تھی۔ مصروفیت بڑھتی گئیں جس کی وجہ سے ان کی گھر پر موجودگی دن بہ دن گھٹتی چلی گئی۔
ساویز جتنا باپ کے قریب ہونے کی کوشش کرتا’ تقی اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر دوبارہ کام میں مصروف ہوجاتے۔
صبیحہ نے ان سے کبھی ان دوریوں کا شکوہ نہیں کیا۔ کوئی بحث، اختلاف نہ ہونے کے باوجود بھی تعلق کی ڈوری کچی تھی۔
“مجھے آپ کا چاند دیکھنا نہیں پسند۔” چھوٹے ساویز نے بلآخر ماں سے چڑ کر کہا تھا۔ پچیس سال کی صبیحہ بیٹے کی بات سن کر ہنس پڑیں۔
“ایسا کیوں؟ مجھے تو پسند ہے۔ میں روز آپ کے سوجانے کے بعد یہاں بیٹھتی ہوں۔” جانے کب نیند سے اٹھ کر ان کے پاس آیا تھا۔
“کیونکہ آپ اس کے لیے مجھے اگنور کرتی ہیں۔” منہ پھیر لیا۔ صبیحہ نے آنکھیں حیرت سے پھاڑیں۔۔
“آپ کو؟ آپ بیٹے ہیں میرے۔۔ بھلا میں کیوں اگنور کروں گی۔”
“آپ چاند سے کیا کہتی ہیں؟”
“میں؟ کچھ نہیں۔” وہ چونکیں۔
“میں نے سنا تھا آپ کچھ کہہ رہی تھیں۔”
صبیحہ جھینپ گئیں۔
“اب بتائیں بھی اماں۔”
“میں اس سے تمہاری باتیں کرتی ہوں۔ ہم چاند سے ان کی باتیں کرتے ہیں جن سے ہم محبت کرتے ہیں۔۔ اور مجھے تم پسند ہو! کیونکہ تم میرے بہت پیارے بیٹے ہو۔” وہ مسکرائی تھیں اور ساویز نہال ہوگیا تھا۔
“اور بابا؟ آپ بابا کی باتیں نہیں کرتیں؟ کیا وہ آپ کو پسند نہیں؟” بیٹے کی بات پر جہاں وہ ٹھٹھکی تھیں وہیں دروازے سے باہر ذرا چھپ کر کھڑے تقی بھی حیران ہوئے تھے۔
اب وہ کیا ہی جواب دیتیں۔۔
تقی بھی اپنی موجودگی ظاہر نہ کرتے ہوئے باہر نکل گئے۔ سبین کا یوں بچھڑنا وہ سہہ نہ سکے۔ زندگی بھر کے لیے خاموش ہی ہوگئے۔ کوشش کرتے کہ زیادہ وقت کاروبار کے سلسلے میں باہر ہی رہیں۔ بزنس بڑھا تو سنگاپور میں بھی چل گیا۔ گویا انہیں اب باہر رہنے کا موقع مل گیا۔ کبھی دل بیوی کی جانب لگنے لگتا تو وہ فوراً جھٹک دیتے۔ انا کی دیواریں اونچی ہوتی چلی گئیں۔
صبیحہ کے مرنے کے بعد وہ پہلی بار ساویز کی جانب پوری طرح سے متوجہ ہوئے تھے۔
ساویز کو لگا باپ دیر سے ہی سہی’ قریب تو آرہا ہے۔ ماں کا مرنے کی تکلیف کم نہیں ہوئی تھی جب آنے والی سالگرہ سے ایک روز قبل باپ بھی دور ہو گیا۔
حال میں بیٹھے تقی کا دل کچھ اور درد کرنے لگا تو وہ پشت ٹکا کر بیٹھ گئے۔ حلق سوکھ گیا تھا۔ آنکھیں ویران اور ساکت تھیں۔ کب آنسو نکلا اور رخسار کو گیلا کر گیا۔ وقت ہاتھوں سے پانی کی طرح بہہ گیا تھا۔ جس وقت ان کی اولاد کو باپ کی ضرورت تھی وہ تب دولت بنانے میں مصروف تھے اور آج انہیں ساویز کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بیٹا جو بچپن سے اب تک ان کی ہر آواز پر ‘جی’ کہتا تھا۔ حالانکہ اب وہ خود کو اس قابل بھی نہیں سمجھتے تھے۔
جانے اس عورت نے اپنی مختصر زندگی میں بیٹے کی کیسی تربیت کی تھی کہ وہ جوانی دہلیز پر کھڑے ہوکر اپنے باپ کا تابعدار تھا۔
مگر اس بار وہ بغاوت کر گیا تھا۔
ہاں شاید وہ ٹھیک ہی کہتا تھا۔
سکون کا متلاشی’ سکون کو پہنچے تو سکون کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
زندگی میں پہلی بار وہ تنہا رہ گئے۔
ساویز نے اپنا کہا سچ کر دکھایا تھا۔
وہ جی رہا تھا اپنی زندگی جیسے اس نے کہا تھا کہ وہ زندہ رہ کر دکھائے گا۔ ان کی دولت، یہ بڑا کشادہ گھر، بزنس ان کے پاس تھا مگر وہ پھر بھی تنہا تھے۔
بیٹا دل و دماغ پر حاوی ہونے لگا تو سسکتے ہوئے رو دیے۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“ڈبل چیز پزا کھاتے ہوئے تم بیوی کو بھی ایک نظر دیکھ سکتے ہو جو صرف کافی پر گزارا کر رہی ہے۔” اس نے میرویس کو دیکھا جو ایک ہاتھ سے موبائل چلانے کے ساتھ ساتھ آدھے سے زیادہ پزا کھا چکا تھا۔ اس کی آواز پر وہ یکدم چونکا۔
“تم نے اپنے لیے کچھ نہیں منگوایا؟” اس نے میز پر رکھی کافی دیکھی۔
“نہیں کیونکہ میرا اتنا بجٹ نہیں ہے۔ میں نے بینک سے چند ہزار ہی نکالے تھے۔ مجھے کیا پتا تھا تم ڈبل چیز لارج پزا منگواؤ گے۔” اس نے جواباً گھورا۔ میرویس نے مسکراتے ہوئے پین اس کے آگے کیا۔
“یہ لو تم بھی کھا لو۔” پین میں صرف تین پیس رکھے تھے۔
“تم بارہ پیس میں سے نو پیس کھا گئے؟” عشنا جی بھر کو چونکی۔
“اچھا؟ ایک دن پہلے تو کہہ رہی تھی کہ تم نے غذا بہت کم کر لی ہے اپنی! کھانے کا خیال رکھا کرو فلانہ فلانہ۔۔ اب کیا ہوا؟”
“تمہارے پیٹ میں اب تو جگہ بھی نہیں بچی ہوگی۔ کتنا سارا کھا گئے۔” وہ اب تک ششدر تھی۔
“آپ کے فادر کا کھا رہا ہوں؟” میرویس کو اس کا یوں کھانے پر ٹوکنا اچھا نہ لگا۔
“یہ زیادہ صحیح رہے گا کہ تم میرا کھا رہے ہو۔” دانت پیس کر کہتی ہوئی پزا کا سلائس اٹھانے لگی۔ سر جھٹک کر وہ ارد گرد دیکھنے لگا۔ اسے دو چھوٹے بچے نظر آئے جو کیچپ کے نلکے سے منہ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر ان بچوں کو دیکھنے لگا جو بہت چھوٹے تھے۔
“اب میری باری ہے ایلا۔” اس کو دور کرتا ہوا اب وہ نلکے کے نیچے منہ کھول کر نلکا کھولنے لگا۔
“عشنا میرے سیدھی جانب دیکھو۔۔ وہ دو گدھے کے بچے۔” اس نے عشنا کو بھی متوجہ کروایا۔ عشنا نے بھی چونک کر اس کی تعاقب میں دیکھا۔
“کسی کے بچوں کو ایسا مت کہو!” اس نے ساتھ آنکھیں دکھائیں۔
“شکر ہے یہ میرے بچے نہیں ہیں۔۔ ان کے ماں باپ انہیں دیکھ لیں تو کتنا شرمندہ ہوجائیں گے۔” وہ شرمندگی سے انہیں الٹی سیدھی حرکتیں کرتا ہوا دیکھنے لگا۔
“تم انہیں سمجھا دو۔ ہوسکتا ہے انہیں تمہاری مدد کی ضرورت ہو۔” اس کے کہنے پر وہ مجبوراََ اٹھ کر ان کی جانب گیا تھا۔
“تم لوگوں کو میری مدد کی ضرورت ہے؟” اس نے باری باری دونوں کو دیکھا جو ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس رہے تھے۔
“نہیں انکل!” ایلیا نام کی لڑکی کا یوں یوں کہنا میرویس کو لب بھینچنے پر مجبور کر گیا۔ اچھا خاصا ہینڈسم لڑکا ‘انکل’ کیسے ہوسکتا تھا۔
“میں اور ایلیا تو بس تفریح کر رہے تھے۔”
“کیا تم لوگوں کو کیچپ چاہئیے؟ ٹرے کہاں ہے؟”
“نہیں! ہم کھانا کھا چکے ہیں۔ میں نے کہا تھا ہمایوں کو کہ آؤ کیچپ کھاتے ہیں۔”
‘کیچپ کھاتے ہیں؟؟؟؟؟؟’
“کل ویسے بھی اس کے بابا نے اسے ڈانٹا تھا اس لیے ہم آج اسے یہاں کے آئے۔” ہمایوں نے جان کر اس کو شرمندہ کیا۔ ایلیا نے اسے چٹکی نوچی تھی۔
“جانتے ہیں سب اسے ڈیمونیو کہتے ہیں۔ شیطان کی بڑی آنت ہے یہ۔۔” ایلیا نے بدلہ اتارا تو ہمایوں نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
“میرے بارے میں ایسا مت کہو۔”
وہ مسکرا دی۔ میرویس بے بسی سے نفی میں سر ہلاتا ہوا مڑ ہی رہا تھا کہ ایک کپل بچوں کے پاس آیا۔
“تم لوگوں کو میں اسی لیے کہیں نہیں لاتا۔ میلے بن جاتے ہو۔” وہ شخص ان دونوں کو گھور رہا تھا۔
“میں نے کچھ نہیں کیا چاچا۔” بچہ اپنی عمر سے زیادہ بھرم بازی دکھاتا ہوا بولا تو اس شخص نے چپت لگائی۔
“مت مارو اسے!” وہ شاید اس کی بیوی تھی جو ہمایوں نامی بچے کو اب اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔
“معافی چاہتا ہوں اگر انہوں نے آپ کو تنگ کیا ہو۔ میرا نام زمان ہے۔” اس نے ہاتھ بڑھایا۔ البتہ وہ لڑکی ایلیا کھی کھی کر رہی تھی۔
“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔ آپ سے مل کر اچھا لگا۔ میں میرویس ہوں۔” عشنا بھی سامان سمیٹتی ہوئی ان کے پاس آکھڑی ہوئی۔
“دراصل ہم میاں بیوی خود ہی آرہے تھے مگر یہ بچے تو جان ہی نہیں چھوڑتے۔” اس نے باری باری دونوں کو گھورا۔
“کوئی بات نہیں۔ بچے تو ایسا کرتے ہی ہیں۔” عشنا نے مسکرا تسلی دی۔
“آپ دونوں بھی میرڈ ہیں؟” اس بار آواز اس کی بیوی فاطمہ کی تھی۔
“جی زیادہ وقت نہیں ہوا۔” لبوں پر مسکراہٹ سجی ہوئی تھی۔ عشنا کو وہ کپل بھی سادہ اور خوبصورت محسوس ہوا۔
“مبارک ہو۔”
“شکریہ۔” وہ مزید ٹھہرے بنا خدا حافظ کرتے بل ادا کرنے بڑھے۔ عشنا اسے اپنا کریڈٹ کارڈ دے کر باہر چلی گئی تھی تاکہ وہ بل ادا کر کے پارکنگ ایریا میں ہی آجائے۔ میرویس اس کا کارڈ جیب میں رکھتا ہوا اپنے کارڈ سے بل ادا کرنے لگا۔ عشنا نے جو چند ہزار بینک سے نکالے تھے وہ آج کا بل پورا کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔۔ اور وہ اس کا کریڈٹ کارڈ استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا۔ بل ادا کرتے ہوئے اس نے قدم باہر کی جانب بڑھائے۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“میں تم سے کہتا ہوں مجھے تم سے محبت ہے اور دوسرے لمحے تم پر شک کر لیتا ہوں۔۔ بھلا اس محبت کا کیا فائدہ جس میں اعتبار ہی نہ ہو۔ اعتبار تو محبت کا بیج ہوتا ہے۔ بڑھتا ہے تو محبت جنم لیتی ہے۔” وہ دونوں مسہری سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔۔ساویز کا بازو غنایہ کے کندھے پر تھا اور وہ اسے محبت سے سمجھا رہا تھا۔
“مجھے لگا تھا آپ میری بات کا یقین نہیں کریں گے۔” ناک سر سر کر رہی تھی۔
“تمہیں ایسا کیوں لگا تھا؟ بھلا محبت کا تعلق کچی ڈور کی مانند ہوتا ہے کہ جہاں ذرا سے شک نے جنم لیا اور تعلق کی ڈوری ٹوٹ گئی۔ جب میں نے تم سے کہا کہ مجھے تم سے محبت ہے تو تم کیا سمجھی تھی؟ اس محبت لفظ میں کچھ اور بھی چھپا ہوتا ہے۔ اعتبار، انسیت، فکر ان سب کا مجموعہ محبت ہے۔ کہ اب کی بار میں تمہیں سے کہوں محبت! تو تم سمجھنا “انسیت” اور دماغ میں بٹھا لینا “اندھا اعتبار”۔ جانے وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جو ذرا سے شک میں مبتلا ہوکر تعلق توڑ دیتے ہیں’ محبت چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر وہ محبت نہیں ہوتی غنایہ!” اس کے الفاظ غنایہ کی جان لینے لگے۔ آنسو ٹپ ٹپ بہتے ہوئے رخسار کو بگھونے لگے۔ “میں تمہارا اعتبار کیوں نہ کرتا کہ جب میری خوشیوں کی ڈور تم سے بندھی ہیں۔ تم مسکراتی ہو’ میں مسکراتا ہوں۔ تمہارے بغیر یہ گھر صرف چار دیوار ہیں۔ گھر تو اسے کہتے ہیں جو آپ کے احساسات، جذبات، پریشانیاں، غم سب اپنے اندر جذب کر لے۔ جب مجھے علم ہے کہ زندگی تمہارے ساتھ گزارنی ہے تو تیسرے شخص کا اعتبار ہی کیوں؟” گھمبیر آواز خاموش ماحول میں گونج رہی تھی۔ غنایہ کو اس کی یہ محبت بھری باتیں مزید رلانے لگیں۔ اللہ نے اسے بہتر سے بہترین نوازا تھا۔ کندھے پر سر رکھ کر اس کی شرٹ بھگانے لگی تو وہ زیر لب مسکرا دیا۔
“میں آپ کے دور ہونے سے ڈر جاتی ہوں۔ جس شخص نے مجھے چند مہینوں میں اتنا حوصلہ دیا’ اگر وہ چھن جائے تو زخم بھر نہیں پاتے۔” ہچکیاں دخل دینے لگی۔ “مجھے آپ سے دور نہیں ہونا۔”
“ایسی باتیں کرتی ہو تو اپنی اپنی لگتی ہو۔ کیا بات کرتی ہو! ابھی میں تم سے کہہ رہا تھا کہ میں یہ تعلق کبھی نہیں توڑ سکتا اور اب تم کہہ رہی ہو کہ میرے دور ہونے کا سوچ کر ڈر جاتی ہو۔” بھاری لہجہ۔ غنایہ نے آنکھیں موند لیں۔
