Tu Dil Se Na Utar Saka By Ayna Baig Readelle50173 Episode 12 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12 Part 2
تو دل سے نہ اتر سکا از عینا بیگ
آخری قسط (دوسرا حصہ)
“آپ نے بلایا باس۔” عادل کے ساتھ پیچھے خرم داخل ہوا تھا۔
“ہاں۔ ” وہ کسی فائل پر جھکے کام کر رہا تھا جب ان کی آواز پر دونوں کو دیکھنے لگا۔ “میں تم دونوں کے سوا باقی گارڈز کو فارغ کر رہا ہوں۔” اس کے منہ یہ سن کر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
“کیوں؟” یعنی حسن کی بھی چھٹی ہونے والی تھی۔ خرم تیزی سے پوچھ بیٹھا۔
“تم لوگ جانتے ہو میں نے اتنے سارے گارڈز کس کی حفاظت کے لیے رکھے تھے۔ اب نہ وہ انسان ہے اور نہ پہلی سی باتیں۔” تکلیف سے سانس خارج کر کے وہ بوجھل دل سے بولا۔ “مزید چند دنوں میں پریزے کو میں ہمیشہ کے لیے اپنے پاس لے آؤں گا۔ مجھے اب گھر میں مزید لوگ نہیں چاہئیں۔ خرم تم سب سے کہہ دینا کہ وہ کل سے نہ آئیں اور ان کے جو پیسے بنتے ہوں مجھے خبر کردینا۔” وہ دو ٹوک لہجے میں بات کرتا ہوا دوبارہ کام میں مصروف ہوگیا۔
عادل مطمئن تھا جبکہ خرم کو جیسے طرح طرح کے خدشے لاحق ہونے لگے۔
“آپ کیا سوچ رہے ہیں؟” کسی طرح تو اس کے ارادوں سے آگاہ رہنا ہی تھا۔
وجاہت نے سر اٹھایا اور بہت غور سے اسے دیکھنے لگا۔
“میرا ارادہ ساویز سے ملنے کا ہے۔ ساویز پر لگایا ہوا الزام’ الزام ہی ثابت ہوا ہے اور اب میں اس پچھتاوے کے ساتھ بقایا زندگی نہیں گزار سکتا۔ ہماری وجہ سے اسے جو تکلیفیں پہنچیں’ معافی کے قابل تو نہیں مگر ہوسکتا ہے کہ وہ مجھے معاف کردے۔ میں اس کے ساتھ تعلقات بحال کرنے والا ہوں۔”
یہ سب سنتے ہی خرم نے تھوک نگلا تھا۔ وجاہت، ساویز سے ملنے والا تھا اور یقیناً تعلق بحال ہونے کے بعد ساویز اسے سب کچھ بتادے گا۔ بھلا وہ کیوں چپ رہے گا۔
“اور کائنہ کا۔۔۔ مطلب کائنہ میڈم کے کیس کیا ہوگا؟” چہرہ پر بری طرح گھبرانے کے تاثرات پھیلے ہوئے تھے۔
“ہمیں جانب ہڑتال دوبارہ سے کرنی ہوگی۔ سیسی ٹی وی کیمرے دوبارہ چیک کرنے ہوں تاکہ دیکھ سکیں کہ گھر میں اس وقت اور کون داخل ہوا تھا۔ اب تم لوگ جا سکتے ہو۔” بنا جواب مانگے وہ انہیں بھجوا چکا تھا۔ عادل نے اس کے چہرے کی ہوائیاں اڑتی دیکھی تھیں۔
“کہاں ہو تم؟” سرعت سے حسن کو کال ملاتے ہوئے لمبا لمبا ٹہل رہا تھا۔ عادل نے مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے باہر کی راہ لی تھی۔ “مجھے تم سے ملنا ہے۔ ابھی!” دوسری جانب سے بات سن کر وہ اپنی کہتا ہوا موبائل جیب میں رکھ کر باہر بڑھ گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
لبوں پر لپ اسٹک لگاتے ہوئے اس نے آئینے کے عکس میں ساویز کو دیکھا جو بستر پر لیٹا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“کیا دیکھ رہے ہیں؟”
“سوچ رہا ہوں جب تم سے شادی کی تھی تو کیا خیالات تھے اور اس کے مقابلے میں اب کیا خیالات ہیں۔” لبوں پر مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔
“اپنے خیالات سے بیوی کو بھی آشنا کریں۔” یہ سنتے ہوئے وہ اس کے پاس آبیٹھی۔ ساویز ہنس پڑا۔
“جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تب تم رو رہی تھیں۔ آنکھوں کا کاجل پھیلا ہوا تھا اور بھوری آنکھوں میں ایک خوف تھا۔ جانے تمہیں یاد ہو یا نہیں مگر تم پر باصم کی اتنی دہشت سوار تھی کہ برابر سے گزرتے ہوئے اجنبی کو دیکھ کر رکی بھی نہیں۔ پہلی نظر میں صرف روتی ہوئی آنکھیں اچھی لگی تھیں اور نکاح کے بعد تم مکمل اچھی لگنے لگی۔” اس کی بھوری آنکھوں میں ساویز کا عکس تھا۔ وہ کھلکھلا دی۔
“جانتے ہیں جب آپ نے مجھ سے شادی کی تو میرا دل خدشوں سے بھرا ہوا تھا۔ میں سوچتی تھی کہ آپ نے مجھے ہی کیوں پسند کیا۔ چھوٹے سے گھر کی لڑکی کو اچانک بیاہنے کا فیصلہ میرے نزدیک انہونا سا تھا۔ سمجھتی تھی کہ اس کے پیچھے آپ کا کوئی مقصد ہوگا۔ آپ کا قریب آنا اور گجرے پہنانا۔۔ میرے ہاتھوں کو چھونا’ یہ سب مجھے ہمیشہ سے سہماتا تھا۔ میں ایسے ہی رہتی اگر آپ مجھے اعتماد میں نہ لیتے۔ اب مجھے احساس ہوتا ہے ایک مضبوط دیوار کیا ہوتی ہے۔ عورت کی زندگی میں پرواہ کرنے والا ایک مرد کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ عورت بھی پھر اپنی تمام محبتیں اس پر نچھاور کر دیتی ہے۔” ساویز کی آنکھوں میں دیکھ کر اسے ہمیشہ ایک منفرد احساس ہوتا تھا۔ ہلکی ہلکی شیو جو اس پر بھلی لگتی تھی۔ حلق کی گلٹی جو نمایاں تھی اور بازوؤں کے ابھرے مسلز۔۔ وہ آج کہہ سکتی تھی کہ کھیل صرف قسمت کا ہوتا ہے۔ آج سے ایک سال پہلے تک اس کے خیال بھی نہ تھا کہ نصیب اس شخص کے ساتھ ملے گا جس کا دل بھی اتنا ہی خوبصورت ہوگا جتنا وہ خود تھا۔ لمبا چوڑا اور کشادہ سینہ۔۔ اس کے ہاتھوں کی ابھری رگیں دیکھتے ہوئے وہ لمحہ بھر کو مسکرائی۔
“تم میری زندگی ہو۔” وہ خود پر قابو نہ رکھ سکا۔ “اور زندگی کتنی خوبصورت ہے۔” عقیدت سے اس کا ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگاتے ہوئے وہ بولا تو غنایہ محبت سے دیکھنے لگی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“یہ کیا حرکت ہے؟” وہ لیٹر پڑھ کر اس کی طوطے اڑ گئے تھے۔
“میں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔” آفس سے تھک کر لوٹی عشنا اب بستر پر بیٹھ کر اپنے سینڈلز اتار رہی تھی۔
“کیوں؟” وہ دنگ رہ گیا۔
“کیونکہ میں تمہارے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہتی ہوں۔ ویسے بھی بھئی یہ جاب وغیرہ میرے بس کی بات نہیں۔” برا سا منہ بناتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی جب میرویس اس کے راستے میں حائل ہوا۔
“عاشی۔” لہجہ سنجیدہ تھا۔
“ہاں؟”
“جھوٹ مت بولو۔ کیوں دیا ریزائن؟” بھلا کوئی بات اس سے چھپ سکتی تھی۔
“بتایا تو ہے میرویس۔”
“میں نے کہا نا جھوٹ مت بولو۔ جانتا ہوں تم ایسا کر ہی نہیں سکتی، جاب کرنا تمہارا ہمیشہ سے شوق رہا ہے۔”
عشنا خاموشی سے اس کا چہرہ تکتی رہی۔
“میرویس۔۔”
“صحیح وجہ بتاؤ۔ کسی نے کچھ کہا ہے؟” اب سختی نے جگہ لے لی۔
“مجھے کوئی کچھ کہے گا تو میں چپ رہوں گی؟” وہ ہنس پڑی۔
“ہاں کیونکہ تمہاری زبان صرف شوہر کے آگے ہی چلتی ہے۔ اب جلدی سے بتاؤ۔”
“میں نے تمہارے لیے جاب چھوڑی ہے۔۔ اور اپنے لیے۔”
میرویس الجھا۔
“میرے لیے کیوں؟”
“تاکہ تمہارے ساتھ وقت گزار سکوں اور خیال رکھ سکوں۔”
“میرا؟” وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تو عشنا نے منہ بنایا۔
“مجھے پتا تھا تم ہنسو گے!” وہ غصے مڑنے لگی جب میرویس نے اسے اپنے قریب کیا۔
“اچھا میں نہیں ہنس رہا۔ مگر اس میں جاب چھوڑنے والی کیا بات تھی؟ وقت تو پہلے بھی دے رہی تھی اور خیال تو ہو ہی رہا تھا۔”
“ضرورت تھی میرویس۔۔ مجھے آفس سے آتے ہوئے چھ بج جاتے ہیں اور اب تو تمہاری روٹین بھی کافی سیٹ ہوگئی ہے۔ سات بجے تم گھر پر ہوتے ہو۔ میں تمہیں کبھی فریش موڈ میں نہیں ملتی۔ آنکھوں میں ڈھیروں نیند ہوتی ہے اور نہ ہمارے درمیان کوئی بات ہو پاتی ہے۔ تم بیمار ہوجاتے ہو تو میں تمہارے پاس ٹھہر نہیں پاتی۔ رات کا کھانا بھی تھکاوٹ کی وجہ سے نہیں بن پاتا اور ایک مہینے سے آفس سے واپس آنے پر تم ہی کھانا بنا رہے ہو۔ مجھے تمہارے ساتھ اب وقت گزارنا ہے۔” اس کے خیالات جان کر اس کا دل چاہا پھر ہنس دے۔ وہ ایسا بھی سوچتی ہوگی میرویس کو یقین نہ تھا۔
“بہرحال تمہیں اپنے شوق سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئیے تھا۔”
“شوق تو شوق ہے مگر تم سے بڑھ کر کوئی کام نہیں ہے۔ میرا کبھی دل چاہے گا تو دوبارہ جوائن کرلوں گی مگر ابھی نہیں۔۔ میں بس اب تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔ تمہاری فکر ہمیشہ میری جان لیتی ہے۔” وہ بہت پیار سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“تمہارے حصے کی شرم بھی مجھے آرہی ہے۔” میرویس مسکراہٹ روکتے ہوئے بستر پر بیٹھ گیا۔ عشنا کھلکھلا دی۔
“چلو میں بے شرم ہی سہی مگر تم کیوں شرما رہے ہو۔” وہ اب اپنے کپڑے وارڈروب سے نکال رہی تھی۔
“اتنا خیال کبھی کسی نے رکھا نہیں اس لیے تھوڑا گھبرا گیا۔” وہ کبھی جو اسے بخش دے۔
“میں شاور لینے جا رہی ہوں۔ تم نے تو آج ویسے بھی آفس سے چھٹی کی ہے۔ ایک کام کرو دو کپ چائے بنا لو‘ ساتھ پئیں گے۔” اسے حکم دیتی ہوئی وہ واش روم کی جانب بڑھ گئی۔
“یہ تم میرا خیال رکھ رہی ہو؟” صدمے کے مارے وہ چلا ہی دیا۔ عشنا جا چکی تھی۔ “یا اللہ مجھے کبھی بے روزگار نہ ہونے دینا۔ یہ عورت مجھے کچن کے سارے کام کرواتے کرواتے ماردے گی۔” بڑبڑا کر کہتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“اس سے قبل کہ ساویز اپنا منہ کھولے، اس کا منہ ہمیشہ کے لیے بند ہی کردو۔”
حسن اس معاملے سے اکتا گیا تھا۔ وہ مزید اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا تھا مگر خرم نے تو جیسے اسے زبردستی اس معاملے کا حصہ بنا لیا تھا۔ پہلے وہاج کا قتل اور پھر یہ سب۔۔
“یہاں سے کھائی دور نہیں مگر وہ کیسے آئے گا؟ گھر سے پک کریں اسے؟” خرم دانت پیستے ہوئے بولا تو حسن کا دل چاہا ہنس دے۔
“اس کی کمزوری، اس کی بیوی!” سگریٹ سلگانے ہوئے اس نے خرم کی جانب شاطرانہ مسکراہٹ سے بڑھائی تو خرم نے کچھ چونک کر تھامی اور مسکرادیا۔
“جہاں اس کی بیوی جائے گی۔ وہاں اسے آنا تو پڑے گا۔” لبوں پر مسکراہٹ گہری ہوئی۔
“اب ویسے بھی میں وجاہت کے لیے کوئی کام نہیں کرتا۔ میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں مگر خیال رہے‘ نام مجھ پر نہ آئے۔” وہ مطمئن ہوتے ہوئے بولا جب خرم مسکرا دیا۔
“ٹھیک ہے۔ تمہیں اس کی بیوی پر نگاہ رکھنی پڑے گی۔ میں یہ کام اس لیے نہیں کر سکتا کیونکہ میں پہلے ہی مشکوک ہوں اور پھر مجھے وجاہت کے پاس بھی ہونا ہے۔ جب کوئی موقع ملے مجھے ضرور بتانا۔ ویک اینڈ پر وجاہت ساویز سے ملنے والا ہے اور میں یہ کام اس سے قبل چاہتا ہوں۔” وہ اسے سب سمجھا رہا تھا اور جواب میں حسن اثبات میں سرہلانے لگا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
بستر پر لیٹتے ہوئے اس نے دوسری طرف کروٹ لیا تاکہ میرویس سے سامنا نہ ہوسکے۔ وہ تو اسے غصے میں یہ بھی نہیں کہہ سکتی تھی کہ بستر پر نہ سوئے۔
“کاش جہیز میں ایک بستر لے آتی تو کم از کم رعب تو جما سکتی۔” خود ہی کڑھتے ہوئے اس نے اپنا لحاف درست کیا۔ یکدم ہی کسی نے اس کا لحاف اپنی جانب کھینچا اور اس قدر طاقت سے کھینچا کہ وہ جکڑ بھی نہ سکی۔
“کیا بدتمیزی ہے یہ؟” وہ غصے سے مڑی تو میرویس نے آئبرو اچکا کر اسے دیکھا۔ وہ بستر پر لیٹنے سے پہلے لحاف کھینچ چکا تھا۔ ٹی شرٹ کی آستینوں سے نکلتے بھرے بھرے بازو اچھے لگ رہے تھے مگر عشنا کو ابھی وہ مکمل برا لگ رہا تھا۔
“اسے کہتے ہیں اپنی چیز لینا۔” بظاہر سنجیدہ مگر اندر ہی اندر اس کی شرارت جاگی ہوئی تھی۔
“اپنی چیز؟”
“یہ لحاف تم جہیز میں لائی تھیں؟” مصنوعی غصے سے گھورتے ہوئے لیٹ گیا۔
“ماردیا طعنہ جہیز نہ لانے کا؟” طیش میں آنے کے لیے یہ جملہ ہی کافی تھا۔
“ہاں ماردیا۔ اب سوجاؤ۔” وہ جان کر رخ موڑ کر لیٹ گیا تاکہ عشنا مزید بھڑک جائے۔
“لحاف دو مجھے!” وہ بھڑک اٹھی۔
“دوسرا لے لو۔”
“مگر دوسرا تو کوئی لحاف ہی نہیں؟ میں پہلے بستر پر لیٹی تھی اور یہ لحاف میں نے استعمال کیا تھا۔”
“اگر سونا ہے تو میرے قریب آکر لیٹ جاؤ۔ میں اپنا لحاف بستر کے دوسرے کونے تک نہیں بھیجوں گا۔” دو ٹوک لہجہ۔ وہ جھنجھلا کر رہ گئی۔
“ایسا مت کرو۔ مجھے سردی لگ رہی ہے۔” اسے اب رونا آنے لگا۔
“اور مجھے نیند آرہی ہے۔” جمائی لیتے ہوئے اس نے آنکھیں موند لی تھیں۔
عشنا گہری سانس بھر کر رہ گئی۔ چپلوں میں پیر اڑسے اور ٹیرس پر آگئی۔ سردی بڑھتی جا رہی تھی مگر اسے غصہ تھا۔ اسی غصے کے مارے رونا بھی آرہا تھا۔ سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے وہ اتنی اونچائی سے پورے شہر کو دیکھ رہی تھی جب پیچھے سے میرویس نے اسے لحاف اوڑھایا۔ وہ خود بھی لحاف سے گھرا تھا۔ عشنا نے ہونق ہوتے چہرے سے اسے دیکھا۔ کچھ دیر قبل تو اسے بہت نیند آرہی تھی اور اب کیسے وہ باہر آگیا تھا۔
“تم کیوں آئے ہو؟” بنھویں چڑھ گئیں۔
“تمہیں تنگ کرنے میں اتنا مزہ کیوں آتا ہے؟” میرویس الٹا اس سے پوچھنے لگا۔ عشنا نے جواب دینا ضروری نہ سمجھا اس لیے منہ پھیر کر سامنے دیکھنے لگی۔ وہ مسکرادیا۔ “اب بات بھی نہیں کرو گی؟”
“تم مجھے بہت تنگ کرتے ہو۔” اس نے اپنے کندھے پر سے میرویس کا ہاتھ جھٹکا۔
“مگر تمہیں اچھا بھی تو لگتا ہوں۔” ہونٹ شریر مسکراہٹ سے سکڑ گئے۔
“اور تم اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہو۔” لب کاٹتے ہوئے کہا گیا۔
“مگر مجھے تنگ کرنا پسند ہے۔”
“دوسری لڑکیوں کو کیا کرو۔ مجھے نہیں!” وہ جھلائی۔
“ان میں سے کوئی تمہاری طرح مجھ پر غصہ نہیں کرے گا اور مجھے تمہارا غصہ کرنا پسند ہے۔ جب تم چڑ کر کہتی ہو نا ‘میرویس مجھے تم سے نفرت ہے’ ہائے ہائے! وہ کیا لمحہ ہوتا ہے۔” وہ مزے میں بولا تو عشنا کو لگا اگر اس نے خود پر قابو نہ کیا تو ہنس پڑے گی۔
“بدتمیزی نہ کرو۔” مجبوراً تھوڑا غصہ دکھانا پڑا۔
“سیاہ آسمان پر یہ سفید روئی جیسے بادل کتنے اچھے لگ رہے ہیں۔ تم بھی میری زندگی میں کچھ ایسا ہی مقام رکھتی ہو۔ پہلے میرویس خاموش رہنا پسند کرتا تھا مگر اب وہ بولتا ہے۔۔ اور بولتا ہی جاتا ہے۔ مگر صرف تمہارے آگے!” اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں دباتے ہوئے وہ ایک نظر آسمان پر ڈالتا ہوا بولا۔
“تم اپنی پہلی منگیتر کے ساتھ بھی ایسی ہی محبت بھری باتیں کرتے تھے میرویس۔” نجانے کیوں اس کا دل چاہا کہ وہ اس پر بات کرے۔ میرویس بری طرح چونکا۔ بھلا اس منگنی کا یہاں کیا ذکر؟
“محبت بھری باتیں؟ میں اس سے کوئی بات بھی نہیں کرتا تھا۔” وہ ہنس دیا۔ “منگنی اماں کے دباؤ پر کی تھی حالانکہ میں نے اسے منع کیا تھا۔ وہ نہ مانی تو میں بھی خاموش ہوگیا۔ منگنی کر لی۔”
“پھر کیسے ٹوٹی؟” اسے حیرانی تھی۔ وہ خاموش اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
“بتایا تو تھا کہ انگھوٹی دو نمبر تھی۔” وہ اب تک پرانی بات پر اڑا تھا۔ عشنا نے زچ ہوتے ہوئے رخ پھیر لیا۔ “تمہیں میری بات کا یقین نہیں آتا؟”
“جھوٹ بات کا یقین نہیں کرتی میں۔۔” خفا خفا سا لہجہ۔
“تمہیں جان کر کیا کرنا ہے؟” لہجہ شریر ہوا تو وہ اسے گھورتی رہ گئی۔
“نہیں بتانا تو نہ بتاؤ۔” لحاف سے نکلتی ہوئی وہ اندر کی جانب بڑھنے لگی جب میرویس نے پلٹ کر اسے مسکراتے ہوئے دیکھا۔
“اس کے سامنے دو بار تمہارا ذکر کر بیٹھا۔ دوسرے شخص کو آپ سے جتنی بھی محبت ہو مگر وہ کسی تیسرے شخص کا ذکر برداشت نہیں کرسکتا۔ اسے میں پسند تھا اور اس منگنی میں اس کی خوشی شامل تھی مگر میرے منہ سے تمہارا نام سن کر وہ شاید برداشت نہ کر سکی۔ انگھوٹی دینے گھر پر آئی تھی۔” لب مسکرا رہے تھے۔ پہلا مرد تھا شاید جو اپنی ٹوٹی ہوئی منگنی بہت خوشی سے سنا رہا تھا۔ عشنا کے قدم ٹھہر گئے تھے۔ وہ بے یقینی سے مڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
“اس نے کیا کہا تھا؟” تجسس بھرا لہجہ۔
“کہہ رہی تھی کہ تمہیں عشنا نام کی اس لڑکی سے ہی شادی کرنی چاہئیے جو تمہیں بھاؤ نہیں دیتی۔ انگھوٹی زمیں پر پھینکی اور چلی گئی۔ اب اسے آج کیا ہی بتاؤں کہ عشنا نام کی اس لڑکی نے مجھے بھاؤ دینے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی بھی میرے نام کردی۔” وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ اسے یاد تھا جب وہ انگھوٹی پھینک کر گئی تھی‘ میرویس نے اس انگھوٹی کو ایک نظر دیکھنے کے بعد دوبارہ نہیں دیکھا تھا۔ فرش سے انگھوٹی پھر اماں نے ہی اٹھائی تھا اور اب وہ کہاں تھی میرویس کو ذرا علم نہیں تھا۔ گویا منگنی ختم’ جان چھٹی!
عشنا مسکرا دی۔
“تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ کوئی اپنی منگیتر کے سامنے کسی دوسری لڑکی کا نام لیتا ہے؟”
“کم ہی بولو محترمہ! اگر نام نہ لیتا تو آج تم یہاں نہیں ہوتی۔”
“تو کیا تم اس سے شادی کرلیتے؟” حیران لہجہ۔
“نہیں۔۔ کبھی نہیں! میں نے کہا نا تم سے’ تم نہیں ملتی تو تنہا رہ لیتا مگر کسی کو اپنی زندگی میں شامل نہ کرتا.’ تم نے میری بات کو شاید سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ میرویس جو کہتا ہے’ وہ کر کے دکھاتا ہے۔” اس کی سیاہ آنکھوں میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے مسکرا دی۔ ہاں وہ لاکھوں میں ایک تھا۔۔ اس کا میرویس تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“کیا ضرورت تھی کافی کی غنایہ۔ بار بار زینے چڑھنے اترنے سے پرہیز کیا کرو۔” اسے اپنے پاس بلا کر بٹھانے لگا۔
“میرا دل چاہ رہا تھا کہ آپ کے لیے بناؤں۔” سردی کا زور اس سال زیادہ تھا۔
“اچھا چلو لیٹ جاؤ۔ میں کام کر رہا ہوں اور رات بھی کافی ہوگئی ہے۔ جس دن تم مہندی لگانے جاؤ گی’ میں بابا کو چیک اپ کے لیے لے جاؤں گا۔ ان کی طبیعت اب پہلے سے کافی بہتر ہے۔”
“جی۔” وہ اپنا لحاف درست کرنے لگی۔
“اور تمہارا اپائنٹمنٹ کب ہے؟” لیپ ٹاپ پر تیزی سے چلتی انگلیاں ذرا دیر جو ٹھہریں۔
“ابھی تو وقت ہے۔” وہ خوشی سے کہتے ہوئے اطمینان سے لیٹ گئی۔ ساویز نے مسکراتے ہوئے اس کے چہرے پر پھیلی تسکین دیکھی۔
“سارے کام ہوجاتے ہیں مگر تمہیں ڈاکٹر کے پاس نہیں جایا جاتا۔”
“میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔ ڈاکٹر کا نام سن کر ہی میرے پورے بدن میں سستی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھے اب سوجانا چاہئیے۔” کروٹ لیتے ہوئے اس نے ایک نظر ساویز جو دیکھا جو جمائی لے رہا تھا مگر اس کا کام کرنا بھی ضروری تھی۔
“تم نے مجھے مہندی والی کی لوکیشن نہیں بتائی؟” تھوڑی ہی دیر گزری تھی جب ساویز نے اس سے پوچھا۔ جواب نہ پاکر اس نے غنایہ کو دیکھا جو گہری نیند میں تھی۔ بھولا سا چہرہ اور چہرے پر سکینت۔۔ وہ لمحہ بھر کو مسکرا کر اسے دیکھنے لگا جو بال کھول کر سو رہی تھی۔
کیسے بتاؤں رے پگلی! تو مجھ کو کتنی اچھی لگتی ہے۔ اسے انہماک سے دیکھتے ہوئے وہ اپنا کام نہیں کر پارہا تھا جب غنایہ کی آنکھ اچانک سے کھلی۔ وہ جو کروٹ لینے کا ارادہ رکھتی تھی وہیں ٹھہر گئی۔
“آپ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟” نیند میں آواز ابھری۔
“کیوں میں نہیں دیکھ سکتا؟” وہ ہنس دیا۔
“اتنے قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ آنکھ کھلتے ہی ڈر گئی تھی میں۔۔” لحاف منہ تک کرنے لگی تو ساویز نے پکڑ لیا۔
“تم اب مجھے دیکھنے بھی نہیں دو گی خود کو؟” کیا بے یقینی تھی۔
“مجھے نیند آرہی ہے اور ساتھ تھوڑا تھوڑا غصہ بھی۔” آج کل تو اس کے موڈ کو پتا نہیں کیا ہوگیا۔ ایک پل ہنستی تھی اور دوسرے ہی پل آنکھیں نم ہوجایا کرتی تھیں۔
“اب کیوں غصہ آرہا ہے بھئی؟ مجھے کیا تم نے مجسمہ سمجھ لیا ہے کہ جب چاہو غصہ اتار لو۔” وہ چھیڑتے ہوئے سنجیدگی سے بولا تو اسے گھورتی رہ گئی۔
“تنگ نہیں کریں مجھے پھر آپ کو صبح آفس بھی جانا ہوتا ہے۔” وہ لحاف منہ تک کرنے پر زور دے رہی تھی مگر سامنے ساویز تھا۔
“مگر مجھے تمہیں دیکھنا ہے۔” نگاہوں میں محبت تھی۔
“سارا دن دیکھتے رہتے ہیں۔ دل نہیں بھرتا؟” یکدم ہی وہ چڑچڑی ہونے لگی۔
“نہیں بھرتا۔ دس منٹ اور دیکھوں گا پھر تم سوجانا۔”
“تو میں دس منٹ تک پتھر کا مجسمہ بنی رہوں؟”
“نہیں تم میری آنکھوں میں دیکھو۔” اس کی بھوری آنکھوں میں ہلکا ہلکا غصہ آیا۔
“آپ بہت تنگ کرنے لگے ہیں مجھے۔۔ دیکھ رہی ہوں میں۔ بابا کو بتاؤں گی۔” اس کی بات پر وہ ہنس پڑا۔
“اچھا کیا بتاؤ گی؟” اسے تجسس ہوا۔
“کہوں گی ان کا بیٹا روز بہ روز پٹری سے اترنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں یہ بھی کہوں گی کہ آپ تنگ کرتے ہیں۔” خفا خفا سا لہجہ۔ وہ غصہ کرتے ہوئے اسے کبھی بری نہیں لگی۔
“پھر میں بھی ان سے کہوں گا کہ ان کی بہو کے موڈ کا کچھ پتا ہی نہیں ہوتا۔ دو منٹ پہلے محبت سے بات کرتی ہے اور پھر اچانک سخت ہوجاتی ہے۔” آنکھوں میں شرارت واضح نظر آرہی تھی۔
“اچھا؟ تھوڑی دیر پہلے آپ نے مجھ سے فائلز منگوائی۔ میں نے پیلی فائل لاکر دی تو آپ نے کیا کہا؟ مجھے تو نیلی فائل چاہئیے۔” اس نے نقل اتاری۔ “پھر جب میں نے ہلکے رنگ کی نیلی فائل لا کر دی تو آپ نے کیا کہا! ‘مجھے گہرے رنگ کی نیلی فائل چاہئیے’ خود آپ مجھے بہت تنگ کرتے ہیں۔ صبح بھی آپ نے یہی کیا۔ مجھے میری چائے بنانے سے یہ کہہ کر منع کردیا کہ ایک کپ میں چائے پئیں گے! میں آپ کا انتظار کر رہی تھی کہ کب آپ آدھی چائے پی کر میری جانب بڑھائیں گے مگر آپ نے جان کر مجھے تنگ کرنے کے لیے صرف آخری کا گھونٹ دیا۔” اس کے پاس شکووں کی لسٹ تھی۔ ساویز قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
“اچھا اگر اتنا غصہ تھا تو نہ پیتی وہ آخری گھونٹ! کیوں پیا؟” غنایہ کی سرخ ہوتی ناک ٹھنڈی ہورہی تھی۔
“غصہ تو بڑھ ہی رہا تھا تو سوچا آخری گھونٹ پی کر محبت بڑھالی جائے تاکہ غصہ اور محبت دونوں بیلنس ہوجائیں۔”
“اس طرح کہو گی تو مجھے تم پر پیار آنے لگے گا۔” اس کا انداز دل موہ لینے والا تھا۔
“آپ تھوڑا سا لڑ نہیں سکتے؟ کبھی نہیں لڑتے آپ!” وہ اس کے اتنا چڑنے پر بھی محبت سے بات کر رہا تھا۔ غنایہ زچ ہونے لگی۔
“تم چاہتی ہو میں تم سے لڑوں؟” وہ دنگ رہ گیا۔
“تھوڑا ہی سہی! مطلب آپ یہی کہہ دیں گے غنایہ مجھے تنگ کرنے کی ضرورت نہیں۔” کیا لڑکی تھی وہ۔۔ مزاج پل پل بدل رہے تھے۔
“میں ایسا کیوں کہوں جب تم مجھے تمہارا تنگ کرنا برا نہیں لگتا ہے۔ بلکہ تم تنگ ہی کہاں کرتی ہو؟” بمشکل مسکراہٹ چھپاتے ہوئے وہ بول پڑا۔
“میں نے ابھی آپ کو اتنا کچھ بولا ہے۔ ذرا فرق نہیں پڑا؟” وہ خود بھی حیران تھی۔
“مجھے تو اچھا لگا۔ اب بیوی شکوے کرے گی تو شوہر سے ہی کرے گی۔”
غنایہ کا سر گھومنے لگا۔ اس بندے کو کوئی ہلکا پھلکا لڑنا ہی سیکھا دے تاکہ غنایہ بھی اپنے چڑچڑے پن کو کہیں نکال سکے۔
جبکہ دوسری جانب لحاف اپنی جانب کھینچتا میرویس جھنجھلایا ہوا تھا۔
“تم مجھ سے دو بات محبت سے کیوں نہیں کرسکتے؟ لڑنا ضروری ہے؟” اس کے دماغ کی رگیں پھٹ جانے کو تھیں۔
“کیونکہ یہ لحاف اتنا بڑا نہیں ہے جتنا تم سمجھ رہی ہو۔ اور اسے ایک ساتھ اوڑھنے کے لیے ہمیں قریب قریب لیٹنا ہوگا لیکن بقول تمہارے میں ایک دیو ہوں اور تم میرے قریب لیٹ کر خود کو فرش کے نذر نہیں کرسکتی۔ دیکھو عاشی کہیں پر انا کو مارنا پڑتا ہے۔ اگر تم فرش پر گر بھی جاتی ہو آج کی رات تو کیا ہوگیا۔ دوبارہ اوپر لیٹ کر سوجانا۔” وہ اسے کیا سمجھا رہا تھا۔۔ عشنا کا منہ ہی کھلا رہ گیا۔
“یعنی بستر سے مجھے گرانا ضروری ہے۔۔ تم خود پر قابو نہیں رکھ سکتے؟ لحاف بڑا ہے اور ہم آسانی سے سو سکتے ہیں۔”
“اچھا آؤ پیار محبت سے بات کر کے سوتے ہیں۔ لحاف کا یہ حصہ بھی چاہئیے؟” اس نے دکھایا۔ “یہ لو۔۔” کہتے ساتھ اس نے اور لحاف عشنا کی جانب کیا۔
عشنا مسکراتی ہوئی جلدی سے لیٹ گئی۔
“تم رات میں لحاف تو نہیں کھینچو گی نا؟” اسے نیند آرہی تھی اور وہ جانتا تھا کہ اگر عشنا کا یہ رات میں کام کرنے سے اس کی آنکھ کھل گئی تو وہ دوبارہ نہیں سو سکے گا۔
“نہیں کروں گی۔ کل ہی میں اوپر اسٹور سے مزید لحاف نکال کر دھلوانے دیتی ہوں۔ کم از کم نیند تو سکون سے آئے۔” وہ کروٹ لینے لگی۔
“دس ہزار بار کہا ہے میری طرف کروٹ لے کر سوجایا کرو’ نیند نہیں آتی مجھے۔۔” اس نے غصہ کیا تو عشنا نے دوبارہ اس کی جانب کروٹ لیا۔ دونوں کے درمیان کافی فاصلہ تھا۔ عشنا کنارے پر سوتی تھی۔ میرویس اب اس کو دیکھ رہا تھا جبکہ عشنا نے آنکھیں موند لی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
وہ آج آفس گیا تھا اور آج پہلی بار عشنا نے اس کے لیے سرپرائز پلان کیا تھا۔ ٹیرس پر خوبصورت سا سیٹ اپ کر کے اس نے زمین پر بیٹھنے کے لیے جگہ بنائی۔ میرویس کی پسندیدہ حلیم اور کھیر پیالوں میں نکال کر اس نے دوبارہ گرم کرنے مائکروویو میں رکھ دیا۔
بالوں کو خشک کرتے ہوئے خوب دل سے تیار ہوئی۔ آج پہلی بار اس نے کانوں میں جھمکے ڈالے۔ لبوں پر مسکراہٹ عیاں ہوئی۔ میرویس کو کال ملاتے ہوئے وہ اب لپ اسٹک لگا رہی تھی۔
“ہیلو۔”
“کب آرہے ہو؟” حیا کے مارے وہ دھیمی آواز میں پوچھنے لگی۔
“ہاں بس آدھے گھنٹے میں۔۔ نکلنے لگا ہوں۔”
“ٹھیک ہے۔” اس نے جلدی سے کال رکھ کر اپنی تیاری مکمل کی۔ پلکوں پر مسکارا لگایا اور ہلکا ہلکا کاجل لگا کر خود کو آئینے میں دیکھنے لگی۔ بال کھول کر شانے پر بکھرے ہوئے تھے۔ کھانا باہر سجا کر اس نے ڈش ڈھانپ دی تھی کہ کہیں کوئی کھانوں پر نہ آگرے۔ کھلے آسمان کے تلے یہ سب کچھ بہت بھلا معلوم ہو رہا تھا۔ وہ خوش تھی۔۔ مطمئن بھی۔ آج جب وہ تھکا ہوا گھر لوٹے گا تو کتنا خوش ہوجائے گا۔ یقینا وہ اس سے یہ سب کی امید نہیں رکھ رہا ہوگا۔ لبوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“بابا۔” کھانے کی ٹرے ان کے آگے رکھتے ہوئے وہ ساتھ ہی بیٹھ گئی۔
“کہو بیٹی۔” وہ مسکرائے۔ غنایہ جب جب ان کے سامنے آتی تھی وہ اس کی موجودگی محسوس کر کے مسکرا دیا کرتے تھے۔
“تصویروں کے البم کہاں ہیں؟” وہ ساویز اور اس کی ماں کی تصویریں دیکھنا چاہتی تھی۔ حالت کی وجہ سے یونیورسٹی تو جا نہیں رہی تھی اور یوں گھر میں بیٹھ کر اسے بوریت ہورہی تھی۔
“وہ دیکھو وہاں۔” انہوں نے میز کی دراز کی طرف اشارہ کیا۔ “پہلی دراز میں۔”
ان کے بتانے پر وہ دو بھاری البم اٹھا کر لائی۔
“لڑکی ایک وقت میں ایک لاتی۔ دیکھو ذرا کتنے بھاری ہیں۔” بستر پر ٹھیک طرح سے بیٹھتے ہوئے وہ کھانا کھانے لگے۔
“مجھے خیال نہیں رہا بابا۔” وہ اب تصویریں دیکھ رہی تھی۔ ساویز کی تصویر پر نگاہ پڑی تو وہ مسکرا دی۔ تصویر میں وہ کوئی تین سال کا بچہ تھا جو ماتھے پر بل پھیلائے اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا جو اسے ہنسانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
“یہ ساویز ہی ہیں نا۔” اسے کوئی شک نہیں تھا’ مگر پھر بھی پوچھ رہی تھی۔
“ہاں۔ تین سال کا ہونے والا تھا جب اس کی ضد پر ہم ساحل سمندر گئے تھے۔” ان کی بات کو محسوس کرتے ہوئے وہ مسکرا دی۔
“یہ بچپن میں ضدی اور غصے والے تھے؟” تصویروں سے تو یہی لگتا تھا۔
“ہاں۔ جب تک اس کی ماں زندگی رہی تب تک وہ ضدی ہی رہا۔ اس کی ماں جو موجود اس کی ضد پوری کرنے کے لیے۔۔” ماضی سوچتے ہوئے انہیں جہاں ایک عورت کا خیال آیا وہیں سانس لینا دشوار ہوگیا۔ غنایہ نے بغور ان کا چہرہ دیکھا۔
“اماں تو بہت پیاری ہیں اور یہ دیکھیں آپ! ساویز قد کاٹھ میں بلکل آپ جیسے ہیں۔ لمبے چوڑے اور پرکشش۔۔” اسے خوشی ہورہی تھی جبکہ تقی اسے محبت سے دیکھ رہے تھے جو ایک ایک چیز کو بغور دیکھ رہی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
گھڑی بارہ بجا رہی تھی۔ صوفے پر بیٹھی وہ بنا کسی تاثر کے سامنے دیوار کو تک رہی تھی۔ تمام لائٹس بجھا کر اب وہ لاؤنج میں تھی۔ دو گھنٹے گزر چکے تھے مگر نہ میرویس آیا تھا اور نہ اس کی کال۔۔ دل کے احساسات گویا دم توڑ گئے۔ اس کی خوشی جل کر راکھ ہوگئی۔ انتظار رائیگاں چلا گیا۔ گہری سانس بھرتے ہوئے اس نے میرویس کا میسج دیکھا تھا جہاں اس نے اپنے تاخیر سے آنے کا بتایا ہوا تھا۔ دل بوجھل ہورہا تھا۔ اس کا دل چاہا جو تیاری اس نے ڈنر کے لیے کی تھی’ سب برباد کر دے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے اپنی چوڑیاں اتاری اور تقریباً پھینکنے کے انداز میں میز پر رکھیں۔ چند چوڑیوں اسی وقت ٹوٹ گئی تھیں۔ ڈوپٹے سے ہونٹوں پر لگی لپ اسٹک رگڑی اور آہستہ آہستہ ساری جیولری اتارنے لگی۔ وہ آج اس کے لیے وقت پر آ بھی نہ سکا تھا۔ کھلی کھڑکی سے اندر آتی سرد ہوا اس کے جسم میں کپکپاہٹ پیدا کر رہی تھی مگر وہ تو جیسے کسی بات نوٹس نہیں لینا چاہتی تھی۔ بستر پر لیٹتے ہوئے اس نے لحاف اپنے اوپر بچھایا اور ساتھ ہی آنکھیں موند لیں۔
۔۔۔★★★۔۔۔
وہ گھر میں داخل ہوا تھا جب اتنا اندھیرا دیکھ کر سٹپٹا گیا۔ لاونج کی لائٹ جلاتے ہوئے اس نے کمرے کا رخ کیا۔ بستر پر لیٹے وجود پر ایک نگاہ حیرت سے ڈالتے ہوئے میرویس نے اپنا کوٹ اتارا تھا۔ آج سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ عشنا اس کے آنے سے پہلے سوگئی ہو۔ یہ سوچ کر وہ اس کی جانب بڑھنے لگا کہ کہیں اس کی طبیعت تو نہیں خراب۔۔ یکدم ہی پاؤں میں چھبن کا احساس ہوا تو اس نے موبائل کی ٹارچ جلا کر اپنے پیر کے نیچے آنے والی چیز کو دیکھا۔ وہ ٹوٹی ہوئی چوڑیاں تھیں جو بکھری ہوئی تھیں۔ میر جی بھر کر چونک گیا۔ اس نے چھوٹی لائٹ جلا کر کمرے کی حالت دیکھی۔ عشنا کی جیولری آدھی میز پر گری تھی اور آدھی فرش پر۔۔ ایک طرف کنارے پر ڈوپٹہ رکھا تھا۔ وہ اس تک پہنچ ہی رہا تھا‘ ٹیرس کا کھلا دروازہ بند کرنے کے ارادے سے آگے بڑھا۔ کل کے مقابلے میں ہوا کا زور زیادہ تھا۔ ابھی بند ہی کر رہا تھا جب نگاہ سامنے اٹھی اور ٹھٹھک گئی۔ ٹیرس کی زمین پر بچھائی گئی چادر اور طرح طرح کے لوازمات۔۔ دو خوبصورت گدے جو بیٹھنے کے لیے بچھائے گئے تھے۔ پیالیاں اور کانچ کے خوبصورت برتن۔۔ وہ ششدر رہ گیا۔ اس نے تیزی سے عشنا کی جانب روشنی ماری جس کی لپ اسٹک مٹ کر چہرے پر لگی ہوئی تھی۔ وہ منٹوں کی کہانی لمحوں میں سمجھ گیا۔ تو کیا وہ اس لیے اسے جلدی آنے کا کہہ رہی تھی؟ وہ خوش ہوتا یا اتنی تاخیر سے آنے پر افسوس کرتا۔
عشنا کے نزدیک پہنچ کر ایک گھٹنا فرش ٹکاتا ہوا اسے بغور دیکھنے لگا۔ رخسار پر موجود آنسو خشک نہیں ہوا تھا جس کا مطلب تھا کہ اسے سوئے زیادہ دیر نہیں ہوئی۔
“عاشی۔” دھیرے سے پکارا گیا۔ عشنا کی آنکھ یکدم کھلی۔ ماحول میں دوبارہ خاموشی چھا گئی۔ وہ اسے کافی دیر تک یونہی گم صُم تکتی رہی۔ میر بھی کچھ نہ بولا۔ وہ کہنا چاہتا تھا مگر اس سے قبل ہی کروٹ لے کر دوسری طرف آنکھیں موند گئی۔
“عاشی بات سنو پلیز۔” اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ التجا کرنے لگا مگر اسی وقت عشنا نے اس کا ہاتھ بری طرح جھٹکا۔
“مجھے تنگ مت کرو میرویس۔” دانت پیس کر کر کہتی وہ کچھ اور دور جانے لگی جب میرویس سے صبر نہ ہوا۔ اس کو بازو سے پکڑتے ہوئے زبردستی اپنے سامنے بستر پر بٹھایا۔
“کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔” کب غصہ کرتے ہوئے آنسو چھلک پڑے اسے اندازہ ہوا۔
“ناراض مت ہو۔” لہجہ اب بھی دھیما تھا۔
“ناراض مت ہوں؟” یہ بات اسے مزید طیش دلا گئی۔ “چار گھنٹوں سے پاگلوں کی طرح تمہارا اس امید پر انتظار کر رہی ہوں کہ ہم سب ڈنر کریں گے اور تم یہ کہہ رہے ہو کہ ناراض مت ہوں؟” وہ چیخ پڑی۔
“مجھے اس بارے میں کچھ علم نہیں تھا عاشی۔ اگر ہوتا تو کچھ بھی کر کے جلدی سے آجاتا۔” اس کا یوں غصہ کرنا وہ سمجھ سکتا تھا۔
“مجھے تم سے اب کوئی بات نہیں کرنی۔” اس نے بات ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ سختی سے آنسو پونچھے اور دوبارہ لیٹ گئی۔ “کچھ بھی کرنا ہے کرو مگر میرے پاس مت آنا۔” ہچکیاں بندھنے لگیں۔ میرویس کھڑا ہوگیا۔ اس نے ایک نگاہ باہر کے سیٹ اپ پر ڈال اور عاشی کو دیکھنے لگا۔
“مجھے بھوک لگ رہی ہے۔” سینہ کچھ بوجھل ہوگیا تھا۔
“تو کھالو کھانا۔ ویسے بھی ساری چیزیں خوامخواہ میں نے بنا کر رکھی ہوئی ہیں۔” لحاف منہ تک اوڑھتے ہوئے اس نے رخ موڑ لیا۔ دس منٹ مزید بیت گئے۔ عشنا جانتی تھی کہ وہ اس کے سامنے سے جا چکا تھا۔ اسے رونا آنے لگا۔ جب خوب دل بھر رو دی تو یکدم ہی ایک خیال سے چونک پڑی۔ کچھ ہی دیر قبل میرویس نے اپنی بھوک کا اظہار کیا تھا۔۔وہ جانتی تھی عشنا کی موجودگی کے بغیر وہ ایک نوالہ بھی حلق سے نگلتا نہیں۔ صبح آٹھ بجے کا ناشتہ کر کے گیا میرویس رات میں اب لوٹا تھا۔ لنچ وہ اکثر کم ہی کرتا تھا۔
کچھ سوچتے ہوئے عشنا نے لحاف چہرے سے ہٹا کر ارد گرد دیکھا جہاں کوئی نہیں تھا۔ لاؤنج سے آتی ہلکی روشنی نے اسے میرویس کی موجودگی کی خبر دی۔ دل ندامت کے احساس سے دوچار ہوا تو پیروں میں چپل پہنتی لاؤنج میں داخل ہوئی۔
صوفے پر آڑا ترچھا بیٹھ کر گردن صوفے کی پشت سے ٹکائی ہوئی تھی۔ ٹائی ڈھیلی اور آدھی سے زیادہ شرٹ جینز سے باہر نکلی ہوئی تھی۔ وہ چہرے سے تھکا تھکا سا معلوم ہو رہا تھا۔ بال بکھر کر آنکھوں تک آرہے تھے۔ اس نے اب تک کپڑے تبدیل بھی نہیں کیے تھے۔ وہی جوتے جو اب بھی پہنا ہوا تھا البتہ آنکھیں موند کر وہ تھکن اتار رہا تھا۔
عشنا کا دل مزید بوجھل ہوا۔ اس کی حالت دیکھنا ناقابل برداشت تھا۔ کچن سے حلیم کی پتیلی اٹھا کر اس نے میز رکھی تو کسی ہلچل سے میرویس کی آنکھیں کھلیں۔ وہ اب اسے میز پر چیزیں رکھتے ہوئے دیکھ رہا تھا جس کی پیشانی پر بل پھیلے ہوئے تھے۔
“آؤ ادھر۔” اس کے لیے کرسی کھینچتے ہوئے بولی۔ لہجہ بلکل نرم نہیں تھا۔ میرویس کو لگا جیسے وہ کوئی بہت بڑا مجرم ہو۔ بنا کچھ کہتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے اشارے پر کرسی پر آبیٹھا۔ میز اب لوازمات سے بھری ہوئی تھی۔ ایک طرف کھیر کا پیالہ تھا اور دوسری جانب حلیم رکھی تھی۔ پانی کا جگ اور گلاس دور سجے ہوئے تھے۔ اسے بیٹھا دیکھ کر وہ مڑنے لگی جب میرویس نے اسے پکارا۔
“تم جانتی ہو میں تمہارے بنا کھانا نہیں کھاتا۔” آواز یکدم تھی کہ عشنا بھی چونک گئی تھی۔ “اور اگر تم میرے ساتھ نہیں کھانا چاہتیں تو یہ پیالے اٹھا لو۔ مجھے بھوک نہیں ہے۔”
عشنا نے اندر سانس کھینچی اور برابر والی کرسی پر آبیٹھی۔ میرویس کے دل کو کچھ سکون پہنچنے لگا۔ حلیم نکالتے ہوئے اس نے روٹیوں کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا۔ وہ اب بھی ویسے ہی بیٹھی تھی۔ اپنے کھانے کا پہلے نوالہ اس نے عشنا کی طرف بڑھایا تھا۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر غصے سے اسے دیکھنے لگی مگر کھانے کو دور کرنا اسے اچھا نہ لگا۔ میرویس یکدم ہی دھیما سا مسکرایا۔ وہ پہلا لقمہ لے چکی تھی اور میرویس جانتا تھا کہ جتنا وہ بھوک سے تڑپ رہا ہے’ عاشی کو بھی اتنی ہی بھوک ہے۔
“آئم سوری۔” بھاری گھمبیر آواز ابھری۔ اپنا کھانا چکھے بغیر اس نے دوسرا نوالہ بھی عاشی کی جانب بڑھایا جو اس کے معافی مانگنے پر بھڑک اٹھی تھی۔
“مجھ سے سوری کا ناٹک مت کرو میرویس۔ اگر میں تمہارے پاس بیٹھی ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرو گے۔”
غصے میں اسے دوسرا نوالہ بھی کھانا پڑا۔ وہ ایک بار پھر ہلکا سا مسکرا دیا۔
“کتنا غصہ ہے مجھ پر؟”
“اتنا کہ میرا دل کر رہا ہے میں تمہارا سر پھاڑ دوں۔” کہتے ساتھ ہی اس نے میرویس کے ہاتھوں سے تیسرا نوالہ منہ میں ڈالا۔
“تو پھاڑ دو۔ میں بلکل برا نہیں مانوں گا۔” مسکراہٹ گہری ہوئی۔ “تمہاری کال پر جب میں نے جلدی گھر آنے کا بتایا تب میں نکل چکا تھا۔ راستے میں پل پر گاڑی خراب ہوگئی تھی۔ نہ کوئی مکینک مل رہا تھا اور نہ کوئی راستہ۔۔” اس کی بات پر وہ ٹھٹھک کر اس نے سننے لگی۔ “بہت مشکل سے گاڑی مکینک تک لے کر گیا ہوں اور آج رات کے لیے اسے وہیں چھوڑ آیا ہوں۔ کسی طرح کیب بک کروائی اور جب گھر پہنچا تو احساس ہوا کہ کافی تاخیر کر آیا۔” ایک اور نوالہ اس کو کھلاتے ہوئے میرویس نے بلآخر ایک لقمہ اپنے منہ میں بھی ڈالا۔ عشنا کا چہرہ پھیکا پڑنے لگا۔ یہ جانے اور پوچھے بغیر کہ وہ تاخیر سے کیوں آیا’ وہ سیدھا اس پر برس پڑی تھی۔ شرمندگی کے مارے نگاہیں جھک گئیں۔
“تم۔۔ تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟” سارا غصہ جھاگ بن کر بیٹھ گیا۔ وہ اس کے بدلتے تیور دیکھتے ہی ہنس پڑا۔
“تم نے موقع کب دیا عاشی؟”
“میں نے یہ سب انتظام ہمارے لیے کیا تھا۔ تم نہیں آئے تو جانے کیا سمجھ کر تم پر غصہ آنے لگا۔” سسکتے ہوئے وہ بے حد دھیمے لہجے میں بات کر رہی تھی۔
“میں آئس کریم لایا ہوں۔ ہم اب بھی آگے بیٹھ سکتے ہیں۔” اس کے آنسو تکلیف دے رہے تھے۔
“نہیں اب نہیں۔۔ میرا دل اچاٹ ہوگیا۔” وہ بے دلی سے بولی تو کھانا ختم کرتے ہوئے میرویس اٹھ کھڑا ہوا۔ کچن میں برتن رکھ کر اس نے ہاتھ دھوئے اور فریج کھول کر کھڑا ہوگیا۔ وہ وہیں شرمندگی اور ارمان ٹوٹ جانے کی وجہ سے سسک رہی تھی۔
میرویس جب کچن سے باہر نکلا تو اس کے ہاتھ میں ایک ٹرے تھی۔ ایک ہاتھ سے عشنا کو زبردستی اٹھایا اور کھینچتا ہوا باہر آگیا۔ سیٹ اپ اب بھی ویسا ہی تھا۔ اس نے ارد گرد لگیں پیلی لائیٹس جلا کر منظر کو مزید خوبصورت بنایا۔
“یہ سب تم نے واقعی خود سے سجایا تھا؟” وہ قدرے امپریس ہوا۔ گدے پر بیٹھتے ہوئے اس نے ٹرے سامنے رکھی اور عشنا کا ہاتھ کھینچ کر زبردستی بٹھایا۔
“میں نے تم سے اتنی بدتمیزی کی اور تم پر چیخی بھی مگر تم نے غصہ نہیں کیا؟ حالانکہ تمہارے لاہور جانے سے پہلے بھی جب میں یوں ہی چیخی تھی تو تم بھی چیخ پڑے تھے۔”
اس کی بات پر میرویس نے منہ پھیر کر اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں‘ جہاں سیاہ رنگ کا عکس تھا۔
“میں تمہارے چیخنے پر کبھی غصہ نہیں کرسکتا۔ جانتی ہو اس دن مجھے پہلی بار تم پر غصہ کیوں آیا تھا؟ میں دوستوں کے درمیان تھا جب تمہاری کال آئی۔ جو بھی ہو عاشی۔۔ کتنا ہی غصہ ہو۔ جب ایک انسان گھر سے باہر ہو یا آنکھوں سے اوجھل ہو تو آپ کو احتیاط کرنی چاہئیے۔ تمہاری چیخنے پر میرے دوست بھی چونک اٹھے تھے۔ پہلی بار میرا چہرہ خفت کے احساس سے سرخ ہوا تھا۔ تم گھر میں دس بار چیخو میں ایک لفظ نہیں کہوں گا۔” وہ اسے سن رہی تھی اور احساسِ ندامت میں گھر رہی تھی۔ “ہمارے درمیان کے مذاق، لڑائی، غصہ’ یہ سب ہمارے درمیان رہنا چاہئیے۔ کسی اور کو خبر نہ ہو کہ میرے گھر میں کیا ہوتا ہے۔” تاثرات عام سے تھے مگر لہجہ خاص۔۔ وہ سچ کہتا تھا۔۔ کل کو وہ بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ اس کا شوہر اس پر تب چیخے جب وہ اپنے دوستوں کے درمیان ہو یا گھر سے باہر ہو۔
“سوری۔” دھیمی آواز۔ وہ چڑ کر رہ گیا۔
“اس لیے تھوڑی بتایا تھا کہ تم مجھ سے سوری کہو۔ چلو یہ آئس کریم کھاؤ۔ تمہیں پشاوری آئسکریم پسند ہے اور اسی لیے میں تمہارے لیے خاص بنوا کر لایا ہوں۔” پیالہ اس کی جانب بڑھاتے ہوئے وہ اب سیاہ آسمان پر سفید چمکتے تارے دیکھ رہا تھا۔
“تم ایسے کیوں ہو میرویس۔” وہ ہمیشہ کی طرح اس پر نرم تھا۔ میرویس مسکرا دیا۔
“کیونکہ میں تمہارے لیے ہمیشہ سے ایسا ہی تھا۔ اب دیکھو ذرا اپنی حالت! لپ اسٹک مٹانے کے لیے تم نے کس قدر بے دردی سے ہونٹ رگڑے تھے کہ پورے چہرے پر پھیلی ہوئی ہے۔ زلفیں ادھر اُدھر لہرا رہی ہیں۔ کہنے کو تو میں تمہیں بے ڈھنگی بھی کہہ سکتا تھا مگر لگ تو مجھے تم اب بھی حسین رہی ہو۔” لہجہ شریر ہوا تو وہ ہنس دی۔
“میں نے تمہارے لیے جھمکے بھی پہنے تھے۔ چوڑیاں اور نیکلس بھی۔” وہ اب اسے محبت سے بتا رہی تھی۔
“کیا فرق پڑتا ہے۔ جتنا بھی خوبصورت لگ جاؤ’ دماغ میں تو بھوسا ہی بھرا رہے گا تمہارے۔۔” میرویس اب اسے کسی طور بخشنے والا نہیں تھا اور نہ عاشی اب اس کی بات پر ہنسی۔۔ برا سا منہ بنا کر قدرے زور سے گھورا تھا کہ وہ لب بھینچ کر مسکراتا رہ گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“اٹھ بھی جائیں ورنہ میں ڈرائیور کے ساتھ ہی مہندی والی کے پاس چلی جاؤں گی۔” وہ تیار تھی اور ساویز بستر پر اوندھا منہ لیٹے نیند میں اس کی باتیں سن رہا تھا۔
“صبح سات بجے ہی سویا ہوں یار۔۔ آج ذرا آفس بھی تاخیر سے جاؤں گا اور پھر بابا کو ہسپتال بھی لے کر جانا ہے۔” سر کے اوپر تکیہ رکھ کر وہ نیند سے بھرے لہجے میں بولا۔
“ہاں نیند زیادہ پیاری ہے۔” وہ خفا خفا سا دیکھتی ہوئی دوسری جانب بیٹھ گئی۔ شعر میں بھی ایک جوش تھا کہ ساویز اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔
“بہت شکوے ہیں تمہیں مجھ سے۔۔” چپل پیر میں پہنتا ہوا وہ وارڈروب سے کپڑے نکالنے لگا۔
“آپ کو پتا ہونا چاہئیے نا کہ آج مجھے مہندی والی کے پاس چھوڑنا ہے۔” ہلکا ہلکا غصہ۔
“مہندی والی کی مجھ سے زیادہ عزت ہے۔” بنھویں اچکاتا ہوا وہ شاید خود کو ہی سمجھا رہا تھا۔
“نیچے جا رہی ہوں میں۔۔” اسے نخرے دکھاتی ہوئی وہ بھی نیچے بڑھ گئی تھی اور ساویز بمشکل آنکھیں کھولتا رہ گیا تھا۔
تقریباً ایک گھنٹے میں ہی وہ مہندی والی کے پاس موجود تھی۔ ساویز نے کہا تھا کہ واپسی پر ڈرائیور اسے لینے آئے گا کیونکہ بابا کو چیک کروانے کے بعد وہ آفس جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ بھری بھری مہندی اسے ہمیشہ سے ہی بھاتی تھی۔ کام مکمل ہونے کے بعد اس نے مہندی کی تصویریں لے کر ساویز کو بھیجی تھیں جسے دیکھ کر وہ خوشی سے پھولے نہ سمایا تھا۔ ڈرائیور پہنچنے والا تھا جب دروازے پر بیل ہوئی۔
“غنایہ باجی آپ کی گاڑی آگئی۔” فرزانہ کی آواز نے اسے چونکایا۔ “اتنی جلدی۔۔ شکر ہے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔” بیگ اٹھاتے ہوئے اس نے مہندی کے پیسے اس کی جانب بڑھائے تھے جسے فرزانہ نے مسکراتے ہوئے تھامے تھے۔ “تمہارا بہت شکریہ۔ امید ہے ساویز دوبارہ مہندی کی خواہش کریں گے۔” شریر لہجے میں کہتی ہوئی وہ اسے گلے لگا کر باہر کی جانب بڑھ گئی۔ سفید گاڑی کے سیاہ شیشے تھے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر موجود شخص کو دیکھے بنا ہی وہ موبائل میں ریسیو ہوئے میسج میں مصروف گاڑی میں بیٹھی۔ گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے اس نے موبائل نیچے رکھا تھا جب اسے کچھ الگ سا احساس ہوا۔ کچھ تو الگ تھا۔۔ نگاہ تیزی سے آگے سیٹ پر گئی تو ششدر رہ گئی۔ خرم کے مسکراتے لب اس کا دل بند کرنے کے لیے کافی تھے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر حسن بیٹھا تھا۔۔ یہ گاڑی بلکل ساویز کی گاڑی جیسی تھی۔۔ ماڈل بھی وہی تھا۔ وہی سفید گاڑی اور ویسے ہی سیاہ شیشے۔۔ اسے بہت جلد ہی احساس ہوا کہ وہ بے دھیانی میں غلط گاڑی میں آبیٹھی تھی۔ ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر نیچے گرا تھا اور اس نے چیخنے کی بھر پور کوشش کی تھی مگر اس بار غنایہ کو استعمال کرنے والا وجاہت نہیں تھا جو اسے نقصان نہیں پہنچاتا تھا۔ خرم تھا جس کی نگاہوں میں حسد، جلن اور انتقام کی آگ تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“گاڑی روکو پلیز۔” وہ چیخی تھی۔
خرم نے ہنستے ہوئے غنایہ کو سر تا پیر دیکھا اور تیزی سے بازو پوری سختی سے پکڑ لیا۔
“ہاتھ چھوڑو میرا۔۔” وہ چیختے ہوئے رو پڑی۔ یہاں اس کے سارے حوصلے ختم ہوگئے تھے۔ نہیں جانتی تھی کہ اب کی بار وہ کس مقصد کے لیے لے کر جائی جا رہی تھی۔ غنایہ سوچ چکی تھی کہ اگر واقعی اسے وجاہت نے بلایا تھا تو اس کے پاس پہنچ کر وہ اس کا گریبان ضرور پکڑے گی۔ وہ کبھی غیر عورت پر بری نگاہ نہیں رکھتا تھا مگر اس کے آدمی۔۔ غلیظ اور کمینے تھے۔
“اب تم کہو گی اور میں چھوڑ دوں گا؟” وہ وہیں سے پچھلی سیٹ پر آبیٹھا۔ غنایہ کا دل مزید گھبرا گیا۔ اس کی نگاہیں غنایہ کو گھورنے لگی۔ گاڑی ہواؤں سے باتیں کر رہی تھی۔ اس چلتی تیز گاڑی میں وہ کچھ کر بھی نہیں پارہا تھا۔
“کیا کہتے ہو حسن؟ موقع بھی ہے۔۔ چھوڑو یہ پلان! ہم ساویز کی بیوی سے ہی سارے بدلے آج اتار لیتے ہیں۔” ان کی بیہودہ غلیظ گفتگو اسے مزید سہمانے لگی۔ اس نے گاڑی سے باہر کودنا چاہا مگر ہاتھ خرم کے ہاتھوں میں تھا۔
“تو موڑ لوں گاڑی کہیں اور؟” آواز حسن کی تھی۔ غنایہ کی ہچکیاں بلند ہوتی جا رہی تھیں۔
“ساویز کبھی نہیں چھوڑیں گے تم لوگوں کو۔۔” وہ چیخی تو خرم بے ساختہ مسکرایا۔
“گھر سے نکلنے سے پہلے شوہر کو ایک آخری نظر دیکھ لیا ہوتا۔ چلو خیر ہے۔ اب دیکھ لینا’ آئے گا وہ تمہیں بچانے مگر یہ ملاقات تم دونوں کی آخری ہوگی۔ اسے مار کر جو تسلی مجھے پہلے ہی لے لینی چاہئیے تھی’ وہ آج مل جائے گی۔” خرم نے کھینچ کر اسے اپنی جانب کیا۔ “کیا ہو اگر اس کے بعد ہم تمہیں رکھ لیں۔” اس کی سرگوشی غنایہ کے کان سن کر گئی۔ وہ ساکت کسی مجسمے کی طرح بیٹھی رہی۔ اس نے ایک نظر کھلے کھڑکی سے باہر دیکھا اور ہلکا سا دروازہ کھولنے کی کوشش کی۔ وہ لاک نہیں تھا۔ اس کے پاس دو راستے تھے۔ یا تو گاڑی سے کود جائے یا انہیں اپنے عزت کے ساتھ کھیلنے دے۔۔ نہیں کبھی نہیں۔ وہ لرز اٹھی۔ اس کی عزت سب سے بڑھ کر تھی۔ منٹوں کا فیصلہ اس نے لمحے بھر میں کیا تھا۔ عزت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں۔۔ خرم حسن سے بات کر رہا تھا جب وہ اپنی کلائی کی جانب جھکی اور اس کے ہاتھ پر پوری قوت اپنے دانتوں کے نشان چھوڑ دیے۔ وہ تڑپ کر اپنے ہاتھ کو دیکھنے لپکا جہاں سے آہستہ آہستہ خون نکلتا نظر آرہا تھا۔ بس وہی موقع تھا جب غنایہ نے دروازے سے باہر کی راہ لی تھی۔
اگلا لمحہ اس سے زیادہ بھیانک تھا۔ حسن نے جھٹکے سے گاڑی روکی تھی۔ گاڑی کی جس رفتار سے وہ باہر گری تھی یہ سوچ کر ہی دونوں کے چہرے پر گھبراہٹ طاری ہوگئی۔
“تجھ سے کیسے اتنی بڑی غلطی ہوسکتی ہے؟ دروازوں کو لاک کیوں نہیں لگایا!” خرم نے تقریباً دانت پیس کر حسن کو دیکھا تھا۔
یہ کیا ہوگیا تھا۔ تیزی سے گاڑی سے نکلتے ہوئے زمین پر دور اوندھا منہ گری غنایہ کو دیکھ کر دونوں کی سٹی گم ہوئی تھی۔ وہ دوڑتے ہوئے اس کے نزدیک پہنچ رہے تھے۔ زمین پر پھیلتا خون دیکھ کر وہ مزید ڈر گئے۔ اکا دکا لوگ ایکسیڈنٹ سمجھ کر بے ہوش ہوئی غنایہ کی جانب دوڑے تھے اور تب حسن، خرم کو احساس ہوا کہ یہاں ٹھہرنا مزید درست نہیں۔ دوبارہ گاڑی میں بیٹھ کر وہ تیزی سے فرار ہوگئے۔ یہ غلطی ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
“یی۔یہ کیا ہوگیا۔” حسن مستقبل کا سوچتے ہوئے سہم کر بولا۔ “تم نے کیا کیا خرم۔۔ ایک لڑکی کو قابو بھی کر سکے۔اب سب کو پتا چل جائے گا اور ہم مارے جائیں گے۔” وہ سہما ہوا تھا۔ گھبرایا ہوا تو خرم بھی تھا۔ گویا سکتہ طاری ہوگیا ہو۔ “کوئی دوسرا راستہ؟؟؟” وہ چیخا تو خرم چونک اٹھا۔
“کوئی راستہ نہیں ہے اب۔۔” یہ جملہ زیادہ اذیت بھرا محسوس ہوا تھا۔ چہرہ سفید پڑ گیا۔ وجاہت کے نمبر پر کال آرہی تھی اور خرم کو لگ رہا تھا کہ اس کا انجام قریب ہے۔
“ہیلو؟” اس نے کال اٹھائی۔
“جی باس۔ ہاں اماں کا چیک اپ کروادیا ہے۔ بس تھوڑی دیر میں آپ کے پاس پہنچتا ہوں۔” اس نے کال رکھ کر سر ہاتھوں میں دے دیا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
قیامت خیز وہ لمحہ تھا جب اس کو وہ خبر پہنچی۔ آپریشن تھیٹر کے روم کے باہر بیٹھ کر وہ ساکت نظروں سے سامنے دیکھ رہا تھا۔ بے یقین لمحے۔۔ آنکھیں خشک تھیں جیسے آنسو بہنا نہ چاہتے ہوں۔ اس کا آپریشن اسٹارٹ ہوچکا تھا اور ڈاکٹر کے مطابق اس کی حالت تشویش ناک تھی۔ یکدم ہی کوریڈور میں میرویس اور عشنا تقریبا بھاگتے ہوئے پہنچے تھے۔ اسے گم صم، ہونق بیٹھے دیکھ کر میرویس کا کچھ بھی کہنا مشکل ہونے لگا۔
“ساویز۔” میر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو ساویز نے چونک کر اسے دیکھا۔ اس کی موجودگی محسوس کرتا ہوا وہ اٹھ کر کھڑا ہوا تھا جب میر نے اسے گلے سے لگایا۔
“سب ٹھیک ہو جائے گا۔” اس کی بھاری سرگوشی ساویز کو بہت قریب سے محسوس ہوئی تھی۔ عشنا کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔
“مجھے جانا ہے۔” وہ دور ہٹ کر باہر کی جانب بڑھا۔
‘کہاں؟ میں بھی ساتھ چلوں گا۔” میر اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ ساویز کے قدم ٹھہر سے گئے۔ اس نے مڑ کر میر کو دیکھا۔
“میں بس ایک کام کر کے آرہا ہوں۔ میرے پیچھے مت آنا میرویس ورنہ میں اپنی گاڑی کسی کھائی میں اتار دوں گا۔” آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ میرویس ٹھٹھکا۔ وہ باہر کی جانب بڑھ چکا تھا۔۔ جانے اس کے کیا ارادے تھے۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“گاڑی میں بیٹھو۔” سیاہ جیکٹ میں ملبوس اس کا سر بھی ٹوپی سے ڈھکا ہوا تھا۔ پریزے بچوں کو پڑھا کر اسکول سے لوٹ رہی تھی جب اس اجنبی کی آواز پر سہم کر دور ہٹی۔
“تم کون ہو؟” اس کے سوال پر اس شخص نے جھکا چہرہ اٹھا کر اسے خود کو دیکھنے کا موقع دیا۔ نگاہیں آپس میں ملیں تو وہ بری طرح چونکی۔
“تم؟”
“گاڑی میں بیٹھو پریزے! میں تمہارا ہاتھ پکڑ کر گاڑی میں نہیں بٹھانا چاہتا۔ میں نے کبھی غیر عورت کو نہیں چھوا۔” اس کی گھمبیر آواز پر وہ نارمل ہوئی تھی۔ اسے اس پر اتنا تو اعتماد کہ وہ کبھی اس کے ساتھ برا برتاؤ نہیں رکھ سکتا تھا۔ ہاتھوں میں پکڑی چند کتابیں اس نے اپنے بیگ میں رکھی تھیں اور گاڑی میں بیٹھنے بڑھ گئی تھی۔ اس شخص نے ایک نظر اسے دیکھ کر دروازہ بند کیا تھا اور ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا تھا۔
“کہاں لے کر جا رہے ہو؟” کچھ گھبراہٹ ابھی بھی تھی۔
“بہت دور۔” بے تاثر چہرہ۔۔ سرخ ہوتی آنکھیں پریزے کو گھبراہٹ میں مبتلا کرنے کے لیے کافی تھیں۔ گاڑی منزل کی جانب رواں دواں تھیں مگر پریزے کا دل اب بھی بے سکون تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
جانے کتنی دیر بیت گئی تھی جب ڈاکٹرز آپریشن ہوجانے پر روم سے باہر آئے تھے۔ ابرار، عفت بھی یہیں موجود تھے۔ تقی یوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے گھر نہیں بیٹھ سکتے تھے اس لیے وہ بھی آچکے تھے۔
“پیشنٹ کے شوہر کہاں ہیں؟” انہوں نے ساویز کو ادھر اُدھر کھونا مگر وہ آس پاس کہیں نہیں تھا۔
“وہ کسی کام سے باہر گئے ہیں۔ آپ ہمیں بتائیں کیسا گیا آپریشن اور غنایہ کیسی ہے؟” میرویس کو بات کرتا دیکھ کر عاشی بھی اس کے پاس آکھڑی ہوئی تھی۔
“گاڑی سے گرنے کی وجہ سے ان کی حالت کافی خراب تھی مگر اب وہ پہلے سے بہتر ہیں۔ امید ہے جلد ہوش آجائے گا۔ مگر اس حادثے میں ان کا بچہ نہیں بچ سکا۔” یہ الفاظ جہاں آغاز میں سکون طاری کر گئے تھے وہیں سب کے حواس بوکھلا گئے۔ اس نے ایک نظر عشنا کو دیکھا جو ایک بار پھر سے رو پڑی تھی۔
“بتانے کے لیے شکریہ ڈاکٹر۔” وہ ساویز کا سوچنے لگا جو اس نئی خوشی پر کتنا خوش تھا۔
“آپ پیشنٹ کے شوہر کو اس خبر کی اطلاع دے دیں۔ جب وہ لوٹیں تو انہیں ہمارے بھیج دے گا۔” ڈاکٹر جا چکا تھا اور ماحول میں ایک سکتی طاری ہوگیا تھا۔ عفت نے تکلیف سے آنکھیں موند لی تھیں اور تقی کی آنکھیں نم ہوگئی تھی۔ گھر میں آتی خوشی نے رخ موڑ لیا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
