Tu Dil Se Na Utar Saka By Ayna Baig Readelle50173 Episode 7 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 7 Part 2
تو دل سے نہ اتر سکا از عینا بیگ
ساتویں قسط (دوسرا پارٹ)
پوری محفل میں ایک بار بھی ساویز نے غنایہ کو خود سے نہیں پکارا تھا۔ نہ بلا ضرورت اس کو اپنی آنکھوں کا مرکز بنایا۔ یہی بات غنایہ کو تکلیف دے رہی تھی۔ عجیب بات تھی۔۔ پہلے جب وہ یوں پکارا اور دیکھا کرتا تھا تو غنایہ کو کچھ محسوس نہیں ہوتا تھا مگر اب وہ ایک ایک بات محسوس کر رہی تھی۔ کھانے کا دور ختم ہوچکا تھا۔ ملازمہ برتن سمیٹ رہی تھی اور عشنا غنایہ سے گفتگو کر رہی تھی جب روما نے غنایہ کی جانب انگھوٹی بڑھائی۔
“ساویز بھائی نے بھیجی ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ آپ اپنی انگھوٹی لان میں ہی بھول آئیں۔” کہتے ہوئے وہ پلٹتی ہی کہ عشنا نے اسے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ دیا۔ غنایہ نے اس انگھوٹی کو بغور دیکھا تھا۔ وہ خود بھی تو دے سکتا تھا۔۔
“میں بیٹھ جاؤں؟۔” اس نے حیرانی سے پوچھا۔
“ہاں روما کیوں نہیں۔۔ تم بھی بیٹھ سکتی ہو۔” میز کی کرسی کھینچ کر اس نے بیٹھنے کا اشارہ دیا۔ وہ مسکرائی اور پھر کرسی پر بیٹھ گئی۔
“آپ میرو کی یونیورسٹی میں پڑھتی تھیں؟۔” روما نے جب سے اسے دیکھا تھا، اس کے بارے میں جاننے کی چاہ بڑھ گئی تھی۔۔ کہ آخر یہ میرو کی کون ہے اور وہ اس کے بھائی کو کیسے جانتی ہے۔
“ہاں میں اس کی جونئیر تھی۔ ہم دونوں اچھے دوست تھے۔” لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“پھر آپ اس کی منگنی پر کیوں نہیں آئی تھیں؟۔” اسے عجیب لگا۔۔ بھلا دوست بھی تھی اور میرو کے بڑے دن پر بھی نہیں آئی تھی۔ روما کا کہنا تھا کہ اس کی آنکھیں پھیلیں۔ اسے لگا سننے میں غلطی ہوگئی۔
“منگنی؟۔” لہجہ الجھا ہوا تھا۔
“ہاں! میرو کے تو سب دوست آئے تھے۔ میں نے آپ کو نہیں دیکھا تھا۔”
اس نے آنکھیں اس بار تقریباً پھاڑی تھیں۔ تو وہ منگنی شدہ تھا۔ مڑ کر ایک نظر میرویس کو دیکھا جو باہر لان میں ساویز کے ساتھ بیٹھا تھا۔ یعنی غلط بیانی کی گئی تھی! عشنا کو میر کے الفاظ یاد آئے۔
‘میرویس اپنی پسند تبدیل نہیں کرتا۔’ اس کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔ کتنی صفائی سے جھوٹ کہا گیا تھا۔ گھڑی میں گیارہ بجتے دیکھا تو اپنا پرس اٹھاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ روما کے رخسار پر پیار کرتے ہوئے وہ لمحے بھر کو مسکرائی تھی۔
“میں چلتی ہوں غنایہ۔۔ پھر کل آفس بھی جانا ہے۔” گلے لگتے ہوئے اس نے ڈھیروں دعائیں دی تھیں۔
“ٹھیک ہے۔ میں باہر تک چھوڑ دیتی ہوں۔”
“نہیں اس کی ضرورت نہیں۔۔ تمہیں بھی کل یونیورسٹی جانا ہے تو اب تم بھی آرام کرو۔” روما کے منہ سے یہ بات جاننے کے بعد وہ مزید ٹھہرنا نہیں چاہتی تھی۔ لاونج سے ابھی نکل ہی رہی تھی جب ساویز اندر داخل ہوا۔
“اس دعوت کا شکریہ ساویز۔۔!۔” وہ ٹھہری۔۔
“ان شاء اللہ جلد دوبارہ ملاقات ہوگی۔” ساویز کی آواز پر وہ مروتاً مسکرائی۔
“ان شاء اللہ۔۔” خدا حافظ کہتے ہوئے وہ باہر نکلی جہاں لان میں میز کے ساتھ کرسی لگائے بیٹھا میر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ نجانے وہ یہ کیوں سوچ رہا تھا کہ اس سے بات کرنے کے لیے بھی عشنا ٹھہرے گی۔۔ مگر عشنا نے اسے دیکھنا بھی گوارا نہیں سمجھا تھا۔ وہ ابھی لان پار کر رہی تھی جب میرویس کی آواز کانوں سے ٹکرائی۔
“تم مجھے بھی خدا حافظ کہہ سکتی ہو۔” کہتے ساتھ دونوں پاؤں اس نے میز پر رکھے۔ ہاتھ میں موجود لائٹر جل بجھا رہا تھا۔
“کیوں کہوں میں تم سے کچھ؟۔” سپاٹ سنجیدہ لہجہ۔۔ وہ بوکھلایا تھا۔ ایک آئبرو آچکا کر اس نے عشنا کو دیکھا۔
“کیا ہوا ہے؟۔”
“مجھ سے پوچھ رہے ہو کیا ہوا ہے؟ میں نہیں بدلی مگر تم بہت بدل گئے میرویس! اب جھوٹ بھی کہنے لگے ہو۔” تڑخ کر کہتے ہوئے وہ تیزی سے باہر نکل گئی جبکہ وہ بھونچکا رہ گیا۔ ایک نظر آئبرو اچکاتے ہوئے اس جگہ کو دیکھا جہاں سے گیراج کی جانب بڑھی تھی۔ ابھی کچھ سوچتا ہی کہ روما کی آواز پر چونکا۔
“ہم گھر کب جائیں گے میرو؟ بہت رات ہوگئی ہے اور کل میرا اسپورٹس ڈے بھی ہے۔ تمہیں یاد ہے نا کہ کل تمہیں آنا ہے؟۔” وہ اس کے نزدیک آتے ہوئے بولی۔۔
“تم نے عشنا سے کچھ کہا ہے؟۔” یہ روما ہی ہوسکتی تھی جو بنا سوچے سمجھے بول دیا کرتی تھی۔
“میں نے ان سے زیادہ کچھ نہیں کہا۔۔ کیا ہوا ہے؟۔” وہ ناسمجھی میں بولی۔
“کچھ نہیں ہوا بس سرسری پوچھ رہا ہوں۔۔ کیا بات ہوئی ہے؟۔” لان میں وہ دونوں اکیلے تھے۔
“انہوں نے کہا کہ وہ تمہاری دوست ہیں۔۔ اس لیے میں نے پوچھ لیا کہ وہ پھر تمہاری منگنی میں کیوں نہیں آئی تھیں۔” اس کا کہنا تھا کہ میرویس نے لب بھینچ لیے۔
“اس نے کیا جواب دیا؟۔” یہ جاننا زیادہ ضروری تھا۔
“کچھ بھی نہیں۔۔ بلکہ مجھے پیار کر کے جانے کے لیے اٹھ گئیں۔” اس نے کندھے اچکائے جبکہ میرویس بات کی تہہ تک پہنچ چکا تھا۔
“میں کیا ہی کروں تمہارا روما!۔” اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے وہ بیچارگی سے نفی میں سر ہلانے لگا۔ “ہر بات ہر کسی کے آگے نہیں بولا کرتے!۔” اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتا ہوا وہ محبت سے سمجھا رہا تھا۔
“کیا مجھ سے غلطی ہوگئی؟۔” اسے احساس ہوا۔۔
“کوئی بات نہیں!۔” رخسار پر چومتے ہوئے وہ اس کی ٹھوڑی پکڑتا ہوا بولا۔ “تم پر سب معاف ہے۔” میر کی مسکراہٹ ابھری تھی اور روما کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
وہ بستر پر سونے کے لیے بیٹھی ساویز کا کمرے میں انتظار کر رہی تھی۔ اس کا عشنا سے کہے وہ جملے دل چیر رہے تھے۔ صوفے پر ساویز کا تکیہ رکھا تھا اور ایک چادر جو غنایہ نے الماری سے نکال کر رکھ دی تھی۔ دل عجیب سا بوجھل ہو رہا تھا۔ شرمندگی اندر سے مار رہی تھی۔ اس نے بستر کی دوسری طرف خالی جگہ دیکھی۔ ایک کامیاب مضبوط مرد صرف ایک عورت کی محبت میں اپنا آرام و سکون بھی بھول گیا تھا۔ دل رو رہا تھا۔۔ کاش کہ وہ یہ سب پہلے سمجھ لیتی۔۔ مگر ایک ٹھوکر ہی انسان کو سب سمجھا دیتی ہے۔ اس کے سخت الفاظ ساویز نے کس دل سے سنے ہوں گے۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے ساویز کو اندر داخل ہوتے دیکھا۔ وہ ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے دروازہ بند کرنے لگا۔ اسے حیرانی تھی کہ غنایہ اب تک سوئی نہیں تھی۔ بنا کچھ کہے وہ وارڈروب سے کپڑے نکال کر تبدیل کر آیا۔ غنایہ اب بھی اسے دیکھ رہی تھی۔
“میں صوفے پر سو جاؤں؟۔” اس نے جان کر پہل کی۔ اس کی بات پر وہ چونکا اور آئینے کے عکس میں اسے دیکھنے لگا۔
“تاکہ میں زمین پر سوجاؤں؟۔” ایک آئبرو آچکا کر کہا گیا۔
“نہیں۔۔” نجانے وہ کیا سمجھ رہا تھا۔ “بستر پر سوجائیں۔” کاش وہ اس کی بات مان لے۔۔ کاش کہ وہ پہلے جیسا ہوجائے۔ اپنا لیپ ٹاپ میز سے اٹھا کر وہ اسے دیکھتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا۔ غنایہ کو اس کی نظریں مزید پچھتاوے میں گھیر گئیں۔ اس کی بات کا جواب دیے بغیر وہ لیپ ٹاپ پر مصروف ہوچکا تھا۔
آنکھیں نم ہونے لگیں تو وہ سسکتی ہوئی جھٹکے سے تکیے پر سر رکھتی آنکھیں موند گئی۔ سردی کا احساس ماحول میں آج پچھلے دن سے بڑھ کر تھا۔ ہاتھ پاؤں برف پڑنے لگے مگر اس نے چادر اوڑھنا ضروری نہ سمجھا۔ ساویز نے لیپ ٹاپ سے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ سسکنے کی آواز وہ پہلے ہی سن چکا تھا۔ پندرہ منٹ بعد جب تک وہ سو نہ گئی، لیپ ٹاپ برابر رکھتے ہوئے وہ اٹھ کر اس کی جانب بڑھا۔ چادر اسے اوڑھاتے ہوئے وہ اس کی جانب جھکا تھا۔ آنکھیں بند تھیں جس کی وجہ سے اس کی پلکیں واضح نظر آرہی تھیں۔ رخسار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے نمی کا احساس ہوا تو وہ بھاری ہوتے دل سے سانس خارج کر گیا۔ دراز سے گجرے نکالتے ہوئے وہ اس کی جانب کچھ جھک کر پاؤں کے بل بیٹھا اور اسے دیکھنے لگا۔
“تم کہتی ہو تمہیں محبت کا علم نہیں۔۔ پھر مجھے کیسے ہونے لگی ہے تم سے محبت؟ پہلی محبت۔۔” دھیمی بھاری آواز میں کہتے ہوئے وہ اس کی پلکوں کو دیکھ رہا تھا۔ کھڑکی سے آتی ہوا میں خاصا زور تھا۔۔ اس کے چہرے کو چھوتی ہوئی وہ اس کے بالوں کو بار بار چہرے پر لانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ساویز نے ہاتھ میں موجود مہکتے گجرے دیکھے جو اب بھی تازہ تھے۔ انہیں کھولتے ہوئے اس نے دھیرے سے غنایہ کی دونوں کلائیوں میں پہنائے اور گلاب کی خوشبو کو سونگھنے لگا۔ ہاں وہ الفاظ ساویز کے لیے بے حد تکلیف دہ تھے مگر وہ اپنی تکلیف میں اس کا خیال نہیں بھولا تھا۔
“مجھے تم پسند ہو غنایہ۔۔” پیشانی سے اس کے بال پیچھے کرتا ہوا وہ اسے بے حد انہماک سے دیکھ رہا تھا۔ “تم سے شادی کا صحیح فیصلہ تھا یا غلط۔۔ مگر میں اب تمہارے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں! اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔” کلائی تھام کر اسے چومتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ سانسیں تھم سی رہی تھیں مگر اب وہ اسے زندگی بھر کے لیے چاہئیے تھی۔ چنبیلی اور گلاب کی مہک ماحول کو اپنا اسیر بنانے لگی۔ اسے جو کہنا تھا، وہ کہہ چکا تھا۔ ہاں جذبات اظہار مانگتے ہیں مگر غنایہ زندگی کے جس موڑ پر کھڑی تھی، وہ شاید ان جذبات کا احترام نہ کرسکے۔ حلق کی گلٹی نمودار ہوکر غائب ہوئی تھی اور وہ اسے دیکھتے ہوئے مڑ گیا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
اس کے موبائل پر الارم بجا ہی تھا کہ وہ اس کی تیز آواز سے آنکھیں کھول کر الارم بند کرنے لگی۔ ابھی وہ لیٹے ہی موبائل میں وقت دیکھ کر اسکرین بند ہی کر رہی تھی جب اپنی کلائی پر نگاہ پڑی۔ اس کے الارم پر سنگھار میز کے آگے تیار ہوتے ساویز نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔ بھلا اسے کیا ضرورت پڑی تھی الارم لگا کر جلدی اٹھ جائے۔
اپنی دونوں کلائیوں پر نگاہ ڈالتے ہوئے وہ تقریباً حیرانی سے آنکھیں پھاڑتے ہوئے اٹھ کر بیٹھی تھی۔ بوکھلائی، الجھی الجھی۔۔ ساویز ایک نظر آئینے کے عکس میں اسے دیکھتا ہوا اپنی تیاری میں مصروف ہوگیا۔
“یہ گجرے۔۔؟۔” بے حد الجھا ہوا معصوم لہجہ۔
“کون سے؟۔” اس نے بظاہر چونکنے کی اداکاری کی۔ غنایہ نے دونوں کلائیاں اس کے آگے پھیلائیں۔ ساویز دیکھتا ہوا لب بھینچ کر آئینے کی طرف مڑ گیا۔
“احسان صاحب آئے ہوں گے باہر سے۔۔ پہنا کر چلے گئے۔” کیا میٹھا طنز تھا۔ غنایہ کے چہرے کی رنگت سفید پڑی۔ کون احسان صاحب؟.
“احسان صاحب؟۔” کچھ سہم کر پوچھا۔
“وہی جنہوں نے تم پر احسان کیا اور تم سے شادی کی۔۔” اس نے بات جس طرح گھوم پھر کر مکمل کی تھی، غنایہ کو سمجھنے میں وقت لگا تھا۔ جیسے ہی ذہن پر زور دیا تو اس کی بات کا مطلب سمجھ آیا۔ وہ اب پہلے سے زیادہ حیران ہوئی تھی۔
“آپ نے پہنائے ہیں؟؟۔” دل میں ایک عجیب سی ہلچل مچی۔۔ آج کا دن کل سے کچھ مختلف تھا۔
“مجھے اپنا نام ‘احسان’ رکھ لینا چاہئیے۔۔ اچھا ہے تاکہ جب جب تم پکارو مجھے یاد رہے کہ میں نے تم پر احسان کیا ہے۔” آج تو وہ کچھ بدلا ہوا ہی نظر آتا تھا۔۔ طنز کے بعد طنز۔۔ وہ بوکھلا سی گئی مگر اب کی بار اس کی باتیں غنایہ کا دل بوجھل نہیں کر گئی تھیں۔ اسے اچھا لگا ساویز کا یوں سب کہنا۔۔ نگاہ دوبارہ ان گجروں پر اٹک گئیں۔ پھول سوکھ کر روکھے ہوگئے تھے مگر ان کی خوشبو وہ اب بھی محسوس کر سکتی تھی۔ یہ گجرے ساویز نے اسے رات میں پہنائے ہوں گے۔۔ یہ سوچ کر ہی لبوں پر مسکراہٹ پھیلنے لگی۔ نجانے کیوں مگر اس بار وہ بلکل نہیں گھبرائی تھی۔ یہ سب یکدم ہی اچھا لگنے لگا۔۔ وہ رات ایسی کیا تبدیلی لائی تھی کہ آج وہ اس پھول اور پھول پہنانے والے کو بہت شوق سے دیکھ رہی تھی۔
“تھینک یو۔” مسکراہٹ چھپاتے ہوئے اس نے ساویز کو دیکھا۔
“تمہیں ایک اور جملے کا اضافہ کرنا چاہئیے۔” وہ جانے کے لیے تیار تھا۔
“جی؟ کون سا؟۔” غنایہ سوچ میں پڑ گئی۔
“میں ساویز کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی۔” عام سے لہجے میں ایک اور میٹھا طنز۔۔ اس نے لب بھینچ لیے۔
“کل والی بات پر آپ بہت زیادہ خفا ہیں۔” پوچھا جا رہا تھا یا بتایا جا رہا تھا۔ ساویز نے چاہ کر بھی کچھ نہ کہا۔ گاڑی کی چابی اٹھا کر ایک نظر اس کی جانب دیکھا۔
“میں جا رہا ہوں۔” وہ رکے بغیر باہر نکل گیا اور غنایہ لب کاٹتے ہوئے رہ گئی۔ ساویز کے جانے کے بعد اسے یونیورسٹی جانے کا ہوش آیا۔ پیشانی پر ہاتھ مار کر اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ ساویز گاڑی سڑک پر نکال چکا تھا۔۔ وہ اس سے باتوں کے درمیان کیسے بھول سکتی تھی کہ ساویز ہی تو اسے یونیورسٹی چھوڑنے والا تھا۔ خود پر افسوس کرتے ہوئے وہ واش روم کی جانب بڑھ گئی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
روما اسکول میں تھی اور اب گیارہ بجے وہ وعدے کے مطابق ڈرائیو کرتے ہوئے اس کے اسکول جا رہا تھا۔ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے زیادہ تھا جبکہ دھوپ آج نہ ہونے کے برابر تھی۔ عشنا کا گھر روما کے اسکول کے راستے میں پڑتا تھا۔ سامنے سے گزرتے ہوئے اس نے ایک نگاہ عشنا کے گھر پر ماری تھی۔ مسکرا کر سر جھٹکتے ہوئے اس نے اپنی گاڑی کی رفتار دھیرے کی۔۔ وہ اس کے گھر سے پانچ منٹ آگے نکل چکا تھا جب اس نے سڑک کنارے کچھ ہلکے آسمانی رنگ کی وہ گاڑی دیکھی جس کی چھت پر دونوں بازو ٹکائے عشنا منہ لٹکائے کھڑی تھی۔ میرویس کو قدرے حیرانی ہوئی۔ اس کے قریب پہنچ کر اس نے بریک لگائے۔
“لگتا ہے تمہاری ڈارلا کو زکام ہوگیا ہے۔” لبوں پر شریر سی مسکراہٹ تھی۔۔ وہی مسکراہٹ جو عشنا کو دیکھ کر لبوں پر آجاتی تھی۔ عشنا نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا۔ وہ اپنی سیاہ گاڑی درمیان سڑک میں روکے اس سے بات کر رہا تھا۔۔یکدم عشنا کو خوشی محسوس ہوئی مگر اگلے پل اسے رات ہوا واقعی یاد آگیا۔ “میں کیسے مدد کرسکتا ہوں؟۔” آنکھوں سے سیاہ چشمے ہٹا کر اس کے تاثرات کا معائنہ کیا۔
“میری ڈارلا۔۔۔” دل دکھی ہوگیا۔
“انتقال؟۔” افسوس بھرا لہجہ۔۔
“نہیں میرویس۔۔ مجھے لگتا ہے اس کا انجن گڑبڑ کر گیا ہے۔ دھواں اٹھ رہا تھا۔” اب وہ آفس کیسے جائے گی؟ یہ سوچ سوچ کر اسے مزید رونا آنے لگا۔۔ وہ کھڑوس مینجر یقیناً اب اسے نوکری سے نکلوادے گا۔ “کیا تم آگے سے مکینک میری طرف بھیج سکتے ہو؟۔”
“اس کا مکینک لینے مجھے انیسویں صدی جانا ہوگا۔ کیا ہے کہ اب اس کھٹارا کو ٹھیک کرنے والے پیدا نہیں ہوتے۔”
عشنا نے اس کی جانب سے منہ پھیر لیا۔
“تم سے بات کرنا بیکار ہے! اب میں آفس کیسے جاؤں گی۔۔” اس کا چہرہ رونے والا ہوگیا۔ میرویس نے معائنہ کیا۔
“کانفیڈنٹ لڑکی رو رہی ہے؟۔” لہجہ مزید شریر ہوگیا۔
“تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟۔”
“نہیں میں کہہ رہا کہہ رہا ہوں کہ میں گاڑی میں آجاؤ۔ میں چھوڑ دیتا ہوں۔”
وہ چونکی۔
“مگر ڈارلا؟۔”
“انجن کا مسلہ ہے اور اتنی جلدی نہیں سلجھے گا۔ آجاؤ۔” اس نے آفر دی۔ عشنا کو کل رات والی بات بھولی نہیں تھی مگر اس کا آفس جانا بھی ضروری تھا۔
“ٹھیک ہے۔” اپنا پرس اور فائلز گاڑی سے سمیٹتے ہوئے وہ میرویس کی سیاہ گاڑی کی جانب بڑھی۔ فائلز میرویس نے کھڑکی سے ہی لے کر پیچھے سیٹ رکھ دی تھیں۔ وہ گھوم کر دوسری طرف آبیٹھی۔ خود سے وعدہ کیا ہے کہ پورے راستے میرویس سے کوئی بات نہیں کرے گی۔ گاڑی ایک بار پھر سے آگے بڑھنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد گاڑی ایک بڑے اسکول روکی گئی جسے دیکھ کر اس نے میر کے سامنے, بھنویں اچکائیں۔
“میرا آفس؟۔” اسے میرویس کے ارادوں کا علم نہیں تھا۔
“ہاں وہاں بھی جائیں گے مگر ایک گھنٹے بعد۔۔” گاڑی کا لاک کھولتے ہوئے وہ باہر نکلا۔ عشنا ششدر ہوئی۔
“کیا مطلب تمہاری بات کا؟۔”
“روما کا اسپورٹس ڈے ہے۔ ایک گھنٹے میں ہم لوٹ آئیں گے۔” وہ گھوم کر اس کی جانب آیا اور دروازہ کھول کر باہر آنے کا اشارہ کرنے لگا۔
“مگر میں کیوں؟۔” وہ اب تک حیران تھی۔
“کیونکہ تم میرے ساتھ ہو۔۔”
کیا شخص تھا! عشنا کا دل چاہا اس کی گردن مڑوڑدے۔
“کاش میں تمہاری گاڑی میں بیٹھتی ہی نہیں!!۔” دانت کچکچا کر کہتی ہوئی وہ پرس جھٹکتے ہوئے باہر نکلی۔
گاڑی لاک کرتے ہوئے اس نے ایک نظر عشنا کو دیکھا تھا۔ یہ شہر کا نامور بڑا اسکول تھا۔ دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے وہ دونوں ٹیچرز کے سمجھانے پر بلآخر اس جگہ پہنچ ہی گئے جہاں اسپورٹس کا انتظام کیا گیا تھا۔ پیرنٹس اور بچوں کے گھر والوں کے لیے ایک اچھا بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ لوگوں کے ہجوم میں کھو جانے کے ڈر سے اسے میرویس کے بازو کی طرف سے اس کا کوٹ پکڑنا پڑا۔
پندرہ منٹ میں کھیل کا آغاز کیا جانے والا تھا۔ وہ دونوں اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ چکے تھے۔ صوفیہ کی کال آنے پر عشنا نے اسے اپنے لیٹ آنے کا بتایا۔ اب وہ پہلے سے مطمئن تھی۔
“کل رات تم نے ایسا کیوں کہا کہ میں جھوٹ کہنے لگا ہوں؟۔” عشنا کو اس کا یہ سوال یکدم محسوس ہوا۔
“تم منگنی شدہ ہو! حالانکہ کل تمہاری باتیں کسی اور طرف اشارہ کر رہی تھیں۔” سپاٹ لہجہ۔۔
“اور یہ بات تمہیں کس نے بتائی؟۔”
“میں تمہیں کیوں بتاؤں؟ اگر میں نے بتایا تو یقینا اسے بہت ڈانٹو گے اور میں یہی نہیں چاہتی!۔”
“پہلی بات میں کسی کے لیے اپنی بہن کو ڈانٹتا نہیں۔۔ حتی کہ اپنے لیے بھی نہیں!۔” اس کی بات کی تصحیح کرتے ہوئے وہ بنھویں آچکا کر بولا۔
عشنا کو حیرانی ہوئی۔ وہ جانتا تھا کہ روما نے اسے بتایا تھا۔
“بہرحال مجھے تم سے اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنی۔” اس نے نگاہیں سامنے کرلیں۔
“مگر میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔”
عشنا نے گہری سانس بھری۔
“کہو تمہیں کیا کہنا ہے؟۔”
“اگر یہ سب اس سے سنا ہی تھا تو یہ بھی سن لیتی کہ منگنی ٹوٹ چکی تھی۔ شاید دس دن میں ہی۔۔”
یہ بات جہاں عشنا کو حیران کر گئی تھی وہیں دوسری طرف وہ کچھ مطمئن ہوگئی۔
“میں تم سے یہ نہیں کہوں گی کہ تم نے مجھ سے کیوں چھپایا کیونکہ ہم کچھ بھی نہیں ہیں۔۔ اور یوں پوچھنا بھی عجیب ہے۔” حالانکہ عشنا کے دماغ میں ایک اور سوال گھوم رہا تھا۔ ‘منگنی ٹوٹنے کی وجہ؟۔’
“میرے لیے وہ ایک اہم موضوع نہیں جس کا ذکر میں سب سے کروں۔ اب بھی اسی جملے پر قائم ہوں کہ میرویس اپنی پسند بدلا نہیں کرتا۔” ایک گہری سپاٹ نگاہ اس پر ڈال کر وہ سامنے دیکھتے ہوئے بیٹھ گیا۔ عشنا نے کچھ کہنا درست نہ سمجھا تو خاموش رہی۔ پندرہ منٹ میں کھیل کا آغاز ہوچکا تھا۔ اسٹوڈنٹس قطار بناتے ہوئے باہر آنے لگے تو عشنا ان میں روما کو ڈھونڈنے لگی۔۔
۔۔۔★★★۔۔۔
وہ زینے اترتے ہوئے نیچے لاونج میں پہنچی تھی جب اسے ملازمہ خالہ سبزی کاٹتے ہوئے نظر آئیں۔
“کیسی ہیں آپ؟۔” ان گجروں کی خوشبو اس کا موڈ بحال کر گئی تھی۔ خالہ نے کافی حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھا۔ آج سے قبل اس نے کبھی یوں نہیں پوچھا تھا۔
“میں ٹھیک ہو بیٹا۔” خوشگواری سے جواب دیا۔
“آپ کیا بنا رہی ہیں؟۔” وہ شاید بھنڈی کاٹ رہی تھیں۔
“باریال کا بھنڈی کھانے کا دل کر رہا ہے۔ اس کے لیے بھنڈی کاٹ رہی ہوں۔” لبوں پر میٹھی سی مسکراہٹ عیاں ہوئی جبکہ غنایہ نے سانس بھر کر انہیں دیکھا۔
“آپ نے کل دوپہر بھی اس کی فرمائش پر پھلی بنائی تھی۔ کیا اس گھر میں دوپہر کے وقت اس کے پسند کے ہی کھانے بنتے ہیں؟۔” عام سے لہجے میں کہتے ہوئے اداسی سے بیٹھ گئی۔
“میں سن رہا ہوں۔” کچن سے مردانہ آواز پر وہ جی بھر کر چونکی۔ یعنی کہ وہ کچن میں تھا۔
“یہ اس گھر سے اب کب جائے گا؟۔” اس بار آواز دھیمی تھی۔ وہ ایک سنجیدہ سوال ملازمہ خالہ سے کر رہی تھی جسے وہ سن چکا تھا۔
“میں نے یہ بھی سن لیا ہے۔” دوبارہ وہ گھمبیر آواز ابھری۔ ملازمہ خالہ جہاں زور سے ہنسیں وہیں غنایہ گڑبڑا سی گئی۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد خالہ خود ہی بول پڑیں۔
“تم جو کھانا چاہتی ہو مجھے بتادو۔ میں ابھی بنادیتی ہوں۔” اس کے بالوں پر پیار سے ہاتھ ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگیں۔۔ غنایہ نے مسکراتے ہوئے گھڑی دیکھی جو بارہ بجا رہی تھی۔
“مجھے بھوک نہیں۔۔ میں چائے بنا لیتی ہوں۔” کہتے ساتھ ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“بھوک کیوں نہیں؟ تم نے کچھ کھایا بھی ہے؟۔”
‘طنز۔۔’ اس کا دل چاہا بنا کسی جھجھک کر بتادے کہ ساویز کے طنز کھائے ہیں۔
“رات کھانا بہت دیر سے کھایا تھا۔ اب بس چائے پیوں گی۔” انہیں تسلی دیتے ہوئے اس نے پیروں میں چپل ڈالی اور کچن کی طرف بڑھنے لگی۔
“کیا میں بنادوں؟۔”
“نہیں مجھے شرمندہ مت کریں۔ آپ بڑی ہیں اور آپ سے کام کرواتے ہوئے مجھے اچھا محسوس نہیں ہوگا۔” وہ ابھی کچن میں داخل ہی ہوتی کہ باریال اسے دیکھتا ہوا باہر نکلا۔
“خالہ بھنڈی کٹ گئی ہے تو دے دیں۔ مسالہ تیار ہے۔” وہ شاید خود کھانا بنا رہا تھا۔ اس کے سائڈ سے ہوتے ہوئے وہ اندر داخل ہوئی۔ یہ ایک بڑا اور کشادہ کچن تھا جس میں ہر چیز سلیقے سے رکھی تھی۔ ایک چولہے پر باریال کا مسالہ چڑھا تھا جبکہ دوسرے پر اس کے چائے کی چھوٹی پتیلی چڑھی تھی۔ ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے وہ دودھ کے ڈبے کی جانب بڑھی جو باہر سلیپ پر ہی رکھا تھا۔ ڈبہ ابھی اٹھایا ہی تھا کہ اسے اس کے خالی ہونے کا احساس ہوا۔ ڈبے میں دودھ نہ ہونے کے برابر تھا۔۔ وہ باہر نکل رہی تھی جب باریال کٹی ہوئی بھنڈی لے کر اندر داخل ہوا۔
“خالہ ڈبے میں دودھ نہیں ہے۔۔ کیا دودھ ختم ہوگیا؟۔” چال میں سستی کی وجہ سے اسے چائے کی طلب محسوس ہو رہی تھی۔
“جب میں کچن سے باہر آرہی تھی تب ہی میں نے اچھا خاصا دودھ ڈبے میں دیکھا تھا۔ اسے استعمال کون کرسکتا ہے اتنی جلدی؟۔” پیشانی پر بل نمودار ہوئی۔
“باریال صاحب نے اپنی چائے میں استعمال کر لیا ہے خالہ۔۔” لب کاٹتے ہوئے وہ افسوس سے بولی۔
“ابھی نوفل باہر سے آتا ہے تو اسے کہتی ہوں کہ ہوٹل سے تمہارے لیے چائے لے آئے۔ تمہیں تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔” کپڑے جھاڑتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“کوئی بات نہیں۔۔” زبردستی مسکراہٹ لبوں پر لاتے ہوئے غنایہ لاونج کے دروازے کی جانب بڑھی۔ کھڑکی سے محسوس ہوتی باہر تیز ہوا کو دیکھتے ہوئے اس نے لاونج کا پورا دروازہ کھول دیا۔ ٹھنڈی تیز ہوا کھلے دروازے سے اندر داخل ہونے لگی۔ آنکھیں موند کر تازہ ہوا اپنے اندر اتاری اور وہیں دروازے پر بیٹھ گئی۔۔ ایک سیڑھی اتر کر سامنے خوبصورت ہرا بھرا لان تھا جو اس کی توجہ اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔ پیڑ پودے ہوا کے باعث ہل رہے تھے۔۔ پتوں کی سرسراہٹ کانوں میں رس گھولنے لگی۔۔
“بیٹا یہ تمہارا موبائل کمرے میں بج رہا تھا۔” خالہ نے اس کے ہاتھ میں موبائل پکڑایا۔ وہ شکریہ ادا کرتی ساویز کی ریسیو ہوئی نوٹفکیش دیکھنے لگی۔۔
“آئم سوری۔۔۔ مجھے یاد نہیں رہا کہ تم آج یونیورسٹی جانے والی تھی۔ کل سے ایسا نہیں ہوگا۔۔” کہنے کو چند ہی لفظ تھے مگر دل پر اثر کر رہے تھے۔ اس کا میسج دیکھ کر وہ کوئی ریپلائی نہ کر پائی۔۔ بس مبہم سی مسکراہٹ لبوں پر پھیلا کر اس نے موبائل اپنے برابر میں رکھ دیا۔ گہرے رنگ کا ہرا ڈوپٹہ ہوا کے باعث لہرا رہا تھا جسے وہ بمشکل قابو کرتے ہوئے اس موسم سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ یکدم ہی ایک آواز پر اس نے آنکھیں کھولتے ہوئے پلٹ کر دیکھا۔ باریال اس سے کچھ فاصلے پر اپنی کھانے کی ٹرے لے کر بیٹھ گیا تھا۔ وہی کالا کپڑا جو پیشانی پر اس نے سختی سے باندھا ہوا تھا۔ غنایہ تھوڑی گھبرائی، مگر خاموش رہی۔ باریال نے اس کے تاثرات جانچتے ہوئے چائے کی پیالی اس کے آگے رکھی اور دو ابلے ہوئے انڈوں کی پلیٹ اس کے آگے رکھنے لگا۔ وہ پریشان ہونے سے زیادہ حیران ہوئی تھی کہ یہ لڑکا ایسا کیوں کر رہا ہے۔ وہ اب اپنی بھنڈی کھانے میں مصروف ہوچکا تھا۔ اتنی بڑی میز چھوڑ کر اس سے کچھ دور فرش پر بیٹھنے کی بھلا کیا تک تھی؟
وہ خاموش رہی اور چہرے کو آگے کی سمت موڑ لیا۔
“یہ ناشتہ تمہارا ہے۔” اس کی آواز ابھری۔
“مگر میں نے نہیں کہا تھا۔۔” دھیمی مخصوص آ,واز۔۔
“میں نے بھی نہیں دینا تھا۔۔” باریال نے تیزی سے کہا۔ “ساویز بھائی نے کہا تھا تو دے دیا۔” جملہ مکمل کرتے ہوئے اس نے لقمہ منہ میں ڈالا۔
“ساویز نے کہا تھا؟۔” وہ حیران ہوئی۔
“ہاں۔۔ کہہ رہے تھے کہ اگر تم ناشتہ نہ کرو تو میں تمہیں دے دوں۔۔ مگر جانتی ہو کون سا ناشتہ سب سے آسانی سے بنتا ہے؟ انڈہ بوائل کر کے روکھا کھالینا۔ قسم سے! ذرا محنت نہیں لگتی۔” وہ اب اس سے گفتگو کر رہا تھا جیسے وہ دونوں پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔ غنایہ نے اس کی پلیٹ کو دیکھا جو بھنڈی کے سالن سے بھری ہوئی تھی۔۔ وہ شاید غنایہ کے ناشتے میں ہی محنت نہیں کرنا چاہتا تھا۔
“اور یہ چائے؟۔” جانے کیوں لگا کہ اسے اس بارے میں بھی پوچھنا چاہئیے۔
“یہ دوستی کے لیے۔۔” لمبی خاموشی کے بعد آواز آئی۔ غنایہ نے کچھ آنکھیں پھیلائیں۔
“مجھ سے؟۔” بات حیرانی کی تھی۔
“ہاں۔” وہ مسکرا دیا۔ “میرا کوئی بھائی اتنا بڑا نہیں کہ اس کی شادی ہوئی ہو۔۔ اس لیے میری کوئی بھابھی نہیں۔۔ آج پہلی بار مجھے موقع ملا ہے کہ میں کسی کو بھابھی کہہ سکوں۔ ساویز بھائی میرے لیے سگے بھائیوں سے بھی بڑھ کر ہیں۔” وہ اسے اپنی باتیں بتانے لگا۔
“میں نے اپنی اکیس سالہ زندگی میں کبھی کسی لڑکے سے دوستی نہیں کی۔” وہ سٹپٹائی۔
“تم بھی اکیس کی ہو؟۔” وہ حیران ہوا اور پھر مسکرا دیا۔ “پھر تم مجھ سے بڑی ہو۔۔ مجھے لگا چھوٹی ہوگی۔”
اس کے ‘بھی’ کہنے پر وہ سمجھ چکی تھی کہ باریال بھی اس کی ہی عمر کا ہے۔۔ مگر پھر یہ بڑا اور چھوٹا کیا تھا؟۔
“آپ بھی میری عمر کے ہیں؟۔”
“ہاں مگر مہینوں میں تم مجھ سے بڑی ہو۔” لبوں پر مسکراہٹ قائم تھی۔ بھلا اس کو کیسے اس کی پیدائش کا مہینہ پتا چلا؟
“مگر میں نے آپ کو اپنی پیدائش کا مہینہ نہیں بتایا۔” نجانے کیوں وہ اس سے باتیں کر رہی تھی۔۔ یا پھر وہ اسے بات کرنے کے لیے اکسا رہا تھا۔ باریال نے چائے کی پیالی اس کی جانب کی اور پینے کا اشارہ دیا۔ اس کے اشارے پر وہ کچھ جھجھک کر چائے کی پیالی کی جانب بڑھی۔
“ہاں مجھے آپ نے نہیں بتایا مگر مجھے میرا مہینہ معلوم ہی ہے۔۔ اکتیس دسمبر۔۔” وہ مسکرایا اور پھر ہنس دیا۔ “اب کہو کہ میں تم سے بڑا ہوں۔”
اس کی ذہانت پر وہ نہ صرف چونکی بلکہ سوچ میں پڑگئی۔۔ واقعی وہ سال کے آخری مہینے اور آخری دن میں پیدا ہوا تھا جس کا مطلب کہ وہ اس سے مہینوں بھر چھوٹا ہے۔ وہ خاموش رہی۔۔
“تو کیا پھر آپ کو غنایہ باجی کہوں؟۔” اس نے پھر ایک سوال کیا۔ غنایہ اس کے سوالات کو محسوس کرنا چاہا۔ وہ واقعی ایسے سوال جان کر کر رہا تھا جس پر ناچاہتے ہوئے غنایہ کو اس کا جواب دینا پڑا۔
“آپ کی مرضی ہے۔۔ مگر میں آپ کو باریال بھائی کہوں گی۔” عام سا لہجہ۔۔ اس نے چائے کا کپ لبوں پر لگایا۔ وہ چائے اب ویسی گرم نہیں رہی تھی اس لیے اس نے جلدی سے اسے ختم کر کے پیالی ٹرے میں رکھی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ مسکرا دیا۔
“جیسا تم چاہو دوست!۔” اس کی آواز پر وہ ذرا ٹھہری تھی۔۔ حالانکہ اس نے تو دوستی کا جواب بھی نہیں دیا تھا۔ بغیر جواب دیے وہ خالہ کی جانب بڑھ گئی جو صوفے پر ہی بیٹھی تھیں۔
۔۔۔★★★۔۔۔
وہ تینوں ہی اسکول کے دروازے سے نکلتے باہر آرہے تھے۔
“میں نے اس سب کے لیے بہت پریکٹس کی تھی۔” آنسوؤں سے آنکھیں بھری ہوئی تھی۔ اس کا ہاتھ میر کے ہاتھ میں تھا اور وہ اس ہجوم سے بس باہر نکلنا چاہتا تھا۔۔ عشنا نے لب بھینچ کر روما کو دیکھا جو بیٹمنٹن میں ہار گئی تھی۔
“کوئی بات نہیں روما۔۔ ہار جیت کچھ نہیں ہوتا اور ویسے بھی! ہم نے تمہاری اچھی کارکردگی دیکھی ہے۔ یقینا تمہارے بھائی کو تم پر فخر ہوگا۔” اس کے بالوں پر محبت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ سمجھانے لگی۔ میرویس دونوں کو سن رہا تھا مگر لب خاموش تھے۔ اتنے ہجوم میں وہ روما کا ہاتھ تو پکڑا ہی ہوا تھا مگر عشنا کی فکر میں مڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
“دیکھ کر چلو عاشی۔۔ ہجوم کافی ہے۔”
اسٹوڈنٹس اپنے والدین کے ساتھ باہر نکل رہے تھے۔
“میری وجہ سے میری کلاس ہار گئی! انہیں مجھ سے امید تھی۔” چہرہ بجھا بجھا تھا۔
“یہ ایک کھیل ہی تو ہے روما! اور کھیل میں ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے۔ کبھی ایسا سنا ہے کہ ایک شخص ہر بار جیتا آرہا ہو۔۔ اسے بھی ہار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب ہی تو اگلی بار جیتنے میں مزہ آتا ہے۔” وہ تینوں وہاں سے نکل آئے تھے اور اب میرویس کی گاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے۔
“مگر میں اداس ہوں۔”
گاڑی کے پاس پہنچ کر میرویس نے اس کا ہاتھ چھوڑا۔
“میرو کو میری ہار کا دکھ ہے۔۔ شاید وہ بھی مجھ سے یہ امید نہیں رکھتا تھا۔” وہ کب سے اپنے دکھ کا اظہار کر رہی تھی مگر میرو نے اس کی کسی بات کا جواب نہیں دیا تھا۔ عشنا نے لمبے چوڑے اس شخص کو دیکھا جو واقعی کب سے خاموش تھا۔ میرویس گہری سانس اندر کھینچتا ہوا کچھ جھکا اور روما کو کمر سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے گاڑی کی چھت پر بٹھایا۔
“میں نے کب کہا کہ مجھے تمہاری ہار کا دکھ ہے؟۔” اطمینان بھرا لہجہ۔۔ جبکہ روما یوں گاڑی کے اوپر بٹھائے جانے پر ششدر ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔ ارد گرد کچھ دور اس کے دوست اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
“میں کوئی چھوٹی بچی ہوں جو تم نے مجھے گاڑی کے اوپر بٹھادیا؟ مجھے جلدی سے اتارو میرو ورنہ میرے دوست مذاق اڑائیں گے۔” وہ اترنے کی کوشش کرنے لگی جب میر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کوشش پر روکا۔ عشنا میرویس کی بہن سے محبت پر مسکرانے لگی۔۔ یہ سب دیکھنا کتنا اچھا لگ رہا تھا۔
“ہششش!! وہ کیوں مذاق بنائیں گے تمہارا؟۔” اس نے ڈانٹنا چاہا۔
“وہ کہیں گے کہ تم اپنے بھائی کے لیے اب تک چھوٹی سی بچی ہو؟ میں چودہ سال کی بڑی لڑکی ہوں میرو۔۔ اب ویسی چھوٹی نہیں رہی کہ تم مجھے اٹھا کر گاڑی کی چھت پر بٹھادو۔” اس کی آنکھیں میرو کو گھورنے لگی۔ وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
“تم ان سے کہا کرو کہ تم میرو کے لیے اب چھوٹی سی بچی جیسی ہو۔۔ جیسے وہ تمہیں تمہارے بچپن میں اٹھایا کرتا تھا ویسے ہی اب بھی اٹھا لیتا ہے۔” اس کے گال محبت سے کھینچتے ہوئے وہ قدرے گھمبیر آواز میں بولا۔ روما کے لبوں پر دھیرے سے مسکراہٹ پھیلنے لگی۔ “اور جہاں تک بات ہار کی ہے تو بھلا مجھے کیوں افسوس ہوگا؟ تم پچھلے تین سال سے بیٹمنٹن میں ہار رہی ہو اس لیے اب میں نے امیدیں لگانا ہی چھوڑ دیں۔” وہ یہ کہتے ہوئے خود ہی زور سے ہنس پڑا جبکہ عشنا نے کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ روما نے آنکھیں پھیریں۔۔
“مگر میں اگلے سال ضرور جیتوں گی!۔”
“ہاں اور میں اگلی بار بھی آؤں گا۔” یہ ایک ایسا وعدہ تھا جسے وہ بھول کر بھی نہیں توڑا کرتا تھا۔
“آپ بھی آئیں گی نا؟۔” اس نے عشنا کو دیکھا جس کے اس سوال پر ہونٹ سکڑے تھے۔ میرویس نے گردن پھیر کر عشنا کے تاثرات جانچے۔
“ہاں ضرور! میں یہ چانس مس نہ کرنے کی کوشش کروں گی۔” اس کی بات میرو کے لبوں پر مسکراہٹ لے آئی تھی۔ عشنا اس کی مسکراہٹ نہیں دیکھ پائی تھی۔ روما بھائی کی مدد سے نیچے اتری۔
“میں انتظار کروں گی عاشی!۔” اس کا یہ عاشی کہنا میرویس اور عشنا دونوں کو گڑبڑا گیا۔
“یہ لفظ تم نے کہاں سے سنا؟۔” میرویس نے بظاہر سرسری انداز پوچھا۔ وہ اب روما کی طرف کا دروازہ کھول رہا تھا۔
“دروازے سے باہر آتے ہوئے تم نے خود ہی تو کہا تھا۔۔” تیزی سے کہتی ہوئی وہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔
عشنا اور میر کی نگاہ آپس میں ملی تھیں اور گاڑی میں بیٹھنے آگے بڑھ گئی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“ساویز کو کھانے میں کیا پسند ہے؟۔” اس نے آج رات کے لیے کچھ اور پلان بنا رکھا تھا۔
“بریانی بہت شوق سے کھاتا ہے ساویز بیٹا۔۔”
غنایہ نے سانس بھری۔۔ کراچی والے ہوں اور بریانی کے شوقین نہ ہو ایسا ناممکن تھا۔
عام طور پر اسے کافی کچھ بنانا آتا تھا مگر بریانی ایک ایسی ڈش تھی جسے وہ بنانا سیکھ رہی تھی۔
“میں سوچ رہی ہوں آج میں بریانی بنالوں۔” اسے علم نہیں تھا کہ پیچھے باریال بھی کھڑا ہے۔ کسی سوچ میں کہتی وہ اپنی خواہش کا اظہار کرنے لگی۔
“بریانی بن رہی ہے؟۔” وہ پیچھے سے بولا۔ غنایہ چونک اٹھی۔
“جی۔۔” خالہ کے جواب نہ دینے پر زبردستی اسے ہی جواب دینا پڑا۔
“تمہیں بریانی بنانی آتی ہے؟۔”۔ باریال نے حیرت اور پریشانی سے اس سے پوچھا۔
“مکمل نہیں مگر تھوڑی بہت۔۔” لہجہ بے حد عام سا تھا۔
“میں باہر کھانا کھا کر آؤں گا خالہ۔” وہ اب تیزی سے کہتا خالہ مخاطب ہوا۔ غنایہ سٹپٹا کر رہ گئی۔ اس نے چاہ کر بھی کچھ نہ کہا حالانکہ دانت تو وہ بھی پیس چکی تھی۔ خالہ نے اسے گھور کر یوں کہنے سے منع کیا تو وہ کندھے اچکاتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
“تم بنا لینا بیٹا۔۔ مجھے امید ہے تم اچھا ہی بناؤ گی۔”
ان کی بات سے اسے ڈھیروں حوصلہ ملا تھا۔۔
“آپ ساویز کو مت بتائے گا کہ بریانی میں نے بنائی ہے۔۔” وہ اسے نہیں بتانا چاہتی تھی۔۔ چونکہ محبت کا احساس یہ پہلا پہلا تھا اس لیے قدم کم مگر مضبوط بڑھانا چاہتی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“تم نے آج کافی دیر کردی ہے۔” وہ دونوں ایک دوسرے کے کیبن میں جھانکتے ہوئے باتیں کر رہی تھیں۔
“تاخیر سے آنا کم از کم چھٹی کرنے سے تو بہتر تھا صوفیہ! میری گاڑی خراب ہوگئی تھی۔۔ وہ تو یونہی میرویس نے مجھے دیکھ لیا تو میری مدد کردی۔”
“تم دو گھنٹے سے اپنی خراب گاڑی کے پاس موجود تھی؟۔” وہ جی بھر کر حیران ہوئی۔
“نہیں۔۔” اب وہ اسے کیسے بتاتی کہ میرویس اسے روما کے اسکول لے کر گیا تھا۔ بلآخر اس نے بتانے کا فیصلہ کیا۔ “اس کی بہن کے اسکول میں ایک بڑا ایونٹ تھا۔ اگر وہ مجھے پہلے آفس چھوڑ کر اسکول جاتا تو شاید ایونٹ ختم ہوجاتا اس لیے اس نے بہت اچھے سے مجھ سے اجازت مانگی کہ کیا میں اس کے ساتھ تھوڑی دیر کے لیے اسکول میں ٹھہر سکتی ہو؟۔” اس کا آخر میں یوں مبالغہ آرائی کرنا خود صوفیہ کو بھی نہ ہضم ہوا۔
“اچھے سے اجازت مانگی؟۔” حیرت سے پوچھتے ہوئے وہ اپنا چشمہ آنکھوں سے ہٹاتے ہوئے کنفرم کرنے لگی۔
“کیا فرق پڑتا ہے!۔” وہ جھنجھلائی۔
“اس کا مطلب ہے کہ اجازت ہی نہیں مانگی!۔” وہ زور سے ہنس کر دوبارہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہوئی۔ “بہرحال تم نے مجھے پرسوں رات دعوت کی اطلاع دی تھی۔ کیا اس نے ابھی تک کوئی اشارہ دیا؟ مطلب کہ کیا تمہیں ایسا محسوس ہوا کہ وہ اب بھی تم سے محبت کرتا ہے؟۔”
عشنا نے سوچا کہ وہ کبھی صوفیہ کو نہیں بتائے گی کہ میرویس کی کسی سے منگنی رہ چکی ہے۔۔ اگر اس نے یہ بتایا تو شاید وہ میر کی محبت میں کھوٹ سمجھنے لگے۔۔ اس نے لب بھینچ لیے۔
“تم نے ٹھیک کہا تھا صوفیہ۔۔” وہ لمحے بھر کو ٹھہری۔ “وہ اب بھی ویسا ہی ہے۔۔ اس کی باتیں اب بھی میرے ہی گرد گھومتی نظر آتی ہیں۔ جانتی ہو اس نے کیا کہا؟۔” اس نے صوفیہ کو مڑ کر دیکھا۔
“کیا؟۔” اسے جی بھر کر تجسس ہوا۔
“اس نے کہا کہ وہ اپنی پسند بدلا نہیں کرتا۔۔” لبوں پر ہلکی ہلکی مسکراہٹ پھیل گئی۔ “میں نے محسوس کیا ہے۔۔ یہ جملہ بہت گہرا ہے۔ جذبات بدل دیتا ہے اور محبت موڑ دیتا ہے۔”
“تمہیں اس سے محبت ہے!۔”
“نہیں۔۔” وہ ہنس کر صاف انکار کر گئی۔
“میں نہیں مانتی۔”
“مجھے اس سے محبت نہیں ہے صوفیہ جان! مجھے وہ بس ایک اچھا مرد لگتا ہے۔ اس سے قبل اپنے باپ کے علاؤہ مجھے کوئی مرد نہیں بھایا اور اگر اب کوئی اچھا لگ رہا ہے تو وہ میرویس ہے۔۔ ایک اچھا مرد، بیٹا، بھائی اور ہاں۔۔ دوست بھی! تم کہتی ہو مجھے اس سے محبت ہے حالانکہ میری باتیں کوئی بھی سنے تو اسے تمہارے جیسا ہی لگے گا صوفیہ! مگر میں جانتی ہوں کہ یہ محبت نہیں ہے۔۔ یہ بس ایک وقتی لگاؤ ہے!۔” وہ سمجھانے لگی۔
“اگر اس نے اب کی بار تمہیں پروپوز کیا تو کیا تم اس کا دل پھر سے دکھادو گی؟۔” اسے میرویس کے لیے برا لگنے لگا۔
“میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ میرویس خودکشی کرسکتا ہے مگر عشنا ابرار کو اب پروپوز نہیں کرسکتا۔ ہاں وہ پہلے جیسا ہے مگر اب بھی کافی باتیں مختلف ہیں۔ اس کے لہجے میں شرارت اب بھی ویسے ہی مگر اب مزاج میں ٹھہراؤ کا بھی قیام ہے۔ وہ ہنستا ہے تو بلکل پرانا میرویس لگتا ہے مگر سنجیدگی میں کوئی بات کہے تو دل میں اتر جاتا ہے۔ یہ پہلا ایسا مرد ہے جس کے ہر روپ سے ایک اچھا احساس اٹھتا ہے۔”
“تو وہ تمہیں صرف اچھا لگتا ہے؟۔” صوفیہ نے گہری سانس اندر کھینچی۔
“ہر اچھے شخص سے محبت ہو جائے یہ ضروری تو نہیں۔” مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔ وہ اب دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی تھی۔۔ یہ باتیں تو سدا چلتی رہیں گی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
اس کے کچن سے جانے کے وہ کچن میں آیا تھا۔ رات کے آٹھ بجنے کو تھے اور ساویز کے آنے کا وقت ہونے والا تھا۔ دھیرے سے دیگ کا ڈھکن اٹھا کر اس نے اندر جھانکا۔ کھانے کی مزیدار مہک اس کی سوچ بدلنے لگی۔
“مجھے لگتا تھا کہ یہ کھانا اچھا نہیں بنائے گی۔” حیرت سے کہتے ہوئے اس نے تھوڑے سے چاول پلیٹ میں ڈالے اور چکھنے لگا۔ ابھی ایک نوالہ منہ میں ہی ڈالا تھا کہ اس کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔ پلیٹ وہیں چھوڑ کر وہ فریج کی طرف تقریبا بھاگتے ہوئے بڑھا تھا۔۔ پانی پینے کے بعد بھی کھانے کی تیزی زبان سے نہ مٹی تو اس نے تھوڑی سی چینی کھالی۔ اب وہ خود تھوڑا بہتر محسوس کر رہا تھا۔
“صحیح لگتا تھا۔ اسے واقعی نہیں بنانی آتی۔۔” ڈھکن دوبارہ لگا کر وہ جیسے آیا تھا ویسا ہی مڑ گیا۔ اب ساویز کی خیر نہیں تھی۔۔
یکدم ہی ساویز کی گاڑی کا ہارن بجا۔ کمرے میں جانے کا ارادہ ترک کر کے وہ وہیں لاونج کے دروازے پر ٹھہر کر اس کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ ہارن کی آواز پر غنایہ بھی نیچے آئی تھی اور اب کچھ دور زینے کی طرف کھڑی ہوئی تھی۔ پانچ منٹ کے اندر ہی ساویز اندر داخل ہوا۔ دو لوگوں کو اپنے استقبال کے لیے کھڑے ہوتا دیکھ کر اسے قدرے حیرانی ہوئی تھی۔ باریال کے لبوں پر مسکراہٹ چپکی تھی جسے دیکھ کر ساویز نے بنھویں اچکائی تھیں۔
“کیا ہوا ہے؟۔” لیپ ٹاپ بیگ صوفے پر رکھتے ہوئے اس نے سلام کرنے کے بعد کہا۔
“کچھ نہیں۔۔ بس میں بہت خوش ہوں!۔” پیشانی پر اب بھی کپڑا بندھا ہوا تھا۔ غنایہ کچھ دور چہرہ جھکائے نظریں اٹھائے اسے دیکھ رہی تھی۔
“خیریت؟۔”
“وہ تو آپ کو خود ہی پتا چل جائے گا۔۔ بہرحال میں بھی اس لیے ہی خوش ہوں کیونکہ مجھے پہلے پتا چل گیا۔ رات کا کھانا دوستوں کے ساتھ باہر ہی کھانے والا ہوں۔” وہ ڈور کو مزید الجھاتا ہوا ساویز کو کنفیوز کر گیا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔ تم نے کھانے میں کیا بنایا ہے؟۔”
“آج میں نے نہیں بنایا کھانا۔” اس نے کہتے ہوئے ایک نظر غنایہ پر ڈالی۔ ساویز نے اثبات میں سر ہلایا بیگ اٹھاتا ہوا غنایہ سیڑھیوں کی جانب بڑھنے لگا۔ اسے لگا کہ شاید ملازمہ خالہ کھانا بنا کر گئی ہیں اس لیے بے فکر ہوتا اوپر بڑھ گیا۔ باریال کمرے میں جا چکا تھا اور وہ ساویز کے پیچھے بڑھ گئی تھی۔ گھر آنے کے بعد اس نے ابھی تک غنایہ کو مخاطب بھی نہیں کیا تھا۔ کمرے میں داخل ہونے کے بعد وہ بستر پر بیٹھ کر اسے کلائی سے گھڑی اتارتے ہوئے دیکھنے لگی۔
“کھانا لگادوں؟۔” تھوڑی دیر بعد اس کی آواز ابھری۔ ساویز نے کچھ حیرانی سے اسے دیکھا۔ بھلا یہ کون سی تبدیلی تھی۔
“مجھے بھوک نہیں ہے۔ تم نے کھانا کھایا؟۔” وہ اب ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے جوتے اتار رہا تھا۔
“نہیں۔۔” غنایہ جھٹ سے بولی۔۔ کہ شاید اب وہ کہے کہ تم نے نہیں کھایا تو چلو ساتھ مل کر کھا لیتے ہیں۔
“تم ناغہ مت کرنا۔ کھانا کھا لو جا کر۔۔” اس کا یوں کہنا غنایہ کو ساکت کر گیا۔ آنکھیں نم ہونے لگیں۔
“اور ہاں سوری! میں بھول گیا تھا کہ آج تمہیں یونیورسٹی جانا ہے۔ کل لے جاؤں گا۔” وہ اسے نہیں دیکھ رہا تھا۔۔ اگر دیکھ لیتا تو اس کی آنکھوں کی نمی پہچان لیتا۔ آدھا گھنٹہ مزید گزر گیا۔۔ وہ جیسی بیٹھی تھی ویسی ہی بیٹھی رہی البتہ ساویز شاور لے کر اب صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ گود میں رکھ رہا تھا۔
“آپ روز رات کا کھانا کھاتے ہیں مگر آج کیوں نہیں؟۔” نگاہیں فرش پر تھیں۔ وہ چونکا۔
“میں پہلے ہی تاخیر سے آیا ہوں اور اب کچھ کام بھی ہے۔ وقت ملا تو کھالوں گا۔”
“آپ اب بھی مجھ سے ناراض ہیں۔” وہ شاید بتا رہی تھی۔ ساویز کی کیبورڈ پر چلتی انگلیاں ٹھہریں۔
“آپ کو فکر ہے؟۔” یہ سوال تھا۔
“نہیں ہوتی تو آپ کے لیے کھانا نہیں بناتی۔” بلآخر وہ کہہ پڑی۔ ساویز نے قدرے حیرانی کر اسے دیکھا۔
“کیا مطلب؟ کھانا تم نے بنایا ہے؟۔” وہ شاید بے یقین تھا۔
“آپ کے لیے بنایا ہے مگر شاید اب آپ مجھے اتنی اہمیت نہیں دیتے۔۔” کہتے ہوئے وہ رکی نہیں۔۔ وہاں سے اٹھ کر تیزی سے نیچے کی طرف بڑھ گئی۔ اگر کوئی ٹھہر گیا تو وہ ساویز تھا۔ یہ بات کیسی ناقابل یقین سی محسوس ہوتی تھی۔ بنا مزید ٹھہرے ساویز بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ لیپ ٹاپ برابر میں رکھتے ہوئے وہ اس کے پیچھے بڑھا۔ لاؤنج خالی تھا مگر وہ جانتا تھا کہ غنایہ کہاں ہوسکتی تھی۔ لان میں قدم رکھتے ساتھ ہی وہ اسے جھولے پر بیٹھی نظر آئی۔
“اندر آؤ غنایہ۔” اس نے وہیں سے مخاطب کیا۔ ٹھنڈی تیز ہوا خون کو جمانے کے لیے کافی تھی۔ نہ تو وہ اسے باہر لان میں بیٹھا چھوڑ سکتا تھا اور نہ اس ٹھنڈک میں خود اس کے ساتھ باہر بیٹھنا چاہتا تھا۔ غنایہ نے اس بار اس کی بات سنی ان سنی کردی تھی۔
“غنایہ اندر آؤ!! ابھی فوراً!۔” وہ اس کی بات کو بلکل سنجیدہ نہیں لے رہی تھی۔ اس بار وہ ضبط کرتا ہوا خود اس کی جانب بڑھا۔ بنا کچھ سنے اس نے غنایہ کی کلائی پکڑی اور زبردستی اندر لاؤنج میں لاکھڑا کیا۔
“تمہیں اندازہ نہیں کہ اس ٹھنڈک میں تم بیمار بھی ہو سکتی ہو؟۔” پہلے بھی ایسا ہی ہوا تھا۔۔ وہ رات جھولے پر گزار کر بیمار پڑ گئی تھی اور ساویز یہ سب ایک اور بار نہیں دیکھ سکتا تھا۔ سختی سے کہتا وہ کچھ اور بھی بولتا کہ غنایہ کی سسکی بھری آواز کانوں میں پڑی۔ ساویز یکدم ہی بوکھلایا۔ ہچکیوں کی آواز بڑھتی جا رہی تھی اور ساویز کا دل ڈوبتا جا رہا تھا۔ وہ کچھ کہہ بھی نہ سکا۔ تھوڑی دیر ٹھہرنے کے بعد غنایہ نے اوپر جانا چاہا جب ساویز نے اس کی کلائی پکڑ کر اپنی جانب کھینچا۔ وہ کھینچتے اس کے بلکل قریب آکھڑی ہوئی تھی۔
“تم رو رہی ہو۔۔” رخسار بھیگے ہوئے تھے۔ بے خودی میں کہتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ اس کے رخسار پر پھیر کر آنسو صاف کرنے چاہے۔ غنایہ نے بھی کچھ مزاحمت نہیں کی۔
“آپ کو اب فکر ہے؟۔”
اس کی گیلی آواز پر وہ لب بھینچ گیا۔
“مجھ سے پوچھ رہی ہو؟ حالانکہ یہ سوال تمہیں خود سے کرنا چاہئیے۔۔ کہ ساویز کو تمہاری پرواہ ہے یا نہیں؟۔” بھوری نم آنکھیں کاجل زدہ تھیں۔ وہ وہیں ٹھہر گیا۔ وہیں کاجل زدہ آنکھیں اور وہیں آنسو۔۔ ساویز کو پہلی ملاقات والی غنایہ یاد آئی۔
‘نہیں ہے اب آپ کو فکر۔۔ میں جانتی ہوں آپ مجھ سے ناراض ہیں۔ مجھے ایسا نہیں کہنا چاہئیے تھا۔ میں جو سوچتی تھی بس وہ کہہ پڑی مگر اب میرے خیالات بدل رہے ہیں ساویز۔” اس کا کہنا ساویز کا زخم بھر رہا تھا۔ یہ سب کیا تھا؟ اس کی کہانی کا ایک نیا رخ۔۔
“میں نے وہ بات دل پر محسوس کی تھی اس لیے مجھے برا لگا تھا۔ مگر میں ناراض نہیں تھا۔” غنایہ کا ہاتھ اس کی گرفت میں تھا۔ “میں نے ناراض رہنے کے لیے شادی کی تھی؟ حالانکہ جن حالات میں ہماری شادی ہوئی، یہ سب تو ہونا ہی تھا۔”
غنایہ کے آنسو سسکیوں میں بدل گئے۔
“میں نے آپ کے لیے وقت لگا کر کھانا بنایا۔ آپ نے وہ بھی نہیں کھایا۔” یہ بات اسے اور زیادہ بری لگی تھی۔
ساویز ہنس پڑا۔
“میری بیوی! اگر مجھے معلوم ہی ہوتا کہ کھانا تم نے بنایا تو کیا میں نہ کھاتا؟ ویسے ہم اب بھی کھانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔” ٹھوڑی سے اس کا چہرہ اٹھاتے ہوئے وہ بے حد سے بولا۔
“میں کھانا لے آؤ؟۔” اس نے نگاہ اٹھا کر دیکھا۔
“اگر آپ چاہیں تو۔۔۔” وہ سوچنے لگا کہ کتنی جلدی سب ٹھیک ہونے لگا ہے۔ وہ اب ویسی گھبرائی، سہمی نہیں تھی۔ اپنے شوہر کے سامنے بنا ڈرے کھڑی تھی۔۔ کیا وہ اس فہرست سے نکال دیا گیا تھا جن سے وہ خوف کھایا کرتی تھی؟ ہلکی ہلکی مسکراہٹ لبوں پر پھیلنے لگی تو اس نے مسکراہٹ ہی چھپادی۔ ساویز کے حصار سے نکلتی کچن کی جانب بڑھ گئی جبکہ ساویز اب تک اس کے سحر میں کھویا، اسے جاتے دیکھ رہا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
اس نے فریج سے وہ کباب کی پلیٹ نکال کر باہر رکھی جو اماں نے اسے بنا کر دیے تھے۔ ہر اتوار اماں کچھ نہ کچھ ایسا ضرور بنادیتی تھیں جس سے وہ کچھ دن کام چلا لیتا تھا۔ آفس سے گھر آکر کچھ بنانے کی ہمت نہ ہوئی تو اس نے تین کباب تل کر پلیٹ میں رکھے اور کافی بناتا ہوا اپنے کمرے میں آگیا۔ ابھی اس نے پہلا ہی لقمہ لیا تھا کہ موبائل بج اٹھا۔ اسکرین پر نام پڑھتے ہوئے اس نے کال اٹھائی۔
“اسلام علیکم!۔”
“وعلیکم اسلام بیٹا۔ تم نے کھانا کھایا؟۔”
“میں کھانا ہی کھا رہا ہوں اماں۔” ماں کی آواز پر وہ مسکرا دیا۔ ان کا یوں پوچھنا اسے ہمیشہ اچھا لگتا تھا۔
“کیا کھا رہے ہو؟۔”
اس سوال پر اس نے اپنی پلیٹ میں دیکھا جہاں صرف تین کباب رکھے تھے۔
“فکر نہ کریں پورا اہتمام کر کے بیٹھا ہوں۔” وہ اب انہیں کیا ہی بتاتا کہ آفس کی تھکاوٹ نے اسے چاول اور کوئی شوربہ بنانے کی اجازت بھی نہ دی۔ وہ باہر سے کچھ آرڈر کرلیتا اگر اسے زیادہ بھوک ہوتی۔
“میں نے تمہارے لیے لڑکی دیکھ رکھی ہے۔ اب چاہتی ہوں کہ تم شادی کرلو۔” انہوں نے دو ٹوک بات کی۔
“اماں!۔” وہ ہمیشہ کی طرح جھنجھلایا۔
“میں مزید کوئی بات نہیں کر رہی میرویس!! تم شادی کرو گے اور میری بات کو غیر سنجیدہ نہیں لینا۔ ٹھیک ہے اگر تمہیں میرے بتائے ہوئے رشتوں میں خامی محسوس ہوتی تو بتادو مجھے کسی لڑکی کا نام!!۔” انہوں نے یہ بات بے دھیانی میں کہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ میرویس کو اس سب میں دلچسپی نہیں۔۔ جب وہ کسی کا نام نہیں لے سکے گا تو ہار مان لے گا اور اسی طرح اماں اپنی بھانجی صبور سے اس کا رشتہ کروا سکیں گی۔
ان کی اس بات پر میرویس ٹھہر سا گیا۔ آنکھوں کی پتلیاں دیوار کی جانب ساکت ہوچکی تھی۔ الجھا ذہن جانے کسی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ ایک لمبی خاموشی چھا گئی۔ اماں کو لگا جیسے کال کٹ گئی ہو۔ انہوں نے چیک کر کے دوبارہ موبائل کان سے لگایا۔
“اگر میں آپ کو بتادوں تو آپ لڑکیوں کی تلاش ختم کردیں گی؟۔” یہاں میرویس نے یہ کہا اور وہاں اماں کو چپ لگ گئی۔۔ یہ کیا ہوا تھا۔۔
“تم واقعی مجھے خود کی پسند بتاؤ گے؟۔” انہیں یقین نہ آیا۔
“ہاں۔۔”
“کون ہے؟۔”
“مجھے تھوڑا وقت دیں۔”
“اگر وہ لڑکی نہ مانی تو میں جس لڑکی سے کہوں گی تم شادی کرو گے!۔”
میرویس کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑا۔
“ٹھیک ہے۔۔ مگر مجھے کچھ وقت چاہئیے۔ جب تک میں خود کچھ نہیں بتاؤں گا، آپ مجھ سے رشتوں کا ذکر نہیں کریں گی۔ پلیز۔۔” یہ بات وہ اماں سے کیسے کہے کہ اماں میرویس اپنی پسند سے دور نہیں ہٹنا چاہتا۔ اگر من پسند لڑکی نہیں ملی تو وہ زبردستی کسی سے شادی نہیں کر سکتا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کبھی ان لڑکیوں سے شادی کرنے پر دل سے راضی نہ ہوگا جس کا اماں ذکر کرتی تھیں، وہ کہہ پڑا۔ دل پھیکا پڑ گیا۔ اس نے کال رکھ ایک نظر کباب والی پلیٹ پر ڈالی اور اٹھ کھڑا ہوا اس موقع پر اسے جان جیسی پیاری کافی بھی اپنی طرف راغب نہیں کر پائی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔۔
وہ سونے کے لیے بستر پر لیٹ رہی تھی جب مینجر کی آتی کال پر حیران ہوئی۔ بھلا اتنی رات کو وہ کیوں کال کر رہے تھے؟ یہ سوچ کر ہی اس نے کال اٹھا کر موبائل کان سے لگایا۔
“ہیلو سر!۔” کال اس کی نیند خراب تو کر ہی چکی تھی۔
“ہیلو مس عشنا۔۔ ڈسٹرب کرنے پر بہت معذرت چاہتا ہوں۔”
“جی سر! سب خیریت ہے؟۔”
“مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔”
“کیسی بات؟۔” وہ الجھی۔ اتنی رات کو کون سی ضروری بات ہو سکتی تھی۔
“اس دن پارٹی میں جو ہوا بہت برا تھا۔ رافع کی یہ حرکت واقعی ناقابل برداشت ہے۔۔ میں اس تماشے کے بعد اسے فائر کرنا چاہتا ہوں مگر ابھی باس کو اس بارے میں نہیں معلوم! اگر معلوم ہوجائے گا تو شاید میری خیر نہیں ہوگی۔ وہ پارٹی میں نے منعقد کی تھی اس لیے باس مجھ پر غصہ ہوں گے۔”
“مگر آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟۔” وہ اب بھی نہ سمجھ پائی۔
“میرویس! فاری کمپنی کا مینجر! مجھے معلوم تو نہیں وہ تمہارا کون ہے مگر اس دن گفتگو سے اتنا تو اندازہ لگا ہی سکا ہوں کہ وہ تمہارا کوئی جان پہچان کا مرد ہے۔ اس دن جو اس نے وہ سب دیکھا کہیں اس سے ہماری کمپنی کی پروگریس خراب نہ ہو جائے! مزید یہ کہ اگر فاری کمپنی نے کانٹریکٹ سے انکار کردیا تو باس کو سب کچھ پتا چل جائے گا اس طرح ہم میں سے اکثر لوگوں کی نوکری خطرے میں پڑ جائے گی۔ کیا تم ہماری کمپنی کے خاطر ایک کام کر سکتی ہو؟۔” مینجر بہت گھبرایا ہوا معلوم ہو رہا تھا۔
“میں کوشش کروں گی مگر پہلے آپ مجھے بتائیں۔” وہ ایسے ہی حامی نہیں بھر سکتی تھی۔
“میں چاہتا ہوں کہ۔۔ تم مسٹر میرویس سے بات کرو۔ اس سے کہو کہ اس دن کے تماشے کی وجہ سے دونوں کمپنیوں کے درمیان کے تعلقات میں تبدیلی نہ لائے۔ ایک دفعہ یہ کانٹریکٹ سائن ہو جائے ہم جلد ہی رافع کی چھٹی کردیں گے۔”
تو بات دراصل یہ تھی۔
“اور آپ کو لگتا ہے میرے کہنے سے مینجر مان جائے گا؟۔” نجانے کیوں مگر اس نے اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
“میں تم سے گزارش کرتا ہوں کہ ایک بار کوشش کر کے دیکھو۔ میری بات شاید وہ نہ مانے۔ اپنے طور پر وہ مجھے بلکل نہیں پسند مگر اب ہماری مجبوری ہے۔ باس اس کانٹریکٹ کی وجہ سے بہت خوش ہیں۔” اس لمحے وہ عشنا کو جہاں بہت پریشان نظر آئے، اس کا دل چاہا ہنس دے۔
“ٹھیک ہے۔ میں کوشش کرتی ہوں۔۔ مگر زیادہ امید نہیں ہے کیونکہ وہ میرا صرف دوست ہے۔۔ جو اپنی کمپنی کے لیے بہت محنت کر رہا ہے سر۔ مجھے نہیں لگتا کہ صرف میری بات سے وہ پیچھے ہٹ جائے گا۔ بہرحال میں کوشش کروں گی۔” گہری سانس خارج کرتے ہوئے اس نے اکتاہٹ سے کہا۔
“اوہ تھینک یو مس عشنا! یہ معاملہ جلد ہی سلجھادیں تو اچھا ہوگا۔ خدا حافظ!۔” وہ فون رکھ چکا تھا اور عشنا اضطراب میں مبتلا ہوچکی تھی۔
“یہ پریشانیاں پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتیں!۔” دانت پیس کر کہتی ہوئی وہ بستر کی جانب بڑھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
یہ بریانی کا پہلا اور شاید آخری نوالا تھا جو منہ میں گیا تھا۔ زبان پر اس کی تیزی محسوس کرنے کے بعد وہ چبا بھی نہیں سکا تھا۔ آنکھوں کی پتلیاں جہاں تھی وہیں ساکت ہوگئیں۔ اس نے پانی کے لیے نگاہ دوڑانا چاہی مگر میز میں کہیں پانی کا جگ نہ پا کر وہ اپنی آنکھوں سے باہر آتے پانی کو روک نہ سکا۔
“آپ رو رہے ہیں؟۔” کاش وہ بریانی پہلے چکھ لیتی تو یہ نہ کہہ پاتی۔ ساویز نے زبردستی نوالہ حلق کے اندر ڈالتے ہوئے اسے دیکھا۔
“ہاں! خوشی سے رو رہا ہوں۔۔ تم نے پہلی بار میرے لیے کھانا بنایا ہے نا۔ بہت خوش ہوں میں۔۔” زبان جل رہی تھی مگر غنایہ کو تسلی دینا زیادہ ضروری تھی۔ وہ یوں کہہ کر اس کی محنت پر پانی نہیں پھیر سکتا تھا۔ غنایہ کو حیرت ہوئی۔ وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی جس نے ہاتھ ابھی تک دوسرے نوالے کی جانب نہیں بڑھائے تھے۔ اس کے انداز کو کچھ کچھ سمجھتے ہوئے اس نے اپنی پلیٹ سے لقمہ منہ میں ڈالا۔۔
یہ وہی وقت تھا جب اس کی سٹی گم ہوئی۔ جلدی سے نوالہ نگلتی وہ پانی کی تڑپ میں کچن کی جانب بھاگی تھی۔ ساویز نے لب بھینچ کر اس کی پلیٹ کو دیکھا۔
تھوڑی سی دیر میں ہی وہ پانی کا جگ لے کر باہر آئی۔
“آپ پانی پی لیں۔” لہجہ شرمندہ تھا۔۔ اس نے ساویز کی پلیٹ آگے سے اٹھالی۔ “اور پلیز یہ کھانا مت کھائیں۔” چہرہ بجھ گیا۔
ساویز نے اس کے تاثرات نوٹ کیے۔
“میں کھا سکتا ہوں۔” جانے کیوں مگر اتنی تکلیف کے باوجود وہ تیزی سے بولا۔ غنایہ نے ٹھہر کر اس کا چہرہ دیکھا۔
“آپ نہیں کھا سکتے ساویز۔۔ اسے کوئی نہیں کھا سکتا۔ مجھے اندازہ نہیں ہوا اور مرچیں بہت زیادہ ہوگئیں۔” دھیمی آواز۔ “مجھے خود کھانا نہیں بنانا چاہئیے تھا۔ خالہ ہی بنا لیتیں۔” اسے ساویز کے لیے برا لگنے لگا جو بھوک کے مارے اس کے ساتھ کھانا کھانے آیا تھا۔
ساویز کو دکھ ہوا۔ وہ ایسا کیا کرے کہ غنایہ برا محسوس نہ کرے۔
“غلطیاں تو سب ہوتی ہیں۔۔ اور ویسے بھی تم نے کہا تھا کہ تم ابھی سیکھ رہی ہو۔ سیکھنے کے مراحل میں انسان بہت سی غلطیاں کرتا ہے اور یہ بلکل عام سی بات ہے غنایہ۔” دھیرے سے ہاتھ بڑھا کر غنایہ کا ہاتھ پکڑا۔ وہ خاموش زدہ ویسی ہی کھڑی رہی۔
“آپ کو بھوک لگی ہے؟۔” اس کی بات کا جواب دیے بغیر وہ اپنا سوال کر گئی۔
“اتنی بھی نہیں۔۔ تمہیں؟۔”
“مجھے بھوک لگ رہی ہے۔” دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا تو ساویز نے لب کاٹے۔
“کوئی بات نہیں! ہم سینڈوچ بنا لیتے ہیں۔ کیا یہ ٹھیک رہے گا؟۔” اسے کچن کے بارے میں اتنا علم نہیں تھا اس لیے غنایہ سے پوچھنے لگا۔
“ہاں۔۔” بھوک زوروں کی تھی اس لیے وہ فوراً حامی بھر گئی۔
“مجھے کچھ بنانا نہیں آتا۔۔ نہ یہ پتا ہے کہ کون سی چیز کہاں رکھی ہے۔۔ لیکن میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔” اس نے بیچارگی سے پیشانی کجھاتے ہوئے کہا۔ اس کے لیے یہی بہت تھا کہ غنایہ اس کی محبت کو دھیرے دھیرے قبول کر رہی تھی۔
وہ ہنس پڑی۔
ساویز کو جیسے اس کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر سکون حاصل ہوا۔ یہ لڑکی آج پہلے سے زیادہ دل کے قریب محسوس ہو رہی تھی۔ اپنے ہاتھ پر اس کے ہاتھ کا لمس محسوس کرتے ہوئے وہ خود کو کتنا پر سکون محسوس کر رہا تھا۔ شادی سے پہلے اس نے کبھی نہیں سوچا تھا ایک نکاح سے دل کا حال یوں بدل جائے گا۔ کوئی اس کے لیے اتنا ضروری ہوجائے گا کہ دن رات اس کی دنیا اس کے ہی گرد گھومنے لگے گی۔ کیا حسین احساس تھا۔۔ محبت کا۔۔
۔۔۔★★★۔۔۔
