Tu Dil Se Na Utar Saka By Ayna Baig Readelle50173 Episode 10 Part 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10 Part 3
تو دل سے نہ اتر سکا از عینا بیگ
دسویں قسط (آخری پارٹ)
ایک ہفتہ مزید بیت گیا۔ وہ آج بلآخر اس سے ملنے چلا آیا تھا۔
شاندار بڑا اور کشادہ آفس۔۔
اس کا گارڈ عادل اپنے ساتھ وجاہت کے روم میں لایا تھا۔
“اسلام علیکم۔” داخل ہوتے ساتھ وہ ذرا سا مسکرایا۔ وجاہت نے فائل سے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ لبوں پر حیرت زدہ گہری مسکراہٹ ابھری۔
“وعلیکم السلام۔۔ تم!۔” اٹھ کر گلے لگتے ہوئے اس نے خوشی کا اظہار کیا۔
“سوچا ملنے چلے آؤں۔”
“بہت اچھا کیا۔ آؤ بیٹھو۔” اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ دے کر وہ خود بھی بیٹھ گیا۔
“کیسا چل رہا ہے تمہارا بزنس؟۔”
“بہت بہترین! تم کراچی کب آئے؟۔” ہاں اسے وہاج کے آنے کا علم ضرور تھا مگر وہ کب کراچی پہنچا یہ نہیں جانتا تھا۔
“میرویس کی شادی سے ایک روز پہلے۔۔ شاید ایک مہینہ مزید ٹھہروں کراچی میں۔۔ پھر لاہور چلا جاؤں گا۔ چند دن اماں ابا کے پاس گزار کر پھر سفر کا سامان باندھ کر انگلینڈ!۔” پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ بتایا گیا۔
“تمہیں اپنوں کی یاد آتی ہوگی۔ مجھے بھی آتی ہے۔۔ کچھ اپنوں کی یاد۔” مسکراہٹ اس کا دکھ نہ چھپا سکی۔ وہاج اس کی بات محسوس کرتا ہوا دور اس لڑکی کی تصویر کو دیکھنا لگا۔
اس نے مزید دیکھنا چاہا مگر دل میں ایک تکلیف سی جاگنے تو اس نے نگاہ پھیر لی۔
“مجھے افسوس ہے تمہارے لیے۔۔” سانس لینے میں دشواری ہوئی تھی مگر وہ بظاہر اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔
“اس سب سے میری بہن واپس نہیں آسکتی وہاج۔” زخمی مسکراہٹ لبوں پر پھیل گئی۔
“مگر جو طریقہ تم اپنا رہے ہو وجاہت! تمہاری بہن اس سے بھی واپس نہیں آسکتی۔” لہجہ ذو معنی ہوا۔ وجاہت کو گویا خاموشی لگ گئی۔
“میں جو کر رہا ہوں، مجھے کرنے دو۔” تھوک نگل کر اس نے رخ موڑ لیا۔
“یعنی تم کسی کی جان لینے والے ہو۔” وہاج اپنے مخصوص ٹھہرے ہوئے لہجے میں گویا ہوا۔
“جان؟۔” وہ کہتے ساتھ ہی استہزایہ ہنسا۔ “جان سے مارنا ہوتا تو کائنہ کے مرنے کے اگلے دن ہی اسے موت کی گھاٹ اتار دیتا۔” ڈمپل گہرا ہوا۔ اس کی چال میں وقار تھا کہ جس طرح وہ اٹھ کھڑا ہوا اور شان سے چلتا ہوا گلاس ونڈو تک آیا۔
“اس کی زندگی عذاب مت بناؤ وجاہت! کسی کا بھی ذہنی سکون ڈسٹرب کرنے کا تمہارا کوئی حق نہیں جب تمہارے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہی نہیں۔۔ آؤ اور مجھے کوئی ایسا ثبوت دکھاؤ کہ میں آنکھوں دیکھی پر یقین کر لوں۔” وہاج نے گھومنے والی کرسی تھوڑی سی گھما کر اس کی جانب موڑی۔
“اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک ہے جو اس رات میں نے دیکھی۔۔”
“یہ کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔۔ وہ کوئی بھی ہوسکتا تھا۔” اسے لگا جیسا وجاہت انتقام کی آگ میں پاگل ہوگیا ہے۔
“تو پھر کیوں ہے میرا دل اتنا مطمئن؟۔” اس بار آواز بلند تھی۔
“کیونکہ تم مکمل طور پاگل ہوچکے ہو! یہ معاملے دل سے نہیں سلجھائے جاتے! ایسا نہ ہو کہ عنقریب تمہیں اس سب کے لیے پچھتانا پڑے۔” اسے گھورتے ساتھ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“تو تم بھی ساویز کی سفارش کے لیے آئے تھے۔” ہری آنکھوں میں دکھ جبکہ ہونٹوں پر ہنسی۔
“ساویز کو کسی مدد کی ضرورت نہیں۔ میں جانتا ہوں کائنہ تمہارے لیے کیا تھی۔ مگر ایسا نہیں ہوتا وجاہت! میرا یقین کرو یہ غلط ہے۔۔ میں اس بات کی آج بھی مزاحمت کرتا ہوں اور کل بھی کروں گا۔ یہ ضرور سوچ لینا کہ اتنے سارے لوگ ایک وقت میں غلط نہیں ہوسکتے۔”
“میں وجاہت سلطان ہمیشہ محبت میں ناکام شخص ہی ٹھہرا ہے۔ ماں باپ کی محبت نصیب نہ ہوئی اور جس سے بیٹی سمجھ کر محبت کی وہ مر گئی۔” آنکھیں کب سرخ ہوگئیں اسے علم نہ ہوا۔ “دوست بچھڑ گئے اور دھوکا دے گئے۔۔ اب جو واحد میری زندگی میں ہے، اس کے حوالے سے ایک ڈر دل میں بیٹھا ہوا ہے۔ کوئی چھین نہ لے۔۔ مجھ سے دور نہ کردے۔ کیسے جیے گا وجاہت سلطان؟ کتنا ڈرتا ہے یہ وجاہت سلطان! دو گارڈز میں نے صرف اپنی بیوی کے لیے رکھے ہیں تاکہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔” وہ اپنا پاگل پن بتا رہا تھا۔۔ جنونی ہوتے وجاہت کی آنکھوں سے کب پانی نکلا وہ جان نہ سکا۔
“میں جانتا ہوں! کائنہ کا قتل ایک راز رہ گیا ہے۔ اور تم اس راز کو جاننے کے بجائے ایک شخص کے پیچھے مسلسل پڑ گئے ہو۔ اس کہانی میں کوئی ملوث نہیں۔۔ میں جب تک یہاں پر ہوں تمہارے ساتھ معاملے کی جانچ پڑتال کرنے کی کوشش کروں گا۔ یہ مجرم اندر کا آدمی ہی ہوسکتا ہے۔۔ ورنہ کوئی گھر میں داخل ہو اور تمہارے گارڈز کو معلوم نہ ہو ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔” وہ اٹھ کر اس کے نزدیک آیا۔ وجاہت خاموش رہا۔ “تمہیں اپنے گارڈز پر پورا بھروسہ ہے؟۔”
“کافی سالوں کا بھروسہ ہے وہاج! یہ ابھی سے نہیں! بہت پہلے سے میرے لیے کام کر رہے ہیں۔”
“حل ضرور نکلے گا۔۔”
“اگر ایک ماہ میں تم خود بھی اس معاملے کو نہ سلجھا سکے تو مجھ سے امید مت رکھنا کہ میں ساویز کو یوں چھوڑ دوں گا۔”
وہاج نے گہری سانس بھری اور وجاہت کو خدا حافظ کہتا باہر نکل گیا۔
باہر دوسرے گارڈز کے ساتھ کھڑا خرم اس کی توجہ کا مرکز تھا۔ جانے کیوں وہ اسے عجیب لگتا تھا۔
گزرتے ہوئے ایک مشکوک نگاہ اس پر ڈالی تھی جس سے خرم بچ نہیں سکتا تھا۔ وہاج کی خود پر نظریں اسے کچھ مختلف محسوس ہوئی تھیں۔
۔۔۔★★★۔۔۔
ولیمہ امید سے بھی زیادہ بہترین گزرا۔ گھر پہنچ کر جیولری اتارتے ہوئے اس نے آئینے کے عکس میں میرویس کو دیکھا جو اسے تک رہا تھا۔
“ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟۔” اس نے پوچھا۔ “جانتے ہو نا کہ رات کا ایک بجنے آیا ہے اور کل ہم دونوں کو ہی آفس جانا ہے۔” اس نے جھمکے اتارتے ہوئے کیس میں رکھے۔
“تم اچھی لگ رہی ہو۔ اب دیکھوں بھی نہیں؟۔” وہ کوٹ اتار چکا تھا۔ کرسی کی پشت پر ہاتھ رکھتا ہوا وہ بیٹھ کر اسے فرصت سے دیکھنے لگا۔
“میں کوئی حسین و جمیل دو شیزہ نہیں کہ اس کا شہزادہ اسے ساری تکتا رہے۔” وہ ہنس پڑی۔
“مجھے شہزادہ کہنے کا شکریہ۔” اپنی تعریف اپنے آپ کرتے ہوئے وہ آنکھیں اس کے بالوں پر ٹکایا ہوا تھا۔
“جب میں حسین و جمیل دوشیزہ نہیں تو تم بھی شہزادے نہیں ہو سکتے۔” رخ اس کی جانب موڑ کر وہ پیار سے اسے دیکھنے لگی جو واقعی آج ولیمے میں شہزادہ لگ رہا تھا۔
“جانتی ہو دو لڑکیاں مجھے دیکھ رہی تھیں۔۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ دونوں مجھے دیکھتے ہوئے کچھ سوچ رہی تھیں۔”
عشنا نے لڑکیوں کے ذکر پر مسکراتے ہوئے سر اٹھایا۔
“کیا سوچ رہی تھیں؟۔” میرویس کی حرکتیں اتنی رات کو سونے والی نہیں تھیں۔ وہ شاید بیٹھ کر مزید باتیں کرنا چاہتا تھا۔
“شاید یہی کہ یہ لڑکا ہاتھ سے نکل گیا۔۔ چڑیل کھا گئی میرویس کو۔۔” کہتے ساتھ ہی زور دار قہقہہ گونجا۔ وہ خود کو کہنے سے روک نہ پایا۔ عشنا جو گھورنے کا ارادہ رکھتی تھی مسکرا دی۔
“تمہیں صرف میں ہی برداشت کر سکتی ہوں! کوئی اور ہوتی تو روز صبح آنکھ فرش پر کھلنے کی وجہ سے تمہیں چھوڑ چکی ہوتی۔ لیکن دیکھو میں کتنی صابر ہوں! تمہارے ساتھ ہوں۔” اس کے بالوں کو آنکھوں میں آنے سے روکتی ہوئی وہ ہنستے ہوئے بولی۔
“تمہیں مجھ سے محبت ہو رہی ہے؟۔” اس کا ہر انداز والہانہ تھا۔
“نہیں۔۔ مجھے تم پر پیار آرہا ہے۔” چلو وہ سچ تو کہتی تھی کہ اسے ابھی محبت نہیں ہوئی۔
“میرے بغیر رہ سکتی ہو؟۔”
“ابھی تک تو۔۔ آگے کا نہیں پتا۔” اس کے بال کو دھیرے سے کھینچتی ہوئی وہ اسے بغور دیکھنے لگی۔
“یہ آنکھیں مجھے اپنی طرح سیاہ لگتی ہیں۔”
“ان آنکھوں میں ڈوبنا مت!۔” وہ ہنس پڑی۔
“ڈوب ہی تو گیا ہوں اور اب مجھے تیرنا نہیں آرہا۔ لگتا ہے ان آنکھوں کے سمندر میں کھو گیا ہوں۔”
“تمہاری باتیں کسی کا بھی دل مول لینے والی ہیں میرویس۔” ہاں وہ سحر رکھتی تھیں۔
“نہیں۔۔ میں چاہتا ہوں یہ صرف تمہارے دل پر قابض ہوجائیں۔ دنیا جہاں جائے مجھے کیا پرواہ!۔” اس کی باتوں میں سحر تھا تو کیا۔۔ عشنا اپنی سیاہ و بھوری آنکھوں میں سحر رکھتی تھی۔
“تمہاری ان باتوں کا طرز اور انداز بہت مختلف ہے۔ میں نے کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔” جانے اس کی باتوں میں سحر تھا یا عشنا کا دل اس میں لگنے لگا تھا۔
“میں نے کبھی کسی کو یہ سب نہیں کہا۔ تمہیں دیکھتا ہوں تو الفاظ خود بننے لگتے ہیں۔ میں کہہ دیتا ہوں تو تم احساس دلاتی ہو کہ یہ الفاظ بہت حسین ہیں۔”
“یہ الفاظ کسی کا دل اپنی جانب راغب کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ تم ایسی باتیں نہیں کیا کرو میرویس۔ مجھے کبھی کسی کی نہ عادت ہوئی نہ میں نے ہونے دی۔ یہ عادت بہت بری چیز ہوتی ہے۔ دماغ جدائی کو تسلیم کر بھی لے تو دل نہیں کرتا۔ وہ ٹھہر جاتا ہے کسی بھٹکے ہوئے مسافر کی مانند۔۔ اور میں نہیں چاہتی کہ مجھے تمہاری عادت ہو۔ مگر یہ الفاظ مجھے ہر بار تمہاری جانب کھینچتے ہو اور جلد امکان ہے کہ تم میری زندگی کو لازم و ملزوم ہوجاؤ گے۔ اگر عادت ہوگئی تو میں تم سے دو پل بھی دور نہیں رہ پاؤں گی۔ میرے ساتھ ایسا مت کرو۔” اس کے مردانہ بھاری ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتی ہوئی وہ التجا کرنے لگی جبکہ میرویس صرف مسکراتا ہی رہا۔
“مجھے نہیں لگتا میں تمہاری بات مانوں گا۔ مجھے لگتا ہے مطلبی ہوجاؤں گا۔”
اس کی بات پر عشنا نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارا تھا۔
“بدتمیز۔۔۔” رخ موڑتے ہوئے وہ دوبارہ آئینے کے عکس میں اسے دیکھنے لگی جو اب پہلے کی طرح صدیوں کی فرصت لیے اسے اشتیاق بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
آج بہت دنوں بعد باریال اور تقی نے تاش کے پتے سجائے تھے۔
“تم جانتے بھی ہو کہ ہار جاؤ گے۔ پھر بھی پتے نئے کھیل کے لیے سجانے لگتے ہو۔” وہ مسکرا رہے تھے۔
“اب ہارنے میں بھی لطف محسوس ہوتا ہے انکل!۔” اس نے پہلا پتا پھینکا۔
“ہوں۔ میں چاہتا ہوں تم ساویز کے گھر جاؤ۔ اس سے مل کر آؤ اور پھر مجھے بتاؤ۔”
“انکل میرا ملنا ضروری نہیں۔۔ مگر آپ کا ہے۔ آپ کو نہیں لگتا کہ یہ قطع تعلقی بہت طویل ہوگئی ہے؟۔”
تقی کو سانپ سونگھا۔
“وہ میری بات نہیں مانتا۔”
“کوئی اپنی بیوی کیسے چھوڑ سکتا ہے جسے وہ چاہ سے اپنا کر لایا ہو۔” اس نے گہری سانس بھری۔
“کیا باپ کی اہمیت نہیں؟۔” پیشانی پر بل نمودار ہونے لگے۔ باریال تکتا رہ گیا۔
“آپ اس سے ملنے نہیں جائیں گے؟ حالانکہ میں جانتا بھی ہوں کہ آپ کو ساویز بھائی کی یاد آرہی ہے۔”
“نہیں۔۔ ہاں وہ میرا بیٹا ہے مگر میں اس سب کے بعد خود اس سے ملنے نہیں جاؤں گا۔ اسے میری یاد آئے تو چلا آئے گا۔” وہ منہ پھیر کر گویا ہوئے۔
“موقعے ہاتھ سے پھسل جائیں دوبارہ نصیب نہیں ہوتے!۔” یہ جملہ ان کے دماغ میں اٹکا تھا اور وہ خود کو تاش کے پتوں میں الجھاتے رہ گئے تھے۔
۔۔۔★★★۔۔۔
جانے یہ پروگرام کیسے بنا اور کس نے آغاز کیا۔ وہ آفس ٹیبل پر رکھے نوٹ پیڈ پر کچھ لکھ رہی تھی میرویس نے اسے کال کر کے سب کچھ بتایا۔
“اتنا اچانک پلان؟۔” وہ حیران تھی۔
“ہاں۔ میں آدھے گھنٹے تک تمہیں لینے آجاؤں گا۔ وہاج کی کوئی بیوی تو ہے نہیں کہ اسے میری طرح خوار ہونا پڑے تو وہ ڈائریکٹ وہیں پہنچ جائے گا۔ جب تک تم اپنے اس بےوقوف مینجر سے چھٹی کی درخواست کردو۔” کال رکھی جا چکی تھی اور عشنا کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ صوفیہ کو بتاتے ہوئے وہ اپنا سامان سمیٹنے لگی۔ تقریباً آدھے گھنٹے میں وہ اپنے آفس کے باہر کھڑی تھی۔
“میرے پاس ڈارلا ہے۔ پھر تمہیں آنے کی ضرورت نہیں۔”
“عاشی ہم دونوں الگ الگ گاڑیوں میں جاتے اچھے لگیں گے؟ بہرحال تم گھر آؤ اور اپنی ڈارلا کو پارک کردو۔ میں وہیں آتا ہوں۔” عشنا نے دانت پیسے تھے۔
“تم میری ڈارلا سے شرمندگی محسوس کرتے ہو نا؟ کہ کیا سوچیں گے لوگ اسے دیکھ کر؟۔”
میرویس کی آنکھیں پھٹ کر رہ گئیں۔
“تمہارا دماغ درست ہے؟ میں ایسا کیوں سوچوں گا۔ وقت نہیں ہے یار۔ جلدی آجاؤ۔ میں آفس سے نکل چکا ہوں۔” کال رکھ کر اسے آنے کا حکم دیتے ہوئے وہ عشنا کو مزید جھنجھلا چکا تھا۔ وہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
سمندر میں ڈوبتا سورج دیکھنے کا اسے بہت اشتیاق تھا۔ پلٹ کر ساویز کو دیکھا جو ہٹ کی دیوار پر بیٹھا وہاج سے کوئی بات کر رہا تھا۔ دوسری جانب عشنا اور میرویس تھے جو آپس میں ہی لڑ رہے تھے۔ غنایہ کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ یکدم ہی میرویس کے بلبلا کر چیخنے کی آواز آئی تو ساویز اور وہاج سے پہلے غنایہ نے مڑ دیکھا۔ عشنا نے اس کے بازو پر قوت سے چٹکی کاٹی تھی اور اب تیزی سے لوگوں کو متوجہ ہوتے دیکھ کر اس کے پیر مڑنے کا بہانہ بنا رہی تھی۔
“ان کا پیر مڑ گیا ہے۔” گڑبڑا کر کہا گیا۔ حالانکہ میرویس کی گھورتی نظریں اس کا جھوٹ پکڑنے کے لیے کافی تھیں۔ غنایہ مسکرا کر دوبارہ آگے دیکھنے لگی۔ سمندر کی لہریں اس کے پاؤں کو چھوتی ہوئی پیچھے جا رہی تھیں۔
وہ ساتھ کھانے پینے کا سامان لائی تھی جو ہٹ میں رکھا تھا۔ ساویز اسے دیکھ کر مبہم سا مسکرایا تھا اور وہ نہال ہوگئی تھی۔
پندرہ منٹ بعد منظر کچھ مختلف تھا۔
عشنا اور غنایہ آپس میں گفتگو کر رہی تھیں اور ساویز کھانے کا سامان لگا رہا تھا۔ میرویس کے ساتھ وہاج باتیں کر رہا تھا۔ سورج کچھ اور نیچے آگیا تھا۔
“تم نے شادی کیوں نہیں کی؟۔”
وہاج کے ذہن میں کسی کا چہرہ گھ تمومنے لگا۔ اب وہ اسے کیا ہی بتاتا کہ شادی کوئی گڑیا گڈا کا کھیل نہیں۔۔ انسان اکثر اسی سے شادی کرتا ہے جسے وہ اپنی بعد کی زندگی کے لئے تسلیم کرلیتا ہے۔ اس کی زندگی میں ایک ایسا شخص آکر جا چکا ہے اور اب یہ شادی اس کے بس کی بات نہیں۔ ابھی وہ جواب ہی دیتا کہ عشنا کی دور سے آواز آئی۔
“میں نے تم سے کہا تھا نا کہ کولڈ ڈرنک رکھ لینا؟ لیکن تم تو بیوی کو بھی بیوقوف سمجھتے ہو۔” چڑ کر کہا گیا۔ ایک نظر بیوی کو دیکھا اور وہاج کو۔۔
“اس لیے شادی نہیں کی۔۔” وہاج سنجیدہ ہوا۔ اس کا اشارہ عشنا کی جانب تھا۔ میرویس کا قہقہہ چھوٹتا اگر وہ عشنا کو نہ دیکھ لیتا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“آپ پین کیکز نہیں کھاتے؟۔” غنایہ نے نوٹ کرتے ہوئے پوچھا۔
“مجھے یہ سب سے زیادہ پسند ہیں۔۔ مگر صرف امی جان کے ہاتھوں سے بنے ہوئے۔” ماں کا ذکر کرتے ہوئے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ “اب بھی جاؤں گا تو امی سے پین کیکز ہی فرامائش کروں گا۔” سب ساتھ ہی بیٹھے ہوئے تھے اور اسے بغور سن رہے تھے۔
“آپ کی امی آپ کو یاد کرتی ہوں گی۔”
“اور جتنا وہ کرتی ہیں۔۔ میں بھی اتنا ہی کرتا ہوں۔ خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ بلآخر اتنے سالوں بعد میں اپنی ماں سے مل سکوں گا۔” چائے میں بسکٹ میں ڈباتے ہوئے اس نے ایک نظر ڈوبتے سورج پر ڈالی۔
“یہ استاد ہے ہمارا۔۔۔ پیشہ ورانہ طور پر بھی استاد ہی ہے۔” میرویس کے جملے پر ساویز ہنسا۔ اب اس کا یوں ‘استاد’ کہنا یقیناً وہاج کو نہیں بھایا تھا۔
“میں ایک پروفیسر اور جیسے کوئی پروفیسر کتاب یاد رکھتا ہے اسی طرح میں بھی لوگوں کی باتیں یاد رکھتا ہوں۔۔ اور چہرے بھی۔۔”
عشنا مسکرا دی۔
“آپ پروفیسر ہیں۔ پھر تو یقینا اپنے اسکول، کالج ٹائم پر ٹاپ کیا کرتے ہوں گے۔” عشنا کے سوال جہاں وہاج کے لبوں پر مسکراہٹ ابھری وہیں میرویس کا قہقہہ گونجا۔ ایسا تو کبھی نہیں ہوا ہوگا۔
“میں نے کبھی ٹاپ نہیں کیا۔ مجھے یاد ہے کمیسٹری کا پیپر دے کر جب میں کلاس سے نکلا تھا تو میری ہم جماعت نے مجھے ڈانٹا تھا۔ اس کا نام صبا تھا۔ کہنے لگی ‘تمہیں شرم نہیں آتی وہاج؟ تمہارے مارکس کتنے کم آتے ہیں’ اور میں بس یہی کہتا رہتا تھا کہ مجھے ٹاپ کرنے کا کوئی شوق نہیں۔ میں اتنا پڑھتا ہوں کہ پاس ہو سکوں! یا جتنی سکت ہے۔۔ سچ کہوں تو مجھے ان سے چڑ ہے۔ ٹیسٹ میں دو نمبر کم لانے پر بھی وہ روتے ہیں اور میں دو نمبر سے پاس بھی ہوجاؤں تو خوشی سے پاگل ہونے لگتا تھا۔” اس کی باتیں واقعی سب کو ہنسا دینے والی تھیں۔
“آدھے گھنٹے میں سامان سمیٹنا ہے۔ اندھیرہ پھیلنے لگا گا۔” ساویز نے غنایہ کے ہاتھوں سے چائے کا کپ تھاما۔ اس کی بات پر سب نے ہی اتفاق کیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“آپ مجھ سے اب ناراض تو نہیں ہیں؟ وہ پیسے میں نے خود سے نہیں مانگے تھے۔ امی دینے آئی تھیں۔” رات کو سونے سے قبل غنایہ نے شوہر سے پوچھا تھا۔
“میں پہلے بھی ناراض نہیں تھا غنایہ۔ بس مجھے تکلیف ہوئی تھی۔۔ اور یہ تکلیف کا ہی اثر تھا کہ میرا دل نہیں مان رہا تھا۔” ٹھنڈ بڑھ رہی تھی۔ لحاف میں گھستے ہوئے وہ دھیرے سے اس کا ہاتھ تھامتا ہوا آنکھیں موند کر لیٹ گیا۔
“میں بہت اداس ہوگئی تھی۔”
“اور مجھے تکلیف ہوئی تھی۔۔ مگر میں جانتا ہوں جو تم نے کیا وہ صرف میرے لیے تھا۔” ہاتھوں کی پشت چومی گئی۔ وہ مسکرا دی اور کتاب پڑھنے لگی۔
“لائٹ بند کردوں؟۔” یہ سوچ کر وہ اپنے نوٹس نہیں پڑھ پائے گی ساویز نے منع کردیا۔
“نہیں۔۔ مجھے تو اب ویسے بھی لائٹ میں سونے کی عادت ہوتی جا رہی ہے۔” اس کا ہاتھ اب بھی ہاتھ میں تھا اور آنکھوں میں نیند بھری تھی۔ وہ آنکھیں موندے ساتھ ہی سوگیا تھا اور غنایہ اسے محبت سے تکتی رہ گئی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
ایک مہینہ کب بیتا خبر ہی نہ ہو سکی۔ وہاج جو اپنی وکیشنز کے آخری بیس دن اپنی ماں کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا ساویز اور وجاہت کی وجہ سے دس دن کراچی میں مزید ٹھہر گیا۔ دس دن بعد اب اس کی لاہور کی فلائٹ تھی جہاں ماں کے ساتھ مزید دس دن گزار کر وہ انگلینڈ لوٹ جاتا۔
آج کل وہ اپنا زیادہ تر وقت وجاہت کے آفس میں گزارا کرتا تھا۔ اس ایک مہینے میں اس کا خرم پر شک مزید بڑھ گیا۔ اس کی حرکتیں، جذباتیت کبھی سمجھ نہ آتیں۔
میرویس کی روٹین ٹف ہوگئی۔ وہ جو پہلے ہی رات آٹھ بجے لوٹا کرتا تھا، اب بارہ بجے تک آنے لگا۔ شاید یہ مہینہ اس کی جاب کے لیے کافی بھاری تھا۔ مزاج میں سنجیدگی لوٹ رہی تھی۔ آفس میں وہ جب فری ہو پاتا عشنا کو کال لازمی کیا کرتا۔ اپنے کام کے بوجھ سے تنگ ہوکر وہ اس سے دھیرے ساری باتیں کیا کرتا تھا اور رات لوٹتے ہی مزاج میں سنجیدگی لوٹ آتی تھی۔ بات بات پر چڑنے لگا تھا جو اس کی تھکاوٹ کی نشانی تھی۔ عشنا اس کا انتظار کرتے کرتے رات کا کھانا اکیلے ہی کھالیتی تھی مگر اس کے گھر آنے کے بعد جب وہ خود ڈنر کرتا تو اسے بلکل اپنے بازو میں بٹھایا کرتا تھا۔ کھانے کے درمیان وہ پہلے بھی کوئی بات نہ کرنے کا عادی تھا اس لیے پورے دورانیے میں وہ دونوں خاموش ہی ہوتے تھے۔ عشنا کبھی اٹھنا چاہتی تو اس کا ہاتھ تھام کر وہ اسے جانے سے روک لیتا۔ گھر لوٹنے کے بعد اسے عشنا کی موجودگی چاہئیے ہوتی۔
ساویز جو پہلے کبھی ماضی کے بارے میں سوچا کرتا تھا، اب مزاج میں کافی تبدیلی آگئی تھی۔ اس نے پوری طرح سے خوش رہنا سیکھ لیا تھا۔ اس گھر کی اب عادت ہونے لگی تھی۔۔ یہ ماحول اور محلہ! اب کوئی دروازہ پیٹ بھی دیتا تو وہ چونکتا نہیں تھا۔ غنایہ کے ساتھ کپڑے دھوتے ہوئے وہ کوئی غلطی نہیں کرتا تھا۔ اے سی کی اب کمی محسوس نہ ہوتی اور گاڑی چلانے کے لیے دل نہیں تڑپتا تھا۔ دونوں کا دن ہی ہنستے ہنستے گزر جاتا اور خبر بھی نہ ہوتی۔ ہر اتوار کو ضرور باہر نکلتے اور ساتھ واک کیا کرتے تاکہ پورے ہفتے کی باتیں ‘ایک بار پھر’ ایک دوسرے شئیر کر سکیں۔
البتہ تقی اکیلے میں خوف محسوس کر رہے تھے۔ باریال کی موجودگی سے انہیں کچھ ڈھارس تھی مگر سگی اولاد تو پھر اپنی ہوتی ہے۔ پرانے البم دیکھتے ہوئے وہ بیٹے کی ہر تصویر پر ہاتھ پھیر رہے تھے۔ انہیں ماضی یاد آنے لگتا۔
یہ سوچ کر تکلیف ہونے لگی کہ وہ کیسے اپنے انیس سال کے لڑکے کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ مزید پیسہ جمع کرنے کی خواہش نے انہیں اپنوں سے جدا کردیا تھا۔
روز سونے سے قبل ایک بار البم دیکھ لیتے تو دل کو ذرا قرار مل جاتا اور نیند بھی میٹھی آیا کرتی۔
ساویز وہاج سے اکثر لاہور لوٹنے پر اصرار کرتا تھا۔۔ مگر وہ یہی کہہ کر ٹال دیتا کہ جب تک تمہارا معاملہ حل نہیں ہوگا میں ان دس دنوں سے پہلے نہیں جاؤں گا۔ اسے یاد تھا جب وہاج اسے اپنا موبائل پکڑا کر کسی کام سے باہر گیا تھا اور موبائل پر اس کی اماں کی کال آگئی تھی۔ کال اٹھانے پر اسے احساس ہوا کہ اب وہاج کو لاہور چلے جانا چاہئیے۔ اس کی اماں اسے بہت یاد کرتی تھیں۔ روز اپنے ماں باپ سے بات کر کے سویا کرتا تھا کہ اسے خود بھی ڈھارس رہے اور اس کے ماں باپ کو بھی۔۔ بھائی کے روز میسجز بتاتے تھے کہ وہ اسے کتنا یاد کرتا ہے اور وہاج روز ہی اسے یقین دلاتا تھا کہ عنقریب وہ اس سے ملنے آرہا ہے۔
اور بلآخر وہاج۔۔ آج اتنے دنوں بعد وجاہت کو یہ بتانے جا رہا تھا کہ اسے وجاہت کے خاص بندے پر شک ہے۔ خرم خود پر اس کی مشکوک نظریں محسوس کر کے بہت کچھ سمجھ رہا تھا۔ یعنی خطرہ بڑھ رہا تھا۔۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“تمہیں غصہ نہیں آتا؟ میں نے کبھی تمہیں غصے میں نہیں دیکھا۔” وہ دونوں اپنے لیے چائے اور کافی بنا رہے تھے۔ عشنا کو کافی میں دلچسپی نہیں تھی اس لیے وہ اسے بنانا بھی نہیں جانتی تھی۔
“میں غصہ کرسکتا ہوں مگر کرتا نہیں۔” لبوں پر مسکراہٹ ابھری۔
“کیوں؟ کیوں نہیں کرتے غصہ؟۔” عجیب شخصیت تھا۔۔ ہر وقت مسکراتا رہتا تھا۔ (سوائے رات کے کہ جب آفس سے تاخیر ہوجایا کرتی تھی)
“میرے پیار میں کپکپا جاؤ گی۔” ہنس کر گویا ہوتے ہوئے وہ مگ میں چمچ گھمانے لگا۔
“تم جانتے ہو مجھے بھی غصہ آتا ہے۔” اتنے ہی پیار سے عشنا نے کہا تھا۔
“ہاں جسے میں روز دیکھتا ہوں۔” اس کی چائے میں چینی ڈالتے ہوئے وہ شریر لہجے میں کہنے لگا۔ “ویسے شوہر کے حقوق تو پڑھے ہی ہوں گے؟۔” ترچھی نگاہوں سے کہتا ہوا وہ بظاہر سرسری بولا۔
“کبھی اتنا ضروری نہیں سمجھا۔” مذاق کا جواب مذاق میں دیتی ہوئی وہ سنجیدگی سے بولی تو میرویس کڑھ کر رہ گیا۔۔
“تمہاری زندگی کی کتاب میں صرف تین نام درج ہیں۔ پہلا میرویس، دوسرا میرویس، تیسرا میرویس۔۔” ایک انداز سے کہا گیا۔ عشنا اس کا چہرہ ہی تکتی رہ گئی۔
“پورا نام لیا کرو! پہلا میرویس چوہدری، دوسرا میرویس افتخار، تیسرا میرویس جہانگیر!۔” وہ اس کی بات کو بگاڑ کر اسی پر موڑ کر گئی۔ میرویس کا چہرہ سرخ ہوا۔
“میری بات سنو! تمہاری زندگی میں میرے علاؤہ کوئی آبھی نہیں سکتا!۔” ڈپٹ کر سمجھایا۔
عشنا کھلکھلا دی۔۔
“تو مت چھیڑا کرو نا مجھے! اب دیکھو میں نے تمہیں چھیڑ دیا تو کتنا برا لگ گیا ہے تمہیں۔۔” چائے گھونٹ بھرتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولی۔
“تم کیسے کسی اور مرد کی میرے سامنے بات کرسکتی ہو۔” وہ چڑ گیا تھا۔
“میں نے یونہی کہہ دیا تھا کیا ہوگیا ہے میرویس؟ وہ مرد کون ہیں مجھے علم بھی نہیں۔” اسے سنجیدہ ہوتے دیکھ کر وہ چونکی۔ “آفس کی وجہ سے تو ویسے ہی تم چڑچڑے ہونے لگے ہو۔”
“میں کروں کسی لڑکی کا ذکر تو تمہارا موڈ بگڑ جاتا ہے۔”
“ہاں تو مت کیا کرو!۔” وہ بھی برابر میدان کودی۔
“اور تم کرو تو درست ہے؟۔” لڑائی کا ایک بار پھر آغاز ہوا۔
“میرے منہ مت لگو اور اپنی کافی پیو! ورنہ تم دونوں کو ڈسٹ بن میں پٹخ دوں گی۔”
“جتنی تمہاری صحت ہے نا! میں تمہیں کمرے کے ٹیرس سے باہر پھینک سکتا ہوں۔” ایک بار پھر دھان پان سی عشنا پر حملہ کیا گیا۔ عشنا کا چہرہ سرخ ہوا۔
“صحیح کیا تھا تمہاری پہلی منگیتر نے تمہیں چھوڑ کر۔۔ کون رہتا تمہارے ساتھ! میں ہوں جس نے صبر کیا۔۔” وہ خود کو مظلوم پیش کرنے لگی۔۔
“وہ سب تمہاری محبت میں تھا۔۔ ورنہ پسند تو وہ بھی مجھے بے تحاشہ کرتی تھی۔”
“بس بس! کتنی لڑکیاں تم پر مرتی تھیں مجھے یہ جاننے میں ذرا دلچسپی نہیں۔ فالحال تو میں تمہارے گھر والوں کا ‘رائمہ نامہ’ سن رہی ہوں۔” وہ مزید اسے غصہ دلانے لگی۔
“دماغ کی پھر کی مت گھماؤ۔” میرویس نے اسے گھوری سے نوازا۔
“میں کون ہوں جانتے بھی ہو؟۔” عشنا کو طیش ایا۔
“ہاں! ٹینشن ہو تم! اوپر سے شادی بھی کر لی میں نے تم سے۔۔” اسے سر تا پیر دیکھتے ہوئے کافی مگ تھام کر وہ دوسرے روم میں چلا گیا جبکہ عشنا بھی غصے سے اپنے کمرے میں بڑھ گئی۔ دونوں نے الگ الگ کمروں میں جا کر اندر سے دروازہ ہی لاک کردیا تاکہ کوئی کانٹیکٹ نہ ہو سکے۔
۔۔۔★★★۔۔۔
آج وہ اس کے آفس کسی مقصد سے آیا تھا۔ ایک بار پھر خرم سے سامنا ہوا تھا مگر اسے نظر انداز کرتا ہوا وہ وجاہت کے روم میں داخل ہوا۔
“میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا اور یہ انتظار تو بہت بڑھ گیا تھا جب تم نے کہا کہ تمہیں مجھ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔” وجاہت کی مسکراہٹ کے باعث ڈمپل گہرے ہوئے۔
وہاج مروتاً مسکرایا۔ نجانے اس نے ایسا کیوں سوچا مگر اسے لگتا تھا کہ جانے سے قبل اب یہ بات اسے وجاہت کو بتادینی چاہئیے۔
مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کا یہاں آنے کا فیصلہ ہی غلط تھا۔۔ قیامت خیز فیصلہ!
“ہوں۔ چند دن مزید یہاں پر ہوں پھر جانے کب آنا ہو۔۔ چار سال، پانچ سال بعد! اگر آ بھی سکا تو کراچی نہیں آسکوں گا۔” وہ دوست کو دیکھتے خیال کر رہا تھا کہ ایک بار انگلینڈ جانے کے بعد وہ دوبارہ اپنے دوستوں کو دیکھ سکے گا یا نہیں۔۔ مستقبل کون جانتا ہے۔ سو وہ بھی نہیں۔ ورنہ وہ کبھی ایسا نہ کرتا۔
“گھر والوں سے دور رہنا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے۔” وہ جو جملہ خود اس کے لیے کہہ رہا تھا، خود پر بھی محسوس کر رہا تھا۔
“بہت زیادہ وجاہت! بہت زیادہ۔” اسے وہ گزرے ہوئے چار سال یاد آئے تو بول پڑا۔ “ماں باپ، بھائی! وہاں کوئی دوست بھی اپنا نہیں لگتا۔ چار سال بعد کی ملاقات میں تڑپ بہت ہے۔ مجھے لگتا ہے جب میں گھر والوں سے ملنے جاؤں گا تو اس کے بعد انگلینڈ نہیں جا سکوں گا! قدم ٹھہر جائیں گے میرے۔۔۔ الوداع نہیں کہا جاتا۔” دل میں ایک بوجھ کے ساتھ وہ اپنے دل کا حال سنا رہا تھا۔
“الوداع۔۔” وجاہت اس لفظ میں کھو گیا۔ “مجھ سے بھی نہیں کہا جا رہا تھا۔۔ کہنا پڑا۔” دیوار پر لگی کائنہ کی تصویریں اس کی توجہ کا مرکز تھیں۔
“میں آخری بار تمہارے آفس آرہا ہوں۔ اس کے بعد اگر ہم ملے تو تمہارے آفس میں نہیں ملیں گے۔۔ اور جانے سے پہلے یہ چاہتا ہوں کہ تم کو اپنا خیال سنا دوں کہ میں اس معاملے میں کیا سوچتا ہوں۔” اس کی نگاہ یکدم ہی کائنہ کی تصویر پر ٹھہر گئی۔ عجیب تھا۔۔ دل سنسان تھا کہ وہ اب کبھی کراچی نہیں لوٹ سکے گا۔۔ پہلے کسی کو دیکھ کر دل میں محبت جنم لیتی تھی مگر اب وہ صرف اس کی تصویر تکا کرتا تھا۔۔ ایک بات تو طے تھی! قصہ ختم ہوگیا۔ اب نہ وہ شخص تھا اور نہ اب اس کی تصویر رہنے والی تھی۔
“تم مجھ سے کچھ بات کرنے والے تھے۔” وجاہت نے اسے ہوش دلایا تو وہ چونک اٹھا۔ وجاہت نے اس کے یوں چونکنے پر اس کی نگاہوں کے تعاقب میں کائنہ کی تصویر دیکھی۔
“خرم! مجھے وہ بے حد مشکوک معلوم ہوتا ہے۔ کیا تم نے اس کی جانچ پڑتال کی ہے؟۔” بلآخر وہ بول پڑا۔
“خرم؟۔” وجاہت جی بھر کر چونکا۔ “تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے۔ یہ ناممکن ہے۔”
“کیونکہ ایسا ہی ہے وجاہت! یا پھر مجھے ایسا لگتا ہے۔” اس نے ٹانگ پر ٹانگ جمائی۔
“تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ ایسا ممکن نہیں وہاج! وہ میرا خاص بندہ ہے اور ابھی سے نہیں! ہمیشہ سے۔۔۔ اتنے سالوں میں اس نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔ بہرحال تم یقیناً غلط سمجھ بیٹھے ہوگے۔ کوئی بات نہیں اگر تم اس معاملے کو سلجھا نہیں پائے۔ میرا شک ابھی بھی ساویز پر ہی ہے۔” کہتے ساتھ ہی اس نے گھڑی میں وقت دیکھا۔ وہاج گہری سانس بھر کر رہ گیا۔ “تین بجنے والے ہیں اور مجھے اپنی دوسری برانچ جانا ہے۔ تم سے ملاقات ہوتی ہے۔” اس سے ہاتھ ملاتا ہوا وہ اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر باہر کی جانب بڑھ گیا۔ وہاج کو لگا وہ اسے کبھی سمجھا نہیں پائے گا۔ بے بسی سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ ابھی وہ پلٹ ہی رہا تھا جب کائنہ کی تصویر نے اس کے قدم جکڑے۔ ارادہ تبدیل کرتا ہوا وہ میز تک آیا اور اس کی تصویر اٹھا کر دیکھنے لگا۔ یہ کمرہ کائنہ کی تصویروں سے بھرا ہوا تھا۔ پانچ منٹ تک اسے تکنے کے بعد وہ سر جھٹک کر تصویر دوبارہ جگہ پر رکھتا ہوا باہر نکل گیا۔ ابھی وہ لفٹ کی جانب بڑھ رہا تھا جب ایک کمرے سے آتی آواز نے اسے رکنے پر مجبور کیا۔ کمرے کا دروازہ ادھ کھلا تھا۔
“ہاں میری پسند کائنہ!۔”
“وہ خون بھی۔۔”
“بہت بہا تھا۔”
“وہ کبھی نہیں جان پائے گا۔” کہتے ساتھ ہی زور دار قہقہہ۔ نہ صرف یہ جملے بلکہ وہ آواز بھی خرم کی تھی۔۔ دیکھتے ساتھ ہی وہاج نے پوری کہانی سنی تھی۔ یہ جانے بغیر کے باہر کوئی بھی کھڑا ہو کر ان کی باتیں سن سکتا ہے خرم اور احسن دونوں ہی باتیں کر رہے تھے۔
ہاں شاید انہیں خبر تھی کہ وجاہت جا چکا ہے۔
مگر وہ دونوں یہ نہیں جانتے تھے وہاج موجود ہے۔
اس کو لگا کہ سانسیں ٹھہر جائیں گی۔ قدم بھاری ہونے لگے اور سانس سینے میں گھٹنے لگیں تو اس نے سفید ہوتے چہرے کے ساتھ دروازہ پورا قوت سے کھولا۔
ایک آواز پیدا ہوئی اور خرم، احسن کے چہروں کی ہوائیاں اڑ گئیں۔
“کیا بات ہے یار۔۔ جو کہانی میں ایک مہینے سے کھوجنے کی صرف کوشش کرتا رہ گیا وہ مجھے وجاہت کے ہی آفس کے کسی کمرے سے ملی۔” لبوں پر ہلکی مسکراہٹ پھیلی۔ خرم نے تھوک نگل کر اسے دیکھا۔ “اب شاید راز نہ چھپا رہے۔” وہ کہتے ساتھ ہی باہر کی جانب تیزی سے بڑھا۔
خرم بوکھلا کر رہ گیا۔ وہاج کی پہلی غلطی کمرے کا دروازہ کھولنا تھی۔۔ اس کا احساس بھی اسے عنقریب ہونے والا تھا۔
خرم نے احسن کا چہرہ دیکھا جو سہم کر سیاہ پڑ رہا تھا۔
“وہ باس کے پیچھے جا رہا ہے۔ ہمیں کچھ کرنا ہوگا خرم!۔” اس کی گھٹی گھٹی آواز خرم کو ہوش میں لانے کے لیے کافی تھی۔
“صحیح کہہ رہے ہو۔۔ ہمیں کچھ کرنا ہوگا۔” جیب سے پستول نکالتے ہوئے وہ اس کو اشارہ کرتا ہوا وہاج کے پیچھے بھاگا۔
جب تک وہ عمارت سے باہر نکلے وہاج گاڑی ان کے سامنے سے نکالتا ہوا زن سے آگے بڑھ گیا۔
“گاڑی نکالو۔” اس نے بلند آواز میں احسن حکم دیا۔
اب منظر کچھ مختلف تھا۔ وہاج تیزی سے ڈرائیونگ کرتا ہوا بہت دور وجاہت کے پیچھے جا رہا تھا۔ جبکہ پیچھے آتے وہ دونوں اس کو ختم کرنے ارادہ رکھتے تھے۔
دس منٹ وہ گاڑیاں سڑک پر دوڑتی ہوئی نظر آئی تھیں۔ وہاج نے بیک مرر سے پیچھے آتی اس گاڑی کو دیکھا۔ پل سنسان تھا۔ اسی اثناء میں اس کی گاڑی پر گولی ماری گئی جس کی آواز کان پھاڑ دینے والی تھی۔ وہاج اس گولی سے بچتا ہوا کسی طرح جلدی سے پل کراس کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ پل کے دونوں طرف گہری کھائی تھی۔ وہ جانتا تھا اگر یہاں ٹریفک ہوتا تو وہ لوگ فائر نہیں کرتے۔ خرم کی گاڑی نے سائڈ سے اس بری طرح ہٹ کیا تھا کہ وہ گاڑی کھائی کی طرف کھنچتی چلی گئی تھی۔
اس کا سر آگے اتنی زور سے لگا کہ سر گھوم گیا۔ کب خون بہنے لگا اسے تب علم ہوا جب پیشانی سے نیچے تک کچھ نمی سی محسوس ہوئی۔ وہاج نے ماتھا چھو کر دیکھا تو ہاتھ خون سے سرخ تھا۔ وہ تیزی سے تکلیف سے کراہتا ہوا باہر نکلا۔ خرم نے گاڑی پیچھے کی۔ وہ اب شاید پیچھے سے تیز رفتاری سے گاڑی ہٹ کرنے والا تھا۔ اس کے ارادے جان کر وہاج جلدی سے باہر نکلا۔ گاڑی تیزی سے آگے آئی اور وہاج کی گاڑی کو پہلے سے زیادہ زور سے ہٹ کیا۔ زور دار آواز کے ساتھ وہ پل سے نیچے گر گئی۔ پل اب بھی سنسان تھا۔ وہاج اپنی زخمی پیشانی پر ہاتھ رکھتا ہوا دور ہٹا تھا۔ ماحول میں یکدم ہی خاموشی چھا گئی۔ خرم گاڑی سے نکلتا ہوا اس کی جانب مسکراتا ہوا بڑھا۔
میر وہاج خاقات ان مردوں میں سے نہیں تھا جو بھاگ نکلتا۔ وہ ڈٹ کر اس زخمی حالت میں بھی کھڑا ہی رہا۔
پستول اس کے ہاتھوں میں تھی اور اب وہ اس کے بلکل سامنے کھڑا تھا۔ گولی کا نشانہ اس کی پیشانی کو بنایا گیا۔
“تمہاری پہلی غلطی اس کمرے کا دروازہ کھولنا تھی۔ اگر تمہاری موجودگی کا ہمیں علم نہ ہوتا تو تم بچ نکلتے۔” شاطرانہ انداز میں کہتا وہ وہاج کو بری احساس دلا گیا۔ آگے کچھ نہیں تھا۔۔ وہاج کو اندھیرہ محسوس ہوا۔ آواز کہیں حلق میں ہی پھنس گئی تھی۔ اسے افسوس تھا۔۔ دکھ تھا۔۔ تکلیف تھی۔ ان سے قبل اسے وجاہت کے پاس پہنچنا تھا اور یہ ایک آرزو ہی رہ گئی۔ وہ وجاہت کے پاس کبھی نہ پہنچ سکا۔ وہ وجاہت کو بتا نہیں سکا۔۔ سب کچھ جان لینے کے بعد بھی وہ اسے خبردار نہ کر سکا۔ اس پر سچ نہ عیاں کر سکا۔ اس سے قبل وہ اس پستول کے نشانے پر آنکھیں سختی سے موند لیتا خرم بول پڑا۔
“میں تمہیں پستول سے نہیں ماروں گا۔” استہزایہ لہجہ۔ وہاج نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
“میں مرنا نہیں چاہتا۔” خیال میں ماں کا چہرہ ابھرا تو اسے احساس ہوا وہ کتنا مجبور ہے۔ بس ایک بار وہ اپنی بیمار ماں ، بوڑھے باپ اور چھوٹے بھائی سے ملنا چاہتا تھا۔۔ وہ جن کے لیے اس نے چار سال لمبی وکیشنز کا انتظار کیا۔ وہ جن کے دیدار کے لیے تڑپ رہا تھا۔ بس ایک بار! ایک بار اسے ملاقات مہلت دی جائے۔ وہ یوں مرنا نہیں چاہتا تھا۔ کم از کم ایسے نہیں۔۔ خرم کا قہقہہ گونجا تھا۔
“کوئی نہیں مرنا چاہتا میر وہاج خاقان!۔” کہتے ساتھ ہی خرم نے پوری قوت سے اس کے سینے پر زور سے دکھا دیا۔ وہاج اس سب کے لیے تیار نہیں تھا اس لیے توازن برقرار نہ رکھ سکا اور دور ہٹنے لگا۔ کب پیروں تلے زمین نکلی اسے خبر ہی نہ ہوسکی۔ خرم کو اس کی چیخ کی بھرپور آواز آئی تھی۔ وہ مسکرادیا۔ ذرا سا آگے پہنچ کر اس نے کھائی میں جھانکا۔
“کھائی تو بہت گہری ہے یار۔۔ لیکن اتنی نہیں کہ اس کی ہڈیاں نہ مل سکیں۔” اب وہ پہلے کی طرح پریشان نہیں تھا۔ یہ سوچ کر وہ پرسکون ہوچکا تھا کہ چلو اب کوئی خطرہ نہیں۔۔
“تم نے اسے ماردیا۔” احسن چیختا ہوا گاڑی سے نکلا تھا۔
“ہاں۔” خرم نے پستول کوٹ میں رکھی۔
“تم۔۔ تم نے یہ کیا کیا خرم! باس تمہیں جان سے مار دیں گے۔” اسے علم نہیں تھا کہ خرم اپنی بات پر پورا اترتے ہوئے اسے واقعی ماردے گا۔
“انہیں کون بتائے گا؟۔” اس نے کہتے ساتھ ہی پستول جیب سے نکال کر اس کی جانب نشانہ کیا۔ “یقیناً تم نہیں بتاؤ گے! ہے نا؟۔” یہ دھمکی تھی۔ احسن کو موت منظور نہیں تھی۔ اس نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا۔
“میں کچھ نہیں بتاؤں گا۔”
خرم یکدم ہی مسکرایا۔
“چلو! اب ہمیں گھر بھی جانا ہے۔” گاڑی کی جانب بڑھتے ہوئے اس نے ایک بار ارد گرد دیکھا تھا۔ یہ علاقہ کھنڈر سا علاقہ تھا۔ اسے امید تھی یہاں کم از کم یہ ثبوت نہیں مل پائے گا وہاج کا قاتل کون ہے۔
وہ ایک شخص کی زندگی لے چکا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“وہاج کی ڈیتھ ہوگئی ہے باس!۔” خرم بھاگتا ہوا چہرے کے اڑتے رنگ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا تھا۔ وجاہت جو سونے کا ارادہ رکھتا تھا بوکھلا کر اٹھ بیٹھا۔
“کیا مطلب؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟۔” ایک عجیب سا ڈر اس کے دل میں جاگا۔
“پولیس کو اس کی لاش کھائی سے ملی ہے۔ میڈیا کچھ نہیں بتا رہی۔ لگتا ہے بات چھپائی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ غلط ڈرائیونگ کی وجہ سے سنبھل نہ پایا اور گاڑی سمیت کھائی میں گر گیا۔ گرتے وقت اس نے کھڑکی سے کودنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں اس کا سر ایک بڑے پتھر سے ٹکرایا اور وہ موقع پر جاں بحق ہوگیا۔”
وجاہت کو اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی۔ چہرہ سفید ہوگیا۔ اس کو لگا وہ کبھی بول نہیں پائے گا۔ آنکھوں کی پتلیاں ساکت رہ گئیں۔
“کہاں ہے وہ؟۔” کچھ پھنسی پھنسی آواز۔۔
“اس کی باڈی کھائی سے نکال رہے ہیں۔ مجھے عادل کی کال آئی تھی۔”
یہ وہی وقت تھا جب وجاہت تیزی سے اٹھا تھا۔ اپنا موبائل پکڑتے وہ اندھا دھن باہر کی جانب بھاگا۔
نہیں یہ ممکن نہیں تھا۔۔
اس کا دوست یوں نہیں مر سکتا تھا۔
ابھی تین بجے ہی تو ملاقات ہوئی تھی۔
وہ ایسے کیسے بچھڑ سکتا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
ایمبولنس کی تیز آواز اور لوگوں کی بلند گفتگو ماحول میں شور پیدا کر رہی تھی۔
ایک شخص اس باڈی کو دیکھنا چاہتا تھا مگر پولیس نے اسے روک کر رکھا تھا۔
“مجھے ایک بار اپنے دوست کو دیکھنے دیں انسپکٹر!۔” آنکھیں نم تھیں اور لہجہ بھیگا ہوا۔
“آپ کا اس کیا رشتہ ہے؟۔” وہ انکوائری کر رہا تھا۔
“میرا نام وجدان ہے۔ وجدان قریشی! یہ میرا بچپن کا گہرا دوست ہے۔ ایک بار اسے دیکھ کر تسلی کردینے دیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ مرا نہیں ہے۔ سب جھوٹ ہے۔ بس ایک بار۔۔”
اور پیچھے سے بوکھلائے ہوئے آتے میرویس اور ساویز اس کی بات سن کر سکتے میں آگئے تھے۔
“ہمیں ان کی باڈی ملی ہے وجدان صاحب! ابھی تک جو معلومات ہمیں ملی ہے اس کے مطابق ان کا سر ایک ایسی چیز سے ٹکرایا ہے جس سے ان کی موقع پر ڈیتھ ہوگئی ہے۔ ان کی باڈی ایمبولینس میں رکھنے کے بعد آپ دیکھ سکیں گے۔” وجدان ساکت رہ گیا۔ ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑنے لگے۔ وہ لڑکھڑا کر گر پڑتا اگر ساویز اسے مضبوطی سے نہ تھامتا۔ پتا نہیں کون شخص تھا۔۔ شاید وہی جس کے بارے میں وہاج دو چار بار ساویز سے ذکر کر چکا تھا۔ میرویس سے رہا نہ گیا تو آنسوؤں سے رو پڑا۔ باڈی کی حالت دیکھی جانے والی نہیں تھی مگر پھر بھی وجدان قریشی نے اس کی باڈی دیکھی۔ ساویز نے تھوک نگل کر نم آنکھوں سے پلٹ کر میر کو ڈھونڈا جو دوسری طرف پل پر کسی چیز سے ٹیک لگائے بے سدھ بیٹھا تھا۔ ساویز غنایہ کی آتی پریشانی میں کال بھی نہ اٹھا سکا۔
یکدم ہی وجاہت کی گاڑی رکی تھی اور اس نے پھولی ہوئی سانسوں سے ایمبولینس کی جانب دوڑ لگائی تھی۔ وہاج کا چہرہ خون سے سرخ تھا۔ سر پتھر پر لگنے کی وجہ سے کھل گیا تھا۔ وہ خوف سے دور ہٹا۔ سانسیں تیز تیز چلنے لگیں۔
“پلیز آپ سب دور ہوجائیے۔” سب کو دور کرتے ہوئے ایمبولنس کا دروازہ بند کردیا گیا۔ اس کے خون کے کچھ دھبے ایمبولنس کے دروازے پر لگے ہوئے تھے۔
“میں جانتا ہوں یہ کوئی ایکسیڈنٹ نہیں۔۔ تم لوگ اصل بات دبا رہے ہو۔ وہ چند دن پہلے اپنے دوست کی مدد کرنے کی کوششوں میں لگا تھا۔ تم لوگ چھپا رہے ہو۔۔ اسے مارا گیا ہے۔” وجدان نامی شخص دھاڑ گونجی رہی تھی جب ساویز اس کی بات پر ٹھٹھکا۔ نگاہ تیزی سے وجاہت پر اٹھیں جو خود بے یقین دھچکے میں کھڑا تھا۔
یہ معاملہ سمجھنا اتنا مشکل نہیں تھا۔
ساویز کمزور پڑتے ہوئے میرویس کے برابر بیٹھ گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
سب ٹوٹ کر بکھر گیا۔
خواب، یادیں، امیدیں، انتظار۔۔
انہیں سمیٹنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔
سب ایک جھٹکے میں ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔
ماں کا انتظار اور باپ کی تڑپ۔۔
بھائی کی محبت!
لاہور کی گلیوں کے ایک کچے مکان میں عورت کے ہاتھ پر چھری چل گئی تھی۔ وہ کراہ کر دور ہٹی۔
“کیا ہوا امی۔” ایک لڑکا ماں کے کراہنے پر باہر آیا۔
“نہیں بس۔۔ سبزی کاٹ رہی تھی ہلکی چھری انگلی پر لگ گئی۔” وہ بہتے خون کو بغور دیکھ رہی تھی۔ جلدی سے وقت دیکھا تو رات کے نو بج رہے تھے۔ “چلو دن تو گزر گیا۔ اب ساڑھے نو دن بچے ہیں وہاج کو آنے میں۔۔” چہرے پر گہری مسکراہٹ ابھری۔
“امی یہ کیسا حساب ہے۔” بیٹا ہنستا ہوا اندر چلا گیا اور ماں خود اپنی بات پر ہنس پڑی۔
یہ تو ماں تھی نا۔۔
اپںی اولاد کے لیے تڑپ رہی تھی۔۔
کہتی تھی
“تیری تصویروں سے دل نہیں بھرتا وہاج! تو ملنے چلے آ۔۔ مجھے تیرا چہرہ اپنے ہاتھوں سے محسوس کرنا ہے۔”
“تو کتنا بدل گیا ہے وہاج۔۔ ہلکی ہلکی شیو تجھ پر اچھی لگتی ہے۔”
“تیرے لئے لڑکی دیکھ رکھی ہے۔ میں جانتی ہوں میری بات سن کر تو خفا ہوگا مگر کیا کروں۔۔ ماں ہوں نا۔۔ چاہتی ہوں کہ تو شادی کر لے۔”
“کب آؤ گے وہاج؟ تمہارا باپ بوڑھا ہو رہا ہے۔ کہتا ہے بیٹے سے ملنا ہے۔ اس کے اعصاب کمزور ہو رہے ہیں۔ چاہتا ہے کہ مرنے سے پہلے ایک دفعہ ہی سہی مگر تجھے دیکھ لے۔”
“یہ دس دن گزر ہی نہیں رہے بیٹا۔ گھڑی کی سوئی کب سے ایک ہی ہندسے پر اٹکی رہتی ہے۔ دن گزرتا ہی نہیں! یہ انتظار کتنا طویل ہے۔”
“کراچی کیا اتنا بھا گیا ہے کہ تو دس دن سے پہلے لاہور آنا ہی نہیں چاہتا؟ میں یاد کر رہی ہوں۔ بس آجا میرے بیٹے۔۔ اور انتظار نہیں ہو رہا۔”
وہ آگیا تھا۔۔
مگر خود چل کر نہیں۔۔
اسے لایا گیا تھا۔ ایمبولنس کی آواز پورے محلے میں گونج رہی تھی۔
چار سال بعد وہ ماں سے ملنے آیا تھا۔
زندہ نہیں۔۔
مگر مردہ!
اس بار ماں اسے دیکھ کر خوش نہیں ہوئی تھی۔
اپنے حواس کھوتے ہوئے بے ہوش ہوگئی تھی۔
بوڑھا باپ پاگل ہوگیا تھا اور بھائی وہاج کے قدموں میں بیٹھا اس سے اٹھ جانے کی گزارش کر رہا تھا۔
وہ یہ بھی نہیں کہہ سکا کہ ماں تم رو نہیں! میں پردیس سے لوٹ آیا ہوں۔ اب میں تیرے آغوش میں چند دن گزاروں گا۔
وہ یہ بھی نہیں بول سکا جو وہ ان چار سالوں میں کہنا چاہتا تھا۔ کہ ماں مجھے وہاں رہنے کا جی نہیں چاہتا۔ جو زندگی صبح اٹھ کر سب سے پہلے تیرا چہرہ دیکھنے میں ہے وہ یہاں نہیں ماں۔۔ میں تھک گیا ہوں۔۔ مجھے بلا لے۔”
اور ماں کو انتظار ہی رہ گیا کب اس کی اولاد مسکرا کر اسے دیکھے گی اور کہے گی کہ ‘میں لوٹ گیا ہوں امی۔۔’
“گھر تو وہ ہے اماں جو لاہور میں ہے۔۔ انگلینڈ میں صرف مکان ہے میرا۔۔ جہاں وقتی رہتا ہوں۔”
اب نہ وہ مسکرانے والا شخص تھا اور نہ انتظار۔۔
وقت کی سوئیوں میں کچھ کھو گئے کچھ برباد ہوگئے۔
اس کے سارے خواب جل کر راکھ ہوگئے۔
۔۔۔★★★۔۔۔
