61.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1 (pt.1)


تو دل سے نہ اتر سکا
از عینا بیگ
پہلی قسط (پہلا پارٹ)
گزرے ہوئے دن کے مقابلے میں آج کا دن زیادہ خوشگوار تھا۔ وعدے کے مطابق اس نے اتوار اس گھر میں گزارا۔ کھلی کھڑکی سے آتی ہوا کی جگہ اب تیز دھوپ نے لے لی تھی۔ آنکھوں پر روشنی پڑنا اتنا ناگوار گزرا تھا کہ تکیے کے نیچے سر دبا لیا۔ آڑا ترچھا اوندھا منہ لیٹا ہوا وہ گہری نیند میں تھا۔ گھڑی نو بجا رہی تھی جب اس کے کمرے کا دروازہ پوری قوت سے کھولا گیا۔ تیز آواز کانوں میں پڑی تو آنکھیں یکدم کھل گئیں۔ وہ کمرے میں اس کی موجودگی جان گیا تھا۔ یہ سوچ کر اٹھنے کے بجائے آنکھیں پھر موند لی گئیں۔
“میرو!۔” گیلا لرزتا لہجہ۔۔ اس کی آواز پر خود ہی آنکھیں کھل گئیں۔
“کیا ہوا ہے؟۔” وہ خود کو روک نہ پایا۔ گھمبیر آواز کمرے میں گونجنے لگی۔
“اتنا مت سویا کرو!۔” روتے ہوئے قدرے غصے سے کہا گیا۔۔۔ یا شاید بتایا گیا۔
“تم میرے اتنا سونے پر رو رہی ہو؟۔” وہ اسے اٹھا چکی تھی۔ تکیے پر زور رکھ کر وہ اٹھ کر بیٹھا۔ موبائل، جیکٹ سمیت کافی ساری چیزیں بستر کے آس پاس فرش پر گری ہوئی تھیں۔ ایسا پہلی بار نہیں تھا۔ رات جن چیزوں کو ساتھ لے کر سوتا تھا اگلے دن اسے فرش سے ہی اٹھانی پڑتی تھیں۔
“نہیں میرو۔۔” آنسو رخسار پر بہنے لگے۔ اس نے گہری سانس بھری۔
“مجھے شرٹ چینج کرنی ہے۔ باہر جاؤ میں آرہا ہوں۔” فرش پر پاؤں رکھ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا گیا۔ سونے سے قبل وہ اپنی سیاہ شرٹ تبدیل کرنا بھول گیا تھا۔ وارڈروب سے سرمئی کالر والی شرٹ نکال کر وہ لمحہ بھر کو سنگھار میز کے آگے رکا۔ آئینے میں اپنے آپ کو دیکھتے ہوئے لبوں پر مبہم سی مسکراہٹ پھیلی۔ کشادہ بھرا سینہ اور بھرے بھرے بازو۔۔ ہلکی ہلکی شیو جو اس کے چہرے کو پروقار بناتی تھی۔ آنکھیں ادھوری نیند کے باعث سرخ ہورہی تھیں۔ پیچھے وہ لڑکی اسے بہت غور و غصے سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“تم بلکل اچھے نہیں ہو میرو۔۔” آنسوؤں میں روانی آگئی۔ میرو نے اسے آئینے کے عکس میں دیکھا۔ یہ لڑکی اس کے لیے کیا تھی وہ کبھی نہیں سمجھ سکتی تھی۔ دل بوجھل سا ہوا۔ وہ رکی نہیں تھی بلکہ باہر نکل گئی تھی۔ شرٹ تبدیل کر کے اس نے بال سنوارتے ہوئے کسی کو کال ملائی تھی۔ بیل جا رہی تھی مگر کال نہیں اٹھائی گئی۔ دو تین کالز کے بعد وہ خود ہی موبائل جیب میں رکھتا خود پر پرفیوم چھڑکتے ہوئے باہر نکل آیا۔
“وہ کیوں رو رہی ہے اماں؟۔” اس نے دور ماں کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ آنکھیں اس چھوٹی لڑکی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ رخ موڑ کر نظر پڑی تو وہ کچھ فاصلے پر بنے کچن میں کھڑی شاید چائے بنا رہی تھی۔
“اتوار ہے اور کام والی نہیں آئے گی۔ میں نے تو بس یہ کہا ہے کہ گھر کی صفائی کرلو۔۔ مگر اس سے یہ بات بھی سہی نہ گئی اور تمہارے پاس روتے ہوئے چلی آئی۔”
“روما سے کام مت کروایا کریں اماں۔ یہ روتی ہے تو میرا دل بہت دکھتا ہے۔” میرو نے ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھا جو میرو کو اپنی طرفداری کرتے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ وہ جو کہتا تھا اماں وہیں مانیں گی۔
“تم نے اسے بہت بگاڑ دیا ہے بیٹا۔” اماں بے چارگی سے نفی میں سر ہلانے لگیں۔
“بس یہ مجھے روتے ہوئے اچھی نہیں لگتی۔” جوتے اٹھا کر وہ لاونج میں داخل ہوا۔ صوفے پر بیٹھتے ہوئے اس نے روما کو چائے کی ٹرے اندر لاتے دیکھا۔ لبوں پر دھیمی مسکراہٹ تھی۔ میرو نے اسے گھور کر دیکھتے ہوئے جوتوں میں پاؤں ڈالا۔
“تم جا رہے ہو؟۔” اماں چائے کی پیالی پکڑتی ہوئی بولیں۔
“ہاں اب چونکہ اس نے مجھے جلدی اٹھا ہی دیا ہے تو دوست سے ملنے چلا جاؤں۔ چھ دن بعد یہ اتوار ہی تو سکون لاتا ہے۔۔ ورنہ آفس میں وقت کا پتا نہیں چلتا۔” جوتے پہن کر کھڑا ہوا تھا روما نے اسے گردن اٹھا کر دیکھا۔ وہ اس کے سینے سے بھی نیچے آتی تھی۔
“دوست کے ساتھ ملاقات کے بعد تم اپنے اپارٹمنٹ چلے جاؤ گے؟۔” روما نے اداسی سے پوچھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور گھڑی میں وقت دیکھنے لگا۔ دس بج رہے تھے۔
“تم نے اپنے بارے میں کچھ سوچا ہے؟۔”
“مطلب؟۔” وہ اس بار چونکا نہیں تھا۔۔ کیونکہ وہ ان کے سارے مطلب جانتا تھا۔
“اپنی زندگی سنوارنے کے متعلق؟۔”
“آپ کو لگتا ہے شادی سے زندگی سنور جاتی ہے؟۔” لہجہ قدرے سنجیدہ تھا۔
“تمہاری عمر۔۔۔” وہ ابھی مزید بولتیں کہ روما نے بات شروع کی۔
“بھائی سے شادی کون کرے گا اماں؟ یاد نہیں بھابھی کیسے چلی گئی تھیں میرو کو چھوڑ کر۔۔۔” وہ ماں کو یاد کرواتی میرو کا دل جلا۔
“خاموش روما! اسے بھابھی کہنا بند کرو۔” گھوری سے نوازا گیا۔
“میں تو تمہاری طرفداری کر رہی تھی تاکہ اماں تمہارے لیے رشتہ نہ ڈھونڈیں۔” اس نے کندھے اچکائے۔
“آئے ہائے چپ کرو تم تو۔۔ میری بیٹے میں بھلا کوئی کمی ہے؟ لمبا چوڑا خوبصورت مرد ہے۔” اماں بھی اس کی خوبیاں گنوانے لگیں۔ وہ گہری سانس بھر کر نفی میں سر ہلانے لگا جیسے کہہ رہا ہو کہ یہ باتیں کبھی ختم نہیں ہونے والیں۔
“بہرحال میں چلتا ہوں۔” گاڑی کی چابی اچھال کر ایک ہاتھ سے پکڑتے ہوئے وہ روما کے بال سہلانے لگا۔
“تم اب کب آؤ گے۔۔” وہ اس کے قریب آئی۔
“ویک اینڈ۔۔ تم جانتی ہو مگر پھر بھی ہر بار یہی پوچھتی ہو۔” اس کا سر اپنے سینے پر ٹکاتا ہوا وہ بہت پیار سے بولا۔
“تم بیچ میں چکر ضرور لگانا میرو۔ میں تمہیں بہت یاد کرتی ہوں۔” اس کی آنکھوں میں میرو کے لیے بے پناہ محبت تھی۔ وہ ہنس دیا۔
“تمہیں پڑھائی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ چند ماہ میں تمہارے بورڈز ہیں۔ اماں سے بلکل شکایت نہ ملے۔” وقت بڑھ رہا تھا۔ اسے اب جلد سے جلد جانا تھا۔ گھر پر نگاہ دوڑاتے ہوئے وہ باہر کی جانب بڑھنے لگا۔
“تم مجھے اپنے اپارٹمنٹ کب لے کر جاؤ گے؟۔” وہ پیچھے سے آواز لگاتی ہوئے بولی۔
“اگلے ہفتے۔” اس کی بات پر وہ رکا نہیں۔۔ باہر کی جانب بڑھ گیا۔ روما بھاگتے ہوئے ٹیرس کی جانب بھاگی اور وہاں سے نیچے دیکھنے لگی۔ میرو اپنی کالی گاڑی میں بیٹھ رہا تھا۔ وہ تیزی سے ہاتھ ہلانے لگی جبکہ میرو اسے دیکھ کر محض مسکرا کر رہ گیا۔ گاڑی آگے بڑھ چکی تھی اور وہ ہمیشہ کی طرح اتوار کے روز میرو کے چلے جانے پر اداس ہوگئی تھی۔ کاش وہ اس سے روز مل پاتی۔۔۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“کیا آپ کو لگتا ہے وہ اپنا جرم قبول کرے گا؟۔” خرم نے حیرت سے اسے دیکھا۔ اس کی بات پر دور کرسی پر بیٹھا شخص ایک انداز سے مسکرایا۔ اس کے دائیں گال کر ڈمپل گہرا ہوا۔
“ہاں اسے کرنا پڑے گا۔” ٹانگ پر ٹانگ جمی ہوئی تھی۔
“ہم پشت پر گولی مار کر کام تمام کرسکتے ہیں۔ چھ ماہ گزر گئے ہیں۔ وہ اب تک اپنے جرم سے مکر رہا ہے باس۔” خرم نے سمجھانا چاہا۔
“اسے مارنا میرے لیے اتنا آسان نہیں خرم۔۔۔” گھمبیر بھاری آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔ سیاہ کوٹ کو درست کرتا ہوا وہ اٹھ کر کھڑا ہوا۔ میز پر رکھی ایک تصویر پر نگاہ پڑی تو دل کٹ کر گیا۔ آنکھیں تکلیف سے میچ لی گئی۔ وہ ایک لڑکی تھی جو تصویر میں اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ “مجھے یقین ہے کہ اس رات وہ قتل اس شخص نے ہی کیا تھا۔ میری زندگی۔۔ میرا سکون۔۔ سب برباد ہوگیا خرم۔۔ کتنا اعتماد تھا مجھے اس پر۔۔ اور اسی نے میری دنیا جلادی مگر یہ دل۔۔ یہ دل اسے پھر بھی مہلت دینا چاہتا ہے۔ یہ چاہتا ہے اسے جرم قبول کرنے تک کی مہلت دی جائے۔” بات کرتے ہوئے اس کی آواز عجیب سی ہونے لگی۔ بھاری آواز مزید بھاری ہوگئی۔ خرم نے نگاہ اٹھا کر باس کو دیکھا۔
“وہ جو چھ ماہ میں نہیں مانا آپ کو لگتا ہے آگے کبھی آسانی سے مانے گا؟ وہ یونہی مکرتا رہے گا باس!۔”
“میں اسے اتنی اذیت دوں گا کہ وہ مجبور ہو کر اپنے جرم کا اعتراف کرلے گا۔” کنپٹی کی رگیں ابھر کر غائب ہوئیں۔ آنکھیں انتقام کی شدت سے سرخ ہو رہی تھیں۔
“مگر باس۔۔۔” خرم نے کچھ کہنا چاہا۔
“شٹ اپ خرم!۔” وہ دھاڑ کو گویا ہوا۔ “وجاہت سلطان بہتر جانتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔۔” بھنویں آپس میں ملی ہوئی تھیں۔ چہرے پر مضبوطی تھی جسے خرم نوٹ کرتا ہوا اپنی نگاہیں نیچی کرچکا تھا۔
“معافی چاہتا ہوں۔۔” وہ محض اتنا ہی کہہ سکا۔ وجاہت سلطان نے اسے اشارے سے باہر جانے کا کہا تھا جس پر خرم نے اس کے حکم کی تکمیل کی تھی۔ وہ نیلے ٹاپ میں بیٹھ کر مسکراتی لڑکی اسے اب بھی دیکھ رہی تھی۔ دل چھلنی ہوتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔
“کاش کے یادوں کے ساتھ وقت بھی لوٹایا جاتا تو شاید میں تمہیں بچا لیتا۔” ایک تڑپاتی سوچ۔۔۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“نو بجے ہی تیرے بھائی کو اٹھا دیا گیا تھا۔ کیا یہ ظلم تھوڑا تھا؟۔” آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر وہ اب اس کے بستر پر دوسری طرف لیٹا اپنے دکھڑے سنا رہا تھا۔ ایک طرف بستر پر سوتا وجود اس کی باتوں کو ایک بار پھر نیند میں جانے سے قبل سن رہا تھا۔
“تو سن رہا ہے نا؟۔” کافی دیر تک جب اس کا جواب نہ پایا تو گردن موڑ کر اس کے سوتے وجود کو دیکھا۔ بھنویں آپس مل گئیں۔ ہاتھ اٹھا کر زور سے کمر پر ایک جڑ دیا۔ وہ کراہا۔۔
“ہاں سن رہا ہوں۔۔ پھر؟۔” بھاری آواز کمرے میں گونجی۔ ایک آنکھ آدھی کھول کر میرو کو دیکھا گیا جو اب مطمئن نظر آرہا تھا۔
“پھر میں نے سوچا میری نیند خراب ہو ہی گئی ہے تو کیوں نہ تیری بھی خراب کروں۔ اس لیے بغیر ناشتہ کیے تیرے پاس چلا آیا تاکہ کسی اچھے سے ریسٹورینٹ میں جاکر ناشتہ کرسکیں۔” نگاہیں ایک بار پھر چھت کو گھور رہی تھیں۔ اس کی بات پر وہ آنکھیں موند کر لیٹا شخص اٹھ کر بیٹھا۔
“مجھے کہیں نہیں جانا میر! اور اچھا ہوگا اگر تم دوبارہ سوجاؤ کیونکہ آج چھٹی والے دن میں سونے کا موقع نہیں کھونا چاہتا۔”
ہاں وہ میر تھا۔۔ کسی کا میر تو کسی کا میرو۔۔ مگر نام میرویس!
“پورے ایک ہفتے بعد ملا ہوں تم سے! چلو اٹھو کہیں باہر چلتے ہیں۔” اس کی کمر تھپتھپاتے ہوئے میر بھی اٹھ کر بیٹھ گیا۔ سامنے والے شخص کی آنکھوں میں ڈھیروں غصے جمع تھا۔ چار و ناچار اسے اٹھنا پڑا۔
“تمہیں اٹھانے کا کام کس نے انجام دیا تھا؟۔” وارڈروب سے کالر والی شرٹ نکال کر پہنتے ہوئے اس نے گھور کر پوچھا۔ بال آنکھوں کے آگے آئے ہوئے۔ اس کے بھرے بھرے بازوؤں میں لکیریں نمایاں تھیں۔۔ چوڑے کندھے اور کشادہ سینہ۔۔
“ایک ہی تو میرے دل کا ٹکڑا ہے جو مجھے چین نہیں لینے دیتا۔” گہری سانس بھرتے ہوئے اس نے موبائل سامنے رکھا۔
“روما کا کمال ہے۔” قہقہہ گونجا۔
“پتا نہیں یہ بہنیں بھائیوں کو اس قدر کیوں عزیز ہوتی ہیں کہ ہم ان کی ساری غلطیاں معاف کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں۔ بڑی غلطی چھوٹی لگتی ہے اور چھوٹی غلطی نظر ہی نہیں آتی۔۔” میر کے خیالوں میں روما گھومنے لگی تو وہ بے ساختہ مسکرا دیا۔ “اور جب آپ کی بہن آپ سے پندرہ سال چھوٹی ہو تو پھر آپ اسے صرف بہنوں کی طرح نہیں بلکہ بیٹیوں کی نظر سے بھی دیکھتے ہیں۔ تم جانتے ہو یہ احساس کتنا بھلا معلوم ہوتا ہے۔” لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ قائم تھی۔
“میرے گھر میں کوئی عورت نہیں مگر مجھے اندازہ ہے۔۔ ساویز خانزادہ روما کو اپنی ہی بہن مانتا ہے میر۔۔” لبوں پر مسکراہٹ عیاں ہوئی۔ وہ ایک انداز سے مسکراتا ہوا واش روم سے فریش ہو آیا۔ میر نے گھڑی پر نگاہ ڈالی جو بارہ بجا رہی تھی۔
“بارہ بج گئے!!۔” وہ چونک کر اٹھ کھڑا ہوا۔ “اس کا مطلب ہے میں تمہیں پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے اٹھا رہا تھا؟۔” آنکھیں سکیڑ کر چبا کر کہا گیا۔ ساویز نے شانے اچکائے۔
“یاد ہے آخری بار جب میں تمہیں پک کرنے آیا تھا اور تم سو رہے تھے؟ اپنے تین گھنٹے لگا کر تمہیں کتنی محنت سے اٹھایا تھا۔” اس نے میر کی نیند پر طنز کیا۔۔ میر ڈھٹائی سے ہنس دیا۔
“تاریخ میں لکھا جائے گا کہ میر اتوار کے روز جلدی اٹھا تھا۔” خود ہی اپنی بات پر قہقہہ لگاتا ہوا وہ ساویز کے برابر آکھڑا ہوا۔ اس کی سنگھار میز سے پرفیوم اٹھا کر خود پر چھڑکا تھا۔ وہ دونوں ہی اب اپنی اپنی تیاری آئینے میں دیکھ رہے تھے۔ لمبا قد اور چوڑے شانے۔۔ میر کی سیاہ آنکھوں نے دراز کا رخ کیا۔
“یہ پرفیوم؟۔” کچھ چونک کر نیلی بوتل کو دیکھا۔ “پچھلی بار تو تمہارے پاس نہیں تھا؟۔”
“ہاں اس بار سوچا ہے کچھ نیا ٹرائی کروں تو بس اسی لیے لے لیا۔” ساویز آستین کے کف فولڈ کرتا کھڑکی کی جانب آیا۔ دھوپ آنکھوں پر پڑی تو بھوری آنکھیں مزید ہلکی ہوگئیں۔ پردے لگا کر کمرے کو باہر کی روشنی سے محفوظ کرلیا۔ “ہم کس کی گاڑی میں جار رہے ہیں؟۔” وہ جو میز سے گاڑی کی چابی اٹھانے لگا تھا پوچھ بیٹھا۔
“میری۔۔” اس کے سارے پرفیومز خود پر چھڑکتے ہوئے میرویس اب تیار تھا۔ ساویز شرٹ کے بٹن لگاتے ہوئے ایک نظر اسے دیکھ کر باہر کی جانب بڑھ گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“میں آج پھر اپنے بیٹے کے لیے تمہارے گھر آئی ہوں۔ پہلے سے جانتی ہو کہ باصم تمہاری بیٹی سے کتنی محبت کرتا ہے۔ وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے مگر تم میاں بیوی ہو کہ مانتے ہی نہیں!۔” ناک بھنویں چڑھی ہوئی تھیں۔ “غنایہ کا رشتہ میرے بیٹے سے طے نہ کرکے تم لوگ کسی نقصان کو دعوت دینا چاہتے ہو عفت؟۔” وہ تڑخ کر بولیں۔
سامنے بیٹھے عفت خاتون نے ذرا گردن موڑ کر دور غنایہ کو دیکھا تھا جو ڈری سہمی اپنی تائی کی آواز پر لرز رہی تھی۔
“آپ کا بیٹا راہ چلتے میری بیٹی کو چھیڑتا ہے بھابھی۔ اسے تنگ کرتا ہے! کیا شریف لڑکے ایسے ہوتے ہیں؟۔” باصم کا خیال آیا تو زبان کڑوی سی ہوگئی۔
“ہائے ہائے! چھیڑتا نہیں ہے بلکہ اس کے دل میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔” وہ عورت سنبھلنے میں نہیں آرہی تھی۔
“ابرار اپنی بیٹی کی شادی کبھی باصم سے نہیں کریں گے۔ آپ خود جانتی ہیں اس کے مشغلے۔۔ سیگریٹ، جوا اور پھر ایک ماہ پہلے جیل سے ہوکر آیا ہے۔ ہماری بیٹی بوجھ نہیں کہ کسی کے ساتھ بھی بیاہ دیں۔” ان کے دل میں ایک عجیب خوف تھا جس کے باعث وہ کھل کر نہیں بول پا رہی تھیں۔ ایک ڈر۔۔ گردن موڑ کر ڈوبتے دل سے بیٹی کو ایک بار دیکھا۔ اس کے رخسار بھیگے ہوئے تھے۔ نجانے ان آنسوؤں میں کس کا ہاتھ تھا۔۔ باصم کا یا عفت اور ان کے شوہر کا۔۔ جو اپنی بیٹی کو وہ اعتماد نہیں دے سکے جو آج کل کے دور میں ہر ماں باپ کو اپنی بیٹیوں کو دینا چاہئیے۔۔ جو اتنی بھی ہمت والی نہیں تھی کہ اپنا لیے لڑ سکے۔
“تم لوگ ٹھیک نہیں کر رہے ہو! جائیداد ایک ہی صورت میں مل سکے گی! اگر تم نے غنایہ کی شادی باصم سے نہ کروائی تو ابرار کو اتنی بھاری جائیداد سے ہاتھ دھونا پڑے گا!۔” وہ اپنا زور چلانے کے لیے چیخ کر کھڑی ہوئیں۔ چہرے پر نمایاں ہوئی لکیریں ان کے غصے کی نشانی تھیں۔ عفت کا دل کٹ سا گیا۔ ہاں ابرار کی وہی جائیداد جس پر عفت کا جیٹھ قبضہ کر بیٹھا تھا۔ نجانے لوگ دوسرے کی شرافت کا فائدہ کیوں اٹھاتے ہیں۔
“غنایہ بوجھ نہیں۔۔” انہوں نے محض یہی کہا۔ وہ تن فن کرتیں غنایہ کو ایک گھوری سے نواز کر باہر نکل گئیں۔ گھر میں خاموشی چھا گئی۔
“آپ لوگ میری وجہ سے پریشان رہتے ہیں نا؟۔” اس کی ہچکیاں بندھ چکی تھیں۔ “میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ وہ ایک بلکل اچھا مرد نہیں۔ اس کے سامنے میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہوں۔” دل سہما ہوا تھا۔ اسے خدشہ تھا کہ ایک دن کہیں اس کے ماں باپ اتنے مجبور نہ ہو جائیں کہ خود اسے باصم کے ساتھ نہ بیاہ دیں۔
“میں نے کہا نا کہ غنایہ ہم پر بوجھ نہیں۔۔ تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔۔ ہم تمہاری وجہ سے پریشان نہیں رہتے غنایہ۔۔ ہم بس ان ساری تکلیفوں، پریشانیوں کو تم سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ تمہارا باپ تمہیں کبھی ایسے ہاتھوں میں نہیں دے گا جو تمہاری قدر نہ کرسکے۔” ان کا دل گھبرا رہا تھا۔ وہ جانتی تھیں ابرار کے آفس سے لوٹنے پر جب وہ انہیں آج کا واقعہ سنائیں گی تو وہ کتنا پریشان ہوجائیں گے۔ کھانا ادھورا چھوڑ دیں گے اور بستر پر کروٹیں بدلتے رہیں گے۔۔ ایسا ہی تو ہوتا آیا تھا۔ غنایہ کو اطمینان دلا کر وہ خود سوچ میں پڑ گئی تھیں۔
“اگر تائی دوبارہ آئیں تو؟۔” دل میں خدشہ جاگا۔ عفت کی کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوسکی۔
“ہم۔۔۔ ہم دیکھ لیں گے مگر تم کسی کو نہ بتانا۔۔ تم اپنی بہن کو آج کے بارے میں بھی کچھ نہ بتانا غنایہ۔ اگر اسے پتا چل گیا تو بھائی جان کے گھر جا کر ایک تماشہ کھڑا کردے گی اور یوں معاملہ خراب ہو جائے گا۔”
غنایہ کی آنکھیں گیلی ہونے لگیں۔ کاش کہ وہ اپنی بڑی بہن کو کال کر کے بتا سکتی کہ وہ کیا محسوس کرتی ہے۔۔ ہاں مگر امی ٹھیک کہتی ہیں۔ اگر اسے پتا چل گیا تو وہ بھڑک اٹھے گی اور باصم کے گھر جا کر تماشہ کھڑا کردے گی۔ کبھی کبھی اسے اپنی بہن کا یہ کانفیڈنس اچھا لگتا مگر دوسرے ہی پل وہ سوچنے لگتی کہ اتنا کانفیڈنس بھی معاملہ خراب کر سکتا ہے۔ لب بھینچ کر اس نے اپنا رخ اندر کمرے کی جانب کرلیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“میں نے اس ریسٹورینٹ کے کھانے بہت یاد کیے! کیا ذائقہ ہے!۔” سامنے رکھی کھانوں کی پلیٹوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے وہ بے حد خوشگوار موڈ میں بولا۔ مقابل رکھی کرسی پر بیٹھا ساویز سانس بھر کر رہ گیا۔
“نظر تو خیر آرہا ہے۔” وہ محض اسے کھاتے ہوئے دیکھ کر یہی کہہ سکا۔
“تم کیوں نہیں کھا رہے؟۔”
“کیونکہ مجھے اپنی ڈائیٹ کا خیال ہے۔” دانت پیس کر وہ اس جملے میں بہت کچھ کہہ چکا تھا۔ “میں اپنی جم کی محنت یوں برباد نہیں کر سکتا۔” دونوں بازو میز پر رکھ کر وہ بغور اسے دیکھ رہا تھا۔ میرویس کا لقمہ منہ میں ہی رہ گیا۔
“مم۔میں۔۔۔ میں بھول گیا تھا۔” جیسے یکدم چونک اٹھا ہو۔ “مگر دیکھو ٹرینر نے کہا تھا کہ اتوار کے روز تم لوگ جو کھانا چاہو کھا سکتے ہو۔” خود کو محفوظ کرنا جیسے مشکل ہوگیا۔ ساویز نے بےچارگی سے اسے دیکھا۔
“اگر اسے پتا چل جائے کہ اس کی بات کو تم نے اس طرح سے استعمال کیا ہے تو وہ شاید خفا ہوجائے۔” میز کھانے کے لوازمات سے بھری ہوئی تھی۔
“کیا فرق پڑتا ہے۔۔ پورا ہفتہ اپنے ہاتھ کے بنائے کھانے ہی کھانے پڑتے ہیں۔” سر جھٹک کر وہ پھر مصروف ہوگیا۔
“تم جم دوبارہ کب سے جوائن کرو گے؟۔” ساویز کو علم تھا کہ میرویس کی جاب اسے اس کے شوق پورے کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ صبح کا نکلا رات کو گھر پہنچتا ہے تو تھکاوٹ نیند کی جگہ لے لیتی ہے۔
“آج کل صبح آٹھ بجے ہی اٹھنا پڑتا ہے۔ ایک ہفتے میں جاب کے اوقات مزید بہتر ہوجائیں گے تو صبح کے وقت جوائن کروں گا۔” اس کے بال بار بار آنکھوں پر آرہے تھے جنہیں وہ ہاتھ ہاتھ پھیر کر پیچھے کر رہا تھا۔
“تمہارے لیے یہی بہتر ہے۔” کافی کا گرم مگ اٹھا کر اس نے لبوں سے لگایا تھا۔ چہرہ کچھ سنجیدہ تھا۔
“ہم دونوں ہی انتیس کے ہوگئے ہیں۔ تمہیں نہیں لگتا اب ہمیں شادی نہیں کرلینی چاہئیے؟۔” نجانے کیوں اس کے ذہن میں یہ بات آئی تھی کہ وہ قہقہہ لگا کر بول بیٹھا تھا۔ ساویز کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“میں فالحال شادی نہیں کرنا چاہتا۔ ہاں مگر تمہیں کرلینی چاہئیے۔”
“جس کھائی میں خود نہیں کود رہے اس میں دوست کو پھینک رہے ہو؟۔” میر نے ایک آئبرو اچکائی۔
“تم کیوں نہیں؟ مجھے لگتا ہے تمہیں شادی کرلینی چاہئیے میر۔۔”
“مجھے ایسا کہنے کو تمہیں اماں نے کہا ہے نا؟۔” بات پکڑ لینے والی مسکراہٹ لبوں پر لاتے ہوئے وہ بھنویں اچکائے بولا تھا۔ ساویز نے نگاہیں پھیریں۔
“جو بھی ہو! تمہیں ان کی بات مان لینی چاہئیے۔”
میرویس نے کھانے سے ہاتھ کھینچے۔
“ان کی بات ہی مان کر اس لڑکی سے منگنی کی تھی۔ پھر؟ پھر کیا ہوا؟ منگنی کی انگھوٹی منہ پر مار کر چلی گئی۔ اور اب چاہتے ہو میں دوبارہ ان کی بات مانوں؟۔” وہ غصہ نہیں تھا۔ بس ایک بات اپنی ماں کو سمجھا سمجھا کر تھک چکا تھا کہ وہ فالحال شادی نہیں کرنا چاہتا۔ غصہ کرنا اس کے مزاج میں شامل نہیں تھا۔۔ کوئی بھی پریشانی ہو یا کسی سے چھوٹا موٹا بدلہ لینا ہو۔۔ ہر کام وہ ہنستے مسکراتے شاطر انداز میں کیا کرتا تھا۔
“مگر یوں منگنی توڑنے کی کیا وجہ تھی میر؟ کتنی خوش تھی وہ تم سے منگنی پر۔۔۔”
“شاید میں اسے پسند نہیں آیا۔” وہ دوبارہ کھانے کی جانب متوجہ ہوچکا تھا۔
“میں نہیں مانتا کہ اسے ‘تم’ پسند نہیں آئے؟۔” نگاہوں نے میر کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ بھلا اس میں کیا کمی تھی کہ کوئی بھی اس سے شادی سے انکار کرتا۔ “میں جانتا ہوں یشفہ تم سے منگنی کے لیے کتنا خوش تھی کیونکہ وہ تمہیں پسند کرتی تھی۔ کیا تم مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو؟ اس وجہ کے پیچھے وہ لڑکی تو نہیں جسے تم کچھ سالوں پہلے پسند کرتے تھے؟۔ نجانے وہ لڑکی ساویز کے خیالوں اچانک کیسے آگئی تھی۔ ایک بازو کرسی کی پشت پر ٹکا کر دوسرا میز پر رکھا ہوا تھا۔ آنکھوں کی پتلیاں سپاٹ اس کے چہرے پر گڑی تھیں۔ میرویس کافی کا مگ لبوں سے دور کرتے ہوئے ذرا دیر کو ٹھہر سا گیا۔ جیسے زبان لفظوں کا چناؤ نہ کر پا رہی ہو۔
“بھلا ہم دونوں ایک دوسرے سے کوئی بات چھپا سکتے ہیں؟ کچھ راز نہیں ہمارے درمیان۔۔” خود کو نارمل رکھتا ہوا وہ دوبارہ کافی پینے لگا۔ ساویز نے اسے آہستہ آہستہ اوپر سے نیچے تک دیکھا۔۔ مگر دونوں کے دلوں میں ایک ایک راز ایسا بھی تھا جس سے دونوں ہی لاعلم تھا۔ ساویز نے لب بھینچ لیے۔ “اور وہ لڑکی؟ وہ باتیں چار پانچ سال پرانی ہوچکی ہیں ساویز! میں اسے صرف پسند کرتا تھا مگر اب ایسا کچھ نہیں۔۔ اس معاملے میں اس کا ذکر کچھ عجیب ہے۔”
“ٹھیک ہے مان لیتا ہوں مگر اب؟ آنٹی چاہتی ہیں کہ تمہیں اب شادی کرلیں چاہئیے۔”
“میں اب شادی کروں گا تو اپنی پسند سے کروں گا۔ یہ زندگی ‘مجھے’ جینی ہے۔۔ کسی بھی انجان لڑکی سے شادی کر کے اگر میں اس کے ساتھ سیٹ نہیں ہو پایا تو؟ تم سمجھ رہے ہو نا؟۔”
“تمہیں کوئی پسند ہے؟۔” وہ جانتا تھا اگر اسے کوئی پسند ہوتی تو ساویز کو اس کا علم ہوتا مگر پھر بھی وہ پوچھ بیٹھا۔
“نہیں۔۔” سادگی سے کہا گیا۔ “بہرحال ان باتوں کو چھوڑو۔ کیا وہ پھر سے تمہارا پیچھا کر رہا تھا؟۔” میر کو اپنے موضوع میں دلچسپی نظر نہ آئی تو موضوع تبدیل کر گیا۔
“وہ نہیں۔۔ اس کے آدمی!۔” اس نے سانس بھر کر کہا۔
“اس شخص نے ہمارا سکون برباد کر رکھا ہے اور تم چاہتے ہو میں شادی کرلوں؟۔”
“ہمارا نہیں میر!! میرا۔۔۔ صرف میرا سکون برباد کردیا ہے اس نے۔۔ تم اس معاملے میں خود کا شامل کرکے اپنی زندگی جہنم مت بناؤ۔ کیوں اسے اپنا دشمن بنانے پر تلے ہوئے ہو۔” وہ آج بلآخر بول اٹھا تھا۔ میر کچھ کہہ نہ سکا۔ بس نگاہ اس پر ٹکا لی جیسے اسے ساویز سے یہ امید نہ ہو۔
“تمہارا مسلہ میرا مسلہ ہے ساویز!۔” گھمبیر آواز کچھ مزید بھاری ہوئی۔ وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔
“میرا مسلہ میرا ہے۔۔ میں نہیں چاہتا تم میرے معاملے میں پڑ کر اپنی زندگی برباد کرو۔ اچھا خاصا اپنا سکون تباہ کر رہے ہو۔ وہ اب بھی تمہیں اپنا دوست کہتا ہے۔” ماتھے پر ہلکے ہلکے بل نمودار تھے۔
میر نے ایک آخری نگاہ اس پر ڈالی اور اٹھ کھڑا ہوا۔ کرسی کی پشت پر لٹکی جیکٹ اٹھائی اور بنا کچھ کہے آگے کی جانب بڑھ گیا۔ ساویز نے لب سختی سے بھینچے۔ میز پر زور سے ہاتھ مار کر چہرے کا رخ اس کی جانب کیا۔
“میر واپس آؤ!۔” سخت آواز اس بار کچھ بلند تھی۔ میرویس رکا نہیں تھا۔ اس کے آستین کہنیوں تک چڑھے ہوئے تھے۔
“واپس آؤ میر!۔” اس سے رہا نہ گیا تو وہ اپنی آواز پر قابو نہ رکھ پایا۔ ارد گرد بیٹھے لوگوں نے اس کی آواز کے تعاقب میں دیکھا تھا۔ میر بھی ٹھہر گیا۔ مڑ کر ایک نظر ارد گرد لوگوں پر ماری جو ساویز کو دیکھنے کے بعد اب اسے دیکھ رہے تھے۔ وہ سانس ہوا میں تحلیل کرتا واپس چلا آیا۔
“میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا کہ یوں جگہ چھوڑ کر نہیں اٹھتے!۔” آنکھوں میں کچھ غصہ تھا۔ میر جیکٹ لٹکا کر پھر سے بیٹھ گیا۔
“جگہ بھی نہ چھوڑوں اور تمہاری بکواس بھی سنوں؟۔” نگاہیں پھیر منہ دوسری طرف کرلیا گیا تھا۔ وہ اس وقت کسی ناراض بیوی کی طرح معلوم ہوتا تھا۔ ساویز کے لبوں پر مبہم سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
“میں بس یہ کہہ رہا تھا کہ۔۔۔” وہ کچھ دیر کو ٹھہرا۔ “کہ خود کو میرے لیے مشکل میں مت ڈالو۔” ہاں وہ اس کا دوست تھا۔۔ کیسے چاہ سکتا تھا کہ میر اس کی وجہ سے پریشان رہے۔
“تمہیں مجھے مشورہ دینے کی ضرورت نہیں۔” کافی کا ٹھنڈہ مگ اٹھا کر حلق میں کافی اتاری اور دور رکھ دیا۔
“تم ایسے کیوں ہو یار!۔” وہ اسے سمجھا سمجھا کر جب تھک گیا تو ہار مان لی۔
“میں دوست ہوں۔” اس کے الفاظ عام تھے مگر بات گہری تھی۔ ساویز نے کچھ کہنا چاہا مگر کچھ کہہ ہی نہ سکا۔ اس کا چہرہ دیکھ کر خاموش رہنا بہتر لگا۔ ہاں وہ دوست تھا اس کا۔۔ اور دوست تنہا نہیں چھوڑا کرتے۔۔۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“ہیلو؟۔” فون کے دوسری طرف سے لڑکی کی آواز ابھری۔
“تم کیسی ہو؟۔” عجیب سی آواز میں پوچھا گیا۔۔
“میں ٹھیک ہوں مگر تم؟ تم ٹھیک ہو غنایہ؟۔” دوسری طرف موجود اس لڑکی نے صاف بہن کے لہجے میں عجیب سا احساس پایا تھا۔ غنایہ نے کچھ بولنا چاہا کہ سامنے عفت نے اسے آج کے بارے میں کچھ نہ کہنے کی تاکید کی۔۔
“ہاں میں ٹھیک ہوں۔” آنکھیں آنسو پینے لگیں۔
“نہیں مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہی۔ کیا گھر میں کچھ ہوا ہے؟۔” غنایہ بہن تھی۔۔ اس کا پریشان ہونا جائز تھا۔
“میں ٹھیک ہوں۔” وہ پہلا والا جملہ دہرا گئی۔
“حد ہے غنایہ۔ جب سے میں نے گھر چھوڑا ہے تم اماں ابا نے گھر کے معمالات سے ہی باہر کردیا ہے۔ میں جانتی ہوں تمہیں کسی نے کچھ کہا ہے۔ کون ہے وہ؟ نام بتاؤ!۔” وہ تو جیسے طیش میں آگئی تھی۔ غنایہ نے گہری سانس بھری۔
“تم مجھ سے ملنے کب آؤ گی؟۔” اس کے سوالات کو وہ یکثر خاموش کر چکی تھی۔
“آج کا روز بیت گیا ہے۔ ان شاءاللہ اب اگلے اتوار ضرور ملنے آؤں گی۔”
“تم نے پچھلے اتوار بھی یہی کہا تھا عاشی! اور میں نے تمہیں بہت یاد کیا تھا۔ یہ تیسرا اتوار ہے اور تم مجھ سے ملنے ہی نہیں آئی۔” اس کا دل چاہا کہتے کہتے رو پڑے۔
“میرا باس چھٹیوں پر ہے اور آج کل مینجر کا زور ہم پر پہلے سے زیادہ ہوگیا ہے۔ دن رات چیختا رہتا ہے اور ہمیں چار و ناچار اس کا کہا ماننا پڑتا ہے۔ یہ چھ دن اتنا تھکا دیتے ہیں کہ اتوار پوری نیند میں گزر جاتا ہے۔ مگر میں تم سے وعدہ کرتی ہوں۔۔ میں آؤں گی غنایہ۔۔ میرا وعدہ ہے۔” مغرب کا اندھیرہ پھیل رہا تھا۔ اسے عاشی کی آواز میں صاف تھکاوٹ محسوس ہوئی۔
“میں انتظار کروں گی۔” اسے کافی حد تک اطمینان حاصل ہوا تھا۔۔ بس یہ امید۔۔ یہی تو چاہئیے تھی اسے! اس امید پر وہ اتنا وقت گزار آئی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
اس کی آنکھ الارم بجنے پر کھلی تھی۔ اٹھ کر وقت دیکھتا ہوا کھڑکی کی جانب بڑھا۔ پردے کھڑکیوں سے ہٹا کر اس نے کمرہ روشن کیا۔ گھڑی گیارہ بجا رہی تھی۔ شاور لے کر باہر آتے ہوئے تولیہ سر پر رگڑا گیا۔ پندرہ منٹ میں ہی وہ تیار کھڑا تھا۔ سیاہ کوٹ کے بٹن لگانا اسے بہتر نہ لگا تو کھلا چھوڑ کر ہی اپنے موبائل پر آئی کال کی جانب متوجہ ہوگیا۔۔
“ہیلو؟ تمہاری کافی مس کالز آئی ہوئی تھیں۔ خیریت ہے؟۔” میز سے پرفیوم خود پر چھڑکتے ہوئے وہ چابی اٹھا کر نیچے بڑھنے لگا۔
“تم آج بھی جلدی نہیں اٹھے؟۔” میر نے حیرانی سے پوچھا۔
“میں اپنی کمپنی کا باس ہوں میر۔۔ مجھے اتنی جلدی اٹھنے کی ضرورت نہیں۔۔۔” اسے ایک بار پھر یاد دلاتے ہوئے وہ گیراج میں پہنچا۔
“میں سات بجے کا جاگا ہوا ہوں۔۔ اور اب آفس میں اپنا سر کھپا رہا ہوں۔” لہجے میں بیزاریت تھی۔
“مینجر میرویس وہاب منصور! اسی لیے کہا تھا کہ کوئی بزنس اسٹارٹ کرلو۔۔ کم از کم کسی کے آفس میں مینجر کے عہدے پر فائز ہو کر تم اپنا سر نہیں کھپاتے!۔” وہ اپنی سفید گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ چکا تھا۔
“یہ بزنس تیرے باپ کا سیٹل کیا ہوا ہے جو ابھی سنگا پور میں ہیں۔۔ مجھے خود کمانا ہے۔” دانت پیس کر یاددہانی کروائی گئی۔ ساویز مسکرادیا۔
“اچھا وقت بھی آئے گا تم فکر مت کرو! میں کال رکھتا ہوں۔ مجھے آفس پہنچنا ہے۔” بات کو ختم کرتے ہوئے وہ موبائل بونٹ پر رکھ کر گاڑی سڑک پر لے آیا۔ موسم گرم نہیں تھا مگر ہلکی ہلکی دھوپ مزہ دے رہی تھی۔ سڑک کو روندتا ہوا وہ گاڑی آگے بڑھا کر لے گیا۔ آج معمول سے ہٹ کر کچھ دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ کچھ دور جا کر اس نے سگنل پر گاڑی روکی۔ گزرے دن کے مقابلے میں آج زیادہ گرمی تھی۔ موبائل پر بپ ہوئی تو وہ لاک اسکرین سے ہی میر کا آیا میسج پڑھنے لگا۔
“مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ آج پھر آئیں گے۔” اس کا یہ میسج ساویز کو مسکرانے پر مجبور کر گیا۔ نجانے وہ ایسی باتیں سوچتا ہی کیوں تھا۔ سگنل کھلا تو گاڑی آگے بڑھا کر چورنگی سے موڑنے لگا۔ سفید گاڑی کے کالے شیشے بند تھے۔ وہ اپنے ہی دھن میں گاڑی چلا رہا تھا جب ایک گاڑی نے اسے پوری قوت سے ہٹ کیا۔ اس کا سر اسٹیئرنگ پر لگتے بچا تھا۔ وہ سیکنڈز کی بات لمحوں میں سمجھتے ہوئے گاڑی کی رفتار تیز کرتا ہوا تقریباً بھگانے لگا۔ نگاہ وقتاً فوقتاً بیک مرر کی جانب اٹھ رہی تھی۔ پیچھے آتی سیاہ گاڑی اس کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہوسکی۔
“میر اور اس کی کالی زبان!!!۔” دانت پیس کر خود سے کہتا ہوا پیچھے دیکھنے لگا۔ حسبِ توقع گاڑی میں دو آدمی تھے۔ لبوں پر دل جلانے والی مسکراہٹ تھی۔ ساویز نے ہمت نہ ہارتے ہوئے انہیں دوبارہ ہٹ کرنے کا موقع نہ دیا۔ تھوڑی دیر بعد بیک مرر سے پیچھے دیکھا تو وہ کہیں نہیں تھے۔ ایسا پہلی بار نہیں تھا۔۔ اس شخص کے آدمی ہمیشہ کوئی نہ کوئی موقع ڈھونڈا کرتے تھے۔ آفس کے آگے گاڑی روک کر وہ باہر نکلا۔ ماتھے پر گہرے بل نمایاں ہونے لگے۔ باس کو اترتا دیکھ کر گارڈ اس کی جانب بڑھا تھا۔
“گاڑی کو شو روم بھیجو۔۔” اس کے ہاتھ چابی پکڑا کر وہ گاڑی جائزہ لینے رکا جس کی حالت پیچھے کی جانب سے بہت خراب تھی۔ گارڈ نے اس کے حکم پر اثبات میں سر ہلایا جبکہ وہ بےچارگی سے نفی میں سر ہلاتا اندر بڑھ گیا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“سمیسٹر بریک میں تھیسز کے لیے بلانا ٹھیک ہے کیا؟ اتنی گرمی ہے۔” وہ دونوں سڑک کنارے چلتے ہوئے گھر کی جانب بڑھ رہی تھیں۔
“ایک مہینہ آرام کا اور اس میں بھی آرام نہیں! بہرحال میں آج بہت خوش ہوں۔ کم از کم چھٹی کرنے کا موقع تو ہاتھ آیا ہے۔” غنایہ کی بات کا جواب دیتے ہوئے وہ کچھ مسکرائی تھی۔
“ہاں تمہاری بہن کی شادی۔۔” اس نے بےچارگی سے کہا۔ “اب مجھے یہ پورا ہفتہ سر کھپانا ہوگا۔ اگر تم نہ آئی تو میں بھی نہیں آؤں گی باسمہ!۔” وہ دونوں باسمہ کی بس کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ وہ اسٹاپ تھا جس کے بعد دونوں کی راہیں جدا ہوجاتی تھیں۔
“تو تم بھی اپنی بہن کی شادی کروادو!۔” وہ مذاق کرتے ہوئے زور سے ہنسی۔ غنایہ نے اسے دیکھا۔
“میرے لیے وہ کبھی یوں شادی نہیں کرے گی! بلکہ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کے وہ شادی کرے گی کہ نہیں۔۔” اس نے کندھے اچکائے۔
“ایک بات پوچھوں؟۔”
“ہاں۔”
“تم نے بتایا تھا کہ وہ تم لوگوں کے ساتھ نہیں رہتی۔ اس کے یوں گھر چھوڑنے کی وجہ؟۔” اسے یہ بات ہمیشہ عجیب لگتی تھی اس لیے پوچھ بیٹھی۔
“وہ بہت کانفیڈنٹ ہے باسمہ! ہر معاملے میں آگے رہنے والی لڑکی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ امی اور ابا نے ہمیشہ ڈر ڈر کر زندگی گزاری ہے اور وہ ایسے نہیں گزار سکتی۔۔ مجھے نہیں پتا کہ وہ کانفیڈنٹ ہے یا بےوقوف۔۔۔ مگر وہ بہت ہمت والی ہے۔” اس کا لہجہ عجیب تھا۔۔ نجانے وہ اپنی بہن کو ٹھیک کہے یا غلط۔۔
“وہ کانفیڈنٹ ہے غنایہ۔۔۔ مگر تم بےوقوف ہو۔ زندگی یوں ڈر اور خوف سے نہیں گزاری جاتی۔ اپنے لیے لڑا جاتا ہے اور پھر لوگ تو ہر قسم کے ہوتے ہیں۔ تو کیا اس ڈر سے گھر سے باہر نہیں نکلا جائے؟ ہر طرح کے لوگوں کو ڈیل کرنا آنا چاہئیے۔” وہ اسے بار بار سمجھاتی تھی۔
“امی ابا کہتے ہیں کہ ایسے بات اور بڑھتی ہے۔۔ جیسے اگر عاشی کو باصم کی حرکتوں کا اندازہ ہوگیا تو وہ ایک تماشہ کھڑا کردے گی۔ تائی اماں کے گھر جا کر چیخے گی اور ایسے معاملہ اور خراب ہو جائے گا باسمہ۔۔ بات لڑائی تک پہنچ جائے گی اور مجھے لڑائی جھگڑوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔”
“تو کیا تمہیں خاموش رہ کر یہ سب سہنا اچھا لگتا ہے؟ لیکن اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں۔۔” وہ جانتی تھی کہ غلطی اس کی نہیں بلکہ ابرار اور عفت کی ہے جو اپنی بیٹی کو مضبوط بنانے کے بجائے اسے اپنی طرح خاموش رہنا اور سماج سے ڈرنا سکھا گئے تھے۔۔
“عاشی بہت بہادر ہے۔۔ مگر اتنا بہادر ہونا ٹھیک تو نہیں ہوتا نا؟ نجانے وہ ہمارے گھر میں سب سے مختلف کیسے نکلی۔ شروع سے ہی جو ٹھیک لگتا تھا ویسا ہی کرتی تھی۔ وہ کہتی تھی کہ اگر وہ ساتھ ہمارے گھر میں رہی تو پاگل ہو جائے گی۔ ابا اور وہ ایک دوسرے سے اب بھی کچھ کچھ ناراض رہتے ہیں۔۔ وہ چاہتی ہے میں اس کی طرح بن جاؤں مگر میرے مطابق وہ سب صحیح نہیں۔۔” اس نے دور سڑک پر دیکھا جہاں سے بس آرہی تھی۔
باسمہ نے ہمت ہارتے ہوئے سانس ہوا میں چھوڑی۔ اسے سمجھانا واقعی ناممکن تھا۔
“یہی وجہ ہے نا کہ تم اتنا ڈرتی ہو؟ باصم کا نام سن کر بھی ہونٹ تھرتھرانے لگتے ہیں؟ ظالموں سے لڑا جاتا ہے غنایہ۔۔۔ ان سے دور نہیں بھاگا جاتا۔ جب میں یونیورسٹی نہیں آتی تم بھی چھٹی کرلیتی ہو کیونکہ تم یونیورسٹی سے گھر اکیلے میں جانے میں ڈرتی ہو! کیا فائدہ اس زندگی کا جب آپ اپنے لیے ہی نہ لڑ سکیں۔ زندگی ڈر ڈر کر جینے کا نام نہیں۔۔ میں چلتی ہوں۔ جلد ملاقات ہوگی۔” آخری جملہ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا جبکہ غنایہ اس کے الفاظوں پر ہی ٹھہر گئی تھی۔ نجانے کون ٹھیک تھا۔۔ اس کے امی ابا یا عاشی!۔
آدھا راستہ اب اسے خود طے کرنا تھا۔ وہ پیدل چلتے ہوئے اندر گلیوں کی جانب بڑھ رہی تھی۔ چہرہ سر پر پہنے ڈوپٹے سے ہلکا سا ڈھانپ لیا تھا تاکہ وہ اسے کہیں نظر آئے تو پہچان نہ سکے۔ گھر کے نزدیک ہوتی وہ چھوٹی گلیوں میں داخل ہوگئی تھی جب اس کی بائیک ساتھ آکر رکی۔ گلے میں سلور چین اور ہاتھوں کی انگلیوں میں انگھوٹی۔ غنایہ کی سانسیں رکنے لگیں۔
“آؤ میں چھوڑ دوں!۔” مسکرا کر سر تا پیر دیکھتے ہوئے مشورہ دیا گیا۔ وہ گھبرا کر تیز چلنے چلنے لگی۔
“ٹھہرو! گھر پاس میں ہی ہے۔ میں تمہیں گھر چھوڑ سکتا ہوں۔” وہ بائیک چلاتا ہوا اس کے نزدیک آیا۔
“میں خود چلی جاؤں گی۔” لفظوں نے کئی بار زبان کا ساتھ چھوڑا تھا۔
“ڈرتی کیوں ہو غنایہ!۔” وہ زور سے ہنسا۔ “جلد ہماری شادی ہوجائے گی اور پھر سفر تو میرے ساتھ ہی کرو گی۔ چلو اب جلدی سے بیٹھ جاؤ۔” اس کی دل جلانے والی مسکراہٹ پر غنایہ کو بے جا رونا آیا۔
“شادی؟ نہیں ایسا نہیں ہوگا۔” اس نے چہرے کو مضبوطی سے ڈھانپا ہوا تھا۔ پلکیں لرز اٹھیں۔
“چند دن بعد اماں پھر آئیں گی۔ اگر پھر بھی انکار کیا تو پھر تم مجھے جانتی ہو۔۔” اس کی خبیث مسکراہٹ کی جگہ اب غصے نے لے لی تھی۔ وہ آگے کی جانب بڑھ رہی تھی اور باصم اپنی بائیک آہستہ آہستہ اس کے ساتھ لے کر جا رہا تھا۔ “انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔”
وہ یکدم ہی باسمہ کی باتوں کو سوچنے لگی۔ نجانے دل میں کیا آیا کہ پھنستی آواز میں بول پڑی۔
“ابا کبھی میری شادی تم سے نہیں کروائیں گے۔” رنگت فق ہو رہی تھی۔
“چچا صاحب کو کروانی ہی پڑے گی۔ اگر وہ نہ مانے تو بھرے بازار کے سامنے کھینچتا ہوا لے جاؤں گا۔ اس پورے علاقے میں میری ہی مانی جاتی ہے۔۔ صرف ایک پستول!۔” وہ قہقہہ لگانے لگا۔ غنایہ کا دل گویا حلق میں آگیا۔ وہ تقریبا بھاگتے ہوئے گھر پہنچی تھی اور اب زور سے دروازہ کھٹکھٹا رہی تھی۔ باصم جاچکا تھا مگر اس کا دل اب بھی زور سے دھڑک رہا تھا۔ عفت نے دروازہ کھول کر بیٹی کی حالت دیکھی۔ رخسار آنسوؤں سے تر تھے۔ چہرے پر خوف کی دہشت قائم تھی۔
“کیا ہوا؟۔” بغیر جانے ہی وہ سب سمجھ چکی تھیں۔ غنایہ نے اندر داخل ہوکر کنارے پر اپنا بیگ رکھا اور روتی چلی گئی۔ کمرے سے باہر آتے ابرار اسے دیکھ کر ٹھٹھکے۔
“کیا وہ پھر آیا تھا؟۔” عفت کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔ بنا کچھ کہے وہ صرف اثبات میں سر ہلا کر اندر چلی گئی۔ ہچکیاں بندھی ہوئی تھیں۔ عفت نے پلٹ کر شوہر کو دیکھا جو ساکت کھڑے تھے۔
“بھائی جان کو سمجھاتے کیوں نہیں؟ ان کا بیٹا ہماری بیٹی کا پیچھا کرتا ہے، ڈراتا ہے، دھمکاتا ہے۔۔” اندر سے وہ خود سہمی ہوئی تھیں۔
“انہیں علم ہے ان باتوں کا عفت۔۔ ان کا بیٹا ان کی شہہ پر ہی سب کچھ کرتا ہے۔” سنجیدہ خاموش لہجہ۔۔ وہ تخت پر بیٹھ کر گہری سوچ میں ڈوب گئے۔
“پستول لے کر گھومتا ہے۔ کل کلاں کو خدا نخواستہ کچھ الٹا سیدھا ہوگیا تو ہم مرجائیں گے ابرار۔۔ ہمیں کچھ نہیں چاہئیے! بس بیٹی اور اس کی عزت ہمیں اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے۔” ان کا دل گھبرانے لگا تو وہ ان کے پاس ہی بیٹھ گئیں۔
“اس سے کہیے یہ بات اپنی بہن کو نہ بتائے۔۔ وہ سب معاملہ خراب کردے گی۔ میں اس بارے میں کچھ سوچ رہا ہوں۔۔” دونوں ہتھیلیاں تخت پر ٹکی تھیں اور سر جھکائے کسی سوچ میں مصروف تھے۔
پھر وہی ایک خیال۔۔ وہی ایک سوچ اور وہی ایک سوال! قصوروار کون؟
۔۔۔★★★۔۔۔
“گاڑی بری طرح ہٹ ہوئی تھی۔” وہ خوش تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ بات اس کے باس کے لبوں پر مسکراہٹ لے آئے گی۔
“پھر؟۔” لبوں پر امید کے مطابق مسکراہٹ پھیلی۔ چہرے کے دائیں طرف رخسار پر ڈمپل گہرا ہوا۔
“وہ بہت ہوشیار ہے۔ ٹھہرنے کے بجائے گاڑی کی رفتار تیز کرلی۔”
“وہ جانتا ہے کہ باہر اسے جان کا خطرہ ہے مگر اس نے اتنی دولت ہونے کے باجود بھی سیکیورٹی نہیں رکھی۔”
“میں جانتا ہوں اسے مارنا آپ کے لیے آسان نہیں باس! وہ آپ کا دوست۔۔۔” فراز نے جملہ مکمل کرنا چاہا جب اس نے بات کاٹی۔
“دوست؟ ماضی کی باتیں دہرایا نہیں کرتے۔ مجھے اس سے شدید نفرت ہے مگر۔۔۔۔ مگر ہاں۔۔۔ تم ٹھیک کہتے ہو۔ میرے لیے اسے مارنا آسان نہیں۔۔” کرسی کی پشت پر اس نے سر ٹکایا۔ آنکھیں چھت کو گھورنے لگیں۔ اسے وہ ماضی کے قہقہے یاد آنے لگے۔۔ گونجتے قہقہے اور ہنستے چہرے۔۔ وہ تین کرسیاں اور تین لوگ۔۔ ہاتھ پر ہاتھ مار کر بات کو مزید بڑھاتے ہوئے۔ جمھاکہ ہوا اور اگلے پل سب غائب۔۔ چھ مہینوں میں کتنے یار بچھڑ گئے تھے۔۔ اس نے اپنی پرکشش ہری آنکھوں کا مرکز دیوار کو بنا لیا۔ وہ تصویر جو دور دیوار پر لٹکی تھی۔۔
“کسی انسان کا ماضی اس قدر خوبصورت کیسے ہوسکتا ہے۔” گھمبیر آواز میں فراز سے کہتا ہوا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“کبھی یار بھی دھوکا دے جاتے ہیں۔”
“مگر یہ دل مطمئن نہیں ہوتا۔۔ یا یہ ماننا نہیں چاہتا۔۔ یا پھر۔۔ میرا اعتبار بہت گہرا تھا کسی پر۔۔” گلاس وال سے عمارت کے باہر جھانکتے ہوئے وہ دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں رکھ چکا تھا۔ اونچا، چوڑا اور خوبصورت پرکشش مرد۔۔ اس نے مڑ کر فراز کو دیکھا۔
“ساویز خانزادہ نہیں مانے گا تو وجاہت سلطان بھی ہمت نہیں ہارے گا۔ اسے ماننا پڑے گا اس رات وہ قتل اس کے ہاتھوں ہی ہوا تھا۔” ماتھے پر گہرے سنجیدگی کے بل تھے۔ ہری آنکھیں ادھ کھلی سپاٹ تھیں۔ “میرے حصے کا آخری شخص بھی چھین لیا گیا۔”
“ان چھ ماہ میں کوئی اس کے خلاف گواہی دینے کو تیار نہیں ہوا باس۔” اس نے وجاہت کو یاد دلانا چاہا۔
“وہ ایک ہوشیار اور شاطر مرد ہے۔ شرافت کی جھوٹی وردی ساتھ رکھتا ہے۔ جو شخص چھ ماہ میں ہمارے جال میں نہ پھنس سکا اس کا اندازہ تم لگا سکتے ہو۔۔ مگر وجاہت ابھی کمزور نہیں۔۔ اس کا سکون برباد کرنے کے لیے میرا ہونا کافی ہے۔”
“میرویس راہ میں رکاوٹ ہے!۔”
“مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں۔ میری دشمنی میرویس سے نہیں۔ میں اسے سمجھاؤں گا کہ اس جنگ میں خود کو دور رکھے۔” ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کرتے ہوئے وہ لیپ ٹاپ کھول کر دوبارہ آفس ٹیبل پر بیٹھ گیا۔
“اب تم جاؤ۔” اسے بےچینی محسوس ہونے لگی۔۔ اس کھلے کمرے میں بھی گھٹن کا احساس ہونے لگا تو وہ دیوار پر لگی گھڑی میں وقت دیکھنے لگا تاکہ گھر جاسکے۔
۔۔۔★★★۔۔۔
اس نے موبائل کھول ساویز کا آیا غصے میں وائس میسج سنا تو قہقہہ چھوٹ گیا۔ وہ جو کام کی وجہ سے بری طرح تھکاوٹ کا شکار تھا ساویز کے میسج نے لبوں پر مسکراہٹ پھیلادی۔ خاموش ماحول میں ہنسنے کی آواز گونجی تو سب ورکرز نے مڑ کو اسے دیکھا۔
“مسٹر میرویس چوہدری۔ امید ہے آپ ڈسپلن کا خیال رکھیں گے۔” باس کی آواز پر اس کے چھکے چھوٹے تھے۔
“سس۔سوری باس!۔” نادم لہجے میں کہتا وہ اپنے کام کی جانب متوجہ ہوگیا۔ آج کا دن بھی بےحد تھکا دینے والا تھا۔ اپنے کام کے ساتھ ساتھ ورکرز کے کام کو بھی دیکھنا بےحد مشکل تھا۔ گھر لوٹتے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا تھا۔ بستر پر کپڑے بکھرے ہوئے تھے۔ تولیہ، لیپ ٹاپ، اور پرفیومز سے گھرا بستر دیکھ کر وہ گہری سانس ہوا میں تحلیل کرتا رہ گیا۔ آنکھیں تھکاوٹ سے سرخ ہورہی تھیں۔ بھوک سے پیٹ آوازیں کر رہا تھا مگر فریج تک جانے کے لیے جو ہمت چاہئیے تھی وہ اب نہیں رہی تھی۔ اپنے کوٹ کی ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے اس نے ارد گرد دیکھا۔ بال بکھر کر آنکھوں تک آگئے تھے۔ جوتے کھڑے رہ کر ہی اتار لیے گئے۔۔ نیند تو جیسے آنکھوں پر سوار تھی۔ آخری بار اس نے صبح ہی ناشتہ کیا تھا۔ پھر چائے سے کام چلاتے چلاتے پورا دن گزر گیا۔ ایسا تو جانے کتنے سالوں سے ہو رہا تھا۔۔ اس کی روٹین اس کی مرضی کے بلکل خلاف تھی۔ بنا کچھ کھائے پیے وہ دھپ سے بستر پر اوندھا گرا۔ بال مزید چہرے پر آگئے۔ نیند بھوک پر حاوی ہونے لگی تو اس نے آنکھیں موند لیں۔ عجیب تھا۔۔ یہ اس قدر بکھرا بستر بھی میر کو اس وقت کسی خوبصورت آرام گاہ سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ کمرہ حبس زدہ تھا مگر اس نے ائیر کنڈیشنر کھولنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی۔ کھڑکیاں بند تھیں بس ایک پنکھا تھا جو سر کے اوپر چھت پر گھوم رہا تھا۔ آنکھیں بند کرنی ہی تھیں کہ نیند حاوی ہوگئی۔ شاید اماں ٹھیک کہتی تھیں کہ وہ لاپرواہ ہے۔۔ یا شاید ان سب کے پیچھے اس کی بےحد خراب اور تھکا دینے والی روٹین کا ہاتھ تھا۔ اسے یاد نہیں وہ کب کا وقت تھا جب اس کا موبائل بجنے لگا۔ نیند اتنی گہری تھی کہ کالر کی تیسری بار کال کرنے پر اٹھا تھا۔ اس نے کال کرنے والے کا نام پڑھا۔ موبائل پر اماں کا نام جگمگا رہا تھا مگر وہ جانتا تھا کہ کال کرنے والی روما ہے۔ حیرت کی بات یہ کہ تین بجے اس کی کال آنے پر وہ ذرا بھی پریشان نہیں ہوا۔ کیونکہ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ یہ کوئی ایمرجنسی نہیں۔۔
“ہیلو؟۔” آنکھیں پوری کھل چکی تھیں۔ گویا نیند کا کبھی قیام ہی نہ ہو۔
“کیسے ہو میرو؟۔” ہشاش بشاش لہجہ۔۔ وہ بہت لگن سے پوچھ رہی تھی۔
میر نے آنکھیں موند کر بے بسی سے گہری سانس بھری۔
“یہ تم مجھ سے رات کے تین بجے پوچھ رہی ہو؟۔” دن کا ہارا رات کو لوٹا تو بھی بےچین۔۔
“تم بلکل اچھے نہیں میرو!۔” اس کے لہجے سے لگتا کہ وہ جلد فون نہیں چھوڑنے والی۔
“یہ میں روز سنتا ہوں۔ کوئی نئی بات بتاؤ؟ کیا بات کرنی ہے؟۔” وہ روما تھی۔۔ جس سے پیچھا چھڑانا جنگ ہارنے کے مترادف تھا۔۔ لیکن وہ اس کی بیٹی جیسی عزیز بہن بھی تھی جسے وہ چاہ کر بھی کال رکھنے کا نہیں کہہ سکتا تھا۔
“مجھے کل اسکول سے لینے آؤ گے نا؟۔” ایک ناز سے پوچھا گیا۔ میر نے چونک کر سامنے دیکھا۔
“کیوں؟۔”
“میری دوستیں تمہیں دیکھنا چاہتی ہیں میرو! میں نے سب کو بتایا تھا کہ میرا بھائی مینجر ہے۔”
“اپنی خواہشوں کا بار اپنی دوستوں پر مت ڈالو۔ میں جانتا ہوں ایسی کوئی بات نہیں۔ تمہاری دوستوں نے پہلے بھی کئی بار مجھے دیکھا ہوا ہے۔” میر کے ماتھے پر بل پڑے۔
“مجھے لینے آؤ گے نا؟۔” اس کی بات کو رد کرتی وہ اپنی کہنے لگی۔
“روما فون رکھ کر سوجاؤ! میں بار بار تمہاری خواہشات کے لیے آفس سے تھوڑی تھوڑی دیر کی چھٹی نہیں لے سکتا۔ اب تو محسوس ہوتا ہے کہ جلد تمہاری وجہ سے مجھے مینجر کے عہدے کو کھونا پڑ جائے گا۔” ایک رعب جماتا ہوا وہ کال کاٹ گیا۔۔ مگر بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی البتہ اس کی نیند مکمل طور پر ختم ہوگئی تھی۔ وہ اوندھا لیٹا پوری آنکھیں کھول کر سامنے دیکھ رہا تھا۔ بچپن سے ہی اسے تاخیر سے اٹھنے کی عادت تھی۔۔ لیکن جب سے اس نے اپنے باپ کو کھویا تھا اپنی بہت سی عادتیں بھی کھو بیٹھا تھا۔ گہری نیند لے کر وہ اب بھی کافی تاخیر سے اٹھتا تھا مگر کسی کے ایک بار اٹھانے پر اس کی نیند پھر مکمل طور ختم ہوجایا کرتی تھی جیسے ابھی ہوگئی تھی۔۔ اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے وہ کبھی سویا ہی نہ ہو۔۔ یا نیند سے اس کا کوئی واسطہ ہی نہ رہا ہو۔ اس حوالے سے باپ کی موت کے بعد اور بھی بہت کچھ بدلا تھا۔ تھکاوٹ سے جسم درد کر رہا تھا مگر نیند سرے سے ہی اڑ چکی تھی۔ روما کی ایک کال اسے صبح تک لیے جگا گئی تھی۔ وہ لیٹ کر ہی روما کے بارے میں سوچنے لگا۔ دل میں دکھ ہونے لگا کہ اسے یوں کال نہیں کاٹنی چاہئیے تھی۔۔ موبائل اٹھا کر دوبارہ کال ملائی گئی جسے روما نے پہلی بیل پر اٹھا لیا تھا۔۔ گویا وہ فون سے چپکی بیٹھی ہو۔
“میں آؤں گا تمہیں لینے۔۔” وہیں بہن کے ساتھ مخصوص نرم لہجہ۔۔
“تم میری آئیندہ کال تو نہیں کاٹو گے نا میرو؟۔” اسے شاید تکلیف پہنچی تھی۔۔ آواز میں عجیب سا احساس تھا کہ میرو کا دل ڈوب کر ابھرا تھا۔
“نہیں روما۔۔ اب کبھی تمہاری کال نہیں کاٹوں گا۔” نیند سے اٹھنے کے باعث بھاری آواز مزید بھاری ہوگئی تھی۔
“ویسے مجھے برا تو نہیں لگتا ان چھوٹی باتوں کا مگر تم تو میرو ہو نا۔۔ تم ایسا کرو گے تو مجھے اچھا نہیں لگے گا۔”
میر حیران ہوا تھا۔ ہاں وہ جانتا تھا کہ روما اس سے بےپناہ محبت کرتی ہے مگر اس قدر اس کے لیے حساس ہونا میر کو حیران کرگیا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔ میں احتیاط کروں گا۔ رات کے تین بجے تمہارا یوں جاگنا اچھا نہیں۔۔ اگر نیند پوری نہیں ہوئی تو اسکول میں دھیان نہیں دے پاؤ گی۔” وہ جو اسے اتنی نصیحتیں کر رہا تھا، خود اس کی نیند الوداع کہہ چکی تھی۔۔ ہاں وہ اب کل آفس میں کام پر صحیح سے دھیان نہیں دے پائے گا اسے علم تھا۔
” میں تمہارا انتظار کروں گی۔ اللہ حافظ۔” کال رکھ دی گئی۔ میرو وہیں موبائل رکھ کر ویسے ہی لیٹا رہا کہ شاید نیند اس کی طرف پھر سے دورا کرلے۔۔ دس منٹ انتظار کرنے کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ وہی بکھرا کمرا۔۔ اس نے موزے اتار کر کنارے پر رکھے اور پاؤں زمین پر رکھتا سنگھار میز تک چلتا ہوا آیا۔ ڈھیلی کالی ٹائی اب بھی اس کے گریبان میں لہرا رہی تھی۔ تھکن اتنی کے جسم کا ایک ایک حصہ دکھ رہا تھا۔ دونوں ہاتھ میز پر ٹکائے وہ کچھ جھک کر آئینے میں جھانکنے لگا۔۔ جیسے کوئی اس کی آنکھوں میں جھانک رہا ہو۔ ماحول میں خاموشی کا عالم تھا۔ سرخ ادھ کھلی آنکھیں جن میں نیند کا نام و نشان بھی نہیں رہا۔۔ دل میں بہت سی باتیں چھپی تھیں جس کا اظہار وہ کبھی خود سے بھی نہ کر پایا تھا۔ جانے یہ بقایہ زندگی کیسی گزرنے والی تھی؟ کس کے ہاتھوں گزرنے والی تھی۔۔
ہاں وہ خوش مزاج اور کسی کا بھی دل جیت لینے والا مرد تھا۔۔ مگر خود میر کے دل میں کیا چل رہا ہوتا ہے اس کے علاؤہ صرف ایک شخص جانتا تھا۔ اس کا بہترین دوست اس کی رگ رگ سے واقف۔۔ وہ ساویز کو کچھ نہ بھی بتاتا تو وہ خود ہی سمجھ جاتا۔ اس نے ان دو، تین سالوں میں یہ اظہار کرنا بھی چھوڑ دیا تھا کہ اسے اپنا باپ بہت یاد آتا ہے۔۔ مگر ساویز جانتا تھا۔ ایک بہترین مرد کے ساتھ وہ میر کا بہترین دوست بھی تھا۔ روما اس کے لیے کل کائنات تھی۔ جب وہ دو سال کی تھی وہاب منصور کا ہارٹ اٹیک کے باعث انتقال ہوگیا تھا۔ جس دن وہ ٹوٹا اسی دن تہیہ کرلیا کہ وہ روما کو کبھی یہ احساس نہیں ہونے دے گا کہ اس کا باپ مر چکا ہے۔
وارڈروب سے کپڑے نکال کر وہ فریش ہو کر باہر آیا۔ اتنے سالوں میں جب سے وہ اپارٹمنٹ میں شفٹ ہوا تھا اسے تنہائی کی عادت ہوگئی تھی۔ کافی بناتے ہوئے اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ آسمان اب نیلے رنگ کا محسوس ہو رہا تھا۔۔ تو گویا چلو صبح کا آغاز ہو گیا تھا۔ کافی بھی اس نے ٹیرس میں بیٹھ کر پی تھی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چہرے پر پڑتی جسم کو سکون پہنچانے لگی۔ لبوں پر مسکراہٹ گہری ہوئی۔ وہ سوچنے لگا کہ یہ انتیس سال بھی کیسے بیت گئے۔ بہت سی مسکراہٹیں لبوں پر لائے اور بہت سے غم کے سمندر آئے۔۔ مگر سب بیت گیا۔ اب حال جو حال کر رہا تھا وہ اسے بھی جھیل رہا تھا۔۔ اگر کوئی میر سے پوچھے تو وہ بہت خوش تھا۔ اس کے پاس ایک اچھا مخلص دوست تھا، جان سے بڑھ کر بہن تھی گویا زندگی مکمل تھی۔۔ مگر ہاں ابھی بھی کسی کی کمی تھی۔۔ اب جانے وہ کوئی چیز تھی یا شخص!۔
۔۔۔★★★۔۔۔
(جاری ہے)