Tu Dil Se Na Utar Saka By Ayna Baig Readelle50173 Episode 12 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12 Part 1
تو دل سے نہ اتر سکا از عینا بیگ
آخری قسط (پہلا پارٹ)
صوفے پر لیٹا وجاہت گیند اوپر اچھالتا ہوا کیچ کر رہا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں اس نے تذبذب کی کیفیت سے گھڑی میں وقت دیکھا۔
کچھ دور غنایہ رخ موڑے بیٹھی تھی۔ آدھے گھنٹے سے اوپر ہونے کو آیا تھا مگر ساویز اب تک نہیں پہنچا تھا۔
“تم نے کہا تھا اگر ساویز نہ آئے تو آدھے ہی گھنٹے میں گھر چھوڑ دو گے۔” بنھویں آپس میں ملی ہوئی تھیں۔
وجاہت اٹھ کر بیٹھا اور غور سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔
جو بھی تھا یہ اس کی آخری کوشش کی تھی۔ ساویز آئے نہ آئے مگر اس کا دل بوجھل ہونے لگا تھا۔ اگر وہ نہ آیا تو اس کی یہ آخری کوشش رائیگاں چلی جائے گی۔ مزید پانچ منٹ انتظار کرتے ہوئے سنجیدگی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ ایک بار گھڑی میں وقت دیکھا اور تھوک نگل کر غنایہ کو جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“عادل۔” اس نے گارڈ کو پکارا۔
“جی باس۔”
“غنایہ کو گھر چھوڑ آؤ۔” جلد تھا کہ شدت ضبط سے آنکھیں سرخ ہو جاتیں۔ وہ پلٹ ہی رہا تھا جب کسی کی آواز کانوں سے ٹکرائی۔
“میری بیوی تک پہنچنے کی ہمت کیسے کرسکتے ہو تم۔۔” دروازے سے اندر داخل ہوتا ساویز دھاڑا تھا۔ وجاہت اس کی آواز پر ٹھہر کر مڑا۔ لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“ساویز۔” غنایہ کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔ ساویز نے اسے دیکھا تو نزدیک آیا۔
“تم ٹھیک ہو؟” نگاہوں میں ڈھیروں فکرمندی تھی۔
وجاہت نے امپریس ہوتے ہوئے دونوں کو دیکھا۔
“ہاں۔” وہ یہاں سے جانا چاہتی تھی۔ ساویز وجاہت کے طرف بڑھا۔
“چاہتے کیا ہو تم؟ تم اپنی بہن کے قتل کا گناہ مجھے کیوں دے رہے ہو؟” چہرہ لال بھبھوکا ہو رہا تھا۔
“کیونکہ اسے تم نے مارا ہے۔” وجاہت نفرت انگیز لہجے میں بولا۔
“بس کرو وجاہت! خدا کا واسطہ ہے نکل آؤ خمار سے۔۔ مجھے تمہاری بہن کا قتل کرنا ہی ہوتا تو تمہارے ساتھ دوستی کیوں رکھتا۔”
“کیونکہ وہ تم سے محبت کرتی تھی۔ جان دیتی تھی تم پر اور تم نے اس کی جان لے لی۔” کہتے ساتھ ہی آنکھیں نم ہوگئیں۔
“کیا بس یہی ایک ثبوت ہے؟ زبانی ثبوت؟” وہ چیخا۔ “اگر یہی بات تم کسی سے باہر جا کر کرو گے تو لوگ تمہیں بے وقوف سمجھیں گے وجاہت۔”
“اس رات تم گھر آئے تھے۔” وجاہت نے ماضی دہرایا۔
“ہاں آیا تھا مگر تم سے ملنے اور جب میں تمہارے کمرے میں پہنچا تو تم وہاں نہیں تھے۔ تب ہی اپنے کمرے سے باہر کائنہ نے قدم رکھا تھا اور مجھے تمہاری ناموجودگی کے بارے میں بتایا۔ میں جانے لگا تھا جب اس نے کہا مجھے ٹھہر جانا چاہئیے کیونکہ تم آنے والے تھے۔ میں انتظار کرتا اگر مجھے تمہارے تاخیر سے آنے کا اندازہ نہ ہوتا۔ میں پلٹ گیا وجاہت۔۔ اگر میں اسے مارنا ہی چاہتا تھا تو وہ چیخی کیوں نہیں؟ کیوں نہ آئے تمہارے گارڈز اسے بچانے؟” دانت پیس کر وہ ایک بار پھر یاد دہانی کروا رہا تھا۔ “کیونکہ ایسا کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ تمہیں کیا لگا تھا؟ مجھے نقصان پہنچائے اور میرا ذہنی سکون برباد کرنے کے لیے تم میری بیصی کا استعمال کرو گے اور یوں ساویز کوئی بھی جرم قبول کرلے گا؟” یہ ایک کشادہ بڑا کمرہ تھا جس میں ساویز کی آواز گونج رہی تھی۔ وجاہت ساکت کھڑا تھا۔ وہ لڑکھڑا کر پیچھے گر جاتا اگر عادل نہ اسے تھام لیتا۔ آج پہلی بار اس نے خود کو دنیا کا سب سے ناکامیاب شخص محسوس کیا۔ اس کی بیوی یہاں پر تھی۔ وہ یوں اس موقع پر جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔ تو کیا واقعی یہ سچ تھا؟ کیا واقعی وہ بے گناہ تھا؟ اور آج تک جو وہ ساویز کو نقصان پہنچاتا آیا، اس کی بیوی کو بھی معاملے میں شامل کیا۔ کیا وہ سب ایک غلطی بن کر رہ گئی تھی؟ اس نے تھوک نگلا تو حلق کی گلٹی نمودار ہو کر غائب ہوئی۔
“میں نے تم سے کہا تھا نا وجاہت۔۔ ایک دن آئے گا کہ تم پچھتاؤ گے اور یہ بھی کہا تھا کہ اس وقت سے بچو مگر تمہارے اندر لگی انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی تھی۔” ساویز کی گھمبیر آواز وجاہت کو سن کر رہی تھی۔ پریزے ٹھیک کہتی تھی۔۔ اور ساویز بھی۔۔ وہ واقعی پچھتاوے میں گھر گیا تھا۔ انتقام کا یہ چکر اسے اس کی بیوی سے دور لے گیا۔ غنایہ شوہر کے پیچھے کھڑی تھی۔
“جا رہا ہوں میں۔۔ یاد ہے میں نے ایک بار تم سے کیا کہا تھا؟ دوست کا وار سہنے کی بھی ہمت رکھتا ہوں اور دیکھو آج تمہاری دی گئی ہر تکلیف سہہ رہا ہوں۔ تم نے سب کھو دیا وجاہت۔ تم نے سب کو خود سے دور کر دیا۔” وجاہت کو یوں حواسوں سے بیگانہ ہوتے دیکھ کر اسے دکھ ہوا۔ اس کی حالت قابلِ رحم تھی مگر ساویز ایک بار بھی آگے نہیں بڑھا تھا۔
“غنایہ۔” ساویز نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ وہ اسے تھام سکے۔ غنایہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور وجاہت کو دیکھنے لگی۔ اسے لمحہ بھر ٹھہرنے کا اشارہ دیتے ہوئے وجاہت کے نزدیک آئی جسے عادل اب صوفے پر بٹھا چکا تھا۔
“مجھے تم سے پہلے بہت نفرت محسوس ہوتی تھی مگر اب مجھے تمہارے لیے دکھ ہے۔” یہ وہ الفاظ تھے جو غنایہ نے وجاہت سے کہے تھے جس پر وجاہت نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ اسے ہمدردی محسوس ہو رہی تھی۔ اس کے پلٹنے کے بعد وجاہت کی آنکھ سے آنسو نکلا تھا اور وہ خود پر ضبط کرتا رہ گیا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“اللہ اسے غارت کرے جس نے میری بیٹی کی جانب بری نگاہ اٹھائی۔” تقی چیخ نہیں رہے تھے’ بلکہ دھاڑ رہے تھے اور ساویز انہیں بار بار یاد دلا رہا تھا کہ وہ دل کے مریض ہیں۔ غنایہ نے نچلا لب دانتوں سے کچلا۔
“مجھے کچھ کہنے سے مت روکو ساویز۔ باپ ہوں تمہارا! غنایہ سے اس کی طبیعت پوچھو۔ اللہ نہ کرے کوئی ایسی ویسی بات ہوجائے۔”
اس سے قبل ساویز کچھ کہتا غنایہ بول پڑی۔
“میں ٹھیک ہوں بابا۔ اس نے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ آپ پریشان مت ہوں۔ کہیں دل میں تکلیف نہ اٹھ جائے۔” ان کے پاس آکر وہ قریب ہی بیٹھ گئی۔ پیار سے ہاتھ ان کے کندھے پر پھیرا تو وہ کچھ سکون میں آگئے۔
ساویز قدرے امپریس ہوا۔
“آدھے گھنٹے سے جب میں سمجھا رہا تھا تو آپ مجھے الٹا ڈانٹ رہے تھے۔” کالر والی شرٹ کا پہلا بٹن کھولتے ہوئے وہ بستر پر بیٹھ گیا۔ غنایہ نے اس کی جانب کچھ اتراتے ہوئے دیکھا۔
“بیٹیوں کی بات کچھ اور ہوتی ہے۔” اپنی لٹوں کو انگلیوں پر گھماتے ہوئے اس نے تصدیق کے تحت تقی کو دیکھا تو وہ مسکرا دیے۔
“اس بات سے میں انکار نہیں کر سکتا۔” انہوں نے دھیرے سے اس کے سر ہاتھ پھیرا تو ساویز بھی مسکرا دیا۔
“یہاں میں جیلس ہونے کا حق رکھتا ہوں۔” بہت ہی آرام سے کہتے ہوئے وہ غنایہ کو گھورنے لگا۔ غنایہ کھلکھلا دی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
گروسری گاڑی میں رکتے ہوئے اس نے مسکراتے ہوئے روما کی جانب بسکٹ کا پیکٹ بڑھایا۔ روما نے پہلے اس کے مسکراتے لب دیکھے اور جواباً خود بھی مسکرا دی۔
“تھینک یو بھابھی۔” کریم والے بسکٹس اسے ہمیشہ سے پسند تھے۔
“تم نے اپنی پسند سے کیا لیا؟” ڈرائیونگ سے پر بیٹھتے ہوئے عشنا نے اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا۔
“یہ چاکلیٹس اور کسٹرڈ بنانے کا پیکٹ! جب میرو آئے گا تو میں اس کے لئے بناؤں گی۔” چاؤ سے کہتے ہوئے اس نے ڈبے کو دیکھا تو عشنا مسکرا دی۔
“تمہارے بھائی کا دماغ گھٹنوں میں ہے۔” نجانے کیوں وہ طنزیہ بول پڑی۔ روما چونک اٹھی۔
“آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں۔” اگر یہ کہنے والی عشنا نہ ہوتی تو وہ یقیناً غصے میں آچکی ہوتی۔
“کیونکہ ایسا ہی ہے۔” خفا خفا سا لہجہ روما نے بھانپ لیا تھا۔
“انہوں نے آپ کو تکلیف پہنچائی؟”
گاڑی آگے بڑھ رہی تھی۔
“بہت زیادہ۔۔” عشنا کو گزرا وقت یاد آنے لگا۔ “کیا فرق پڑتا ہے۔” اسے غصہ آنے لگا۔
“آپ انہیں یاد کر رہی ہیں بھابھی؟” روما مسکرائی۔
“نہیں بلکل نہیں۔ میں اسے بلکل بھی یاد نہیں کر رہی۔” وہ تیزی سے نفی میں سر ہلانے لگی۔ “مجھے تمہارا بھائی ذرا نہیں پسند۔”
“بھائی اتنا برا ہے؟” اسے برا لگ رہا تھا مگر وہ عشنا کی طرف داری کرنا چاہتی تھی۔
“بہت برا’ بہت زیادہ۔ اتنا کہ وہ خود بھی نہیں جانتا۔” نجانے کب آنکھیں نم ہوگئیں اور آواز بھیگنے لگی۔ روما نے خاموش رہنا مناسب سمجھا۔ کیا واقعی میرو نے اس کی بھابھی کو اتنا رلایا تھا۔
“بے حس اور بدتمیز ہے۔ جانتی ہو اس نے کہا تھا کہ میرا دل کبھی نہیں دکھا سکتا مگر اس نے ایسا کیا روما۔” اتنی چھوٹی بچی کو وہ یہ کیوں بتا رہی تھی اسے خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔
“مجھے یقین نہیں آرہا۔ میرو نے آپ کا دل دکھایا؟ اس نے کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا۔” وہ اس جملے پر ٹھٹکی۔
“تمہارا بھائی دو نمبر آدمی ہے جسے میں بلکل پسند نہیں کرتی۔ ذرا نہیں بھاتا ہے۔” گھر کے آگے گاڑی روکتے ہوئے اس کو اندازہ ہوا کہ وہ کیا کیا بول چکی ہے۔ دھیرے سے چہرہ موڑ کر اس نے روما کو دیکھا جو مسکرا رہی تھی۔
“آئم سوری! میں بس غصے میں تھی۔ جانے کیا کیا بول پڑی۔” سب کچھ گڈ مڈ ہونے لگا تو روما کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے باہر نکل گئی۔
“میں جانتی ہوں آپ میرو کو پسند کرتی ہیں اور ابھی آپ اس سے ناراض ہیں۔” ٹھنڈا لہجہ عشنا کے لبوں پر مبہم سی مسکراہٹ لے آیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ کتنی سمجھدار معلوم ہو رہی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“میں آگے کیسے پڑھ سکوں گی ساویز؟” مستقبل کے حوالے سے اسے پریشانی تھی۔
“سب ہوجائے گا غنایہ۔ یہ سمیسٹر تمہیں ڈراپ کرنا پڑے گا۔” وہ اس کے گھٹنوں پر سر رکھ کر لیٹا ہوا تھا۔
“کہنا کتنا آسان ہوتا ہے کہ سمیسٹر ڈراپ کرنا پڑے گا۔” نظریں بھی خفا تھیں۔ “کتنی لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں جو اس حالت میں بھی پڑھتی ہیں۔ میں بھی ایسا کر سکتی ہوں ساویز۔” اس کے کہنے پر ساویز اسے دیکھتا رہ گیا۔ غنایہ نے لمبی خاموشی محسوس کی۔ یکدم ہی ساویز کا قہقہہ گونجا۔
“تمہیں لگتا ہے تم کرسکتی ہو؟ دو دن جا کر دکھا دو’ مان جاؤں گا۔ تیسرے دن ہی تم تھک جاؤ گی۔” وہ یقین سے کہہ رہا تھا اور غنایہ اس سے خفا ہو رہی تھی’ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ٹھیک ہی کہتا تھا۔ غنایہ جلد ہی تھک جائے گی۔
“آپ بلکل اچھے نہیں ہیں۔” کلائی میں پہنے گجروں کی خوشبو محسوس کرنے لگی۔ ساویز جانتا تھا کہ یہ اس کی خوشی کا سامان ہے اس لیے اکثر تحفتاً اس کے لیے لے آتا تھا۔
“میں آج پہلی بار بہت ڈر گیا تھا۔” وہ جو دونوں سوچ کر بیٹھے تھے کہ اب ماضی کی باتیں نہیں کریں گے’ ساویز ٹھہر نہ سکا۔
“سن کر اچھا لگا مجھے۔۔” اس نے پوری بتیسی دکھائی۔ “میرا شوہر میرے لیے ڈر گیا تھا۔”
ساویز نہ چاہتے ہوئے مسکرا دیا۔
“ہنسو مت’ میں سنجیدہ ہوں۔ مجھے لگا تم رو رہی ہوگی مگر تم تو بہادر بن کر بیٹھی تھی۔” سوچتے ہوئے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“کیونکہ اب مجھے لوگوں کا سامنا کرنا آگیا ہے۔ اب بلاوجہ میں روتی نہیں۔” آنکھیں چمک اٹھیں اور وہ کسی فخر سے اسے بتانے لگی۔ ساویز کی مسکراہٹ یکدم ہی گہری ہوئی۔ وہ اس کا چہرہ دیکھنے لگا جو پہلے سے زیادہ نکھر گیا تھا۔
“مجھے لگتا ہے ہمیں کچھ وقت ساتھ میں باہر گزارنا چاہئیے۔” اس کا ہاتھ تھام کو وہ پیار سے سہلاتا ہوا بولا۔
“ہم نے شادی کے بعد ایک بار بھی کہیں باہر ساتھ ڈنر نہیں کیا۔” وہ کب سے اس کے ساتھ ایک شام باہر گزارنا چاہتی تھی۔
“ہاں یہ بہترین ہے’ مگر چند دنوں تک۔ بابا کی طبیعت مزید بہتر ہوجانے گی تو ہم ڈنر کہیں باہر کریں گے۔” وہ اس کا ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگا رہا تھا۔ غنایہ اس کے انداز پر مسکرائی جارہی تھی۔
ساویز کو کچھ یاد آیا تو عشنا کو کال کرنے لگا۔
“اسلام علیکم” عشنا کی آواز ابھری۔
“وعلیکم سلام۔ کیسی ہو عشنا؟”
“الحمداللہ۔ آپ کیسے ہیں؟”
“تمہاری بہن کے ساتھ ہوں۔ اب سمجھ لو کیسا ہوں گا۔” اس نے ٹھہر کر غنایہ کو دیکھا جو حیا سے نگاہ دوسری جانب کر گئی تھی۔
“یعنی میں بہترین سمجھوں؟” اس کی مسکراہٹ وہ دونوں موبائل کے دوسری جانب سے محسوس کر سکتے تھے۔
“ہاں بلکل! تمہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟ میر کراچی میں نہیں ہے اس لیے میں تم سے خیر خیریت معلوم کرتا رہوں گا۔” آواز ہمیشہ کی طرح گھمبیر تھی۔
“شکریہ ساویز مگر مجھے فالحال کسی چیز کی ضرورت نہیں۔” وہ اس کی بات پر مطمئن ہوا تھا۔
“اب مجھے بات کرنی ہے۔ موبائل دیں۔” اس کے ہاتھ سے موبائل زبردستی کے کر اس نے کان پر لگایا۔ البتہ ساویز اسے گھورتا رہ گیا تھا۔ اب دو بہنوں کی طویل اور کبھی نہ ختم ہونے والی گفتگو شروع ہوگئی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
یہ ایک ہفتہ اسے مکمل طور پر پاگل کرنے کے لیے کافی تھا۔ میرویس کے لوٹنے سے ایک دن پہلے تک وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ ہچکیاں بندھ رہی تھیں مگر اسے احساس ہو رہا تھا کہ واقعی میرویس اسے بے بس کر چکا تھا۔ وہ اپنی غیر موجودگی سے اسے بہت اچھی طرح سمجھا چکا تھا کہ عشنا کے لیے وہ کتنا اہمیت رکھتا ہے۔ یہ اپارٹمنٹ اس کے بنا کچھ نہیں تھا۔ آفس کی چوتھی بار چھٹی کر کے وہ کچن کے باہر رکھی میز کے ساتھ کرسی لگائے بیٹھی تھی۔ کمرے میں جانے سے نجانے اب کیوں وحشت ہوتی تھی۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔ میرویس بھی نہیں۔۔ رات بستر پر تنہا لیٹتے ہوئے اسے میرویس اتنی شدت سے یاد آیا کہ وہ اٹھ بیٹھی۔ اس کے جانے کے بعد سے ایک رات بھی وہ سکون سے نہ سو سکی۔ آنکھوں کے نیچے نیند نہ ہونے کے باعث حلقے آرہے تھے۔ آخری دو دن اس نے سسکتے سسکتے گزارے۔ دل بھرا بیٹھا تھا۔ وہ کمرے سے باہر نکل رہی تھی جب صوفے سے پاؤں کی چھوٹی انگلی ٹکرائی۔ درد کی ایک لہر دوڑی تو آنسو نکل آئے۔ مگر یہ آنسو جسمانی تکلیف کے نہیں تھے۔ وہ رو پڑی اور اتنا روئی کے کب وقت گزرا علم بھی نہ ہوسکا۔
اسے لگا روئے گی تو غم کم ہو جائے گا مگر وہ بڑھتا جا رہا تھا۔ میرویس کے لیے محبت بڑھتی جا رہی تھی۔ اس کا دل چاہا انا کی دیواریں توڑ کر وہ اسے ایک کال ہی کر لے مگر یہ سوچ کر نہ کر سکی کہ جانے اس ایک ہفتے میں اس کی شخصیت میں کیا تبدیلی آئی ہوگی۔
لب مسکرانا بھول رہے تھے۔ وہ دل ہی دل میں میرویس کو پکارنے لگی کہ لوٹ آؤ قبل اس کے کہ یہ لب مسکرانا بھول جائیں۔
اسے خود پر بھی غصہ آیا۔ بھلا کیا ضرورت تھی میرویس سے یہ کہنے کی کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتی۔ کیا ضرورت تھی اس سے جھگڑنے کی۔۔
روز ساویز سے میرویس کا حال احوال پوچھ کر وہ خود کو مطمئن کرتی۔ یہ ایک ہفتہ بھی ایک صدی کے برابر محسوس ہو رہا تھا۔ وقت تھا کہ گزرتا ہی نہیں تھا۔ بار دن آفس میں نہ آنے کی وجہ سے صوفیہ بلآخر اسے گھر ملنے آگئی۔ سرخ ادھ کھلی آنکھیں اور ہلکے حلقے اس کی تکلیف دہ حالت بتانے کے لیے کافی تھے۔ صوفیہ سکتے میں کھڑی ہی رہ گئی۔
“یہ سب کیا ہے۔” اس سے آگے الفاظ ہی نہ ملے۔
عشنا کو لگا وہ جلد دوبارہ سے رو دے گی۔
“آج چھٹا دن ہے اور میں آج بھی نہیں سو سکی۔” یکدم ہی سسکی بھری گئی۔ “مجھے اس کی بے پناہ یاد آتی ہے۔ کیا اسے بھی آتی ہوگی؟” آنسو بہنے لگے۔
“وہ تم سے محبت کرتا ہے’ لازماً یاد کرتا ہوگا۔” اس کی کمر تھتھپاتے ہوئے وہ بے حد محبت سے بولی۔
“اس نے مجھے ایک بار بھی میسج نہیں کیا حالانکہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا صوفیہ۔ اس نے کبھی مجھے نظر انداز نہیں کیا۔”
“تمہیں اس کی کتنی یاد آرہی ہے۔” صوفیہ نے ذو معنی لہجے میں پوچھا۔
“بہت زیادہ۔۔ اتنی کہ مزید دو دن اس کے بنا رہی تو پاگل ہوجاؤں گی۔ اٹھتے بیٹھتے مجھے اس کی آواز سنائی دے رہی ہیں جیسے وہ مجھے پکار رہا ہو۔ میں سوتی ہوں تو کسی آواز سے جھٹکے سے نیند کھل جاتی ہے اور پھر بقایہ رات جاگتے ہوئے گزر جاتی ہے۔” آنسو پینا مشکل تھے۔
“تمہیں اس سے محبت ہورہی ہے؟” لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“ہو رہی ہے؟ محبت ہوگئی ہے صوفیہ۔۔ دوریاں احساس دلاتی ہیں کہ وہ شخص آپ کے لیے کتنا اہم ہے۔”
“اسے کال کیوں نہیں کرتی؟” صوفیہ کو غصہ آنے لگا۔ “محبت میں انا کی بات نہیں چلتی۔”
“بس ایک بار وہ مجھے میسج ہی کردے۔ میں اسے سیدھا کال ملا دوں گی۔ بس ایک بار وہ مجھے احساس دلا دے کہ اتنے دنوں میں وہ مجھے بھولا نہیں ہے۔ میں محبت کا اقرار کرلوں گی۔”
صوفیہ اب کی بار کچھ نہ بولی بس خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔ بس پیار سے اس کا ہاتھ سہلاتی ہوئی تسلیاں دینے لگی۔
“مجھے یقین ہے وہ تمہیں تنگ کر رہا ہے۔ تم دیکھنا وہ کل جب لوٹے گا تو بلکل ویسا ہی ہوگا۔” آدھا گھنٹہ مزید رکتی اگر عشنا کی ساس اپنی بہو سے ملنے نہ آجاتیں۔ وہ خدا حافظ کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔
اماں کو دیکھ کر عشنا آنسو صاف کرتی ہوئی تیزی سے اٹھی تھی مگر اس کا اترا ہوا چہرہ ان کی نگاہوں سے چھپ نہیں سکا تھا۔
“اسلام علیکم۔ کیسی ہیں اماں؟” لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اماں اس کی حالت دیکھ کر بمشکل مسکرائیں۔ “میں آپ کے لیے چائے بنا کر لاتی ہوں۔ کافی دنوں بعد آئی ہیں۔” چپل پیر میں پہنتے وہ تیزی سے کہتی ہوئی باہر نکلنے لگی جب روما کی آواز نے اسے روکا۔
“میں بنا دیتی ہوں بھابھی۔” اور تب عشنا کو محسوس ہوا کہ وہ اپنے آنسو نہ روما سے چھپا پائی ہے اور نہ اماں سے۔۔
“ادھر آؤ بیٹا۔” اماں کی نرم آواز اس کے آنکھیں بھگونے لگیں۔ “روما تم چائے بنادو۔” انہوں نے بیٹی کو بھیجا تو اثبات میں سر ہلاتی ہوئی کچن میں بڑھ گئی۔
“کیسی ہیں آپ؟” وہ اب بھی کوشش کر رہی تھی کہ اپنی حالت اماں سے چھپا سکے۔
“پہلے تم مجھے بتاؤ کہ تم کیسی ہو؟” کندھے پر محبت سے ہاتھ رکھتے ہوئے وہ بے حد نرمی سے کہہ رہی تھی۔ ان کا یہ بدلا ہوا لہجہ وہ صاف محسوس کر گئی۔ دل چاہا سارا حال زبانی سنادے۔ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو انڈ آئے۔
“میں تو ٹھیک ہوں۔” ہچکیاں بندھ گئیں۔ وہ بلکل کسی بچوں کی طرح بولی تو اماں اس کی معصومیت پر مسکرا دیں۔ وہ کہیں سے ایک اٹھائیس سال کی لڑکی معلوم نہیں ہو رہی تھی۔ ان کا دل چاہا اسے گلے سے لگا لیں تو انہوں نے عشنا کا چہرہ اپنے کندھے پر ٹکا دیا۔
“تم بہت پیاری بچی ہو۔ میں جانتی ہوں یقیناً میرویس نے ہی تمہارا دل دکھایا ہوگا۔ اپنی طبیعت کا ذرا خیال نہیں رکھتا، اور کوئی رکھے تو اسے بھی نہیں رکھنے دیتا۔” ان کے الفاظ عشنا کو سکون پہنچانے لگے۔
“ایسے کوئی غصہ کرتا ہے اماں؟ اس نے میری خیر خیریت بھی نہیں پوچھی۔ ایک ذرا سا میسج بھی نہیں۔”
“آنے دو ذرا، لوں گی میں خبر اس کی!” ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔ “تم نے دوپہر میں کھانا کھایا تھا؟”
“نہیں۔” وہ سسک کر بولی۔
“اور ناشتہ؟”
“جی۔”
“کیا کھایا تھا؟” اس کی کمزور حالت دیکھ کر وہ قدرے پریشان تھیں۔
“ایک بریڈ کا پیس چائے کے ساتھ۔” اسے گویا اپنے دکھ سننے والا مل گیا۔
“یہ کیا ناشتہ ہوا بھلا؟” انہوں نے آنکھیں پھاڑیں۔
“میرا دل نہیں کرتا اماں۔” اس کا دل کا بوجھ ہلکا ہو رہا تھا۔
“وہ شوہر ہے تمہارا۔ کام سے لوٹ کر تمہارے پاس ہی آئے گا۔ جب دیکھے گا تمہاری کمزور حالت تو اسے بہت دکھ ہوگا۔ کیا تم چاہتی ہو اس کا دل دکھے؟” محبت سے ماتھا چوم کر وہ اسے سمجھانے لگیں۔
“اگر وہ مجھے بھول گیا تو؟” یہ سوچتے ساتھ ہی اس کو ایک بار پھر رونا آنے لگا۔
اماں ہنس دیں۔
“تو پگلا گئی ہے کیا عشنا؟ وہ تجھے بھول سکتا ہے؟ سماج کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس نے تجھ سے شادی کی ہے یعنی تو اس کے لیے انمول ہے۔ تم دیکھنا یہ بھی اس کی کوئی شرارت ہوگی۔”
عشنا خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگی۔
پھر یوں ہوا اماں نے خود اپنے ہاتھوں سے بنائے گئے پراٹھے اسے بہت محبت سے کھلائے۔ روما جب تک اپارٹمنٹ میں ٹھہری اسے باتوں میں مشغول کر کے رکھی رہی۔ سونے سے قبل وہ کچھ پرسکون تھی۔ بستر پر لیٹتے ہی اسے ایک بار پھر وحشت ہونے لگی۔ یکدم ہی فون بجنے لگا تو عشنا فوراً موبائل کی جانب لپکی۔ اسکرین پر جگمگاتا نام ہی اس کی زخمی روح کو مرہم لگانے کے لیے کافی تھا۔
“میرویس۔” اس کے لبوں نے جنبش کی۔
کال اٹھا کر کانوں سے فون لگایا اور وہیں سنگھار میز کی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اب وہ اسے پکارے گا تو عشنا اسے دھیان سے سنے گی۔ یہ آواز سنے کتنا وقت بیت گیا تھا۔
“عاشی؟” بھاری گھمبیر آواز ابھری تو عشنا نے گہری سانس اندر کھینچی۔ لبوں نے پکارنا چاہا مگر آواز حلق میں دم توڑ گئی۔
“میں جانتا ہوں تم اب بھی خفا ہو۔” جواب نہ پا کر وہ خود سے ہی بول پڑا۔ “کل شام تک آجاؤں گا، آفس مت جانا۔ جلدی جلدی میں اپارٹمنٹ کی چابی وارڈروب میں ہی بھول گیا تھا اس لیے تمہیں دروازہ کھولنا پڑے گا۔”
“میں لینے آجاؤں ائیر پورٹ؟” پھنسی پھنسی سی آواز حلق سے نکلی۔
“تم؟” اس کی آواز پر چونکا۔ تھوڑی بدلی ہوئی تھی۔ “تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟” لہجہ یکدم ہی فکرمند ہوا اور عشنا کو یقین آگیا کہ وہ بدلا نہیں۔۔ ویسا ہی تھا جیسے اس چھوڑ کر گیا تھا۔
“کئی راتوں سے سوئی نہیں ہوں۔ تھکی ہوئی ہوں۔” تھوک نگل کر اس نے اپنا حال سنایا۔ کیسے کہے کہ اس کی یاد عشنا کو ساری رات جگاتی تھی۔
“میں نے غلط وقت پر کال کردی شاید۔۔ رات کے تین بج رہے ہیں مجھے لگا جاگ ہی رہی ہوگی کیونکہ ہم ہمیشہ تین بجے کے بعد ہی سوتے تھے۔” وہ کہتے کہتے رک سا گیا۔ “یہ بھی پرانی بات ہوگئی۔ بہرحال میں کال رکھتا ہوں تاکہ تم نیند لے سکو۔” حلق کی گلٹی دھیرے سے نمایاں ہوئی تھی۔ وہ کال رکھتا ہی کہ عشنا کی آواز ابھری۔
“جب تم آؤ گے پھر سوؤں گی۔ ایسے نیند نہیں آتی۔” اس کے الفاظوں پر میرویس نے خود کو ٹھہرتے ہوئے محسوس کیا۔ کال رکھی جا چکی تھی اور وہ اب بھی موبائل کی روشن اسکرین پر جگمگاتا عشنا کا نام دیکھ رہا تھا۔ کیسے کہتا کہ یہ پل اس نے عشنا کے بنا کس اذیت میں گزارے ہیں۔ موبائل میز پر رکھ کر اس نے کھلا لیپ ٹاپ بند کیا اور اسی میز پر سر رکھ کر آنکھیں موند گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“مجھے پریزے سے ملنا ہے۔” لہجہ رندھا ہوا تھا۔ آنکھوں سے گمان ہوتا تھا جیسے وہ کئی راتوں کا جاگا ہوا ہو۔
“اس نے کہا ہے وہ آپ سے ملنا نہیں چاہتی۔” اس کا پیغام پریشے نے تیسری بار بہن تک پہنچایا تھا اور ہر بار پریزے نے جم کر منع کیا تھا۔
“ایسا مت کرو۔ میرا اس سے ملنا ضروری ہے۔” چال لڑکھڑا رہی تھی جبکہ وہ خود تھکا اور نڈھال معلوم ہو رہا تھا۔ بال بکھرے ہوئے تھے۔
“میں نے اسے بہت کہا مگر اب اس نے دروازہ اندر سے لاک کر لیا ہے وجاہت بھائی۔” پریشے کو اس کی یہ حالت نہیں دیکھی جارہی تھی۔ یکدم ہی اسے بہن پر غصہ آنے لگا۔ وجاہت کی سرخ ہوتی ہری آنکھوں کی پلکیں لرز اٹھیں تو وہ لب بھینچ کر رہ گیا۔
“اس سے کہنا ایک شوہر کو اپنی بیوی کی ضرورت ہے۔ وہ اسے کھو بھی سکتی ہے۔” اس کی حالت تشویش ناک تھی۔ ہارے ہوئے قدموں سے پلٹ گیا تھا۔ اس کے جانے کے بعد پریشے تن فن کرتی ہوئی اس کے سر پر آکھڑی ہوئی۔
“تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئیے تھا۔” پریزے کمبل میں لیٹی بنا آواز کے سسک رہی تھی۔
“کیا یہ سب میں دل سے کر رہی ہوں؟ اس نے میری بات کا ذرا مان نہ رکھا پریشے۔” آنسو تیزی سے بہنے لگے۔
“انہیں پچھتاوا ہے۔ ایک نظر ان کی حالت تو دیکھو۔”
“مجھے اذیت ہو رہی ہے۔ مجھے مت بتاؤ۔” وہ جانتی تھی اگر پریزے نے مزید اسے وجاہت کی خراب حالت کا بتایا تو وہ وجاہت کے پاس جانے سے خود کو روک نہیں پائے گی۔
“تو پھر کب بتاؤں؟ جب وہ مرجائیں گے؟ یا خود کشی کرلیں گے۔” پریزے ششدر ہوئی۔ “ایک بار ان کی حالت پر نگاہ تو ڈالو۔ تمہارا دل پگھل جائے گا۔ انہیں کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے جس کے سامنے وہ رو سکیں اور وہ شخص تم ہو۔ آنکھوں میں ڈھیروں شرمندگی نظر آتی ہے۔ وجاہت بھائی ٹوٹ گئے ہیں۔۔ ان کو سمیٹ لو پریزے۔”
پریزے کی آنکھوں کی پتلیاں ساکت اس کے چہرہ پر اٹک گئیں۔
“ایسا مت کہو۔” دل زور سے دھڑکنے لگا۔
“تو کیا کہوں؟ جھوٹ؟” غصے سے دیکھتے ہوئے وہ کمرے سے چلی گئی۔ گاڑی نکالنے کی آواز کانوں پر پڑی تھی جب پریزے اندھا دھن ننگے پیر بھاگتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی تھی۔
“وجاہت!” اس نے دور سے ہی آواز لگائی تو وجاہت کا پیر بریک پر پڑا تھا۔ گویا جسم میں روح پھونک دی گئی ہو۔ “میں آرہی ہوں۔ مجھے چھوڑ کر مت جانا۔” چند منٹ ٹھہرنے کا اشارہ دے کر وہ اپنا سامان لینے اندر بڑھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
سات آٹھ مہینوں سے اپنے ارادوں پر مضبوطی سے جما وہ ہری آنکھوں والا مضبوط مرد اس کے قدموں میں بیٹھ کر رو رہا تھا۔
“میں نے اپنے ہاتھوں سے سب خود ختم کردیا پریزے۔” بیوی کا ہاتھ آنکھوں پر تھا اور نکلتے آنسو اس کے پچھتاوے کا ثبوت تھے۔
“میں نے تم سے کہا تھا وجاہت۔ بہت سمجھایا تھا تمہیں۔۔ مگر انتقام کی آگ تمہارے اندر بھڑکتی جارہی تھی۔” اس کا یوں بکھرنا ناقابل برداشت تھا۔
“میں نے دوست بھی کھو دیے۔” اس کے گھٹنے پر سر رکھ کر وہ لرزتے ہوئے بولا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی دل چیر رہا ہو۔ “تمہیں بھی کھو دیتا اگر تاخیر ہوجاتی۔ میں تم سے دور نہیں ہونا چاہتا پریزے۔” اسے وحشت ہورہی تھی۔ اپنے ارد گرد کے ماحول سے ایک عجیب کراہیت محسوس ہو رہی تھی۔
وہ پریزے کا ہاتھ اس قدر سختی سے پکڑا ہوا تھا گویا گمان ہو کہ وہ اسے چھوڑ جائے گی۔
“ایسا مت کہو۔ تمہاری بیوی ہوں۔” اس کے بالوں میں آہستگی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ اسے بار بار اوپر صوفے پر بیٹھنے کا کہہ رہی تھی مگر وجاہت کو اس کے قدموں میں بیٹھ کر نجانے کون سا سکون حاصل ہو رہا تھا۔
“میرے دوست۔۔ میرے یار۔ اس نے کہا تھا ایک دن آئے گا کہ میں پچھتاؤں گا۔ میں پچھتا ہی تو رہا ہوں۔ میرے درد دور کردو پریزے۔۔ کچھ کرو ورنہ یہ سب میری جان لیلے گا۔” چہرہ شدت غم سے سرخ تھا۔
“مجھے تکلیف ہو رہی ہے وجاہت۔ جو گزر گیا وہ گزر گیا۔”
“میرا دل پھٹ جائے گا۔ اگر آج بھی تم نہ آتی تو میری زندگی اب تک ختم ہوچکی ہوتی۔ میں بکھر گیا ہوں پری۔” اس کا ہاتھ دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے وہ کپکپا کر بولا۔
“میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تمہارے ساتھ رہوں گی وجاہت۔” آنکھ سے ایک آنسو لڑھکتے ہوئے رخسار پر بہنے لگا۔ وہ اس کا شوہر تھا، ہمدرد تھا، ساتھی تھا۔ ایک اذیت کی لہر رگوں میں دوڑ رہی تھی۔
“برسوں کی دوستی میری وجہ سے خراب ہوئی۔ تم ٹھیک کہتی تھی۔ پاگل دیوانہ تھا میں۔۔ مجرم کی بھوری آنکھوں سے ساویز کے قاتل ہونے کا گمان رکھتا تھا۔ سب ختم ہوگیا۔”
“اب تم کبھی ایسا نہیں کرو گے۔” اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے وہ مضبوطی سے بولی تو وجاہت نے اثبات میں سر ہلایا۔
“تمہاری بات پہلے نہ مان کر غلطی کر ڈالی’ اب دوبارہ غلطی کیسے کروں گا؟ میرے پاس ہمیشہ کے لیے آجاؤ پریزے۔ مجھ سے دور مت جانا۔” آواز لڑکھڑا رہی تھی۔
“بابا سے رخصتی بات کر لو۔ تمہیں تکلیف میں چھوڑنا اب محال ہے میرے لیے۔” اس کا ہاتھ سہلاتی ہوئی وہ جینے کی امید دلا رہی تھی۔ وجاہت اتفاق کرتا تھا اس لیے تیزی سے اثبات میں سر ہلانے لگا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
اس نے کہا تھا محبت بڑھ رہی ہے یعنی معاملہ خطرناک ہو رہا ہے۔ اگر وہ نہ آیا تو گھٹ گھٹ کر مر جائے گی۔ شام پانچ بجے دروازے پر دستک ہوئی تھی اور گویا خوشی کی نوید آئی تھی۔ ننگے پیر بھاگتے ہوئے وہ دروازے کی جانب بڑھی۔ اس بار اس نے پوچھا نہیں تھا کہ دروازے کے اس پار کون ہے۔ جلدی سے دروازہ کھول کر اس نے سامنے دیکھا۔ اس کی صورت دیکھ کر آنکھیں نہال ہوگئیں۔ ایک ہاتھ میں سوٹ کیس تھا جبکہ کندھوں پر اس کا لیپ ٹاپ بیگ’ بیوی کا چہرہ دیکھ کر اس کے دل میں ٹیس اٹھی تھی۔ بال بکھرے ہوئے، بنا چپلوں کے پیر اور آنکھوں کے گرد حلقے۔۔ وہ وہیں ساکت رہ گیا۔ عشنا ایسی تو نہیں تھی کہ کسی کے لیے اپنا یہ حال کر لیتی۔ آنکھوں کی پتلیاں اس کے چہرے پر ٹھہر گئیں۔ عشنا ضبط نہ کر پائی اور تیزی سے اس کے سینے سے جا لگی۔ ہونٹ تیزی سے لرز رہے تھے۔ وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔ میرویس نے اس کی پیشانی اپنی ٹھوڑی پر محسوس کی تھی جو سردی سے ٹھنڈی ہورہی تھی۔ عشنا کے آنسو میرویس کے دل پر گر رہے تھے۔ وہ کچھ بھی نہ کہہ سکا۔
“مجھے چھوڑ کر مت جانا۔” آواز لرزنے لگی اور میرویس نے سر جھکا کر اس کا چہرہ دیکھا جو آنسوؤں سے تر تھا۔ اس نے ایسا تو نہ چاہا تھا۔ سوٹ کیس کا ہینڈل ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا۔ عشنا کا چہرہ ٹھوڑی سے اٹھاتے ہوئے وہ اس کی سسکیاں محسوس کر رہا تھا۔ پھیکا چہرہ ٹھنڈ سے سفید پڑ رہا تھا۔
پھٹے خشک ہونٹ جن سے ابھی خون نکلنے کا گمان ہوتا تھا۔
میرویس نے تو خود سے قسم کھائی تھی کہ وہ کبھی عشنا کو تکلیف نہیں دے گا اور اسے آج محسوس ہو رہا تھا کہ وہ خود سے کھائی قسم بھی ہار گیا۔
“یہ سب کیا ہے؟” بمشکل آواز نکلی۔
“میں تمہارے بنا ایسی ہی ہوں۔” اس کی آنکھوں میں موجود آنسو اس کی محبت کا ثبوت تھے۔ یہ کتنا ناقابل یقین لمحہ تھا۔
“میں نے ایسا نہیں چاہا تھا۔” آواز مزید بھاری ہوگئی۔
“مجھ سے ناراض مت ہونا۔ کبھی بھی نہیں۔۔ میں خود کو جان گئی ہوں۔ میرا دل تمہارے بنا لوگوں میں نہیں لگتا۔” وہ رو رہی تھی اور میرویس کو تکلیف ہو رہی تھی۔
“عاشی۔۔” اور آج زندگی میں پہلی بار وہ ایک عورت کے لیے رو دیا۔ آنکھ سے آنسو لڑھک کر رخسار پر بہنے لگا۔ “تمہاری حالت میرے لیے ناقابل برداشت ہے۔” اس کا ٹھنڈا ہاتھ پکڑتے ہوئے وہ بھیگی گھمبیر آواز میں بولا۔
“مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے۔” اس کے گھاؤ آہستہ آہستہ بھر رہے تھے۔ وہ اسے کمرے میں لے آیا تھا۔ ہیٹر چلاتے ہوئے اس نے کمرہ پوری طرح سے بند کردیا۔ وہ اس کا ہاتھ نہیں چھوڑ رہی تھی اور نہ میرویس نے چھڑانے کی کوشش کی تھی۔
آدھے گھنٹہ مزید پھر وہ پھٹ ہی پڑا۔
“کیا میری محبت اتنی کمزور تھی کہ تم نے اپنا یہ حال کر لیا۔” وہ بول نہیں رہا تھا’ چیخ رہا تھا اور عشنا کو اس کا یہ چیخنا آج ذرا برا نہیں لگ رہا تھا۔ وہ اطمینان سے اسے سن رہی تھی۔
“ایک بار جب میرویس وہاب منصور نے کہہ دیا کہ اسے عشنا ابرار سے محبت ہے تو تمہارے چھوٹے دماغ میں یہ خیال بھی کیسے آیا کہ میرویس بدل گیا ہوگا؟” منزل اس کی آوازوں سے گونج رہی تھی۔ اپنی جیکٹ اور بھورے رنگ کی شال پہنا کر اسے ہیٹر سے کچھ فاصلے پر بٹھایا ہوا تھا۔ ہاتھ میں گرم چائے کی پیالی تھی جسے میرویس نے اس کے لیے بنائی تھی۔ سرخ ہوتی ناک مستقل سر سر کر رہی تھی۔
“حالت دیکھو اپنی! کتنی کمزور ہوگئی ہو، صحت کتنی گر گئی ہے۔۔ یہ سفید پڑتا چہرہ! کیا ہے یہ سب؟” ایک بار پھر اس کی دھاڑ گونجی۔
“تمہاری محبت میں یہ سب ہوا ہے۔ میں نے جان کر نہیں کیا۔” وہ اب رو نہیں رہی تھی۔۔ میرویس جو اب پاس تھا۔
“ہاں میں چاہتا تھا کہ تم بھی مجھ سے اتنی ہی محبت کرو مگر ایسے؟” اس نے عشنا کی حالت کی طرف اشارہ کیا۔ “ایسے نہیں چاہا تھا۔” لہجہ تکلیف دہ تھا۔
“تم نے ایک بار بھی کال نہیں کی۔ خیریت بھی دریافت نہیں کی۔۔ جانے میں زندہ تھی یا مر گئی!” اس بات کا دکھ ابھی تک تھا۔
“ہاں مگر میں نے تمہاری ایک ایک خبر رکھی! ساویز سے روز تمہاری خیریت پوچھتا تھا کہ کہیں تمہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔ روما کو بھی میں نے ہی کہا تھا کہ اماں کے ساتھ تم سے ملنے آئے کیونکہ میں تمہاری جانب سے پریشان تھا۔” غصہ تھا کہ کم نہیں ہو رہا تھا۔ وہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ بال کھل کر شانے پر بکھرے ہوئے تھے۔ “مجھے لگا میں گھر آؤں گا تو اپنی پرانی عشنا کو دیکھوں گا جسے تنگ کرنا مجھے اچھا لگتا ہے۔” وہ اسے یوں کمزور اور بگڑی حالت میں نہیں دیکھ پا رہا تھا۔ آنکھوں میں اس بار آنسو شدت کے تھے۔ عشنا دھیرے سے چلتے ہوئے اس کے نزدیک آئی۔
“میرے قریب آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہیں لگاؤں گا تمہیں گلے۔۔” غصہ تھا، ناراضگی تھی۔
وہ کیسے سوچ سکتی تھی کہ میرویس کی محبت بدل جائے گی۔ عشنا اس کے دل کا ایک ٹکڑا تھا اور میرویس اپنے دل کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔
وہ اس کا چہرہ بغور دیکھنے لگی۔ شیو بڑھی ہوئی تھی۔ آنکھیں شدت ضبط کے باعث سرخ تھیں۔ آنکھوں میں غصہ اور غصہ کے پیچھے شدت کی محبت۔۔
چہرہ آخری حد تک سنجیدہ تھا اور وہ اس کی آنکھوں میں اپنی سیاہ آنکھیں ڈال کر دیکھ رہا تھا۔
عشنا نے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ دیا۔ اسے یہی چاہئیے تھا۔۔ میرویس کا کندھا۔۔ میرویس کا ساتھ۔۔ اور میرویس تکلیف سے بیٹھتا ہی چلا گیا تھا۔ ہچکیاں بندھ گئی تھیں مگر اس نے ایک بار بھی خود کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
“میں نے یوں نہیں چاہا تھا۔ میری محبت میری عاشی کو ایسے تکلیف نہیں پہنچا سکتی تھی۔” اس کی حالت دیکھنا برداشت کے قابل نہیں تھا۔ یہ چھ دن میرویس کے لیے گزارنا خود ایک کڑا امتحان تھے۔
عشنا نے اسے پہلی بار یوں روتے ہوئے دیکھا تو سکتے میں آگئی۔
“میرویس میں ٹھیک ہوجاؤں گی۔ تم اب آگئے ہو نا۔”
“تم آئیندہ اپنے ساتھ ایسا نہیں کرو گی۔” اس کا ہاتھ سختی سے پکڑتے ہوئے’ کچھ بھینچ کر کہا۔ “جانے انجانے میں تمہیں بہت تکلیف پہنچا دی ہے۔ میں نے محبت کی ہے عاشی۔ میں نے ٹوٹ کر چاہا ہے۔ تمہارے علاؤہ کسی کا کبھی نہیں سوچا۔ تم نہ بھی ملتی تو تمہارا انتظار کرتا مگر کسی کا ہاتھ نہ تھامتا۔ مجھے مجبوری کے رشتے نہیں بھاتے اس لیے تم سے شادی کی۔ تمہاری اجازت حاصل کی۔ تمہارے مطابق فیصلے لیے۔ آج تمہیں دیکھ کر احساس ہورہا ہے کہ مجھے تم سے شادی نہیں کرنا چاہئیے تھی۔ کم از کم تم اس تکلیف سے تو نہ گزرتی۔”
“ایسا مت کہو میرویس۔ میں تمہارے بنا ایسی ہی ہوں۔ تمہیں خوشی نہیں ہوئی؟” کیا وہ شخص خوش نہیں تھا کہ اس کی محبت کو اس سے محبت ہوگئی تھی۔ “میں تمہاری یاد میں بے رنگ ہوگئی۔ تمہیں تو خوشی ہونی چاہئیے کہ عاشی کو بھی تم سے محبت ہوگئی۔” اس کا کندھا سہلاتے ہوئے وہ بے حد جذب سے بولی۔
“محبت؟ میں تمہیں اپنی موت پر بھی یہ حالت بنانے کی اجازت نہ دوں’ تم میری زندگی میں یہ سب کر گئی؟”
عشنا کو اس کے الفاظ سے تکلیف ہوئی۔
“ایسا مت کہو۔ تمہارے لیے موت کا ذکر کرنا کتنا آسان ہے۔ یہ چند دن میں نے تمہارے بنا جی کر دیکھیں ہیں۔ زندگی بے رنگ اور یہ گھر چار دیواری ہے۔ مجھ سے الگ ہونے کی باتیں مت کرو۔ میرا لیے اب یہ سوچنا بھی محال ہے۔” اس کا ہاتھ سختی سے اس کے ہاتھ میں تھا جب میرویس نے اس کے ہاتھ کی پشت اپنی آنکھوں پر رکھ لی۔ دونوں اب تک ہیٹر کے آگے فرش پر بیٹھے تھے۔ عشنا نے ایک بار بھی ہاتھ پیچھے نہیں کیا۔ وہ اس کا لمس محسوس کرنے لگی۔ اماں ٹھیک کہتی تھیں۔ وہ واقعی پاگل تھی جو یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ میرویس اسے بھول گیا ہے۔ بھلا ایسا کبھی ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔ میرویس جان دے سکتا تھا مگر اسے اذیت نہیں۔۔
وہ ٹھیک کہتا تھا کہ اس کی محبت کو اظہار میں نہ ڈھونڈو۔ اس کی محبت تو اس کے ہر انداز سے چھلکے گی اور آج عشنا پورے اعتماد سے کہہ سکتی تھی میرویس کو اس سے عشق ہے۔
۔۔۔★★★۔۔۔
رات کے اس پہر ریسٹورینٹ میں بیٹھ کر وہ آرڈر دے رہا تھا۔ نگاہ سامنے اٹھی تو عشنا اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ لبوں پر گہری مسکراہٹ پھیل گئی۔
“ایسے دیکھو گی تو مجھے لگے گا کہ تم میرے کھانے پر اپنی بری نظر رکھ رہی ہو۔” عشنا کا یوں دیکھنا اسے ہضم نہیں ہو رہا تھا۔
“میں تم پر نظر رکھ رہی ہوں۔” وہ بنس دی۔
“عادت نہیں ہے۔ عادت مت ڈالو۔” لہجہ شریر ہوا۔ تھوڑی دیر میں ہی اس کا آرڈر آگیا تھا۔
“اس بار پزا کھاتے ہوئے بیوی کو تو پوچھو گے نا؟” عشنا لگا پرانی سرد راتیں لوٹ آئی ہوں۔
میرویس کا قہقہہ گونجا۔
“میں نے تم سے کہا تھا موٹی شال پہنا لینا مگر تم ذرا نہیں بدلی۔ اب بھی بات نہیں مانتی ہو۔ یہ شال ٹھنڈ روکنے کے قابل نہیں۔” وہ اسے سکڑ کر بیٹھا ہوا دیکھ رہا تھا۔
ہاتھوں کو آپس میں رگڑتے ہوئے وہ گرماہٹ پیدا کرنے لگی۔ میر اسے مسلسل نوٹ کر رہا تھا۔ بلآخر اسے اپنی جیکٹ پہناتے ہوئے وہ دوبارہ اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔
پاستا کی پلیٹ اس کے آگے رکھتے میرویس نے اسے کھانا پورا کھانے کی تاکید کی تھی۔
“تم مجھ سے لڑنا مت چھوڑنا۔ ویسی ہی رہنا جیسی تھیں۔” وہ کہتا جا رہا تھا اور عشنا ہنستی جا رہی تھی۔
“تم چاہتے ہو میں تم سے تمہارے پزا پر لڑوں؟”
“بلکل نہیں۔” وہ برہم ہوا اور پھر کسی سوچ میں پڑگیا۔ “چلو لڑ لینا لیکن تھوڑا تھوڑا۔” اس کے جواب پر وہ کھل ہنس دی۔
“اچھا پھر بتاؤ عاشی؟ ان چھ دنوں میں تم نے میری کون سی عادت کو یاد کیا؟”
“تمہارے خراٹوں کو۔۔” وہ بھی تیزی سے بولی تھی۔ پزا کا سلائس اٹھاتا میرویس کا ہاتھ ٹھہر سا گیا۔
“میں خراٹے تو نہیں لیتا۔” حیران لہجہ۔
“لو ذرا کوئی مجھ سے پوچھے جو برابر میں سوتی ہے۔ میری ساری رات تمہارے خراٹوں کی دھن سننے میں گزر جاتی ہے۔” اس کا انداز میرویس کو شرمندہ کر گیا۔
“سارے سارے دن کا تھکا ہوتا ہوں۔ اتنا تو چلتا ہے۔” خود کی حمایت کرنا بھی اس کے نزدیک ایک بہت بڑا کام تھا۔
“بھلے سے برابر والے کی نیند اڑ جائے۔” اب عشنا کا لہجہ شریر ہوا۔
“یعنی تمہیں میرے خراٹوں سے نیند نہیں آتی؟ پھر تو یہ چھ دن بہت سکون سے سوئی ہوگی۔” وہ طنز نہیں کر رہا تھا’ تنگ کر رہا تھا۔ عشنا ایک بار پھر ہنس دی۔ اب وہ آگیا تھا، سب پہلے جیسا ہورہا تھا۔ عشنا اپنے پرانے روپ میں بہت تیزی سے لوٹ رہی تھی۔
اس رات وہ بستر پر لیٹتے ساتھ ہی سوگئی تھی۔ گہری اس قدر پرسکون نیند کہ دو بار میرویس سے چیزیں فرش پر گریں مگر وہ پھر بھی نہ اٹھی۔ اس کے زخموں کی دوائی صرف میرویس تھا اور اس کی موجودگی عشنا کے زخم بھر رہی تھی۔
آدھی رات تک بیوی کو تکتے ہوئے وہ صرف مسکرا رہا تھا۔ دھیرے سے بالوں کو چھو کر اس کے ہاتھ چوم لیے۔ اب چہرہ کچھ پرسکون تھا۔ اب اس سے دور رہنا محال تھا۔ شاید اس کی کہانی کی ہیپی اینڈنگ یہی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“اگر تمہیں ڈر ہی ہے کہ ساویز تمہارا راز افشاں کرسکتا ہے تو تم وہاج کی طرح اسے بھی مار کیوں نہیں دیتے؟ کسی کو علم بھی نہیں ہوگا۔” حسن کے مشورے پر خرم نے دانت پیسے تھے۔
“اگر ایسا ہوتا تو میں بہت پہلے مار چکا ہوتا۔” دیوار پر مکا مارتے ہوئے وہ تپ کر بولا۔ “اسے مارنا آسان نہیں۔ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل جائے گی اور سب کو پتا چل جائے گا ساویز کا قاتل کون ہے۔ پھر جانتے ہو کیا ہوگا؟ باس کو مکمل یقین ہو جائے گا کہ ان کی بہن کے کیس میں ساویز ملوث نہیں۔” یہ بھی کیا پریشانی تھی کہ اس کی زندگی جہنم بنی ہوئی تھی۔ حسن نے اسے دیکھتے ہوئے سانس خارج کی۔
“تو پھر کیا سوچ رہے ہو؟” وہ اکتائے لہجے میں بولا۔
اچھا خاصا یہ معاملہ ختم ہو رہا تھا مگر خرم کی مصیبت بھی کیا مصیبت تھی۔
“لیکن تم ٹھیک کہتے ہو۔” شیطانی دماغ میں ایک خیال جاگا تو وہ ہوشیاری سے مسکرایا۔ “ضروری نہیں کہ ساویز پر کسی ہتھیار سے حملہ کیا جائے۔ میر وہاج کی طرح وہ بھی گاڑی کے حادثے میں کھائی میں گرایا جاسکتا ہے۔” اچانک ہی قہقہہ گونجا تو حسن نے کچھ چونک کر دیکھا۔
“یعنی تم وہاج کی طرح اسے مارو گے اور یہ سب ایکسیڈنٹ کہلائے گا؟ پولیس کو ہر بار بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا خرم! اور کیسے آئے گا وہ اس پل تک؟ تم خود لاؤ گے؟” لہجہ طنزیہ ہوا۔
“جانتے ہو نا میں کون ہوں؟ خرم ہاشمی جس کے پاس سارے کھیل کے گر ہیں۔ آٹھ دس سالوں سے وجاہت کے لیے کام کر رہا ہوں۔ سنا ہے وہاج کی موت پر ساویز اب تک غمگین ہے؟ تو کیوں نہ اسے وہیں پر مار دیا جائے جہاں اس کے یار کو دھکا دیا تھا۔” کندھے کی جانب سے کوٹ صاف کرتے ہوئے وہ ایک انداز میں بولا۔
“مجھے حیرت ہے وہاج کا قصہ اتنی جلدی کیسے ختم ہوگیا۔”
“میں کھیل ہی اس طرح کھیلتا ہوں کہ نام مجھ پر نہیں آتا۔ مرنے سے چند لمحوں پہلے اس کا چہرہ دیکھا تھا؟ بے بسی کی مورت!” وہ ہنس دیا۔ “زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔ جانتے ہو میں پہلی کب بے رحم ہوا تھا؟” وہ حسن کی جانب مڑا۔
“کب؟” اسے تجسس ہوا۔
“جب میں نے کائنہ کے منہ سے وہ نام سنا جو اس نے وجاہت کو بتایا تھا اور تب میں خود پر ضبط نہیں رکھ پایا تھا۔” آنکھوں میں ایک سختی تھی، غصہ تھا۔
“کیا مطلب؟ کون سا نام؟” حسن کو لگا وہ معاملے کی ڈور میں الجھ رہا ہے۔ خرم نے رخ اس کی جانب موڑا اور بغور دیکھنے لگا۔
“تمہیں اب تک اندازہ نہیں ہوا کہ میں ساویز سے اتنی نفرت کیوں کرتا ہوں؟” اس کا یہ کہنا ہی کافی تھا۔ حسن نے تھوک نگلا۔ “وہ اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔” مختصر بول کر آگے بڑھ گیا۔
۔۔۔۔★★★۔۔۔
ایک مہینہ کہاں گزرا خبر بھی نہ ہوئی۔ وہ خوش تھی اور ساویز اس کی محبت میں پور پور ڈوبا ہوا تھا۔ غنایہ کے کانوں میں جھمکے اسے ہمیشہ حسین لگتے تھے۔ آج بھی وہ کتنے ہی دنوں بعد کسے شام ریسٹورینٹ چلے آئے تھے۔ جامنی رنگ کی خوبصورت میکسی پہنے وہ کرسی پر بیٹھی تھی۔ ساویز اسے دیکھ کر لمحہ بھر کو مسکرایا تھا۔
“ساویز۔” اس کے لبوں سے اپنا نام سن کر دل کو لذت حاصل ہوتی تھی۔
“جی۔” گھمبیر آواز ابھری تو وہ بھی مسکرادی۔
“اتنی شاپنگ کرنے کی ابھی کیا ضرورت تھی۔ کافی وقت ہے۔” وہ تیسری کرسی پر رکھے ڈھیر سارے شاپرز کو دیکھ کر بولی۔
“ضرورت تھی غنایہ۔ میرا دل نہیں بھرتا۔” سینے پر ہاتھ باندھ کر وہ اسے انہماک سے دیکھ رہا تھا۔
“نہیں اب مزید نہیں۔۔ یہ بہت ہے اور ہم بعد میں بھی لے سکتے ہیں۔ ضروری تو نہیں کہ سب چیزیں پہلے سے ہی رکھ لی جائیں۔”
“تم کیوں جل رہی ہو محترمہ؟” اسے مصنوعی گھورتے ہوئے وہ شریر لہجے میں بولا تو وہ کھلکھلا دی۔
“بابا بھی بہت خوش ہیں۔”
“کون خوش نہیں ہے۔” نگاہ اس کے گولڈن جھمکوں پر ٹھہر گئی۔ “یہ تم پر اچھی لگتی ہیں۔” کہتے ساتھ ہی اس نے چوڑیوں کو بھی دیکھا جو کھنکھنا رہی تھیں۔
“میں آپ کو جھمکیوں میں اچھی لگتی ہوں؟”
“مجھے تم ہر روپ میں اچھی لگتی ہو۔”
“شادی کو کتنا وقت بیت گیا ہے نا؟” اسے پرانے سہانے دن یاد آنے لگے۔ ساویز نے ہاتھ’ بھرے بھرے بازوؤں پر پھیرا۔
“اور میں نے اس کے بعد سے آج تک تمہارے ہاتھ میں مہندی نہیں دیکھی۔ اب تو لگتا ہے خوشبو بھی بھول گیا ہوں۔”
“مہندی لگانے کا مجھے بہت شوق ہوا کرتا تھا۔” اشتیاق بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ اپنے ہاتھ میں دیکھنے لگی۔
“اور اب؟”
“اب بھی ہے مگر میں لگاتی نہیں۔”
“اگر میں تم سے فرمائش کروں تو کیا تم پوری کرو گی؟” ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئیں۔ وہ اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔
“آپ پوچھتے کیوں ہیں؟ میں آپ کے نخرے نہیں اٹھاتی کیا؟” اس کے یوں پوچھنے پر وہ اس بار خود ہی ہنس دیا۔
“مجھے پوچھنا پسند ہے۔ پھر جب تم جواب میں ‘جی’ کہتی ہو تو دل کو اچھا لگتا ہے۔” غنایہ کا چہرہ یکدم ہی سرخ ہوا۔
“کیا فرمائش ہے؟”
“میں چاہتا ہوں تم میرے لیے اپنے ہاتھوں میں مہندی لگواؤ۔”
“آپ کے نام کی؟” حیا حاوی ہونے لگی۔
“میرے نام کی۔۔” لبوں جنبش کی۔
“کب؟” اس کی یہ فرمائش کتنی بھلی معلوم ہورہی تھی۔
“آنے والے جمعرات کو؟ تم کوئی اچھی سے مہندی لگانے والی کا انتظام کرو۔”
“میں اسی سے مہندی لگوانا چاہتی ہوں جس سے شادی سے پہلے لگواتی تھی۔ وہ بہت صفائی اور نفاست سے لگاتی ہے۔”
“ہاں ضرور!” وہ فوراً مان گیا۔
“مگر وہ گھر پر آکر نہیں لگاتی۔ اس کے پاس جانا پڑتا ہے۔” اسے لگا اس بات پر تو وہ کبھی نہیں مانے گا۔
“نہیں پھر اسے رہنے دو۔ میں تمہیں کیسے اجازت دے دوں وہاں جانے کی؟ تمہاری حالت ایسی نہیں ہے کہ میں کوئی رسک لوں۔ اپنے گھر پر لگاؤ گی تو کم از بستر پر بیٹھی رہو گی۔ جانے وہاں کیا سیٹنگ ہو۔”
غنایہ نے لب کاٹے۔
“یوں مت کہیں۔ آپ فکر مت کریں۔ میں اس سے پہلے ہی کہہ دوں گی میری مہندی کا کام جلدی ختم کرلے۔ پھر آپ مجھے لینے آجائے گا۔” اسے اپنے پرانے محلے کی لڑکی کی مہندی ہمیشہ سے بھاتی تھی۔ کم از کم اس موقع کو وہ ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“میں گھر پر نہیں ہوں گا۔ ڈرائیور کے ہاتھوں گاڑی بھجوادوں گا۔” بلآخر اسے ماننا پڑا تھا۔ اب تو کسی چیز کا ڈر بھی نہیں تھا کہ وجاہت کچھ کر دے گا۔ وہ مسکراتے ہوئے جوس پی رہی تھی اور اتنے سارے لوگوں میں ساویز کی توجہ کا مرکز غنایہ تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“اب تو مجھے لگتا ہے کہ میں ہی ہوں جو تم سے محبت کرتی ہوں۔ تم ذرا نہیں کرتے۔” غصے سے برتن دھوتے ہوئے وہ ایک ایک پلیٹ کو پٹخ کر رکھ رہی تھی۔
“ہاں میں تو خوار کا بچہ تھا جو چھ سات سال سے تمہارے پیچھے پڑا ہوا تھا۔” لہجہ طنزیہ تھا۔
“یقیناً میں تمہاری ضد ہوں گی۔ اب چونکہ تم نے مجھے حاصل کر لیا ہے تو کہاں کی محبت۔۔” سب جانتے ہوئے بھی وہ اسے نشانہ بنا رہی تھی۔ میرویس کا زور دار قہقہہ گونجا۔
“ضد؟” کہتے ساتھ وہ پھر سے ہنس دیا۔ “صحیح کہہ رہی ہو اسی لیے روز بستر سے نیچے پڑی ہوتی ہو۔” اسے ایک بار پھر جھلاتے ہوئے دیکھ کر وہ تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“اگر تم نے مجھے فرش پر پھینکنا کا کام بند نہیں کیا تو میں اس کمرے میں دوسرا بستر اپنے لیے ڈلوادوں گی۔” لہجہ دھمکی آمیز تھا۔ میرویس نے مسکراہٹ چھپائی۔
“آئیندہ میں تمہارے گرد رسی گھما کر بستر سے باندھ دیا کروں گا تاکہ لاکھ کوششوں کے بعد بھی تم بستر سے نہ گر سکو۔” وہ اسے جتنا تنگ کرتا’ کم تھا۔
“تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟” اس کے ہونٹ سکڑنے لگے۔
“مشورہ دے رہا ہوں محترمہ عشنا۔” اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہوئے وہ چنوں کا ڈبہ کھولنے لگا۔
“اتنا سفاک مشورہ؟”
“ہوں؟ تم نے ہی تو کہا کہ میرویس کو تم سے محبت نہیں! اب مشورہ سفاک ہو یا سوچنے کے قابل۔۔ کیا فرق پڑتا ہے۔” چنے منہ میں ڈالتے ہوئے وہ لمحہ بھر کو مسکرایا۔
“جی نہیں۔ میں جانتی ہوں تمہیں مجھ سے محبت ہے۔ شادی والے دن جب میں اسٹیج پر چڑھ رہی تھی تو تم میرے لیے روئے تھے۔ ہے نا؟” لبوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
میرویس نے لب بھینچ لیے۔
“اپنی قسمت پر دو آنسو تو بہا ہی سکتا تھا۔ سو بہا لیے۔” وہ اسے طیش دلا رہا تھا۔
“تم ذرا سی بھی پیار محبت والی باتیں نہیں کرسکتے۔” صوفے کا کشن اس کو مارتے ہوئے جھنجھلائی۔ میرویس ہنس دیا۔
“اب محبت ہے تو ضروری ہے کہ روز اظہار کیا جائے؟”
“کیونکہ محبت اظہار مانگتی ہے۔” میز پر اس کی کافی کا کپ رکھتے ہوئے وہ گھور کر بولی۔
“چلو پھر! آغاز تم سے کرتے ہیں۔ کرو اپنی محبت کا اظہار۔” اس کا ہاتھ پکڑ کر اس نے ساتھ والی کرسی پر اسے بیٹھایا اور وثوق سے اس کا چہرہ تکنے لگا جہاں مسکراہٹ پھیل رہی تھی۔
“تمہیں کس نے کہا مجھے تم سے محبت ہے؟” مسکراہٹ چھپاتے ہوئے وہ اسے اچھی لگ رہی تھی۔
“اب کی بار دو ہفتوں کے لیے جاؤں گا اور وہ بھی سنگا پور!” بڑبڑاتے ہوئے وہ دور ہٹا۔
“تم کیا سننا چاہتے ہو؟”
“بس ایک محبت کا اظہار۔”
“اگر میں نے اظہار کردیا تو تم روز اظہار مانگو گے۔”
“تم مجھے ایک بار کہو گی میں وہ بات ساری زندگی کے لیے باندھ دوں گا۔ پھر کسی اور اظہار کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔” وہ قدرے جذب سے بولا تو عشنا نے حیا کے مارے نگاہ اپنے مگ کی جانب مرکوز کر لیں۔
“مجھ سے نہیں کہا جائے گا۔” وہ کہنا چاہتی تھی مگر حیا نے اس کو روک رکھا تھا۔
“تمہیں یاد ہے نا تم نے کہا کہ تم بے شرم ہو؟ تو پھر کیوں شرما رہی ہو؟ کرو مجھ سے اپنی محبت کا اظہار۔” لبوں پر جیسے مسکراہٹ چپکی ہوئی تھی۔ عشنا ہنس پڑی۔
“اظہار کرتے ہوئے کوئی مغربی لڑکی بھی شرما جائے’ میں تو پھر مشرقی ہوں۔”
میرویس محفوظ ہوا۔
“میں بس اتنا کہوں گی کہ تمہارے بغیر رہنا دشوار ہے۔ میں نے کوشش کر کے دیکھا ہے۔ میرا دل پھٹ جاتا اگر تم کچھ دن مزید تاخیر سے آتے۔” اب بار وہ سنجیدہ تھی اور میرویس ہلکی مسکراہٹ لبوں پر لاتے ہوئے اس کی بات سن رہا تھا۔
“یعنی تمہیں مجھ سے عشق ہے۔”
“اب ایسا بھی نہیں ہے۔” وہ اسے خوامخواہ سر نہیں چڑھانا چاہتی تھی۔
“مجھے تو یہی سنائی دے رہا ہے۔”
“تمہارے کان خراب ہیں۔” وہ اٹھنے لگی جب میرویس نے اسے زبردستی بیٹھایا۔
“میری محبت کا اظہار نہیں سنو گی؟” عشنا تو چاہتی یہی تھی’ مسکرا کر دیکھنے لگی۔
“میں جانتی ہوں تمہیں مجھ سے بہت محبت ہے لیکن تم پھر بھی کہو گے تو برا نہیں لگے گا۔” اتراتے ہوئے یاد دلایا گیا تو وہ ناچاہتے ہوئے بھی ہنس دیا۔ “کہہ بھی دو اب!” وہ جھنجھلائی۔
“کہہ دوں؟” وہ ایک بار خبردار کرنے لگا۔
“کہو!”
“زہر لگتی ہو مجھے تم!” اسے دیکھ کر گھورتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اپنا کافی کا مگ دھونے لگا۔ عشنا کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“یہ کیا بکواس ہے؟” اچھا خاصا موڈ وہ خراب کر چکا تھا۔
“کیا بکواس ہے؟ واقعی؟ کل رات تم نے مجھے اس لیے فرش پر دھکا دے دیا تاکہ تمہیں میں نیند میں گرا نہ سکوں۔ حالانکہ تم جانتی ہو کہ وہ سب میں لاشعوری میں کرتا ہوں۔ اگر شعور میں ہوتا تو بتاتا۔” ماتھے پر بل نمودار ہوئے تو عشنا کو بھی غصہ آیا۔
“کیا کرتے شعور میں؟”
“بالکنی سے نیچے پھینک دیتا۔ ویسے بھی صبح چھ بجے کچرے کی گاڑی گزرتی ہے’ لے جاتی تمہیں۔” وہ اب پانی پی رہا تھا۔ عشنا کا چہرہ لال بھبھوکا ہوا۔ وہ تیزی سے اٹھ کر اسے کچھ بہت برا کہنے لگی مگر مسلہ یہ تھا کہ “بہت برا” کچھ یاد نہیں آرہا تھا۔
“کوئی محبت نہیں ہے مجھے تم سے’ نفرت ہے۔۔ سب بکواس تھا جو میں نے کہا۔” میز پر ہاتھ مارتے ہوئے وہ اٹھ کر کمرے میں چلی گئی جبکہ دانت پر دانت پیس کر کھڑا میرویس اس کے جاتے ہی ریلیکس ہوا تھا۔ مسکراہٹ لبوں پر پھیل گئی۔ وہ عجیب شخص تھا۔۔ ایک دم ہی حالات کو بدل کر رکھ دیتا۔ جہاں سب ہنس رہے ہوتے وہی لوگ دوسرے پل ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑ رہے ہوتے۔
۔۔۔★★★۔۔۔
