Tu Dil Se Na Utar Saka By Ayna Baig Readelle50173 Episode 8 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8 Part 1
تو دل سے نہ اتر سکا از عینا بیگ
آٹھویں قسط (پہلا پارٹ)
“دعا کیجیے گا۔” گاڑی سے اترتے ہوئے اس نے آس بھری نگاہوں سے ساویز کو دیکھا۔ وہ اس کی بات پر بنھویں اچکاتا، تاثرات جانچنے لگا۔
“ہاں۔۔ کچھ نہیں ہوگا۔۔ اور تمہارے پاس تو ایک بہترین وجہ بھی ہے۔” لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ غنایہ کو کچھ امید ملی تو مبہم سا مسکراتی، گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے اندر کی جانب بڑھ گئی۔
جب تک وہ اس کی نظروں سے اوجھل نہ ہوئی، ساویز دیکھتا رہا۔ دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے وہ ایک بار پھر مڑ کر دیکھنے لگی۔ اسی دم ساویز بھی مسکرادیا۔ بھوری آنکھیں آپس میں ملیں تو دل میں شرارت دوڑنے لگی۔ وہ زبردستی اس کی جانب سے نظریں ہٹاتی اندر چلی گئی۔۔ البتہ ساویز اب بھی اس دروازے کو دیکھ رہا تھا۔۔پیچھے گاڑی کے ہارن کی چنگھاڑتی آواز نے اسے چونکنے میں مدد دی۔ سرے سے اسے سوچتا ہوا وہ گاڑی آگے بڑھا کر لے گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“کیسے ہو؟۔” پرس میز رکھتے ہوئے وہ دونوں کہنیاں ٹکاتے ہوئے بولی۔ میرویس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی۔۔
“ششدر ہوں، حیران ہوں۔” نگاہ ایک پل بھی عشنا کے چہرے سے نہ ہٹ سکی۔
“کیوں؟۔” حیرانی اس بار عشنا کو ہوئی۔
“اس بار عشنا ابرار نے مجھے خود بلایا ہے۔ کم از کم یہ حادثاتی ملاقات نہیں!۔” ٹانگ پر ٹانگ جمائے، کرسی کی پشت سے کمر ٹکائی ہوئی تھی۔ شہادت کی انگلی میں چابی تھی جسے وہ گول گول گھما رہا تھا۔
عشنا کھلکھلا دی۔
“اس بات کی مجھے بھی امید نہیں تھی۔ دیکھو اب مجھے بھی تمہاری ضرورت پڑ رہی ہے۔” میرویس ہمیشہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ لے آتا تھا۔
ویٹر نے دونوں کے آگے کافی لاکر رکھی۔
“کیا یہاں چائے نہیں؟۔” کافی کا مگ دیکھتے ہی عشنا نے جھٹ سے پوچھا۔
“نہیں میم! ہمارے مینیو میں چائے کا آپشن نہیں۔” وہ معذرت کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ کافی کا مگ لبوں سے لگاتے ہوئے میر نے اس کا چہرہ بغور دیکھا۔
“تمہیں کافی نہیں پسند؟۔” اگر وہ جواب نفی میں دیتی تو میرویس کو بڑی حیرت ہوتی۔
“نہیں۔۔ میں چائے کو زیادہ اہمیت دیتی ہوں۔” کافی کا مگ، چائے کی طلب میں اضافہ کر رہا تھا۔
“یعنی اس بارے میں ہماری پسند ذرا نہیں ملتی۔” ہلکی مسکراہٹ لبوں پر پھیل گئی۔
“مجھے کافی میں دلچسپی نہیں۔۔ مگر شاید تمہیں ہے!۔” مگ کو خود سے تھوڑے فاصلے پر رکھتے ہوئے اس نے موبائل میں وقت دیکھا۔ “مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے میرویس۔۔ اور شاید یہ بہت اہم ہے۔” وہ اصل بات کی جانب بڑھی۔
“ہاں میں سن رہا ہوں۔” اس کے یوں ‘اہم’ کہنے کے بعد بھی وہ غیر سنجیدہ بیٹھا تھا۔ کبھی جو عشنا کی بات وہ اہم سمجھے!
“کمپنی کا کانٹریکٹ! کیا اس میں کوئی تبدیلی تو نہیں؟۔”
“تبدیلی؟ مطلب؟۔” وہ سمجھا نہیں تھا۔
“کل رات مینجر کی کال آئی تھی۔ فاری کمپنی کے ساتھ جو ہمارا کانٹریکٹ تھا، اس حوالے سے بہت پریشان تھے۔ کہیں تم اس دن ہوئے تماشے کے بعد اس کانٹریکٹ کے حوالے سے ہم سے کچھ مختلف تو نہیں سوچ رہے؟۔”
کافی کی سب لیتے ہوئے میرویس نے اسے بے حد غور سے دیکھا۔
“تم سنجیدہ باتیں بھی کرتی ہو؟۔” اس موقع پر یہ ٹیڑھا سوال تھا۔ عشنا نے دانت پیس کر اس کا چہرہ دیکھا۔
“تم نے مجھے اتنا غیر سنجیدہ سمجھا ہوا ہے؟۔”
“ابھی تک تو یہی سمجھا ہوا تھا۔” یکدم ہی وہ مسکرا دیا۔ “باس کراچی میں نہیں ہیں عشنا۔۔ اس دن جو کچھ ہوا وہ میرے سامنے ہوا تھا۔ اگر باس کے سامنے ہوتا تو پھر سیدھا کانٹریکٹ کینسل ہوجاتا۔ تمہاری کمپنی کا پہلا امپریشن کیا پڑا ہے جانتی ہو؟ غیر ذمہ دار ایمپلائز۔۔ جہاں رافع جیسے مردوں کو اب بھی رکھا ہوا ہے۔” اس کی بات عشنا کو خاموش کر گئی۔
“انہوں نے کہا ہے کہ وہ رافع کو فائر کردیں گے مگر اس کے لیے انہیں کچھ وقت چاہئے۔” ہونٹ خشک ہونے لگے تو اس نے زبان پھیری۔
“تمہارا دو نمبر مینجر صرف تم سے کام نکلوارہا ہے عاشی! ایک بار یہ کانٹریکٹ ہو جانے دو، پھر نہ تو وہ رافع کو فائر کرے گا اور نہ تمہیں کچھ کہنے کا موقع دے گا۔” کافی کا مگ تھاما ہوا تھا۔ بے حد سکون سے اپنی بات کرتے ہوئے اس نے جواب طلب کیا۔ عشنا نے نگاہ پھیر لی۔
“تمہیں لگتا ہے کہ تم ہی بہتر ہو؟ کوئی اپنی ڈیوٹی صحیح سے نہیں نبھا رہا سوائے تمہارے؟ ایک اچھے بھائی، بیٹے، دوست، اور اپنی کمپنی کے لیے بہترین مینجر ہو تو کیا کسی دوسرے کی کوئی اہمیت نہیں؟ تم کسی پر الزام نہیں لگا سکتے۔” اس کی بات پر عشنا کو یکدم ہی غصہ آیا تھا۔ میر نے لب بھینچے۔
“میں الزام نہیں لگا رہا ہوں عاشی! بتا رہا ہوں۔ وہ ایسا ہی کرے گا۔ ٹھیک ہے اگر دو منٹ کے لیے یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ تمہارا استعمال نہیں کر رہا تو اس بات کو کیسے جھٹلاؤ گی کہ رافع کی حرکتوں سے وہ پہلے ہی واقف تھا؟۔” کافی کا مگ خالی ہوچکا تھا۔ البتہ عشنا چونک اٹھی تھی۔
“تم کیسے جانتے ہو؟۔” بات حیرانی کی تو تھی۔
“تمہارا کولیگ نعمان! ہماری اچھی بات چیت ہے۔ میں نے اس سے ہی سب معلومات لی تھیں۔ اس نے ہی بتایا کہ مینجر سب جانتا تھا۔۔ کیا اب بتا سکتی ہو کہ تمہارے پیارے مینجر صاحب نے اس وقت کیوں نہیں نکالا؟ بلکہ وہ تو اب بھی نہیں نکالے گا۔ ایک بار اس کا کام تو ہوجانے دو۔۔۔” لبوں پر مسکراہٹ جیسے چپکی ہوئی تھی۔ عشنا کا چہرہ یکدم ہی سرخ ہوا۔
“تو تم اب میرے آفس کے معاملات میں دخل دینے لگے ہو۔ ہمارے درمیان کچھ نہیں ہے میرویس! کون ہو تم میرے؟ محض ایک سرسری سے دوست! جس کا چہرہ میں نے پانچ سال بعد دیکھا ہے۔ تمہیں لگتا ہے مجھے تمہاری ضرورت ہے؟ رافع سے مجھے بچانا اور پھر گاڑی کا بھی خراب ہوجانا۔۔ ہاں تم نے میری مدد کی اور اس کا میں شکریہ کر چکی ہو۔۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم میری جاسوسی کرو۔ میں جانتی ہوں کہ مینجر اور تمہاری ذرا نہیں بنتی مگر ان پر الزام لگانے کی تمہیں ضرورت نہیں!!۔” غصے سے سرخ چہرہ اور پھر بھڑاس کا یوں نکل جانا۔ ارد گرد بیٹھے لوگ انہیں دیکھنے لگے۔ وہ کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
میرویس اس پوری بات کے دوران خاموش رہا تھا۔ غیر سنجیدہ لہجہ سپاٹ ہو چکا تھا۔
“یہ کانٹریکٹ نہیں ہوگا۔” نگاہیں اس کے چہرے پر گڑی ہوئی تھیں۔ اس کا یوں کہنا میرویس کے دل میں تکلیف کو جنم دے چکا تھا۔
“ہاں نہ ہو میری بلا سے!! میں اپنے اسٹاف کے بارے میں کچھ نہیں سنوں گی۔۔ مینجر کبھی ایسا نہیں کریں گے جیسا تم کہتے ہو۔” نجانے وہ کیوں اتنا کچھ کہہ پڑی تھی۔ اپنا پرس اٹھاتی وہ باہر نکل گئی۔ البتہ میرویس وہیں بے حد سنجیدگی سے اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔ بل کے ساتھ پیسے رکھتے ہوئے وہ تیزی سے جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“میں تم سے ناراض نہیں ہوں غنایہ! مجھے تم پر غصہ ہے!۔” باسمہ کی گھورتی آنکھیں، غنایہ کو لب بھینچنے پر مجبور کر گئیں۔
“یہ سب بہت ہی جلدی میں ہوا۔ باصم کی دھمکیاں بڑھتی چلی گئیں اور پھر ابا نے ساویز سے میرے نکاح کا سوچا۔ جانتی ہو کتنی جلدی میں نکاح ہوا؟ اور پھر اس کے بعد میں یونیورسٹی بھی نہیں آسکی۔”
“بہرحال! ساویز بھائی کیسے ہیں؟ اگر تم مجھے یہ بتادیتی کہ تم آج آنے والی ہو تو میں تمہیں ریسیو کرنے باہر ہی آجاتی۔ تاکہ ساویز بھائی کو دیکھ سکوں!۔” وہ مسکرادی۔
“ساویز بہت اچھے ہیں باسمہ! مجھے ایسا لگا نہیں تھا مگر۔۔۔ وہ بہت اچھے ہیں۔” یہ الفاظ اس نے دل سے کہے تھے۔
“کیا تمہارے موبائل میں ان کی کوئی تصویر موجود ہے؟۔” وہ دیکھنا چاہتی تھی۔
“نہیں۔۔ لیکن جب وہ مجھے لینے آئیں گے تب تم دیکھ لینا۔” کلاس کا وقت ہونے والا تھا۔ وہ دونوں ڈپارٹمنٹ کے باہر گارڈن میں بیٹھی تھیں۔
“تم آج بہت بدلی ہوئی محسوس ہورہی ہو۔”
غنایہ کے لبوں پر ہلکی مبہم مسکراہٹ چمکی۔
“کیسے؟۔”
“تم مسکرا رہی ہو۔” باسمہ کو یاد تھا کہ شادی سے پہلے وہ بہت کم مسکرایا کرتی تھی۔ مختصر بولنا اور ڈرا سہما، سنجیدہ لہجہ۔۔
“یہ مسکراہٹ ساویز کی پسند ہے۔ انہوں نے مجھے بدل کر رکھ دیا۔” اسے شوہر یاد آیا تو رخسار سرخ ہونے لگے۔ باسمہ کھلکھلا دی۔
“پھر تو یہ ایک بہت اچھا بدلاؤ ہے! مجھے خوشی ہے کہ ساویز بھائی نے تمہیں سمجھا۔” دوسرے اسٹوڈنٹس کو ڈپارٹمنٹ کی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ دونوں بھی کھڑے ہوگئے تھے۔ ہاتھ میں رکھے موبائل پر بپ ہوئی تو غنایہ نے نوٹفکیشن پڑھنے کے لیے لاک کھولا۔
“گڈ لک۔” ساویز کی جانب سے موصول ہونے والا یہ میسج اس کی مسکراہٹ گہری کر گیا۔ وہ موبائل جیب میں رکھ کر آگے بڑھنے لگی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“میں نے کوشش کی ہے سر! مگر مجھے نہیں لگتا کہ وہ مانے گا۔ اپنی جانب سے میں نے پوری کوشش کی ہے۔” سنجیدگی سے کہتے ہوئے وہ اپنی چئیر پر جا بیٹھی۔
“اس نے کیا کہا؟۔” مینجر سب کام چھوڑ کر اس کے پاس آیا تھا۔
“کچھ نہیں کہا۔۔” یونہی بات چھپا لی گئی۔ “مگر میں نے اپنی بات مکمل کردی تھی۔ میں نہیں جانتی وہ کیا کرنے والا ہے۔” میرویس کے ساتھ بحث کے بعد اسے کسی سے بھی بات کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
“اوہ۔۔” مینجر کی پیشانی پر پریشانی کے بل پھیلے۔
“اگر وہ کانٹریکٹ ہو جائے گا تو آپ باس کو سب کچھ بتا کر رافع کو فائر کردیں گے!۔” میر کی بات کو کنفرم کرنے کے لیے اس نے مینجر سے پوچھا۔
“ہاں مس عشنا! ایسا ہی ہوگا۔” اس نے فوراً سے ہامی بھری۔ “یہ تو ہمارے درمیان ہونے والی ڈیل تھی۔۔ کہ اگر کنٹریکٹ سائن ہوگیا تو رافع کو فارغ کردیں گے۔” اس کا مسکراتا لہجہ سچ کہہ رہا تھا۔ اس دم ہی عشنا کو میرویس پر مزید غصہ آیا۔ نجانے اس نے ایسا کیوں کہا کہ مینجر صرف اس کا استعمال کر رہا ہے اور وہ رافع کو کبھی آفس سے نہیں نکالے گا۔
“تھینک یو سر۔” وہ مسکرانا چاہتی تھی مگر مسکرا نہ سکی۔۔ کیسے بتاتی کہ میرویس وہ کانٹریکٹ نہیں ہونے دینا چاہتا۔ عشنا کو لگا تھا کہ وہ اس کی بات مان لے گا مگر ایسا نہ ہوا۔ زبردستی گہری سانس اندر کھینچتی وہ اپنے سامنے رکھا سسٹم آن کرنے لگی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“وجاہت گھر پر ہے؟۔” وہ راہداری پار کرتے ہوئے لاونج میں داخل ہو رہی تھی جب اسے مردانہ بھاری آواز اندر سے سنائی دی۔ لبوں پر یکدم ہی مسکراہٹ چمکی تھی۔
“نہیں وہ آج آفس گیا ہے۔” لبوں پر مسکراہٹ کا قیام تھا۔ اس شخص نے کائنہ کی ہری آنکھوں کو دیکھتے ہوئے دوسری جانب نگاہ مرکوز کی۔
“ٹھیک ہے۔۔ پھر میں چلتا ہوں۔” وہ یہاں مزید ٹھہر کر اس کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتا تھا۔
“رکو ساویز۔۔” اس کا یوں جلدی چلے جانا وہ کیسے سہہ سکتی تھی۔ لمبی چوڑی پشت تکتے ہوئے تیزی سے بولی۔ ساویز رکا اور پھر دھیرے سے مڑا۔ چہرے کے تاثرات صاف بتاتے تھے کہ وہ اس کی کوئی بات نہیں سننا چاہتا۔
“میں تمہارے لیے کافی بنادیتی ہوں۔ وجاہت کچھ دیر میں آجائے گا جب تک تم اس کا انتظار کر سکتے ہو۔” اسے جو کہنا پڑا، وہ بولی۔۔
“نہیں اس کی ضرورت نہیں! میں وجاہت کے آفس جا رہا ہوں۔” سنجیدہ، ٹھہرا ہوا لہجہ۔ وہ مزید ٹھہرے بنا آگے بڑھ گیا۔
“اس کو مجھ سے بات کرنے میں دلچسپی کیوں محسوس نہیں ہوتی!!!۔” پیر پٹخ کر کہتے ہوئے وہ اندر بڑھ گئی۔ کمرے میں پہنچ کر اس نے کھڑکی سے نیچے ساویز کو گاڑی میں بیٹھتے ہوئے دیکھا۔
“اوہ ساویز۔۔ پلیز ایک بار تو مجھے میرے نام سے مخاطب کرو۔” چوکیدار سے کوئی بات کر کے مسکراتا ساویز اسے سیدھا اپنے دل میں اترتا ہوا محسوس ہوا۔ کھلے لمبے بال کمر سے نیچے تک آتے تھے۔ ہری خوبصورت آنکھیں اس پر ٹکی ہوئی تھی۔ وہ اب آنکھوں پر سن گلاسز لگاتا ہوا، گاڑی میں بیٹھ رہا تھا۔
“وجاہت کی بہن سے دور بھاگنا آسان نہیں۔” وہ مسکرائی اور پھر ہنس دی۔۔ کائنہ کو جو چاہئیے تھا، اسے وہ مل جائے گا، ایک یقین تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“وہ ساویز بھائی ہیں؟؟۔” باسمہ کی آنکھیں پھیلیں۔
“ہاں۔” وہ غنایہ کو ہی دیکھ رہا تھا۔
“اور تم کہتی ہو کہ ساویز بھائی نے تمہیں دیکھے بغیر ہی رشتہ دیا تھا؟۔” اسے کافی حیرانی ہوئی۔ وہ ایک پروقار اور خوبصورت مرد معلوم ہوتا تھا۔۔
“ہاں باسمہ!۔”
“اللہ نے تمہیں تمہارے صبر کا بہت اچھا صلہ دیا ہے۔۔ مگر مجھے اب بھی حیرت ہے!۔” وہ مسکرا دی۔
“یہ کتنا خواب سا معلوم ہوتا ہے نا؟۔” غنایہ کا کھلکھلانا ساویز نے بہت دور سے محسوس کیا تھا۔
وہ سوچتا تھا کہ وہ کھلکھلاتی ہوئی کیسی معلوم ہوتی تھی۔۔ آج اس نے دیکھ بھی لیا تھا۔
“میں اب چلتی ہوں۔ تم سے کل ملاقات ہوگی۔” اسے خدا حافظ کہتی ہوئی وہ سڑک پار کرتے ہوئے ساویز کی جانب بڑھی۔
“اسلام علیکم۔” گاڑی کا دروازہ کھول کر وہ اندر بیٹھی۔
“وعلیکم اسلام۔” اسے دیکھتے ہی لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ “کیسا گزرا دن؟ لگتا تو نہیں کہ پروفیسر نے ڈانٹا ہوگا۔” وہ اس کی بھوری میں دیکھ رہا تھا جن کا رنگ دھوپ میں مزید ہلکا ہوگیا تھا۔
“پروفیسر نے مجھے کچھ نہیں کہا۔۔” اس کا دل چاہا کہ کھلکھلا دے۔
“میں پہلے ہی جانتا تھا۔” گاڑی آگے بڑھنے لگی۔
“امتحان ہونے میں زیادہ وقت نہیں۔۔ میں تیاری تو کرسکوں گی نا؟۔” پتا نہیں کیوں مگر وہ یہ سوال اس سے پوچھ رہی تھی جیسے وہ جانتا ہو۔۔ ہاں مگر ایک یقین تھا کہ وہ اسے ہمت دلائے گا۔
“میں بھی تمہاری پڑھنے میں مدد کر سکتا ہوں اگر میری بیوی چاہے تو۔۔” گاڑی سگنل پر تھوڑے وقت کے لیے رکی۔
“ہاں ساویز! ہم آج سے ہی امتحان کی تیاری کریں گے۔”
غنایہ کا یوں اس کا نام لینا، ساویز کو بھایا۔
“میں رات کو آفس سے لوٹوں گا تو ڈنر کرنے کے بعد تمہیں ٹیوشن دوں گا۔ پھر تم میرے پیسے دے دینا۔ ٹھیک ہے؟۔” اسے چھیڑنا اچھا لگ رہا تھا۔
“پیسے؟۔” وہ چونکی۔ “سچ میں پیسے دینے پڑیں گے؟۔”
ساویز زور سے ہنس پڑا۔
“ہاں! میں نے کبھی کسی کو بغیر معاوضے کے نہیں پڑھایا۔ مجھے یاد کہ جب جب مجھ سے روما پڑھنے آیا کرتی تھی، میرے لیے چھوٹا سا کیک لایا کرتی تھی۔”
غنایہ کو اس کی بات سوچنے پر مجبور کر گئی۔
یکدم ہی کسی نے کھڑکی بجائی تو ساویز نے دیکھتے ہوئے شیشہ نیچے کیا۔ خوبصورت تازہ گجرے بیچنے والے نے اس سے یہ پھول خریدنے کی التجا کی۔ ساویز نے بنا کچھ کہے گجرے کی جوڑی اس کے ہاتھوں سے لے کر، اس آدمی کو پیسے ادا کیے۔ غنایہ دل ہی دل میں مسکرائی۔ اب وہ یقینا پھول اسے پہنانے والا تھا۔ شیشہ دوبارہ چڑھا کر وہ غنایہ کی جانب مڑا۔
“اس بار تو منع نہیں کرو گی؟۔” پیشانی پر ہلکے ہلکے امید کے بل تھے۔ وہ خاموش رہی مگر پھر مسکرادی۔ دھیرے سے کلائی اس کے آگے کرتے ہوئے اس نے ساویز کے تاثرات دیکھے۔ چہرے پر تبسم پھیل گیا۔
آہستگی سے اس کی دونوں کلائیوں میں پھول پہناتے ہوئے وہ اب بے حد محبت سے اسے تک رہا تھا۔
“اس کی خوشبو کتنی اچھی ہے۔” پھولوں کو چہرے کے نزدیک کر کے وہ انہیں سونگھتے ہوئے بولی۔
“بلکل تمہاری جیسی ہے۔۔ خوبصورت!۔” گاڑی آگے بڑھنے لگی جبکہ غنایہ اس کے جملے پر ٹھہر گئی۔ ابھی گاڑی اس نے موڑی ہی تھی کہ کسی گاڑی نے اسے پوری قوت سے پیچھے کی جانب ہٹ کیا۔ غنایہ کا سر ڈیش بورڈ پر لگتا اگر ساویز تیزی سے ڈیش بورڈ پر ہاتھ نہ رکھتا۔ البتہ ساویز کا سر اسٹیئرنگ پر لگا تھا مگر اچھی بات یہ تھی کہ وہ زخمی نہیں ہوا تھا۔ اس نے تیزی سے پلٹ کر پیچھے گاڑی میں دیکھا۔ وہی دو لوگ اور وہی خباثت سے مسکراتے چہرے۔۔ ساویز نے دانت پیس کر دونوں کو باری باری دیکھا۔ گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اس نے تیزی سے آگے بڑھائی۔
“یہ کیا ہوا تھا؟؟۔” غنایہ کے حواس بوکھلائے۔
“کچھ نہیں بس ایک چھوٹا سا ایکسیڈنٹ تھا۔” وہ رک نہیں سکتا تھا۔
“آپ گاڑی اتنی تیز کیوں چلا رہے ہیں ساویز۔۔” وہ اس قدر گھبرا گئی تھی کہ ساویز کے بازو کی جانب سے کوٹ مٹھی میں بھینچ لیا تھا۔ ساویز نے بیک مرر سے پیچھے دیکھا جہاں وہ گاڑیاں اوجھل ہوچکی تھیں۔
“مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔” آنکھیں نم ہونے میں ذرا وقت نہیں لگا تھا۔ دل میں خوف پھیلنے لگا۔
“اس میں ڈرنے والی کوئی بات نہیں۔۔ تم اکیلی نہیں ہو۔ تمہارا شوہر تمہارے ساتھ ہے۔۔” گاڑی سیدھا گھر کے سامنے رکی تھی۔ اس کی جانب کا دروازہ کھولنے بعد وہ گاڑی کے پیچھے کی طرف آیا اور حالت دیکھنے لگا۔ شکر تھا کہ وہ زیادہ خراب نہیں ہوئی تھی۔
“تم ٹھیک ہو؟۔” وہ غنایہ سے مخاطب تھا۔ جس نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“آپ اب بھی آفس جائیں گے؟۔” اس نے سہم کر پوچھا۔
“یہ ایک چھوٹا سا ایکسیڈنٹ تھا غنایہ۔ جانے کون لوگ تھے۔ بہرحال تم اندر جاؤ اور آرام کرو۔ ہمیں رات میں امتحانوں کی تیاری بھی کرنی ہے۔” اس واقعے کو یکثر بھلاتے ہوئے وہ زبردستی مسکرایا۔
“آپ ٹھیک ہیں؟۔” اسے تشویش ہوئی۔
“تمہاری یہ فکرمندی میرے لیے خوشی کا باعٹ ہے۔” وہ اس کے لیے پریشان ہوئی تھی یہ عجیب اور نیا احساس تھا۔ غنایہ اس کے یوں کہنے پر دھیما سا مسکرادی۔
“مگر میری بات کا جواب؟۔”
“میں ٹھیک ہوں۔” یہ کہتے وہ اپنے سر درد کی تکلیف کو بھول چکا تھا۔ اسٹیئرنگ پر سر بہت مضبوطی سے لگا تھا جس کی وجہ سے اب اس کا سر دکھ رہا تھا۔
“تم اندر جاؤ کیونکہ مجھے میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے۔ آج باریال نے کھانا بنایا ہے۔ تمہیں یقیناً اچھا لگے گا۔” ارد گرد دیکھتا ہوا وہ اسے اندر جانے کی تاکید کرنے لگا۔ اسے خدا حافظ کہتی وہ اندر بڑھ گئی جبکہ ساویز چوکیدار کے پاس چلا آیا۔
“وجاہت کے آدمی پھر آئے تھے۔ میں آفس جا رہا ہوں آپ گھر کا خیال رکھیے گا۔” فکرمندی سے کہتا ہوا وہ گاڑی میں بیٹھنے بڑھا۔ اب بیوی کا ساتھ ہے۔۔ پہلے وہ ان معاملوں میں بے فکر تھا مگر اب غنایہ کا اس کی زندگی میں ہونا، اس کی فکر بڑھا چکا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“مجھے لگتا ہے کہ ہمیں باس کو بتا دینا چاہئیے کہ جن کے ساتھ یہ کانٹریکٹ سائن ہونے چلا ہے، وہ دراصل کیسے لوگ ہیں۔” رابعہ کی آواز پر وہ چونکا۔ بات سنتے ہوئے اس نے میز سے کافی کا مگ اٹھایا۔ اس موضوع پر بات کرنے کا نجانے کیوں دل نہ کیا۔ خاموشی ہی بہتر تھی۔
“جن کلائنٹ کے ساتھ ہفتے کو میٹنگ تھی، ان کا کیا ہوا؟۔” اس کی بات کا جواب دیے بغیر اس نے نیلی فائل کھولی اور پروگریس دیکھنے لگا۔
“وہ ہماری دی گئی ڈیل سے خوش ہیں۔ ان چار پانچ سالوں میں کمپنی کہاں سے کہاں چکی گئی۔۔” وہ خوش تھی جبکہ میرویس محض مسکرا کر رہ گیا تھا۔ “ملک کمپنی ہم سے اب بھی بہت پیچھے ہے! تمہیں لگتا ہے ہمیں ان کے ساتھ کانٹریکٹ کرنا بھی چاہئیے؟ یہ گھاٹے کا سودا ہوگا۔”
“میں یہ کانٹریکٹ نہیں چاہتا۔” آج کی بحث کے بعد میرویس کو غصہ تھا۔
“میں بھی یہی سوچ رہی ہوں۔ کیوں نہ باس کو بتایا جائے؟۔”
“ہاں۔.” اس نے سرسری جواب دیا۔
“ملک کمپنی تمہارے لیے اہم ہے؟۔” رابعہ ذو معنی لہجے میں کہتی ہوئی اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔ وہ ٹھٹھکا۔
“کیا مطلب؟۔” یہ سوال کچھ عجیب تھا۔
“سوال سادہ ہے میرویس! ملک کمپنی اہم یا ان کی ایک خوبصورت سی امپلائی؟۔” لبوں پر شریر مسکراہٹ پھیل گئی۔ میرویس نے لب بھینچ کر اسے دیکھا اور کندھے اچکا لیے۔
” تمہارا سوال اب بھی میری سمجھ سے پرے ہے رابعہ!۔” سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی وہ کیسے معصوم بن رہا تھا۔
“تم چھپا سکتے ہو مگر تمہارے انداز نہیں! اگر میری جگہ کوئی بھی شخص تمہارے ساتھ ہفتے کو جاتا تو وہ بھی یہی سمجھتا جو میں ابھی سمجھ رہی ہوں۔” چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ سب جانتی ہے۔
“مجھے اس پر غصہ ہے!۔” میرویس بول پڑا۔ پیشانی پر گہرے بل پھیل گئے۔
“اور وہ تمہیں پسند ہے!۔” رابعہ نے گویا جملہ مکمل کیا۔
“مجھے بس ابھی غصہ ہے!۔” میز پر مکا بنا کر مارتے ہوئے اس نے کرسی کی پشت سے کمر ٹکائی۔
“تمہیں واقعی اس پر غصہ ہے؟۔”
اس سوال پر وہ پہلی بار ٹھہرا۔۔ رابعہ کو دیکھا اور سوچ میں پڑگیا۔
“پتا نہیں۔۔ شاید نہیں!۔” ایک یہی جواب نکلتا تھا۔ لب بھینچ کر اس نے آنکھیں موند لیں۔ “مجھے اس پر غصہ نہیں آتا۔۔ مگر اس کا یوں کہنا میرے لیے تکلیف کے باعث بنا ہے۔”
“اس نے کیا کہا میرویس؟۔”
“اس نے کہا کہ میں اس کی جاسوسی کرتا ہوں۔۔ مگر میں ایسا نہیں کرتا رابعہ! اس کے کولیگ رافع نے جو اس کے ساتھ ریسٹورینٹ میں کیا، اس کے بعد سے بس میں تھوڑا ڈسٹرب سا ہوں۔۔ اور چاہتا ہوں کہ اسے آئیندہ یہ سب نہ سہنا پڑے۔ کیا یہ غلط ہے؟۔” رابعہ کو یہ سب بتانے کی بھی ایک وجہ تھی۔ وہ سلجھی ہوئی سمجھدار لڑکی تھی اور میرویس کو اس پر طرح سے اعتبار تھا۔
“تمہیں وہ اچھی لگتی ہے؟۔” اس نے سوال پر سوال کیا۔ میرویس کی خاموشی رابعہ کو سب سمجھا گئی۔
“پانچ سال گزر گئے ہیں اس بات کو۔۔”
“مگر تمہیں اب بھی وہ پسند ہے!۔”
“تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو؟۔”
“تمہیں یاد نہیں دو سال قبل، آفس پارٹی میں جب پورا اسٹاف اپنے ہم سفر کے ساتھ آیا تھا تو اس پارٹی میں صرف میں اور تم ہی اکیلے تھے! اور تب میں نے تم سے پوچھا تھا کہ تم شادی کب کرنے والے ہو! تمہیں اپنا جواب یاد ہوگا۔۔ ‘میرویس کے دل کا دروازہ بار بار کھلا نہیں کرتا۔۔ جو عرصے سے قید ہے، اس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔’ میں جانتی ہوں تم نے ابھی تک اپنی پسند نہیں بدلی!۔” رابعہ کے چہرے پر تبسم پھیلا تھا جبکہ میرویس بری طرح چونکا اٹھا۔
“دو سال۔۔۔ تمہیں اب بھی وہ بات یاد ہے!۔” یہ حیرانی کی بات واقع ہوئی تھی۔
“مجھے یاد ہے میرویس۔۔ اور مجھے اس لیے بھی یاد ہے کیونکہ میں نے وہاں پر کھڑے ہو کر اس لڑکی کو دیکھنے کی خواہش کی تھی۔”
میرویس نے لب بھینچے اور مسکرا دیا۔ وقت بھی بیت گیا مگر انداز ویسے ہی رہے۔
“کیا لڑکی ہو تم رابعہ!۔”
“میں بھی یہی سوچتی ہوں۔” وہ کھلکھلا دی۔ “باس کل آئیں گے اور ہمیں ان سے کانٹریکٹ کے متعلق بات کرنی ہے۔ یاد رکھنا۔” وہ فائل سمیٹتے ہوئے بولی جبکہ میرویس کی سوئی کسی کے ذکر پر ٹھہر گئی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
وہ گھبرائی سی گیسٹ روم کے آگے سے گزر کر سیڑھیوں کی جانب بڑھ رہی تھی جب گیسٹ روم کے کمرے سے باہر آتے باریال کی اس سے ٹکر ہوتے ہوتے بچی۔ وہ دونوں فاصلہ رکھ کر کھڑے ہوئے۔
“کہاں بھاگی جا رہی ہیں غنایہ باجی؟۔” ہاتھ میں پکڑی کورس کی کتاب چہرے سے ہٹاتا ہوا وہ کچھ شریر لہجے میں بولا۔ اس نے غنایہ کے ہاتھ میں سفید اور گلابی رنگ کے گجرے دیکھے تو مسکراہٹ گہری ہوگئی۔ “ساویز بھائی کی جانب سے دیے گئے یہ پھول واقعی خوبصورت ہیں!۔”
“ساویز مجھے گھر چھوڑ رہے تھے جب کسی نے گاڑی کو بہت زور سے ہٹ کیا۔” اس کی گھبراہٹ محسوس کرتا ہوا وہ اس کی بات مکمل سننے لگا۔ “اب وہ گھر آنے کے بجائے دوبارہ آفس چلے گئے۔ مجھے بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے۔”
ساویز کے لیے فکرمندی فطری تھی۔ باریال چوکنا ہوا۔
“گاڑی نے ہٹ کیا؟۔” وہ کچھ کچھ سمجھ رہا تھا۔
“ہاں۔۔ مگر ساویز نے گاڑی روک کر اس کی خبر نہیں لی۔ بلکہ رفتار تیز کرتے ہوئے مجھے گھر چھوڑ دیا۔” غنایہ کا یہ کہنا باریال کے لیے کافی تھا۔ بات کی تہہ تک پہنچ کر اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
” انہیں کچھ نہیں ہوگا ان شاءاللہ۔ آپ کچھ دیر آرام کریں اور پھر انہیں کال کر کے خیریت معلوم کر لے گا۔” اسے تسلی دیتا ہوا وہ دوبارہ اپنی کتاب چہرے کے آگے کرتا، اندر بڑھ گیا۔ غنایہ کو کچھ حیرت ہوئی۔ اس کا یوں عام سے لہجے میں کہہ کر کمرے میں چلے جانا کچھ مشکوک سا تھا۔ وہ خیال کو جھٹکتے ہوئی سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
بستر پر لیٹتے ہوئے وہ گہری سوچوں میں غرق تھا۔ بھوک ہونے کے باوجود بھی کچھ کھانے کا دل نہیں کر رہا تھا۔
“ہمارے درمیان کچھ نہیں ہے میرویس! کون ہو تم میرے؟ محض ایک سرسری سے دوست۔۔۔” اس کے الفاظ یاد آئے تو دل کی تکلیف بڑھ گئی۔ موبائل کھول کر اس نے پانچ سال پرانی عشنا کی وہ تصویر نکالی جسے دیکھ کر آج بھی وہ ٹھہر جایا کرتا تھا۔ مسکراتا چہرہ اور پرکشش نظریں۔۔ اسے یاد نہیں وہ کب اس کی تصویر دیکھتے دیکھتے نیند کی وادی میں اتر گیا۔۔۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ آج اس نے جوتے بھی نہیں اتارے تھے۔۔ کوٹ صوفے پر رکھا تھا جبکہ گھڑی اب بھی کلائی میں بندھی تھی۔ نجانے اس سے غلطی کس موڑ پر ہوئی تھی۔۔ کہ اس کی سزا وہ اب بھی سہہ رہا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“یہ سب اتنا مشکل تو نہیں!۔” اس کی فائل پر نگاہ دوڑاتا ہوا وہ صفحے پلٹنے لگا۔
“یہ مشکل ہے ساویز۔۔” دونوں ہی بڑے صوفے پر بیٹھے کتابوں کا معائنہ کر رہے تھے۔ “اچھا اب مجھے پڑھنے دیں۔” اس کی ہاتھ سے فائل لیتی غنایہ، بال پوائنٹ اٹھا کر فائل پر لکھنے لگی۔
صوفے کی پشت پر بازو رکھتا ہوا وہ اسے محبت سے تک رہا تھا۔ کیچر ہونے کے باوجود بھی زلفیں کھلی ہوئی تھیں۔ لمبے بال کندھے سے آگے ہوکر نیچے لہرانے لگے۔
“بال کھول کر کون پڑھتا ہے؟۔” اسے چھیڑنے کا دل چاہا، تو بول پڑا۔ غنایہ نے بھوری آنکھیں اٹھا کر اس کا چہرہ دیکھا۔
“کیچر لگایا ہوا ہے۔” اس کی شریر مسکراہٹ پر ہونٹ سکیڑ کر جواب دیا۔
“مجھے نہیں لگتا کہ یہ کیچر کوئی کام کر رہا ہوگا۔” کیا قیامت تھا اس کی آنکھوں میں دیکھنا۔
“”میں زیادہ سختی سے بال نہیں بناتی۔۔ سر دکھنے لگتا ہے۔”
“اور یہ زلفیں۔۔” اس کی لٹوں کو چھوتے ہوئے وہ دھیرے سے بولا۔
“کچھ نہیں کرتیں یہ زلفیں۔۔” اس نے بھی جواباً مسکراتے ہوئے کہا۔ ایک بار پھر سے وہ کچھ لکھنے میں مصروف ہوگئی تھی۔ گھڑی رات کے بارہ بجا رہی تھی مگر وہ دونوں اب تک جاگے ہوئے تھے۔
پورے پانچ منٹ بعد اس نے فائل سے نگاہ اٹھا کر ساویز کو دیکھا جس کی نظریں اسے ہی تک رہی تھی۔ دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوا۔
“جانتی ہو کتنا اچھا محسوس ہوتا ہے یہ سوچ کر کہ جسے میں ابھی اتنے وثوق سے دیکھ رہا ہوں، وہ اب میری بیوی ہے۔۔ یعنی میری ہے!۔” اس کی باتیں غنایہ کا تسلسل توڑنے لگیں۔ آنکھوں کے آگے آتی زلف کو ساویز نے دھیرے سے کان کے پیچھے کیا۔
“آپ ایسے دیکھیں گے تو میں پڑھ نہیں پاؤں گی ساویز۔۔” الفاظ بمشکل ادا ہوئے۔
“میں تو روز تمہیں ایسے ہی دیکھتا ہوں۔” لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“مگر ابھی مت دیکھیں۔” خفا خفا سا لہجہ۔۔
“تمہیں اتنے قریب سے دیکھنے کا موقع ذرا کم نصیب ہوتا ہے۔ اس لیے مجھے ذرا بغور دیکھنے دو۔”اس کی بات پر وہ ناچاہتے ہوئے ہنس پڑی۔
“آپ نے کہا تھا آپ مجھے پڑھتے ہوئے بلکل تنگ نہیں کریں گے مگر ایک گھنٹے سے میرے پاس بیٹھ کر مجھے تنگ کر رہے ہیں۔ ایسے میں کیسے پڑھوں گی ساویز؟۔” مسکراہٹ کی جگہ اب ہونٹ سکیڑے ہوئے تھے۔ ماتھے پر ہلکے ہلکے بل نمودار تھے جسے دیکھ کر ساویز بے اختیار مسکرایا تھا۔
“ایک گھنٹے سے تمہارے پاس بیٹھا ہوں، مگر ایک کام بھی تم نے مجھے نہیں دیا۔” کالر والی شرٹ کا پہلا بٹن کھلا ہوا تھا۔ آستین کے کف فولڈ ہو کر کہنیوں تک چڑھے ہوئے تھے۔ غنایہ نے اس کے جبڑے کی ہڈی نمایاں ہوکر غائب ہوتے دیکھی۔
“میں ابھی یہ والا ٹاپک مکمل کرلوں، پھر آپ کو دوسرا ٹاپک پڑھنے کے لیے دوں گی۔ مجھے وہ ذرا سمجھ نہیں آیا۔ آپ سمجھا دیں گے نا؟۔” دونوں پاؤں صوفے کے اوپر، سمٹ کر بیٹھی ہوئی تھی۔
“ہاں مگر تب تک یوں بیٹھا رہوں گا تو تھک جاؤں گا۔ آفس میں بھی پورا دن کرسی پر بیٹھ کر گزارا ہے۔” پیچھے گدی پر ہاتھ رکھ وہ کمر سیدھی کرتا ہوا بولا۔ پیشانی پر تھکاوٹ کے آثار تھے۔ غنایہ کو اس کی فکر تھی۔
“آپ بستر پر لیٹ جائیں۔ میرا یہ کام ہو جائے گا تو آپ کو آواز دے دوں گی۔” اسے احساس ہوا۔ صرف اس کے لیے ہی تو وہ اپنی نیند قربان کیے، ساتھ بیٹھا تھا۔
“مگر میں تو صوفے پر سوتا ہوں؟۔” مسکراہٹ ایک دم شریر ہوئی۔ وہ ابھی کچھ کہتی ہی کہ وہ گھوم کر اپنا سر اس کی گود میں رکھتے ہوئے لیٹ گیا۔ غنایہ ہڑبڑاتے ہوئے ایک دم سرخ ہوئی۔
“مم۔میں بستر پر بیٹھ جاتی ہوں۔” تیزی سے اٹھنا چاہا مگر اس کی دونوں کلائیاں، گود میں سر رکھ کر لیٹے ساویز نے پکڑ لی تھیں۔
“بیٹھی رہو یہیں پر۔۔”
غنایہ کو گویا چپ لگ گئی۔ وہ حیرت سے ہونق بیٹھی اس کا چہرہ دیکھنے لگی جو اب اپنے موبائل پر آئی نوٹیفکیشنز چیک کر رہا تھا۔
“تمہیں کیوں خاموشی لگ گئی؟ اپنا پڑھ سکتی ہو! باخدا اب تنگ نہیں کروں گا۔” نگاہ اوپر کرتے ہوئے اس نے غنایہ کو دیکھا جس کا چہرہ حیا کے باعث سرخ ہو رہا تھا۔ اس کی انگھوٹی والے ہاتھوں پر نگاہ پڑی تو اس نے دھیرے سے اس کی ہتھیلی پکڑ کر اپنے نزدیک کی۔ “یہ انگھوٹی تم پر بہت اچھی لگ رہی ہے غنایہ۔۔”
“یہ ایک بے حد عام سی انگھوٹی ہے ساویز۔۔” وہ جھینپ سے گئی۔ “کیا آپ نے کبھی کسی لڑکی کو انگھوٹی پہنے نہیں دیکھا؟۔”
“اتنے نزدیک سے نہیں دیکھا۔۔” مسکراہٹ گہری ہوئی۔ جملے کی تصحیح کرتا ہوا وہ اس کا چہرہ تکنے لگا۔ لب کاٹتے ہوئے وہ دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔
“کسی کو بھی نہیں؟۔” اسے حیرت ہوئی۔
“کبھی ضرورت نہیں پڑی اور نہ کسی کو اہم سمجھا۔۔” اس کی انگھوٹی کو چھوتے ہوئے، محبت میں دیوانہ بولا۔
“اور آپ کی امی؟۔” اس نے یکدم پوچھا۔
وہ افسوس سے مسکرایا۔
“میں انہیں مزید دیکھ کر اپنا دل بھرنا چاہتا تھا مگر میری خواہش ادھوری ہی رہ گئی۔ خدا نے انہیں بلا لیا۔”
غنایہ کو اس کے لیے بے حد برا لگ رہا تھا۔
“ان کی یاد آتی ہوگی۔” پنکھے کی تیز ہوا کے باعث، ساویز کے بال آنکھوں تک آرہے تھے۔
“ماں ہے۔۔ یاد تو آتی ہی ہے۔ میں چار سال کا تھا اور امی مجھے روز پارک لے کر جاتی تھیں۔ جہاں باپ کا ہونا ضروری ہوتا ہے وہاں میری ماں، میرے ساتھ رہی۔”
“اور بابا؟۔”
“بابا اکثر بزنس ٹرپ پر ہی ہوتے تھے۔ کبھی خاص توجہ نہیں ملی اور نہ میری ماں نے یہ کمی مجھے محسوس ہونے دی۔ وہ چلی گئیں تو خیال آیا کہ میرا ایک باپ بھی ہے۔۔ بابا نے وقتی طور پر بزنس ٹرپ میری وجہ سے کم کردیے۔ میں ان کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا، مگر وہ وقت کبھی نہیں آیا۔ انہیں شاید دلچسپی نہیں تھی۔۔ گویا میں ان کے لیے ایک زنجیر کی مانند تھا جس کی وجہ سے بابا پاکستان میں ٹھہرے تھے۔ وہ امی کی زندگی میں انہیں چھوڑ کر ہی باہر چلے جاتے اگر میں نہ ہوتا۔ میں نے یہ وقت دوستوں میں گزارا ہے غنایہ۔۔ انیس سال کا ہونے والا تھا جب بابا نے کہا کہ وہ اب لمبے وقت کے لیے باہر جا رہے ہیں۔ حالانکہ مجھے ان سے گہری محبت نہیں تھی، مگر ان کے پاس ہونے کا احساس تھا۔۔ خوب رویا اور کھانے پینے کا بائیکاٹ کردیا۔ بابا نے مجھے تسلی دی اور کہا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ جس دن انیس سال کا ہوا اسی دن بابا چلے گئے۔ مجھے لگا وہ میرے لیے کوئی زبردست سا سرپرائز پلان کر رہے ہوں گے کیونکہ پچھلے ایک مہینے سے وہ مجھے زیادہ سے زیادہ وقت دے رہے تھے۔ ان کا جانا سرپرائز ہی تھا۔۔ مگر زبردست نہیں۔۔” وہ مسکرایا اور پھر زور سے ہنس پڑا۔ اس ساری بات میں اگر کسی کی آنکھیں نم ہوئیں تو وہ غنایہ تھی۔ اسے حیرت تھی۔۔ بے یقینی تھی کہ اس سب کے باوجود ساویز نے خود کو سنبھالا۔ وہ کبھی خود کو اپنے ماں باپ کے بغیر سوچ نہیں سکتی تھی۔
“مگر ایک بات کہوں غنایہ؟ میری بات مانو گی؟۔” نگاہ اوپر کرتے ہوئے اس نے غنایہ کو دیکھا جو نظریں جھکائے اس کا چہرہ ہی تک رہی تھی۔
“جی میں مانوں گی۔” اس نے تیزی سے ہامی بھری۔
“میرے باپ کو برا مت سمجھنا۔۔ اور نہ انہیں کبھی برا کہنا۔۔ وہ میرا باپ ہے۔۔ جیسا بھی ہے مگر میرا ہے۔” بھوری آنکھیں، بھوری آنکھوں سے ٹکرائی تھیں۔ غنایہ کی چمکتی آنکھوں سے مسکرائی۔
“میں ایسا کبھی نہیں کہوں گی۔”
“تم البم دیکھنا چاہو گی؟ کبھی موقع ملا تو ضرور دکھاؤں گا۔”
“کل؟۔” اس کی ہلکی ہلکی شیو غنایہ کو بہت بھلی معلوم ہوئی۔
“لگتا ہے تمہارا پڑھنے کا ذرا دل نہیں!۔” وہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔
“آپ نے مجھے باتوں میں لگایا ساویز!۔” وہ گھور کر الزام نہ سہتی ہوئی بولی۔
“تم مجھے اپنے دل کے قریب محسوس ہوتی ہو۔ دل چاہتا ہے دیکھتا ہی رہوں!۔” اس کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر وہ خوابی کیفیت میں کہنے لگا۔ غنایہ حیا کے مارے آنکھیں موند گئی۔
“مجھے پڑھنے دیں نا۔” یہ شخص اسے کبھی پڑھنے نہیں دے سکتا تھا، اتنا تو وہ جان ہی چکی تھی۔ “آئیندہ سے میں باہر ٹیرس کے جھولے پر بیٹھ کر پڑھا کروں گی۔” گویا یہ ایک دھمکی تھی جو واقعی ساویز پر اثر کر چکی تھی۔
“میں اب واقعی کچھ نہیں کر رہا۔۔ مگر میں یوں فارغ بیٹھ کر کیا کروں گا؟۔” حد درجہ معصوم لہجہ کہ غنایہ کا دل چاہا غصہ کرنے کے بجائے زور سے ہنس دے۔
“یہ رہے دوسرے ٹاپک کے نوٹس! اسے سمجھ لیں، تاکہ مجھے تھوڑی دیر بعد سمجھا سکیں۔” اسے جلدی سے نوٹس دیتے ہوئے، کام میں الجھانے لگی۔
صفحے الٹ پلٹ کر دیکھتا ساویز نوٹس پڑھنے لگا۔ غنایہ کو گویا تسلی ہوئی۔ ایک بار پھر فائل اپنے چہرے کے آگے کرتی ہوئی وہ یاد کی ہوئی تحریر دوبارہ دہرانے لگی۔ ماحول میں اب خاموشی کا عالم تھا۔ تھوڑی ہی دیر بعد اسے ہلکے خراٹوں کی آواز آئی۔ آواز محسوس کرتے ہوئے اس نے نگاہوں سے فائلز ہٹائی اور جھٹ سے ساویز کو دیکھا جس کے چہرے پر اس کے وہ نوٹس رکھے تھے جو غنایہ نے دیے تھے۔ وہ نوٹس اپنے چہرے پر رکھ کر سوچکا تھا۔ وہ بنا آواز کے ہنس پڑی۔ دھیرے سے ہاتھ اس کی پیشانی پر پھیرا اور چہرے سے نوٹس ہٹا کر اسے بغور دیکھنے لگی۔ ساویز کے شاید علم میں بھی نہیں ہوگا کہ غنایہ کبھی اسے اشتیاق بھرے لہجے میں دیکھے گی۔ صبح کا جاگا بلآخر تھک کر سو گیا تھا۔ ٹھنڈ محسوس کرتے ہوئے اس نے وہیں رکھی چادر اسے اوڑھائی۔ ابھی کافی کچھ پڑھنا باقی تھا اس لیے اس نے وہی بیٹھنے کا ارادہ کیا۔۔ شاید یہی بہتر تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“تم بہت خوبصورت ہو۔۔” گانے کے تیز شور کے باوجود اسے بھاری آواز سنائی دی تھی۔
“میں جانتی ہوں! تم وہ بات بتاؤ جس کا مجھے علم نہ ہو۔” آئبرو آچکا کر ایک ادا سے کہا گیا۔ ہاتھ میں موجود جلتی سگریٹ لبوں سے لگاتے ہوئے اس نے شیشے کا گلاس اٹھایا۔
“کیا ہو اگر میں تم سے کہوں کہ مجھے تم چاہئیے ہو؟۔” اس کی گھمبیر آواز پر کائنہ نے نگاہ اٹھائی۔ ہاں بلاشبہ وہ ایک ہینڈسم اور پرکشش مرد تھا۔۔ مگر اس کی پسند نہیں تھا۔
“مگر مجھے تم نہیں چاہئیے ہو۔۔” کیا انداز تھا، غرور تھا۔۔ اس شخص کی مسکراہٹ سمٹی۔ “مجھے جو شخص چاہئیے، اسے کیسے پانا ہے میں جانتی ہوں۔” ساویز کا چہرہ خیالوں میں ابھرا تھا اور اس نے برابر بیٹھی ساشا کو دیکھا۔
“اور تمہارا پسندیدہ شخص تمہیں حاصل کرنے کی خواہش نہیں رکھتا۔” ساشا ہنس کر گویا اس کا مذاق اڑاتے ہوئے بولی۔ کائنی کا چہرہ سرخ ہوا۔
“ساویز خانزادہ صرف کائنہ سلطان کا ہے اور اسی کا رہے گا۔” دانت پیس کر الفاظ ادا کیے تھے۔ “وجاہت نے مجھ سے پوچھا ہے کہ میں کس سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔ اور میں نے نام بتادیا۔ جانتی ہو پہلے وہ کتنا حیران ہوا تھا؟ مگر پھر وہ مسکرا دیا کیونکہ ساویز اس کا بہترین اور گہرا دوست ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا کہ وہ اپنی بہن کی شادی، اپنے دوست سے کروادے۔”
“اس کی آنکھوں میں کبھی تمہارے لیے محبت نہیں نظر آتی۔۔ بلکہ وہ تو کبھی تمہیں خود سے مخاطب بھی نہیں کرتا۔ بھلا تمہاری اس خوبصورتی کا کیا فائدہ جو تمہارے محبوب پر اثر نہ کرسکی۔”
“جانے خانزادہ چاہتا کیا ہے۔ اگر وہ خوبصورتی کا خواہشمند ہوتا تو اب تک میرا ہوچکا ہوتا۔ کاش کہ مجھے پتا چل جائے کہ اسے کیا چیز بھاتی ہے۔ بہرحال جو بھی ہو۔۔ مجھے اپنی محبت حاصل کرنا آتی ہے۔۔ وجاہت سلطان کی بہن ہوں! میں کچھ بھی کرسکتی ہوں!۔” آخری جملہ اس نے اپنی گہری دوست کی آنکھوں میں دیکھ کر ادا کیا تھا۔ “کچھ بھی۔۔” یہ بات نظر انداز کردینے والی نہیں تھی۔۔ ہاں وہ کچھ بھی کرسکتی تھی۔۔
۔۔۔★★★۔۔۔
صبح کے کوئی گیارہ بجے تھے جب ساویز کی آنکھ کھلی تھی۔ اسے یکدم ہی گزری رات کا خیال آیا تو کہنی کے بل تھوڑا اٹھ کر ارد گرد نگاہ دوڑائی۔ اس کا سر اب بھی غنایہ کی گود میں تھا۔ وہ بری طرح چونک اٹھا۔ غنایہ اسی انداز میں بیٹھی، اپنا سر صوفے کے ہینڈل پر ٹکائے بے سدھ سو رہی تھی۔ اس موقع پر ساویز کا ششدر ہوجانا واجبی تھا۔ کیا وہ پوری رات اس کی وجہ یوں ہی بیٹھی رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں اسے اپنے اوپر چادر کا احساس ہوا۔ ساویز کو یاد تھا کہ سونے سے قبل وہ چادر اوڑھ کر نہیں سویا تھا۔ اس گھتی سلجھانا مشکل نہیں تھا۔۔ یہ غنایہ ہی ہوسکتی تھی۔ لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے غنایہ کے معصوم چہرہ دیکھا۔
“غنایہ۔۔” اس کی دھیمی مگر بھاری آواز گونجی۔ غنایہ کو کوئی فرق نہ پڑا۔ اس نے ایک بار پھر آواز دی مگر ساتھ ہی اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا۔ ساویز کا لمس محسوس کرتی ہوئی وہ الجھتے ہوئے اٹھی۔ اس کا چہرہ دیکھا تو حیران ہوتی ارد گرد کا نظارہ کرنے لگی۔ ساویز کا دل چاہا ہنس پڑے۔۔ وہ بھی اس کی طرح گھنٹوں پرانا وقت یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ سیدھا ہوتے ہوئے اٹھ کر بیٹھا۔
“تم رات بھر یوں ہی سوتی رہی ہو؟۔” اس نے پہل کی
“نہیں میں پڑھ رہی تھی۔ یاد نہیں کب آنکھ لگ گئی۔” سو کر اٹھنے کی وجہ سے آواز کچھ بدلی بدلی سے تھی۔
“آئم سوری! میں تمہیں پڑھانے کے لیے رات ساتھ بیٹھا تھا۔۔ مگر نیند ایسی حاوی ہوئی کہ میں خود کو قابو نہ کرسکا۔” سر کجھاتے ہوئے وہ کچھ شرمندگی سے معافی مانگ رہا تھا۔ وہ اسے ٹکٹی باندھے تک رہی تھی۔
“آپ معافی کیوں مانگ رہے ہیں؟۔”
“کل رات تمہارا کافی وقت ضائع کیا۔ خوامخواہ اپنا ماضی لے کر بیٹھ گیا اور پڑھائی کا وقت برباد کردیا۔” وہ نیند پوری کر کے اٹھا تھا جبکہ غنایہ کی آنکھوں میں اب بھی ڈھیروں نیند جمع تھی۔
“ایسا مت کہیں۔۔ مجھے وہ سب کچھ سن کر بہت اچھا لگا۔ میں آپ کے بارے میں پہلے سے جاننا چاہتی تھی۔” لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ ہنس پڑا۔
“تم میرے بارے میں جاننا چاہتی تھی؟۔”
“ہاں۔۔ کیونکہ آپ نے کبھی اپنی امی کے بارے میں بتایا نہیں تھا اس لیے بس جاننے کا ایک تجسس تھا۔”
وہ جواباً دھیما سا مسکرا کر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ یہ لڑکی اسے محبت کرنے کے لیے خود مجبور کرتی تھی۔
“رات کب سوئی؟۔”
“صبح سات بجے۔۔” اس نے اپنی کتابیں جمع کرتے ہوئے سمیٹا۔
“صبح؟۔” اسے لگا جیسے سننے میں غلطی ہوئی ہو۔
“ہاں میں نے چار ٹاپک یاد کر لیے ہیں۔۔ دوسرا ٹاپک آپ کے لیے چھوڑ دیا ہے تاکہ آپ مجھے پڑھا سکیں۔” وہ اب چادر تہہ کر رہی تھی۔ آنکھیں اب بھی ادھ کھلی تھیں۔
“تم نیند میں ہو غنایہ۔۔” اس نے غنایہ کے ہاتھ چادر پکڑی۔
“پانی آنکھوں پر ماروں گی تو ٹھیک ہوجاؤں گی۔ کلاس کا وقت تو نکل ہی گیا ہے۔ ناشتہ کر کے پھر پڑھنے بیٹھ جاتی ہوں۔” امتحانوں وقت زیادہ نہیں تھا اس لیے وہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ اٹھ کر کھڑی ہورہی تھی جب ساویز نے اس کا ہاتھ پکڑا کر اپنے قریب بٹھایا۔
“مجھے لگا تھا کہ تم اپنی نیند صرف چاند کے لیے ہی برباد کرتی ہوگی۔ میں نہیں چاہتا تم زبردستی خود کو جگا کر اپنی صحت خراب کرو۔ سوجاؤ غنایہ! میں ویسے بھی آفس جانے والا ہوں۔” اس کی لٹ کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے وہ بے حد نرمی سے بولا۔
“مگر۔۔” وہ تیزی سے کچھ کہتے رکی۔
“مگر کیا؟۔”
“مگر میں آپ کے ساتھ ناشتہ کرنا چاہتی ہوں۔” نجانے یہ نئی اور دل خوش کردینے والی خواہش اس کے من میں کب جاگی تھی۔ ساویز نے خوشگوار حیرت سے اسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔۔ جیسے بےیقین ہو۔۔ خود پر یا اس کے جملے پر۔۔ غنایہ نے نگاہ جھکا لی۔ وہ اس سے کیوں کہے کہ ساویز اب اس کے لیے اہم بنتا جا رہا ہے۔۔ وہ کیوں کہے کہ اب غنایہ اسے اجنبی لوگوں میں شمار نہیں کیا کرتی۔
“میرے ساتھ؟۔”
“ہاں۔” وہ ہنس دی۔
“تم مجھے بار بار اپنی باتوں سے چونکنے پر مجبور کر رہی ہو۔۔ اور اب تو مجھے لگنے لگا ہے جیسے یہ حقیقت سے دور ایک خواب ہو!۔” بھاری گھمبیر آواز غنایہ کے کانوں میں رس گھول گئی۔
“میرا بس دل چاہ رہا ہے کہ ہم ناشتہ ساتھ کریں۔”
“مجھے تو یاد بھی نہیں آخری بار ہم نے ساتھ ناشتہ کب کیا تھا۔” ساویز اٹھ کھڑا ہوا۔
“تو کیا آج ہم ناشتہ ساتھ کریں؟۔” اس کی آنکھیں چمکیں۔
“میں ایسا ہی چاہتا ہوں مگر۔۔” وہ لمحے بھر کو ٹھہرا۔ “تمہاری نیند پوری نہیں ہوئی اور مجھے سو فیصد یقین ہے کہ ناشتے کے بعد تم سونے کے بجائے پھر پڑھنے بیٹھ جاؤ گی۔ اس لیے چاہتا ہوں کہ تم سو جاؤ غنایہ! ہم کل ناشتہ ساتھ کریں گے۔” اس کے ہاتھ کی پشت پر اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ قدرے محبت سے بولا۔ غنایہ کی مسکراہٹ دھیمی ہوئی۔
“کیا آپ واقعی ایسا چاہتے ہیں؟ اچھی بیویاں ایسی تو نہیں ہوتیں۔ آپ آفس کب جاتے ہیں مجھے اکثر پتا نہیں چلتا۔ ناشتہ کیا یا نہیں! کچھ علم ہی نہیں ہوتا۔ مگر میں اب آپ کا خیال رکھنا چاہتی ہوں ساویز۔” اس کے اندر یہ تبدیلی بہت الگ اور بے حد خوبصورت تھی۔ اب بھلا کون مان سکتا تھا کہ یہ وہی غنایہ ہے جو سب سے زیادہ اپنے شوہر سے خوف کھایا کرتی تھی۔ فرش پر کھڑے ہوتے ہوئے اس نے چپلوں میں پیر اڑسے۔
ساویز نے دونوں شانوں سے اسے تھام کر اپنے بے حد قریب کیا۔
“تم ایک اچھی بیوی ہو غنایہ! یہ جانتے ہوئے بھی میں کیوں بے حس ہوجاؤں کہ تمہارے امتحانات قریب ہیں اور تم تیاری میں مشغول ہو۔۔ پھر میں تم سے کیوں کہوں کہ میرے لیے اٹھو اور میرے آفس جانے تک جاگی رہو! اگر ایک اچھی بیوی ہونا ضروری ہے تو ایک اچھا شوہر بننا ضروری نہیں؟۔” وہ اسے چھوٹی لڑکی کی طرح محسوس ہوتی۔ جو کسی معصومیت سے اسے پکارا کرتی تھی۔۔ خیر وہ اس سے چھوٹی تو تھی ہی۔۔ آٹھ سال چھوٹی۔۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اس کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھتا تھا۔
“آپ بہت اچھے ہیں ساویز!۔” اسے یقین نہ آیا کہ ساویز اس کے نصیب کا حصہ ہے۔۔ اتنا خوبصورت حصہ۔۔
یکدم ہی اسے اپنے نصیب پر رشک ہونے لگا۔ سارے دکھوں، غموں کا ازالہ ہونے لگا۔ ہر نماز کے بعد دعا میں اس نے ہمیشہ اللہ سے اچھا نصیب مانگا تھا۔۔ اور اللہ نے اسے ساویز جیسے مرد سے نوازا جو اپنی عورت کی قدر کرنا جانتا تھا۔
اسے یاد تھا کہ نیند سے بھری آنکھوں پر آہستگی سے ہاتھ پھیر کر ساویز نے اسے بستر پر لٹایا تھا۔۔ اس کا یوں مسکرانا غنایہ کو یاد تھا۔ نجانے کب تک وہ بالوں پر ہاتھ پھیرتا رہا تھا، وہ محسوس کرتی رہی تھی۔۔ اور نیند کی وادیوں میں اترنے سے پہلے اس نے ایک سوال کیا تھا۔
“آپ نے کہا تھا کہ اپنے بابا کو شادی کا بتادیں گے۔ کیا آپ نے بتادیا؟۔” نجانے یہ سوال اس کے ذہن میں اچانک کیوں ابھرا تھا۔
“میں نے انہیں کچھ نہیں بتایا غنایہ۔۔ اگر میں انہیں بتادوں تو شاید ایک قیامت آجائے۔” وہ ہنس کر گویا ہوا تھا۔ “مگر تم فکر مت کرو۔ سب ٹھیک ہوگا۔” یہ آخری جملہ تھا جو غنایہ نے سنا تھا۔ نیند حاوی ہونے لگی اور وہ اب مطمئن تھی۔
(اس قسط کے تین پارٹس ہیں جن میں سے ایک پوسٹ کردیا گیا ہے۔۔ دوسری ایپوسوڈز کے مقابلے میں یہ قسط زیادہ بڑی ہے)
