Tu Dil Se Na Utar Saka By Ayna Baig Readelle50173 Episode 1 ( pt.2)
No Download Link
Rate this Novel
Episode 1 ( pt.2)
تو دل سے نہ اتر سکا
از عینا بیگ
پہلی قسط (دوسری پارٹ)
“تم کتنی پیاری ہو!۔” دونوں ہتھیلیاں ٹھوڑی پر ٹکائے وہ مبہوت ہوئی اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کی بات سن کر کچھ ہی فاصلے پر بیٹھی لڑکی مسکرادی۔
“تم بھی پیاری ہو سکتی ہو۔” پونی اتار کر نئے سرے سے خوبصورت بال بنائے گئے تھے۔ بیگ سے پاؤڈر اور ہلکی ہلکی سرخی نکال کر لگائی گئی تھی۔ اسکول کی چھٹی ہوئے دس منٹ ہوچکے تھے مگر وہ دونوں ابھی بھی اسکول میں تھے۔
“تم نے اپنے بال کتنے اچھے سے بنائے ہیں سومیہ!۔” اس کی تعریف کرنے کے بعد روما خود کو اس کی سرخی والی ڈبی کی آئینے میں دیکھا۔ “اماں مجھے ایسے کبھی بال کھول کر اسکول نہ بھیجیں حالانکہ مجھے تمہاری طرح خوبصورت دکھنا بہت پسند ہے۔” اسے اماں کا کس کر پونی بنانا یاد آیا۔
“میری اماں کو بھی نہیں پسند لیکن مجھے دیکھو! میں بریک ٹائم میں اپنے بالوں کے اسٹائل بدل لیتی ہوں۔” ناز سے بتایا گیا۔
“جلدی بھی کرو! اتنا لیٹ ہونے پر میرو مجھ پر غصہ ہوگا۔”
“تمہارا بھائی کتنا ہینڈسم ہے! کاش کہ وہ مجھے پسند کرلے۔” سفید پاؤڈر بار بار چہرے پر لگاتے ہوئے اس کی رنگت ہی بدل گئی تھی۔ روما کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی۔
“اس کے نزدیک تم میری طرح ایک چھوٹی چودہ سال کی لڑکی ہو۔” خود ہی ہنس کر بتایا گیا۔
“تو کیا ہوا بھلا؟ جوڑے آسمان پر بنتے ہیں! مجھے لگتا ہے میرو مجھے پسند کرتا ہے۔” چہرہ حیا سے سرخ ہوگیا۔
“کاش کہ تم میری بھابھی بن جاؤ!۔” وہ اسے حسرت سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔
“تمہارے بھائی کی زندگی میں کوئی اور لڑکی تو نہیں ہے نا روما؟۔” یکدم یاد آیا تو صدمے سے پوچھا گیا۔
“نہیں خدا نہ کرے! میں میرو پر کڑی نگاہ رکھتی ہوں۔ وہ کسی کو پسند نہیں کرتا۔ بہن ہونا بھی کتنا مشکل ہے! بھائیوں پر نظر رکھنی پڑتی ہے اور تو اور میں اس کے رشتے کے لیے پریشان ہوں۔ اففف!!!۔” بےحد جذباتی طور پر ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے وہ اپنی ذمہ داریاں سنا رہی تھی۔
“تم اس سے میرے بارے میں پوچھنا کہ میں اسے کیسی لگتی ہوں۔” سومیہ کی آنکھیں چمکیں۔
“ٹھیک ہے مگر ابھی جلدی کرو۔ میں نے اسے صرف تمہاری خاطر بہانہ کر کے اسکول بلوایا ہے ورنہ اس کے باس بہت غصے والے ہیں۔ اب بھلا بتاؤ! مینجر ہونا آسان تھوڑی ہوتا ہے۔” وہ بیگ اٹھا کر کندھوں پر لٹکانے لگی۔
“اوہ میرو! اسے میری وجہ سے پریشانی ہوئی ہوگی۔” سومیہ کا چہرہ یکدم اداس ہوا۔ وہ بیگ جلدی سے پہنتی اس کے ہمراہ اسکول سے باہر نکلی۔ سڑک پر طالبات کی وجہ سے کافی رش تھا۔ دور قطار سے اسکول بس کھڑی تھیں جس میں بچے بیٹھ رہے تھے۔ وہ میرو کو تلاش کرنے لگی۔
اسکول کی عمارت سے کچھ دور اپنی سیاہ گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا میرو روما کو دیکھ رہا تھا جو ارد گرد نگاہیں دوڑا کر اسے ہی ڈھونڈ رہی تھی۔ ایک ہاتھ اوپر کرکے اس نے دور سے ہی اشارہ دیا۔ روما نے خوشی سے اسے ہاتھ ہلایا۔ میر کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔
“وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہا ہے روما۔۔” سومیہ نے میر کو وثوق سے دیکھتے ہوئے روما کے کان میں سرگوشی کی۔ چہرہ یکدم شرم سے سرخ ہوگیا اور وہ نظریں جھکا گئی۔ دور کھڑے میر کو اس کا یہ انداز عجیب لگا۔
روما کا دل چاہا زور سے ہنس دے۔ اب بھلا وہ اسے کیسے بتائے کہ میرو سومیہ کو نہیں بلکہ اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ سومیہ کا یوں بار بار شرم سے اس کو دیکھنا میر کو حیران کرنے لگا۔ وہ اسے عجیب سی نظروں سے تک رہا تھا جیسے کچھ سمجھ نہ پارہا ہو۔
“اچھا اب میں چلتی ہوں۔ اسے آفس بھی جانا ہے۔” اسے خدا حافظ کہتی وہ میر کی جانب تقریباً بھاگتے ہوئے آئی تھی۔ ہاتھ ملانے کے بجائے سیدھا اسے کس کر گلے لگایا۔
“ہزار بار کہا ہے یوں پبلک پلیس میں اتنا چپکا مت کرو۔” ماتھے پر بل ڈالتا ہوا وہ اسے خود سے دور کرتا ہوا بولا۔
“میں نے بھی تم سے ہزار بار کہا ہے کہ یوں مجھے خود سے الگ مت کیا کرو۔ تم بلکل اچھے نہیں میرو!۔” بیگ اس کے ہاتھوں میں پھینکتی دوسری طرف سے اپنی سیٹ پر جا بیٹھی۔ “چلو آؤ اب گول گپے بھی کھانے ہیں۔” بےفکری سے بتایا گیا۔ وہ چونک اٹھا۔
“کیا کہا؟۔” ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھتے ہوئے پچھلی سیٹ پر اس کا بیگ رکھا۔ “تم پہلے یہ بتاؤ اتنی لیٹ کیوں باہر آئی تھی؟ جانتی ہوں میں کب سے کھڑا ہوں؟۔” دونوں آنکھیں اس پر جما کر کچھ گھورتے ہوئے پوچھا گیا۔ روما گاڑی کا بیک مرر اپنی طرف گھما کر بال ٹھیک کرنے لگی۔ پندرہ سال چھوٹی بہن کے ناز نخرے بلکل پچیس سالہ لڑکی کی طرح تھے۔
“میں تو پہلے ہی باہر آرہی تھی مگر وہ ہے نا سومیہ!۔” بہانہ سوچا گیا۔ “اس نے کہا تھا کہ مجھے تمہارے بھائی کو دیکھنا ہے تو میں نے سوچا کیوں نہ اس کی خواہش پوری کردی جائے۔” اب کسی طرح تو سومیہ کی باتیں اس کے کان میں ڈالنی تھیں۔
“بہت عجیب طریقے سے دیکھ رہی تھی مجھے تمہاری دوست۔”
گاڑی اسٹارٹ کر کے وہ روڈ پر لے آیا۔
“تمہیں اس کا یوں دیکھنا کیسا لگا؟۔” جلد بازی میں کچھ غلط بول بیٹھی۔
“کیا مطلب؟؟۔” میر نے آنکھیں پھاڑیں۔
“ن۔نہیں میرا مطلب یہ کہ وہ تمہیں کیسی لگی؟۔” بات کو بمشکل موڑا گیا۔
“ہاں اچھی بچی ہے۔ پڑھائی کیسی جا رہی ہے تم دونوں کی؟ یاد رہے کہ بورڈ کا پہلا سال ہے۔ دل لگا کر پڑھو گے تو اچھے نمبروں سے پاس ہوگے۔”
“یہاں سے سیدھے ہاتھ پر موڑ لینا گول گپے والے کا ٹھیلہ ہے۔” اس کی بات کو پل بھر میں رد کرتے ہوئے وہ اسے حکم دینے لگی۔ میر اسے بھنویں اچکا کر دیکھتا رہ گیا۔ اس کی بات کی تکمیل کرتے ہوئے وہ گاڑی موڑنے لگا۔ روما کو ہینڈل کرنا ہی بہت بڑا کام تھا جسے وہ تن تنہا انجام دیتا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
آج اتوار کا دن تھا۔ اسے میر سے ملنے جانا تھا اس لیے حسبِ معمول جلدی اٹھ گیا تھا۔ کمرے کی کھڑکیاں کھول کر اندر آتی دھوپ کو کمرا روشن کرنے کی دعوت دی گئی۔ وارڈروب سے سیاہ ہائینک اور کالی پینٹ نکال کر وہ کپڑے تبدیل کر آیا۔ اسے خوشی تھی کہ کم از کم وہ آج وجاہت سلطان کی وجہ سے اپنا سکون برباد نہیں کرے گا۔ ہاتھ میں گھڑی پہن کر اس نے خود پر پرفیوم چھڑکا۔
موبائل پر آتی کال نے اس کی ساری توجہ اپنی جانب کھینچی۔ میر کی کال سمجھ کر اس نے موبائل اٹھا کر نام پڑھا۔ چہرے کے زاویے بدلے۔ وہ پل بھر میں بےسکون ہوا۔
“ہیلو؟۔” اس نے گھمبیر آواز میں کچھ گرفت سے کہا۔
“جانتے ہو جان کا خطرہ ہے پھر بھی بہادری سے بغیر سیکیورٹی کے گھومتے ہو؟ ماننا پڑے گا۔” اس کی بھاری آواز اور ہنسی ساویز کے کانوں میں چبھی تھی۔
“تم چاہتے ہو میں تمہارے خوف سے سیکورٹی رکھوں؟۔” ایک آئبرو آچکا کر اس نے خود کو آئینے میں دیکھا۔
“مجھ سے نہیں ساویز! اپنے کیے گئے جرم سے ڈر کر سیکورٹی رکھو۔۔ ان چھ ماہ میں تمہاری وجہ سے پستول میرے ہاتھ کی زینت بن چکی ہے۔” دانت پیس کر باور کروایا گیا۔ ساویز گہری سانس خارج کی۔
“جو جرم میں نے کیا ہی نہیں اس کا خوف کیسا؟۔” یہ چھ ماہ ساویز کو بھی اندر سے کھا گئے تھے۔ اس کا دوست دشمن بنا بیٹھا تھا۔
“تمہارے بارے میں سوچتا ہوں تو ماضی یاد آنے لگتا ہے۔ تم نے بےمثال دوستوں کی فہرست سے نکال کر دشمنوں کی فہرست میں لکھ دیا۔۔ جس پر اعتبار کیا اس نے ہی دنیا اجاڑ دی۔” غم و غصے کی کیفیت اس پر حاوی تھی۔
“تم چاہتے ہو یہ الفاظ دوبارہ دہراؤں کہ وہ قتل میرے ہاتھوں نہیں ہوا تھا؟۔” ساویز نے مضبوطی سے کہا۔
“میرے جینے کا سہارا قتل کر ڈالا۔” لہجہ عجیب سا ہونے لگا تو آواز مزید بھاری ہوگئی۔ “اس رات۔۔ اس رات تم وہاں پر موجود تھے۔”
“وہ رات میں نے اپنے گھر پر گزاری تھی وجاہت۔” نجانے اسے مزید اور کتنی صفائیاں دینی تھیں۔ “تمہارے اپنے ہی تم پر وار کر رہے ہیں۔” اس کا اشارہ وجاہت کے آدمیوں کی جانب تھا۔
“میں تمہیں اتنی اذیت دوں گا کہ ایک وقت آئے گا کہ تم مجبور ہوجاؤ گے۔۔ اور وجاہت سلطان اس وقت کا انتظار کرے گا۔ وہ لڑکی میرے لیے کیا تھی تم سب جانتے تھے۔ اب وجاہت پہلے کی طرح نہیں مسکراتا۔ اب وہ اس لڑکی کے قتل کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔ میری مجبوری کی حد دیکھنا چاہتے ہو؟ یہ جان کر بھی کہ تم قاتل ہو میں تمہیں قتل نہیں کر پارہا۔ شاید اس لیے کہ یہ دل تمہیں اب بھی دوست کے نظریے سے دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ شاید یہ سب خواب ہو۔”
ساویز نے آنکھیں کھڑکی کے باہر کی۔ دھوپ آنکھوں پر پڑی تو بھوری آنکھیں چمکنے لگیں۔
“ہم اب بھی دوست ہیں۔ ایک بہترین دوست! مگر تمہاری غلط فہمی ہمیں آج یہاں تک لے آئی۔ مجھے یقین ہے تم ایک دن پچھتاؤ گے میرے یار! تم سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ میں نے آج تک ہر عورت کی عزت کی ہے۔ یہ غلط فہمی بھی جلد مٹ جائے گی۔ اس لڑکی سے مجھے کوئی غرض نہیں تھا کہ میں اسے قتل کردیتا۔ کیا ہو اگر تمہیں سچ پتا چل جائے کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔۔ پھر؟ میں اب مزید تمہیں اپنے کردار کی صفائیاں نہیں دوں گا مگر ہاں وجاہت! میں تمہیں اجازت دیتا ہوں۔ مجھے ماردو! اگر تمہیں لگتا ہے کہ سکون اس میں ہے تو آؤ! مجھے شوٹ کردو۔ مگر گولی میری پشت پر چلانا تاکہ میں تمہارا چہرہ نہ دیکھ سکوں۔ دوستوں کا کیا وار میں سہنے کی ہمت رکھتا ہوں۔” اس کا لب و لہجہ وجاہت کے برعکس نرم تھا۔ دوسری طرف طویل خاموشی چھا گئی۔ تھوڑی دیر بعد ساویز نے موبائل کان سے دور کر کے رابطہ چیک کیا۔ وہ کال پر ہی تھا۔ ساویز کی باتیں اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گئی تھیں۔ ساکت چہرہ اور سپاٹ آنکھوں کی پتلیاں گویا ٹھہر گئی تھیں۔ اگر اسے مارنا آسان ہوتا تو وہ یہ کام چھ ماہ قبل ہی کر چکا ہوتا۔ اس کا دل پتھر ہوچکا ہوتا اگر ساویز اس کا یار نہ رہ چکا ہوتا۔ عجیب کشمکش سی پیدا ہونے لگی۔۔ وہی ایک خدشہ! وہی ڈر کہ اگر وہ شخص ساویز نہ ہوا تو؟ دل ڈوبنے لگا۔ اس کی باتیں وجاہت کے ذہن میں وہی سوالات اٹھا گئیں جو وہ تنہائی میں خود سے پوچھا کرتا تھا۔
ساویز نے کان سے موبائل دور کر کے کال کاٹنی چاہی۔ یہ خاموشی کافی طویل ہوگئی تھی۔ یہ سوچ کر کہ اسے اب کال کاٹ لینی چاہئیے، وجاہت کال کاٹ چکا تھا۔ ساویز بےچارگی سے نفی میں سرہلاتا موبائل جیب میں رکھتا ہوا دروازے سے باہر نکل گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“تمہارا کمرا اتنا بکھرا ہوا کیوں ہے؟۔” دونوں ہاتھ کمر پر ٹکاتی وہ ہمیشہ کی طرح اس کے اپارٹمنٹ کا جائزہ لے رہی تھی۔
“ایک کام والی کا انتظار کر رہا تھا کہ وہ آئے اور میرا کمرا صاف کر جائے۔” فریج سے گوندھا ہوا آٹا نکال کر وہ سلیپ پر رکھا۔ یہ آٹا اس نے آدھے گھنٹے پہلے ہی بہت مشکل سے گوندھا تھا۔ پراٹھے، روٹیاں اس نے کبھی اپنے لیے بھی نہیں بنائیں مگر روما جب بھی اس کے اپارٹمنٹ آتی، اس کے ہاتھ کے بنے پراٹھے لازمی کھاتی تھی۔۔
“وہ کب آئے گی؟ کمرا تو بہت زیادہ بکھرا ہوا ہے میرو!۔” اسے میرو کی ماں بننے کا ہمیشہ سے شوق تھا اور وہ یہ شوق ابھی بھی پورا کر رہی تھی۔
“آگئی ہے اور میرے سامنے کھڑی ہے۔” اس نے روما کو دیکھا۔ “اب جاؤ میرا کمرا صاف کرو جب تک میں پراٹھا بنا رہا ہوں۔” سفید صاف ستھرا ایپرن پہن کر وہ اب باقاعدہ آٹا بیل رہا تھا۔ دونوں ہاتھ آٹے سے خراب ہوگئے تھے۔ رخسار پر جگہ جگہ خشکی لگی ہوئی تھی۔
“اگر تم میرو نہ ہوتے تو اب تک میں تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر چکی ہوتی۔” ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے دانت کچکچا کر کہا گیا۔ میر جواباً کھل کر مسکرا دیا۔
“میں ناشتے کے بعد تمہارا کمرا صاف کردوں گی۔” اس کی طرف سے جواب نہ پا کر وہ میرو کو ناراض سمجھنے لگی۔ میر نے چونک کر اسے دیکھا۔ وہ پل بھر میں سمجھ گیا تھا کہ اس نے اچانک یہ کیوں کہا۔
“ہاں ٹھیک ہے۔” کندھے اچکا کر اطمینان دلایا گیا۔ وہ اس کے نزدیک آئی۔ بانہیں پھیلا کر میر کو سختی سے پکڑا اور اپنا سر اس کے سینے پر ٹکالیا۔
“ناراض نہیں ہوتے میرو!۔” محبت سے تاکید کی گئی۔ میر نے ایک آئبرو آچکا کر ڈھیروں حیرت سے اسے دیکھا۔
“میری ماں بن کر مجھے نصیحتیں نہیں کیا کرو۔ دور ہٹو میں کام کر رہا ہوں ورنہ یہ آٹے والے ہاتھ چہرے پر لگادوں گا۔” مصنوعی رعب دکھاتے ہوئے وہ آنکھیں سکیڑ کر بولا۔
“لگادو۔۔ میں صاف کرلوں گی۔” روما اس کے سینے پر سر رکھ اب آنکھیں موند چکی تھی۔ میر نے گہری سانس بھر کر بیلا ہوا پراٹھا توے پر ڈالا۔
“ناشتہ کر کے کتابیں نکال لینا۔ کمرے کی صفائی میں کردوں گا۔” وہ کسی طور اس سے دور ہٹنے کو تیار نہیں تھی۔ نرمی سے کہتا وہ کچھ جھک کر اس کا ماتھا چومنے لگا۔
“تم بلکل اچھے نہیں میرو!۔” وہ یہ جملہ اسے تب ہی بولتی جب وہ اسے حد سے زیادہ اچھا لگا کرتا تھا۔ روما دل میں سوچنے لگی کہ اپنے بھائی کو کیسے بتائے کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتی ہے۔
“ہاں میں جانتا ہوں۔” وہ ہنس پڑا۔ روما نہ بھی کہے مگر وہ ان الفاظوں کے پیچھے کا راز سمجھ جاتا تھا۔
“میری ہمت کو داد دینی چاہئیے۔ میں تمہارے ہاتھ کا بدذائقہ پراٹھا کھاتی ہوں۔” وہ ہنس کر دور ہٹی۔
“اگر اتنا ہی بدذائقہ ہے تو اتنے شوق سے کیوں کھاتی ہو؟۔” پل بھر میں وہ میر کا دل جلا گئی تھی۔
“اب بھائیوں کا پھیلایا ہوا رائتہ تو بہنوں کو ہی صاف کرنا پڑتا ہے نا۔۔ تم بےفکر رہو میرو! میں کسی کو نہیں بتاؤں گی کہ تم جلا ہوا، سیاہ اور بدذائقہ پراٹھا بناتے ہو۔” اس کا پراٹھا اتنا بھی برا نہیں تھا جتنا وہ اپنی باتوں میں بتا رہی تھی۔ میر نے اس کے آگے ناشتہ رکھا۔
“ناشتہ پورا کرنا۔ اماں نے بتایا تھا کہ تم نے کل رات بھی کھانا نہیں کھایا تھا۔” موبائل پر دوست کے میسجز کا جواب دیتے ہوئے وہ دھیمی آواز میں بولا۔
“تمہارا ہینڈسم والا دوست کب آئے گا؟۔” پراٹھے کا لقمہ منہ میں ڈالتے ہوئے پوچھا گیا۔
“میں شاور لینے جا رہا ہوں۔ ساویز آنے ہی والا ہوگا۔” موبائل وہیں میز پر رکھتے ہوئے وہ اندر کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد روما نے مڑ کر میر کے کمرے میں جھانکا تھا۔ وہ وہاں کہیں نہیں تھا۔ واشروم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔ لبوں پر مسکراہٹ پھیلا کر اس نے میر کے موبائل کو دیکھا۔
“کہیں واقعی میرو کی زندگی میں کوئی لڑکی تو نہیں!۔” وہ اب موبائل کی گیلری کھول کر تصویروں کی تلاشی لے رہی تھی۔ روما سوچنے لگی کہ اگر واقعی کسی لڑکی کی تصویر نکل آئی تو سومیہ کا دل ٹوٹ جائے گا۔ کافی دیر تک تصویروں کی تلاشی لینے پر اس کی آنکھوں کے سامنے ایک لڑکی کا چہرہ آیا۔ وہ چونک اٹھی۔ اس نے تصویر کی تاریخ پڑھی تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ تصویر شاید کافی سال پرانی رکھی ہوئی تھی۔ روما کو شدید صدمہ لگا۔ تصویریں ڈھونڈتے ہوئے وہ کتنی آگے نکل چکی تھی۔
“یہ لڑکی کون ہے۔” خوبصورت چہرے والی لڑکی اپنی چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ زرد ڈوپٹہ کاندھوں پر تھا اور بال کھول کر شانے پر پھیلے ہوئے تھے۔ ہونٹوں کے پاس کنارے پر سیاہ تل تھا۔
“یہ کتنی پیاری ہے۔” اس کی آنکھیں تصویر پر ٹھہر سی گئی۔ مڑ کر ایک نظر واش روم کے بند دروازے کو دیکھا گیا۔
“ہائے اللہ سومیہ! کہیں یہ تمہاری سوکن نہ بن جائے۔” اس چودہ سال کی چھوٹی لڑکی کو اپنے انتیس سال کے بھائی کی شادی کی بےحد پرواہ تھی۔ روما کے مطابق میرو کی شادی اس کی دوست سومیہ سے ہونی چاہئیے۔ اس نے تصویر کی تاریخ سے آج کی تاریخ کا موازنہ کیا۔
“پانچ سال پرانی تصویر!!۔” وہ چونکی۔ ابھی مزید کچھ سوچتی کہ بیل بج اٹھی۔ موبائل وہیں رکھ کر وہ دروازہ کھولنے دروازے تک پہنچی۔
“کون ہے؟۔” اس نے دروازے کے پار پوچھا۔
“تمہارا ہینڈسم والا بھائی!۔” ساویز کی آواز پر خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے دروازہ کھولا۔
“ہم آپ کا انتظار کر رہے تھے۔” اس کے ہمراہ وہ چلتے ہوئے اندر آئی۔ پلیٹ میں رکھا آدھا پراٹھا اس نے میر کے کچن میں ہی کہیں غائب کردیا تھا۔
“اوہ تو روما بھی میرا انتظار کر رہی تھی؟۔” خوشگوار حیرت کا اظہار کرتے ہوئے وہ صوفے پر بیٹھ گیا۔
“میرو نے کہا تھا آپ مجھے ریاضی کے کچھ سوالات سمجھا دیں گے۔” وہ اسے ہمیشہ کی طرح اچھا لگا۔ سیاہ پوری آستینوں والی ہائینک کے ساتھ کالی پینٹ۔۔ چہرہ تروتازہ اور ہشاش بشاش تھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میز پر رکھیں روما کی کتابیں اٹھائیں۔
“مجھے لگا تم کمرے میں آؤ گے۔” تولیے سے سر صاف کرتے ہوئے میر وہاں آیا تھا۔
“تم نے میرے لیے غلطی سے کمرا صاف تو نہیں کرلیا تھا؟۔” ساویز نے جان بوجھ کر حیرانی والی تاثرات دیے۔
“نہیں میں سوچ رہا تھا اگر تم کمرے میں آجاتے تو کچھ سمیٹ لیتے۔”
ساویز نے اسے ایک آئبرو اچکا کر دیکھا۔ اپنے اپارٹمنٹ آئے ہر شخص سے اس کا ایک ہی اظہار ہوتا تھا۔
“آپ فکر مت کریں ساویز بھائی۔ یہ ہر کسی کوئی یہی بولتا ہے۔” اسے لگا جیسے ساویز میر کو غصے سے دیکھ رہا ہو۔ کہیں ان کی دوستی ٹوٹ نہ جائے مگر وہ یہ نہیں جانتی تھیں کہ پرانی یاریاں ختم کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ ساویز اور میر دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے۔
“پہلے آؤ تمہیں پڑھاؤں تاکہ پھر سکون کا سانس لے سکیں۔” قہقہے لگا کر کہتے ہوئے سیدھا ہو کر بیٹھا۔ روما اسے بےحد وثوق سے دیکھ رہی تھی۔ وہ اب اس کی کتاب دیکھ رہا تھا۔ مسکراتا چہرہ سنجیدہ ہوگیا تھا اور روما کے لبوں پر اب تک مسکراہٹ تھی۔ اس کی پرسنلٹی روما کو ہمیشہ بھاتی تھی۔ میر تیار ہو رہا تھا مگر وہ صرف ساویز کو دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ کاش وہ بھی میر کی طرح اس کا سگا بھائی ہوتا۔ تھوڑی ہی دیر میں ساویز نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔
“یہ سوال تم نے غلط کیا ہے روما۔ جو فارمولا تم نے استعمال کیا ہے اسے لکھنے میں تم نے کچھ غلطی کردی تھی جس کی وجہ سے پورا سوال غلط ہوگیا۔” وہ اب اسے سوال سمجھا رہا تھا جبکہ میر نے کچھ دور آئینے کے عکس میں انہیں دیکھا۔ وہ شکر کرنے لگا کہ بلآخر وہ پڑھ رہی ہے۔ ایسا ہی ہوتا آیا تھا۔ امتحان روما کے ہوتے تھے اور ٹینشن میر کو ہوتی تھی۔ ذرا سا مسکراتے ہوئے وہ کلائی پر گھڑی باندھنے لگا۔۔ آج اس کے اپارٹمنٹ میں چھوٹی موٹی رونق لگی تھی اور یہ کتنا اچھا محسوس ہوتا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“تم اتنی بجھی بجھی کیوں ہو؟۔” وہ غنایہ کے لیے لائے کافی سارے تحفے دکھا رہی تھی۔
“نہیں ایسا تو نہیں!۔” پکڑ جانے کے خوف سے وہ یکدم گھبرا گئی۔ عاشی نے اس کے تاثرات نوٹ کیے۔
“باصم کا کوئی معاملہ ہے؟۔” ایک آئبرو اچکا کر پوچھا گیا۔ غنایہ کا دل گھبرانے لگا۔ اسے یاد تھا جب پانچ مہینے پہلے اس نے باصم کے بارے میں عاشی کو بتایا تھا تو اس نے تائی اماں کے گھر جا کر کتنا ہنگامہ کیا تھا اور باصم کو طرح طرح کی دھمکیوں سے نوازا تھا۔۔ اس سب کے بعد غنایہ نے اسے باصم کے بارے میں کچھ بھی بتانا ٹھیک نہ سمجھا۔
“نہیں میں ٹھیک ہوں۔” مخروطی انگلیاں مسلتے ہوئے وہ خود پر بمشکل قابو کر پا رہی تھی۔
“کون آیا ہے؟۔” عاشی کو باہر سے ابا کی آواز آئی۔ اس کے کان کھڑے ہوئے۔ غنایہ نے اس کی پلکوں کو دیکھا جو لمبی اور گھنی تھیں۔
“بیٹی آئی ہے۔” عفت کی آواز آئی۔
“کیوں؟۔” نجانے انہوں نے ایسا کیوں کہا۔۔
“آئی ہوں لیکن چلی جاؤں گی اس لیے آپ فکر مت کریں۔” باپ بیٹی کے درمیان کوئی نہ کوئی بحث چھڑی ہی رہتی تھی۔ عاشی کے ماتھے پر گہرے بل نمودار ہوئے۔ غنایہ اور اس میں سات سال کا فرق تھا۔۔ وہ اکیس سال کی تھی جبکہ عاشی اس سال اٹھائیس کی ہوئی تھی۔ سات سال کا ایک اچھا فرق تھا۔
عاشی باہر سے آتی مزید آوازوں کو سننے لگی۔ خوبصورت رنگ و روپ والی وہ بظاہر بےحد پرکشش اور خوبصورت لڑکی تھی۔
“تم کیوں ہر بات کا جواب دیتی ہو عاشی؟۔” اس نے بہن کو سمجھانا چاہا۔ اپنے گھنے سیاہ بالوں کو جوڑے میں قید کر کے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ منہ پر پانی مار کر ہلکی دھوپ کی روشنی میں غنایہ نے خود کو آئینے میں دیکھا۔ دھوپ آنکھوں پر پڑی تو آنکھیں چندھیا سی گئیں۔ بالوں کو نئے سرے سے کھول کر اب وہ انہیں سلجھا رہی تھی۔ اس کی کھلتی سفید رنگت دھوپ میں چمکنے لگی۔ آنکھوں کا رنگ مزید ہلکا ہوگیا۔
“نجانے انہیں مجھ سے کیا بیر ہے۔ میں ان کی طرح ڈر ڈر کر زندگی بلکل نہیں گزارنے والی اس لیے جو مسلہ ہوا کرے تم مجھ سے ضرور شئیر کیا کرو۔ میں اسے سلجھاؤں گی۔” اس نے اپنی گاڑی کی چابی غنایہ کی سنگھار میز سے اٹھائی۔
“میں چلتی ہوں۔ مزید یہاں رہی تو پاگل ہوجاؤں گی۔ آج کی چھٹی میں آفس کے کافی سارے ادھورے کام مکمل کرنے ہیں اس لیے میں زیادہ وقت یہاں نہیں بیٹھ سکتی۔ اپنا خیال رکھنا۔” آئینے میں خود کو ایک بار دیکھتی ہوئی وہ اس کے گلے لگ کر باہر کی جانب بڑھ گئی۔ غنایہ نے دکھ بھری گہری سانس اندر کھینچی۔ قدم بڑھا کر وہ کھڑکی تک آئی تھی۔ کمر سے نیچے تک بال کھل کر شانوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ دونوں ہاتھ کھڑکی پر جما کر وہ اب باہر دیکھنے لگی۔ موسم کافی خوش گوار تھا مگر دل کا موسم جان لے رہا تھا۔ روشن کمرے میں کھڑکی سے اندر آتی ہوا دل کو بھانے لگی۔ اس نے آخری بار عاشی کو جاتے دیکھا۔ عاشی نے اوپر دیکھ کر اسے رات میں کال کرنے کا اشارہ کیا تھا جس پر غنایہ فقط مسکرائی تھی۔ وہ بہن کو کیسے بتائے کہ محض کال کرنا کافی نہیں ہوتا۔ دل کے حال یوں سنائے نہیں جاتے۔۔ بے چینیاں سکون چھین لیتی ہیں۔ عاشی کی گاڑی اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئی تھی مگر وہ اب بھی ویسے ہی کھڑکی پر رکھے بازؤں میں سر ٹکائے باہر دیکھ رہی تھی۔۔ اس امید پر کہ شاید ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا اور وہ پہلے کی طرح پھر سے کِھلے گی۔۔۔
۔۔۔★★★۔۔۔
