Tu Dil Se Na Utar Saka By Ayna Baig Readelle50173

Tu Dil Se Na Utar Saka By Ayna Baig Readelle50173 Last updated: 18 August 2025

50.3K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Dil Se Na Utar Saka

By Ayna Baig

"نو بجے ہی تیرے بھائی کو اٹھا دیا گیا تھا۔ کیا یہ ظلم تھوڑا تھا؟۔" آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر وہ اب اس کے بستر پر دوسری طرف لیٹا اپنے دکھڑے سنا رہا تھا۔ ایک طرف بستر پر سوتا وجود اس کی باتوں کو ایک بار پھر نیند میں جانے سے قبل سن رہا تھا۔ "تو سن رہا ہے نا؟۔" کافی دیر تک جب اس کا جواب نہ پایا تو گردن موڑ کر اس کے سوتے وجود کو دیکھا۔ بھنویں آپس مل گئیں۔ ہاتھ اٹھا کر زور سے کمر پر ایک جڑ دیا۔ وہ کراہا۔۔ "ہاں سن رہا ہوں۔۔ پھر؟۔" بھاری آواز کمرے میں گونجی۔ ایک آنکھ آدھی کھول کر میرو کو دیکھا گیا جو اب مطمئن نظر آرہا تھا۔ "پھر میں نے سوچا میری نیند خراب ہو ہی گئی ہے تو کیوں نہ تیری بھی خراب کروں۔ اس لیے بغیر ناشتہ کیے تیرے پاس چلا آیا تاکہ کسی اچھے سے ریسٹورینٹ میں جاکر ناشتہ کرسکیں۔" نگاہیں ایک بار پھر چھت کو گھور رہی تھیں۔ اس کی بات پر وہ آنکھیں موند کر لیٹا شخص اٹھ کر بیٹھا۔ "مجھے کہیں نہیں جانا میر! اور اچھا ہوگا اگر تم دوبارہ سوجاؤ کیونکہ آج چھٹی والے دن میں سونے کا موقع نہیں کھونا چاہتا۔" ہاں وہ میر تھا۔۔ کسی کا میر تو کسی کا میرو۔۔ مگر نام میرویس! "پورے ایک ہفتے بعد ملا ہوں تم سے! چلو اٹھو کہیں باہر چلتے ہیں۔" اس کی کمر تھپتھپاتے ہوئے میر بھی اٹھ کر بیٹھ گیا۔ سامنے والے شخص کی آنکھوں میں ڈھیروں غصے جمع تھا۔ چار و ناچار اسے اٹھنا پڑا۔ "تمہیں اٹھانے کا کام کس نے انجام دیا تھا؟۔" وارڈروب سے کالر والی شرٹ نکال کر پہنتے ہوئے اس نے گھور کر پوچھا۔ بال آنکھوں کے آگے آئے ہوئے۔ اس کے بھرے بھرے بازوؤں میں لکیریں نمایاں تھیں۔۔ چوڑے کندھے اور کشادہ سینہ۔۔ "ایک ہی تو میرے دل کا ٹکڑا ہے جو مجھے چین نہیں لینے دیتا۔" گہری سانس بھرتے ہوئے اس نے موبائل سامنے رکھا۔ "روما کا کمال ہے۔" قہقہہ گونجا۔ "پتا نہیں یہ بہنیں بھائیوں کو اس قدر کیوں عزیز ہوتی ہیں کہ ہم ان کی ساری غلطیاں معاف کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں۔ بڑی غلطی چھوٹی لگتی ہے اور چھوٹی غلطی نظر ہی نہیں آتی۔۔" میر کے خیالوں میں روما گھومنے لگی تو وہ بے ساختہ مسکرا دیا۔ "اور جب آپ کی بہن آپ سے پندرہ سال چھوٹی ہو تو پھر آپ اسے صرف بہنوں کی طرح نہیں بلکہ بیٹیوں کی نظر سے بھی دیکھتے ہیں۔ تم جانتے ہو یہ احساس کتنا بھلا معلوم ہوتا ہے۔" لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ قائم تھی۔ "میرے گھر میں کوئی عورت نہیں مگر مجھے اندازہ ہے۔۔ ساویز خانزادہ روما کو اپنی ہی بہن مانتا ہے میر۔۔" لبوں پر مسکراہٹ عیاں ہوئی۔ وہ ایک انداز سے مسکراتا ہوا واش روم سے فریش ہو آیا۔ میر نے گھڑی پر نگاہ ڈالی جو بارہ بجا رہی تھی۔ "بارہ بج گئے!!۔" وہ چونک کر اٹھ کھڑا ہوا۔ "اس کا مطلب ہے میں تمہیں پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے اٹھا رہا تھا؟۔" آنکھیں سکیڑ کر چبا کر کہا گیا۔ ساویز نے شانے اچکائے۔ "یاد ہے آخری بار جب میں تمہیں پک کرنے آیا تھا اور تم سو رہے تھے؟ اپنے تین گھنٹے لگا کر تمہیں کتنی محنت سے اٹھایا تھا۔" اس نے میر کی نیند پر طنز کیا۔۔ میر ڈھٹائی سے ہنس دیا۔ "تاریخ میں لکھا جائے گا کہ میر اتوار کے روز جلدی اٹھا تھا۔" خود ہی اپنی بات پر قہقہہ لگاتا ہوا وہ ساویز کے برابر آکھڑا ہوا۔ اس کی سنگھار میز سے پرفیوم اٹھا کر خود پر چھڑکا تھا۔ وہ دونوں ہی اب اپنی اپنی تیاری آئینے میں دیکھ رہے تھے۔ لمبا قد اور چوڑے شانے۔۔ میر کی سیاہ آنکھوں نے دراز کا رخ کیا۔ "یہ پرفیوم؟۔" کچھ چونک کر نیلی بوتل کو دیکھا۔ "پچھلی بار تو تمہارے پاس نہیں تھا؟۔" "ہاں اس بار سوچا ہے کچھ نیا ٹرائی کروں تو بس اسی لیے لے لیا۔" ساویز آستین کے کف فولڈ کرتا کھڑکی کی جانب آیا۔ دھوپ آنکھوں پر پڑی تو بھوری آنکھیں مزید ہلکی ہوگئیں۔ پردے لگا کر کمرے کو باہر کی روشنی سے محفوظ کرلیا۔ "ہم کس کی گاڑی میں جار رہے ہیں؟۔" وہ جو میز سے گاڑی کی چابی اٹھانے لگا تھا پوچھ بیٹھا۔ "میری۔۔" اس کے سارے پرفیومز خود پر چھڑکتے ہوئے میرویس اب تیار تھا۔ ساویز شرٹ کے بٹن لگاتے ہوئے ایک نظر اسے دیکھ کر باہر کی جانب بڑھ گیا۔ ۔۔۔★★★۔۔۔