61.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7 part 1

تو دل سے نہ اتر سکا از عینا بیگ
ساتویں قسط (پہلا پارٹ)
دوپہر کے دو بج رہے تھے جب وہ کرسی لگا کر اس کے سرہانے بیٹھی ساویز کا چہرہ تک رہی تھی۔
“ساویز۔۔” اس کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ ساویز کو ذرا فرق نہ پڑا۔ وہ اوندھا منہ لیٹا اب بھی گہری نیند میں تھا۔ ساری رات کا جاگا ساویز، آفس کا کام مکمل کر کے صبح دس بجے ہی سویا تھا۔ غنایہ آدھے گھنٹے سے اسے یوں ہی وقفے وقفے سے پکار رہی تھی۔ دس منٹ بعد اس نے کروٹ لینے کے غرض سے ذرا دیر کو آنکھیں کھولی تھیں جب اسے غنایہ کا چہرہ نظر آیا۔
“کیا ہوا؟۔” اسے یوں اچانک اپنے سامنے پاکر وہ فکرمند ہوا۔
“آپ نے کہا تھا جانا ہے۔” انگلیاں مڑوڑی جا رہی تھیں۔ ساویز نیند سے چندھیائی آنکھیں اس کی انگلیوں پر ڈالتا اس کا ہاتھ پکڑ کر ٹھہرنے کو کہا۔
“ایسا مت کرو غنایہ۔”
“تو پھر؟۔”
“کہاں جانا تھا۔” وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
“امی کے گھر۔۔ آپ نے کہا تھا کہ آج کتابیں لینے جائیں گے۔ پھر رات میں مہمان بھی آجائیں گے تو وقت نہیں ملے گا۔” پیشانی پر پریشانی کے بل نمودار تھے۔ ساویز کو خود پر حیرانی ہوئی۔ کیا وہ اتنی دیر تک سو کر اٹھا تھا کہ غنایہ خود اسے اٹھانے آگئی تھی؟۔
“اچھا وقت کیا ہورہا ہے؟۔” پیروں میں چپل ڈالتا ہوا وہ اٹھ کر کھڑا ہوا۔
“دو بج رہے ہیں۔” اس کا کہنا تھا کہ ساویز کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔
“دو؟ دو بج رہے ہیں؟۔” لہجہ حیران و پریشاں تھا۔
“ہاں۔۔ آدھے گھنٹے سے اٹھا رہی ہوں آپ کو ساویز۔۔” کسی دکھ سے بتا کر وہ اس کا چہرہ دیکھنے لگی جبکہ ساویز کو لگا اسے سننے میں ایک بار پھر غلطی ہوگئی ہے۔
یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ وہ دس بجے ہی سویا تھا، غنایہ نے اسے اتنی جلدی اٹھا دیا تھا۔
“میں تیار ہو رہی ہوں۔” مختصر جواب دے کر سنگھار میز کی جانب بڑھی۔ ساویز نے اس کے حلیے ہر غور کیا۔ لان کا نیا سوٹ پہنے وہ ایک دم فریش تھی۔ بال نہانے کی وجہ سے گیلے ہو رہے تھے۔
اس کو اپنا آپ وجدان سا لگنے لگا جو اپنی بیوی کے کہنے پر صبح چھ بجے بھی اٹھ جایا کرتا تھا۔ چاہے صبح کے چھ بجے ہوں یا دوپہر کے دو۔۔ دونوں ہی صورت میں نیند پوری نہیں ہوئی تھی۔ ایک دم خیال کو جھٹکتے ہوئے وہ نیند میں واش روم کی جانب بڑھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“میرو؟۔” اس کی دی گئی ایک ہی آواز پر میرویس کی آنکھ کھلی تھی۔
“ہاں۔” دیوار پر لگی گھڑی سے وقت دیکھتے ہوئے اس نے جواب دیا۔
“تم آدھی رات کو لاونج میں کیوں آئے تھے؟۔” تفتیشی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے وہ بستر پر بیٹھی۔
“میں؟۔” اس کی آنکھیں حیرانی سے پوری کھلیں۔ “میں کب آیا؟۔”
“کل رات تم فریج کے پاس کھڑے تھے۔ مجھے لگا پانی پی رہے ہوگے مگر فریج کا دروازہ بند تھا۔ کیوں آئے تھے رات میں باہر؟۔” لبوں پر شریر مسکراہٹ قائم تھی۔ میرویس کو اچانک ہی یاد آیا۔
“میں پانی پینے ہی آیا تھا مگر گلاس نہ پاکر مڑ گیا۔ تم کیوں جاگ رہی تھی اتنی رات کو؟۔” وہ موضوع جان کر تبدیل کرتے ہوئے ڈپٹنے والے انداز میں اس سے پوچھنے لگا۔
“بات کو کسی اور رخ پر نہ موڑو۔۔ تم نیند میں چل رہے تھے نا رات میں؟؟۔” وہ زور سے ہنسی۔ “پھر میں نے تمہیں جھنجھوڑ کر ہوش دلایا تو تم نیند سے اٹھ کر چونکے اور کمرے میں چلے گئے۔ تم اب بھی نیند میں چلتے ہو۔” وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی اور میرویس شرمندگی سے کچھ کہہ بھی نہ پایا۔
“اچھا بس کرو!۔” گہری سانس خارج کرتے ہوئے وہ اٹھ کر بیٹھ گیا کیونکہ اب دوبارہ نیند آنی ہی نہیں تھی!۔ “میرا موبائل اٹھا کر دو۔” اس نے اپنے لاوارث موبائل کو دیکھا جو بیچارہ اتنی تشدد کے بعد بھی اچھا چل جاتا تھا۔
“اور یہ سامان بھی روز کی طرح نیچے پڑا ہے۔” روما نے باری باری سب کچھ اس کی جانب اچھالا۔ “میں چائے بنا رہی ہوں۔ باہر آجاؤ!۔” ایک نگاہ اس پر ڈالتی وہ باہر نکل گئی۔ میرویس شرمندگی سے تکیے پر مکا مارتا ہوا اٹھ کر کھڑا ہوا۔ موبائل کھول کر موصول ہوئے میسجز کو چیک کرتے ہوئے وہ سنگھار میز کی جانب بڑھ رہا تھا جب ایک نوٹیفکیشن پر وہ ٹھٹکا۔ عشنا کا نام اسکرین پر جگمگا رہا تھا۔
“ساویز نے بتایا کہ آج ڈنر میں تم بھی شامل ہو۔ کل جو ہوا اس کے بارے میں غنایہ کو مت بتانا پلیز۔۔ یہ میری
ریکویسٹ سمجھو!۔” میسج پڑھ کر وہ مبہم سا مسکرادیا۔
“میرے اور تمہارے درمیان کی بات ہمیشہ میں نے محفوظ ہی رکھی ہے۔ چاہے وہ پانچ سال پرانی ہوں یا ابھی کی۔۔ ساویز کو تب ہی پتا چلا جب تم نے اس سے ملاقات میں خود بتایا۔۔ ورنہ یہ راز، راز ہی رہ جاتا۔” میسج ٹائپ کر کے اس نے سینڈ کیا اور مسکراتا ہوا واش روم کی جانب بڑھ گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“کیا ابھی آنا ضروری تھا بیٹا؟۔” امی حیرانی تھیں۔ غنایہ اپنی کتابیں جمع کرتے ہوئے ایک نظر انہیں دیکھنے مڑی۔
“انہوں نے کہا تھا آج چلیں گے۔ رات میں عشنا اور میرویس بھائی کا ہمارے ساتھ ڈنر ہے اس لیے پھر انہیں شاید وقت نہ ملے۔” وہ بے دھیانی میں بول پڑی۔
“میرویس کون؟۔” عفت چونکی۔ “یہ وہی لڑکا ہے نا جو عشنا کی یونیورسٹی میں پڑھتا تھا؟۔” انہوں نے میرویس کو شادی میں ہی دیکھا تھا جس کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہ ساویز کا دوست ہے۔
“ہاں امی۔” وہ مختصراً بولی۔
“تمہارے بابا کو وہ عشنا کی وجہ سے نہیں پسند! یاد نہیں کیسے عشنا اس کی پہلے باتیں کیا کرتی تھی؟۔” عام سے لہجے میں کہتی ہوئیں وہ وہیں بستر پر بیٹھ گئیں۔
“میں ان سے ولیمے کے روز ملی ہوں۔ یقین ہی نہیں آیا کہ یہ وہی میرویس ہیں جنہیں عشنا کوسا کرتی تھی۔ اتنے گڈلکنگ اور نرم مزاج شخص ہیں!۔”
“اچھا بہرحال اپنے ابا کو مت بتانا کہ آج میرویس کے ساتھ عشنا بھی ڈنر میں شامل ہے۔” وہ اسے تاکید کرتیں مسکرا کر بولیں۔
“ساویز ڈرائنگ روم میں ہیں؟۔” ان کو یہاں آئے آدھا گھنٹہ بیت چکا تھا۔
“ہاں اور نیند میں صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں موند کر بیٹھا ہے۔۔ جب ہی میں تم سے سوال کرنے آگئی کہ ابھی آنا ضروری تھا۔ کیا اس کی نیند پوری نہیں ہوئی؟۔” وہ اسے گھور کر دیکھتے ہوئے مبہم سا مسکرا رہی تھی۔
“وہ سو گئے؟۔” غنایہ احساسِ شرمندگی کے مارے بولی۔ “ساویز آج کافی دیر سے سوئے تھے۔ میں انہیں کبھی نہ اٹھاتی اگر کتابوں کا مسلہ نہ ہوتا۔”
“اچھا خیر تم جاؤ اور اس سے چائے کا پوچھو۔۔ ورنہ کہو کہ تمہارے کمرے میں آکر لیٹ جائے۔ سامان سمیٹنے میں تمہیں کافی وقت لگے گا اور اس کا یوں صوفے پر سونا جسم میں تکلیف پیدا کرے گا۔” ان کے یوں کہنے پر وہ کچھ بول نہ سکی۔ کیا ہی انہیں بتاتی کہ اس کی وجہ سے وہ صوفے پر ہی سوتے ہیں۔ ماں کا حکم مانتے ہوئے وہ اپنے بستر کی چادر صاف کرتی ڈرائنگ روم کا رخ کرنے باہر بڑھ گئی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“مجھے علم نہیں تھا کہ تمہارے لیے یہ راز اہم ہوگا۔ میں معذرت چاہتی ہوں اگر میرا ساویز کو یوں بتانا تمہیں ناگوار گزرا ہو۔۔” ایک نیا میسج۔۔
“میرویس ابھی بے حس نہیں ہوا کہ وہ تم سے معافی کا طلب گار بنے۔۔ اگر تم یوں کہو گی تو مجھے دکھ ہوگا۔” جھینپ کر کہا گیا تھا۔
“میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یوں تم سے معافی مانگوں گی۔” بات بڑھ رہی تھی۔
“اب تم سے کیا معذرت کہلوانا۔۔” ان چند لفظوں میں جذبات چھپے تھے۔ وہ کسی خوبصورت انداز میں پڑھ کر مسکرا دی۔
“تم ذرا نہیں بدلے میرویس۔۔” اس نے کھلکھلاتے ہوئے ٹیکسٹ کیا۔
“وقت آگے بڑھ گیا مگر تم وہیں پر ٹھہری ہو۔”
“تمہیں لگتا ہے تم بدل گئے ہو؟ ذرا نہیں بدلے۔۔ ہاں دیکھنے میں زیادہ اچھے ہوچکے ہو مگر عادتیں اور باتیں تو پہلی سی ہیں۔”
“اگر یہی سب تم مجھے پانچ سال پہلے کہتی تو میں تمہارے لیے شاید دیوانہ ہوجاتا۔” قہقہہ لگاتے ہوئے اس نے کچھ سوچ کر میسج سینڈ کیا۔
“مگر اب ہم بڑے ہوگئے ہیں۔”
“ہم اس وقت بھی بڑے تھے عاشی! مگر اس وقت یہ پانچ سال درمیان میں نہیں تھے جو اب آ کھڑے ہوئے ہیں۔”
اس کے یوں عاشی لکھنے پر عشنا جی بھر کو چونکی تھی۔ اسے یاد تھا یہ نام میرویس نے ہی رکھا تھا اور اس کے بعد سے ہی سب اسے عاشی کے نام سے پکارنے لگے تھے۔
“تمہیں اب بھی وہ نام یاد ہے؟۔” حیرانی سے پوچھا گیا۔
“میں بھولا ہی کب تھا۔۔”
“تمہارا شکریہ۔۔”
“تمہارا نام یاد رکھنے پر؟۔” کچھ چونک کر پوچھا۔
“نہیں میرویس! کل میری مدد کرنے پر۔۔”
“اس کی ضرورت نہیں۔۔”
“اس بارے میں غنایہ کو کچھ نہیں بتانا۔ میری التجا ہے۔” وہ یہ بات غلطی سے بھی غنایہ کو نہیں پتا چلنے دینا چاہتی تھی۔ اس لیے دوبارہ لکھ پڑی۔
“ان پانچ سالوں میں یہ بھی بھول گئی ہو کہ میرویس تمہاری باتیں آگے نہیں کرتا؟۔” وہ ہنس کر بولا تھا اور عشنا اس میسج سے مکمل مطمئن ہوچکی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“ساویز۔۔” اس کی پہلی ہی آواز میں وہ چونک کر اٹھا تھا۔
“ہاں۔” آنکھیں رگڑتے ہوئے وہ سیدھا ہوا۔
“آپ کمرے میں آجائیں۔” اس نے دھیمی آواز میں التجا کی۔
“کیوں خیریت؟۔” وہ اپنے یوں سوجانے ہر پہلے ہی شرمندہ ہو رہا تھا۔
“میرے بستر پر لیٹ جائیں۔”
“نہیں مجھے نیند ہے۔۔ بس آنکھ لگ گئی تھی۔ تمہارا کام ہوگیا؟۔”
“ہاں ہوگیا۔۔” اس نے جھوٹ کہا۔ نجانے کیوں وہ سچ کہہ کر اسے مزید اس صوفے پر سونے کی تکلیف نہیں دے سکی۔
“کتابوں کا بیگ لے آؤ۔ میں اٹھا لوں گا۔” وہ اٹھ کر کھڑا ہوا۔ غنایہ ایک نظر اسے دیکھتی کمرے میں چلی آئی۔ ضروری کتابیں اور اسائمنٹس اٹھا کر تیزی سے بیگ میں ڈالے اور باہر نکلنے لگی۔
“امی میں باقی چیزیں بعد میں لے جاؤں گی۔” آہستگی سے عفت کو اطلاع دیتے ہوئے وہ ساویز کو بیگ دینے بڑھی۔ نیند سے سرخ آنکھوں کو دیکھ کر غنایہ نے لب بھینچے۔ دل پھر کسی احساسِ شرمندگی سے بھاری ہونے لگا۔ وہ خاموش کھڑا اس کی بات پر اثبات میں سر ہلاتا ہوا، اس کی جانب بڑھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“کہاں جا رہے ہو؟۔” اسے دل جمعی سے تیار ہوتا دیکھ کر وہ حیرانی سے بولی۔ سیاہ کالر والی شرٹ کے بٹن لگاتے ہوئے میرویس نے روما کو دیکھا تھا۔
“ساویز کے گھر۔۔” بالوں کو سلیقے سے بناتے ہوئے کلائی میں گھڑی باندھی اور پرفیوم چھڑکنے لگا۔
“ملنے جا رہے ہو؟۔” سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہوچکی تھی۔
“ڈنر رکھا ہے۔” وہ زیادہ بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا اس لیے مختصر بتانے لگا۔
“ساویز بھائی نے؟۔” وہ اب حیرانی سے اس کے پیچھے پیچھے جا رہی تھی جو باہر نکل رہا تھا۔
“ہاں یار! اتنے سوالات کیوں پوچھ رہی ہو؟۔” گھر کے دروازے پر پہنچ کر اس نے مڑ دیکھا۔
“ساویز بھائی نے بلایا ہے تو مجھے بھی جانا چاہئیے۔ ان کی دلہن کو دیکھوں گی۔” تیزی سے بھاگتے ہوئے وہ اندر سے ضروری سامان باہر لے کر آئی اور اپنی سینڈل پہننے لگی۔
“مگر اس نے تمہیں نہیں بلایا۔” وہ ششدر ہوا۔
“کبھی ان سے پوچھ کر گھر گئی ہوں جو اب جاؤں گی؟۔” ذرا سی دیر میں وہ تیار تھی۔
“روما مگر یہ بہت غلط بات ہے! میں تمہیں یوں نہیں لے کر جاسکتا۔” عشنا کی وجہ سے وہ اسے لے کر نہیں جانا چاہتا تھا۔ روما کو یقینا عشنا کی تصویر یاد ہوگی جو میرویس کے موبائل میں قید ہے۔ نجانے وہ کیا سوچے۔۔
“بہت دیر ہوگئی ہے۔ اب ہمیں چلنا چاہئیے۔” دروازہ کھول کر وہ باہر نکل گئی تھی جبکہ میر اسے گہری سانس خارج کرتا بےبسی سے تکتا رہ گیا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“مجھے علم نہیں تھا کہ یہ رنگ تم پر اتنا اچھا لگتا ہوگا۔” اس کے بستر پر بیٹھتے ہوئے وہ اپنے پاؤں کا درد دور کرتے ہوئے بولی۔
“چند دنوں پہلے ساویز لائے تھے۔ انہوں نے آج کہا کہ مجھے یہ پہننا چاہئیے۔” بہن کی آمد پر خوش ہوتی وہ سنگھار میز کی کرسی پر بیٹھی۔ ساویز کے ذکر پر عشنا کو کچھ یاد آیا۔ اسے ولیمے کے روز غنایہ کا یوں ساویز سے ہاتھ چھڑانا اور دور ہٹ جانا کافی عجیب محسوس ہوا تھا۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ غنایہ سے ضرور بات کرے گی مگر پھر نہ وقت ملا اور نہ موقع۔۔ یوں اچانک بات کرنا مناسب نہیں تھا اس لیے وہ موقع ڈھونڈنے لگی۔
“میرویس بھائی آگئے؟۔” غنایہ کی آواز پر وہ چونکی۔
“نہیں مجھے علم نہیں۔۔ میں سیدھا تمہارے کمرے میں آئی ہوں۔ کیا ابا کو معلوم تھا کہ میرویس بھی آج میرے ساتھ اس ڈنر پر انوائیٹڈ ہے؟۔”
“امی کو بتایا تھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے ابا کو اس بارے میں نہیں بتانا چاہئیے ورنہ وہ میرویس کی موجودگی پر غصہ ہوں گے۔” اس کے کانوں میں خوبصورت چھوٹی جھمکیاں تھیں۔ ہاتھوں میں پستا رنگ کی کانچ کی چوڑیاں جو ہلنے پر کھنکھنانے لگتیں اور لبوں پر ہلکی سرخ لپ اسٹک۔۔ وہ کبھی یہ سب نہ کرتی اگر ساویز اس کی دراز سے خود میک اپ کا سامان نکال کر میز پر نہ رکھتا۔ اس کا یہ اشارہ ہی غنایہ کے لیے کافی تھا۔
“میرویس اتنا بھی برا نہیں کہ ابا غصہ کریں۔” اسے ابا کا رویہ بلکل اچھا نہیں لگا تھا۔
“یہ تم کہہ رہی ہو؟۔” غنایہ نے حیرانی سے بھنویں اچکائیں۔ “ماضی میں تم نے میرویس بھائی کی برائیاں کر کے سب کا دل برا کیا ہے حالانکہ میرویس بھائی مجھے کہیں سے برے محسوس نہ ہوئے۔۔ اچھے خاصے ہینڈسم اور خوش اخلاق ہیں۔ اب چاہتی ہو ابا پھر وہی کریں جو تم کہو گی؟۔”
“میں برائیاں نہیں کرتی تھی غنایہ بلکہ جو غصہ مجھے اس پر تھا وہ گھر آکر اسے کوستے ہوئے اتارا کرتی تھی۔ مجھے کیا پتا تھا کہ ابا اس حد سنجیدہ لے لیں گے کہ پانچ سال بعد بھی انہیں میرویس یاد رہے گا۔” پیشانی پر ہاتھ مارتے ہوئے وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی۔
“اس بارے میں بات کرنا بیکار ہے۔” وہ دھیما سا مسکرا دی۔ عشنا نے گہری سانس لی اور اس کے نزدیک آکر بیٹھ گئی۔ کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور ساویز شاید نیچے تھا۔
“مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔” سنجیدگی سے کہتے ہوئے اس نے غنایہ کے تاثرات دیکھنے چاہے۔
“ہاں میں سن رہی ہوں۔” پیشانی پر جستجو کے ہلکے بل نمودار ہوئے۔
“مگر وعدہ کرو تم سچ کہو گی! بہن سے کوئی غلط بیانی نہیں کرو گی۔” سات سال بڑی بہن ہونے کے ناطے اس کا لہجہ کچھ حکمیہ تھا۔ غنایہ الجھ سی گئی۔
“ہاں ٹھیک ہے۔۔ تم جانتی ہو میں جھوٹ کا سہارا نہیں لیتی۔”
“جن حالات میں تمہاری ساویز سے شادی ہوئی، میں کچھ نہ کر سکی۔ مگر کئی بار مجھے ایسا محسوس ہوا کہ تم دونوں کے درمیان کچھ ٹھیک نہیں۔۔ ولیمے والے دن تمہارا وہ رویہ بہت مختلف تھا غنایہ۔۔ یوں ہاتھ جھٹک کر پیچھے ہٹ جانا اور سہمنا۔۔۔ ساویز نے بھی کچھ نہیں کہا اور باہر چلا گیا تھا۔ میں جان گئی ہوں کہ تمہارا اس سے رشتہ عام بیویوں والا نہیں ہے۔ مجھے بتاؤ کیا معاملہ ہے؟ کیا تم ساویز کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی؟۔” چہرے پر پریشانی کے آثار نمودار ہوئے۔ غنایہ کے چہرے پر ایک رنگ آکر گیا تھا۔ اس نے تیزی سے پہلو بدلا۔۔ اس کے لیے یہ موضوع اس قدر حساس تھا کہ آنکھیں نم ہونے میں وقت نہیں لگا۔ نگاہ اٹھا کر بہن کو دیکھا تو عشنا کو اپنا دل چیرتا ہوا محسوس ہوا۔ اس کی آنکھوں کے آنسو مزید اذیت دینے لگے۔
۔۔۔★★★۔۔۔
گاڑی گیراج میں پارک کرتے ہوئے وہ دروازہ کھول کر باہر نکلنے رہا تھا۔
“ارے دیکھو ذرا کون آیا ہے!۔” ساویز کسی کی موجودگی محسوس کرتا ہوا لاؤنج سے باہر نکلا تھا۔
“میں آئی ہوں!!۔” روما خوشی سے چہکتی ہوئی گاڑی سے آئی۔
“یہ تو واقعی ایک اچھا سرپرائز ہے!۔” خوشگوار لہجے میں کہتے ہوئے وہ ایک نظر میر کو دیکھتا ہوا بولا جو گاڑی لاک کرکے باہر نکل رہا تھا۔
“حالانکہ میری دعوت بھی نہیں تھی۔۔” وہ ہنس پڑی۔ ساویز نے میرویس کو دیکھا جو گاڑی کی چھت پر دونوں بازو رکھ کر اب اسے کندھے اچکائے دیکھ رہا تھا۔
“تمہیں دعوت کی ضرورت نہیں روما! تم جب چاہو آسکتی ہو۔۔” پیار سے کہتے ہوئے وہ روما کو اچھا لگا۔
“مگر آپ نے تو مجھے شادی پر بھی نہیں بلایا ساویز بھائی!۔” یکدم ہی اسے یاد آیا تو وہ خفا خفا سے لہجے میں بولی۔ ساویز چونکا۔ اس نے یوں ہی میرویس کو آئبرو آچکا کر دیکھا جو اب اسے آنکھیں دکھا رہا تھا کہ ایسا کچھ نہ کہنا کہ وہ میرو پر برس پڑے۔
روما نے دونوں کو باری باری دیکھا۔ ساویز نے بےچارگی سے میر کو دیکھ کر نفی میں سر ہلایا۔
“ایسا ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں نہ بلاؤں؟ میں نے کہا بھی تھا میر سے مگر وہ تمہیں نہیں لے کر آیا۔” میر کو ڈانٹنے والے انداز میں گھورتے ہوئے قدرے بے بسی سے بولا۔
“کیا؟۔” روما کا ششدر ہونا میرویس کے چھکے چھڑا گیا۔ “اس نے مجھ سے کہا تھا کہ ساویز بھائی نے تمہیں شادی پر نہیں بلایا۔” وہ تقریبا دانت پیس کر کہتی بھائی کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگی۔
“مجھے علم نہیں تھا ورنہ میں تمہیں علیحدہ سے کال کرلیتا!۔ بہرحال جو ہوا سو ہوا۔ اندر آجاؤ اور ذرا اپنی بھابھی سے اب ملاقات ہی کرلو۔۔” ان دونوں کے ہمراہ وہ لاونج کی جانب بڑھ گیا۔ میرویس آہستگی سے ان سے دور آگے بڑھ رہا تھا۔ ہاتھ میں گاڑی کی چابی اور قدرے بیزار لہجہ۔۔
“غنایہ بھابھی کہاں ہیں؟۔” لاونج خالی تھا البتہ اس کا چہرہ چمک رہا تھا۔
“لگتا ہے میں پہلے آگیا۔” پیشانی مسلتے ہوئے وہ دھپ سے صوفے پر بیٹھا۔ ساویز نے میر کی آنکھوں میں دیکھا۔
“خاص مہمان بھی آچکے ہیں۔” اس کا ذو معنی لہجہ، میرویس کے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا۔ “میں غنایہ اور عشنا کو بلا کر لاتا ہوں۔” انہیں وہیں چھوڑ کر وہ اوپر بڑھ رہا تھا، جب اسے کچھ یاد آیا۔ لاونج میں رکھی میز سے گجروں کی تھیلی نکال کر مسکراتا ہوا وہ اوپر بڑھا۔ ولیمے کے بعد سے اب تک کافی کچھ بدل گیا تھا۔۔ اسے امید تھی کہ اس بار غنایہ اس سے نہیں کترائے گی۔ زینے چڑھتا ہوا وہ ابھی کھلے کمرے میں داخل ہوتا ہی کہ غنایہ کی نم آواز پر ساکت ہوا۔
“مجھے اب بھی ڈر لگتا ہے عشنا۔۔ یہ شادی ایک مجبوری تھی جو مجھے کرنی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ بس ایک بار باصم سے جان چھوٹ جائے گی تو زندگی آسان ہو جائے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔۔ میں غلط تھی۔۔ اب بھی اگر وہ میرا ہاتھ پکڑتے ہیں تو مجھے بہت عجیب محسوس ہوتا ہے۔ ہم عام میاں بیوی کی طرح نہیں ہیں۔۔ میں جانتی میرا یوں کترانا، گھبرانا اور ان سے سہمنا ٹھیک نہیں ہے مگر میں کیا کروں عشنا۔۔ ساویز بہت اچھے ہیں مگر مجھے ان سے محبت نہیں ہے۔۔” اس کی آواز آخری میں لرزی تھی اور ساویز کو محسوس ہوا تھا کہ وہ سانس نہیں لے پائے گا۔
“میں محبت نہیں کرنا چاہتی عشنا۔ مجھے اپنوں کے علاؤہ سب سے خوف محسوس ہوتا ہے اور ساویز سے مجھے اپنائیت بھی محسوس نہیں ہوتی۔” اس بات پر وہ مزید سسکی تھی۔ ساویز کا چہرہ یکدم سپاٹ ہوا۔ دل ڈوب رہا تھا اور سانسیں رکنے لگی تھیں۔ “وہ بہت اچھے ہیں کہ کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا کہ شاید میں ہی ان کے قابل نہیں ہوں۔۔ وہ جب سوتے ہیں، کب جاگتے ہیں، ان کے اصول، پابندی کسی سے واقف نہیں ہوں۔۔ مجھے کوئی جذبہ محسوس نہیں ہوتا۔ نہ ان سے نفرت محسوس ہوتی ہے نہ محبت۔۔ میں بس زندگی گزار رہی ہوں اور یہ بھی جانتی ہوں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا۔ ایک دن ساویز بھی اکتا جائیں گے۔ پھر یا تو وہ دوسری شادی کرلیں گے یا مجھے چھوڑ دیں گے۔” آنکھیں بہہ رہی تھیں اور عشنا کو اسے سنبھالنا مشکل ہورہا تھا۔
“کیا انہیں تم سے محبت ہے؟۔” نجانے کیوں اس نے یہ پوچھا۔
“مجھے نہیں معلوم۔۔ میں نے کبھی محبت نہیں کی اور نہ مجھے نصیب ہوئی۔ ان کی پیار بھری نظریں مجھے پل پل شرمندہ کرتی ہیں کہ میں انہیں بدلے میں محبت نہیں دے پا رہی ہوں۔ مجھے نہیں ہے محبت۔۔ میں کیوں ان کے ساتھ رہ رہی ہوں مجھے نہیں علم۔۔ مگر میں ان کی احسان مند ہوں۔ انہوں نے مجھ سے شادی کر کے پناہ دی۔ میرا خیال رکھا اور محفوظ محسوس کروایا۔ یہ احسان میں کبھی نہیں اتار سکتی۔ مستقبل روشن نہیں ہے عشنا! آگے سب کچھ تاریک ہے۔۔ یوں ہی زندگی کے سفر میں منزل پر پہنچنے سے پہلے ہمارا ہاتھ چھوٹ جائے گا۔”
ایک نظر ہاتھ میں رکھے گجروں کی تھیلی دیکھتے ہوئے اس نے لب بھینچ لیے۔ وہ ایک مضبوط مرد خود کو سب سے ہارا ہوا مرد سمجھنے لگا۔ سانسیں لینا کافی دشوار محسوس ہو رہا تھا۔ دوسرے ہی لمحے اس نے وہ تھیلی جیب میں رکھ دی۔۔ یہ دل بھی کتنا پاگل تھا۔۔ یا بے وقوف! جو سمجھ رہا تھا کہ اب شاید بات پہلی جیسی نہیں رہے گی! مگر اب بھی سب پہلے ہی جیسا تھا۔ وہ دوریاں، وہ اجنبیت اب بھی وہیں کھڑی تھی۔
“ایسا نہیں ہوگا۔۔ تم ایک بہت اچھی بیٹی اور بہن ہو غنایہ! جلد ایک اچھی بیوی بھی بن جاؤ گی اور ساویز کو تمہاری فکر ہے! وہ جانتے ہیں کہ تم حالات سے کتنا ڈسٹرب لڑکی ہو۔” وہ ابھی مزید کچھ کہتی کہ ساویز نے ہمت کرتے ہوئے آگے بڑھ کر دروازہ بجایا اور داخل ہوا۔
“لڑکیوں کی باتیں ختم کروانا مشکل کام ہے مگر میں بتانے آیا ہوں کہ میرویس بھی آگیا۔” بمشکل مسکراتے ہوئے وہ عشنا کو دیکھتے ہوئے بولا۔ نجانے کیوں غنایہ کو دیکھنے کی بھی ہمت نہ ہوئی۔
“وقت کا پتا ہی نہیں چلا۔۔ شاید اس لیے کہ کافی دنوں بعد ہماری ملاقات ہوئی ہے۔” وہ ہنستے ہوئے غنایہ کے آگے کھڑی ہوئی تاکہ وہ آپنے آنسو صاف کر سکے۔ ساویز نے محسوس کرتے ہوئے عشنا کو دیکھا۔
“تم آتے رہا کرو عشنا۔ غنایہ کا دل بہلا رہے گا۔”
عشنا نے اس کے لہجے میں غنایہ کے لیے فکرمندی محسوس کی تھی۔
“مگر میں ہی کیوں؟ آپ کبھی غنایہ کو میرے گھر بھی لے کر آئیے گا۔” مبہم سی مسکراہٹ لبوں پر پھیل گئی۔ اگر غنایہ کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو وہ ساویز جیسے مرد کی بیوی ہونے پر خدا کی شکرگزار ہوتی۔۔
“ضرور کیوں نہیں۔۔” جواباً وہ بھی مسکرادیا۔
“میں نیچے جا رہی ہوں۔ آپ لوگ بھی آجائیں۔” یوں مزید کمرے میں ٹھہرنا درست نہ لگا تو وہ نیچے کی جانب بڑھ گئی۔ ساویز نے مڑ کر اسے زینے اترتے دیکھا اور کمرے کا دروازہ دھیرے سے بند کرتا ہوا اس کی جانب بڑھا۔ وہ آنسو صاف کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی اور اب کھڑے ہوکر اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ چلتا ہوا اس کے بلکل آگے کھڑا ہوا۔
“پہچانی نہ جاؤ اس لیے آنسو تو چھپالیے مگر ان کی سرخی کیسے چھپاؤ گی غنایہ؟۔” اس کی دل آزاری ہوئی تھی۔ غنایہ نے ساکت ہو کر اسے دیکھا۔ دل میں خوف جاگنے لگا کہ کہیں اس نے گفتگو تو نہیں سن لی۔
“کیا مطلب؟۔” وہ گھٹی گھٹی آواز میں بولی۔ ساویز ہنس پڑا۔
“بلآخر تم نے مجھے احساس دلا ہی دیا کہ جو میں محبت میں کرتا آرہا تھا وہ دراصل احسان تھے۔۔ کتنا بےوقوف ہے ساویز! احسان کے لیے غنایہ سے شادی کرلی اور محبت۔۔ محبت تو کہیں بہت پیچھے رہ گئی۔ یہ سب احسان تھا۔۔” دل بھاری ہونے لگا۔ غنایہ کو اپنی دھڑکنیں رکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ چہرہ ششدر اور کچھ غلط ہوجانے کی خوف سے سفید پڑگیا۔
“آئیندہ دل کی بات کسی سے کرتے ہوئے دروازہ بند کردے گا۔۔ کہ کہیں پھر سے آپ ساویز کی دل آزاری کی وجہ نہ بن سکیں۔۔” اس سے قبل کہ آنکھیں مزید سرخ ہوجاتیں وہ پلٹ گیا مگر غنایہ وہیں ٹھہر گئی۔ ساکت نظریں ساویز کی پشت کو تک رہی تھیں جو باہر نکل رہا تھا۔ یہ کیا ہوگیا تھا۔۔ وہ اب کیسے اس کا سامنا کرے گی۔ ایک اذیت، خوف اس کے دل میں بیٹھنے لگی۔۔ یکدم ہی موبائل میز پر رکھتے ہوئے وہ اٹھی اور تیزی سے باہر نکلتے آنسو پوچھنے لگی۔ شادی کے اتنے دنوں بعد اس میں اتنی تو ہمت آہی گئی تھی کہ وہ ساویز کو مخاطب کرسکے۔ دروازہ اپنے پیچھے بند کرتے ہوئے وہ باہر نکلی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
میرویس کو موبائل پر ٹیکسٹ کرتے دیکھ کر وہ اس کے موبائل میں جھانک رہی تھی، جب کسی کے زینے سے اترنے کی آواز پر دوسری طرف دیکھنے لگی۔ سیاہ کرتی میں ملبوس ایک لڑکی زینے اترتے ہوئے نیچے آرہی تھی۔ اس کا چہرہ دیکھتے ہی روما کو دھچکا لگا تھا۔
“یہ تو وہی لڑکی ہے!!!۔” حیرانی سے منہ کھلا۔ میر اس کی آواز پر نگاہوں کے تعاقب میں دیکھنے لگا۔
“ہششش!!! اس کے سامنے مت کہنا۔” اسی وقت سے تو وہ گھبراتا آرہا تھا۔ عشنا انہیں باتیں کرتا دیکھ چکی تھی۔
“اسلام علیکم۔” اس چھوٹی لڑکی کو دیکھ کر اس نے میرویس کو سلام کیا۔
“وعلیکم السلام۔” مردانہ بھاری آواز عشنا کے کانوں پر پڑی۔
“یہ چھوٹی لڑکی کون ہے؟۔” لبوں پر مسکراہٹ سی پھیل گئی۔
“آپ تو وہیں تصویر والی لڑکی ہیں!!۔” میرو کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ جھٹ سے بولی۔ عشنا الجھی جبکہ میرویس کا دل چاہا اپنا آپ کہیں گم کردے۔
“کون سی تصویر والی لڑکی؟۔” پیشانی پر کچھ نہ سمجھنے کی تاثرات نمودار ہوئے۔
“خاموش رہو روما!!۔” میرویس موبائل برابر میں پھینکتا ہوا برہم ہوتے ہوئے بولا۔
“وہی جو میرو کے موبائل میں تصویر ہے! مجھے یقین ہے وہ پیلے جوڑے والی تصویر آپ کی ہے!!۔” وہ تجسس کے مارے عشنا کا جواب سننے لگی جبکہ عشنا ششدر کھڑی تھی۔
“تم میرو کی کون ہو؟۔” وہ اس پیاری سی لڑکی کو دیکھ کر یکدم بولی۔
“یہ میرو کی بہن ہے۔۔” اس بار میرویس بولا تھا۔
“اور میرو کون ہے؟۔” اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ روما اور میرویس بہن بھائی ہیں۔۔
“میں ہوں۔۔” شرمندگی کے مارے وہ اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھتا صوفے کی پشت پر سر ٹکاتے ہوئے کسی مجرم کی طرح بولا۔ عشنا کی آنکھیں پھیلیں۔ میرویس کے موبائل میں اس کی تصویر؟؟ اور یہ چھوٹی لڑکی اس کی بہن؟؟
“کیا کہا؟۔” وہ حیرت و بے یقینی سے تقریباً چیخی تھی۔ میرویس نے کان میں انگلی گھمائی۔
“اس میں چیخنے والی کوئی بات نہیں تھی عشنا۔” لاحول پڑھتے ہوئے وہ کچھ گھور کر بولا۔
“تم اس چھوٹی سی لڑکی کے بھائی کیسے ہوسکتے ہو؟۔” یہ سمجھنا کتنا مشکل تھا۔۔ وہ لڑکی بمشکل تیرہ چودہ سال کی تھی اور میرویس خود انتیس! اسے آج تک لگتا رہا کہ میرویس اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہے۔
“میں روما ہوں۔۔ روما چوہدری!۔” مسکراہٹ لبوں پر پھیلی۔ اس نے اٹھ کر عشنا کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ بےیقین کھڑی عشنا نے چونک کر اس کا ہاتھ پکڑا اور اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“میں نے ناممکن، ممکن کر دکھایا۔۔ اور دیکھ لو۔۔ پندرہ سال چھوٹی بہن بھی ہے۔” لبوں پر شرارت سی پھیل گئی۔ “اور ہاں! میں جانتا ہوں یہ ایک کافی بڑا گیپ ہے مگر اس میں کوئی قباحت نہیں!۔”
“جتنی تمہاری عمر ہے اگر تم اسے اپنی بیٹی بھی کہتے تو بھی میں یقین کر لیتی۔۔” اس نے بھی بدلے میں شرارت سے کہا مگر یہ بات میرویس کا دل جلا گئی۔
“یہ نا ممکن ہے! اس کے لیے مجھے چودہ سال کی عمر میں شادی کرنی پڑتی۔” وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
“یہ کون ہیں تمہاری میرو؟ میں نے جب تصویر دیکھ کر پوچھا تھا تو تم نے موضوع بدل دیا تھا۔ اب مجھے بھی بتاؤ کہ یہ کون ہے۔” اسے وہ لڑکی تصویر میں جتنی بری لگی تھی سامنے سے اتنی ہی خوبصورت اور نرم مزاج معلوم ہوئی تھی۔ تصویر کے دوبارہ ذکر کر عشنا نے چونک کر میر کو دیکھا جو ذو معنی لہجے میں اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“میری تصویر؟۔” لہجہ اب کچھ دھیما تھا۔ وہ اب بھی میرویس کو دیکھ رہی جبکہ میرویس اس کے سوال پر چہرے کا رخ تبدیل کر چکا تھا۔
“ہاں آپ کی تصویر۔۔ مگر اس تصویر میں آپ کے بال کندھوں تک آتے تھے۔” روما نے اس کے بال دیکھے جو کافی لمبے تھے۔ عشنا پل بھر میں سمجھ گئی کہ تصویر پرانی ہے۔
“مجھے علم نہیں تھا۔” وہ مروتاً مسکرائی۔
“میں آپ کو ڈھونڈ کر دکھاتی ہوں۔” میرویس کے ہاتھ سے وہ موبائل لیتی ہی کہ میرویس نے ہاتھ اونچا کر کے اس کی کوشش کو ناکامیاب بنایا۔
“بس روما! بہت ہوا۔۔” آئبرو آچکا کر سمجھاتے ہوئے اس نے موبائل جیب میں رکھ دیا۔ عشنا اس کی ہر حرکت کو نوٹ کر رہی تھی۔ اس تصویر کے ذکر پر خاموش رہنا ہی بہتر تھا۔ زینے اترتا ساویز اور اس کے پیچھے غنایہ کو دیکھ کر وہ ان کی جانب مسکراتے ہوئے بڑھنے لگے۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“میری دوست چاہتی ہے کہ تم اس سے بات کرو۔” خوبصورت نازک آواز اس کے کانوں پر پڑی تو وہ مسکرا دیا۔
“اس سے کہو کہ وجاہت کے لیے پریزے ہی کافی ہے۔” چائے کا مگ لبوں سے لگاتے ہوئے وجاہت ایک انداز سے بولا۔
“تم اس سے بھی خوبصورت لڑکی ڈیزرو کرتے ہو۔”
“تم پریزے سے خوبصورت کوئی بتلاؤ تو بات ہو!۔” اسے یقین تھا اس لیے بے فکر مسکرا رہا تھا۔
“اگر حسین لفظ کا کوئی مطلب ہے تو فبیہا ہے۔ وہ میری بہت خوبصورت دوستوں میں سے ایک ہے۔” کہتے ساتھ اس نے دور سے ہی وجاہت کو تصویر دکھائی۔ وہ ہنسا اور پھر قہقہہ لگانے لگا۔
“تمہارے نزدیک ظاہری خوبصورتی اہم ہوگی مگر میرا دل اس کے اندر کی خوبصورتی پسند کرتا ہے۔ دیکھنے میں تو پریزے بھی کم نہیں۔۔ ایک خوبصورت، نازک مزاج اور حسین لڑکی ہے جس کے سوچ کا محور صرف اور صرف تمہارا بھائی ہے۔” اس کی مسکراتی پریزے۔۔
“تمہیں وہ کتنی پسند ہے وجاہت؟۔” کائنہ کی آواز پر وہ چونکا اور پھر زیر لب مسکرا دیا۔
“اس دنیا میں مجھے چند لوگوں سے ہی تو محبت ہے۔” اور وہ “چند لوگ” کائنہ اچھے سے جانتی تھی۔
“تو کیا ان دو یاروں میں ایک ساویز بھی ہے؟۔” نجانے کیوں وہ اس نام پر مسکرائی تھی۔
“اور میرویس بھی ہے!۔” وہ دوبارہ موبائل پر مصروف ہوگیا تھا جبکہ کائنہ کے رخسار سرخ ہونے لگے۔ وہ چہرے کے سامنے میگزین ڈال کر چہرہ چھپانے لگی۔
“تمہیں کیا ہوا؟۔” وہ اس کی حرکت نوٹ کر چکا تھا۔
“نہیں کچھ نہیں۔۔” وہ بنا چہرہ دکھائے گڑبڑا کر بولی۔ اس کے یوں کہنے پر وہ ہنس کر چلتے ہوئے اس کے پاس آیا۔
“میں آفس جا رہا ہوں۔” میگزین ہٹاتے ہوئے اس کا رخسار کھینچتے ساتھ بولا۔
“مجھے آج پارٹی میں جانا ہے۔” ہری آنکھیں اٹھا کر اس نے بھائی کو دیکھا۔
“گارڈز باہر ہی کھڑے ہیں۔” وہ باہر نکلنے لگا۔
“مگر مجھے گارڈز کے ساتھ نہیں جانا وجاہت!۔” ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔
“کیوں؟ تم جانتی ہو نا کہ یہ گارڈز میں نے صرف اور صرف تمہارے لیے رکھے ہیں؟ تاکہ تم جہاں بھی ہو، مجھے تسلی رہے۔” اسے یاد تھا کہ کائنہ کتنے دنوں سے بغیر گارڈز کے آنا جانا کر رہی تھی۔
“میں اپنی دوست کی پارٹی میں گارڈز لے کر نہیں جاؤں گی! ایسا لگتا ہے جیسے تم مجھے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہو وجاہت!۔” اس کی سفید رنگت غصے سے سرخ ہونے لگی۔
“میں تمہیں کنٹرول کرتا ہوں؟۔” وہ ششدر ہی تو رہ گیا۔ “میں نے تمہیں کبھی کہیں جانے سے نہیں روکا کائنہ۔۔ تم لیٹ نائٹ پارٹیز میں جاتی ہو، گھومتی پھرتی ہو کبھی میں نے تمہیں روکا؟ بس کہتا ہوں کہ گارڈز ساتھ رکھا کرو تاکہ مجھے تسلی رہے۔ تم جانتی ہو آج کل کتنا زیادہ کام ہے؟ آفس میں وقت کا اندازہ بھی نہیں ہوتا ایسے میں اگر میں تمہارے لیے پریشان رہوں تو کیا یہ زیادتی نہیں؟ صرف تمہاری حفاظت چاہتا ہوں یار۔۔” اس مہینے میں وہ تیسری بار اس موضوع پر بات کر رہا تھا۔
“میری دوستوں کو لگتا ہے کہ وجاہت کو اپنی بہن پر بھروسہ نہیں اس لئے یہ گارڈز ساتھ بھیجتا ہے۔ کوئی پارٹی ہو یا ایونٹ! ہر جگہ یہ میرے ساتھ ساتھ گھومتے ہیں اور اب مجھے تھوڑے وقت کے کھلی فضا میں سانس لینی ہے! مجھے نہیں چاہئیے یہ تحافظ!۔” وہ غصے میں بولی۔
“کون کہہ رہا تھا کہ وجاہت کو کائنہ پر بھروسہ نہیں؟۔” وجاہت نے ایک آئبرو اچکائی۔
“اس سے فرق نہیں پڑتا وجاہت۔ اور ہاں! خرم ‘تمہارا’ خاص بندہ ہے۔ میرا نہیں! اس لیے اسے اپنے ساتھ رکھا کرو نہ کہ ان دوسرے گارڈز کے ساتھ شامل کر کے میرے پیچھے کرو۔” وہ پیلے رنگ کے ٹاپ پر نیچے بلو جینز پہنی ہوئی تھی۔ سنہرے بال کھل کر شانوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ خوبصورت سنہری رنگت پر لمبی گھنی پلکیں اس کی خوبصورت کو مزید بڑھا رہی تھی۔
“میری بات مان لو کائنہ۔۔” وہ گہری سانس خارج کرتا ہوا بےبسی سے بولا۔ یہ محبت ہی تھی کہ وہ اس کی ضد کے آگے کچھ کہہ ہی نہ پاتا تھا۔
“آج نہیں وجاہت!۔” کائنہ منہ پھیر کر صوفے پر بیٹھی۔
“تم پہلے بھی تین بار ضد کر کے بغیر گارڈز کے چلی گئی تھی۔ میں مزید یہ اور کیسے برداشت کرسکتا ہوں۔ اس فکرمندی پر میں کام پر توجہ بھی نہیں دے پاتا کہ اگر تمہیں کچھ ہوگیا تو؟۔” اپنی بات مکمل کرتے ہوئے وہ جواب کا انتظار کرنے لگا۔ کائنہ دوسری طرف چہرہ کیے بیٹھی رہی جیسے اس سوال کا جواب وہ نہیں دینا چاہتی ہو۔ کافی دیر تک جواب کا انتظار کرنے کے بعد اس نے گہری سانس اندر کھینچی۔ “اچھا یوں ناراض مت ہو! چلی جانا۔ مگر مجھے کال ضرور کردینا۔” بہن کو محبت سے دیکھتے ہوئے بے حد پیار سے بولا۔ یہی وہ وقت جب کائنہ مسکرائی تھی۔
“میں میسج بھی کردوں گی۔” آنکھوں میں معصومیت پھیلی۔ بہن کو مسکراتا دیکھ کر وہ قدرے مطمئن ہوگیا تھا۔
“مسکراتی رہا کرو۔ میرا دل مطمئن رہتا ہے۔” لہجے میں محبت تھی۔ کائنہ کا مسکراتے رہنا ہی اس کا دل مطمئن کرنے کے لیے کافی تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“کھانا لگادوں؟۔” وہ جان کر میرویس اور عشنا کے ساتھ کھڑے ساویز کے پاس آئی تھی۔ جوس پیتے ہوئے اس نے خالی نظر غنایہ پر ڈالی۔
“ملازمہ کر لے گی۔ تمہیں اس کی ضرورت نہیں۔۔” اسے دیکھے بغیر روکھے لہجے میں کہا۔ آواز دھیمی تھی کہ غنایہ کی علاؤہ کوئی اور نہ سن سکے۔ وہ اسے بے یقینی سے تکتی رہ گئی۔ ساویز اس کی نگاہیں خود پر محسوس کرتا ہوا وہاں سے لاونج میں چلا آیا۔
“میں برتن نکال دیتی ہوں۔” غنایہ اس سے کہتی کچن میں جانے لگی جب ساویز نے اس کا بازو پکڑ کر اپنی جانب کیا۔
“میں نے کہا ہے کہ تمہیں اس کی ضرورت نہیں غنایہ۔” بنا کسی تاثر کے اسے دیکھتے ہوئے وہ عام سے لہجے میں بولا۔ نرمی سے کہا گیا یہ جملہ بھی غنایہ کو سخت محسوس ہوا۔ اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔۔ احساسِ شرمندگی اسے اندر سے مار رہی تھی۔ یہ پہلی اور آخری کوشش تھی جو اس نے ساویز کی ناراضگی دور کرنے کے لیے کی تھی۔ اس ناکامی کے بعد وہ دوبارہ کچھ نہ بولی۔ ساویز ملازمہ کو ہدایات دیتا رہا اور وہ روما کے ساتھ صوفے پر بیٹھی دل کی تکلیف دور کرنے کے لیے اس سے باتیں کرنے لگی۔
“آپ بہت اچھی ہیں بھابھی!۔” اس کو پیار سے دیکھتے ہوئے وہ دل سے بولی۔
“تم مجھے باجی بھی کہہ سکتی ہو۔۔” غنایہ نے اس کا ہاتھ پکڑا۔
“آپ دونوں بہنیں ہیں نا؟۔” اس کا اشارہ عشنا کی جانب تھا جو میر کے ساتھ کھڑی تھی۔
“ہاں۔۔ وہ میری بڑی بہن ہے۔” لبوں پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ دور کھڑے ساویز نے مڑ کر اس کا چہرہ دیکھا تھا جو روما سے بات کرتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔ دل کی تکلیف کے باوجود وہ ٹھہر کر دیکھنے لگا۔۔ یکدم ہی اسے وہ الفاظ دوبارہ یاد آئے تو سانس خارج کرتا اندر چلا گیا۔
“تو کیا وہ بھی آپ کو میرو کی طرح تنگ کرتی ہیں؟۔” دونوں کے اپنے بہن بھائیوں کی عمروں میں خاصا فرق تھا، جس سے روما کو لگا کہ غنایہ اور اس کی باتیں کافی ملتی ہوں گی۔
وہ ہنس دی۔
“میرویس بھائی تمہیں تنگ کرتے ہیں؟۔”
“وہ اب مجھ سے ملنے نہیں آتا۔ اس کی جاب اسے تھکادیتی ہے غنایہ باجی۔۔ اور جب میں اسے کہتی ہوں کہ تم مجھ سے اتنی دنوں بعد ملنے کیوں آئے ہو تو میرو کہتا ہے کہ اگلی بار وہ جلدی آئے گا۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ نہیں آئے گا میں یقین کرلیتی ہوں۔” وہ اسے اپنے دکھ سنا رہی تھی۔
“عشنا بھی یہی کرتی ہے۔” غنایہ نے اس کے گال پر اپنی انگلی پھیری۔ “وہ بھی کہتی ہے کہ اگلی بار جلد ملاقات کرے گی مگر جاب کی تھکاوٹ کی وجہ سے بھول جاتی ہے۔۔ مگر ہم ان کا احساس نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟۔” اس موقع پر سمجھانا زیادہ بہتر تھا۔
“پھر آپ کیا کرتی ہیں؟۔” روما کو تجسس ہوا۔
“میں اسے کال کرتی ہوں اور پھر ڈھیر ساری باتیں کرکے اپنا دل بہلا لیتی ہوں۔ ملاقاتیں ضروری تو نہیں۔۔ اپنوں کی آواز ہی آپ کا دل سراب کر دیتی ہیں۔”
“مگر میرو کو وقت نہیں ملتا۔۔” چہرہ اداس ہوگیا۔
“اچھا چلو تم مجھے یہ بتاؤ کہ تمہیں اپنے بھائی سے کتنی محبت ہے؟۔” بات کا موضوع تبدیل کرتے ہوئے وہ کسی تجسس سے بولی۔ روما سوچ میں پڑ گئی۔
“میں بتا نہیں سکتی غنایہ باجی۔۔ اگر میں نے بتانا شروع کیا تو میرو کے بارے میں ہی بولتی رہوں گی۔ بس میں جب بھی اپنے بابا کو سوچنے کی کوشش کرتی ہوں مجھے میرا میرو یاد آجاتا ہے۔ میں بس چاہتی ہوں کہ اسے روز روز دیکھوں۔۔ اس سے باتیں کروں۔ وہ جب گھر آتا ہے تو میں سوچنے لگتی ہوں کہ ایک دن بعد وہ پھر سے چلا جائے گا۔۔ پھر ایک لمبا سا انتظار کروں گی۔ دل بہت اداس ہوجاتا ہے۔ وہ کہتا ہے مجھے دوست بنانے چاہئیں مگر وہ میرا دوست ہے باجی! پتا ہے جس دن اس نے اپارٹمنٹ خریدا تھا اس دن میں بہت روئی تھی کہ اب میرو چلا جائے گا۔ مزید نہ رکنے کا ارادہ ترک کر کے وہ مزید دو دن میرے پاس ہی ٹھہر گیا تھا۔ بہت سارا سمجھایا اور پھر چلا گیا۔ اس وقت میں روز رات میں رویا کرتی تھی اور میرو سے رات رات بھر کال پر بات کیا کرتی تھی۔” اس نے دور کھڑے بھائی کی پشت دیکھی جو لان میں کھڑا تھا۔
“تمہیں بہت زیادہ محبت ہے!۔” غنایہ حیرانی سے مسکرائی۔ روما نے جواباً اس کا ہاتھ تھام لیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“مجھے اس تصویر کا علم نہیں تھا۔” عشنا نے جان کر یہ ذکر نکالا۔ دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈال کر کھڑے میرویس کا دل چاہا اپنا سر شرمندگی کے مارے کسی دیوار پر دے مارے۔
“اور مجھے علم نہیں تھا کہ روما یوں ہی کہہ دے گی۔” اس نے افسوس سے سانس خارج کی۔
“کم از کم وہ میرے علم میں اضافہ تو کر گئی۔” عشنا نے گردن پھیر کر لاونج میں بیٹھی روما کو دیکھا جو غنایہ کے ساتھ مصروف تھی۔
“وہ تصویر پانچ سال پرانی ہے۔ مجھے اب یاد بھی نہیں کہ میں نے یہ کب اپنے موبائل میں محفوظ کی تھی۔۔” آستین کے کف فولڈ کرتے ہوئے اس نے کندھے اچکا کر بتایا۔
“مگر اس تصویر کا تمہارے موبائل میں ہونا پوچھنے کے لائق ہے۔”
میر مسکرا دیا۔
“تم تو سب جانتی ہو۔۔” کہتے ہوئے نگاہ اس کی جانب اٹھی۔ لہجہ ذو معنی تھا۔ “پانچ سال پرانی باتیں اب اتنی بھی پرانی نہیں عشنا۔۔ کچھ وقت پہلے روما نے میرے موبائل سے یہ تصویر ڈھونڈ نکالی اور سچ کہوں تو اس سے زیادہ حیران میں ہوا تھا۔۔ اتنے سالوں سے یہ تصویر میرے موبائل میں تھی اور میں بھول چکا تھا۔ تصویر نظر آئی تو پانچ سال پہلے کا پرانا وقت یاد آیا اور پھر۔۔” وہ تیزی سے جملہ مکمل ہی کرتا کہ ٹھہر سا گیا۔ احساس ہوا کہ وہ کچھ زیادہ ہی بولنے لگا تھا۔ عشنا اس کے یوں ٹھہرنے پر فوراً چونکی۔
“پھر؟؟۔” پوچھے بنا وہ نہ رہ سکی۔
“پھر میں نے تم سے ملاقات کی خواہش کی۔۔” وہ یہ کیوں کہہ رہا تھا اسے خود نہیں پتا تھا۔ نگاہ اس کے چہرے کے بجائے نیچے گھانس پر تھی۔ عشنا نے اس کے چہرے سے نظر ہٹائی۔ ساکت کھلی آنکھیں لاجواب تھیں۔
“اور ہم آج ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔” عشنا نے جملہ مکمل کیا۔ میرویس چاہ کر بھی کچھ نہ کہہ سکا۔۔ کاش کہ وہ بتا سکتا کہ اس کا دل اس بارے میں کیا سوچتا ہے۔
“تم ذرا نہیں بدلی۔۔ جیسے سوچتا تھا، ویسی ہی ہو۔” کافی دیر کے وقفے کے بعد وہ بے خودی سے بولا۔ عشنا نے نچلا لب کاٹا۔
“کیسا سوچتے تھے؟۔”
“یہی کہ تم جو کہتی تھی اپنی باتوں پر پورا اترو گی۔۔ ایک الگ زندگی، جاب، بہادری۔۔ جیسا سوچا تھا بلکل ویسی ہو۔” مبہم سی مسکراہٹ لبوں پر قائم تھی۔ عشنا یک دم شرمندہ ہوئی۔
“تم تو جانتے ہو۔۔ پھر بھی بہادر کہہ رہے ہو؟۔”
وہ مسکرایا اور پھر ہنس دیا۔ اس کا اشارہ اس دن ہوئے رافع والے واقعے کی جانب تھا۔
“میرا مذاق اڑا رہے ہو؟۔” عشنا اس کے یوں ہنسنے پر چونکی۔ میر کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
“تم ڈراما کرتی ہو یا واقعی مجھے نہیں جانتی؟۔” ایک آئبرو اچکا کر سوال کیا۔
“میں کچھ سمجھی نہیں۔۔۔” وہ گڑبڑائی تھی۔ میر نے گہری سانس بھر کر اسے دیکھا۔
“میرویس نے کبھی تمہارا مذاق نہیں اڑایا عشنا۔” کیا اسے یاد نہیں تھا کہ میر نے اس کے ساتھ کبھی ایسا نہیں کیا۔۔
“اب تو وقت بدل گیا ہے نا۔۔” دھیمی آواز میں کہتے ہوئے اس نے نگاہ جھکا لی۔
“وقت بدلا ہے یا میرویس؟۔” یہ سوال اچانک تھا۔ وہ ہڑبڑی میں اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔
“وقت۔۔”
“تو میرویس کیسے بدلا؟ میں نے کبھی تمہارے بارے میں برا نہیں سوچا۔۔ مذاق نہیں اڑایا۔۔ تم تو سب جانتی ہو عاشی۔۔” ان کے درمیان یہ جملہ ہی سب کچھ تھا۔۔
‘تم سب جانتے ہو۔۔’ جو ان کی ایک دوسرے سے واقفیت کو بتاتا ہے۔
“تم نے شادی کیوں نہیں کی؟۔” یہ سوال یکدم تھا۔ میر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“کیونکہ میرویس اپنی پسند تبدیل نہیں کرتا۔” ذو معنی لہجے میں کہتے ہوئے میر کی بات عشنا کے سیدھا دل پر لگی تھی۔ کتنے واضح طور پر اس نے چھپی ہوئی بات کہی تھی اور آگے بڑھ گیا تھا۔۔ ہاں وہ وہیں ٹھہر گئی تھی۔۔ ساکت اور اس کے جملے پر غور کرتے ہوئے۔ تو کیا وہ اتنے سالوں بعد بھی اسے ہی سوچا کرتا تھا؟ کیا شخص تھا جو اتنے مواقعوں کے باوجود بھی یہیں ٹھہرا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔