Tu Dil Se Na Utar Saka By Ayna Baig Readelle50173 Episode 12 Part 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12 Part 3
تو دل سے نہ اتر سکا از عینا بیگ
آخری قسط (آخری حصہ)
وہ ڈری سہمی دور کھڑی تھی جب ساویز اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ہاتھ میں چاقو تھا مگر ہاتھ لرز رہے تھے۔
“یہ تم کیا کر رہے ہو؟” وہ گھبرا کر اپنی دھیمی آواز میں بولی تھی جب ساویز اس کے بلکل نزدیک آکر کھڑا ہوگیا۔
“اس شخص کی عورت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہوں جس نے میری عورت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی۔۔” اس کی آواز پر پریزے کی پلکیں لرزی تھیں۔ اس نے تیزی سے آنکھیں موند لیں۔۔ جیسے وہ واقعی ماردینے والا ہو۔ کچھ لمحے مزید بیت گئے اور پریزے کو یقین آگیا کہ اب وہ اسے کبھی بھی ماردے گا۔ یکدم ہی کچھ گرنے کی آواز پر اس نے سہم کر آنکھیں کھولیں۔ وہ چاقو پوری قوت سے زمین پر پھینک چکا تھا۔ چند لمحے اور پھر وہ الٹے قدموں سے اس سے دور ہوتا چلا گیا۔ اتنا دور کے پشت دیوار سے ٹکرا گئی۔
“مگر میں یہ کبھی نہیں کرسکتا کیونکہ میں وجاہت سلطان نہیں۔۔” سرخ آنکھیں نم ہونے لگیں۔ “میں کسی عورت کا استعمال نہیں کرتا کیونکہ میں ساویز خانزادہ ہوں۔”
“وجاہت نے پھر کچھ کیا ہے؟” چہرہ ششدر ہوگیا۔
“پھر کچھ؟” وہ چیخا۔ “میری سانسوں کی ڈور جس سے بندھی ہوئی ہے وہ ہسپتال میں ہے پریزے۔” لہجہ گیلا ہونے لگا۔ اس کی گھمبیر آواز بلند تھی جب پریزے نے تھوک نگلا۔ “اس کا خون میرے ہاتھوں پر لگا ہوا ہے۔” آواز بھیگنے لگی۔ اس نے ہاتھ آگے کیا جہاں واقعی اس کے بازو پر خون کے سرخ نشانات تھے۔ پریزے کی سانسیں رکنے لگیں۔ کیا وجاہت نے ایک بار پھر وعدہ خلافی کی؟ وہ بوکھلا کر دور ہٹی جب ساویز دیوار کے سارے نیچے بیٹھ گیا۔
“سوچا تھا تمہیں زخمی کر کے بدلہ پورا کردوں گا مگر میں واقعی ایسا نہیں کر سکتا پریزے۔” اس نے جب ساویز کو روتے دیکھا تو دل لرز اٹھا۔ “کیونکہ میں اتنا کمزور مرد نہیں کہ اپنے دشمن کی گھر والی پر ہاتھ ڈالوں۔” وہ چیخ کر پیشانی پر ایک ہاتھ رکھتے ہوئے بچوں کی طرح رو پڑا۔ یکدم ہی موبائل کال آنے کے باعث بج اٹھا۔ ساویز نے جیب سے موبائل نکال کر چمکتی اسکرین پر میرویس کا نام پڑھا تھا۔ پریزے نے اسے کال اٹھانے سے قبل آنسوؤں پر ضبط کرتے ہوئے دیکھا۔ وہ ساویز کا دکھ جیسے خود پر محسوس کر رہی تھی۔ دل تکلیف سے گھرا ہوا تھا۔ ایک مضبوط چٹان کے مانند مرد کو روتے ہوئے دیکھنا بھی کتنا محال تھا۔
“غنایہ کیسی ہے؟” آگے سے کسی آواز کا انتظار کیے بغیر وہ تیزی سے بولا۔
“میں نے تجھ سے کہا تھا نا سب ٹھیک ہو جائے گا؟ وہ خطرے سے باہر ہے اور بہت جلد ہی ہوش میں آنے والی ہے۔” اس کی خوشی سے بھری آواز پر ساویز کے وجود میں سکون بھری لہر دوڑی تھی۔ پریزے نے اس کو تکلیف سے مسکراتے دیکھا۔ آنسو رخسار پر ہی ٹھہر گئے۔
“اور میرا بچہ؟” یہ وہ سوال تھا جس کے جواب کے لئے پریزے بھی انتظار کر رہی تھی۔ کاش اس کا بچہ بچ جائے۔
“تو ہسپتال آجا ہم وہاں بات کرتے ہیں۔” میرویس نے بات گھمادی اور اس کا یوں بات گھمانا ساویز واضح محسوس کر گیا۔
“میر میرا بچہ؟” اس بار اپنے الفاظوں پر اس نے زور دیا تھا۔ دوسری جانب خاموشی چھا گئی۔ پریزے کی سانسیں اٹک گئیں۔
“ڈاکٹرز نے کافی کوشش کی مگر یہ سب ممکن نہ ہو سکا۔” اس کے یہ الفاظ تھے یا خنجر۔۔ جو ساویز کو بری طرح زخمی کر گئے تھے۔ “تم ہسپتال آرہے ہو ہونا؟” دوسرے ہی لمحے میرویس نے تیزی سے پوچھا تھا۔
“مجھے وجاہت سے ملنا ہے۔” اس نے کہتے ہی کال رکھ دی۔ ماحول میں ایک بار پھر سے خاموشی چھا گئی۔
“مجھے بہت افسوس ہے ساویز۔” وہ ہمیشہ سے ہی اتنی حساس تھی۔ آنکھوں میں آنسو آگئے۔
“تمہارے افسوس کرنے سے کیا وہ سب واپس آجائے گا۔”سر تکلیف کی شدت سے پھٹ جانے کو تھا اور دل۔۔۔ دل کا تو کیا ہی کہنے! “میں بہت خوش تھا اور آج صحیح معنوں میں میری خوشی چھین لی گئی پریزے۔” ہچکیاں بندھنے لگیں۔ پھر یوں ہوا کہ وہ پورے پندرہ منٹ تک یونہی تکلیف سے بکھر کر روتا رہا۔ پریزے سامنے والی دیوار کے سہارے نیچے بیٹھ کر اس کو روتے دیکھ رہی تھی۔
“میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے ایک دن یوں رونا پڑے گا۔” دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر وہ اپنی تکلیف کسی طرح سے کم کرنا چاہتا تھا۔ “میرا سب کچھ برباد ہوگیا۔ سب ختم ہوگیا۔۔ میری بیوی موت کی دہلیز چھو کر واپس آگئی اور دیکھو کوئی مجھ جیسا کمزور مرد۔۔ میں اپنی بیوی کی حفاظت بھی نہ کر سکا۔” آواز بلند ہورہی تھی۔ سسکیاں گونج رہی تھی اور پریزے آج خود کو لاچار محسوس کر رہی تھی۔
پندرہ منٹ بعد اب حالات تھوڑے مختلف تھے۔ وہ دیوار سے سر ٹکائے گم صم سامنے دیکھ رہا تھا۔ پریزے فرش کے کسی نکتے کو تک رہی تھی۔
“سوری۔” اس کی گھمبیر آواز ابھری تو پریزے نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔
“کس لیے؟”
“مجھے تمہیں یہاں نہیں لانا چاہئیے تھا۔”
پریزے نے جواب نہیں دیا۔
“تم جا سکتی ہو۔” ساویز ایک بار پھر بولا تو پریزے نے پھر سے اسے بغور دیکھا۔ “میں وجاہت سے ملنے جا رہا ہوں۔ ڈرائیور بھی بلوا رہا ہوں تم اس کے ساتھ اپنے گھر چلی جانا۔” وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا تو پریزے بھی اس کی دیکھا دیکھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
“میں تمہارے ساتھ وجاہت کے پاس جاؤں گی۔” لہجے میں روانگی تھی۔
“ضد مت کرو پریزے۔” وہ برہم ہوا تو پریزے نے بھی اس کی آنکھوں میں مضبوطی سے دیکھا۔
“میں وجاہت کی بیوی ہوں اور مجھے اس کے پاس جانا ہے۔” ایک نظر اسے گھورتے ہوئے وہ باہر اس کی گاڑی کے پاس آکھڑی ہوئی۔ ساویز نے بوجھل ہوتے دل و دماغ سے گہری سانس باہر خارج کی اور پیچھے بڑھ گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“کہاں جا رہے ہو؟” عشنا اس کے پیچھے آئی تھی۔
“وجاہت کے پاس جا رہا ہوں۔ تھوڑی دیر آتا ہوں۔”
“میں بھی چلوں گی۔”
“پاگل مت بنو عاشی۔” اس نے جواباً گھورا تھا۔
“میں چلوں گی تمہارے ساتھ میرویس۔۔ اس سب میں میری بہن نے نقصان اٹھایا ہے تو پھر کیوں نہ جاؤں میں ساتھ؟” لہجہ ضدی تھا۔
“میں ساویز کی وجہ سے جا رہا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اب وہاں کیا ہونے والا ہے۔ تم خاموشی سے یہیں بیٹھو گی!” اسے سختی سے تاکید کرتا ہوا وہ مڑنے لگا جب عشنا نے بازو پکڑ کر روکا۔
“پلیز۔” لہجہ میں اصرار تھا تو وہ لب بھینچتا رہ گیا۔
“جاؤ بیٹھو گاڑی میں جا کر۔۔” آنکھیں دکھاتا ہوا وہ اکتائے لہجے میں بولا تو وہ اس کے ہمراہ باہر کی جانب بڑھ گئی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
گھر کا دروازہ چوکیدار نے کھولا تھا جب وہ ساویز کے ہمراہ اندر داخل ہوئی تھی۔
“وجاہت!” لاؤنج میں پہنچ کر وہ پوری قوت سے دھاڑا۔ پریزے نے اس کا چہرہ دیکھا جو غصے سے لال بھبھوکا ہورہا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں وجاہت حیران ہوتا ہوا کمرے سے باہر آیا۔
“تم؟” وہ زینے اترتا ہوا نیچے پہنچا۔ ساتھ کھڑی پریزے کی موجودگی اس کو بری طرح چونکا گئی۔
“تم نے ایسا کیوں کیا وجاہت؟” اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ “تم نے ایک بار پھر اپنا وعدہ توڑ ڈالا۔” اسے دکھ تھا کہ وجاہت اپنے وعدے کا مان بھی رکھ سکا۔ جبکہ وجاہت تو دونوں کو دیکھ کر بوکھلایا تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
ساویز بڑھ کر وجاہت کا گریبان پکڑا۔ آنکھوں سے آنسو تیزی سے بہہ نکلے۔
“وجاہت۔” لہجہ گھمبیر مگر گیلا تھا۔ “یاد ہے تم نے مجھے ایک دفعہ کہا تھا کہ تم مجھے اتنی اذیت دو گے کہ میں اپنا جرم قبول کرلوں گا۔” پیشانی پر گہرے غم کے بل تھے۔ وجاہت ششدر کھڑا تھا۔ اس نے ایک بار بھی ساویز کا ہاتھ گریبان سے نہ ہٹایا۔ پیچھے حواس باختہ خرم لاؤنج میں داخل ہوا تھا اور داخل ہوتے ہی ساتھ اسے احساس ہوا کہ وہ بہت غلط وقت پر آگیا ہے۔ آنکھیں حالات کی سنگینی دیکھ کر پھٹنے کو ہوئیں۔ وجاہت اسے دیکھ چکا تھا اور اب لاونج سے بھاگنا ممکن نہیں تھا۔ چہرہ سفید لٹھے کی مانند ہوگیا۔ اس نے یکدم ہی خشک لبوں پر زبان پھیری۔ عادل وجاہت کی حفاظت کے لیے لاؤنج میں داخل ہوا تھا اور اب سٹپٹائے خرم کو دیکھ کر اسے سر تا پیر دیکھ رہا تھا۔ ساویز بول نہیں رہا تھا’ دھاڑ رہا تھا اور وجاہت اس کی بات پر بلکل خاموش کھڑا تھا۔
“اور دیکھو ذرا تم نے واقعی بہت اذیت دے دی ہے کہ آج میرا دل چاہ رہا ہے میں اپنی جان لے لوں۔” بری طرح وجاہت کو جھنجھوڑتے ہوئے وہ بیچارگی سے بولا۔ پریزے دور کھڑی دونوں کو تکلیف سے دیکھ رہی تھی۔ وجاہت نے اب کی بار بھی کچھ نہ کہا۔۔ اس کے مطابق شاید ساویز اپنی پرانی بھڑاس نکالنا چاہتا تھا۔ پچھتاوا اسے گھیرنے لگا۔
“آج کی تکلیف سب تکلیفوں پر بھاری ثابت ہورہی ہے۔” وہ تھک چکا تھا۔ وجاہت نے اس کی بات پر تیزی سے نگاہ اٹھائی۔ ‘آج کی تکلیف؟’
“کیا ہوا ہے؟” یقیناً معاملہ وہ نہیں تھا جو وجاہت سمجھ رہا تھا۔ خرم کے چہرے کا رنگ بدلا۔ یکدم ہی ساویز ہنس پڑا۔
“ڈرامہ بند کرو یار! آج میں خود تمہارے پاس آیا ہوں وہ جرم قبول کرنے۔۔” اسے دھکا دیتے ہوئے وہ دور ہٹا۔ ساویز نے ساتھ ہی خرم کو دیکھا جو بری طرح سہما ہوا تھا۔ وجاہت اس کے لفظوں پر ٹھہر گیا۔ پیچھے داخل ہوتے میرویس اور عشنا ٹھٹھکے۔ ساویز کے لبوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی۔
“میں جرم قبول کرتا ہوں کہ اس رات وہ گولی میں نے ہی چلائی تھی۔ ہاں اس کہانی کا اہم کردار میں ہوں۔ تم خود کو ولن کہتے تھے وجاہت۔۔ چلو آج میں خود کو ہیرو کہتا ہوں۔ ایک اہم اور ضروری کردار جس کی وجہ سے یہ کہانی چل رہی ہے۔” اس کی آواز پر خرم کے سوا سب کے اوسان خطا ہوئے تھے۔ میرویس کے ماتھے پر بل پڑے۔
“کیا بکواس ہے یہ؟ حالات سے مجبور ہو کر تم اب جھوٹ قبول کرو گے؟” میر غصے سے چیخا تو ساویز نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا۔
“یہ کوئی جھوٹ نہیں میرویس۔”
میرویس کی آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہوئیں۔ اس نے عشنا کو اپنے پیچھے کیا جیسے حفاظت کر رہا ہو۔
“کک۔کیا کہا تم نے۔۔” وجاہت ششدر کھڑا تھا اور بے یقین تو پریزے بھی تھی۔
“کائنہ کو گولی میں نے ہی ماری تھی۔۔ جانتے ہو کہاں؟” لہجہ طنزیہ تھا۔ “یہاں! بلکل ٹھیک کندھے پر۔۔” اس نے اپنے کندھے کی جانب اشارہ کیا۔ وجاہت کی چال لڑکھڑانے لگی۔
“اس رات’ ہاں میں تم سے ملنے آیا تھا کیونکہ میں اس دوستی کو ختم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ تمہاری بہن کائنہ کی عادتوں سے پہلے بھی واقف تھا۔ اس کا یوں کلب پارٹیز میں جانا صرف تمہاری ہی نگاہوں سے چھپا تھا وجاہت ورنہ کون نہیں جانتا تھا اور تم چاہتے تھے میں ایسی لڑکی سے شادی کروں جس کے چہرے کو روز ایک الگ مرد چھوا کرتا تھا؟” وہ جیسے زہر اگل رہا تھا۔ سب ساکت کھڑے تھے۔
“ایسا مت کہو ساویز۔” وجاہت تڑپ کر چیخا۔
“میں تم سے کبھی کہہ نہیں پایا مگر ہاں تم ایک اچھے بھائی ضرور تھے جس نے اپنی بہن کی ہر خواہش پوری کی مگر تم اس کی تربیت نہ کر سکے۔ میں نے کبھی کسی غیر لڑکی کو نہیں چھوا۔ دنیا جانتی ہے ساویز خانزادہ کس طرح کا مرد ہے۔ ساری زندگی میں نے اپنے کردار کو صاف رکھا اور تمہاری بہن ایک پل میں میرا کردار داغ دار کرنے چلی تھی۔”
۔۔۔★★★۔۔۔
“تم مجھ سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتے؟” وہ وجاہت کے کمرے کے باہر کھڑا تھا جب کائنہ نے اس سے پوچھا تھا۔ ساویز نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا اور دوبارہ اپنے موبائل پر مرکوز کرلیں۔
“میں جا رہا ہوں۔ وجاہت آئے تو اسے میرے آنے کا بتادینا۔” اس کا جواب دیے بغیر وہ اپنی بات کرتا ہوا جانے لگا تھا جب کائنہ کے اصرار پر رکا۔
“اچھا پلیز دو منٹ ٹھہرو۔ وجاہت نے تمہیں دینے کے لیے کچھ رکھوایا تھا۔ میں اندر سے لاتی ہوں۔” اسے ٹھہرنا پڑا تھا۔ چند منٹ گزرنے کے بعد وہ میز کی جانب آگیا اور دراز کھول کر وجاہت کی پستول دیکھنے لگا۔ یہ وہی پستول تھی جسے وجاہت نے ایک بار ساویز کو تحفے میں دینی چاہی تھی مگر ساویز نے منع کردیا تھا کیونکہ وہ ایسے ہتھیار اپنے گھر میں نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ اس میز کی درازوں میں اور بھی کئی ہتھیار تھے مگر اسے ہمیشہ یہی بھاتا تھا۔
“ساویز۔” کائنہ کی آواز پر وہ میز کے اوپر پستول رکھتا ہوا پلٹا۔ نگاہ اس کے وجود پر پڑی تو خفت سے چہرہ سرخ ہوگیا۔ وہ جس حلیے میں تھی ساویز نے تیزی سے نگاہ دوسری جانب کی تھی۔
“یہ کیا فحاشی ہے؟” وہ چیخا تھا۔
“تو پھر شادی کے لیے مان کیوں نہیں جاتے؟” وہ مسکرا رہی تھی۔ اپنے کپڑوں کو کندھے، بازوؤں اور جگہ جگہ سے تھوڑا پھاڑ کر وہ اس کے سامنے کھڑی تھی۔ “بہت عزت دار مرد بنتے ہو نا تم؟ سوچو اگر یہاں کوئی آگیا تو کیا سمجھے گا؟ کہ ساویز خانزادہ اپنے دوست وجاہت سلطان کی بہن کی عزت سے کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔” وہ بے حیائی سے ایک ادا سے کھڑی ہوتی ہوئی مسکرائی۔ ساویز کا چہرہ لال بھبھوکا ہوا۔ ایک عجیب سا ڈر دل میں پھیلنے لگا۔
“تم جیسی بے حیا لڑکیاں اور کر بھی کیا سکتی ہیں۔” وہ وہاں سے نکلنا چاہتا تھا مگر زینوں کی جانب وہ آکھڑی ہوئی تھی۔
“جانے کی کوشش مت کرنا ورنہ میں چیخ چیخ کر سب کو اکھٹا کرلوں گی اور کہوں کہ دیکھو میرے ساتھ ساویز نے کیا کیا۔” وہ کانفیڈنٹ کھڑی تھی۔ زندگی میں پہلی بار وہ ایک لڑکی کی وجہ سے ڈر کر پیچھے ہٹا تھا۔ اپنے کردار پر کوئی بات برداشت کرنا اس کے لیے سب سے مشکل ترین مرحلہ تھا۔ اتنا دور ہوا کہ میز سے ٹکرا دیا۔ اوپر رکھی پستول نظر آئی تو اس نے کائنہ کو دھمکانے کے لیے اس کا رخ کائنہ کی جانب کیا۔
“مجھ سے دور رہو ورنہ یہ چل جائے گی۔” گولی چلانے کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ بس دھمکا رہا تھا کہ شاید وہ مان جائے۔
کائنہ ہنس پڑی۔
“تمہیں لگتا ہے تم گولی چلاؤ گے؟ تم نے کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا تم کسی کو سیدھا جان سے ماردو گے؟” وہ اس کے نزدیک آرہی تھی۔ وہ دونوں بے خبر تھے کہ تیسری آنکھ بھی انہیں دیکھ رہی ہے۔
“میرے قریب مت آنا۔” وہ وارن کر رہا تھا۔ گولی کا نشانہ کائنہ پر تھا۔
“بہت شرافت شرافت کھیل لی تم نے۔۔ مجھے ریجیکٹ کرنا چاہتے تھے تم؟ میں نے تو بیرسٹر محمود کے بیٹے کو تھپڑ مارنے سے پہلے نہ سوچا اور تم سمجھتے ہو کہ مجھے ریجیکٹ کرو گے۔” اس نے اپنے بازو کی جانب سے پھٹا ہوا کپڑا مزید پھاڑا۔
“کائنہ ایسا مت کرو۔” وہ واقعی سہم گیا تھا۔ اس کی عزت اس کی شرافت سب داغ دار ہونے جا رہا تھا۔
“تمہیں شادی سے انکار کرنے سے پہلے سوچنا چاہئیے تھا۔” یکدم ہی یہ سب کہتے ہوئے چیخنے لگی۔ “ایسا مت کرو ساویز۔۔ خدارا ایسا مت کرو۔۔ میری عزت میرے لیے بہت معنی رکھتی ہے۔” وہ روتے روتے چیخ پڑی۔ ساویز بھونچکا رہ گیا۔ بہت جلد اس کی آواز مزید اونچی ہونے والی تھی پھر یقیناً سارے گارڈز اکھٹے ہوجائیں گے۔ وہ اتنا زیادہ بوکھلایا ہوا تھا کہ کب اس کے ہاتھ میں موجود گولی چلی اور دوسرے ہی لمحے کائنہ فرش پر گر گئی۔ سائلنسر کی وجہ سے آواز پیدا نہ ہوسکی۔ کندھے سے نکل کر بہتا خون ساویز کے ہوش اڑانے کے لیے کافی تھا۔ وہ تکلیف سے بری طرح کراہ رہی تھی اور جلد تھا کہ نقاہت سے آنکھیں موند لیتی۔ ساویز کو کچھ سمجھ نہ آیا تو پستول وہیں پھینک کر اوپر کی جانب تیزی سے بڑھ گیا۔ اس کی سانسیں بری طرح پھولی ہوئی تھیں۔ یہ کیا ہوگیا تھا۔ اس کے ہاتھوں سے پستول چل پڑی تھی۔ منہ پر بے ساختہ ہاتھ گیا تھا اور وہ اس لمحے پر یقین کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ دماغ نے ساتھ دینا چھوڑ دیا۔ دو منٹ گزرے تھے جب وہ دوبارہ نیچے بڑھا۔ وہ یہاں سے نکلنا چاہتا تھا مگر اس کے ضمیر اجازت نہیں دی۔ کائنہ زندہ تھی۔ وہ اسے ہسپتال لے جانے کے ارادے سے دوبارہ وہاں داخل ہورہا تھا جب دروازہ پر ہی رک گیا۔ اس کے زخمی وجود کے ساتھ خرم کھڑا تھا۔ اس کی ساویز کی جانب پشت تھی۔ کائنہ کی تکلیف دہ آنکھیں خرم پر تھیں۔ اگلا لمحہ قیامت خیز تھا کہ ساویز کے حواس جھنجھنا گئے۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“وہ مری نہیں تھی۔۔ زندہ تھی۔ اس کے سینے میں سانسیں اس وقت بھی چل رہی تھیں۔” وہ بتاتا جا رہا تھا اور وجاہت صوفے پر لڑکھڑا کر وہیں بیٹھ گیا تھا۔ خرم نے باہر نکلنا چاہا جب عادل اسے قابو کیا۔۔ میرویس اور عشنا کی ساکت نگاہوں میں ذرا بھی ہلچل نہ ہوئی۔
“جب میں پہنچا تو وہاں خرم پہلے سے موجود تھا اور اس کے ہاتھ میں وہی پستول تھی جو میرے ہاتھ سے کائنہ کے کندھے پر چلی تھی۔” وجاہت کی نگاہیں گھوم کر خرم کی جانب اٹھی تھیں۔ خرم کا چہرہ اب خوف سے سیاہ پڑ رہا تھا۔
“تین گولیاں اور کائنہ کی سانسیں چھین لی گئیں۔” وہ تلخی سے بولتا ہوا خرم کو دیکھنے لگا۔ وجاہت کا وجود نڈھال پڑ گیا۔ پریزے کا ہاتھ منہ تک جا چکا تھا۔ خرم نے پھر سے بھاگنا چاہا مگر اس بار عادل کی مدد میرویس نے کی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
خرم نے اسی سائلنسر والی پستول سے تین گولیاں کائنہ کے وجود میں اتاری تھیں۔ اس کا چہرہ نفرت کے تاثر سے بگڑا ہوا تھا۔ ساویز وہیں ٹھہر گیا۔ دو گولیاں سینے میں اتاری گئیں اور ایک کندھے پر۔۔ کائنہ سینے پر پڑنے والی پہلی گولی سے ہی بے دم ہوگئی تھی۔ یکدم ہی وجاہت کی گاڑی کا ہارن بجا تھا۔ جہاں خرم سٹپٹایا وہیں ساویز کو لگا اب اسے جانا چاہئیے۔ خرم کی نگاہوں سے بچتا ہوا وہ اپنی جیب سے رومال نکال کر گھر کے پچھلے حصے میں بڑھا۔ آنگن میں کھڑے ہوتے ہوئے وہ وجاہت کے اندر جانے کا انتظار کر رہا تھا۔ ساویز کو اس سب کے بعد خبر نہیں تھی کہ خرم نے خود کو کہاں غائب کیا۔ وجاہت گیٹ سے اندر داخل ہوا اور چلتا ہوا کوریڈور میں بڑھ گیا۔ ساویز بہت مشکل سے وہاں سے نکلا تھا۔ یکدم ہی چیخ کی آواز آئی اور اس نے پیچھے مڑ کر لاونج کے دروازے پر دیکھا جہاں وجاہت اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ چہرے پر رومال باندھ کر وہ وجاہت کو تکنے لگا۔ اس کی بھوری آنکھوں کی چمک وجاہت سے چھپ نہ سکی تھی۔ بغیر رکے وہ باہر نکل گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“اس نے اپنے کپڑے میری آنکھوں کے سامنے ریزہ ریزہ کیے تھے۔ وہ مجھ پر بدکرداری الزام لگانا چاہتی تھی تاکہ مجھے مجبوراََ اس سے شادی کے لیے حامی بھرنی پڑے۔ ساویز خانزادہ ہر چیز برداشت کرسکتا ہے سوائے اس کے کہ اس کی عزت پر ہاتھ ڈالا جائے۔ میں نے تم سے آج تک کئی باتیں چھپائیں وجاہت تاکہ تمہیں دکھ نہ ہو۔ جس دن تم اپنے بزنس کے حوالے سے قدرے پریشان تھے’ اسی دن میں نے اس کی کسی دوست کے گھر سے اسے نشے میں دھت نکلتے دیکھا تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب مجھے کائنہ سے پہلی بار نفرت محسوس ہوئی۔ وہ مجھے اتنی بری لگی کہ میرا دل چاہا تمہیں اس کی سارے مشغلے بتادوں مگر میرویس نے مجھے منع کیا تھا۔” اس نے ایک نظر میرویس کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ “میں تمہارا دوست تھا۔۔ اور دوست تکلیف تو نہیں دیتے۔”
“کائنہ۔۔” وجاہت تکلیف سے بولا۔ پریزے اس کے قریب بیٹھ گئی۔
“میری گولی سے وہ مری نہیں تھی۔ اس لیے میں قاتل نہیں کہلایا جاؤں گا۔ میں نے جھوٹ نہیں کہا تھا۔۔ میں سچ ہی کہتا تھا کہ میں قاتل نہیں۔۔ البتہ خرم کی گولیوں نے اس کی جان لے لی’ اور میں اتنے سارے مہینوں میں سوچتا ہی رہا کہ خرم نے اسے کیوں مارا۔” اس نے خرم کو دیکھا جس کے ہونٹ بار بار خشک ہورہے تھے۔ “پھر مجھے معلوم ہوا کہ خرم کائنہ سے محبت کرتا تھا۔ جب اسے میری جانب لپکتے دیکھا تو خرم کو نفرت ہونے لگی۔ کیوں خرم؟ اپنی محبت کی داستان نہیں سناؤ گے؟” اس کا طنزیہ لہجہ خرم کو طیش دلا گیا۔
“ہاں کرتا تھا میں اسے پسند اور چاہتا تھا کہ وہ مجھے ہی دیکھے مگر جس دن اس نے تم سے محبت کا اظہار کیا مجھے تم دونوں سے نفرت ہوگئی۔ چاہتا رہا کہ کسی طرح اسے اپنی جانب راغب کرلوں مگر یہ سب تو ناممکن ہی رہا۔ تو میں نے اس کا وجود زمین میں گاڑنے کے لیے گولیاں چلا دیں۔” وہ نفرت سے مسکرایا۔
وجاہت کے لیے سب سے تکلیف دہ خرم ثابت ہوا۔ جس شخص پر وہ سالوں سے اعتبار کرتا رہا اس شخص نے ہی اسے بہت قریب سے ڈس لیا تھا۔ ہاں ساویز ٹھیک کہتا تھا۔۔ جنہیں وہ اپنا سمجھتا ہے وہی اس کے دشمن تھے۔ عشنا نے میرویس کا بازو سختی سے پکڑا ہوا تھا۔
“اسی پستول سے ماری جسے ساویز نے پہلے چلائی تھی اور یوں سارا قتل کا الزام ان کتنے مہینوں میں ساویز پر ڈال دیا۔ اس کے بعد جو بھی سب ہوا اس میں حسن بھی شامل تھا۔” وہ استہزائیہ ہنس دیا۔ خرم اکیلے نہیں پھنسنا چاہتا تھا۔ “جانتے ہو وہاج کیسے مرا؟ وہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔ کمینہ ہماری باتیں سن کر وجاہت کو سب سچ بتانے نکلا تھا مگر ہم سے بچ نہ سکا۔ اس کے وہ سنہرے الفاظ اب بھی مجھے یاد ہیں۔ ‘میں مرنا نہیں چاہتا’ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ موت اس کے سامنے کھڑی ہے۔” خباثت سے کہتا ہوا وہ مسکرا کر بتا رہا تھا۔ جہاں وجاہت کی تکلیف میں اضافہ ہوا وہیں ساویز اور میرویس نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
“میں نے کہا تھا نا میر! میں نے تم سے کہا تھا کہ یہ حادثہ نہیں۔۔ یہ قتل ہے۔” ساویز نے اسے یاد دلایا تو میرویس نے بےیقینی سے خرم کو دیکھا۔
“اسے تم نے مارا۔” اس نے خرم کا چہرہ بے دردی سے اوپر کر کے پوچھا۔
“میں نے اسے پل سے دکھا دے دیا تھا۔ وہ کھائی میں گر کر مرنا نہیں چاہتا تھا مگر مجھے کرنا پڑا اور مجھے کوئی افسوس نہیں۔ افسوس تو مجھے آج کے لیے بھی نہیں جب غنایہ گاڑی سے کود کر موت کی دہلیز پر جا کھڑی ہوئی۔” میرویس نے پوری قوت سے اس کے چہرے پر مکا مارا تھا۔ وہ کراہ کر دور ہٹا۔ ساویز ششدر رہ گیا۔ وجاہت نے نگاہ اٹھا کر دونوں کو باری باری دیکھا۔
“میرا بچہ۔۔” وہ تکلیف سے دور ہٹا۔
“ہاں خبر ملی تھی مجھ کو وہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی مر گیا۔” تڑخ کر کہنے کے بعد اس نے میرویس سے ایک گھونسا کھایا تھا۔ پریزے نے بغیر کچھ سوچے سمجھے پولیس کو کال ملائی۔ ساویز کی سانسیں بکھرنے لگیں۔ اسے یکدم ہی غنایہ پوری شدت سے یاد آنے لگی تو بھیگی آنکھوں سے باہر نکل گیا۔ خرم اب عادل کے قابو میں تھا اور میرویس مزید یہاں عشنا کو ٹھہرنے نہیں دینا چاہتا تھا۔ اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے وہ سن کھڑی عشنا کو کھینچتا ہوا باہر بڑھا۔
“ایسے مت جاؤ ساویز۔” اس وقت گاڑی ڈرائیو کرنا ٹھیک نہیں تھا۔
“چھوڑو مجھے۔۔” وہ چیخا مگر میر ہی تھا جو اسے سنبھال سکتا تھا۔ بغیر کچھ کہے اس نے دوست کو گلے لگایا۔
“میر۔۔” اس کے کندھے پر اپنا بوجھل سر رکھتے ہوئے وہ تکلیف سے کرایا۔
“میں یہیں پر ہوں۔ ہمیشہ تمہارے ساتھ۔”
“سب ختم ہوگیا میر۔۔” مضبوط ارادوں اور بلند حوصلوں والا مرد آج ٹوٹ گیا تھا۔ عشنا کے آنسو تھے کہ رک ہی نہیں رہے تھے۔ “میں غنایہ کی حفاظت نہ کر سکا۔ اب تک جتنی بھی تکلیفیں آئیں’ سب میری وجہ سے۔” وہ رورہا تھا۔ تکلیف اسے مار رہی تھی۔
“تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔ اب سب کچھ ٹھیک ہے۔ پولیس خرم کے لیے آنے والی ہے۔ اور غنایہ بھی تو تمہارا انتظار کر رہی ہوگی۔” اس کے کندھے کو ہاتھ سے تھتھپاتے ہوئے وہ اسے تسلی دے رہا تھا۔
“میں اس کے پاس جا رہا ہوں۔ اسے میری ضرورت ہے۔” وہ گاڑی میں بیٹھنے لگا جب میرویس نے اسے دوسری طرف بیٹھنے کا اشارہ دیا۔
“ڈرائیو میں کرتا ہوں۔” کہتے ساتھ ہی اس نے عشنا کو دیکھا جو دونوں کو ہونقوں کی طرح دیکھ رہی تھی۔
“تمہیں یہیں رہنا ہے؟” میرویس کی دو آنکھوں سے گھورا تو وہ گڑبڑائی۔
“نہیں۔”
“تو پھر بیٹھ جاؤ۔” اسے اشارے دینے پر وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی پیچھے بیٹھنے بڑھنے لگی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
وہ جانتی تھی اس کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا۔ ساری رات اسے تسلیاں دیتے ہوئے دن ہوگیا مگر وہ خود کو تسلی دینا بھول گیا۔ غنایہ کافی حد تک بہتر تھی۔ حالات بہتر تھے مگر دل وہیں ٹھہرا تھا۔ عشنا کے کافی سمجھانے پر غنایہ بھی اس کو قسمت کا حصہ سمجھ کر خاموش ہوگئی۔ ایک ہفتہ مزید بیت گیا۔ خرم تھانے میں تھا اس کا کیس کورٹ میں چل رہا تھا۔ ان سارے کاموں کو صرف ایک شخص سنبھال سکتا تھا۔۔ اور وہ تھا وجاہت! دو لوگوں کے قاتل کو زندہ نہیں رہنے دینا چاہتا تھا۔ خرم پھنسا تو اپنے ساتھ حسن کو بھی پھنسوا کر اپنے ساتھ لے گیا۔ میرویس اور عشنا کی روٹین اب دوبارہ سکون میں آگئی۔ گویا زندگی کی پٹری اب سیدھی تھی۔
اب نہ کسی کی زندگی میں کوئی رکاوٹ آنے والی تھی اور نہ کسی دشمنی کسی کی زندگی برباد کرنے والی تھی۔
مگر ایک غم تھا جس میں دو لوگ اب بھی ڈوبے ہوئے تھے۔ کائنہ جو بھی تھی، جیسی بھی تھی’ وجاہت کی بہن تھی۔ ہاں وہ اس کے مشغلے اور عادتوں کو سن کر دکھی تھا مگر اس سے محبت دل میں کم نہیں ہوئی تھی۔ اس کے دل کا ایک حصہ کائنہ کے نام تھا جہاں وہ محفوظ تھی۔
ہاتھ میں آجانے سے پہلے ہی چھوٹے وجود کو کھو دینا اس کا زندگی کا سب سے بڑا غم ثابت ہوا تھا۔ جو شاپنگ اور تیاری اس نے نئے فرد کے لیے کی تھی وہ اب باعثِ اذیت تھی۔ وارڈروب کھولتے، بند کرتے ہوئے اسے وہ سامان نظر آتا تھا اور وہ ہمیشہ کی طرح نڈھال ہونے لگتا تھا۔ غنایہ کے ایکسیڈنٹ پر وہ آخری دن تھا جب وہ کھل کر رویا تھا۔
بلکل کسی بچے کی مانند۔۔ اس سب کے بعد وہ دکھی اور غمگین ضرور ہوتا مگر آنسو نہ نکلتے۔ غنایہ گھر آچکی تھی اور تقی اس کی خدمت اور تیمارداری میں کوئی کمی نہیں کر رہے تھے۔ روز اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں بھینچ کر ساویز سویا کرتا تھا اور گزرتے وقت کے ساتھ یہ عادت بن رہی تھی۔
جس دن خرم نے اپنا جرم قبول کیا’ اس کے اگلے دن ہی وجاہت بیوی کے آگے رو پڑا۔۔ ان سب رازوں سے پردہ اٹھنے میں جتنا وقت لگا تھا’ اتنی ہی تکلیف وجاہت کو ہورہی تھی۔ ایک شخص جو چوبیس گھنٹے آس پاس تھا اسی نے بہت صفائی سے اسے ڈسا تھا۔
وہ روتا جارہا تھا اور کہتا جا رہا تھا کہ وجاہت اپنی بہن کی اچھی تربیت نہ کر سکا۔ اس کی خواہشات پوری کرنا ہی صرف اس کا فرض نہیں تھا۔ وہ اسے اچھے اور برے میں تمیز نہ سکھا سکا۔ باقاعدہ زندگی میں اب کوئی ملال تو نہ تھا مگر ہاں وہ ایک بار ساویز سے ملنا چاہتا تھا اور اس سب کے لیے وہ ایک مخصوص دن کا انتظار کر رہا تھا۔
ہاں میرویس وہیں ٹھہرا تھا۔ دن گزر رہے تھے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ عشنا کو پہلے سے زیادہ تنگ کرتا اور اتنا تنگ کرتا کہ وہ جب اس پر غصہ کرنے کی کوشش کرتی تو خود ہی ہنس پڑتی۔ اب نہ کسی چیز کی فکر تھی نہ پریشانی۔۔
غنایہ اب مکمل صحت مند اور خوشیوں کی جانب دوبارہ لوٹ آئی تھی۔ اب اسے کسی بات کا غم نہیں تھا مگر ہاں ساویز کو اسے اب بھی سمجھانا پڑتا۔ امید تھی کہ وہ جلد اس کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر بھلا دے گا۔
زندگی کا نیا موڑ بہت خوبصورت تھا۔ وقت مزید گزرنے لگا اور یوں ایک ماہ سے اوپر ہوگیا۔
شام کی کافی پینے وہ ایک ہوٹل میں بیٹھے تھے جب ساتھ والی میز پر بیٹھے کپل کی گفتگو سن کر وہ دونوں باری باری مسکرا رہے تھے۔
“ہشش! ہم کتنا غلط کام کر رہے ہیں۔ کسی کی باتیں سن رہے ہیں۔” عشنا کو جلد ہی احساس ہوا مگر میرویس سدھرنے والوں میں سے نہیں تھا۔
“ہم کسی کی باتیں نہیں سن رہے عاشی۔ وہ زبردستی زور سے بول کر ہمیں اپنی باتیں سننے کا موقع دے رہے ہیں۔” واقعی آواز اتنی بلند تھی کہ عشنا کو ناچاہتے ہوئے سننا پڑ رہا تھا۔
خوبصورت جوان مرد اپنی بیوی کو ہلکے ہلکے محبت کے اظہار کر کے چھیڑ رہا تھا اور اس کی بیوی بار بار شرم سے سرخ ہورہی تھی۔
“بہت خوبصورت کپل ہے۔” انہیں دیکھتے ہوئے عشنا کے لبوں سے بے ساختہ الفاظ نکلے۔
“ہماری طرح؟” اسے یقین تھا کہ وہ دونوں بھی کسی خوبصورت کپل سے کم نہیں لگتے تھے۔ عشنا مسکرا دی۔
یکدم ہی اسے لڑکی کی آواز سنائی دی۔
“آغا تم کتنے بولڈ ہو!” کسی طور اپنے سرخ گالوں کو چھپانے کی بھرپور کوشش تھی۔
“میری بیوی کو بھی تو پتا چلے کہ آغا زارون اسے کتنا چاہتا ہے۔” مرد کی بھاری مردانہ آواز دونوں کے کانوں پر پڑی تھی۔
“عاشی! اگر بیوی کا ہاتھ پکڑنے سے انسان بولڈ ہوجاتا ہے تو پھر میں تو بے شرم ہوا۔” وہ حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا جیسے واقعی اس موضوع پر سوچ رہا ہو۔ عشنا نے اسے گھور کر دھیرے بولنے کا اشارہ کیا۔
“بہرحال ان باتوں کو چھوڑو۔ تمہارے ابا کے مزاج کو کیا ہوا ہے؟ آج کل بڑی تپاک اور محبت سے مل رہے ہیں۔ شاید انہیں احساس ہو گیا ہے کہ مجھ جیسا داماد ٹارچ لے کر بھی ڈھونڈیں گے تو بھی نہیں ملے گا۔” اسے ایک نیا موضوع ملا۔ وہ کھلکھلا دی۔ یہ کہہ کر کہ ہاں وہ ٹھیک کہہ رہا ہے’ وہ میرویس کو سر نہیں چڑھانا چاہتی تھی۔
“غنایہ کی طبیعت کی خرابی کے وقت تم نے جس طرح سب کو ہسپتال میں سنبھالا ہوا تھا انہیں بہت اچھا لگا تھا۔ جو بھی ہو۔۔ ابا نے چند دنوں بعد ڈنر کی دعوت دی ہے اور تمہیں الگ سے بھی دعوت مل جائے گی۔” ہوٹل کی چھت کھلی ہوئی تھی اور اس کی گود میں رکھی کھلی کتاب کے صفحہ نمبر اکیالیس میں لکھا تھا کہ ‘محبت بہت پیارا احساس ہے’ اس جملے کو دہراتے ہوئے اس نے میرویس کو بہت پیار سے دیکھا تھا جو کافی پیتے ہوئے دوسری جانب پیڑ پودوں کو دیکھ رہا تھا۔
ہاں زندگی کا نیا صفحہ بھی حسین تھا۔ سو بار اس سے ایک شخص کا نام پوچھا جاتا اور وہ ایک سو ایک بار میرویس وہاب چوہدری کا نام لیتی اور بار بار مسکراتی۔ اس کی زندگی میں آنے والا یہ شخص اتنا ہی خوبصورت تھا جتنی اس کی باتیں۔ اسے یاد ہے دو دن قبل اس نے میرویس سے کہا تھا کہ کیا ہو اگر وہ کبھی میرویس کے دل سے اتر گئی؟
اور وہ ہنس کر بولا تھا۔
“میرے دل سے اتر کر جاؤ گی تو کہاں جاؤ گی؟ تمہاری ہر منزل میرویس ہے اور میرویس کا ٹھکانہ تم!”
وہ اسے پیار سے دیکھ رہی تھی جب میرویس نے اسے ہلکی سی شال میں دیکھا جو سردی روکنے کے لیے ناکافی تھی۔ کتاب پڑھتے پڑھتے اس نے دوبارہ نگاہ اٹھا کر میرویس کو دیکھا تھا جو اب اپنی گرم بھوری جیکٹ اس کی جانب بڑھا کر پہننے کو کہہ رہا تھا اور وہ ایک بار پھر مسکرا دی۔ کسی خوبصورت احساس سے دوچار ہوتے ہوئے مسکراہٹ گہری ہوئی تو میرویس کی نگاہ اس کے مسکراتے لبوں پر ٹھہر گئی۔ ان پانچ سالوں کا انتظار رائیگاں نہیں گیا تھا۔ جس کو بیوی کے روپ میں دیکھنا چاہتا تھا وہ ہی اس کی نگاہوں کے سامنے بیٹھی اپنی بقایا زندگی اس کے ساتھ گزارنے کے خواب دیکھ رہی تھی۔ یہ خواب بھی جلد پورے ہونے والے تھے۔ یہ سوچ کر کہ کبھی ان کی زندگی میں ایک ایسا دن آئے جب وہ ایک دوسرے سے بحث نہ کریں۔ مگر ہاں یہ ناممکن تھا۔ ایک ایسا کام جنہیں وہ دونوں ہی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ عشنا کو ہنسنے کی عادت ہوگئی تھی اور میرویس کو اس کی گھوری کی۔۔ ہاں شاید یہی ان کے لیے ٹھیک تھا کہ وہ بحث و مباحثہ کبھی نہ چھوڑیں۔ میرویس جیسا تھا’ اسے ویسا ہی پسند تھا۔۔ بس اب کسی اور کی طلب نہ رہی تھی زندگی میں۔۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“پری۔” اس کی گھمبیر آواز پر پریزے نے آنکھ کھولی تھی۔ ابھی چند ہی دن تو ان کی رخصتی کو گزرے تھے۔
“ہاں۔” وہی دھیمی نازک سی آواز جسے سن کر وہ ہمیشہ نہال ہوجایا کرتا تھا۔
“میں لوٹ آیا ہوں اور جانتا ہوں تم نے ابھی تک کھانا نہیں کھایا۔ کیا اب ساتھ کھائیں۔” وہ کیس کے سلسلے میں تھانے سے آیا تھا اور اب محبت سے اسے دیکھ رہا تھا جس کی آنکھوں میں نیند غائب ہوئی تھی۔
“میں انتظار کر رہی تھی تمہارا۔” وہ تیزی سے اٹھ کر بیٹھی۔ “کیا ہوا؟”
“جانے سے پہلے مجھے کچھ کام نبٹانے تھے بس سمجھو میں وہ سب نبٹا آیا ہوں۔” تھانے کے حالات بتاتا ہوا وہ اپنی کلائی پر بندھی گاڑی اتارنے لگا۔ پریزے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔ کانوں میں بالیاں اور لبوں پر ہلکی ہلکی لپ اسٹک۔۔ وہ اس کا انتظار کرتے کرتے ہی سو گئی تھی۔
“میں کمال سے کہہ دیتی ہوں کھانا لگادے۔ تم کپڑے تبدیل کر لو۔” وہ برابر سے گزرتی ہوئی جانے لگی تھی جب وجاہت نے اس کا راستہ روکا۔
“میرا انتظار کر رہی تھیں؟”
“ہاں۔” لبوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ سجنے لگی تو اسے دیکھتا ہوا وجاہت بھی مسکرا دیا۔ بائیں گال کا ڈمپل گہرا ہوا۔
“تھک کر گھر آتا ہوں تو تمہیں دیکھ کر ساری تھکن اتر جاتی ہے۔” اس کی ہری پرکشش آنکھوں میں پریزے کے لیے ڈھیروں محبت تھی۔ “تم نے ہمیشہ مجھے سنبھالا پریزے۔ میری محبت کا جواب ہمیشہ محبت سے دیا اسی لیے میں تمہارے معاملے میں بے حد حساس ہوں۔”
“میں نے کہا تھا نا وجاہت میں تمہارے ساتھ ہوں۔”
“کئی بار ایسا ہوا کہ میں نے تم سے کیا وعدہ توڑ دیا مگر تم نے ایک بار بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑا۔” ماحول میں خاموشی پیدا ہوئی۔ وہ مسکرا رہی تھی۔
“کوئی اپنے ہمسفر کا ہاتھ یونہی چھوڑ دیتا ہے؟ اگر مجھے چھوڑنا ہوتا تو میں تم سے نکاح نہیں کرتی۔” اس کی بات میں وزن تھا۔
وہ صحیح کہتی تھی۔۔ وجاہت کی محبت میں کمی نہیں آئی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ پریزے کے بنا وہ دو پل نہیں رہ سکتا۔ پہلے بھی مشکل تھا’ اب ناممکن ہوگیا تھا۔ سب کچھ نارمل ہورہا تھا۔ کہانیوں کے کردار اپنی عام زندگی کی جانب پلٹ رہے تھے۔
۔۔۔★★★۔۔۔
ہاتھوں میں اس کا ہاتھ موجود تھا اور وہ اسے بغور دیکھ رہا تھا۔
“آپ نجومی ہیں؟” اس کے یوں بے ساختہ کہنے پر وہ ہونقوں کی طرح اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔ غنایہ ہنس رہی تھی۔
“میں اس سے بھی بڑی والی چیز ہوں۔ تم کیا جانو۔” ہاتھوں کی پشت سہلاتے ہوئے وہ اس کا چہرہ بغور دیکھتا ہوا بولا۔
“اچھا پھر بتائیں کیا لکھا ہے میری قسمت میں؟” وہ اسے تنگ کرنے کے لیے بولی تو ساویز بے اختیار مسکرا دیا۔
“تمہاری قسمت میں ایک خوبصورت، ہینڈسم بندہ لکھا ہے جو تمہیں مل چکا ہے۔” دونوں ہی ہنس پڑے۔
“تو مجھے اور کسی طلب بھی نہیں ہے۔” ایک انداز میں کہتی ہوئی ساویز کو دیکھنے لگی جو گہرے رنگ کی بھوری ٹی شرٹ میں ملبوس لاؤنج کے صوفے پر بیٹھا تھا۔ ہلکی ہلکی شیو اور شرٹ کی آستین سے نکلتے بھرے بھرے بازو۔۔ ان بازوؤں پر ابھری لکیریں جو شاید مسلز کی تھیں۔ غنایہ کا کہنا تھا کہ ساویز کی بھوری آنکھوں میں ایک چمک ہے اور ہر بار وہ اس بات پر ایک الگ انداز میں مسکرا دیا کرتا تھا۔ کبھی ایسا بھی ہوا کرتا کہ جب آفس کی جانب سے پریشان ہوتا اور غنایہ کو اپنی پریشانی نہ بتاتا تو غنایہ اس کی آنکھوں سے پہچان لیا کرتی اور یہیں پر وہ پھنس جایا کرتا تھا۔ اسے پھر سب بتانا پڑتا تھا جبکہ غنایہ اس سب کو انجوائے کرتی تھی۔
“تم اتنا جانتی ہو کہ ساویز کو تم سے بے تحاشہ محبت ہے مگر تم اس محبت کی حد نہیں جانتی۔” لبوں پر مسکراہٹ تھی۔
“یہ محبت کم ہوگئی تو؟” غنایہ ہمیشہ ڈرتی تھی مگر ساویز قہقہہ لگایا کرتا تھا۔
“یہ کم نہیں ہوتی غنایہ۔ میں نے پرکھا ہے محبت کو۔۔ میری محبت کم نہیں ہوتی۔ ہر لمحہ ، ہروقت کے ساتھ ساتھ بس یہ بڑھ رہی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ خدا کا شکر ہے کہ مجھے تم سے شادی کے بعد محبت ہوئی۔ ورنہ شادی سے قبل ہوجاتی تو محبوب کے نخرے برداشت کرنے پڑتے۔” وہ اسے تنگ کر رہا تھا مگر وہ تنگ نہیں ہو رہی تھی۔ “تم نے دیکھا غنایہ؟ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں تم سے شادی کروں گا مگر حالات کیسے انسان کو کسی دوسرے انسان سے ملوا دیتے ہیں۔” اس کا ہاتھ ایک بار پھر تھام کر وہ اس کی انگھوٹی دیکھ رہا تھا۔
“میں بھی یہی سوچتی ہوں ساویز۔”
“اس سارے قصے میں۔۔ میں غریب بھی ہوا، بے روزگار بھی ہوا۔۔ مجھ پر کائنہ کے قتل کا الزام بھی لگا اور اپنے ہی گھر سے بدر ہونے کا حکم بھی ملا مگر تم نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا۔ اس سارے قصے میں تم میرے دل سے نہ اتر سکی غنایہ۔” اس کے ہاتھوں کی پشت پر اپنا لمس چھوڑتے ہوئے وہ بے حد جذب سے بولا۔ لہجے میں صدق تھی۔ وہ مبہم سا مسکرادی۔
“میں تمہارے لیے ہمیشہ ایسے ہی لڑوں گا۔ یاد رکھنا تم ساویز کی دلہن بن کر اس گھر میں آئی تھی جسے اپنی بیوی بہت مان ہے۔ وہ اس سے محبت کی جھوٹے دعوے نہیں کرتا’ وہ محبت کا اظہار کرتا ہے تو محبت نبھاتا بھی ہے۔ اور محبت’ بھروسہ، اعتماد جیسے ناموں کے درمیان گھومتی ہے۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔” گویا ماضی کی ساری تھکن ساویز کی اس بات نے ختم کردی۔ ہاں وہ اپنے مستقبل کا ایک ایک پل ساویز کے ساتھ دیکھتی تھی۔ محبت بڑھ رہی تھی اور بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ بھلا محبت کی حدیں بھی ختم ہوتی ہیں؟ زندگی کی کتاب کا یہ سب سے خوبصورت ورق تھا جسے وہ پلٹنا نہیں چاہتی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
سات دن بعد گھر میں خط آیا تھا۔ وہ حیران ہوا جب چوکیدار نے بتایا کہ خط وجاہت کی جانب سے ہے۔ بوا خالہ کے ہاتھ سے چائے کا کپ لیے وہ اپنے ٹیرس پر آگیا۔ نیچے لان میں بیٹھی غنایہ اور بابا آپس میں کوئی بات کرتے ہوئے ہنس پڑے تھے۔ انہیں دیکھتے ہوئے وہ بھی مسکرا دیا۔ سیاہ ہوتے آسمان پر ایک نگاہ ڈالی اور پھر اس خط پر جس کے باہر چند الفاظ درج تھے۔
“تمہارا پرانا دوست وجاہت۔”
باہر کا لفافہ پھاڑتے ہوئے اس نے اندر سے خط باہر نکالا۔
‘دوست! میں جرمنی جارہا ہوں۔ ماضی بھلانے کے لیے تاکہ ایک نئی زندگی پریزے کے ہمراہ وہاں شروع کر سکوں۔ یہاں رہا تو یادوں میں گھٹ گھٹ کر مرجاؤں گا۔ پریزے میرے ساتھ ہے۔ ساویز! مجھے ماضی یاد آتا ہے۔ وہ اونچے قہقہے اور آپس کی چھیڑ چھاڑ مجھے کبھی نہیں بھول سکتی۔ تمہارا ہمیشہ میرا ساتھ دینا میں بھلا نہیں سکتا۔ میرویس کی باتیں میں جرمنی میں بہت مس کرنے والا ہوں۔
میں نے تمہیں معاف کردیا۔۔ مگر میں جانتا ہوں کہ تم مجھے معاف نہ کرسکو گے۔ پریزے ٹھیک ہی کہتی تھی مگر میرا وجدان ہمیشہ تمہاری جانب اشارہ کرتا تھا۔ چلو اس بات کا یقین تو ہوگیا میں جھوٹ نہیں بولتا تھا۔ وہ ایک گولی ہی سہی لیکن تم سے ہی چلی تھی۔ میں جانتا ہوں تمہاری کوئی غلطی نہیں۔۔ شاید میں ہی ایک بدقسمت بھائی رہا جو اپنی بہن کی اچھی تربیت نہ کرسکا۔ میں اسے صحیح غلط کا فرق نہ سمجھا سکا۔ مجھے ہمیشہ ماضی یاد آتا ہے۔ وہ خوشی سے بھرے لمحے جن لمحوں میں ہم چار دوست ساتھ رہے۔۔ اور وہاج! میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ایک دوست مر گیا اور ایک کے ساتھ میں زیادتی کر گیا۔ تیسرے کا ہاتھ جانے کب چھوٹا پتا ہی نہ چلا۔ سارا کیس سلجھ گیا ہے اور اب جلد ہی خرم کو دردناک سزا مل جائے گی۔ میں نے اپنا کام کردیا ہے ساویز! میرا دل ٹوٹ چکا ہے مگر میرا مرہم میری پریزے ہے۔ تم سے ملنے کی شدید خواہش رکھتا ہوں مگر شرمندگی کے مارے نہیں مل پا رہا۔ معافی مانگوں بھی تو کس منہ سے؟ میں نے خود کو اس لائق بھی نہیں چھوڑا۔ میں ہمیشہ کے لیے جا رہا ہوں۔ گھر، گاڑی، بزنس سب بیچ دیا۔ یہاں رہنے کا میرا کوئی جواز نہیں اب۔۔ نہ دوست ہیں نہ بہن۔۔ ہاں میری ایک بہن ہے جس کی قبر مجھے ہمیشہ پاکستان کی جانب کھینچتی رہے گی۔ میں جا رہا ہوں مگر جانتا ہوں پاکستان مجھے لمحہ لمحہ یاد آئے گا۔ کیونکہ یہ صرف وہ ملک نہیں جہاں میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا بلکہ یہ خوشیوں کا جزیرہ ہے جہاں میں نے غم کی راتیں بھی کاٹی ہیں۔ مجھے تم سے ماضی میں جتنی بھی نفرت تھی’ محبت پھر بھی حاوی ہی رہی۔ اب اس ملک میں میرا کوئی مکان نہیں۔ مجھے بھلانا چاہو تو بھلا دینا مگر وہ یادیں ٹھہر جائیں گی۔ وہ لمحے ٹھہر جائیں گے جن لمحوں میں ہم ساتھ رہے۔ جس وقت تمہیں یہ خط ملے گا میں ائیرپورٹ میں پریزے کے ساتھ موجود ہوں گا۔ مجھے لگتا ہے جیسے ان غموں نے میرا دل آڑی سے چھیل دیا ہو۔ امید تو نہیں لیکن اگر میں کبھی لوٹا تو میرویس اور تم سے ضرور ملنے آؤں گا۔۔ اور امید ہے اس وقت تک تم مجھے معاف کر چکے ہوگے۔’
دوستی میں ناکام رہ جانے والا تمہارا دوست!”
یہ خط کس قدر تکلیف دہ تھا کہ وہ ساکت رہ گیا تھا۔ وہ جا رہا تھا۔۔ اپنے پیچھے سب کو چھوڑ کر وہ جا رہا تھا۔ وہ وجاہت سے کیسے کہتا کہ وہ کبھی اس سے نفرت نہیں کر پایا۔ یہ دوستی اتنی کمزور نہیں تھی کہ نفرتوں میں بدل جاتی تو پھر کیوں پڑ گئی تھی دوستی اتنی کمزور؟ اس کے ہاتھ سے خط چھوٹ گیا تھا مگر اس کی نگاہوں کی پتلیاں سیاہ آسمان پر ہی ٹکی تھیں۔
ہاں شاید یہی بہتر تھا کہ وہ اپنی نئی زندگی کا آغاز جرمنی میں کرتا۔ یہاں حالات اسے جینے نہیں دیں گے اور اسے پریزے کے لیے زندہ رہنا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
فلائیٹ کی اناؤسمنٹ ہوئی تھی اور اس نے پریزے کے ہاتھ سے سوٹ کیس پکڑا تھا۔ وہ آخری بار پاکستان کو پورے دل سے دیکھ رہا تھا کہ جانے اس کے بعد وہ اپنے ملک کو دیکھ بھی سکے گا یا نہیں۔
اسے ساویز، وہاج اور میرویس کے ساتھ لگائے گئے اپنے قہقہے سنائی دینے لگے جیسے یہ سب کل کی بات ہو۔ جیسے وہ چاروں پھر سے خود کو پرفیسر کریم کی ڈانٹ سننے کے لیے تیار کر رہے ہوں۔ وہ جانتا تھا کہ وہاج کی موت اسے ہمیشہ یونہی افسردہ کرتی رہے گی۔
اسے کائنہ کی صدا سنائی دی۔ ‘بھائی آج گھر جلدی آجانا۔ میں انتظار کروں گی۔’
تھوک نگلتے ہوئے وہ آگے بڑھ رہا تھا جب ایک بار پھر اس نے اپنے پیچھے دیکھا۔ اپنی سرزمین ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر کسی اور کی سرزمین پر اترنا بھی محال تھا مگر اسے یقین تھا کہ وہ جلد سنبھل جائے گا۔ پریزے کی موجودگی اس کے لیے مرہم تھی مگر یادیں تو پھر یادیں تھیں جنہیں وہ خود بھی بھلانا نہیں چاہتا تھا۔ پریزے اس کے رکنے پر خود بھی رک کر اس کے تاثرات جانچنے لگی جہاں بہت کچھ تھا۔۔۔
نئی زندگی کی شروعات پر خوشی، بہن کے لیے غم، دوستوں کی یاد اور پریزے کے ساتھ کا اطمینان۔
“وجاہت میں تمہارے ساتھ ہوں۔” اس نے دھیرے سے پکارا تو وہ پریزے کو دیکھنے لگا۔
لبوں پر مبہم سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
“اسی بات کا تو حوصلہ ہے۔”
قدم اندر کی جانب بڑھ گئے۔
اب سب کی زندگیاں مختلف تھیں۔
وہ خوش تھے اور مطمئن بھی۔۔
ساتھ نبھانے والی شریک حیات تھیں جو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھیں۔
زندگی میں اب کوئی غم نہیں تھا۔
البتہ دوستیاں ادھوری رہ گئی تھیں۔۔
مگر یہ ادھورا پن ہونے کے باوجود بھی وہ ایک دوسرے کے دل سے نہ اتر سکے تھے۔ ان کے دلوں کا ایک ایک حصہ دوستوں کی محبت سے آباد تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
(تمت بالخیر)
