61.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5 part 2

تو دل سے نہ اتر سکا از عینا بیگ
پانچویں قسط (دوسرا پارٹ)
“آج اس کا ولیمہ ہے۔” خرم تقریبا بھاگتے ہوئے آیا تھا اور اب پھولتی سانسوں کے درمیان اسے اطلاع دے رہا تھا۔ وجاہت تیزی سے مڑا۔
“ولیمہ؟۔”
“ہاں باس! فراز نے اسے خود مال میں میرویس سے کال پر بات کرتے سنا۔”
وجاہت کے بائیں گال ڈمپل گہرا ہوا۔
“سوچنے والی بات ہے دوست کو دعوت بھی نہیں دی!۔”
“یہ اچھا موقع ہے۔ ہم ساویز کے ولیمہ کا فائدہ اٹھا کر کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ یقینا یہ سب لڑکی کے گھر والوں کے علم میں نہیں ہوگا۔”
“ہم کیوں کچھ کریں گے خرم؟ ہم ولیمہ اٹینڈ کریں گے۔ آخر کار دوست ہی دوست کی خوشی میں شامل ہوتا ہے۔۔” اس مسکراہٹ کے پیچھے بہت کچھ چھپا تھا۔
خرم اس کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے مسکرایا۔
“تیاری پوری رکھو! تاخیر نہیں ہونی چاہئیے کیونکہ۔۔۔” وہ لمحے بھر کو ٹھہرا۔ “میرے دوست کا ولیمہ ہے۔” ذو معنی لہجہ۔۔ چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی۔ خرم ہنستا ہوا باہر نکل گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“یہ رہی تمہاری ساری جیولری اور بیوٹیشن بھی پہنچ گئی ہے۔ مجھے جلدی سے گھر جا کر اپنی تیاری بھی مکمل کرنی ہے کیونکہ اب وقت زیادہ نہیں ہے۔” وہ جلدی میں تھی۔ تمام جیولری آگے رکھ کر اپنا موبائل دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ “اللہ جانتا ہے کہ آج آفس کی چھٹی کیسے کی ہے۔ یہ مینجر ذرا دیر کو جو جان چھوڑے!۔” دروازہ بجنے پر وہ پلٹ کر آنے والے کو دیکھنے لگی۔ غنایہ وہیں بستر پر بیٹھی خاموشی سے اس کی لائی ہوئی جیولری دیکھ رہی تھی۔ دستک پر اس نے سر اٹھا کر بیوٹیشن کو دیکھا جسے شاید ساویز نے اوپر بھیجا تھا۔ وہ عشنا کو دیکھ کر سوچنے لگی کہ کاش وہ تھوڑی دیر اور رک سکتی۔
“بیوٹیشن بھی آگئی!۔” خوشگوار لہجے میں کہتے ہوئے اس نے غنایہ کا جوڑا اٹھا کر کرسی پر رکھا۔ غنایہ بے دلی سے اٹھ کر کھڑی ہوئی۔ عشنا نے اس کے تاثرات نوٹ کیے تھے مگر ابھی کچھ پوچھنا یا کہنا مناسب نہیں تھا۔ بیوٹیشن کو معلومات دے کر وہ اسے تیار کرنے کی تاکید کرتے ہوئے وہاں سے چلی آئی تھی۔ یہ گھر اس کی سوچ سے بھی زیادہ بڑا اور وسیع تھا۔ اسے اتنا تو اندازہ ہوچکا تھا کہ ساویز اپنی باتوں کا سچا ہے۔
سیڑھیاں تیزی سے اترتے ہوئے وہ نیچے آرہی تھی جب اس نے میرویس کو صوفے پر بیٹھ کر ساویز کے نئے جوتے ٹشو سے صاف کرتے دیکھا۔ ساویز ارد گرد کہیں نہیں تھا۔ موقع اچھا تھا۔۔ وہ پاس سے گزرنے لگی۔
“ایسے کام کرتے رہے تو حالیہ جاب کی تنخواہ سے زیادہ کماؤ گے۔” کہتے ساتھ وہ تیزی سے باہر نکل گئی جبکہ میرویس بھنویں چڑھا کر رہ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ہی اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔ وہ لڑکی کیا لڑکی تھی۔۔ پل بھر میں غصہ دلادینے والی۔۔۔ پل بھر میں ہنسا دینے والی۔۔
۔۔۔★★★۔۔۔
مغرب ہونے کو تھی اور وہ سر صوفے کی پشت سے ٹکائے نیند میں ڈوبا لاونج میں بیٹھا تھا۔ بیوٹیشن کے غنایہ کے پاس ہونے کی وجہ سے وہ اب تک اوپر نہیں جاسکا تھا۔
دس منٹ بعد ہی بیوٹیشن کی آواز پر اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ ملازمہ بیوٹیشن کو رخصت کر رہی تھی۔ ساویز نے اطمینان کی گہری سانس لی۔ چپل پیر میں پہنتا ہوا وہ اوپر کمرے میں بڑھ گیا۔ نیند اتنی کے آنکھیں بار بار بند ہو رہی تھیں۔ انگلی سے ہاتھ مسلتے ہوئے وہ اندر میں داخل ہوا۔ کمرا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ ساویز کو قدرے حیرانی ہوئی۔ سوئچ بٹن کھول کر جلدی سے کمرا روشن کیا۔ وہ ارد گرد کہیں بھی نہیں تھی۔ زیادہ غور کرنے پر اسے ٹیرس کے ادھ کھلے دروازے سے باہر کسی کا گمان ہوا۔ اس نے اطمینان بھری نظروں سے اس کی موجودگی پر نگاہ ڈالتے ہوئے شاور لینے کے لیے واش روم کا رخ کیا۔ عجیب بات تھی۔۔ بھلا تیار ہو کر وہ ٹیرس میں کیوں کھڑی تھی۔
ٹھنڈے پانی کے نیچے خود کو پر سکون کرتے ہوئے وہ اب بہتر محسوس کر رہا تھا۔ نیند جو سر پر سوار تھی وہ کہیں غائب ہی ہوگئی تھی۔ وہ غنایہ کی تیاری دیکھنا چاہتا تھا مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ غنایہ ایسا نہیں چاہتی۔ شاور لے کر وہ تولیے سے بال رگڑتا باہر نکلا۔ کمرا اب بھی غنایہ کی موجودگی سے خالی تھا۔ سفید کالر والی شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے اس نے آنکھوں پر آتے گیلے بالوں کو پیچھے کیا۔ آئینے کے عکس میں اسے اپنا کوٹ نظر آیا۔ موبائل پر آتی ڈھیروں کالز کو وہ نظر انداز کرچکا تھا۔ ولیمے کے وجہ سے مہمانوں کے فون مسلسل آرہے تھے۔ جوتے پہن کر دوبارہ سنگھار میز کے آگے کھڑے ہوکر اس نے برش اٹھایا۔ ولیمے کی تیاری مکمل تھی۔ پھول جیسی دیگر چیزیں میرویس دیکھ رہا تھا۔ ماحول میں قدرے خاموشی تھی۔ اسے شادی سے پہلی کی زندگی شادی کے بعد کی زندگی سے کچھ مختلف نظر نہ آئی۔ وہی خاموش ماحول اور تنہائی۔۔ وہ کلائی میں گھڑی باندھ رہا تھا جب اسے اپنے پیچھے کوئی محسوس ہوا۔ اس نے نگاہ اٹھا کر آئینے میں دیکھا۔ نظریں ٹھہر سی گئی۔۔ گویا وقت تھم گیا ہو۔۔ گھڑی باندھتے باندھتے ہاتھ رک سا گیا۔ پیچھے کھڑی غنایہ خود کو آئینے میں دیکھتے ہوئے جھمکا ٹھیک کر رہی تھی۔ ساویز نے خود کو اس کے ساتھ آئینے میں دیکھا۔۔ اسے محسوس ہوا جیسے وہ مکمل ہے۔۔ اس کی زندگی میں مزید اور کوئی خواہش نہیں۔۔ بھوری آنکھیں آئینے کے عکس میں ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو غنایہ کی دھڑکنیں تیز ہوئیں۔ اس نے نگاہ جھکا کر بستر کی جانب رخ کر لیا۔۔ ٹھہر تو ساویز گیا تھا۔ وہیں کھڑا اس کی خوشبو محسوس کر رہا تھا۔ بھوری آنکھوں کا کاجل اسے وہ دن یاد کروا گیا جب اس نے غنایہ کو پہلی بار دیکھا تھا۔۔ روتی کاجل زدہ آنکھیں۔۔ اور اب بے تاثر لہجہ۔۔ سرخ لپ اسٹک اور آگے کی دو لٹیں کرل ہوتے ہوئیں چہرے پر آرہی تھیں۔ کاش کہ وہ اس کا ہاتھ تھام کر بے حد قریب سے اسے دیکھ سکتا۔ دل نے ایک خواہش کی۔۔۔ کہیں یہ خواہش کمی بن کر نہ دل میں ٹھہر جائے۔۔ کاش غنایہ اسے اتنی اجازت دے سکے کہ ساویز اس کا ہاتھوں کا لمس محسوس کر سکے۔۔۔ پھر شاید وہ اسے ساری رات تکتا بھی رہے گا تو جی نہیں بھرے گا۔
موبائل پر آتی کال نے اسے ہوش دلایا۔ وہ چونک کر خود پر پرفیوم چھڑکتا موبائل اٹھانے بڑھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
خوبصورت لائٹس سے جگمگاتے ہال میں لوگوں کی چہل پہل جاری تھی۔ ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں جبکہ دائیں ہاتھ سے وہ اپنے کولیگ سے ہاتھ ملاتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔ دور میرویس پھولوں کا بکے تھام کر میز پر رکھتا اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔
“شادی مبارک دوست!!۔” کندھے پر اس کا ہاتھ رکھ خوش دلی سے کہا۔ ساویز نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما۔
“خیال آگیا بالآخر تمہیں!۔”
میر کا قہقہہ چھوٹا۔
“اچھا اس سے ملو! یہ بھی نکاح میں شامل تھے۔” وہ اس کے آفس میں کام کرنے والا لڑکا تھا۔ میر کی مسکراہٹ سمٹی۔
“گواہ؟ اوہ اچھا اچھا۔” اسے ساویز کا نکاح چھپانا یاد آگیا۔ اس لڑکے کو گھورتے ہوئے وہ دوست کے پیچھے مڑا۔
“بھابھی کہاں ہیں؟۔” اسٹیج خالی تھا۔
“برائڈل روم میں ہے۔ اس کے گھر والے اندر ہی ہیں۔” وہ میرویس کو غنایہ سے ملوانا چاہتا تھا مگر غنایہ کی فیملی اندر ہی تھی۔ میر کی نگاہیں کسی کو ڈھونڈنے لگی۔ وہ دونوں ساتھ کھڑے باتیں کر رہے تھے جب برائڈل روم سے عشنا باہر نکلی۔ سفید رنگ کی میکسی پر گولڈن رنگ کے کام نے میر کی توجہ کھینچی۔ بالوں میں ڈھیلا جوڑا اور ہاتھ میں سفید پھولوں کے کنگن۔۔ نگاہیں بمشکل اس پر سے ہٹا کر دوسری طرف مرکوز کی۔
“میں اس کے لیے پھولوں کے کنگن لینے جا رہی ہوں۔” وہ ساویز کو مسکرا کر بتاتی آگے بڑھ گئی۔ میر اس کی آواز پر ہی ٹھہر گیا۔ یعنی وہ لڑکی آج اس کی تمام تر توجہ کا مرکز بننے والی تھی۔ ساویز کے اشارے پر وہ اس کے پیچھے برائڈل روم میں بڑھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“اسلام علیکم بھابھی۔” گھمبیر آواز میں گویا ہوتے ہوئے وہ مسکرایا۔ غنایہ نے نگاہ اٹھا کر میر کو دیکھا۔ ساویز نے نگاہیں چرائیں۔ وہ جانتا تھا اگر اس نے غنایہ کو دیکھا تو نگاہیں ہٹانا مشکل ہو جائے گا۔
“وعلیکم سلام۔” اسے یہ چہرہ کچھ جانا پہچانا سا لگا۔
“یہ میرویس ہے! میرا یار۔۔۔”
“کیسی ہیں آپ؟۔”
“میں ٹھیک ہوں میرویس بھائی۔۔ آپ کیسے ہیں؟۔” اسے مروتا پوچھنا پڑا۔
“ٹھیک ہی ہوگا۔” عشنا پیچھے سے داخل ہوئی۔ ہاتھوں میں دو تین پھولوں کے کنگن تھے۔ میر نے آنکھیں پھیر سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“یہ میرویس ہے۔۔ تمہیں یاد ہوگا۔ میں اس کا ذکر کتنا کیا کرتی تھی۔” وہ زمین پر جھک کر اس کی سینڈل ٹھیک کر رہی تھی۔ غنایہ کو یکدم ہی یاد آیا۔ مبہم سی مسکراہٹ لبوں پر پھیل گئی۔
“اوہ تو میرا ذکر بھی ہوتا تھا۔” بے ساختہ کہتے ہوئے وہ زور سے ہنسا۔
“ہاں مگر اچھے الفاظوں میں نہیں۔۔” اس کا کہنا ہی تھا کہ ساویز کا قہقہہ چھوٹ گیا۔۔ میر نے پیچھے کھڑے ساویز کو سخت نگاہوں سے دیکھا۔
“ذکر تو ذکر ہوتا ہے۔۔ بہرحال میں باہر جا رہا ہوں! کھانے کا انتظام بھی دیکھنا ہے۔” وہ عشنا کے چہرے پر آتی زلفوں کو دیکھتے ہوئے باہر نکل گیا۔
اس کے جانے کے بعد عشنا نے دو کنگن ساویز کے ہاتھوں میں تھمائے۔
“یہ کنگن آپ کو پہنانے چاہئیں۔” وہ اس موقع پر بے انتہا خوشی تھی۔ غنایہ اس کی بات پر گھبرائی جبکہ ساویز بوکھلا گیا۔ اس نے تیزی سے غنایہ کے تاثرات دیکھے۔ کنگن تھام کر محض مسکراتا ہوا وہ غنایہ کے پاس آیا۔ یہی اچھا موقع تھا کہ وہ اس کا لمس محسوس کر کے اسے دیکھ پاتا۔ کنگن کھول کر اسے دیکھا تاکہ وہ اس کی جانب اپنا ہاتھ بڑھائے۔ غنایہ اڑے رنگ کے ساتھ کنگنوں کو تکتی رہی۔ ساویز نے اس کی کلائی بےحد نرمی سے تھام کر آگے کی۔ اس نے تھوک نگل کر پھٹی آنکھوں سے شوہر کو دیکھا۔ وہ اب اسے کنگن پہنا رہا تھا۔
“دونوں ہی بہت اچھے لگ رہے ہیں۔۔” خوشی سے آواز ابھری۔۔ اس کی آواز پر ساویز اور غنایہ دونوں نے ہی اسے دیکھا تھا۔ ساویز بے اختیار مسکرایا۔ وہ ابھی پھولوں کا کنگن باندھ ہی رہا تھا جب وہ اس کا ہاتھ اپنی جلد سے لگنے پر جھٹکے سے ساویز سے دور ہٹی۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ عشنا کو کچھ سمجھنے کا موقع نہیں ملا۔ کنگن کلائی سے پھسلتا زمین پر گر گیا۔ ساویز کا ہاتھ جہاں تھا وہیں ٹھہر گیا۔۔ وہ ساکت کھڑا ششدر نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا جس کا چہرہ خوفزدہ تھا۔ گہری گہری سانسیں بھرتے ہوئے وہ پھٹی آنکھوں سے ساویز کو دیکھ رہی تھی۔
“پپ۔۔پلیزز۔۔۔” لرزتے ہونٹوں سے الفاظ ادا ہوئے۔ عشنا نے بےیقینی سے بہن کو دیکھا۔ ساویز اب بھی ویسا ہی کھڑا تھا۔۔ ششدر لہجہ اور آنکھوں میں بےیقینی کے تاثرات۔۔ اتنے کم وقت میں وہ یہ تو سمجھ گئی تھی کہ دونوں کے درمیان کے حالات ٹھیک نہیں۔۔
ایک آخری نگاہ غنایہ پر ڈالتا سپاٹ لہجے اختیار کرتے ہوئے وہاں سے مڑ گیا۔ کنگن جوتے کے نیچے آکر مسل گئے تھے۔ وہ یہاں مزید ٹھہرا نہیں تھا۔ اپنے پیچھے برائڈل روم کا دروازہ بند کرتے ہوئے وہ باہر چلا گیا۔ البتہ غنایہ وہیں سہمی کھڑی تھی۔ عشنا اس کے جانب بڑھنے لگی ہی تھی کہ روم کا دروازہ کھلا اور امی اندر داخل ہوئیں۔ اس نے جھٹ غنایہ کو دیکھا جو خود کو نارمل کر رہی تھی۔ بات کرنے مناسب وقت نہیں تھا اس لیے وہ خاموش ہی رہی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“لگتا ہے یہ خوبصورت لوگوں کی محفل ہے۔” ہاتھ میں جوس کا گلاس تھا جب برابر کھڑی لڑکی نے ایک آئبرو اچکا کر اسے دیکھا۔
“ان خوبصورت لوگوں میں خود کو شامل تو نہیں کر رہے نا؟۔” بھلا وہ اور اطمینان سے بیٹھے؟ نا ممکن!
“میں خود کو شامل نہ بھی کروں تو بھی گنا جاؤں گا۔” مسکراہٹ گہری ہوئی۔ “اس لڑکی کو دیکھ رہی ہو؟۔” اس نے آنکھوں کے اشارے اس لڑکی کی جانب اشارہ کیا جو کچھ دور چئیر پر بیٹھی میرویس کو دیکھ رہی تھی۔ عشنا نے اس کے تعاقب میں نارنجی سوٹ پہنی لڑکی کو دیکھا۔ “وہ مجھے تب سے دیکھ رہی ہے جب سے میں ہال میں داخل ہوا ہوں۔” اس کی نظریں عشنا کے چہرے پر تھیں جبکہ وہ اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی جو بڑے انہماک سے میرویس کو تک رہی تھی۔
“یہ تو واقعی تمہیں دیکھ رہی ہے۔” عشنا حیران ہوئی جبکہ میر اس کی آنکھوں کے پاس موجود سیاہ تل دیکھ کر مسکرایا۔
“میری بات تمہیں جھوٹ لگ رہی تھی؟۔” گھمبیر آواز میں مسکراتے ہوئے پوچھا گیا۔
“تمہیں اس کا یوں دیکھنا اچھا لگ رہا ہے؟۔” اس کا سوال نظر انداز کرتے اس نے سوال کیا۔۔ جبکہ پانچ منٹ پہلے بھی میرویس عشنا کو دیکھ رہا تھا اور پانچ منٹ بعد بھی نگاہیں عشنا پر ہی تھیں۔ اس کی مسکارا لگی پلکیں اور آنکھوں کے ساتھ تل ہی تو توجہ کھینچ رہا تھا۔
“اتنے پیار سے دیکھ رہی ہے۔۔” وہ اس کے تاثرات نوٹ کرنے لگا۔ عشنا نے آئبرو اچکا کر اسے دیکھا۔
“حالانکہ اتنے پیارے تم لگ تو نہیں رہے۔” سفید کام والا ڈوپٹہ سلیقے سے کندھے پر ٹکایا ہوا تھا۔ بھورے رنگ کی گہری لپ اسٹک اس پر اچھی لگ رہی تھی۔ اس نے میر کو دیکھا جو سیاہ کالر والی شرٹ کے اوپر کالا کوٹ پہنا ہوا تھا۔ سیاہ آنکھیں خود پر تھیں اور بال سلیقے سے بنے تھے۔ اس کے حلق کی گلٹی نمودار ہوکر غائب ہوئی تو عشنا نے بمشکل نظریں ہٹائیں۔
“تمہارا یوں آنکھیں چرانا تو بتا رہا ہے کہ میرویس سے بڑھ کر کوئی اس محفل میں پیارا نہیں۔۔۔” بھاری آواز میں کہتے ہوئے وہ زور سے ہنس پڑا۔
“ہاں میں نے آنکھیں چرالیں! ورنہ نظر لگ جاتی نا تمہیں۔۔” طنز کرنے کا موقع چھوڑا نہیں گیا تھا۔
“تمہارے ابا کہاں ہیں؟ مجھے ان سے بچ کر رہنا چاہئیے۔” وہ اب جیب میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔
“ہاں واقعی تمہیں ان سے بچنا چاہئیے! غنایہ کے پاس ہیں۔ ان کی نفرت بھری نگاہیں تمہاری منتظر ہیں۔ جاؤ سلام دعا کر آؤ! پانچ سال پہلے کی وہ یادیں جو دھندلی ہوچکی ہیں ابا صاف کردیں گے۔” اس نے کمر سے گھما کر اپنا آنچل پکڑا۔ میرویس کا قہقہہ گونجا۔
“اب تو میں ڈرنے لگا ہوں۔”
“تمہیں ڈرنا بھی چاہئیے میرویس۔” وہ دونوں ہال کے جس طرف کھڑے تھے وہاں ایک بڑی میز تھی جس پر میرویس اپنی کہنی ٹکایا ہوا تھا۔ عشنا اسے دیکھنے بجائے سامنے لوگوں کو دیکھتے ہوئے اس کے ہر سوال کا جواب دے رہی تھی۔ میرویس نے جیب سے سیگریٹ نکال کر لائٹر جلایا۔
“میرویس یہاں نہیں! رکھو اسے جیب میں!۔” عشنا نے سختی سے ڈانٹا۔ میرویس نے چونک کر اسے دیکھا۔
“تمہاری پسند نا پسند کا خیال میں پانچ سال پہلے رکھتا تھا۔ اب نہیں رکھتا۔” اسے یاد دہانی کرواتے ہوئے وہ سیگریٹ سلگا ہی رہا تھا جب عشنا نے اسے گھورا۔
“ٹھیک ہے تم کھڑے رہو میں جا رہی ہوں۔” چڑ کر کہتے ہوئے وہ مڑنے لگی تھی۔
“اچھا ٹھہرو! میں رکھ دیتا ہوں۔” تو بلآخر اس نے ہار مان ہی لی تھی۔ سیگریٹ دوبارہ جیب میں رکھ کر وہ لائٹر سے کھیلنے لگا۔
وہ ابھی مزید کوئی سوال کرتا کہ ہال میں داخل ہونے والا شخص اس کا رنگ اڑا گیا۔ وجاہت سب کی توجہ اپنی جانب کھینچتا اندر داخل ہوا تھا۔ لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ سب بتا دے رہی تھی۔ جس میز کے ساتھ کرسی لگا کر وہ بیٹھا تھا، میرویس اور عشنا کی جانب اس کی پشت تھی۔ ہال میں گویا ایک ہلچل مچ گئی۔ لڑکیوں کی آپس میں چہ میگوئیاں عشنا کے کانوں میں پڑنے لگی۔
“یہ کون ہے؟۔” عشنا نے اسے دور سے دیکھا تھا اور اس کے باوجود بھی وہ اسے بے حد اچھا لگا تھا۔ “دیکھ رہے ہو لڑکیاں کیا کہہ رہی ہیں؟؟۔” عشنا نے کچھ لڑکیوں کو باتیں کرتے سنا تو جھٹ اس سے کہا۔
“کیا کہہ رہی ہیں؟۔” وہ چونکا تھا۔
“اس شخص کے بارے میں بات کر رہی ہیں کہ اس کی آنکھوں کا رنگ ہرا ہے۔ کیا واقعی؟۔” وہ اب بے حد تجسس سے بتا رہی تھی۔ میرویس سٹپٹایا۔
“ہاں تو کیا ہوا۔۔”
“کتنا ہینڈسم معلوم ہورہا ہے۔ مجھے اسے قریب سے دیکھنا چاہیے۔” وہ بات مکمل کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی جب میرویس نے تیزی سے اسے روکا۔ وہ وجاہت کے ساتھ کھڑے خرم اور فراز کو دیکھ چکا تھا۔
“کوشش بھی مت کرنا اور یہیں کھڑے رہو!۔” وہ اسے کیسے بتاتا کہ وجاہت کے پاس اس کا جانا ٹھیک نہیں۔۔ اسے یقین تھا کہ وہ ضرور اپنے ساتھ ہتھیار رکھ لایا ہوگا۔
“کیوں؟۔” اسے جی بھر کر حیرانی ہوئی۔
“لگتا ہے تمہیں اپنی جان عزیز نہیں ہے۔” وہ قدرے سنجیدگی سے بولا۔ “ہم دوبارہ اس لڑکی کی جانب آتے ہیں جو مجھے دیکھ رہی تھی۔” اسے دل ہی دل میں وجاہت کے یہاں آنے پر کچھ ہوجانے کا خوف محسوس ہو رہا تھا مگر وہ ظاہر نہ کرتا ہوا عشنا کو باتوں میں مشغول کرنے لگا۔ عشنا نے اس کے کہنے پر دوبارہ اس لڑکی کو دیکھا جو اب بھی میر کو ہی دیکھ رہی ہے۔۔
“اللہ اللہ! کتنی ڈھیٹ لڑکی ہے! اتنے ہینڈسم لڑکے کو دیکھنے کے بجائے اب بھی تمہیں ہی دیکھ رہی ہے۔” میرویس کو سمجھ نہ آیا مسکرائے یا دانت کچکچائے۔
“میرے آگے وہ شخص کچھ بھی نہیں! تم کبھی نہیں مانو گی کیونکہ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کو ذرا پسند نہیں کرتے۔” وہ بھی اپنی جگہ ڈھیٹ تھا۔
“مجھے لگتا ہے تمہیں اسے پھولوں کا کنگن پہنا دینا چاہئیے۔ ہوسکتا ہے تمہاری بات بن جائے! پھر اس ولیمے میں تمہارا نکاح بھی ہوجائے گا۔” وہ اپنے دائیں ہاتھ سے بھاری پھولوں کا کنگن اتارنے لگی۔ میرویس اس کے یوں کنگن اترنے پر حیرانی اسے دیکھ رہا تھا۔
“یہ کیا کر رہی ہو؟۔” وجاہت کو ایک نظر دیکھتے ہوئے اس نے عشنا کو دیکھا جو اب کنگن اس کی جانب بڑھا رہی تھی۔
“تمہیں کنگن دے رہی ہوں تاکہ تم اس لڑکی کو پہنا سکو۔۔” اس نے کندھے اچکائے۔
میرویس نے وہ کنگن تھام کر اس کی خوشبو سونگھی۔
“تمہارے ہاتھ کا کنگن میں کسی اور کو کیسے پہنادوں؟۔” الفاظ کا چناؤ بہت سمجھ کر کیا گیا تھا۔
“ہاں ٹھیک ہے کہ میں یہ کنگن پچھلے ایک گھنٹے سے پہنی ہوئی ہوں اور کتنے ہی پھول جھڑ چکے ہیں۔۔ مگر اس سے اب بھی کام چلا جاسکتا ہے۔ ساویز کے لائے پھولوں سے بہت مہنگا اور بھاری کنگن میں نے ہی اٹھایا تھا۔” قدرے فخر سے بتایا گیا۔ “اب جاؤ اسے جلدی سے جا کر پہنادو!۔”
اس کی آخری بات پر میرویس کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔
“تمہیں لگتا ہے میں کسی بھی لڑکی کو کنگن پہنادوں گا؟ پہنو اپنا کنگن دوبارہ!۔” سختی سے کہتے ہوئے اس نے عشنا کی ہتھیلی پر کنگن رکھا۔ عشنا اسے حیرانی سے دیکھنے لگی۔ مزید ٹھہرے بنا ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے وہ وجاہت کی جانب بڑھ گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
واش روم کے آئینے میں ایک نظر خود پر ڈالتے ہوئے اس نے نگاہ جھکائی۔ وہ اس مسلے کا حل نکال چکا تھا۔ میرویس ٹھیک کہتا تھا۔۔ اسے خود یہ حالات قابو کرنے تھے۔ غنایہ کا یوں سہم کر دور ہٹنا، گھبرانا، بدکنا نارمل نہیں تھا۔۔ وہ اس کو اس کے حال پر نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ ہاں وہ فیصلہ کرچکا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔۔ یوں خاموش رہ کر ہر موقع پر اس کی بات ماننا ٹھیک نہیں تھا۔ اسے اندازہ تھا کہ غنایہ کا ڈر ختم کرنے میں اسے کافی وقت لگے گا مگر وہ اسے اب مزید اس کے حال پر نہیں رہنے دے گا۔ اس نے موبائل اٹھا کر جیب میں ڈال اور باہر کی جانب بڑھ گیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
میز کے ساتھ لگی کرسی پر بیٹھا وہ ارد گرد ساویز کو ڈھونڈ رہا تھا جب میرویس مقابل آکھڑا ہوا۔
“تم کیوں آئے ہو؟۔” لہجہ قدرے سنجیدہ تھا۔ وجاہت کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی۔ بائیں رخسار کا ڈمپل گہرا ہوا۔ عشنا کی جانب اب بھی اس کی پشت تھی اور وہ انہیں دیکھ رہی تھی۔
وجاہت اٹھ کھڑا ہوا۔
“دوست کا ولیمہ کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟۔” وہیں دل جلانے والی مسکراہٹ۔ “گلے نہیں لگو گے؟۔” اس نے بانہیں پھیلائیں۔ میرویس نے سانس باہر کھینچی۔
“بس کرو یہ ناٹک وجاہت! میں تمہیں وارن کر رہا ہوں۔” اس نے آنکھیں گڑائیں۔۔
“مسٹر خانزادہ نے شادی بھی کر لی اور بھنک بھی نہیں پڑنے دی!۔” وہ قہقہہ لگاتا ہوا ہنس پڑا۔ “مگر میں بھی وجاہت سلطان ہوں۔۔ اور پیچھے کھڑے یہ دو آدمی وجاہت کے بندے ہیں۔ کوئی کام چھپا نہیں رہ سکتا۔” آخری میں وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔ “لگتا ہے میرے دوست کے سسرالی کچھ باتوں سے بےخبر ہیں۔ اگر میں انہیں بتادوں تو کتنا فائدہ ہوجائے گا نا مجھے؟۔” اس کی ہری آنکھوں میں چمک ابھری۔ میرویس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ پیچھے دکھیلا۔
“میں جانتا ہوں تمہارے آدمیوں کے پاس پستول ہے۔۔ تم چلے جاؤ وجاہت! پلیز۔۔” وہ آخری میں سنجیدگی سے التجا کرنے لگا۔ وجاہت مسکرایا پھر ہنس دیا۔ ارد گرد نگاہ ڈال کر کچھ مڑتے ہوئے اس نے کچھ دور پیچھے کھڑی عشنا کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“یہ لڑکی کون ہے؟۔” وہ تھوڑی دیر پہلے میر کو اس لڑکی سے بات کرتے دیکھ چکا تھا۔ میرویس کے دل میں خوف ابھرا۔ وجاہت کی نگاہیں عشنا پر تھیں اور میر عشنا کو کسی مصیبت میں ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔
“کوئی نہیں!۔” یہ کہنا بھی مناسب نہیں تھا کہ وہ لڑکی کی بہن ہے۔۔ پھر شاید وہ اس رشتے کا فائدہ اٹھاتا۔ “عام سی مہمان لڑکی ہے۔”
وجاہت نے کچھ سوچتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ ابھی مزید کچھ کہتا کہ ساویز نے اس کے شانے پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“تمہیں یہاں نہیں ہونا چاہئیے تھا۔” اس کی سخت بھاری آواز ابھری۔
وجاہت کے لبوں پر صحیح معنوں میں مسکراہٹ ابھری تھی۔
“کسی کی زندگی برباد کر کے اپنا گھر سنوار رہے ہو!۔” بظاہر مسکراتے ہوئے وہ بے حد طنزیہ کاٹ دار لہجے میں گویا ہوا تھا۔
“کس کی زندگی اور کیوں؟ تمہارے غلط فہمیوں کا جواب میں ابھی نہیں دوں گا۔۔ میری بیوی اسٹیج پر آنے والی ہے اور اب میں مزید تمہیں یہاں برداشت نہیں کرسکتا۔” ارد گرد کچھ لوگ ان تینوں کو دیکھنے لگے۔
“کسی کی محبت کا فائدہ اٹھا کر اسے ماردینا بھی قتل ہے۔” ذو معنی لہجہ۔۔۔ وہ اس ایک جملے میں وہ بہت کچھ کہہ چکا تھا۔۔”پھر تمہیں لگتا ہے کہ تم ہنسی خوشی زندگی بسا سکو گے؟۔”
“شٹ اپ وجاہت!! تمہارے غلط فہمیوں میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔۔” اس بار ساویز کے بولنے سے پہلے میر بولا تھا۔
“بھابھی سے نہیں ملواؤ گے؟ اہم کردار وہی تو ہیں۔” ہری آنکھیں ساویز پر جمی تھیں اور وہ بمشکل ضبط کر رہا تھا۔
“میری بیوی سے نظریں دور رکھنا وجاہت! جو بات ہے وہ میرے اور تمہارے درمیان ہے۔۔۔ کوئی تیسرا نہیں!۔” ساویز سے برداشت نہ ہوسکا تو وہ دانت پیس کر بولا۔
“واہ کیا محبت ہے۔۔ امتحان لینا پڑے گا۔۔” اس کا کہنا تھا کہ ساویز کا چہرہ سرخ ہوا۔ وہ ابھی کچھ کرتا ہی کہ میرویس درمیان میں آگیا۔
“پلیز وجاہت! یہاں سے جاؤ۔۔ تم نے جو کرنا تھا کر لیا۔ اب میری بات مان لو۔۔”
“میرا کام تو پورا ہوتے نظر آرہا ہے۔” ارد گرد تمام لوگ انہیں دیکھ رہے تھے۔ دور ابرار صاحب کی پیشانی بل نمودار تھے۔ ایسے میں وجاہت کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔ یہاں آنے کا کچھ مقصد تو پورا ہوا۔
وجاہت کوٹ کا بٹن لگانے لگا۔ نگاہ ساویز سے اٹھ کر میرویس تک گئی تھی جو گزارش کر رہا تھا۔ وہ کبھی جگہ نہ چھوڑتا اگر میرویس التجا نہ کرتا۔۔ وہی میرویس جسے وجاہت اب بھی اپنا دوست مانتا تھا۔ خرم کو اشارہ دیتے ہوئے وہ تیزی سے ہال سے نکل گیا۔
“ساویز تب تک ساویز تھا جب تک اس کی شادی نہیں ہوئی تھی۔۔۔ اگر کوئی بات میری بیوی تک آئی تو یہی ساویز بتائے گا کہ دشمن کیا ہوتے ہیں۔” سختی سے باور کرواتے ہوئے وہ پلٹ گیا تھا جب کہ میرویس اب بھی عشنا کو دیکھ رہا تھا جو اب ان سب کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ گہری سانس بھرتے ہوئے وہ موبائل جیب سے نکالنے لگا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے وہ گھر پہنچا۔ سارے راستے غنایہ خاموش رہی اور وہ بھی کچھ نہ بولا۔ ماتھے پر سنجیدگی کے بل نمودار تھے۔ کمرے میں آکر غنایہ نے جلدی سے کپڑے تبدیل کیے تھے۔ وہ اپنی ٹائی اتار کر صوفے پر پھینک رہا تھا جب وہ کپڑے تبدیل کر کے باہر نکلی تھی۔ ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے کوٹ اتارنے لگا۔ جیولری میز کے ایک طرف رکھی تھی۔ وہ اس کے پیچھے سے گزرتی باہر نکل رہی تھی جب ساویز نے اسے روکا۔
“کہاں جا رہی ہو؟۔” وہ ‘آپ’ سے سیدھا تم پر آیا تھا۔ غنایہ نے اس کے لہجہ کو صاف محسوس کرتے ہوئے آئینے کے عکس میں اسے کا چہرہ دیکھا۔ ماتھے پر ہلکے ہلکے بل اور سنجیدگی کا ڈیرا تھا۔
“نیچے۔۔۔” اس نے مختصر جواب دیا۔ بالوں کا ڈھیلا جوڑا بنا ہوا تھا۔ چہرہ اب میک اپ سے پاک تھا۔
“کیوں؟۔” آستین کے کف فولڈ ہو کر کہنیوں تک چڑھے ہوئے تھے۔
“تازہ ہوا کے لیے۔۔” اس نے ہچکچا کر بتایا۔ وہ انگلیاں مڑوڑنے لگی۔
“کمرے کا ٹیرس کافی بڑا ہے۔ آپ وہاں چلی جائیں۔” ساویز پہلے ہی جانتا تھا کہ وہ نیچے کیوں جانا چاہتی ہے۔۔ تازہ ہوا تو صرف بہانہ تھا۔۔
“مگر مجھے نیچے جانا ہے۔” انگلیاں مڑوڑنے میں سختی آئی۔ ساویز نے مڑ کر اسے دیکھا اور چلتا ہوا اس کے نزدیک آیا۔ وہ پیچھے ہٹنے لگی تھی کہ ساویز نے اس کا ہاتھ تھام کر انگلیاں چھڑوائیں۔
“آج کے بعد جو میں کہوں گا تم میری بات سنو گی!۔” آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات مکمل کی گئی۔ وہ پیچھے ہٹنا چاہتی تھی مگر دونوں ہاتھ ساویز کے ہاتھوں میں تھے۔
“جی؟۔” وہ گھبرا گئی۔
“رات کے گیارہ بجنے کے بعد نیچے نہیں جاؤ گی۔ تازہ ہوا کے لیے ٹیرس کا رخ کرسکتی ہو۔” اس کا ہاتھ چھوڑ کر وہ دوبارہ آئینے کی جانب بڑھا اور گھڑی کلائی سے اتارنے لگا۔ غنایہ کا الفاظ حلق میں ہی پھنس گئے۔
ساویز کپڑے تبدیل کر آیا تھا مگر وہ اب بھی وہیں کھڑی تھی۔
“ٹھیک ہو؟۔” اسے غنایہ کا یوں اب تک کھڑا رہنا ٹھیک نہ لگا جبکہ غنایہ اس کے بدلتے لہجہ کے زیر اثر تھی۔
“جی ٹھیک ہوں۔” وہ ہوش میں آئی۔۔
“تم نے ہال میں صحیح سے کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ بھوک لگی ہوگی۔۔ میں کھانا منگوادوں؟۔” اسے یاد تھا۔ غنایہ نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں مجھے بھوک نہیں۔۔” اس کی سہمی بھوری آنکھوں سے ساویز نے بمشکل نظر ہٹائی تھی۔ کچھ کہے بنا وہ چلتا ہوا اس کے پاس آکر کھڑا ہوا۔
“میرا ہاتھ پکڑو!۔” نرمی سے کہتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ آگے کیا۔ غنایہ نے پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“مگر۔۔۔” کہتے کہتے ٹھہر سی گئی۔
“مگر کیا؟۔” ساویز نے دونوں بھنویں ساتھ اٹھائیں۔ وہ اسے بے حد وثوق سے دیکھ رہا تھا۔
“مجھے ڈر لگتا ہے۔” بلآخر اس نے ہمت کر کے بول ہی دیا۔ ساویز چونکا پھر ہلکا مسکرادیا۔
“میں جانتا ہوں تمہیں ڈر لگتا ہے۔۔ مگر ڈر کا تو مقابلہ کیا جاتا ہے۔” ہاتھ اب بھی غنایہ کی جانب تھا۔ غنایہ نے ایک نظر اپنی طرف بڑھے اس کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر ساویز کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔ لب بھینچتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ دھیرے سے اس کے ہاتھ پر رکھا اور ساویز کو لگا جیسے وہ کامیاب ہوگیا ہو۔۔ اس مسلے کا یہی حل تھا کہ غنایہ کو نرمی سے ٹریٹ کیا جائے۔۔
اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط رکھتے ہوئے وہ اسے ٹیرس پر لے آیا۔ کھلی فضا جب چہرے پر لگی تو سکون رگوں میں دوڑنے لگا۔ غنایہ کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ اس کے ساتھ کھڑی باہر دیکھ رہی تھی۔ ہاتھ ساویز کے ہاتھوں میں تھا اور گرفت قدرے مضبوط تھی۔
“سب کچھ کتنا بدل گیا۔۔ اب اس کمرے میں ساویز اکیلا نہیں رہتا۔” لبوں پر ہلکی مسکراہٹ تھی۔ اس کی آواز پر وہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں قید دیکھنے لگی۔ اسے خوف محسوس ہو رہا تھا۔ دل چاہا کہ اپنا ہاتھ کھینچ لے مگر جیسے وہ ہاتھ بے جان ہوگیا۔۔ ڈھیلا پڑنے لگا۔
“تم یہاں کبھی بھی آسکتی ہو۔۔ میری آنکھوں کے سامنے رہو گی تو مجھے تسلی رہے گی۔” اس کا ہاتھ دھیرے سے چھوڑ کر وہ اب اسے دیکھ رہا تھا۔ “میں جان گیا ہوں کہ تمہیں تنہائی پسند ہے اور اس میں کچھ غلط نہیں۔۔ یہاں جب تک چاہو ٹھہرو پھر اندر آجانا۔ کل میرا آفس ہے اور مجھے نیند پوری کرنی ہے۔” گھمبیر لہجے میں کہتے ہوئے وہ اندر مڑ گیا۔ غنایہ وہیں ٹھہر گئی۔۔ اس کے لہجے میں کھوئی ٹکٹکی باندھے آسمان کو تکنے لگی۔۔ کب وہ ہوش میں آئی اور کب اس نے پلٹ کر کمرے میں دیکھا۔۔ ساویز صوفے پر لیٹا ایک ہلکی چادر اوڑھے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ غنایہ نے تھوک نگل کر تیزی سے نگاہیں آسمان کی جانب کر لیں۔ نجانے کیوں اس کی دھڑکنیں ساویز کو سامنے پا کر بڑھ جاتی تھیں۔ وہ غنایہ کو بنا پلک جھپکے دیکھ رہا تھا اور غنایہ چاند کو تک رہی تھی۔۔ جانے کیا کمی تھی جو پوری نہیں ہو پارہی تھی۔ ساویز کے لیے وہ الجھی ڈور کی مانند تھی جسے سلجھانے کا طریقہ وہ جان گیا تھا۔۔
جوڑا کھل چکا تھا اور پونی نیچے گر گئی تھی۔۔ وہ بال اب ہوا کے زیر اثر لہرا رہے تھے۔ اس نے چاند سے اپنا موازنہ کرنا چاہا۔۔ آدھا چاند اور غنایہ۔۔ دونوں ہی ادھورے تھے۔
۔۔۔★★★۔۔۔