61.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10 Part 1

تو دل سے نہ اتر سکا از عینا بیگ
دسویں قسط (پہلا پارٹ)
اسے یاد نہیں تھا کب اس کو پہاڑ سے دھکا دیا گیا اور وہ لڑکھڑاتی ہوئی نیچے گر پڑی۔ آنکھ کھلی تو مناظر کچھ مختلف تھا۔۔ پہاڑ جتنا اونچا اب اسے اپنا بستر نظر آرہا تھا۔ فرش پر گر کر لیٹی عشنا تھوڑی دیر کے لیے ساکت رہ گئی۔ ہلکی ہلکی روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔ خواب کی کیفیت ختم ہوئی تو اس نے حالات پر نظر دوڑائی۔ بستر پر لیٹا میرویس مطمئن سو رہا تھا۔ اگر جاگ رہی تھی تو عاشی! گہری سانس بھرتے ہوئے اسے میرویس کی غلطی سمجھ کر وہ دوبارہ تکیہ اٹھائے بستر پر لیٹ گئی۔ نیند سے آنکھیں بوجھل تھیں سو اسے گہری نیند میں اترتے ہوئے ذرا وقت نہ لگا۔ نیند اس قدر حاوی تھی کہ اس بار میرویس کے خراٹے بھی اسے نہ جگا سکے۔ نہ جانے وہ اس سے کون سے جرم کا انتقام لے رہا تھا۔ صبح کے دس بجنے لگے تھے جب میرویس کے کروٹ نے اسے پوری قوت سے دھکا دیا تھا اور ایک بار پھر وہ فرش کے نذر ہوئی تھی۔ سر فرش پر لگنے کے بعد اس نے وہیں ٹھہرنے کا فیصلہ کیا۔ اب اٹھ کر بستر پر لیٹنے کی نہ ہمت تھی اور نہ وہ مزید رسک لے سکتی تھی۔ آنکھوں سے آنسو بہنے کو تھے۔ نیند آنکھوں سے اب کوسوں دور تھی کہ پانچ منٹ انتظار کرنے کے باوجود بھی وہ سو نہ سکی۔ نیچے سے اٹھتے ہوئے وہ اس بار اوپر نہیں لیٹی تھی۔ تکیہ پوری قوت سے غصے کے مارے میرویس پر پھینکا تھا۔ وہ جو پہلے ہی ذرا سی آواز پر اٹھ جایا کرتا تھا، آنکھیں کھول کر عشنا کو دیکھنے لگا۔
“اس لسٹ میں ایک جملے کا اضافہ ہوچکا ہے۔” کلس کر کہتی ہوئی بالوں کا جوڑا بنانے لگی۔
“کون سی لسٹ میں؟۔” نیند سے بھری آنکھوں کو حیرانی سے پھیلاتے ہوئے وہ کچھ اٹھ کر بیٹھا۔
“میرویس سے شادی کے نقصانات!۔” دانت پیس کر کہا گیا۔۔ جبکہ میرویس بوکھلایا۔
“کیا ہوا ہے؟۔” پھولوں سے سجا ہوا کمرہ سورج کی روشنی میں بھلا لگ رہا تھا۔
“کیا ہوا ہے؟ تمہیں پتا نہیں چلا کہ کیا ہوا ہے؟۔” اس کے برعکس وہ بوکھلائی۔ بھلا ایسا کیسے ممکن تھا۔
“میں تو سو رہا تھا۔” پیشانی کجھاتے ہوئے جھینپ کر اطلاع دی گئی۔
“میں بھی سو رہی تھی۔” جواباً اس نے دانت کچکچائے۔ “مگر تم نے مجھے نیچے پھینک دیا۔۔ وہ بھی دو بار!!۔” کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے وہ اپنے سوٹ کیس کی جانب بڑھ گئی۔ میرویس ششدر رہ گیا۔ اس نے فرش پر نگاہ دوڑائی جہاں پہلے ہی اس کا موبائل اور عشنا کا تکیہ موجود تھا۔ پیشانی پر ہاتھ مارتے وہ کسی شرمندگی سے دوچار ہوا تھا۔
“یا اللہ یہ مجھ سے کیا ہوگیا۔” سونے سے قبل اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ صبح اس طرح بھی ہو سکتی ہے۔
“سوری۔” کپڑے نکالتی عشنا سے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا۔ اس کی گھمبیر آواز کانوں پر پڑی تو غصہ کم ہوگیا۔ دل نرمی سے اس کے لفظ پر اٹک گیا۔
“تم ایسا ہی کرتے ہو؟۔” اس نے پلٹ کر سادے سے لہجے میں پوچھا۔
“میں جان کر نہیں کرتا۔” مسہری سے ٹیک لگا کر وہ اسے پورے انہماک سے دیکھ رہا تھا۔
“کوئی بات نہیں۔۔ غلطی ہوجاتی ہے۔” اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے اس نے پیلے رنگ کا جوڑا بیگ سے نکالا۔
میرویس نے تھوک نگلا۔۔ یہ غلطی تو روز ہوتی تھی۔
یکدم ہی اماں نے دروازہ بجا کر باہر آنے کے لیے آواز لگائی۔ وہ تیزی سے بستر سے اتر کر اس کی جانب بڑھا۔
“ہم آرہے ہیں اماں۔” ہاتھ سے پیلے رنگ کا جوڑا چھین کر سرخ رنگ کا سوٹ نکالنے لگا۔
“یہ پیلا رنگ اچھا ہے میرویس۔” اس نے حیرانی سے اس کے ہاتھ سے جوڑا چھیننا چاہا مگر وہ اسے ہاتھ اٹھا کر اونچا کر چکا تھا۔
“تم میری پسند کا پہنو گی تو اور بھی اچھی لگو گی۔ یہ سرخ رنگ کا جوڑا تم پر بہت زیادہ کھلے گا۔ باخدا!۔” سرخ کام والا جوڑا اس کے آگے رکھتے ہوئے دھیرے سے مسکرایا۔ البتہ عشنا خفا خفا سی نظریں اس پر ٹکا کر بھولے پن سے اسے دیکھنے لگی۔
“تم بہت بدتمیز ہو۔” ہاتھ سے جوڑا تقریبا کھینچتے ہوئے پکڑا تھا۔
“اور تم بہت خوبصورت۔۔” ہلکا سا ہنس کر محبت سے سرگوشی کی گئی۔ وہ یکدم ہی میرویس کے سامنے سرخ ہوتی اگر جان کر چہرہ نہ پھیر لیتی۔
“شرم نام کی کوئی چیز تمہارے اندر نہیں؟ تھوڑا شرما کر شوہر کو دیکھ لو گی تو مجھے بھی اچھا لگے گا۔” قہقہہ لگا کر اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے وہ اپنی جانب کھینچتا ہوا بولا۔
“میں تم سے کیوں شرماؤں؟ نہیں آتی مجھے تم سے شرم!۔” جان کر مسکراہٹ چھپاتے ہوئے وہ اب میچنجگ کی جیولری نکال رہی تھی۔
“ذرا سی بھی نہیں آتی؟۔” وہ حیران ہوا۔
“اتنی سی بھی نہیں آتی۔” عشنا نے بھی ہاتھوں کی انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا۔
“بڑی بے شرم ہو تم تو۔۔” یکدم ہی بول پڑا۔ عشنا کھلکھلا دی۔
“اب جیسی بھی ہوں تمہیں گزارا کرنا ہے۔”
“اماں ٹھیک ہی کہتی تھیں۔” منہ بنا کر دیکھتے ہوئے بستر پر لیٹ گیا۔
“کیا کہتی تھیں تمہاری اماں؟۔” وہ انجوائے کرنے لگی۔
“کہہ رہی تھیں بڑی عمر کی لڑکی زبان کی تیز ہوگی۔ میری بات بھی نہیں مانے گی۔۔ لگتا ہے فیصلہ غلط ہوگیا۔” اسے چھیڑتے ہوئے وہ وہیں لیٹ گیا۔
عشنا کچھ پل ٹھہر کر خود کو آئینے میں دیکھنے لگی۔ کیا واقعی اماں اس کے بارے میں ایسا سوچتی تھیں؟۔
“زبان کی تیزی کا تو علم نہیں لیکن ہاں تمہارے غلط فیصلے میں نہیں مانوں گی۔۔ اور اگر یہ غلط فیصلہ ہے تو آؤ ابھی درست فیصلہ لے لیتے ہیں۔” درازوں میں جیولری سینت کر رکھتے ہوئے اس نے عام سے لہجے میں کہا۔
“میں مذاق کر رہا ہوں یار۔۔” اسے یکدم ہی کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔ عشنا سنجیدہ ہو چکی تھی۔ “تمہیں برا لگا؟۔”
“تمہاری اماں نے مجھے تیز زبان کہا مجھے ان کی یہ بات بہت زیادہ پسند آئی۔” کیا یہ طنز تھا؟ وہ سٹپٹایا۔ غلط موقع پر بے حد غلط بات کردی تھی۔ احساس ہوا تو وہ ایک بار پھر شرمندہ ہوگیا۔ اسے اماں کی بات عشنا کو نہیں بتانا چاہئیے تھی۔
“ایسا نہیں ہے۔ میں بس تمہیں چھیڑ رہا تھا۔” اسے اب برا لگنے لگا۔
“ہوں۔ تمہیں شاور نہیں لینا؟ بلکہ پہلے میں ہو آتی ہوں۔ مجھے اپنے کپڑے بتادو۔ میں وہ بھی نکال لیتی ہوں۔” وہ جلدی جلدی سب سمیٹتے ہوئی اٹھنے لگی۔ میرویس چلتا ہوا اس کی طرف آیا۔
“تمہیں برا لگا ہے نا؟۔” دونوں شانوں سے اسے دھیرے سے تھام کر وہ احساسِ شرمندگی میں بولا۔ عشنا اس کی سیاہ آنکھوں میں جھانکنے لگی جو واقعی افسوس سے گھری تھیں۔ “میں تمہیں اداس نہیں کرنا چاہتا تھا عاشی! تم جانتی ہو نا تم میرے لیے کیا ہو؟۔” اسے خود سے نزدیک کرتے ہوئے وہ پیار سے بولا۔
“تمہیں سچ میں لگا کہ مجھے آنٹی کا وہ سب کہنا برا لگا؟۔” زور دار ہنستے ہوئے وہ میرویس کو ششدر کر گئی۔
“تمہیں برا نہیں لگا؟۔” کیا عجیب بات تھی۔
“تمہاری اماں مجھے چڑیل بھی کہیں گی تو بھی مجھے برا نہیں لگے گا۔ ذرا ذرا سی بات پر خفا ہونے کے لیے تم سے شادی کی تھی؟۔” وہ الٹا اس سے پوچھنے لگی۔ ہنستے مسکراتے لب میرویس کو تسکین پہنچانے لگے۔
“تم بہت بری ہو۔” برہم لہجہ اپناتے ہوئے دور ہٹا۔ “مجھے لگا میری بات سے تمہیں تکلیف ہوئی ہوگی۔ گھبرا گیا تھا یار۔”
“تم جب سے اٹھے ہو مجھے تنگ کر رہے ہو؟ اب اگر میں نے تنگ کردیا ہے تو تمہیں خفا ہونے کی ضرورت نہیں! سمجھے؟۔” ایک بار پھر بات نے ہنسی کا رخ کیا۔ میرویس اپنی مسکراہٹ نہ چھپا سکا۔ “بستر پر اب نہ لیٹنا۔ مجھے اپنے کپڑے بتاؤ۔” اس نے جملہ مکمل ہی کیا تھا کہ وہ بستر پر دھپ سے گرا۔ ایک بار پھر عشنا کلس پر رہ گئی۔
“مجھے نیند آرہی ہے۔”
“میں نے کہا میرویس اٹھو اور اپنے کپڑے نکالنے میں میری مدد کرو!۔” وہ بھی برابر غصے میں بولی۔ میرویس دانت پیس کر زچ ہوتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
“تم کیوں بار بار مجھے احساس دلا رہی ہو کہ میں اب شادی شدہ ہوں؟۔” وہ جو کسی کی آواز پر نہ اٹھتا تھا چار و ناچار بیوی کی پہلی آواز پر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“کیونکہ تم شادی شدہ ہو!۔” میرویس کی وارڈروب کھول کر وہ اس کے کپڑے دیکھنے لگی۔
“کچھ بھی نکال دو۔”
“کرتا نکال رہی ہوں۔ میں نے تمہیں کبھی کرتے میں نہیں دیکھا۔” لبوں پر دھیمی سے مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس کے پاس صرف ایک ہی کرتا تھا۔ پوری وارڈروب پینٹ، ٹی شرٹس اور کوٹ سے بھری ہوئی تھی۔
“مجھے کرتا شلوار نہیں پسند! تم کچھ اور بھی دیکھ سکتی ہو۔” اندر سے بھورے رنگ کی ٹی شرٹ وہ ابھی باہر نکال ہی رہا تھا جب عشنا نے اس کا ہاتھ روکا۔
“مگر مجھے پسند ہے۔ جانتے ہو مرد کرتا شلوار میں کتنے اچھے لگتے ہیں؟ پھر جب وہ آستین کے کف فولڈ کر کے کہنیوں تک چڑھاتے ہیں۔” وہ کسی حسرت سے سوچتے ہوئے بولی۔ وارڈروب پر ایک کہنی ٹکائے کھڑے میرویس نے اس کا چہرہ دیکھا۔
“کتنے مردوں کو دیکھ چکی ہو؟۔” شریر لہجہ۔۔
“کل ساویز اور وہاج کتنے اچھے لگ رہے تھے۔ تم نے دیکھا نہیں ان کی شخصیت میں کتنا وقار معلوم ہو رہا تھا۔” دوسروں کی خوبیاں گنواتے ہوئے میرویس کو جلا کر راکھ کر گئی۔
“دوسروں کی اولادوں کو دیکھنے سے بہتر ہے کہ تم میری ماں کی اولاد پر توجہ دو۔ وہ بھی کسی سے کم نہیں۔۔” اس کے ہاتھ سے ہینگر چھینتے ہوئے وہ واش روم کی جانب بڑھا۔ عشنا دھیما سا مسکراتی رہ گئی۔ وہ اسی کو تو توجہ دے رہی تھی۔ عشنا کو یاد تھا کہ کیسے رات سے اب تک اس کی توجہ کا مرکز صرف میرویس تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
وہ امی کے ساتھ آج حسبِ معمول بازار آئی تھی۔
“میں نے عشنا سے کہا تھا مگر اس نے ناشتے کے لیے منع کردیا تھا۔ شاید وہ شادی کی پہلی صبح اپنی ساس کے ساتھ کرنا چاہتی ہے۔” سفید پردوں کی تھیلی غنایہ کو تھما کر وہ اب رکشے کا انتظار کر رہی تھیں۔
“مجھے گھر پر ہی اتار دیجئے گا۔” پیشانی پر نمودار ہوتے پسینے صاف کرتے ہوئے ہوئے اس نے ماں سے کہا۔
“ساویز تو گھر پر نہیں ہے۔ پھر کیوں جانا چاہ رہی ہو؟۔”
“اماں ان کے لوٹنے سے پہلے میں گھر کی صفائی کر لوں گی اور کھانا بھی بنادوں گی۔” ماحول میں ہلکی ٹھنڈ ہونے کے باجود اسے بھیڑ کی وجہ سے پسینہ آرہا تھا۔
نگاہ ارد گرد ڈالتے ہوئے وہ اماں کو رکشہ روکتے دیکھنے لگی۔ ابھی مزید انتظار کرتی ہی کہ موٹر سائیکل اس کے آگے کسی نے جھٹکے سے روکی۔ مٹی کا دھواں اٹھا تو آنکھوں میں جانے سے روکنے کے لیے تیزی سے ہاتھ ہلانے لگی۔
“سنا ہے اس چھوٹے سے علاقے میں تم دوبارہ لوٹ آئی۔” اس کی آواز پر غنایہ کا دم گھٹنے لگا۔ وہ اماں کی طرف ہو کر کھڑی ہوگئی۔
“تم یہاں کیوں آئے ہو۔” اس بار اماں نے جواب دیا تھا۔
“مجھے تو لگا چچی کہ تم نے اسے بڑے گھر میں بیاہ دیا ہوگا۔۔ یا پھر اس بیچارے قسمت کے مارے کو بھی تمہاری بیٹی کے نصیب نے کنگال کردیا؟۔” باصم کا زور دار قہقہہ غنایہ کی نفرت کے باعث بنا۔
“دور ہٹو اور دفع ہو یہاں سے!۔” انہوں نے اپنے اندر کافی ہمت جمع کر کے اسے جھڑکا۔
“کتنا دور؟۔” خباثت بھری مسکراہٹ لبوں سے ٹکرائی۔ “مجھے لگا اب بھی اس اونچی عمارت والے گھر میں یہ چڑیا رہتی ہوگی۔۔ تمہیں کیا لگا تھا تمہارے گھر کا پتہ نہیں نکلوا سکوں گا؟۔” بائیک پر ریس دیتے ہوئے وہ کمینگی سے بول رہا تھا۔ “میرا انتظار کرنا۔ نہ آیا تمہارے گھر اور نہ تمہارے شوہر کے سامنے تمہارا کردار خراب کیا تو میرا نام بھی باصم نہیں۔۔” دوسری طرف تھوکتے ہوئے وہ اپنی سگریٹ جیب سے نکالتا سلگانے لگا۔ غنایہ کے ہونٹ لرز اٹھے۔ کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے ماں کا پلو جکڑا۔
“شرم کر باصم! اب تو شرم! اتنی بدنامی کے بعد بھی میری بیٹی پر نظر رکھے ہوئے ہو۔ اس کے شوہر کو علم ہوا تو تجھے نہیں چھوڑے گا۔” امی کو طیش آیا۔ اب وہ پہلی جیسی خاموش عفت نہیں تھیں۔ بیٹیوں کی شادی کے بعد کچھ دلیری تو ان کی ذات کا حصہ بن چکی تھی۔
“تیری بیٹی کا پیچھا چھوڑا ہی تو تھا۔ جب ہی تو نے اس چڑیا کی شادی کسی اور سے کردی۔۔ مگر تم لوگ یہ بھول گئے ہو کہ میں بھی باصم ہوں۔ اپنی بیٹی سے کہنا کسی دن اپنے گھر پر میرا انتظار کرے۔” ذو معنی لہجے میں کہتے ہوئے بائیک بڑھا کر لے گیا۔ غنایہ سر تا پیر کانپ اٹھی۔ عفت بھی رکشہ تیزی سے روکتے ہوئے غنایہ کو لیے اس میں بیٹھ گئیں۔ مزید ٹھہرنا درست نہیں تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
سرخ رنگ کے جوڑے میں ملبوس، کلائیوں میں سرخ چوڑیاں اور لبوں پر گہرے رنگ کی لال لپ اسٹک۔۔ آنچل کندھے پر لٹکاتے ہوئے اس نے باہر جا رخ کیا۔ کمرہ میرویس کی موجودگی سے خالی تھا۔ وہ اس کے تیار ہونے سے قبل خود تیار ہو کر باہر نکل چکا تھا۔
“اسلام علیکم۔” کچن میں ہی اسے اماں کھڑی ملیں۔
اماں نے پلٹ کر اسے سر تا پیر دیکھا۔
“وعلیکم سلام۔” سنجیدہ لہجہ۔ وہ میرویس کے لائے ناشتے کو پلیٹ میں نکال رہی تھیں۔
تھوڑی دیر انہیں یوں کام کرتا دیکھ کر اسے یکدم ہی خیال آیا۔
“لائیں میں آپ کی مدد کر دیتی ہوں۔” ان کے روکھے رویے کو بہت اندر تک محسوس کر رہی تھی۔
“مجھے لگا تھا ناشتہ تمہارے گھر سے آئے گا۔” کانچ کی پلیٹیں کیبنٹ سے نکالتی ہوئی وہ عشنا کے ساتھ ساتھ پیچھے داخل ہوتے میرویس کو چونکا گئیں۔ “میں اور روما تو انتظار بھی کر رہے تھے۔”
“جی وہ میرویس نے منع کردیا تھا۔” اسے میرویس کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔ ہچکچا کر بات بتاتے ہوئے اس نے پراٹھوں کی تھیلی اپنی جانب کھینچی تاکہ ہاٹ پاٹ میں رکھ سکے۔
“میرویس نے منع کیا تھا؟۔” وہ الجھیں۔
“ہاں اماں۔۔ میں نے سوچا تھا کہ شادی کی پہلی صبح صرف ہم چند لوگ ہی ساتھ ناشتہ کریں۔” بیوی کے تاثرات محسوس کرتے ہوئے اس نے طرف داری کی۔ وہ گھبرائی ہوئی کھڑی تھی۔ اماں نے اثبات میں سر ہلایا۔
“انہیں میز پر رکھ دو دلہن۔” اسے ہاٹ پاٹ پکڑاتے ہوئے باہر جانے کا اشارہ دینے لگیں۔
“میں چائے بنا دیتی ہوں۔” دوبارہ کچن میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے ہوئے وہ باہر کی جانب بڑھی۔
“نہیں نہیں۔۔ روما چائے بنا دے گی۔ اب تم ایک دن کی دلہن ہو کر کام کرو گی تو اچھا نہیں لگے گا۔” یہ جملہ بھی انہوں نے سنجیدگی سے ہی ادا کیا تھا۔ ان کی بات پر عشنا نے ٹھہر کر بجھتے چہرے سے شوہر کو دیکھا اور باہر نکل گئی۔
تقریباً دس منٹ بعد میز کے ساتھ لگی کرسیوں پر بیٹھتے ہوئے عشنا نے میرویس کو دیکھا تھا۔
“انہیں شاید اچھا نہیں لگا۔” ہونٹ کی کھال اکھیرتے ہوئے معصوم لہجہ میں گویا ہوئی۔ “میں امی اور غنایہ سے کہہ دیتی ہوں۔ وہ دونوں ناشتے کا سامان لے آئیں گی۔” اماں کے لہجے سے وہ اداس ہو چکی تھی۔ البتہ میرویس بیوی کے چہرے پر اداسی نوٹ کر چکا تھا۔
“تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔ وہ بس سرسری پوچھ رہی تھیں کیونکہ انہیں یہی لگا تھا کہ ناشتہ آئے گا۔ کچھ میری بھی غلطی ہے۔ مجھے بتادینا چاہئیے تھا کہ میں تم سے ناشتے کا منع کروا چکا ہوں۔” آستین کے کف فولڈ کرتے ہوئے اس نے تسلی دی۔ عشنا کی نگاہیں اس کے انداز پر ہی اٹک گئیں۔ سفید کرتے پر سلیقے سے بال بنائے ہوئے تھے۔ ایک ہاتھ کی کلائی میں گھڑی بندھی تھی اور اس ی ہاتھ سے دوسری آستین کے کف فولڈ کیے جا رہے تجے۔ لمبا چوڑا اور کشادہ سینہ۔۔ وہ لمحہ بھر کو ٹھہر سی گئی۔
“تم بہت اچھے لگ رہے ہو۔” بجھے لہجے کی جگہ اب مسکراہٹ نے لے لی۔ وہ کچھ چونک کر اس کا چہرہ دیکھتا رہ گیا۔
“تمہیں میں اس ڈریسنگ میں اچھا لگا؟۔” وہ الٹا اس سے پوچھنے لگا۔
“تم پر یہ ڈریسنگ بہت اچھی لگتی ہے۔ آج سے قبل میں نے کبھی تمہیں ایسے نہیں دیکھا۔” مبہم سی دل موہ لینے والی مسکراہٹ۔۔
میرویس مسکرا دیا۔ مسکراہٹ اس قدر گہری تھی کہ لبوں سے جدا ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ عشنا کے لبوں سے یہ تعریف وہ زندگی بھر یاد رکھنے والا تھا۔
“بھابھی آپ کتنی زیادہ پیاری لگ رہی ہیں۔” بالوں کی چٹیا بنائے روما کچن کے دروازے سے باہر نکلی۔ نگاہ اس کی مہندی سے بھرے ہاتھوں پر ہی ٹک گئی۔ “یہ مہندی بھی کتنی بھری بھری اور خوبصورت ہے۔۔ آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں بھابھی۔” وہ اس کے تھامے بغور دیکھ رہی تھی۔ اس کی لپ اسٹک، سرخ نگوں والی انگھوٹی، گلے میں باریک چین، چوڑیاں، ہلکے ہلکے جھمکے اور آنکھوں میں لگا کاجل۔۔ یہ سب کسی کی بھی توجہ کھینچ سکتے تھے اور میرویس کی بھی۔۔
“تم بھی بہت پیاری ہو روما۔۔ کل شادی میں بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔” اس کے گال کھینچتے ہوئے وہ اسے بلکل چھوٹے بچوں کی طرح ٹریٹ کر رہی تھی۔
“چلو اب تم لوگ ناشتہ کرلو۔ میں دوپہر تک روما کو ساتھ لے کر گھر چلی جاؤں گی۔ اب ماشاءاللہ دونوں میاں بیوی ہو اور زندگی ساتھ گزارنی ہے۔ جلد تم لوگوں کو نئی روٹین کی عادت ہوجائے گی۔” چائے کی ٹرے میز پر رکھتے ہوئے وہ کوئی بات سمجھا رہی تھیں۔ “تمہارا ولیمے کا کب ارادہ ہے؟۔” انہوں نے میر سے پوچھا۔
“ابھی نہیں۔۔ ایک ہفتے بعد۔۔ ابھی کافی کچھ کام نمٹانے ہیں۔” ہاتھ آپس میں رگڑتے ہوئے وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔
“کیا تم شادی کے بعد بھی نوکری کرو گی؟۔” انہوں نے یکدم ہی سوال کیا۔ وہ بری طرح چونک اٹھی۔ یہ سوال کتنا عجیب تھا۔
“جی۔” اس نے میرویس کو دیکھ کر جواب دیا۔ میرویس نے ایک نظر ماں کو دیکھا، پھر عشنا کو۔۔ چائے کا مگ اٹھا کر لبوں سے لگا لیا۔
اماں نے اس کا چہرہ تکتی رہ گئیں۔ موڈ یکدم ہی خراب ہوا اور انہوں نے کچھ بگڑ کر بیٹے کو دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں ‘لو دیکھ لو۔۔ کہا تھا نا یہ لڑکی ایسا ہی کرے گی’
حالانکہ سب باتوں کو سنتا میرویس مطمئن تھا۔ روما کے آگے پلیٹ رکھتے ہوئے اس نے ہاٹ پاٹ کی جانب ہاتھ بڑھایا۔
اماں کے یوں میرویس کی جانب دیکھنے پر عشنا بوکھلائی تھی۔ تو کیا اس کی جاب کرنے پر اماں کو اعتراض تھا۔
“مجھے لگا تھا تم شادی کے بعد اپنے یہ کام چھوڑ دو گی۔” روکھا لہجہ۔۔
“اماں وہ اتنے سالوں سے جاب کر رہی ہے۔” اس بار میرویس گویا ہوا۔
“تو شادی کے بعد بات مختلف ہوجاتی ہے نا بیٹا۔” اماں نے پہلے میرویس کو آنکھیں دکھانی چاہیں۔ وہ ابھی کچھ کہتا ہی کہ اماں نے چپ کروایا۔ “میرے آگے کچھ نہ کہنا۔” میرویس نے خود پر بمشکل ضبط کیا۔ عشنا کا چہرہ روہانسا ہوگیا۔ وہ سامنے پلیٹ میں رکھا پراٹھا تکتی رہ گئی۔ البتہ روما کو اماں کا یوں اس کی نئی اور پیاری بھابھی کو یہ سب کہنا اچھا نہ لگا۔ وہ اس کا ہاتھ سہلاتی ہوئی جوس کا گلاس اس کی جانب بڑھانے لگی۔ میرویس کو تکلیف محسوس ہوئی۔ اس کا دل چاہا میز چھوڑ کر کمرے میں چلے جائے مگر وہ یوں کر کے عشنا کے سامنے اماں کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میر جانتا تھا عشنا خاموش رہنے والوں میں سے نہیں۔۔ وہ چاہے تو اماں کو جواب دے سکتی تھی مگر اس کی نظر میں اماں کے لیے ایک احترام اور عزت تھی۔ عشنا روما کی حرکت پر جی جان سے مسکرائی۔ کافی دیر ہوچکی تھی۔ بات کو ایک دم دباتے ہوئے اس نے پراٹھے کی جانب ہاتھ بڑھائے۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“میں نہیں جانتا وہ اب بھی میرے ہی پیچھے کیوں پڑا ہے؟ الزام کتنا بے وقوفانہ ہے۔ اس کی بہن کا قتل اس کے ہی گھر پر؟ تم جانتے ہی ہو جو گھر پہلے ہی گارڈز سے گھرا ہو وہاں کوئی داخل نہیں ہو سکتا۔” پیشانی پر الجھنیں پھیلی ہوئی تھیں۔
“میں جانتا ہوں یہ سب۔۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ وہ اس قتل کا ذمہ دار تمہیں ہی کیوں ٹھہرانا چاہتا ہے۔” لہجہ کچھ عجیب سا تھا۔ وہاج کو سانس لینے میں دشواری محسوس ہوئی تو اس نے زور لگا کر اندر سانس کھینچی۔
“میں نہیں جانتا۔” اس نے نگاہ وہاج پر ڈالی۔
“میں اسٹوڈنٹس کی کلاس لے رہا تھا جب مجھے میرویس نے کائنہ کے قتل کا بتایا۔” آنکھیں کی پتلیاں آسمان ٹک گئیں۔ “مجھے لگا جیسے میرا وجود سر تا پیر لرزا ہو۔” نگاہ ساکت تھی۔ وہ چاہ کر بھی ہٹا نہ سکا۔ ساویز نے کچھ عجیب نگاہوں سے اسے دیکھا۔ وہ اس طرح سے کائنہ کا ذکر کیوں کر رہا تھا۔
“اور مجھے علم نہیں تھا کہ اس دن کے بعد سے میری زندگی ہوں جہنم بنے گی۔” کنکر کو ٹھوکر مارتے ہوئے اس نے جھٹکے سے کہا۔ وہاج اس کا چہرہ تکتا رہ گیا۔
“میں وجاہت سے کل ملنے جاؤں گا۔ حیرت ہے وہ ان چند دنوں میں ایک بار بھی نظر نہ آیا۔” لہجہ سنجیدہ تھا۔
“میں نہیں جانتا اس کے دماغ میں اب کیا چل رہا ہے۔” کندھے اچکائے گئے۔ “تم لاہور کب جانے والے ہو؟۔”
“چار سال سے اپنے ماں باپ کو نہیں دیکھا۔ باہر کی زندگی بہت مختلف ہوتی ہے۔ ہر سال بس یہی سوچتے رہنا کہ اب کی بار چھٹیوں پر ملنے جاؤں گا۔ بلآخر مجھے موقع مل ہی گیا۔ مزید کچھ دن ٹھہر کر میں لاہور چلا جاؤں گا۔ کچھ وقت ان کے ساتھ گزار کر پھر پردیس لوٹنا پڑے گا مگر تم فکر مت کرو۔۔ میں تمہاری پریشانی سلجھا کر جاؤں گا۔” لبوں پر دھیمی سے مسکراہٹ پھیل گئی۔ ساویز جواباً مسکرادیا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“میں سوچ رہی تھی شادی کے دو روز بعد سے ہی جاب کا آغاز کردوں گی۔ جب سے تم نے بتایا کہ تمہیں شادی کے لیے صرف دو روز کی چھٹیاں ملی ہیں تو میں نے بھی یہی سوچ لیا تھا کہ تمہارے ساتھ ہی دو روز مکمل کرکے آفس جانے لگوں گی۔” مسہری سے ٹیک لگاتے ہوئے لب کچلتے ساتھ بولی۔ اماں دوسرے کمرے میں گھر جانے کے لیے بیگ باندھ رہی تھیں۔ سنگھار میز کے آگے کھڑے ہوتے میرویس نے آئینے کے عکس میں اس کا چہرہ دیکھا۔
“تمہیں جاب کرنے سے کوئی منع نہیں کر رہا عاشی۔” صبح سے دوپہر ہو آئی تھی اور وہ اس کا اداس چہرہ کتنے گھنٹوں سے نوٹ کر رہا تھا۔
“مگر مجھے لگتا ہے تمہاری اماں نہیں چاہتیں۔”
“تمہارے نزدیک میری بات کی زیادہ اہمیت ہونی چاہئیے۔ جب میں نے کہہ دیا کہ میری جانب سے کوئی روک ٹوک نہیں تو بلاوجہ کی پریشانی کیوں؟۔” وہ چلتے ہوئے اس کے نزدیک آکر بیٹھا۔
عشنا مسکرا دی۔ اگر ایک جگہ ‘میرویس سے شادی کے نقصانات’ کی لسٹ وہ تیار کر رہی تھی تو دوسری جگہ خوف بخود ‘میرویس سے شادی کے فوائد’ والی لسٹ میں اضافہ ہو رہا تھا۔
“رات کا کھانا اماں کی طرف ہے۔ تمہیں یاد ہے نا؟۔” کھلے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ جوڑا باندھنے کی تیاری کرنے لگی۔ ابھی وہ بالوں کو گھماتی ہی کہ میرویس نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“بالوں کو کھلا رہنے دو۔ مجھے یاد نہیں آج سے پہلے میں نے تمہیں کب کھلے بالوں میں دیکھا تھا۔ شاید چھ سال قبل جب یونیورسٹی میں فیشن ایونٹ تھا اور تم تیار ہو کر آئی تھی۔۔ تب میں نے تمہیں سیدھا اپنے دل میں اترتا محسوس کیا تھا۔” اس کی باتیں دل موہ لینے والی تھیں۔ گھٹنوں پر ہاتھ بچھا کر اس نے اپنا سر ٹکایا۔ میرویس کی سیاہ آنکھوں میں اس کا ہی عکس تھا۔
“مینجر کی دی گئی پارٹی میں بھی میں بال کھول کر ہی گئی تھی۔۔” اس نے یاد دلایا۔
“نہیں۔۔ تم نے ہلکا کیچر لگا کر اپنے بال ذرا سے باندھے ہوئے تھے۔ بھلا میری نگاہوں سے تمہارا دیدار کیسے چھوٹ سکتا تھا۔” وہ آج بھی بے یقین تھا۔ ایک لڑکی اس کے سامنے تھی۔۔ مسکراتی ہوئی اس کی باتوں پر کچھ حیرانی سے اسے تکتی ہوئی۔
“تمہیں یاد ہے؟ اتنی پرانی باتیں؟۔” حیران ہونا فطری تھا۔ چھ سال پرانا قصہ اب بھی اس کی زبان پر تھا۔
“مجھے سب یاد ہے عاشی۔” اس کی زلف کو چھوتے ہوئے وہ بے پناہ محبت سے بولا۔
“اچھا بتاؤ اس دن میں نے کون سے رنگ کا سوٹ پہنا تھا؟۔” امتحان لینے کا وقت ہوا جاتا تھا۔ اسے لگا وہ دل ہی دل میں گھبرا گیا ہوگا۔
“تم نے میکسی پہنی تھی۔ جامنی رنگ کی۔۔ بال کھولے ہوئے تھے۔ تم میری محبت کو ایسے نہیں آزما سکتی۔” ناک چھوتے ہوئے وہ سرگوشی کر گیا۔
“میں دیکھنا چاہتی ہوں تمہاری محبت کتنی گہری ہے۔” عاشی جواباً ہنس دی۔
“میری محبت کا کوئی اختتام نہیں۔۔ یہ بس تم سے ہے۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔۔”
“اور اگر میں تمہیں چھوڑ کر چلی گئی تو؟۔” یہ سوال اس نے شرارت میں کیا تھا مگر میرویس کا ساکت ہوتا چہرہ نگاہوں سے اوجھل نہ ہو سکا۔ وہ ٹھہر سا گیا تھا۔ اس کا چہرہ تکتے ہوئے ہر تاثرات سے عاری، اسے دیکھ رہا تھا۔
“تم مجھے کیوں چھوڑ کر جاؤ گی۔ میں نے تو کچھ غلط نہیں کیا۔” عشنا کو وہ اس لمحے ایک معصوم بچے کی مانند لگا جو سزا سے قبل کہتا ہے کہ اس نے تو کوئی غلطی نہیں کی۔۔ پھر اسے کیوں سزا دی جارہی ہے۔
عشنا کچھ بھی نہ کہہ سی۔
“فرض کرو مسقبل میں تم نے میرا دل بری طرح دکھایا تو؟ تو پھر بھی تم چاہو گے کہ عشنا تمہارے ساتھ ہی رہے؟۔” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
“میں تمہارا دل دکھا ہی نہیں سکتا۔” وہ یہ کبھی نہیں مان سکتا تھا۔
“کچھ بھی ہوسکتا ہے میرویس۔۔”
“پھر تم مجھے ڈانٹ دینا۔” اسے مزید کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر وہ تیزی سے بولا۔ “ویسے بھی تم بلکل پروفیسر کریم کی طرح ڈانٹتی ہو۔” اس نے یونیورسٹی کے پروفیسر کی مثال دی۔ عشنا مسکرا دی۔ “لیکن مجھے چھوڑ کر مت جانا۔ ہم جتنا بھی لڑیں گے، ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑنے کی بات نہیں کریں گے عاشی۔۔ میرے پانچ سال کا انتظار ہو تم۔۔ ملن کے بعد یہ بچھڑنے کی باتیں برداشت کرنا میرے لیے مشکل ہیں۔” اس کے ہاتھ کی پشت سہلاتے ہوئے وہ کھوئے لہجے میں کہہ رہا تھا۔ عاشی پیار سے اسے دیکھنے لگی جس کی باتیں واقعی اس کے دل میں اپنی محبت کا جال بچھا رہی تھیں۔
“جب میں نے تم سے شادی کا کہا تھا تو ابا بڑے خفا ہوئے تھے۔ پھر بھی میں نے تم سے شادی کی۔۔ کیا ہم کوئی ٹین ایجرز ہیں جو جذباتی فیصلہ لے کر اس سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کریں گے؟ تم میرے شوہر ہو اور میں تمہاری بیوی! ہم لڑیں گے بھی اور پیار بھری باتیں بھی کریں گے۔۔ مگر کوشش کریں گے کہ لڑائی کبھی اس حد تک نہ بڑھے کہ ہم علیحدگی کا سوچیں۔۔” اس کی تازہ تازہ شیو عاشی کو بھلی معلوم ہوئی۔ وہ مسکرادیا۔ یہ مسکراہٹ پہلے سے زیادہ گہری تھی۔
“ہم شادی کے اگلے روز علیحدگی کا ذکر کر رہے ہیں۔” وہ قہقہہ لگا کر گویا ہوا تو عشنا بھی ہنس پڑی۔ اس نے شوہر کی خوشی کے لیے بال نہیں باندھے تھے۔ شانوں پر لہراتے بال میرویس کی توجہ کے مرکز تھے۔ وہ انہیں دھیرے دھیرے سلجھا رہی تھی اور میرویس کی نگاہ اس کے بالوں پر ہی ٹکی تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
چائے کا مگ لبوں سے لگاتے ہوئے اس نے آنگن میں اترتی شام محسوس کی۔۔ آج کا دن گزرے دن سے کچھ مختلف نہیں تھا۔ ہاں بس ایک فرق تھا۔۔ غنایہ نے واشنگ مشین لگائی تھی۔ چند ہی کپڑے تھے جنہیں وہ آج ہی دھو لینا چاہتی تھی۔ آج کا کام کل پر ڈالنا اس کی عادت میں شمار نہیں تھا۔
“تمہارے امتحان کب سے ہیں؟۔” وہ چلتا ہوا باہر صحن میں آگیا۔
“اگلے ہفتے سے۔۔” اگلا سمیسٹر کا آغاز ہونے والا تھا۔ غنایہ نے اس سے ایک بار بھی یہ نہ پوچھا کہ وہ اس کے سمیسٹر کی فیس بھر پائے گا بھی یا نہیں۔۔
وہ اس کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار نوٹ کر رہا تھا۔ آدھے گھنٹے سے اوپر ہو چلا آیا تھا مگر یہ ‘چند’ کپڑے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ یہی وہ پل تھا جب ساویز نے خود کو کمزور سا محسوس کیا۔ نجانے کیا کیا خواہشات تھیں۔۔ کیا خواب تھے جو اب نہیں تھے۔ اس نے غنایہ کے لیے کیا کیا سوچا تھا اور کیا ہو چلا تھا۔
“تم تھک گئی ہو۔” گھمبیر آواز ابھری۔ پوچھا نہیں جا رہا تھا۔۔ غنایہ نے نگاہ اٹھا کر شوہر کو دیکھا۔ کرتی کا دامن بھیگا ہوا تھا۔ ڈوپٹہ کام کے درمیان آنے لگا تو اس نے اتار کر رسی پر لٹکا دیا۔
“ابھی تھوڑا کام باقی ہے ساویز۔۔ یہاں کافی زیادہ پانی ہو رہا ہے۔ آپ کمرے میں بیٹھ جائیں ورنہ پانی کے چھینٹے کپڑوں پر لگیں گی۔” صحن بڑا نہیں تھا۔۔
کافی دیر تک بیوی کو تکنے کے بعد بلآخر وہ کھڑا ہوگیا۔ مگ کھڑکی پر رکھا اور شرٹ درست کرتا ہوا واشنگ مشین تک آیا۔ زمین پر رکھے کپڑوں کو خالی گھومتی واشنگ مشین میں ڈالتے ہوئے اس نے غنایہ کو دیکھا جو آنکھیں پوری کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔
“آپ یہ کیا کر رہے ہیں۔ میں کرلوں گی۔” آنکھیں حیرت سے پھٹی ہوئی تھیں۔
“اتنی حیرانی کی بات تو نہیں زوجہ محترمہ! جتنا آپ حیران ہو رہی ہیں۔” لبوں پر شریر سی مسکراہٹ تھی۔ اس نے دھلے ہوئے گیلے کپڑوں کو کرسی سے اٹھایا۔
“نہیں ساویز۔۔ میں یہ سب کرلوں گی۔ آپ کیوں خود کو تھکا رہے ہیں۔” اس نے کپڑے ہاتھ سے چھیننے چاہے مگر وہ ساویز کی گرفت میں تھے۔
“میں نے کہا نا حیران مت ہو۔ میں بھی تمہاری مدد کروں گا۔” وہ اسے اکیلے کام کرنے نہیں دینا چاہتا تھا۔ دوسرا یہ کہ وہ یوں فارغ رہ کر اب تھک چکا تھا۔
“نہیں! میں آپ کو کیسے اجازت دوں کہ میرے ساتھ کپڑے دھوئیں؟ بلکل نہیں۔۔” غنایہ نے اپنی جانب سے زور لگا کر کپڑے کھینچے جو ساویز رسی پر ڈالنے جا رہا تھا۔
“مجھے اچھا لگتا ہے تمہاری مدد کرنا۔۔ اب چھوڑو چلو! مجھے بی سیکھاؤ یہ کپڑے کیسے دھلتے ہیں۔ میرے پاس ویسے بھی ابھی کوئی کام نہیں۔۔” ساویز نے اپنی جانب وہ گیلے کپڑے کھینچے۔ دونوں میں ہی اب بحث شروع ہو گئی۔ دونوں کی پیشانی پر ایک سے بل نمودار تھے۔
“آپ نے کبھی کپڑے نہیں دھوئے!۔”
“ہاں مگر میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔”
“آپ کے کپڑوں بھیگ جائیں گے۔”
“تو بھیگ جائیں۔۔ میں تبدیل کرلوں گا۔” اسی کھینچا تانی میں کب غنایہ کے ہاتھ سے کپڑا چھوٹا اور کب ساویز جھٹکے سے دور ہٹا دونوں کو اندازہ نہ ہو سکا۔ دونوں ہی جھٹکے سے دور ہٹ کر زمین پر گر گئے۔ ساویز کمر اور کہنی سہلاتے ہوئے سیدھا ہوا۔ نگاہ غنایہ سے پر پڑی تو وہ بھی بازو پکڑے بیٹھی تھی۔ نظریں ملیں تو قہقہے کا چھوٹ گیا۔ وہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے وہیں لیٹ گئی جبکہ ساویز دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
“سب آپ کی وجہ سے ہوا تھا۔” ہنسی رکی تو اس نے خفا خفا سی نگاہ اس پر ڈالی۔
“میری وجہ سے؟ تم نے زبردستی مجھ سے کپڑے چھیننے چاہے۔” کپڑوں کا ذکر کرتے ہی اسے وہ یاد آئے۔ نگاہ ادھر ادھر ڈالی تو ٹھہر سی گئی۔ دونوں کا ہی منہ حیرت سے کھل گیا۔ وہ گیلے کپڑے گرد سے اٹے گملے کے اوپر پڑے تھے۔
“کام بڑھادیا آپ نے۔۔” وہ جھنجلا اٹھی۔
“تم نے!! میں تو رسی پر ڈال رہا تھا۔” وہ بھی اسے گھورتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ کپڑے اٹھائے اور انہیں باری باری دوبارہ چلتی واشنگ مشین میں ڈال دیے۔ غنایہ یکدم ہی غم سے چیخی۔
“یہ کیا کیا آپ نے؟؟؟۔” پیشانی پر زور سے ہاتھ مار کر وہ اب بے بسی سے ساویز کو دیکھ رہی تھی۔
“تمہاری مدد کرنے کے لیے یہ کپڑے دوبارہ ڈال دیے ہیں۔ اب یہ دھل جائیں گے تو میں رسی پر ڈال دوں گا۔” بھرے بھرے بازو پر ہاتھ پھیرتا ہوا سنجیدگی سے بولا۔
“مشین اتنے سارے کپڑے کیسے ایک ساتھ دھوئے گی؟ یا اللہ!! اس میں پہلے ہی اتنے کپڑے ہیں آپ نے اوپر اور ڈال دیے۔ ایسے نہیں دھلا کرتے میرے پیار شوہر۔۔” اس نے اٹھ کر مشین بند کی اور کچھ کپڑے باہر نکالنے لگی۔ ساویز حیران ہوتا ہوا اسے یہ عمل کرتے دیکھنے لگا۔
“اب اس کا الزام مجھے مت دو۔ یہ تم نے مجھے نہیں بتایا تھا۔” اس نے برابر بیوی کا گھورا۔
“ساری خطا ہماری ہے سرکار۔۔ آپ بیٹھ جائیں اور مجھے صرف کام کرتے ہوئے دیکھیں۔ ورنہ آپ کے ساتھ میرا ایک گھنٹے کا کام چار گھنٹے میں ہوگا۔” اپنا ہاتھ اس کے سینے پر رکھتے ہوئے وہ اسے دور کر رہی تھی مگر ساویز جیسا کھڑا تھا ویسا ہی رہا۔
“اچھا میں کپڑے رسی پر تو ڈال سکتا ہوں نا؟۔” یہ کام آسان تھا۔ وہ ہنس پڑی۔
“کرسی پر رکھے ہیں۔” اس نے کپڑوں کی جانب اشارہ کیا۔ ساویز مبہم سا مسکراتے ہوئے کپڑے رسی پر ڈالنے لگا۔
“تم جانتی بھی ہو کہ یہ تمہارے بھیگے کپڑے تمہیں بیمار کر سکتے ہیں مگر پھر بھی اس ٹھنڈک میں کام کر رہی ہو۔” وہ کچھ حیران تھا۔ ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے غنایہ کا ڈوپٹہ رسی ہر پھیلایا۔
“اب کام تو روکے نہیں جاسکتے نا ساویز۔۔ آپ بھی تو بھیگ گئے ہیں۔ مجھے تو اس کھلی فضا میں کام کرنا اچھا لگ رہا ہے۔” وہ مشین چلا کر اسے کپڑے ڈالتا دیکھ رہی تھی۔
“اور مجھے تمہارے ساتھ۔۔ جانتی ہو میں نے کبھی اپنے بھی کپڑے نہیں دھوئے۔۔ ذرا سی ٹی شرٹ بھی نہیں! مگر تمہارے ساتھ تو ہر کام لطف محسوس ہوتا ہے۔” لہجے پر دھیمی سی مسکراہٹ بہت بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ “اب میں چائے بنانا بھی سیکھ گیا ہوں۔” وہ بلکل کسی چھوٹے بچے کی طرح اپنے نئے کام بتا رہا تھا۔ غنایہ کی نظروں میں اس کے لیے بے پناہ محبت تھی کہ وہ پوری شام اس کو دیکھنے میں بھی گزار سکتی تھی۔
“میں آپ کو سب سیکھا دوں گی۔” آواز میں لگن تھی۔
“مجھے تم سے انسیت ہے غنایہ۔۔ مجھے لگتا ہے اب تمہارے بنا نہیں رہ سکوں گا۔۔ کبھی بھی نہیں۔” بھوری آنکھوں میں ایک چمک تھی۔
“اور اگر کبھی رہنا پڑ گیا تو؟۔” اس نے دلچسپی سے پوچھا۔۔
“مشکل ہے۔۔ بہت دشوار ہے۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا۔۔ اور سوچنا بھی نہیں چاہتا۔۔” اس نے سر جھٹک کر جواب دیا۔
“میں امی کے گھر ایک رات رکنے جانا چاہتی ہوں۔” اس نے اب تک باصم کے بارے میں نہیں بتایا تھا اور وہ اسے بتانا بھی نہیں چاہتی تھی۔
ساویز نے وہیں سے سر گھما کر اسے دیکھا۔ آنکھیں پھیلنے لگیں اور بنھویں چڑھ گئیں۔
“تم مجھے چھوڑ کر جانا چاہتی ہو؟۔” غم سا محسوس ہوا۔ غنایہ چونکی۔
“چھوڑ کر؟ میں بس اماں کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتی ہوں۔ ایک رات گزار کر صبح آجاؤں گی۔” اس نے واضح کیا۔
“ایک ہی بات ہے۔” نگاہیں پھیر لی گئیں۔
“میں وعدہ کر رہی ہوں بس ایک رات گزاروں گی ساویز۔۔ بھلے سے صبح ہوتے ہی آپ مجھے لے آئے گا۔” اب منانا تو تھا۔
“ایک رات؟ میں تمہیں رات کا کچھ حصہ بھی نہ گزارنے دوں غنایہ۔۔ میرے ساتھ زندگی گزارنے کی باتیں کرتی ہو اور مجھے چھوڑ کر چلی جاؤ گی؟ جانتی ہو تمہارے بنا ایک رات بھی کرب اذیت ہے۔ یہ گھر تو ویسے ہی تمہارا بنا کھنڈر ہے غنایہ۔۔ میں یہاں کیا کروں گا۔ پوری رات دیواروں کو تکتے ہوئے گزاروں گا؟۔” خفا خفا سا لہجہ۔۔ وہ ٹھیک کہتا تھا۔۔ یہ گھر تو کچھ بھی نہیں تھا۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک رہ جائے تو شاید تنہائی سے مرجائے۔ “تم جتنی دفعہ چاہو دن میں اپنی امی کے گھر جا سکتی ہو مگر رات نہیں۔۔ پلیز مجھے فورس مت کرنا۔” اس نے گزارش کی۔ غنایہ حیرت سے دیکھتے ساتھ ہی مسکرادی۔
“ٹھیک ہے۔” ہاتھ ساویز کے بازو پر رکھا۔ “اب آپ اندر جائیں۔۔ یہ کام بس ختم ہوگیا ہے۔ میں بھی اندر آرہی ہوں۔” گیلے کپڑوں سے ٹپکتا پانی ساویز کی ٹی شرٹ بھگا گیا تھا۔ خون جمانے والی ہوا کا دور چلا تو ساویز اسے لیے ساتھ ہی اندر بڑھ گیا۔۔ وہ اسے بیماری کی دہلیز پر کھڑا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
“ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے۔” عفت والہانہ انداز میں کہتی ہوئیں میرویس کے گال پر ہاتھ پھیرنے لگیں۔ وہ ان کی محبت پر مسکراتا عشنا کے ہمراہ چھوٹے سے لاؤنج میں داخل ہوا۔
“پہلی بار تمہارے ابا نے اتنی عزت دے کر گھر کے اندر بلایا ہے۔۔ ورنہ ہر بار ڈرائنگ روم سے رخصت کردیتے تھے۔” ترچھی نگاہ ابا پر تھی اور کانوں میں سرگوشی وہ عاشی کے کانوں میں کر رہا تھا۔
عشنا نے اسے جواباً گھور کر خاموش رہنے کو کہا۔ ابا پیچھے ہی ان کے ساتھ لاؤنج میں بڑھنے لگے۔
“میں نے تم لوگوں کے لیے کھانے کا بہترین اہتمام کیا ہے۔ تم لوگوں کو پسند آئے گا۔” میز پہلے سے ہی سجی ہوئی تھی۔
“اس کی کیا ضرورت تھی آنٹی۔ آپ بس سادہ سا کھانا بنا لیتیں۔ اب تو میں بھی گھر کا ہی فرد ہوں۔” اس نے کہتے ساتھ ہی ابرار کا چہرہ دیکھا جو سنجیدہ تھا۔ ‘ایک تو یہ انکل کبھی مجھے اپنے گھر کا فرد نہیں مانیں گے’۔ وہ دل ہی دل میں گویا ہوا۔
“ہاں میرے بچے! اب تم گھر کا ہی فرد ہو مگر ذرا ہمیں بھی تو موقع تو خاطر مدارت کرنے کا۔۔۔” عفت کا انداز ہمیشہ کی طرح محبت بھرا تھا۔
عفت کے کھانوں میں ذائقہ تھا۔ اس نے پہلا لقمہ لیتے ہوئے عشنا کو دیکھا تھا جو اس کے ساتھ کھانے میں مصروف تھی۔
“تم بھی ایسا ہی ذائقہ دار کھانا بناتی ہوگی؟۔” اب ظاہر تھا۔۔ اماں اتنا اچھا کھانا بناتی تھیں تو عشنا کے ہاتھ بھی ذائقہ ہوگا۔ عشنا گڑبڑا گئی۔
“ہ۔ہاں۔” اسے کچھ سمجھ نہ آیا تو جلدی سے کہہ پڑی۔ اس بات سے کون انکار کر سکتا تھا کہ عشنا کو کھانا بنانا آتا ہی نہیں۔۔۔ پھر ذائقہ کس بات کا۔۔ وہ ہمیشہ سے کوئی نہ کوئی ڈش جلا دینے کی عادی تھی۔
کھانے کا دور ختم ہوا تو ابرار صاحب اندر چلے گئے۔ اسے بھی اگلی صبح جاب پر جانا تھا اور وہ رک نہیں سکتا تھا۔ تین گھنٹے گزار کر وہ دوبارہ اپارٹمنٹ لوٹ آئے۔
“تم ابا کے بارے میں اتنا سوچا مت کرو۔ کچھ وقت گزرے گا تو وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔” اسے لیپ ٹاپ پر کام کرتا دیکھتے ہوئے وہ ٹھہر کر بولی۔ عجیب سی بات تھی۔۔ وہ شادی کے اگلے روز ہی آفس کا کام کر رہا تھا۔
“تمہیں لگتا ہے میرویس برا مانے گا؟۔” میر ہنس پڑا۔ “مجھے بس اس حوالے سے تمہیں تنگ کرنا پسند ہے۔ سو وہ میں کرتا ہوں۔” عشنا کپڑے تبدیل کر چکی تھی۔ سادہ سا لان کا سوٹ پہن کر وہ اس کے بہت قریب سامنے بیٹھ گئی۔
“تم کل آفس چلے جاؤ گے۔” معصوم لہجہ۔۔ میرویس اس کے جملے سے زیادہ اس کے لہجے پر چونکا۔
“ہاں۔”
“میں گھر میں نہیں بیٹھنا چاہتی۔” جانے وہ اب رافع کی وجہ سے اسے وہاں جاب کرنے دے بھی یا نہیں۔۔
“ہمارے درمیان یہ بات پہلے ہی ہوچکی ہے۔ تم اپنی مرضی کے مطابق جاب کرسکتی ہو۔” وہ سمجھ نہ سکا۔
“ہاں مگر کل جب تم چلے جاؤ گے تو میں اکیلی ہوجاؤں گی۔ میں سوچ رہی ہوں مجھے بھی کل سے جوائن کرلینا چاہئیے۔”
میرویس اس کا چہرہ تکتا رہ گیا۔
“میرا آفس کل سے جوائن کرنا مجبوری ہے عاشی۔۔ مگر تمہاری تو کوئی مجبوری نہیں ہے۔ چند دن میرے ساتھ گزارو اور اس اپارٹمنٹ کو اپنے مطابق سنوارو۔۔ دو تین دنوں میں جوائن کر لینا۔”
“جب تم گھر میں ہوگے ہی نہیں تو کیسے گزاروں گی تمہارے ساتھ وقت؟۔” خفا خفا سا لہجہ۔۔
“دو چار دنوں تک روز جلدی آیا کروں گا۔ تم کچھ وقت خود کے ساتھ بھی گزارو۔۔ اپنا سوٹ کیس کھول کر وارڈروب سیٹ کرو۔ اپارٹمنٹ بھی ٹھیک طریقے سے نہیں دیکھا۔ میں جتنی جلدی آنے کی کوشش کرسکتا ہوں، کروں گا۔” اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ سمجھانے کے انداز میں بولا۔ عشنا اس کا چہرہ بغور دیکھ رہی تھی۔
“ٹھیک ہے۔ ویسے دو چار دنوں بعد جب میں آفس جانے لگوں گی تو میری ٹائمنگز تم سے کم ہوں گی۔ میں ہمیشہ تم سے جلدی آجایا کروں گی۔” لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے وہ سنگھار میز تک آئی اور بالوں کو کھول دوبارہ سے بنانے لگی۔
“یہ سارے پرفیومز تمہارے ہیں؟۔” میز پر قطار سے چھ سات پرفیوم کی بوتلیں رکھی تھیں جنہیں نوٹ کر کے وہ پل بھر کو حیران ہوئی تھی۔
“میرے علاؤہ یہاں اور کون رہتا تھا عاشی۔” نگاہ لیپ ٹاپ کی اسکرین پر تھی۔
“اب انہیں کنارے پر رکھو۔ میرا سنگھار کہاں جائے گا؟۔” مصنوعی گھوری سے نواز کر وہ اس کا سامان میز کے ایک کنارے پر رکھنے لگی۔ میرویس نے جھٹ اس کا چہرہ دیکھا۔
“میز پر اور بھی کافی جگہ ہے۔ پرفیومز نہ بھی ہٹاؤ تو اپنا سامان رکھ سکتی ہو۔” اس نے بھی جواباً گھورا۔
“میرا سامان یہ پوری سنگھار میز کی جگہ گھیر لے گا۔ پھر تمہیں اپنے یہ پرفیومز وارڈروب میں رکھنے پڑیں گے۔” وہ بس اسے تنگ کر رہی تھی۔
“تم تو ہر موقع پر یہ احساس دلا رہی ہو کہ اب میں شادی شدہ ہوں۔” بے بسی سے نفی میں سر ہلایا۔
عشنا کھل کر مسکرائی۔
“پھر تمہارے پرفیومز کہاں رکھوں؟۔” اس نے چھیڑتے ہوئے پوچھا۔ وہ اس کی کوئی بھی چیز میز نہیں ہٹانے والی تھی مگر چونکہ میرویس اسے صبح سے ہی تنگ کر رہا تھا اس لیے وہ کچھ اپنا فرض بھی ادا کرتے ہوئے اسے چھیڑنے لگی۔
“وارڈروب میں رکھ دو۔۔ اب تم سے بڑھ کر بھی کوئی چیز ہوسکتی ہے۔” کی بورڈ پر انگلیاں تیزی سے چل رہی تھیں اور عشنا آئینے کے عکس میں اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی۔ لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ سنگھار میز میرویس کے سامان سے جس طرح سجی ہوئی تھی اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ اپنے پرفیومز اور دوسری چند چیزوں کا کتنا خیال رکھتا ہے۔
اس کے پرفیومز ہٹانے کے بجائے اس نے سجاتے ہوئے انہیں اپنے سامان کے ساتھ رکھ دیا۔ وہ مزید اب فارغ بیٹھ کر میرویس کو کام کرتا دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔
میر بھی کچھ وقفے سے اسے میز پر سامان رکھتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ آئینے کے عکس میں اس کا مسکراتا چہرہ چھپ نہ سکا۔ عشنا نے ایک نگاہ اس پر ڈالی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا، اور اپنے کام میں دوبارہ مصروف ہوگئی۔ میرویس مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔
۔۔۔★★★۔۔۔
جاب کے لیے آئی میلز چیک کرنے کی نیت سے وہ آج جلدی اٹھا تھا۔ غنایہ باہر رکھے پودوں کو پانی ڈال کر کمرے میں داخل ہوئی۔
گھر کا راشن ختم ہونے کو آیا تھا۔ وہ چاہ کر بھی ساویز سے یہ نہیں کہہ پارہی تھی کہ راشن دوبارہ خریدنے کا وقت ہوگیا تھا۔ اب کی بار ہاتھ پہلے سے زیادہ تنگ تھے۔
“مجھے نیلے رنگ کی ٹی شرٹ نہیں مل رہی۔ کہیں وہ بھی تو نہیں دھو دی تم نے؟۔” تہہ شدہ کپڑوں کو باری باری اٹھاتا ہوا وہ اپنی شرٹ ڈھونڈ رہا تھا۔
“میں ڈھونڈ کر دے دیتی ہوں۔” گیلے ہاتھوں کو تولیے سے صاف کرتے ہوئے وہ کمرے میں داخل ہوئی۔ یکدم ہی ساویز کی نظر اس ٹی شرٹ پر پڑی۔
“نہیں مجھے مل گئی۔” کپڑوں کے سب سے نیچے رکھی تھی۔ اسے کھینچ کر الماری سے نکالا اور کھول کر نگاہ دوڑائی گئی۔ وہ ابھی ٹی شرٹ کو بستر پر ہی رکھنے بڑھ رہا تھا جب ایک لفافہ شرٹ پوری کھولنے کی وجہ سے فرش پر گرا۔ جہاں غنایہ کا چہرہ سفید پڑا وہیں ساویز نے کچھ الجھ کر لفافہ اٹھایا۔ غنایہ کو کچھ کہنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔
“یہ کیا ہے؟۔” پیشانی پر الجھن کے بل نمودار ہوئے۔ کہتے ساتھ ہی لفافہ کھول کر اندر جھانکا۔ نیلے رنگ کی کئی نوٹیں اس میں موجود تھیں۔ ساویز کی آنکھیں پھٹیں۔ بھلا یہ کس کی رقم تھی اور یوں اس کی الماری میں؟ غنایہ کی جانب دماغ ہی نہ گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔۔
“یہ کس کے پیسے ہیں؟۔” یہ بات اسے وہ ہی بتا سکتی تھی۔ الماری میں کپڑے رکھنے اور نکالنے والا کام وہ ہی سر انجام دیتی تھی۔ غنایہ کا سفید چہرہ اس معاملہ کو مزید الجھا گیا۔
“میرے۔۔” وہ جھوٹ نہیں کہہ سکتی تھی۔ تھوک نگل کر اس نے تیزی سے دوسری جانب دیکھا۔ ساویز کو لگا جیسے سننے میں غلطی ہوگئی ہو۔ بھلا یہ کیسے ممکن تھا؟
“تمہارے پیسے؟۔” بنھویں حیرانی سے اٹھیں۔
“جی۔” آواز گھٹی گھٹی سی تھی۔
“یہ کون سے پیسے ہیں؟۔” وہ سیدھے طریقے سے نہ پوچھ سکا کہ ‘یہ پیسے کہاں سے آئے؟۔’
غنایہ کی آنکھیں اس پر ٹھہر گئیں۔ وہ کچھ بھی نہ کہہ سکی۔
“غنایہ؟۔” جواب نہ ملنے پر وہ ذرا شک مبتلا ہوا۔
“امی نے دیے تھے۔” جھوٹ کہنا یا بات چھپانا اسے کبھی درست نہیں لگا۔ ساویز کی نگاہ ساکت ہوئی۔ وہ بغیر پلک جھپکے اسے دیکھ رہا تھا۔
“کیوں؟۔” کاش کہ غنایہ وہ نہ کہے جو ساویز سوچ رہا تھا۔
“ہمارے خرچے کے لیے۔۔” وہ یقیناً اس کی بات سے کتنا زیادہ ہرٹ ہوا ہوگا۔
چہرہ سرخ ہوگیا۔ محسوس ہوا جیسے کسی نے مٹھی میں اس کا دل جکڑ لیا ہو۔ حلق کی گلٹی دھیرے سے نمودار ہو کر غائب ہوئی تھی۔ اس نے تیزی سے آنکھیں جھپکیں۔
“کیوں؟۔”
“اس کیوں کا کوئی جواب نہیں ہے میرے پاس۔۔” آنکھوں میں نمی پیدا ہونے لگی تو وہ بستر پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔
ساویز کو لگا جیسے اس کا دل پھٹ رہا ہو۔
“کیا میں تمہارے خرچے پورے کرنے کے لیے کافی نہیں؟۔” چہرہ سخت ہوا۔ وہ سسکتی رہی، کچھ کہہ نہ سکی۔
“ایسا نہیں ہے۔۔ میں جانتی ہوں آپ بہت پریشان ہیں۔ یہ پیسے ہماری مدد کر سکتے ہیں۔ ہم بعد میں لوٹا دیں گے۔” رخسار گیلے ہو رہے تھے۔ اس کی سسکیاں پورے کمرے میں گونجنے لگیں۔
“میں پریشان ہوں یا ڈپریشن سے مر رہا ہوں! ان پیسوں کی ضرورت پھر بھی نہیں تھی جو آپ نے اپنی امی سے مانگے!۔” خود پر قابو نہ رہا تو وہ سختی سے بلند آواز میں بولا۔ “میرے پیسے کافی نہیں تھے غنایہ؟ کیا تم مجھے یہ احساس دلانا چاہتی تھی کہ میں تمہارے اخراجات اٹھانے کے لیے ناکافی ہوں؟۔” کہتے کہتے کب آنکھیں بھیگ گئیں وہ جان ہی نہ سکا۔ “ڈھونڈ رہا تھا نا میں جاب۔۔ اس ایک ہفتے میں کتنے انٹرویوز دیے ہیں۔ مجھے اپنی فکر نہیں تھی۔ میں تو کسی طرح بھی کرلیتا گزارا۔۔ تمہارے اخراجات، خواہشات پوری کرنے کے لیے ہی تو اتنے پاپڑ بیل رہا ہوں۔۔ صرف اس لیے کہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں اور تم نے۔۔” جملہ مکمل نہ ہو سکا۔ آنکھیں نم تھیں۔ غنایہ کے آنسوؤں میں اضافہ ہوا۔ اس کا دل پھٹنے کو ہوا۔ وہ رکا نہیں تھا۔ لفافہ بستر پر پھینکتے ہوئے باہر نکل گیا۔ بستر پر بیٹھی غنایہ وہیں لیٹ گئی۔ آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے تکلیف سے سوچا۔ شدت سے احساس ہوا کہ وہ پیسے امی سے نہیں لینا چاہتے تھے۔ اسی وقت سے وہ ڈرا کرتی تھی۔ نجانے ساویز اس کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا۔ پیسوں کا وہ لفافہ اس کی تکلیف میں اضافہ کر رہا تھا۔ ہچکیاں کمرے میں گونجنے لگیں تو اس نے تکیے کے نیچے اپنا سر رکھ لیا۔ یہ پہلی بار تھا کہ ان کے درمیان کوئی ناراضگی پیدا ہوئی تھی۔۔ اور شاید یہی تکلیف دہ بات تھی۔
۔۔۔★★★۔۔۔
الارم کی آواز پر میرویس کی آنکھ کھلی تھی۔ نگاہ گھڑی پر ڈال کر کروٹ لی جو سات بجا رہی تھی۔ وہ ٹھہر گیا۔ برابر میں کوئی نہیں تھا۔۔ تو پھر عشنا کہاں تھی؟ دماغ میں جھماکا ہوا تو آنکھیں کسی بات پر پھٹیں۔ اس نے تیزی سے اٹھ کر فرش پر دیکھا جہاں عشنا کے علاؤہ بھی بہت ساری چیزیں تھیں۔
“یا اللہ خیر! میری بیوی۔۔” دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ بستر سے اترتا ہوا وہ اس کی جانب آیا جو گہری نیند میں تھی۔ بیچاری بستر سے گرائے جانے کے بعد بھی سکون سے سو رہی تھی۔ دھیرے سے اسے اٹھاتے ہوئے وہ بستر پر لٹا رہا تھا جب عشنا کی آنکھ کھلی۔
“کیا کر رہے ہو؟ میں سو رہی ہوں نا!۔” اسے یوں اتنے قریب دیکھ کر وہ نیند میں بولی۔ میرویس چونکا۔ تو کیا اسے نہیں پتا تھا کہ وہ بستر کے “اوپر” نہیں تھی۔
“کچھ نہیں۔” اسے لٹاتے ہوئے جلدی سے چادر اوڑھانے لگا۔
“تم کہاں جا رہے ہو؟۔” اسے یاد تھا کہ وہ آج آفس جانے والا تھا۔ سوچا تھا کہ وہ اسے جانے سے قبل اٹھادے گا۔
“کہیں نہیں۔ تمہارے پاس ہوں۔۔” اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے وہ محبت سے بولا۔ عشنا اس کے لہجے پر مسکرائی اور میرویس کے بازو پر ہاتھ مارتے ہوئے آنکھیں موند گئی۔ اس کے انداز پر وہ بھی مسکرادیا۔
کافی دیر یونہی ٹھہر کر اسے دیکھنے کے بعد وہ تیار ہونے واش روم کی جانب بڑھا۔ اسے آٹھ بجے تک آفس پہنچنا تھا۔
۔۔۔★★★۔۔۔