Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina NovelR50528 Teri Izzat Aziz Hai Warna (Last Episode)
Rate this Novel
Teri Izzat Aziz Hai Warna (Last Episode)
Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina
صبح کی پہلی کرن سے ایمان کی آنکھ کھل گئی۔وہ آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔اس کے پہلو میں مراد گہری نیند سو رہا تھا۔آج اتوار تھا اس لیے آفس کی چھٹی تھی۔اتوار کے دن وہ ویسے بھی دیر سے اٹھتا تھا۔
ایمان نے اسے دیکھا اور اپنی قسمت پر رشک کرنے لگی۔رات جتنی محبت مراد نے اس پر نچھاوار کی تھی اس کے اسے یقین ہوگیا تھا کہ یہ صرف ہمدردی نہیں بلکہ محبت بھی ہے۔
اس نے اپنے بال جوڑے میں قید کئے اور اٹھنے لگی تو ایک دم سے مراد نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔وہ حیران ہوئی اسے لگا مراد گہری نیند سو رہا ہے۔
آپ جاگ رہے ہیں؟ ___ ایمان نے پوچھا۔
اب جاگ گیا ہوں۔___ وہ خوابیدہ نگاہوں سے بولا۔
میرا ہاتھ تو چھوڑ دیں مجھے ناشتہ بنانا ہے۔___ ایمان نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی۔
چھڑا سکتی ہو تو چھڑا لو۔___ مراد نے کہا.
ایمان نے پورا زور لگایا لیکن نہیں چھڑا سکی۔مراد مسکرائے جا رہا تھا اس کی طرف دیکھ کر۔
چلو میں خود ہی چھوڑ دیتا ہوں کہیں اس نازک سی گڑیا کا ہاتھ ٹوٹ نہ جائے___ مراد نے کہا۔
وہ اٹھنے لگی تو پھر اس کے دوپٹے کا پلو مراد نے پکڑ لیا۔
یہ کیا حرکت ہے؟ ___ وہ پھر بولی۔
اب دوپٹہ چھڑا کر دکھاؤ۔___ مراد نے کہا تو وہ دوپٹہ بیڈ پر ہی پھینک کر آگے بڑھی اور کچن میں آئی۔مراد اس کی اس حرکت پر مسکر ادیا۔پھر منہ دھو کر اس کے پیچھے کچن میں آیا۔
وہ چائے بنا رہی تھی۔مراد نے پیچھے سے اس کے بازو اس کی گرد حمائل کئے۔
اب چائے گر جائے گی۔__ ایمان تنگ ہوئی۔
گرنے دو۔___مراد اب صلیب سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوا اور سینے پر ہاتھ باندھ کر پیار سے ایمان کو دیکھنے لگا۔وہ تھوڑی پزل ہوئی۔
آپ کمرے میں جائیں میں چائے لے کر آتی ہوں۔___ ایمان نے کہا۔
کیوں میرے یہاں کھڑے رہنے سے کیا مسئلہ ہے تمہیں؟__ اس نے کہا۔
آپ مجھے دیکھ رہے ہیں تو مجھے الجھن ہو رہی ہے کوئی کام نہیں ہو رہا ہے ٹھیک سے مجھ سے۔۔___ وہ بولی۔
اب عادت ڈال لو میں جب جب گھر میں ہوا کروں گا ہر پل تمہیں یوں ہی پیار سے دیکھا کروں گا۔___ مراد نے اسکے آگے کی لٹ کو چھوتے ہوئے کہا۔
چائے تیار ہوگئی تھی ۔وہ دونوں وہاں لاونج میں بیٹھ کر چائے پینے لگے۔
شاہ میر نے شادی کرلی ہے۔اسی لڑکی سے جس سے اس کا افیئر چل رہا تھا۔___ مراد نے چائے پیتے ہوئے بتایا تو ایمان ایک پل کو ساخت رہ گئی۔
تمہیں کیا ہوا؟ ___ مراد کے دل کو کچھ ہوا اسے اداس دیکھ کر۔
کچھ نہیں اب میرا اس سے کیا واسطہ جو کرتا پھرے میرا تو باہر واسطہ آپ سے ہے۔لیکن میں حیران ہوں وہ چپ کیسے ہو گیا… ___ ایمان نے کہا۔
میری جگہ کوئی اور ہوتا تو یقیناً وہ اسے قتل کر دیتا۔لیکن میں جانتا ہوں مجھے نہیں مار سکتا۔اگر مرنا چاہے تب بھی نہیں مار سکتا۔میں اس کا چچا زاد ہوں اور بچپن سے اس کا دوست ہوں اور اس کے گھر کا ایک فرد ہوں بہت مشکل ہوتا ہے ایسے انسان کو قتل کرنا۔سب سے بڑی بات اسے مجھ سے محبت ہے۔ویسے ہی محبت جو ایک بھائی کو دوسرے بھائی سے ہوتی ہے۔اور یہ بات میں بہت اچھے طریقے سے جانتا تھا۔اسی محبت کی وجہ سے وہ چپ بیٹھ گیا۔پچیس سالوں کی دوستی ہے ہماری کوئی مذاق نہیں۔تم سے نکاح کرتے وقت مجھے اطمینان تھا کہ وہ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔____ مراد نے کہا۔
آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔وہ ہر کسی سے لڑتا تھا۔ یہاں تک کہ اپنے ماں باپ سے بھی۔مگر میں نے کبھی اسے آپ سے لڑتے نہیں دیکھا۔___ ایمان نے کہا۔
کچھ عرصہ گزر جانے دو وہ سب بھول جائے گا۔___ مراد نے کہا۔
__________________
نور ۔۔۔ نور پلیز دروازہ کھولو۔___ آدھی رات کو شاہ میر نور کا دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا ہلکی آواز میں تاکہ کوئی سن نہ لے۔
جاؤ مرو اپنی ماں کے پاس ۔۔۔ سارا دن مجھ پر غصہ کیا اور اب رات کو آ گئے ہو میرے پاس۔___ نور نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر اسے آنکھیں دکھائیں۔
تم نے بھی تو غلط کیا میری ماں کو مارا تم نے یہ کوئی چھوٹی بات تو نہیں تھی پھر بھی میں نے صبر کیا۔__ شاہ میر بولا۔
پہلے تمہاری ماں نے مجھے مارا میرے بال کیجئے مجھے گالیاں دیں۔___ نور نے کہا۔
بڑے تو مارتے ہی ہیں لیکن بچے بڑوں کو نہیں مارتے۔___ شاہ میر بولا۔
اگر انہوں نے مجھ سے کام ہی کروانا تھا تو یہ بات پیار اور محبت کے ساتھ کہتی تو شاید میں بھی کام کر لیتی لیکن انہوں نے تو آتے ہی میرے بال کھینچے۔___ نور نے بتایا۔
وہ نہیں جھکتی تو تم ہی جھک جاؤ ایسے تو گھر نہیں چلے گا۔___ شاہ میر نے کہا۔
اپنی ماں کو سمجھانے کی بجائے مجھے سمجھا رہے ہو؟.___ نور نے کہا۔
وہ ماں میری۔اور ایمان تو چپ چاپ سارا کام۔۔۔___شامیر کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی ایمان کا نام سنتے ہی نور نے دروازہ اس کے منہ پر مار دیا اور کنڈی لگا دی مجبورا شاہ میر کو دوسرے کمرے میں رات گزارنی پڑی.
ایک صابرین عورت کی زندگی جنت بنا دیتی ہے۔۔۔۔ لیکن اس کی قدر اس کے جانے کے بعد ہی آتی ہے۔___ شاہ میر نے چارپائی پر لیٹتے ہوئے خود سے کہا اور سو گیا۔
_______________
شام کو مراد اپنے ساتھ کچھ سامان لے کر آیا تو ایمان نے حیرت سے اسے دیکھا اور پوچھا کہ اس میں کیا ہے ؟
اس میں کیک اور پھول۔۔ ہماری نئی زندگی کی شروعات پر ہم کی کیک کاٹیں گے۔اور گھر کو سجائیں گے۔___ مراد نے کہا۔
لیکن یہ سب تو شادی کی سالگرہ پر کیا جاتا ہے۔___ ایمان نے شاپر اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا۔
ضروری نہیں کہ ہر قدم پر یہ سب کچھ کیا جائے۔آغاز میں بھی خوشیاں منائی جاسکتی ہیں۔___ مراد نے کہا اور پھولوں کا شو پر اٹھاکر لاؤنج کو سجانے لگا۔
اس نے میز پر پھول رکھے اور بیچ میں کیک رکھا۔بتیاں بجھا کر موم بتیاں روشن کیں۔
اتنا رومینٹک شوہر ملا ہے تمہیں اتنا رومانٹک ماحول بنایا ہے لیکن تمہارا منہ ویسے ہی لٹکا ہوا ہے لڑکی تھوڑی مسکراہٹ تو لاؤ اپنے چہرے پر۔___ مراد نے کہا تو ایمان مسکرا دی۔
دونوں نے مل کر کیک پر لگی موم بتیاں بھوک مار کے بجھائیں اور کاٹا۔
مراد نے کیک کا ایک سلائس کاٹا اور ایمان کو کھلانے لگا۔
میں نے تو تمہیں کھلایا اب مجھے کون کہلائے گا.؟ __ مراد نے کہا تو ایمان سلائس کاٹ کر اسے کھلایا۔
اب سب کچھ تمہیں بتانا اور سکھانا پڑے گا کیا؟ ___ مراد نے مسکراتے ہوئے اُسکی چہرے کو دیکھا۔
مطلب؟___ ایمان نے پوچھا۔
اب تمہیں میک اپ بھی میں کرواؤں؟ چوڑیاں اور جھمکے بھی میں پہناؤں؟ مجھے سجی سنوري بیوی بہت اچھی لگتی ہے۔___ مراد نے کہا۔مراد اس دیں میک اپ باکس اور آرٹیفیشل جیولری بھی لایا تھا۔
ایمان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔وہ فوراً کمرے میں گئیں نیا لباس پہنا جو مراد اس کے لئے لایا تھا۔جھمکے ، چوڑیاں پہنی اور میک اپ کیا۔
سی گرین رنگ کا ایک برینڈر سوٹ تھا اور اس پر بہت جچ رہا تھا۔وہ سادگی میں ہی اتنی خوبصورت لگتی تھی اور آج تو اس کے حسن کو چار چاند لگ گئے تھے۔
وہ تیار ہو کر لاؤنج میں آئی تو مراد نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا۔وہ حیران ہو گیا کہ کیا کوئی اتنا بھی حسین لگ سکتا ہے۔۔۔۔
وہ آہستہ سے چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔اور اسے اپنے حصار میں لیا۔
میں دنیا کا سب سے خوش قسمت شخص ہوں۔___ مراد نے اپنی گرفت اس پر مضبوط کرتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
_________________
کچھ سال بعد۔۔۔
میرا بیٹا تو رل گیا۔قسمت ہی خراب نکلی اس کی۔جب سے یہ ڈائن میرے بیٹے کی زندگی میں آئی ہے تب سے خوشیاں ہی چلی گئی ہیں۔تین سال ہوگئے ابھی تک کوک ہری نہیں ہوئی اس لڑکی کی۔___ ساجدہ نے افسوس سے کہا۔
سنا ہے ایمان اور مراد کا بیٹا دو سال کا ہوگیا ہے۔مراد نے جو گھر اپنے لیے گاؤں میں بنایا ہے ہمارے گھر کے پاس اب وہ لوگ وہاں رہنے آرہے ہیں۔___ سکینہ نے بتایا۔
ان تین سالوں میں مراد نے پلٹ کر چکر ہی نہیں لگایا گاؤں کا۔___ ساجدہ بولی۔
مگر اب وہ آ رہا ہے ایمان کو لیکر۔اپنا گھر الگ بنایا جو ہے اس نے۔___ سکینہ نے کہا۔
ہاں تو دیوار کے ساتھ ہی دیوار ہے کون سا میلوں دور گھر ہے اس کا۔اور کوئی شیش محل نہیں بنایا دو کمروں کا چھوٹا سا گھر ہی تو ہے۔___ ساجدہ نے کہا۔
ضمیر بتا رہا تھا کہ ان کا شہر والا فلیٹ بہت اچھا ہے۔___ سکینہ نے کہا۔
تمہارا بیٹا بھی ایک مہینے سے پرائے گھر میں رہا ہے اسے کہو کہ واپس آئے۔___ ساجدہ نے جل کر کہا۔
پرایا گھر تو نہیں ہے اس کے چچا زاد کا گھر ہے جتنا چاہیے رہ لے۔___ سکینہ جل گئی۔
ویسے سجدہ میں ایک بات سوچ رہی تھی۔تم جو نور کو بانجھ کہتی ہو۔کہیں ایسا تو نہیں کہ تمہارا بیٹا ہی بانجھ ہے؟ دیکھو ایمان تو پہلے سال ہی حمل سے ہوگی تھی مراد سے نکاح کے بعد۔۔۔ اور شاہ میر کے ساتھ وہ سال رہی لیکن۔۔۔ ___ سکینہ کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی ساجدہ نے اسے ٹوکا۔
ارے تیرے منہ میں خاک۔۔۔ نحوست والی باتیں نہ کر۔خبردار جو میرے بیٹے کے بارے میں آئندہ ایسا کچھ بولا تو۔___ ساجدہ نے کہا۔
کمرے میں موجود شاہ میر ان کی باتیں سن رہا تھا اور اداس بیٹھا تھا۔وہ سکینہ کی بات سے متفق تھا۔
مجھے ایمان کی بددعا لگی ہے۔میں جب تک اس سے معافی نہیں مانگوں گا تب تک مجھے اولاد نہیں ہوگی۔___ شاہ میر نے دل میں کہا۔
_____________
اس دن جو مراد گاؤں سے نکلا تو آج پورے تین سال بعد گاؤں آ رہا تھا۔آنے کو تو وہ پہلے بھی آ سکتا تھا اسے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔لیکن وہ چاہتا تھا کہ شاہ میر صحیح ہوجائے۔وہ شاہ میر کو سنبھلنے کے لیے وقت دینا چاہتا تھا۔
ان تین سالوں میں مراد نے بہت ترقی کی تھی اپنی گاڑی بھی اس نے لے لی۔ایمان اس کے لیے بہت خوش قسمت ثابت ہوئی تھی۔
شام کا پہر تھا ۔۔۔ گاڑی سے اتر کر مراد نے ایک لمبی سانس اندر کھینچیں اور گاؤں کی سوندھی خوشبو اپنی روح میں اتار لی جس کے لیے وہ تین سال سے ترس رہا تھا۔
اس کے نئے گھر میں عافیہ اور صفیہ دونوں اس کے استقبال کے لیے کھڑی تھیں۔ان تین سالوں میں ان دونوں کی بھی شادی ہوگئی تھی۔عافیہ تو ضمیر کے ساتھ اسی گھر میں تھی۔البتہ صفیہ اپنے ماموں کے گھر گئی تھی۔اور آج خاص مراد کے آنے کا سن کر اس کے استقبال کے لیے آئی تھی۔
بھائی۔___ وہ دونوں اسے دیکھ کر اس سے لپٹ کر رونے لگیں۔مراد نے ان کے سروں پر ھاتھ رکھا۔
وہ شہر سے ہر مہینے ان کے لیے تحفے تحائف بھیجتا رہتا تھا۔ان کا جیب خرچ بھی بیچتا تھا۔مراد کبھی بھی انہیں نہیں بھولا تھا۔
پھر ان دونوں نے ایمان کے ہاتھ میں بچہ دیکھا تو فورا اسے اپنی گود میں اٹھا لیا ایمان سے لے کر۔
ارے بھائی یہ تو بالکل آپ کے جیسا ہے۔___ صفیہ بولی۔
وہ سب اندر آگئے۔
میں نے چائے بنائی ہے آپ کے لیے ابھی لے کر آتی ہوں۔___ عافیہ بھاگتی ہوئی اپنے گھر گئی اور چائے کی کیتلی اٹھا لائی۔
چائے کے بعد وہ کھانا بھی لے آئی۔کیونکہ گاؤں میں کھانا جلدی کھایا جاتا تھا۔
کھانا بھی رہنے دو ہمیں بھوک نہیں ہے۔___مراد نے کہا۔
بھائی کیا اب آپ لوگ ہمیشہ گاؤں میں رہیں گے؟___ عافیہ نے پوچھا۔
نہیں بس چکر لگاتے رہیں گے۔ابھی پندرہ دن کی چھٹی لے کر آیا ہوں آفس سے۔___ مراد نے کہا۔
تھوڑی دیر بعد سکینہ اور صادق احمد بھی ملنے آئے ان سے۔ضمیر تو ان کی ساتھ ہی آیا تھا شہر سے۔
پھر ساجدہ بھی آ گئی۔
کیسی ہو ایمان؟__ ساجدہ نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا تو وہ حیران ہوں گی اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے سجدہ کو دیکھنے لگی۔مراد بھی حیران ہوا۔
ایسے مت کو میری طرف۔اب اتنی بھی بری نہیں ہوں میں۔ایک ماں کا دل رکھتی ہوں۔مراد کو تو شاہ میر کے جیسے ہی پالا ہے میں نے بچپن سے۔___ سجدہ کہتی ہوئی مسکرانے لگی اور چارپائی پر ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔
بیٹا بہت پیارا ہے ماشاءاللہ نام کیا ہے؟___ سکینہ نے پوچھا.
حماد نام ہے۔___ ایمان بولی۔
مراد ۔۔۔ حماد ۔۔ واہ میچنگ نام۔۔۔ ___ صفیہ نے کہا۔نام تو ان کو بیٹے کا معلوم تھا لیکن پھر بھی پوچھ رہے تھے ایسے جیسے انہیں کچھ پتہ ہی نہیں۔مراد کا رابطہ اپنی بہنوں سے فون پر رہتا تھا۔
بہت اچھا کیا تم لوگ اپنے گاؤں واپس آ گئے میں تو ڈر ہی گئی تھی اب تم کبھی نہیں آؤں گے۔ سکینہ نے کہا۔
ایسی بات نہیں ہے چاچی یہ میرا آبائی گاؤں ہے۔ اور میں اسے کبھی نہیں چھوڑ سکتا اب تو میں نے اپنا گھر بھی بنا لیا ہے جب چاہے یہاں آ سکتے ہیں ہم لوگ۔___ مراد نے کہا۔
ان تین سالوں میں تم نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا مراد۔میں تمہارا سگا باپ نہیں تھا چچا تھا اس لیے؟__ صادق احمد نے گلہ کیا۔
ایسی بات نہیں ہے چاچوں میں بس سب کو وقت دینا چاہتا تھا۔جو حادثہ ہوا اس سے سنبھلنے کے لیے۔تاکہ سب بھول جائیں۔___ مراد نے کہا۔
سب کو ان کے ساتھ بیٹھ کر اور باتیں کرتی ہوئی بہت اچھا لگ رہا تھا۔کافی عرصے سے بوریت تھی جو اب ختم ہو گئی تھی۔ایسا لگ رہا تھا گزرا وقت سب بھول بھال گئے ہیں۔
وہ لوگ خوش گپیوں میں مصروف ہوگیا اچانک ہی سامنے سے شاہ میر آتا دکھائی دیا۔
سب کو ایک دم سانپ سونگھ گیا یہ سوچ کر کہ شاہ میر کا کیا ردعمل ہوگا اب۔
شاہ میر مراد کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔مراد اسے دیکھ کر اٹھا۔شاہ میر نے آگے بڑھ کر مراد کو گلے سے لگا لیا۔اور اس کے آنسو چھلک پڑے۔
دونوں کافی دیر تک ایک دوسرے سے لپٹے رہے جیسے بچپن کا کوئی ساتھی بچھڑ کر ملا ہو۔پھر الگ ہوئے۔
ایمان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
کیسا ہے؟___ شاہ میر نے پوچھا۔
ٹھیک ۔۔۔ تو کیسا ہے؟__ مراد نے کہا ۔
اب ٹھیک ہوگیا ہوں۔۔۔___ شاہ میر نے ایمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
دیکھ لیا ایمان ہم دونوں کا پیار۔۔۔ اور تم ڈر رہی تھیں کہ یہ مجھے مار دے گا؟ یہ سالہ تو میرے بغیر مر ہی جائے گا۔تین سالوں میں یہ حالات ہوگی اس کی۔___ مراد نے فاتحانہ انداز میں ایمان سے کہا۔ایمان مسکرا دی۔
شاہ میر ایمان کے قریب آیا اور اس کے قدموں میں جھک کر ہاتھ معافی کے انداز میں جوڑے۔تو سب دیکھ کر حیران رہ گئے.
مجھے معاف کر دو ایمان۔تم پر مظالم کی سزا مجھے خالی جھولی کی صورت میں مل رہی ہے۔اب تک اولاد سے محروم ہوں۔___ شاہ میر نے کہا۔
میں نے معاف کیا۔___ ایمان نے آہستہ سے کہا۔تو مراد نے مسکرا کر ایمان کو دیکھا۔اس سے یہی امید تھی اسے۔
بےشک معاف کرنے والا عظیم ہوتا ہے۔
شاہ میر بھائی ۔۔۔ نور بھابھی الٹیاں کر رہی ہے۔۔۔ شاہ میر کا چھوٹا بھائی بھاگتا ہوا آیا اور اسے بتایا۔
الٹیاں کرنے کی وجہ وہاں پر موجود سب نفوس سمجھ گئے تھے۔ شاہ میر اور ساجدہ کو معافی مل گئی تھی۔۔۔
مگر اتنی جلدی ملے گی شاہ میر کو اندازہ نہیں تھا۔۔۔
ختم شد۔
