Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina NovelR50528 Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 14)
Rate this Novel
Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 14)
Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina
آپ یہاں سے چلے جائیں۔___ ایمان نے ہلکی آواز میں کہا۔
کیوں چلا جاؤں؟ ___ مراد بولا۔
کیوں کے میں آپ کے لائق نہیں ہوں۔آپ مجھے سے اچھی لڑکی کے حقدار ہیں۔میں ونی ہوں۔۔۔ طلاقیافتہ ہوں۔ میری کوئی حیثیت نہیں۔ میں آپ کے سامنے اپنے آپ کو کمتر محسوس کرتی ہوں۔___ ایمان نے کہا تو مراد مسکرا دیا۔
آپ کو لگتا ہے کہ میں نے یہ سب آپ سے ہمدردی میں کیا ہے؟___ مراد نے کہا تو ایمان نے اثبات میں سر ہلایا۔
ایمان ۔۔۔___ مراد نے پیار سے اس کا نام پُکارا اور پر اُسکی ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا۔
ساجدہ چاچی کی باتیں میں نے سن لي تھیں۔وہ صرف کام کے لیے آپ کو واپس لانا چاہ رہی تھیں۔اور شاہ میر کو بس گاؤں والوں کے تانوں کی فکر تھی۔کسی کو نہ آپ سے ہمدردی تھی نہ محنت اور نے آپ کی قدر۔۔۔ اس دن جب آپ نے میرے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا کر کہا تھا کہ میں مرغی لا دوں ورنہ آپ مر جائیں گی ۔۔۔ تو اس پل آپ مجھے بہت معصوم اور پیاری لگی تھیں۔اس دن کے بعد میں ٹھیک سے سو نہیں سکا۔ مجھے بار بار آپ کا خیال آتا تھا۔۔۔ جب آپ شاہ میر کا جوڑا جل جانے پر معصومیت سے آنسو بہا رہیں تھیں۔۔۔ اس پل بھی میرا دل ڈوب کر اُبھرا تھا۔۔۔ کئی بار آپ کو دیکھ کر میرا دل دھڑکا تھا۔ لیکِن میں ہر بار خیال جھٹک دیتا کیوں کہ آپ کا رشتا اس وقت میرے لیے قابلِ عزت تھا۔لیکن میں بھی انسان تھا۔خیال آنا فطری بات ہے۔خیال کو جھٹکنا اور حاوی کرنا فطری نہیں یہ ہمارے بس میں ہوتا ہے۔____ مراد سانس لینے کو رکا۔۔۔ پھر اپنی بات جاری رکھی۔
پھر جب شاہ میر نے آپ کو طلاق دی تب بھی میں نے موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔۔۔ تب بھی چپ رہا۔۔۔ کیوں کہ جانتا تھا کہ کوئی راضی نہیں ہوگا اور شاہ میر آپ کو واپس اپنانا چاہتا تھا۔
جب شاہ میر میں میری منت کی کہ میں ہلالہ کر لوں تب بھی میں نے انکار کر دیا۔ لیکِن اسی پل میں نے فیصلہ کیا کہ جب قسمت خود آپ کو میری جھولی میں ڈال رہی ہے تو میں کیوں نہ دل کی سنوں۔۔۔ اور یہ بھی جانتا تھا کہ اگر کوئی اور حلالے کے لیے راضی ہوا تو بھی شاہ میر اور ساجدہ چاچی آپ پر واپس مظالم شروع کر دینگے۔ آپ ایک بار پھر سے جہنم میں چلی جائیں گی۔اسی لیے میں راضی ہوگیا۔۔۔ ہلاله کے لیے نہیں۔۔۔ آپ کو اپنانے کے لیے۔۔۔ ___ ایمان حیران ہو کر مراد کی باتیں سن رہی تھی۔
( کیا میں اتنی خوش نصیب ہوں) ایمان نے دل میں سوچا۔ اس نے مراد کو دیکھا ۔ وہ بہت پیارا لڑکا تھا۔صورت کا بھی اور سیرت کا بھی اور اس سے اظہارِ محبت کر رہا تھا۔اس کا شوہر تھا۔اور کیا چاہئے تھا اسے۔
ایمان میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں۔___ مراد نے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے کہا۔ایمان کا دل کسی بے لگام گھوڑے کی مانند دوڑنے لگا۔
پتا ہے ایمان جہاں خوشیاں برس رہی ہوں نا وہاں پہلے پُہنچ جانا چاہیے۔۔۔ اس سے پہلے کہ خوشیوں کی بارش برسنی بند ہو جائے۔___ مراد نے اس کا چہرہ ٹھوڑی سے اوپر کرتے ہوئے کہا۔
ایمان نے ایک نظر اسے دیکھا پھر نظریں جھکا لیں۔
ایمان تمہاری پلکیں بہت خوبصورت ہیں۔۔۔___ مراد نے کہا تو اس کی جھکی ہوئی پلکیں لرزنے لگیں۔
اتنا ڈر کیوں رہی ہو.؟ میں تو تمہاری تعریف کر رہا ہوں۔لڑکیاں تو خوش ہوتی ہیں اپنی تعریف پر۔___ مراد نے کہا تو اس بار ایمان مسکرا دی۔اس کے گالوں پر گڑھے اُبھرے تھے۔
تمہارے ڈمپل بھی بہت پیارے ہیں۔___ مراد نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر کہا۔
ایمان کا دل کیا اس سے کہے کے آپ بھی بہت اچھے ہیں۔۔۔ میرا دل جیت لیا ہے آپ نے۔۔۔ محبت سے بڑھ کر عزت سے دل جیت لیا۔ایمان کے دل میں بہت کچھ تھا لیکن وہ کہہ نہیں پا رہی تھی۔
کیا سوچ رہی ہو؟__ مراد نے اسے خیالوں میں گم دیکھا تو کہا۔اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
تم اتنی خوبصورت ہو۔۔۔ میں نے اپنی ساری زندگی میں اتنی پیاری لڑکی نہیں دیکھی۔ جو بنا میک اپ کیے۔۔۔ بنا پارلر جائے۔۔۔ عام سے لباس میں اتنی پیاری اور معصوم ہو۔ ایمان میں تمہیں ساری زندگی خوش رکھوں گا یہ میرا وعدہ ہے۔___ مراد نے کہا تو ایمان خوشی سے سرشار ہوگی۔جیسے وہ ہمدردی سمجھ رہی تھی وہ تو محبت تھی۔اور ایسی رات دونوں نے نئی خوشیوں بھری زندگی کا آغاز کیا تھا۔
__________________
نور نے آتے ہی سب کو ناکوں چنے چبوا دیے تھے۔شاہ میر کی ضد پر چٹ منگنی پٹ بیاہ ہو گیا۔اور شادی بھی اس نے دھوم دھام سے کی۔یہ کہہ کر کے پہلی شادی سادگی سے ہوئی تھی۔اور نور کی بھی یہی فرمائش کی کہ شادی دھوم دھام سے ہو۔شاہ میر گاؤں والوں کو دکھانا چاہتا تھا کہ اسے لڑکیوں کی کمی نہیں ہے۔اور اسے بیوی بھی مل گئی ہے۔
محترمہ اٹھو اب کام پر لگ جاؤ ہفتہ ہو گیا ہے کمرے میں بند پڑی ہو۔___ ساجدہ نے کمرے میں آتے ہی اسے آرڈر دیا۔
میں نوکر کسی کے باپ کی نہیں ہوں۔___ نور نے فوراً جواب دیا۔
زیادہ اکڑ مت دکھاو تمہاری اکڑ نکالنا مجھے آتی ہے۔___ ساجدہ نے اسے بالوں سے دبوچ لیا۔نور چلانے لگی
شاہ میر ۔۔ شاہ میر ۔۔۔
اس کی آواز سن کر شاہ میر فورا اندر آیا۔
دیکھو تمہاری ماں مجھ پر ظلم کر رہی ہے۔___نور نے روتے ہوئے کہا.
اماں یہ کیا طریقہ ہے؟___ شاہ میر بولا۔
تم تو چپ کرو زن مرید۔ بہو ہے آخر کام کرے گی نا۔۔ایک ہفتے سے میں اس لئے لحاظ کر رہی تھی کہ نئی نویلی دلہن ہے۔کب تک یوں میڈم بیٹھی رہے گی۔___ ساجدہ نے غصے سے کہا
اپنی دونوں لاڈلی و سے کام کروائے نا وہ کس لیے ہیں۔___ نور نے کہا۔
میری بیٹیاں تمہاری نوکر نہیں ہیں اور کل کلاں کو شادی ہو کر اپنے سسرال جائیں گی۔پھر تو تمہیں کام کرنا ہی ہوگا۔___ ساجدہ نے کہا۔
میں نے کونسا ہمیشہ اس گھر میں رہنا ہے۔شاہ میر مجھے شہر میں اپنا گھر لے کے دیں مجھے گاؤں میں نہیں رہنا۔__ نور نے شاہ میر سے کہا۔
اما کیوں تنگ کر رہی ہو اسے؟ پہلے ایمان کو تنگ کیا اب اس کے پیچھے پڑ گئی ہو۔___ شاہ میر نے بیوی کی سائیڈ لی۔
شاہ میر میں تمہیں کچا چبا جاؤں گی۔اگر تم نے اپنی بیوی کے سامنے میری بےعزتی کی تو۔ماں ہو تمہاری۔___ ساجدہ نے کہا۔
میں ہرگز کام نہیں کروں گی۔میں ایمان نہیں ہوں جسے مار کر آپ کا نوکر بنا دیں۔میں خاندانی لڑکی ہوں۔اسی گاؤں کی ہوں۔اور اسی خاندان کی۔___ نور نے کہا۔
بڑی آئی خاندانی۔۔۔ شادی سے پہلے میرے بیٹے کو پھنسا لیا۔اس کے ساتھ چکر چلایا۔اور خود کو خاندانی کہتی ہو۔ خاندانی تو ایمان تھی۔مجال ہے جو کبھی اونچی آواز میں بات کی ہو۔چپ چاپ سارا گھر سنبھالتی تھی۔ویسے میں نے کئی بار مارا مگر اس نے اس تک نہیں کی۔ناہی تو کبھی شاہ میر سے شکایت لگائی۔___ساجدہ نے کہا.
ایمان تو ایمان کو مارتی تھی؟۔__ شاہ میر نے حیرت سے پوچھا۔
کہ تو ایسے رہا ہے جیسے تو نے کبھی نہیں مارا۔___ساجدہ نے کہا.
میں اس کا شوہر تھا مار سکتا تھا۔لیکن کسی کو مارنے نہیں دیتا۔___شاہ میر نے کہا.
بس کرو یہ ایمان نامہ۔۔۔ نہیں سن سکتی میں اس کا ذکر۔نفرت ہے مجھے اس سے۔میرا مقابلہ اس گھٹیا لڑکی سے مت کریں۔___ نور نے چلاتے ہوئے کہا۔
گھٹیا وہ نہیں گھٹیا تو ہے۔۔۔ وہ تو گلاب کا پھول تھی۔بے زبان معصوم۔۔۔تیرا اس سے کیا مقابلہ۔۔۔ بس ہم نے ہی قدر نہیں کی۔___ ساجدہ نے نور کو جلانے کے لئے کہا۔
ہاں ۔۔۔ اماں اب ایسا بول رہی ہوں میرا گھر تباہ کر کے۔۔۔پہلے تو اس پر الزام لگایا تو نے۔۔۔ میرے دل میں شک پیدا کیا۔اور اب اس کی تعریفیں کر رہی ہو۔حد ہے دوغلے پن کی۔___ شاہ میر بولا۔
ہاں تو ہوگی مجھ سے غلطی۔تیرے دوستوں نے بھی کم بھڑکایا تجھے۔۔۔ تو میری نہیں اپنے دوستوں کی باتوں میں آ گیا تھا۔___ ساجدہ نے کہا۔
شاہ میر اپنی ماں کو یہاں سے نکالوں ورنہ میں گھر چھوڑ کر چلے جاؤ گی۔___ نور نے چلاتے ہوئے کہا۔
تمیز سے بات کرو یہ میری ماں ہے۔___ شاہ میر نے کہا۔
پہلے خود تو عزت کرلو اپنی ماں کی پھر مجھے تمیز سکھانا۔___نور نے کہا.
تم لوگوں کا جھگڑا تمہیں جانوں میں چلا جاتا ہوں یہاں سے۔___ شاہ میر کہہ کر چلا گیا۔
تجھے تو میں دیکھتی ہوں۔___ ساجدہ نے اسے مارنا شروع کیا۔بدلے میں نور نے بھی ساجدہ پر حملہ کر دیا۔ساجد بوڑھی تھی نور جوان۔۔۔ نور نے اسے مارنا شروع کر دیا تو وہ نڈھال کر زمین پر پڑی رہی۔
عافیہ صفیہ آکر مجھے بچاؤ دونوں۔۔___ ساجدہ چلانے لگی۔
اف یہ صرف یہ دونوں کانوں میں ہینڈ فری لگا کر گانے سن رہی تھیں۔البتہ سکینہ بھاگتی ہوئی آئی اور اس سے بچایا۔
کیا کر رہی ہو نور ہو تمہاری ساس ہے تم سے بڑی ہے کوئی تمیز ہے یا نہیں تمہیں؟___ سکینہ نے کہا۔
بڑے جب ماریں گے تو پھر انہیں عزت کہاں سے ملے گی؟___ نور نے اسے مارنا چھوڑ دیا اور اب غصے سے دیکھ رہی تھی۔
سکینہ مجھے پانی پلاؤ۔مجھے میرے کمرے تک لے جاؤ۔میرا انگ انگ دکھ رہا ہے۔کمینی نے اتنا مارا ہے۔پتا نہیں کیا کھاتی ہے۔___ ساجدہ نے کہا تو سکینہ اسے سہارا دے کر کمرے میں لے گئی۔
_________________
ہائے نور کی بچی۔ میرا جوڑ جوڑ درد کر رہا ہے۔___ ساجدہ سر دوپٹے سے باندھ کر پڑی ہوئی تھی برآمدے میں ۔۔۔ دور سے شاہ میر آتا دکھائی دیا
کیا ہوا اماں ایسے کیوں پڑی ہو؟___ شاہ میر نے ساجدہ کو دیکھا تو پوچھا۔
تیری بیوی نے مار مار کے میری درگت بنا دی ہے۔دیکھ تو میرے زخم۔___ساجدہ نے اپنے ہاتھوں اور چہرے کے زخم دکھاتے ہوئے کا جن میں ہلکے سے نیل پڑے ہوئے تھے.
میں ابھی اس کی خبر لیتا ہوں۔___ شاہ میر کہہ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری ماں کو مارنے کی؟___ اس نے غصے سے نور سے کہا۔
اتنا ہی پیار ہے نا اسے تو آج رات وہیں پر سو جانا۔___ نور نے اسے دھکا دے کر کمرے سے نکال دیا اور کنڈی لگا دی۔وہ آپ کسی بیوقوف کی طرح کمرے کے دروازے کو دیکھ رہا تھا۔
پھر ماں کے پاس آیا۔
کیا ہوا نکال دیا نا اس نے کمرے سے تجھے۔بڑا شوق چڑھا تھا شادی کا۔اب بھگتو۔___ ساجدہ نے کہا۔
تو تھے کیا ضرورت تھی اس سے جھگڑا کرنے کی؟__ شاہ میر کہتا ہوا باہر نکل گیا۔
اماں مجھے سے نہیں ہوتا اتنا سارا کام۔مراد بھائی سے کہیں ایمان کو لے آئیں یہاں ۔___ عافیہ بولی۔
تجھے کام کی پڑی ہے؟ تیری ماں مر رہی ہے درد سے۔___ ساجدہ بولی۔
کوئی اتنا درد نہیں ہے تجھے اماں۔۔ جانتی ہوں سب شاہ میر کو دکھانے اور نور کو بدنامی کرنے کہا ڈراما ہے۔___ عافیہ نے کہا۔
بتمیز ماں کو ڈرامے باز کہتی ہے؟ ___ ساجدہ کو غصّہ آگیا۔
مراد تو لے اڑا اس ہیرے کو ۔۔۔ اور یہ کھوٹا سکہ ہمارے نصیب میں آگیا ۔۔ ساجدہ نے افسوس سے کہا
