Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina

موسم نے کروٹ بدلی تھی اب موسم گرما کی آمد آمد تھی۔اس لیے شاہ میر اور اس کے دوست ڈیرے پر آگ نہیں جلاتے تھے اب۔بلکہ رات ہوتے ہی ٹھنڈی ہوا شروع ہو جاتی تھی ہلکی سی جو کے بھلی لگتی تھی۔
وہ سب چارپائیاں ڈال کر وہاں پر بیٹھے ہوتے تھے اور باتیں کرتے تھے مگر آج شامیر کچھ اداس سا تھا۔
کیا بات ہے شاہ میر؟ کن سوچوں میں گم بیٹھا ہوا ہے آج؟___ قاسم نے کہا۔
کچھ نہیں یار بس تیری بھابھی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔سوچ رہا ہوں اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ کل۔___ شاہ میر نے کہا۔
کیوں کیا ہوا بھابھی کو؟___ حامد نے پوچھا۔
پتا نہیں یار بہت الٹیاں کر رہی تھی۔بہت بے حال لگ رہی تھی۔___ شاہ میر واقعی تھوڑا پریشان ہوا۔
کیا ؟ الٹیاں؟ اس کا مطلب ہے تو باپ بننے والا ہے؟___ قاسم نے چونک کر کہا۔
نہیں یار ایسی کوئی بات نہیں۔__ شاہ میر بولا۔
لیکن الٹیاں تو ن شادی شدہ لڑکی تب ہی کرتی ہے جب وہ ماں بننے والی ہوتی ہے۔پھر اس کو چکر بھی آنے لگتے ہیں۔۔۔کہیں ہمارا شک صحیح تو نہیں ہے؟کہ تیری بیوی کا کسی اور کے ساتھ چکر...___ قاسم نے کہا تو شاہ میر غصے سے کھڑا ہوا۔
بس کر دو تم لوگ بہت برداشت کر لیا ہے میں نے بد تمیزی کی بھی کی کوئی حد ہوتی ہے۔جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہو اول فول۔ ذرا تمیز نہیں ہے تم لوگوں کو بات کرنے کی۔میں کیا بے غیرت ہوں جو تم لوگوں کی اتنی گھٹیا باتیں سنو؟___ شاہ میر دھاڑا۔
نہیں تو تو بے غیرت نہیں ہے بس ہم ہی بے غیرت ہیں۔پتہ نہیں کیسی لڑکی سے شادی کر لی ہے۔ لے جاؤ ڈاکٹر کے پاس سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔میں نے کہا تھا نہ کہ کسی اور کا گناہ تیرے سر پر تھونپ دیں گے اور وہی لگتا ہے ہوگیا ہے۔___ قاسم بھی غصے سے کھڑا ہو گیا۔
شاہ میر ۔۔۔ دیکھو اس میں غصہ کرنے والی کوئی بات نہیں ہے۔قاسم صحیح کہہ رہا۔تمہیں ایک بار تصدیق ضرور کرنی چاہیے یہ عزت کا معاملہ ہے۔اگر یہ بات سچ ہے تو تم اسے گھر سے نکال دو۔اور اگر یہ جھوٹ ہے تو پھر ہم تم سے معافی مانگ لیں گے۔لیکن سچائی کو جاننا بہت ضروری ہے۔____ حامد نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر آرام سے سمجھایا۔
شاہ میر تیزی سے وہاں سے نکل گیا اور گھر آیا۔
ایمان ۔۔۔ ایمان ۔۔۔ وہ اتنی زور سے چلا کہ تمام گھر والے جمع ہو گئے جیسے کوئی قیامت آ گئی ہو۔
مراد جو اوپر چارپائی پر لیٹا ہوا ہوا کھا رہا تھا وہ بھی چھت سے جھانک نے لگا۔۔۔
شاہ میر ایمان کے کمرے میں گیا ۔۔ ایمان بے حال ہو کر وہاں لیٹی ہوئی تھی۔گولی کھانے کی وجہ سے اس کی الٹیاں رک گئی تھیں۔
شاہ میر نے اسے ہاتھ سے کھینچ کر اٹھایا۔اور گھسیٹتا ہوا اسے باہر تک لایا۔
بدکردار لڑکی۔ مجھے بتاؤ تم کیوں الٹیاں کر رہی تھیں؟___ شاہ میر پوری قوّت سے چلایا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *