Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina NovelR50528 Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 12)
Rate this Novel
Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 12)
Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina
ایمان نے بھی حالات کے آگے ہار مان لی۔لیکن یہ راز راز نہیں رہ سکا۔شاہ میر نے ہمیشہ کی طرح اپنے دوستوں کو بتا دیا۔اور اس کے دوستوں نے اس کا یہ راز فاش کر دیا۔
مجھے تم لوگوں سے یہ امید نہیں تھی۔میں نے تم لوگوں کو دوست سمجھ کر اپنا راز بتایا تم لوگوں نے سارے گاؤں میں ڈھنڈورا پیٹ دیا۔___شاہ میر نے اپنے دوستوں سے شکوہ کیا.
تم کیوں پریشان ہوتے ہو؟ تمہارے لیے لڑکیوں کی کمی تھوڑی ہے تم کسی سے بھی شادی کر سکتے ہو چھوڑ دو اس لڑکی کی جان۔__ قاسم نے کہا۔
دوسری شادی تو میں ضرور کروں گا۔ لیکِن ایمان کی ملکیت کھونا نہیں چاہتا۔اور وہ ونی میں آئی ہے۔اس لیے واپس نہیں بھیج سکتا اسے۔___ شاہ میر نے کہا۔
اسے شدت سے ایمان کے عدت ختم ہونے کا انتظار تھا اب۔
___________
مراد کمرے میں لیٹا ہوا تھا کہ اسے کھڑکی کے باہر سے سکینہ اور سجدہ کی باتوں کی آواز آنے لگی۔ان دونوں کو لگ رہا تھا کہ شاید مراد چھت پر ہے۔
ویسے ساجدہ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آرہی ہے کہ تم ایمان کو پسند نہیں کرتی ہو۔ اور تم چاہتی تھی کہ شاہ میر اسے چھوڑ دے لیکن اب تم کیوں بضد ہو کہ وہ اسی گھر میں رہے۔؟حلانکہ تمہاری جان بھی اس سے چھوٹ گئی ہے تم چاہو تو اسے واپس بھیج سکتی ہو.۔___سکینہ کے ذہن میں کب سے یہ بات کھٹک رہی تھی آج اس نے ساجدہ سے پوچھ ہی لیا.
ساری بات سمجھ داری کی ہے۔پہلی بات تو یہ کہ مجھے اس عرصے میں اندازہ ہو گیا کہ ایمان بے زبان ہے۔دوسرا یہ کہ وہ گھر کا سارا کام کرتی ہے۔ صفائی دینا، کھانا بنانا، کپڑے دھونا۔تیسری بات یہ کہ اب شاہ میر بھی اس سے ویسے محبت نہیں کرتا جیسے پہلے کرتا تھا۔اگر میں نے شاہ میر کی شادی کسی اور سے کرائی تو ضرور وہ لڑکی طاقتور ہوگی، تیز ترین ہوگی، گھر کا کوئی کام نہیں کرے گی اور شاہ میر کو اپنے قابو میں کر لے گی۔ اس کی زبان بھی دس گز ہو گئی کیونکہ وہ ونی نہیں ہوگی۔میں نے بہت سوچنے سمجھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔کہ میں شاہ میر کی دوسری شادی نہیں کروں گی۔ایمان کا حلالہ کروا کے اس کی شادی شاہ میر سے کرواؤں گی تاکہ ایمان یہ گھر سمبھالے اور میرے قابو میں رہے۔دوسری لڑکی آئی تو وہ شاہ میر کو الگ کر لے گی ساری زمینوں کا خرچہ اپنے قبضے میں کروا لیگی ہم لوگ بھوکے مریں گے۔___ ساجدہ کی بات سن کر سکینہ حیران ہوگئی اس نے واقعی لمبی سوچی ہوئی تھی۔
( اپنی بیٹیوں کی زبان نہیں دیکھتی یہ عورت جو دس گز کی ہیں۔۔۔ ) سکینہ نے دل میں کہا۔
کمرے میں لیٹے ہوئے مراد میں ساجدہ کی ساری باتیں سن لی تھیں۔
_______________
ایمان نے اسی گھر میں عدت گزاری۔لیکن اس سے کام کر بھی کروایا گیا۔یہ عدت بس نام کی عدت تھی۔۔۔ وہ بے چاری کمرے سے باہر سارا کام کرتی تھی اپنا چہرہ نقاب میں لپیٹ کر۔
بالآخر وہ دن بھی آگیا جس کا شاہ میر کو شدت سے انتظار تھا۔ایمان کی عدت ختم ہوئی تو اگلے دن ہی شاہ میر نے ضمیر کو پکڑ لیا۔
میں ہرگز یہ کام نہیں کروں گا میری جان بخش دیں آپ لوگ۔___ ضمیر اس بات سے خوفزدہ ہوگیا وہ سادا سا لڑکا تھا اسے غصہ آ گیا اور وہ اسی وقت بس پکڑ کر شہر چلا گیا اپنے دوست کے پاس۔
اس کے جانے سے شاہ میر پریشان ہو گیا۔
تو پریشان کیوں ہوتا ہے ہم تیرے تین تین دوست ہیں قربانی دینے کے لیے۔تیرے لیے اتنا نہیں کر سکتے کیا ہم؟___ حامد نے کہا تو شاہ میر پریشان ہوا۔اسے اُن میں سے کسی پر بھروسہ نہیں تھا۔اُن سب کی نیت آنکھوں سے پہچان رہا تھا۔
وہ ساری رات سو نہیں سکا اسے ضمیر کے علاوہ کسی پر بھروسہ نہیں تھا۔ایک ایسا حساس معاملہ تھا جس میں وہ کسی پر بھروسہ نہیں کر پا رہا تھا۔
وہ سوچ سوچ کر پریشان ہو گیا اسے نیند بھی نہیں آرہی تھی۔اچانک ہی اسے ایک آئیڈیا آیا۔وہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور اپنے کمرے سے باہر نکلا۔مراد کے کمرے میں آیا اور آہستہ سے دروازہ بجایا۔
مراد بھی جاگ رہا تھا۔وہ موبائل میں انٹر نیٹ چلا کر کوئی فلم دیکھ رہا تھا۔دروازے پر دستک ہوئی تو اس نے دروازہ کھولا۔
خیر تو ہے؟__ اس نے شاہ میر کو دیکھا تو پوچھا۔
مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔___ شاہ میر اندر آ گیا اور اس نے دروازے کو کنڈی لگا دیا چارپائی پر بیٹھ گیا۔
دیکھ مراد، تو آخری انسان ہے جس پر میں بھروسہ کر سکتا ہوں۔____ شاہ میر کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی۔مراد سمجھ گیا اور آدھے میں کاٹ دی اس کی بات۔
میں ایمان سے نکاح نہیں کروں گا۔___ مراد نے اپنے ٹراؤزر کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر شاہ میرے سے کہا۔ اُس کے چہرے پر سخت تاثرات تھے۔
انکار مت کرو مراد۔۔۔تم میری آخری امید ہو۔میں اسے کھونا نہیں چاہتا میں نے ایک ایک دن گنا ہے اس عرصے میں۔___ شاہ میر نے بےبسی سے کہا۔
تم نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے میں امید کرتا ہوں کہ تم آج بھی اس پریشانی میں میرا ساتھ دو گے.___ شاہ میر نے کہا۔
اور اگر میں نے تمہارا بھروسہ توڑ دیا تو؟___ مراد نے کہا۔
مجھے یقین ہے تم ایسا نہیں کرو گے۔تم ایمان کی عزت کرتے ہو میں جانتا ہوں۔تم نے کبھی بھی اسے غلط نظر سے نہیں دیکھا۔میں لوگوں کی نظریں پہچانتا ہوں۔___ شاہ میر نے کہا۔وہ جانتا تھا مراد نے کبھی ایمان کو بری نظر سے نہیں دیکھا۔
کافی دیر تک مراد سوچتا رہا۔۔۔پھر بولا۔
ٹھیک ہے تمہارے لئے یہ بھی صحیح۔۔۔__ مراد نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
شاہ میر نے خوشی سے اسے گلے لگا لیا۔
میں جانتا تھا تو میری مدد ضرور کرے گا۔۔۔___ شاہ میر جذباتی ہو گیا۔
مراد نے اس کی بات پر ہلکا سا مسکرا دیا۔
______________
صبح سویرے ہی شاہ میر نے قاضی کو بلایا اور نکاح کا بندوبست کیا۔
ایمان ابھی بھی سمجھ رہی تھی کہ اس کا نکاح ضمیر سے ہو رہا ہے۔وہ نہیں جانتی تھی کہ ضمیر گھر چھوڑ کر چلا گیا ہے۔جب نکاح خواں نے ضمیر کی جگہ مراد کا نام لیا تو وہ حیران رہ گئی اس نے حیرت سے سکینہ اور ساجدہ کو دیکھا۔
ان دونوں نے اسے ہاں بولنے کا اشارہ دیا۔
ایمان کی نظروں کے سامنے مراد کا چہرہ آگیا۔
کیا سوچ رہی ہو ایمان جلدی سے ہاں دو۔___ ساجدہ نے کہا۔
ایمان تو جیسے سکتے میں ہی چلی گئی تھی۔پھر ساجدہ کی آواز پر وہ چونکی اور اس نے “قبول ہے” کہا.
نکاح ہوگیا تھا اور سب چلے گئے جو نکاح کے لیے آئے تھے گواہ بن کر۔
اسے طلاق دے دے مراد ۔۔۔ سب کے جانے کے بعد ایک دم شاہ میر مراد کے پاس آیا اور اس نے کہا۔
اتنی جلدی کیا ہے؟ ابھی ابھی تو نکاح ہوا ہے۔۔۔ کم ازکم رات تک صبر کرو.___ مراد نے مسکراتے ہوئے شامیر کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور بولا۔
شاہ میر کا دل ایک پل کو ڈوب کر ابھرا تھا۔لیکن وہ کچھ بولا نہیں چپ ہو کر بیٹھ گیا اور رات کا انتظار کرنے لگا۔
رات ہوئی تو شاہ میر پھر مراد کے پاس آیا۔
شاہ میر مسئلہ یہ ہے کہ میں جنت میں جانا چاہتا ہوں۔۔۔ اور اس طرح سے پلاننگ کیا حلالہ کرنے والا جنت میں نہیں جا سکتا۔۔۔___ مراد نے آرام سے شاہ میر کے سر پر بم پھوڑا۔۔۔
یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔۔۔___ شاہ میر نے غصے سے کہا۔
میں نے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔میں نے تو یہ تک کہا تھا کہ اگر میں تمہارا بھروسہ توڑ دوں تو۔۔۔میرا نکاح کا ارادہ ضرور تھا لیکن طلاق دینے کا بالکل بھی نہیں ہے۔۔___ مراد نے پرسکون ہو کر کہا۔
شاہ میر ایک دم سے باہر آیا۔
اماں ، ابا چاچی ۔۔۔ دیکھیں یہ مراد کیا کہہ رہا ہے۔۔___ شاہ میر کی آواز پر سب وہاں اکٹھا ہو گئے۔
کیا کہہ رہا ہے؟ ___ شاہ میر کے والد صادق احمد نے کہا۔
یہ کہہ رہا ہے کہ یہ یہ ایمان کو طلاق نہیں دیگا۔___ شاہ میر کی آواز کمرے میں بیٹھی ہوئی ایمان نے بھی سنی تو اس کے پیروں تلے سے جیسے زمین نکل گئی اور سر پر آسمان آ گرا۔۔۔
مراد کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟__ ساجدہ نے پوچھا۔
جی بالکل سچ کہہ رہا ہے۔___ مراد نے آرام سے کہا۔
ایمان بھی کھڑکی کے قریب آکر کھڑی ہوئی۔اور سُننے لگی۔
تم ہمیں دھوکا نہیں دے سکتے مراد۔___ ساجدہ نے کہا۔
آپ لوگ چاہیں جو کچھ بھی کر لیں معصوم کے ساتھ لیکن کوئی آپ کو دھوکا نہ دے۔۔۔آپ اس پر الزام لگائیں۔۔۔ اس کی تذلیل کریں۔۔۔ اسے جانوروں کی طرح کام لیں۔۔۔ آپ کچھ بھی کر لیں۔کوئی آپ کو کچھ بولنے والا نہیں۔۔۔ لیکن دوسرا کوئی آپ کو کچھ بھی نہ کہے یہاں تک کہ آپ کو دھوکا بھی نہ دے۔آپ ہر طرح کا ظلم کریں اس پر لیکن آپ کے ساتھ کوئی برا نہ کرے۔۔___ اس بار مراد کی آواز تھوڑی اونچی ہوئی۔
ایمان حیرت سے اب کھڑکی کے پار سے مراد کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔جو اس وقت اس کا شوہر تھا اور اس کے حق میں بول رہا تھا۔
ایمان سے نکاح تو میں کر کے رہوں گا ہر حال میں ۔۔___ شاہ میر نے مراد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سختی سے کہا۔
میری لاش پر سے گزر کر کر لینا نکاح اس سے۔۔۔ کیوں کے میرے جیتے جی تو یہ ممکن نہیں۔__ مراد نے بھی شاہ میر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔دونوں کی آنکھیں چار تھیں اس پل دونوں کافی دیر تک ایک دوسرے کو ایسے ہی سرخ آنکھوں سے دیکھتے رہے۔
تم ایسا نہیں کر سکتے میرے ساتھ۔___ شاہ میر ضبط کی انتہاء پر تھا۔
بات بلکل صاف ہے شاہ میر۔۔۔ اب جب تک میں زندہ ہوں ایمان کو طلاق نہیں دونگا۔ایمان سے نکاح کرنے کے لیے یاں تو تمہیں میرے مرنے کا انتظار کرنا ہوگا ۔۔۔ یاں پھر خود مجھے جان سے مار دو۔۔۔ مار سکتے ہو مجھے؟___ مراد نے بھی ضبط سے کہا۔وہ جانتا تھا شاہ میر اسے نہیں مار سکتا۔
ٹھیک ہے اب ایمان ہی فیصلہ کرے گی کے اسے کہ کس کے ساتھ رہنا ہے۔___ شاہ میر نے پورے یقین سے کہا۔۔۔ اسے یقین تھا ایمان اس کا ساتھ دی گی۔
ایمان ۔۔۔ ایمان ۔۔۔ شاہ میر پوری قوت سے جلایا۔
اس کا چلانا سن کر ایمان کے پاؤں لرزنے لگے۔
وہ باہر نہیں آئی خوف کے مارے تو شاہ میر اندر جا کے اسے ہاتھ سے کھینچتا ہوا باہر لایا۔
ہاتھ چھوڑو اس کا۔۔۔ ___ مراد نے ایک دم آگے بڑھ کر ایمان کا ہاتھ شاہ میر کے ہاتھ سے چھڑایا۔اور اسے اپنے ساتھ کھڑا کیا۔
اب گھر والے اس وقت خاموش کھڑے مراد اور شاہ میر کی جنگ دیکھ رہے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ کیا فیصلہ ہوتا ہے۔
بتاؤ ایمان ۔۔۔ بولو تمہیں میرے ساتھ رہنا ہے۔___ شاہ میر نے کہا تو ہمیشہ کی طرح ایمان ڈر گئی۔
پلیز مراد آپ مجھے طلاق دے دیں۔۔۔ میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔___ ایمان نے روتے ہوئے مراد کے سامنے ہاتھ جوڑے تو مراد مسکرا دیا۔
ابھی بھی آپ اس سے ڈر رہی ہیں؟ یہ لوگ اب آپ کے حاکم نہیں رہے۔۔۔ اب جو کچھ بھی ہوں آپ کا میں ہی ہوں ____ مراد نے کہا۔وہ سمجھ گیا کہ ایمان صرف خوفزدہ ہے شاہ میر کے غصّے سے۔
مجھے کچھ نہیں پتہ مجھے چھوڑ دیں آپ۔___ ایمان کا جواب سن کر شاہ میر نے فاتحانہ انداز میں مراد کو دیکھا۔
سوری۔۔۔ میں تو اب ایسا نہیں کرنے والا۔۔۔ مراد کہتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا۔
ایمان ابھی بھی شاہ میر کو خوف بھری نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔
شاہ میر سر پکڑ کر چارپائی پر بیٹھ گیا۔اس کا دماغ کھول رہا تھا۔وہ پھر سے مراد کے پیچھے اس کی کمرے میں گیا۔
میں نے تم پر اس لیے بھروسا کیا کیونکہ تم نے کبھی غلط نگاہ ایمان پر نہیں ڈالی تھی۔___ شاہ میر کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بولے۔
اس وقت وہ تمہاری بیوی تھی اور میری بھابھی۔۔ میں اس کے بارے میں اس وقت سوچ بھی نہیں سکتا تھا ایسا کچھ۔۔۔ اور اب وہ میری بیوی ہے اور تمہاری بھابھی۔اب میں تم سے بھی یہی امید کرتا ہوں کہ تم بھی اس کے بارے میں ایسا کچھ نہیں سوچو گے۔___ مراد نے کہا۔وہ پرسکون ہو کر چارپائی پر لیٹ گیا اور موبائل میں گیم کھیلنے لگا۔
شاہ میر اس کی اطمینان پر حیران تھا۔
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم مجھے اتنا بڑا دھوکا دوں گے۔___ شاہ میر نے بے بسی سے کہا۔
میں کبھی بھی ایسا نہیں کرتا۔۔۔ذرا مجھے امید ہوتی تھی اس سے دوبارہ نکاح کے بعد اسے خوش رکھوں گے۔لیکن تم سب نے اس بیچاری کو ہمیشہ اپنے مطلب کے لئے استعمال کیا۔مگر سوری میں ایسا نہیں کر سکتا۔__ مراد نے کہا۔
مگر وہ تمہارے ساتھ رہنا نہیں چاہتی وہ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے تم نے اس کا جواب سن لیا۔__۔ شاہ میر نے اس بار آرام سے کہا۔جو غصے سے کام نہیں بنا تو وہ آرام دہ لہجے میں بات کرنے لگا۔
شاہ میر تم اپنا اور میرا وقت ضائع کر رہے ہو۔بہتر یہی ہوگا کہ جا کر سو جاؤ۔۔۔ اور اس بات کو بھول جاؤ۔۔۔ تمھیں دوسری لڑکیاں مل جائیگی۔مگر اب ایمان تمہیں نہیں ملنے والی۔___ مراد موبائل پر ہی نظریں مرکوز کرتے ہوئے بولا وہ شاہ میر کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔
شاہ میر کافی دیر کھڑا اسے دیکھتا رہا۔پھر باہر آگیا۔
ایمان ابھی بھی وہاں کھڑی خوف سے کانپ رہی تھی۔
شاہ میر نے ایک نظر ایمان پر ڈالی۔۔۔ دوسری نظر گھر والوں پر۔۔۔ اور پھر باہر نکل گیا۔پھر وہ ساری رات باہر دوستوں کے ساتھ ہی رہا۔
ایمان بوجھل بوجھل قدم اٹھائے اسی کمرے میں چلی گئی جس میں پہلے وہ سویا کرتی تھی وہاں جاکر وہ چارپائی پر لیٹ گئی۔اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہو گیا۔لیکن جو بھی ہوا تھا وہ ایسا نہیں چاہتی تھی۔
اس نے تو سوچا تھا کہ وہ دوبارہ شاہ میر سے نکاح کرکے پھر سے ویسی زندگی گزارے گی۔ویسے ہی غلامی دے گی۔مراد کے ساتھ زندگی گزارنے کا تو اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ناہی تو اس نے کبھی مراد کو اس نظر سے دیکھا تھا۔
کیا اب مجھے باقی کی زندگی مراد کی بیوی بن کر اس گھر میں رہنا ہوگا؟__۔ اس نے خود سے سوال کیا۔
سب گھر والوں کو تو جیسے سانپ ہی سونگ گیا تھا۔کوئی کچھ بول ہی نہیں سکا۔
شاہ میر کے ابا آپ مراد کو سمجھایں وہ آپ کی بات نہیں ٹالتا ہے۔___ ساجدہ نے بے بسی سے صادق احمد سے کہا۔وہ جانتی تھی کہ مراد سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔وہ ان کی بات کو خاطر میں ہی نہیں لائیگا۔جب اس نے شاہ میر کی نہیں سنی تو وہ ساجدہ کی کیا سنےگا۔
تم جانتی ہو مراد کسی کی نہیں سنتا ہے وہ اپنی مرضی کا مالک ہے۔میرے سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اب۔وہ پہلے سے یہ سب کچھ طے کیے ہوئے تھا۔جب اس نے شاہ میر کو چپ کروا دیا تو میں کیا چیز ہوں۔___ صادق احمد بولے۔
لیکن آپ ایک کوشش تو کر کے دیکھیں۔___ ساجدہ نے کہا تو وہ مراد کے پاس آئے۔
مراد مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔۔۔___ صادق احمد نے کہا۔
میں بہت معذرت خواہ ہوں چاچاجان کہ میں آپ کی امیدوں پر پورا نہیں اتر سکتا اب۔___ مراد نے موبائل ایک طرف رکھا اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
کیا میں یہ سمجھوں کہ میری بہو کو دیکھ کر تمہاری نیت خراب ہوگئی ہے؟___ صادق احمد میں کہا۔
نہیں آپ یہ سمجھیں کہ میں خدا سے ڈرتا ہوں۔۔۔ اور وہ کام نہیں کر سکتا جو اس کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔___ مراد نے کہا۔
اگر تم نے ایمان کو نہیں چھوڑا تو میرا بیٹا پاگل ہو جائے گا وہ کچھ بھی کر سکتا ہے خود کو مار بھی سکتا ہے یا تمہیں مار دے گا تم جانتے ہو اسے۔___ صادق احمد میں اسے ڈرایا۔
ایسا کچھ نہیں ہوگا اگر اسے مارنا ہوتا تو آج خود کو یا مجھے مار ہی دیتا۔کچھ دن بعد وہ سب بھول جائے گا آپ آرام سے رہیں۔___ مراد بولا۔
میں گاؤں والوں کو کیا منہ دکھاؤں گا؟___ انہوں نے کہا
ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم خدا کو کیا منہ دکھائیں گے۔۔۔ ___ مراد نے اُنہیں لاجواب کر دیا۔
صادق احمد نے اپنی ٹوپی اتار کر مراد کی کے قدموں میں رکھ دیں یہ آخری حربہ تھا جو وہ آزما رہے تھے۔
مراد نے تھوڑی دیر ان کو دیکھا اور پھر اپنے قدموں میں پڑی ان کی ٹوپی کو دیکھا۔
پھر ان کی ٹوپی اٹھا کر صاف کی اور ان کے سر پر رکھ دی دوبارہ۔
میں آپ کی عزت کرتا ہوں اور ہمیشہ تک کرتا رہوں گا۔۔۔ لیکن اس وقت مجھے سب سے زیادہ اپنی بیوی کی عزت عزیز ہے۔۔۔ ورنہ میں آپ کی بات ضرور مانتا۔___ مراد نے کہا اور باہر نکل گیا۔
