Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina NovelR50528 Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 02)
Rate this Novel
Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 02)
Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina
شاہ میر کی بات پر ایمان نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اس کے لئے نرم پڑ گیا ہے وہ تو سوچتی تھی کہ وہ اسے چائے بھی پینے نہیں دیگا۔
اس کی چھوٹی نند عافیہ نے اسے چائے کی پیالی دی وہ بیٹھ کر پینے لگی۔وہ چارپائی پر بیٹھی ہوئی تھی۔شاہ میر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔چائے پینے کے بعد شاہ میر گھر سے باہر نکل گیا اور سارا دن باھر ہی رہا۔
یہ اس کے روز کا معمول تھا وہ صرف کھانے اور سونے کے لئے ہی گھر آتا تھا۔بعض اوقات تو کھانا بھی باہر کسی دوست کے گھر کھا لیا کرتا تھا اور ڈیرے پر ہی سو جایا کرتا تھا۔
لیکن آج نہ جانے کون سی کشش شام کو جلدی اسے گھر لے آئی۔گاؤں میں کھانا جلدی بن جاتا تھا اس لیے مغرب تک سب کھانا کھا کر فارغ ہو چکے ہوتے تھے اور جلدی سو جایا کرتے تھے۔
لیکن آج کل موبائل اور انٹرنیٹ کا دور تھا۔گاؤں کے لڑکے ساری ساری رات موبائل میں نیٹ چلاتے تھے۔اس لیے وہ اب دیر سے سونے لگے تھے۔
شامیر بھی ساری ساری رات ڈیرے پر دوستوں کے ساتھ بیٹھا رہتا اور دیر تک موبائل میں انٹرنیٹ چلاتا ۔۔رات کا کھانا کھاتے ہی وہ نکل جاتا اور پھر بہت دیر سے گھر آتا تھا۔
آج بھی وہ کھانا کھانے کے لئے آیا اس کا غصہ قدر کم تھا آج۔یا پھر شائد یہ ایمان کے حسن کا اثر تھا جس سے متاثر ہوئے بغیر وہ نہیں رہ سکا۔
کھانا کھانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آیا۔پھر کچھ سوچ کر ایمان کے پاس گیا جو دوسرے کمرے میں چارپائی پر اکیلے بیٹھی ہوئی کچھ سوچ رہی تھی۔
میرے کمرے میں آؤ.____ شاہ میر نے ایمان کو کہا اور اپنے کمرے میں چلا گیا ایمان کی تو جیسے سن کر جان ہی نکل گئی۔
وہ کمرے کی طرف بڑھنے لگی اس کے قدم من من کے ہو رہے تھے۔وہ سوچ رہی تھی نہ جانے کیا بات ہے کہیں وہ سے پھر سے مارنے نہ لگ جائے اسے۔
وہ کمرے کے اندر آئی جہاں شاہ میر الماری میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔ اسے دیکھ کر وہ اس کے قریب آیا اور دروازہ بند کیا کنڈی لگا دی۔
ایمان حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
شاہ میر اس کے بالکل قریب آ کر کھڑا ہو گیا اور اس کے نقوش دیکھنے لگا۔اس کی پلکیں جھکی ہوئی تھیں اور بہت گھنی اور خوبصورت تھیں۔لیکن خوف کے مارے اس کی پلکیں بھی لرزتی رہی تھیں۔پھر شامیر کی نظر اس کے بالوں پر گئی جو ایک شانے کو ڈھلکے ہوئے تھے۔اس کے بال بہت خوبصورت اور لمبے تھے۔شاہ میر نے اس کے آگے کی ایک لٹ اپنے ہاتھوں میں لی تو اس نے نظر اٹھا کر شاہ میر کو دیکھا۔
ایمان حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی سوچ رہی تھی کہ کیا وہ نرم پڑ رہا ہے؟وہ خوفزد تو بہت تھی لیکن اندر اندر اسے اطمینان بھی آ رہا تھا۔شامیر شاید اسے بیوی کے روپ میں قبول کرنے لگا ہے۔
شاہ میر میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے بیڈ تک لے آیا اسے بٹھایا اور اسے دیکھنے لگا۔اس نے اپنی زندگی میں اتنی حسین لڑکی نہیں دیکھی تھی۔لڑکی بھی وہ جو اُسکے لیے جائز تھی۔
حسین تو بہت ہو۔___ شاہ میر نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہا۔ایمان روایتی بیوی کی طرح دل ہی دل میں اس تعریف پر خوش ہوئی تھی۔
اس کی پلکیں ابھی بھی جھکی ہوئی تھی اور شاہ میر بس اس کے حسن میں حیران ہو کر رہ گیا تھا۔
پڑھی لکھی ہو؟___ شاہ میر نے پوچھا تو ایمان نے اثبات میں سر ہلایا۔
کتنا؟___ اس نے اگلا سوال کیا۔
گریجویٹ ہوں پرائیوٹ بي اے کیا ہے۔___ ایمان لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔
شہر میں رہتی تھیں؟___ شاہ میر نے پوچھا۔
شہر میں چھوٹی سی کالونی تھی وہاں پر۔ وہاں کے مقامی اسکول اور کالج سے تعلیم حاصل کی۔____ایمان نے بتایا وہ اب قدرے پرسکون تھی۔
کل جو ہوا اس کے لیے معافی چاہتا ہوں۔بس غصہ آگیا تھا۔___ شامیر نے کہا تو وہ حیران ہوئی اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کر رہا ہے اسے معافی بھی مانگ رہا ہے۔
کوئی بات نہیں۔___ ایمان نے کہا۔
غصّہ تو ابھی بھی اس کے دل میں بہت تھا۔ لیکن اس نے ابھی اپنا غصّہ ایک طرف رکھ دیا تھا۔ہر مرد کی طرح وہ بھی ایک عورت کے حسن پر فدا ہونے لگا تھا۔حسن ایک واحد ہتھیار تھا ایمان کے پاس۔
شاہ میر نے اسے اپنے حصار میں لیا کہ اچانک اس کا فون بجا۔
کہاں ہے یار یہاں پر محفل جمی ہوئی ہے؟ ہم سب دوستوں نے چائے بنائی ہے انٹرنیٹ بھی چل رہا ہے آجاؤ گپ شپ لگاتے ہیں بہت مزہ ہے آگ بھی جلائی ہوئی ہے.___ آگے سے اُسکے دوست قاسم نے کہا۔
شاہ میر نے ایک نظر ایمان کو دیکھا۔ اور سوچ میں پڑ گیا۔
تم لوگ انجوائے کرو میں آج نہیں آ سکتا۔___ شاہ میر بولا۔
اگر آج نہیں آئے نہ تو بس ہماری دوستی ختم پھر کبھی مت آنا۔____ قاسم نے کہا۔
اچھا اچھا ٹھیک آتا ہوں۔___ شاہ میر نے کہا اور آٹھ کھڑا ہوا۔ایمان نے اسے دیکھا۔
میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔___ وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا۔ایمان نے لمبی سانس لی۔
شاہ میر کے جانے کے بعد وہ اٹھی اور آئینے میں اپنا سراپا دیکھا۔ پھر ایک دم سے اس نے اپنے بکھرے بال بنائے۔اپنا حلیہ درست کیا۔صبح والا میلہ کچیلہ لباس تبدیل کیا جو کہ سارا دن کام کرنے اور کپڑے دھونے کی وجہ سے میلہ ہو گیا تھا۔ میک اپ کی اسے کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ پھر بھی اُسنے ہلکا سا میک اپ کیا۔
اور مطمئن تھی کہ شاہ میر اس کا ہونے والا ہے۔اس نے سوچا کہ وہ ساری زندگی شاہ میر کی خدمتیں کرے گی اسے اپنا بنا لے گی۔ اس کو اتنی محبت دیگی کہ وہ ساری نفرت بھول کر اس سے محبت کرنے لگے گا۔اور پھر اس کی زندگی جنت بن جائے گی۔
لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ اس کی زندگی اب پھر سے جہنم بھرنے والی ہے۔
______________
شاہ میر ڈیرے پر آیا جہاں سردی کی وجہ سے اس کے دوست آگ جلا کر بیٹھے ہوئے تھے اور چائے کی کیتلی آگ میں اوپر رکھی ہوئی تھی۔
یہ گاؤں کا عام ڈیرا نہیں تھا یہ لڑکوں نے اپنے لیے خاص ڈیرہ بنایا تھا جہاں پر صرف یہ لڑکے ہی رات گزارتے تھے۔
آگیا اگیا ہمارا یار۔___ قاسم نے اسے دیکھ کر دور سے آواز لگائی۔وہ آ کر سب کے ساتھ بیٹھ گیا۔
بڑی زبردست چائے بنائی ہے آج۔___ حامد نے کہا۔
ویسے یہ بتا تو آج رہ کہاں گیا تھا ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اپنے بھائی کے قاتل کی بہن کے پاس چلا گیا تھا؟___ قاسم نے کہا تو شاہ میر نے ان سے نظریں چرائیں۔
دیکھا دیکھا یہ نظریں چرا رہا ہے اس کا مطلب یہ اپنی نئی نویلی دلہن کے پاس تھا۔___ فرید نے کہا۔
کیا یہ سچ ہے شاہ میر؟__ قاسم نے پوچھا تو شاہ میر نے اثبات میں سر ہلایا۔
شاباش میرے دوست شاباش۔۔۔ واہ واہ ۔۔ کیا بدلہ لیا ہے اپنے بھائی کا۔۔ ایک رات میں اپنے بھائی کا خون بھول گیا۔تُجھ جیسے بہادر لڑکے سے یہ توقع نہیں تھی کے ایک لڑکی کے حسن کے آگے ایک دن میں ہار مان جائیگا۔۔ تو بھی نکلا نا وہی کمزور مرد۔۔۔ ____ قاسم نے غصے سے کہا۔
ایسی بات نہیں ہے۔۔۔ میں تو بس۔۔____ شاہ میر نے بہانہ بنایا۔
بات یہ ہے کہ تم تو بس اس کے حسن پر فدا ہو گئے اور سب کچھ بھول گئے لیکن میں تمہیں ایک بات یاد دلانا چاہوں گا.___قاسم نے کہا۔
کونسی بات؟___ شاہ میر نے کہا۔
دیکھ میرے بھائی۔ ان لوگوں نے ایک دم سے خون بہا میں پیسے دینے کی بجائے اپنی بیٹی دے دی۔ آخر کوئی تو چکر ضرور ہے۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس لڑکی کا کہیں پہلے ہی کسی کے ساتھ چکر تھا۔اور پھر بدنامی کے خوف سے انہیں موقع مل گیا اپنی عزت بچانے کا اور تیرے سر پر تھونپ دیا اسے۔ورنہ مجھے بتاؤ کون اپنی بیٹی اس طرح سے اتنی آسانی سے دیکھ سکتا ہے کسی کو؟ لوگ تو اپنا سر کٹانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اپنی بہنوں کی عزت بچانے کے لیے۔لیکن یہ کیسے باپ اور بھائی تھے جنہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے اپنی بہن کی قربانی دے دی؟ یقین بے غیرت لوگ ہیں۔ایسا نہ ہو کہ وہ کسی اور کا گناہ تیرے سر پر ڈال رہے ہوں۔پہلے اس لڑکی کا کردار تو چیک کر لو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی اور کا گناہ تجھے پالنا پڑ جائے۔ابھی کچھ مہینے اس سے دور رہ۔___ قاسم نے کہا تو وہ سوچ میں پڑ گیا۔
ہاں یار قاسم بالکل ٹھیک کہہ رہا۔تجھے جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔___ حامد نے کہا۔
بات تو صحیح ہے تمہاری۔___ شاہ میر بولا۔
چل آگے احتیاط کرنا ۔۔ یہ لے چائے پي۔___ حامد نے چائے کی پیالی بھر کر اس کی طرف بڑھائی۔
وہ چائے لیکے پینے لگا۔۔ ابھی بھی اس کی آنکھوں کے سامنے ایمان کا چہرہ آرہا تھا۔
سب دوست باتوں میں مشغول ہوگئے. ادھر کی باتیں کرنے لگے. لیکن شاہ میر آج کہیں کھویا کھویا لگ رہا تھا. اسے دوستوں کی یہ محفل ہمیشہ سے اچھی لگتی تھی اور اس کا یہاں سے اٹھنے کو بھی دل نہیں کرتا تھا. لیکن پتہ نہیں کیوں آج اس کا اس محفل میں دل نہیں لگ رہا تھا. شاید وجہ ایمان تھی. جو اس کے انتظار میں بیٹھی تھی. وہ اس سے کہہ کر آیا تھا کہ تھوڑی دیر میں آتا ہوں…
_________________
ایمان اس کا انتظار کرتے کرتے یوں ہی بیڈ پر سو گئی۔وہ دیر سے واپس آیا۔دروازہ کھلنے کی آواز پر ایمان ایک دم سے جاگ اٹھی اور اٹھ کر سیدھی بیٹھ گئی۔شامیر نے دیکھا اس نے اپنا لباس تبدیل کیا ہوا ہے اور میک اپ بھی۔وہ پہلے سے زیادہ حسین لگ رہی تھی۔پھر اچانک شاہ میر کو قاسم کی باتیں یاد آئیں۔
تم دوسرے کمرے میں جا کر سو جاؤ مجھے نیند آرہی ہے۔___ اس نے ایمان سے کہا اور بتی بجھا کر بیڈ پر لیٹ گیا اور کمبل اپنے اوپر تان دی۔
ایمان اب اندھیرے کمرے میں حیرت زدہ بیٹھی ہوئی تھی۔
