Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina NovelR50528 Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 05)
Rate this Novel
Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 05)
Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina
بدکردار لڑکی بتاؤ تم کیوں الٹیاں کر رہی تھیں؟ ___ شاہ میر پوری قوت سے جلایا تھا۔
میرے میرے معدے میں تکلیف ہے اس لیے۔___ ایمان بولی اس کی حالت غیر ہو رہی تھی خوف کے مارے۔گولی کھانے سے طبیعت تو اسکی کچھ بہتر ہو ہی گئی تھی۔لیکن اب شاہ میر کا غصہ دیکھ کر اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
وہ بیچاری پریشان تھی روز ایک نئی مصیبت اس کے سر پر آ جاتی تھی۔آج تو لگ رہا تھا کے کوئی بہت بڑی بات ہوگئی ہے۔
جھوٹ بول رہی ہو تم ضرورت کسی کا گناہ میرے سر پر تھوپنا چاہتی ہو تم۔____ شاہ میر نے کہا تو اوپر چھت پر کھڑا ہوا مراد غصے سے نیچے آیا۔
آخر ہوا کیا ہے مجھے بتاؤ تو سہی۔___ ساجدہ نے کہا۔
س
اماں یہ الٹیاں کر رہی تھی اس کو چکر آ رہے تھے اس کی طبیعت کیوں ایسی ہوگئی ہے میں سوچ سوچ کر پریشان ہوں.___ شاہ میر نے چیختے ہوئے کہا۔
تو بیٹا ہوسکتا ہے کہ تم باپ بننے والے ہو اس میں اتنا پریشانی والی کونسی بات ہے؟____ ساجدہ نے کہا۔
یہی تو پریشانی ہے میں نے تو آج تک اسے ہاتھ تک نہیں لگایا۔___ شاہ میر نے کہا تو مراد تیزی سے سیڑھیاں اترتا ہوا نیچے آیا اپنی آستینیں نے فولڈ کرتا ہوا اس نے آتے ہی شاہ میر کا گریبان پکڑ لیا۔
تمیز نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں تمہارے اندر؟ یہ بہن بیٹیوں والا گھر ہے سوچ سمجھ کر بولا کرو۔اوباش دوستوں کی صحبت میں بات کی تمیز بھی بھول گئے ہو تم۔___ مراد نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا اس کا گریبان پکڑا ہوا تھا۔
شاہ میر کی نظریں صفیہ اور عافیہ پر گئیں۔وہ مراد کا اشارہ سمجھ گیا۔
تم دونوں اندر جاؤ شاہ میر نے اپنی دونوں بہنوں سے کہا۔مراد نے اس کا گریبان چھوڑ دیا۔
ایمان ندھال ہو کر نیچے زمین پر بیٹھ گئی اس کے پاؤں میں اتنی جان نہیں تھی کہ وہ کھڑی ہو پاتی اس کا دل دہل گیا تھا اس الزام پر۔
مراد نے افسوس سے ایمان کی طرف دیکھا۔جو دونوں پاؤں پر سر جھکائے بیٹھی تھی۔وہ نیچے مٹی میں بیٹھی تھی بے بسی کی مورت بنی ہوئی۔
اماں اس کی وجہ سے میں باہر اتنی گالیاں سن کر آتا ہوں۔آج دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔چلو اٹھو تم ڈاکٹر کے پاس ۔۔۔ چلو ابھی اسی وقت۔___ شاہ میر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا اور اسے گھسیٹتا ہوا موٹر سائیکل کی طرف لے گیا۔
اتنی رات کو کہاں لے جاؤ گے اسے؟یہ کوئی وقت ہے کہیں جانے کا؟اور علاقہ کے حالات بھی خراب ہیں۔___ سکینہ نے کہا۔
چاچی میرا خون کھول رہا ہے مجھے نیند بھی نہیں آئے گی اب۔میں بے غیرت نہیں ہوں۔___ شاہ میر نے کہا۔
تمہاری غیرت کا نظارہ تو کر لیا ہے میں نے۔مگر اب جو بھی کرنا ہے صبح کرنا یہ کوئی وقت نہیں ہے ایسے کاموں کا.___ مراد نے اسے آنکھیں دکھائیں۔
شاہ میر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔دونوں کی آنکھیں غصے سے سرخ تھیں اور دونوں ایک دوسرے کو غصے سے دیکھ رہے تھے۔
تم تو آرام سے گھر میں بیٹھے رہتے ہو باتیں مجھے سنی پڑھ رہی ہیں جو مجھ پر گزر رہی ہے تمہارے ساتھ یہ سب کچھ ہوتا تو پوچھتا تم سے۔____ شاہ میر نے دبی دبی آواز میں مراد سے کہا۔اور پھر سے ایمان کا ہاتھ کھینچا اور اسے موٹر سائیکل میں بیٹھنے کو کہا۔
میں اس حالت میں کیسے جا سکتی ہوں؟ مجھے چادر تو پہن لینے دیں۔ ایمان نے روتے ہوئے کہا اس کا دوپٹا بھی نیچے زمین پر گر گیا تھا۔
پہن آؤ چادر جلدی۔___ شاہ میر نے کہا تو وہ اندر کمرے میں چلی گئی اور اپنی لال رنگ کی چادر اٹھائی جو اس کے جہیز کی تھی۔اس نے چادر اوڑھی اور باہر آگئی۔
مراد نے اسے دیکھا چاندنی میں اس کا چہرہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ایک پل کو مراد خود بھی سوچ میں پڑ گیا۔کہیں شاہ میر کا لگایا ہوا الزام سچ تو نہیں ثابت ہو جائے گا۔۔۔ وہ جانتا ہی کیا تھا اس لڑکی کے متعلق۔۔۔سوائے اس کے کہ وہ ونی میں آئی ہوئی ایک لڑکی ہے۔شاہ میر اس کا شوہر تھا۔اور اگر اس کا شوہر اس کے بارے میں اتنی بڑی بات کر رہا تھا تو ضرور اس نے کچھ دیکھا یاں نوٹ کیا ہوگا۔ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت تھا۔لیکن پھر بھی مراد کو اس معصوم سی لڑکی پر ترس آرھا تھا۔اس کا دل یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ یہ معصوم سی لڑکی کوئی گناہ کر سکتی ہے۔وہ اسے بہت پاکیزہ سی لگ رہی تھی۔
ایمان سر جھکائے اپنے آنسو پونچھتی ہوئی موٹر سائیکل پربیٹھ گئی۔
اس وقت رات کے دس بج رہے تھے۔اور گاؤں کے حساب سے یہ وقت بہت دیر کا تھا۔اس وقت باہر نکلنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ہسپتال تھوڑے سے فاصلے پر تھا۔
________________
موٹر سائیکل اب سڑک پر رواں دواں تھی۔بہت غصیلے تاثرات لیے شاہ میر موٹر سائیکل چلا رہا تھا۔اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔۔۔ اس کی ذہن میں اس کے دوستوں کی باتیں گونج رہی تھیں۔
وہ سب اس لیے نہیں کر رہا تھا کہ اسے ایمان پر شک تھا۔وہ یہ سب اس لئے کر رہا تھا تاکہ وہ اپنے دوستوں کو بتا سکے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔اور یہ ثابت کرنے کے لیے اس نے صبح تک انتظار نہیں کیا تھا۔لا شعوری طور پر وہ ایمان کی پاکدامنی ثابت کرنا چاہتا تھا۔لیکن ظاہر ایسے کر رہا تھا جیسے اسے شک ہے۔اسے خود بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔
اور پیچھے بیٹھی ہوئی ایمان کن خیالوں میں گم تھی۔اس کی چادر ہوا کی وجہ سے اس کے سر سے سرک گئی تھی جسے دوبارہ سر پر کرنے کی اسے ہمت نہیں تھی۔وہ اپنے حال پر حیران تھی۔
یہ کیسا وقت تھا یہ کیسی قیامت تھی۔۔ اور یہ کیسی آزمائش تھی۔۔۔ وہ سوچ رہی تھی۔۔۔ وہ سچی تھی اس بات کا تو اسے اطمینان تھا لیکن وہ اس الزام پر حواس کھو بیٹھی تھی۔۔۔
آج تک اس کے ساتھ کچھ خاص اچھا نہیں ہوا تھا۔۔۔لیکن جو آج اس کے ساتھ ہو رہا تھا وہ بدترین تھا۔وہ اب تک شاہ میر سے بہت مار کھا چکی تھی۔لیکن اسے پھر بھی اتنی تکلیف نہیں ہوئی تھی جتنی آج اس الزام پر ہو رہی تھی۔
وہ مار تو اسکے جسم پر لگی تھی جو زخم بھر بھی گئے تھے۔لیکن اس الزام سے تو اس کی روح تک زخمی ہوگئی تھیں اور اُسے لگ رہا تھا کہ یہ زخم کبھی نہیں بھر سکتے۔
وہ دونوں ہی اپنے ذہنوں میں ایک جنگ لڑ رہے تھے کہ اسپتال آگیا۔
ایمان اپنی چادر سنبھالتے ہوئے نیچے اتری۔شاہ میر نے بھی زخمی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
___________________
جب سے یہ لڑکی میرے گھر میں آئی ہے ایک نئی مصیبت شروع ہوگئی ہے۔اگر یہ ونی میں آئی ہوئی نہ ہوتی تو میں اسے طلاق دلوا کر واپس بھیج دیتی۔لیکن خون بہا میں آنے والی لڑکی واپس نہیں جا سکتی۔اس لیے میں اسے یہاں رکھنے پر مجبور ہوں۔لیکن میں سوچ رہی ہوں کہ شاہ میر کی دوسری شادی کروا دوں۔____ ساجدہ سر پکڑے چارپائی پر بیٹھی ہوئی تھی رات کی اس پہر۔سکینہ اور مراد دونوں وہاں پر ہی بیٹھے ہوئے تھے۔
اس کی دوسری شادی کرنے سے پہلے اس کی تھوڑی اچھی تربیت کر لیں۔۔۔ جس میں شاید کوئی کمی رہ گی ہے۔____ مراد نے کہا۔چارپائی پر جھکے ہوئے سر کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔اور بہت پریشان دکھائی دے رہا تھا۔آگے کیا ہوگا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔وہ گاؤں میں سکون کیلئے آتا تھا لیکن آج وہ آکر یہاں اس قدر بھی بے سکون ہو گیا تھا۔۔۔ اس نے لباس بھی تبدیل نہیں کیا تھا وہ ابھی تک اسی نیلی جینز اور سیاہ شرٹ میں ملبوس تھا۔
پھر کچھ سوچ کر وہ اندر گیا اور لباس تبدیل کیا۔ اب اس نے سیاہ رنگ کا کمیز شلوار زیب تن کیا ہوا تھا۔وہ باہر آگیا۔
_______________
آپ کی بیوی کو ہیضہ ہوا ہے۔ یہ پریگننٹ نہیں ہیں۔___ لیڈی ڈاکٹر نے ایمان کا چیک کرنے کے بعد شاہ میر سے کہا۔
شاہ میر میز کے اس پار بیٹھا اب کِسی حد تک پرسکون تھا۔
آپ لکھ کر دیں مجھے اس رپورٹ میں۔___ شاہ میر نے ڈاکٹر سے کہا۔
کیوں؟ ___ لیڈی ڈاکٹر نے پوچھا۔
( اپنے دوستوں کے منہ پر مارنی ہے یہ رپورٹ صبح) شاہ میر نے دل میں کہا۔
ٹھیک ہے میں لکھ دیتی ہوں۔___ ڈاکٹر نے کہا اور لکھنے لگے۔
ایمان اب شاہ میر کے ساتھ والی کرسی پر آ کر بیٹھ گئی۔شاہ میر نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا۔لیکن ایمان نے شاہ میر کی طرف نہیں دیکھا وہ میز کی طرف دیکھ رہی تھی کسی روبوٹ کی طرح۔
میں نے طاقت کی کچھ دوائیں ہے لکھ دی ہیں ان کو کھلا دیجئے گا بہت کمزور ہوگئی ہیں۔___ لیڈی ڈاکٹر نے پرچی لکھ کر شاہ میر کے حوالے کی۔
کچھ دن ان کو آرام کی ضرورت ہے اور ورنہ ان کی طبیعت مزید بگڑ سکتی ہے یہ بہت زیادہ کمزور ہو گئی ہیں۔____ ڈاکٹر نے کہا۔
چلو۔___ شاہ میر نے ایمان سے کہا تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
دونوں اب واپسی کا سفر طے کر رہے تھے۔
گھر پہنچتے ہی شاہ میر نے موٹرسائیکل اندر کھڑی کی اور اور بنا کسی سے بات کیے سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔سمجھ گئی کہ اس کا الزام جھوٹا ثابت ہوا تھا۔اگر اس کا الزام سچا ہوتا تو وہ ایمان کو گولی مارنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگاتا۔گاؤں والی ایسی باتوں میں جلدی قتل و غارت پر اتر آتے ہیں۔
ایمان بھی آرام سے اپنی چادر درست کرتی ہوئی اپنی کمرے کی جانب بڑھنے لگی۔وہ بے حال سی بکھرے بالوں کے ساتھ ڈھلکی ہوئی چادر لیے کمرے میں جا رہی تھی۔۔۔
مراد اب افسوس اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔بنت حوا کی اس تذلیل پر اس کا دل پھٹنے کو آ رہا تھا۔
________________
جیسے ہی صبح ہوئی۔ چائے پیے بغیر ہی شاہ میر رپورٹ اٹھائے ڈیرے کی جانب بڑھنے لگا۔وہ جانتا تھا کہ اس کے دوست اس وقت وہاں پر ہی چائے پی رہے ہونگے۔
وہ تیزی سے چلتا ہوا ان کے قریب آیا اور رپورٹ اٹھا کر قاسم کے منہ پر مار دی۔
لعنت ہے تم سب پر۔ تمہاری سوچ پر۔۔۔ افسوس ہو رہا ہے مجھے کہ تم لوگوں کی باتوں میں آکر میں آدھی رات کو اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔___ شاہ میر نے غصے سے کہا۔
یہ تو اچھا ہوا نہ تمہاری ٹینشن اتر گئی۔یہی تو ہم چاہتے تھے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ثابت ہوجائے کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ۔ہم نے جو بھی کہا تمہاری بھلائی کے لئے کہا۔کم ازکم تمہاری یہ پریشانی تو دور ہوگئی۔___ حامد نے بات سنبھالنے کی کوشش کی۔ وہ پہلے سے یہ سب سوچے ہوئے بیٹھا تھا کہ شاہ میر سے اب کیا کہنا ہے۔
ہاں یار شاہ میر ہم نے صرف تمہاری پریشانی دور کرنے کے لیے تم سے ایسا کرنے کو کہا تھا. ہم تمہارے دوست ہیں تمہارے دشمن نہیں ہیں۔ تمہارے بھلا چاہتے ہیں مگر افسوس ہے کہ تم ہمیشہ ہمیں غلط سمجھتے ہو۔ اب تم خود بتاؤ کیا تم دل ہی دل میں مطمئن نہیں ہوں اس کی طرف سے؟۰____ قاسم نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
ان سب نے پوری پلاننگ پہلے سے کر رکھی تھی کہ شاہ میر کو کیسے ٹریپ کرنا ہے۔لیکن آج شاہ میر بہت غصے میں لگ رہا تھا۔اور اُن کو محسوس ہوا کہ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔۔۔ بات بڑی تھی اس بار۔
تم لوگ اندازہ نہیں کر سکتے کہ مجھے گھر والوں کے سامنے کس قدر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے اس بات کی وجہ سے۔____ شاہ میر نے دبی دبی آواز میں کہا۔
کوئی بات نہیں ایک دو دن میں سب لوگ سب کچھ بھول جائیں گے تو آرام سے بیٹھو ہمارے ساتھ چائے پیو۔وزیر نے اسے چائے دیتے ہوئے کہا۔وہ تھوڑی دیر کا سوچتا رہا اور پھر وزیر کے ہاتھ سے چائے کا کپ لے کر وہاں آ کر بیٹھ گیا۔
