Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina NovelR50528 Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 09)
Rate this Novel
Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 09)
Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina
ایمان صبح جھاڑو دے کر فارغ ہوئی تو سکینہ کا بیٹا ضمیر اندر داخل ہوا۔
ایمان بھابھی آپ کے ابو آپ سے ملنے آئے ہیں۔___ ضمیر نے آتے ہی اعلان کیا۔ایمان حیران ہو گئی۔ایک نے مہینوں میں پہلی بار تھا جب اس کے والد جلال اس سے ملنے آئے تھے۔ضمیر کے پیچھے ہیں جلال احمد داخل ہوئے۔شاہ میر بھی گھر پر ہی تھا۔
ایمان ایک دم سے بھاگ کر اپنے باپ سے لپٹ گئی۔اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
شاہ میر آگے بڑھا اور اس نے ایمان کو جلال احمد سے الگ کیا۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر آنے کی؟___ شاہ میر نے اُن کا گریبان پکڑتے ہوئے کہا۔
میں اپنی بیٹی سے ملنے آیا ہوں۔___ جلال احمد نے کہا۔
شامیر چھوڑ دیں یہ میرے ابو نے آپ ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتے ہیں۔___ ایمان نے اپنے باپ کو چھڑاتے ہوئے کہا۔
تم چپ کرو۔تم ونی میں آئی ہو۔اور منی میں آئی ہوئی لڑکی کا کسی سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔وہ اپنے ماں باپ اور اپنا میکا چھوڑ کر آ جاتی ہے۔تم نا کسی کی بیٹی ہوں نہ کسی کی بہن اب۔تم صرف شاہ میر کی بیوی ہوں اور بس۔___ شامی نے شہادت کی انگلی وارننگ دینے والے انداز میں اوپر کر کے ایمان کو دکھائی اور کہا۔اور پھر سے جلال احمد پر حملہ کر دیا۔
مراد چھت سے سارا تماشہ دیکھ رہا تھا وہ نیچے آیا۔
ایمان نے اپنے والد کو پھر چھڑانے کی کوشش کی تو شاہ میر نے اسے دھکا دیا اور وہ دور جا کر گری۔
شاہ میر کیوں تماشا کر رہے ہو؟___ مراد نے جلال احمد کا گریبان چھڑاتے ہوئے کہا۔اور شاہ میر کو قابو کرنے کی کوشش کی۔ایمان اور کھڑی ہوئی اور وہ روتی جا رہی تھی۔
ان لوگوں نے میرے بھائی کا قتل کیا ہے میں انہیں اپنے گھر میں برداشت نہیں کر سکتا۔
ابو آپ یہاں سے چلے جائیں پلیز میں آپ کی مزید تذلیل برداشت نہیں کر سکتی۔___ ایمان نے روتے ہوئے کہا۔
اسی وجہ سے جلال احمد اتنے مہینوں سے ایمان کے پاس نہیں آئے تھے ان کو یہی خوف تھا کہ شاہ میر انہیں جان سے مار دے گا انہیں دیکھ کر آپے سے باہر ہو جائیگا اور وہی ہوا جس کا ان کو ڈر تھا۔وہ اپنی جان بچا کر وہاں سے چلے گئے ایک آخری نظر ایمان پر ڈالی۔اور دروازہ عبور کرکے وہاں سے اوجھل ہو گئے۔
تم کیوں رو رہی ہو ؟ بند کرو یہ رونا دھونا۔میں نے کہا نہ تمہارا میرے علاوہ کسی سے کوئی رشتہ نہیں ہے اب۔تم ونی میں آئی ہوں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا۔منی میں آئی ہوئی لڑکی کا کوئی نہیں ہوتا سوائے اس کے شوہر کے۔___ شاہ میر نے اب ایمان کو شانوں سے جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔ایمان کا رونا مزید تیز ہو گیا تھا۔وہ سسکیاں لے لے کر رو رہی تھی۔
کوئی انسانیت ہے یا نہیں تمہارے اندر؟___ مراد نے اسے بازوؤں سے پکڑتے ہوئے کہا۔
ان لوگوں کے اندر کوئی انسانیت تھی؟ میرے بھائی کو اتنی بے دردی سے مار دیا۔ان کو دیکھتا ہوں تو میرا خون کھولنے لگتا ہے۔میرا آج اس کا قتل ہی کر دیتا اگر تم بیچ میں نہ آتے تو۔___ شاہ میر نے مراد کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔اس کی آنکھیں غصے سے لال تھیں۔
اس قتل کہ بدلا تم خون بہا کی صورت میں لے چکے ہو۔____مراد نے ایمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا.
وہ سرداروں کا فیصلہ تھا میرا نہیں۔میرے اندر بدلے کی آگ آج بھی موجود ہے۔بس حیدر میرے ہاتھ لگ جائے۔___ شاہ میر نے کہا۔
اگر تم نے حیدر کو قتل کر دیا تو پھر تمہیں ایمان کو آزاد کرنا پڑے گا۔___ مراد نے یاد دلایا۔
ایمان کو تو میں اب مر کر بھی نہیں چھوڑ سکتا۔___ شاہ میر بولا۔اس بار وہ آرام سے بولا اور چارپائی پر بیٹھ گیا۔
ان کے سامنے ان کے باپ کو مار سکتا ہے۔۔۔ بار بار ونی میں آئی ہوئی کہہ کر ان کا دل دکھا سکتا ہے۔ان کو مار سکتا ہے۔ان کی تذلیل کر سکتا ہے۔لیکن چھوڑ نہیں سکتا۔۔۔___ مراد نے غصے سے کہا اور آخری نظر ایمان پر ڈالتا ہوا واپس اوپر چھت پر چلا گیا۔
__________________
حمیدہ اور حیدر ساتھ برآمدے میں بیٹھے تھے کہ اسے مرکزی دروازے سے جلال احمد آتے دکھائی دیے دیے۔
جلال احمد نے اپنی ٹوپی اتار کر چارپائی پر رکھی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
کیا ہوا ہے حیدر کے آبا خیر تو ہے؟___حمیدہ نے پریشانی سے.
کیسے خیر ہو سکتی ہے۔تمہارے بیٹے کی جان بچانے کے لیے میں نے اپنی بیٹی قربان کر دی۔اس کے گھر سے ہو کر آرہا ہوں۔جانوروں سے بھی بدتر سلوک ہو رہا ہے میری بیٹی کے ساتھ۔کس طرح سے شامیر نے اسے دھکا دیا۔اور وہ دور جا کر گری۔اس کے سامنے میری تذلیل کی شاہ میر نے۔اب میں کہاں جاؤں ؟ شاہ میر نے خون بہا کے عوض تیس لاکھ روپے مانگے تھے۔میرے پاس تیس لاکھ ہوتے تو میں دے دیتا۔مگر اپنی بیٹی نہ دیتا۔تم دونوں ماں بیٹے کا کیا میری بیٹی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔پتا نہیں کیا ہو گیا تھا مجھے اس وقت۔مجھے بس یہی خوف تھا کہ شاہ میر حیدر کو قتل کر دے گا۔حیدر کو بچانے کے لیے میں نے ایمان کو قربان کر دیا۔کیسا باپ ہوں میں؟___ جلال احمد روتے ہوۓ کہتے جا رہے تھے۔
آپ رونا بند کریں آپ نے کچھ غلط نہیں کیا۔یہ زمانے کا دستور ہے۔بیٹا ہی سہارا ہوتا ہے بیٹیاں تو ویسے بھی چلی جاتی ہیں۔ایک نہ ایک دن تو ایمان نے چلے ہی جانا تھا۔اور اتنے کھاتے پیتے گھر میں گئی ہے وہ۔آپ بس حیدر کے بارے میں سوچیں۔بس سوچیں کہ آپ کوئی بیٹی تھی ہی نہیں۔___ حمیدہ نے بات بنانے کی کوشش۔وہ ہر طرح سے اپنا اور حیدر کا دفاع کر رہی تھی۔
میں اس کی حالت دیکھ کر آیا ہوں۔مجھے کسی نے خبر دی تھی کہ شاہ میر کا بہت خیال رکھتا ہے۔یہی سوچ کر میں وہاں گیا۔کہ وہ خوش ہو گی۔___ جلال احمد نے کہا۔
آپ کو دیکھ کر شامیر کو غصہ آگیا ہوگا۔آپ کو وہاں نہیں جانا چاہیے تھا۔__ حمیدہ نے سمجھایا۔
تم تو سوتیلی ماں ہو۔آخر تم نے ثابت کر دیا کہ تم سوتیلی ہی ہو۔ایمان کی جگہ پر تمہاری اپنی بیٹی ہوتی تو کیا پھر بھی تو یہی کرتی؟___ جلال احمد نے پوچھا۔
تو آپ نے کون سا سگا باپ ہونے کا فرض ادا کیا ہے؟ آپ نے بھی تو بیٹے کو بچا کر بیٹی قربان کردی۔اب رونے دھونے سے کوئی فائدہ نہیں ہے. اس وقت سوچنا چاہیے تھا. سانپ نکل گیا اب لیکر پیٹنے سے کوئی فائدہ نہیں۔اور زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے۔ہر لڑکی کو سسرال میں یہی سب سے نہ پڑتا ہے۔مجھے موضوع الزام مت ٹھہرائیں۔___ حمیدہ کہتی ہوئی غصے سے پاؤں پٹختی اندر چلی گئی۔
جلال احمد اب خونخوار نظروں سے حیدر کو دیکھ رہے تھے۔
ابا میری طرف ایسے نہ دیکھ۔یہ فیصلہ خالص تیرا اپنا تھا۔اتنا ہی پیار تھا بیٹی سے تو زمین بیچ کر پیسے دے دیتا۔لیکن تجھے تو پیسہ پیارا تھا۔___ حیدر بھی کہتا ہوا باہر نکل گیا۔
جلال احمد در سے رونے لگے۔
_______________
ایمان سارا دن روتی رہی۔شاہ میر بھی غصے سے گھر چھوڑ کر چلا گیا۔رات ہوگی لیکن وہ واپس نہیں آیا۔یہاں تک کہ سب گھر والے سو گئے۔ایمان کو رہ رہ کر اپنے بوڑھے باپ کا چہرہ یاد آرہا تھا۔اس چہرے پر بے بس یاد آ رہی تھی۔شاہ میر نے کیسے ان کا گریبان پکڑا وہ یاد آ رہا تھا۔جتنا ایمان سوچتی جا رہی تھی اتنا ہی اس کا دل کٹتا جا رہا تھا۔اسے نیند بھی نہیں آرہی تھی۔
شاہ میر گھر نہیں آیا تھا لیکن اسے شاہ میر کی فکر نہیں تھی اس وقت۔اس وقت صرف اسے اپنے والد کی فکر تھی۔ایک بیٹی کے دل پر کیا گزرتی ہے جب اسے ایک بوڑھے باپ کا گریبان اس کے سامنے پکڑا جائے۔
ہحلانکہ باپ نے بھی باپ ہونے کا ثبوت ادا نہیں کیا تھا۔لیکن پھر بھی وہ اپنے باپ سے نفرت نہیں کر سکتی تھی۔ایک بیٹی کیلئے اپنے باپ سے نفرت کرنا ایک ناممکن سی بات ہے۔
اسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔گرمی کی وجہ سے کمرے میں حبس بھی زیادہ تھا۔وہ باہر برآمدے میں آ کر بیٹھ گئی۔وہاں پر نیم اندھیرا تھا تھا۔ وہ کافی دیر تک وہ بیٹھی روتی رہی۔
تھوڑی دیر بعد مراد سی نیچے اترا تو دیکھا کہ ایمان بیٹھی آنسو بہا رہی ہے۔چاندنی میں اس کا چہرہ واضح تھا۔ مراد کو صبح والا واقعہ یاد آیا۔اسے ایمان کا بہت دکھ ہو رہا تھا۔پسند تو وہ خود بھی جلال احمد اور حیدر کو نہیں کرتا۔کیونکہ حیدر کے ہاتھوں اس کا چچا زاد بھائی مرا تھا۔لیکن پھر بھی اس سب میں ایمان کا قصور نہیں تھا۔
کیوں ہر جگہ عورت ہی دکھ اُٹھاتی ہے۔___ مراد نے دل میں سوچا۔
کوئی بھی عورت کا مالک نہیں کہ اسے ونی میں دے دے۔عورت کا مالک صرف اس کا خدا ہے۔کبھی باپ کی پگڑی بچانے کے لئے قربانی دیتی ہے۔کبھی بھائی کی جان بچانے کے لئے قربانی دیتی ہے۔اور جہاں جاتی ہے وہاں رسوائی ان کا مقدر ہے۔یہ کیسی محبت ہے شاہ میر تمہاری اپنی بیوی سے؟ کیا اس سے تم محبت کہتے ہو؟ محبت کی پہلی شرط عزت ہوتی ہے۔۔۔ اگر عزت نہیں تو پھر محبت بھی نہیں۔عزت کے بغیر طوائف سے محبت کی جاتی ہے۔لیکن ایک طوائف بھی عزت کی طلب گار ہوتی ہے۔کیونکہ وہ بھی انسان ہوتی ہے۔کاش شاہ میر تمہیں سمجھ آجائے کہ عورت صرف عزت چاہتی ہے۔محبت، خیال، پیسہ، ضروریات، آسائشیں سب کچھ اس کے بعد ہی آتا ہے۔۔۔ عورت کی پہلی ترجیح عزت ہوتی ہے۔___مراد ایمان کو دیکھ کر سوچ رہا تھا.
شاہ میر ابھی تک گھر نہیں آیا کیا؟۔___ مراد کی آواز سن کر ایمان ایک پل کو اچھل پڑی۔اس نے نوٹ ہی نہیں کیا تھا کہ وہ اس کے سامنے کھڑا ہے وہ اپنے خیالوں میں اس قدر کھوئی ہوئی تھی کہ مراد کی موجودگی محسوس ہی نہیں کر سکی۔
نہیں وہ ابھی تک گھر نہیں آئے۔___ ایمان نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
مراد واپس جانے لگا۔ پھر کچھ سوچ کر پلٹا۔اور ایمان کی طرف دیکھا۔
پریشان مت ہوں۔ اللہ سے اچھی امید رکھیں۔انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔___ مراد نے اسے دلاسہ دینے کے لیے کہا۔
ایمان نے نظر اٹھا کر مراد کو دیکھا۔
میں فون کرکے بلاؤں کیا شاہ میر کو؟ اگر آپ کو اکیلے ڈر لگ رہا ہے تو ؟ ___ مراد نے موبائل اپنی جیب سے نکالتے ہوئے کہا۔
ایمان نے اثبات میں سر ہلایا۔
مراد نے میں نے شاہ میر کا نمبر ڈائل کیا یا تیسری رنگ پر اس نے فون اٹھایا۔
رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے ہیں۔گاؤں کے کتے بھی سو گئے ہیں اس وقت۔لگتا ہے تیرے دوست ابھی تک جاگ رہے ہیں۔۔۔___ مراد نے کاٹ دار لہجے میں کہا۔
گھر میں کسی کو میری پرواہ نہیں ہے۔تو مجھے بھی کسی کی پرواہ نہیں ہے۔میری بیوی کو مجھ سے زیادہ اپنا باپ پیارا ہے۔میری بہنوں کو تو پیارا ہے۔میری ماں کو اپنا مارا ہوا بیٹا۔میری فکر کسی کو نہیں ہے تو پھر میں وہاں کیوں آؤں؟___ شاہ میر نے آگے سے کہا۔
دو منٹ کے اندر اندر گھر آؤ شرافت سے۔۔۔ورنہ تم مجھے جانتے ہو۔___ مراد نے دھمکی دی اور فون کاٹ دیا۔
تھوڑی دیر بعد شاہ میر گھر آیا۔دیکھا تو ایمان بیٹھی ہوئی ہے اور مراد سامنے کھڑا ہے۔
معافی مانگ ان سے ۔۔۔ مراد نے کہا۔
مرادے ۔۔۔ معافی تو آج تک شاہ میر نے اپنے باپ سے نہیں مانگی۔۔۔___ شاہ میر نے مراد کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہوئے کہا۔اس کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔
مجھ سے تو تم کئی بار معافیاں مانگ چکا ہے ۔__ مراد نے یاد دلایا۔
تُجھ سے حساب نہیں۔۔۔ بچپن کا ساتھی ہے تو مرادے۔___ شاہ میر کہہ کر کمرے میں جانے لگا۔
اور یہ تیری زندگی بھر کی ساتھی ہیں۔___ مراد نے پیچھے سے آواز لگائی تو وہ پلٹا۔
اس کو مجھ سے زیادہ اپنے باپ سے پیار ہے۔۔۔بس بات ختم۔___ شاہ میر نے کہا اور کمرے میں چلا گیا۔
مراد نے دیکھا ایمان کی آنکھ سے چھلکا پڑی تھی۔وہ آنسو پونچھتے ہوئے پھر سے اپنے پرانے کمرے میں چلی گئی اور دروازہ بند کر لیا۔وہ جانتی تھی کہ اب شاہ میر پھر سے اس سے بات نہیں کرنے والا۔۔۔
