Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina NovelR50528 Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 07)
Rate this Novel
Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 07)
Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina
ایمان چارپائی پر لیٹ گئی اور رونے لگی۔
کیا یہی ہے ان کی غیرت؟ کے اپنے دوستوں سے میرے بارے میں ایسی شرط لگائیں؟ میرے کردار کو اپنے دوستوں کے ساتھ ڈسکس کریں؟ آخر یہ کیسی غیرت ہے؟ کیا میری ذات اتنی بے مول ہے ۔۔ کے اب باہر کے لوگ میرا کردار جج کرنے کے لئے شرائط رکھیں گے؟ کیا ایسے ہوتے ہیں شوہر؟_____ ایمان پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
ادھر مراد حیرت میں تھا کہ کیا ہوگیا جو ایمان شاہ میر کے کمرے سے ایسے بھاگتی ہوئی دوسرے کمرے میں جارہی تھی۔۔۔ اور اس نے مراد پر غصّہ کیا۔___ مراد سوچتا ہوا اپنے کمرے میں آگیا۔
ادھر شاہ میر پچھتا رہا تھا ایسی بات بول کر ۔ اگر وہ شرط والی بات نہ بولتا تو ایمان آج نہ جاتی۔وہ ہمیشہ ہی اس کی توجہ کی منتظر رہتی تھی۔
اب تینوں کو نیند نہیں آرہی تھی۔
_______________
آج کی صبح کافی عجیب تھی۔ شاہ میر بھی اداس دکھائی دیتا تھا۔ ایمان تو ہمیشہ ہی اداس رہتی تھی لیکن آج معمول سے زیادہ مرجھائی ہوئی تھی۔اس نے حسب معمول چائے پینے کے بعد جھاڑو اٹھایا۔مراد بھی چائے پینے کے لیے آکر بیٹھ گیا۔شاہ میر اور مراد دونوں ساتھ چارپائی اور بیٹھے ہوئے تھے۔
ساجدہ سکینہ دور بیٹھیں محوِ گفتگو تھیں۔
عافیہ اور صفیہ دونوں اندر کمروں میں گھسی ہوئی تھیں۔ شاہ میر کسی سوچ میں گم تھا۔اور مراد اسے دیکھ رہا تھا۔
تمہارے دماغ میں کیا چلتا رہتا ہے ہر وقت.___ مُراد نے کہا تو شاہ میر نے چونک کر اسکی طرف دیکھا۔
کچھ نہیں۔۔۔___ شاہ میر بولا۔
آج ڈیرے پر نہیں گیا کیا؟___ مراد نے طنز کیا۔
دل نہیں کر رہا وہاں جانے کا۔___ شاہ میر نے ایمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
مراد کی نظروں نے شاہ میر کی نظروں کا تعقب کیا۔ایمان جھاڑو دینے کے بعد اب روٹیاں پکانے کے تیاری کر رہی تھی۔وہ لکڑیاں توڑنے لگی۔مراد کو لگا وہ لکڑیوں سے پہلے خود ٹوٹ جائیگی۔۔۔
پھر مراد چھت پر آگیا۔ابھی تک باہر کا موسم تھا۔ نہ گرمی نہ سردی۔ہلکی سی گرمی ہو جایا کرتی تھی دوپہر میں۔پھر راتیں ٹھنڈی۔۔۔
شاہ میر ایمان کے پاس آیا۔
ونی میں آئی ہو۔۔۔ میرے بھائی کے قاتل کی بہن ہو۔ تم پر یہ بیویوں والے نخرے اچھے نہیں لگتے ۔۔۔ کل بلایا تھا نہیں آئیں۔۔۔ آج نہیں آئیں تو میری طرف سے فارغ ہو پھر۔۔۔ ___ شاہ میر اسے دھمکی دیتا ہوا باہر نکل گیا۔
ایمان کی ہمت جواب دے گئی۔ اس میں اب کوئی کام کرنے کی ہمت نہیں تھی۔وہ کام ادھورا چھوڑ کر اندر آکر چارپائی پر لیٹ گئی۔
ماہ رانی روٹیاں کیا تمہاری ماں آکر پکائے گی؟ ___ ساجدہ نے دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر کہا۔
میری طبیعت صحیح نہیں ہے۔ ورنہ میں کب نہیں پکاتی۔۔۔___ ایمان نے بےبسی سے کہا۔
اب نئی فلم لگائی ہے طبیعت خرابی کی۔ کل سارا دن آرام کیا ہے اب اٹھو۔میری بیٹیاں نوکر نہیں تمہارے پاب کی۔___ ساجدہ بولی۔
مراد آوازیں سن کر نیچے آیا۔
کیا ہوا چاچی؟___ اس نے پوچھا۔
ماہ رانی کی طبیعت خراب ہے۔ اب روز یہ بہانہ کرے گی۔___ ساجدہ غصے سے بولی۔
ہاں تو ان کو آرام کرنے دیں ۔۔ انسان ہیں یہ بھی۔ ___ مراد نے ایمان کی طرف دیکھے ہوئے کہا وہ اب اٹھ کر بیٹھ گئی مراد کی آواز سن کر۔
یہ سب بہانے ہیں کام نہ کرنے کے۔___ ساجدہ نے کہا۔
صفیہ ۔۔ عافیہ.. ___ مراد نے آواز لگائی تو وہ دونوں کسی جن کی طرح برآمد ہوئیں اپنے کمرے سے ۔
جی بھائی۔___ عافیہ نے کہا۔
جاؤ کام کرو ۔۔۔ ان کی طبیعت صحیح نہیں ہے۔___ مراد نے کہا۔
وہ دونوں بنا بحث کیے کام پر لگ گئیں۔۔ کوئی اور کہتا تو غصّہ کرتیں۔ لیکن مراد پر اُنہیں غصّہ نہیں آتا تھا۔
صفیہ روٹیاں پکانے لگی۔اور عافیہ لسی بنانے لگی۔
دیکھ رہا ہوں۔۔۔ بہت کام چور ہو گئی ہو تم دونوں۔____ مراد نے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
بھائی آپ کے کام کے لیے ہم ہر وقت حاضر ہیں۔___ صفیہ نے کہا۔
ویسے بھائی آپ کو جب شہر میں نوکری ملے گی نہ تو وہاں جب گھر ملے گا نہ تو ہم بھی وہاں آئینگے ۔۔۔ آپ کے ساتھ رہیں گے۔___ عافیہ اسکے ساتھ بیٹھ گئی۔اُسکی ہاتھ میں لسي تھی اور اب وہ پراٹھے پر مراد کو مکھن ڈال کر دے رہی تھی ۔
عافیہ کیا بھائی کو بس لسی ہی دوگی؟ کچھ پکا کر بھی دو۔اندا یاں آلو۔___ صفیہ نے روٹی ڈالتے ہوئے کہا۔
بھائی بتائیں ساتھ کیا لینگے۔۔۔___ عافیہ نے پوچھا۔
نہیں بس صحیح ہے۔ یہی کھا لونگا۔___ مراد نے کھانا شروع کیا۔
بھائی میرا موبائل خراب ہو گیا ہے۔مجھے نیا لا دیں___ عافیہ نے کہا۔
کل آجائیگا تمہارا نیا موبائل۔۔۔ خوش؟___ مراد نے کہا تو عافیہ نے خوشی سے بچوں کی طرح سر ہلایا۔
بھائی۔۔۔ مجھے بھی۔__ صفیہ ناراضگی سے بولی۔
اچھا اچھا مادام تمہارا بھی آجائیگا۔___ مراد نے کہا۔
لوجی ادھر بات نکلی نہیں ادھر پوری کر دی مراد نے۔___ صادق احمد ( شاہ میر کے والد) نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔
ابا آپ کا بیٹا تو ہمارا خیال رکھتا ہی نہیں۔ اگر مراد بھائی نہ ہوتے تو ہم دونوں بہنوں کو کوئی پانی تک نہ پوچھتا یہاں۔__ عافیہ نے کہا۔
شاہ میر کو کچھ مت کہو۔ ایک بیٹا جان سے گیا ہے میرا ۔۔۔ اب شاہ میر کے بارے میں کچھ نہ کہو۔ میری جان ہے اس میں۔___ صادق احمد نے بیٹھتے ہوئے کہا۔
ہاں لیکن ہمیں تو مراد بھائی پیارے ہیں۔___ صفیہ نے جتایا۔
اچھا اچھا کھانا دو مجھے جلدی کام سے جانا ہے۔___ صادق احمد میں روکھے انداز میں کہا۔مراد جانتا تھا وہ شاہ میر کی برائی نہیں سن سکتے تھے۔ اور مراد کو کوئی شاہ میر پر فوقیت دے اُن سے یہ برداشت نہیں ہوتا تھا۔
عافیہ بھابھی کو کھانا دے آؤ۔اُن کی صحت صحیح نہیں ہے۔___ مراد نے کہا۔
عافیہ اس کے لیے کھانا لیکے اندر گئی۔
مراد بھائی کا حکم نہیں ٹالتی۔ ورنہ تمہیں دیکھنے کو بھی دل نہیں کرتا میرا۔میرے بھائی کے قاتل کی بہن۔۔۔___ عافیہ کھانا اسکے سامنے پٹخ کر چلی گئی۔
ایمان کو رات والی بات یاد آئی۔
مجھے معذرت کرنی چاہیے اُن سے کل رات کے لیے۔میں نے شاہ میر کا غصّہ اُن پر نکالا۔وہ تو اچھے انسان ہیں سب کا خیال رکھتے ہیں۔۔۔ میرا بھی۔۔___ ایمان نے کہہ کر کھانا شروع کیا۔
_______________
رات جب ہو کا عالم ہوا تو شاہ میر نے ایمان کے کمرے کا دروازہ بجایا۔ایمان سمجھ گئی کہ شاہ میر اسے لینے آیا ہے۔اب انکار کا مطلب تھا بیدخلی۔۔ وہ بھاری قدموں کے ساتھ اٹھی اور دروازے کی کنڈی کھولی سامنے شاہ میر کھڑا تھا۔
شرافت سے کمرے میں آؤ۔__ شاہ میر حکم صادر کرتا ہوا اپنے کمرے میں جا چکا تھا۔ایمان سوچتی رہ گئی ۔۔ شاہ میر اس کی نظروں میں گر چکا تھا۔اس کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا جانے کو۔پھر بھی وہ اس کے کمرے میں آئی۔
شاہ میر نے اسے دیکھا اور اس کے قریب آیا۔
اس کے چہرے کو تکنے لگا۔
کس بات کا غرور ہے تمہیں؟___ وہ سینے پر ہاتھ باندھ کر بولا
ایمان نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
ایسے مت دیکھو مجھے۔میرے لیے لڑکیوں کی کمی نہیں ہے۔مگر تم میرے نکاح میں ہو۔اور اپنا حق لینا شاہ میر اچھے طریقے سے جانتا ہے۔___ شاہ میر نے کہہ کر دروازہ بند کیا۔
_______________
کیا؟ تم نے اس سے معافی مانگی؟ بس یہی مردانگی تھی تمہاری؟ ایک ونی میں آئی ہوئی لڑکی کے آگے جھک گیا؟___ قاسم نے غصے سے کہا۔
ہاں تو غلطی ہوئی تھی مجھ سے ۔۔۔ معافی لی۔___ شاہ میر نے نظریں چرا کر کہا۔
واہ سائیں واہ ۔۔۔ تو ہمارا دوست کہلانے کے قابل نہیں ہے۔___ حامد بولا۔
لیکن۔۔ ___ شاہ میر نے کچھ کہنا چاہا
لیکِن تو ایک عورت کے ہاتھوں الو بن گیا۔۔۔ اب جا جاکر پیر دھو اسکے۔ہمارے پاس کیا لینے آیا ہے؟ بزدل کہیں کا۔___ وزیر نے کہا۔
شاہ میر کو غصّہ آگیا۔
کیا تم لوگ اپنی بیویوں سے معافی نہیں مانگتے؟___ شاہ میر بولا۔
ہماری بیویوں کی برابری اپنی بیوی سے نہ کر۔۔۔ ہماری بیویاں خاندانی ہیں۔۔۔ ونی میں نہیں آئی ہیں۔ قتل کی بہن نہیں ہیں۔ ___ قاسم نے کہا۔
ہاں تیری بیوی تو خون بہا کے عوض آئی ہے۔۔۔ میرے ساتھ ایسا ہوتا تو اپنی گردن کٹا لیتا لیکن اپنی بہن نہیں دیتا اپنی جان بچانے کے لیے۔___ حامد نے کہا۔
وہ سب اسے اشتعال دلا رہے تھے۔۔۔ شاہ میر وہاں سے اٹھ کر گھر آگیا۔
ایمان برآمدے میں بیٹھی سوچوں میں گم تھی۔ آیا تو وہ غصے سے تھا لیکن ایمان کا چہرہ دیکھ کر نرم پڑ گیا۔
کمرے میں آؤ۔۔___ شاہ میر نے کہا تو وہ اس کے پیچھے آئی۔
بیٹھو۔___ اس نے کہا۔ایمان بیٹھ گئی۔
موبائل چائیے؟___ شاہ میر نے کہا۔
ایمان نے نفی میں سر ہلا یا۔
میں نے توڑا تھا نا۔۔۔ اب میں ہی لاکے دونگا۔___ شاہ میر نے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے کہا۔
مجھے نہیں چاہیے۔___ وہ بولی۔
اب چھوڑ بھی دو ناراضگی۔___ شاہ میں نے اس کے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے کہا۔
میں ناراض نہیں ہوں___ وہ بولی۔
تم مجھے اچھی لگتی ہو۔تم بہت حسین ہو ___ شاہ میر نے محبت بھری نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا۔ایمان کچھ نہ بولی۔
کل نیا موبائل لے آؤں گا۔___ وہ بولا۔
ایمان چپ رہی
اور کچھ چاہیے؟___ شاہ میر نے پوچھا۔
نہیں۔۔ وہ بولی۔
کپڑے؟ __ شاہ میر نے کہا۔
نہیں ۔۔۔ ہیں میرے پاس ۔۔___ ایمان نے کہا۔
مجھ سے محبت کرتی ہو؟___ شاہ میر نے اچانک سوال کیا۔اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
محبت؟___ ایمان سوچ میں پڑ گئی
