Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 13)

Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina

بلآخر صادق احمد کو مراد کی ضد کے آگے ہار ماننی پڑی۔کوئی اور ہوتا تو وہ ان سے جھگڑا کرتے۔لیکن وہ ان کے مرحوم بھائی کا بیٹا تھا اور ان کی ایک ہی نشانی تھا۔اور انہیں عزیز بھی تھا۔وہ چپ چاپ وہاں سے واپس چلے گئے۔

کیا بھائی ہمیں تو آپ کی شادی کی بہت ارمان تھے۔۔۔ہم نے سوچا تھا ایسی بھابی لائیں گے ایسے کپڑے پہنیں گے۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔ لیکن آپ نے تو اس ایمان سے ہی نکاح کرلیا۔۔۔ ہمیں تو وہ اچھی نہیں لگتی۔___ اب کی بار عافیہ اور صفیہ دونوں اس کے پاس آئی اور شکوہ کرنے لگیں۔

اگر تم اسے میری نظر سے دیکھو تو تمہیں اچھی لگے گی۔اور کپڑے میں تم لوگوں کو بہت اچھے اچھے لاکر دوں گا۔۔شہر میں ولیمہ کروں گا اپنا انشاءاللہ اور تم لوگوں کو وہاں لے کر جاؤں گا۔وہاں پر اپنے سارے ارمان پورے کر لینا۔___ مراد نے ان دونوں سے کہا۔

وہ تو صحیح ہے لیکن ہمیں بھابھی نہیں پسند۔۔___ عافیہ بولی۔۔

میں نے کہا نا اسے میری نظر سے دیکھو۔تمہیں پسند آ جائے گی۔___ مراد نے کہا۔

اب ہمارے پاس تو اپنی ہی نظریں ہیں اور ہم انہیں آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں اب آپ کی نظر سے کیسے دیکھیں بات سمجھ نہیں آئی۔___ صفیہ نے کہا۔

چلو اب دونوں میرا دماغ مت کھاؤ سونے جاؤ جا کر۔__ مراد نے کہا تو وہ دونوں اپنے کمروں میں گھس گئیں۔

مراد اٹھا اور ایمان کے کمرے میں آیا۔وہ وہاں حواس باختہ بیٹھی ہوئی تھی۔مراد کو دیکھ کر وہ ٹھیک سے بیٹھ گئی۔

مراد نے دروازہ بند کیا اور اس کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔

کل صبح آپ میرے ساتھ شہر چل رہی ہیں۔اپنی پیکنگ کر لیں آج بی۔ میری جاب لگی ہے اور آپ وہاں میرے ساتھ رہیں گی۔___ مراد نے کہا تو ایمان ایک دم سے چارپائی سے اتری اور اس کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی۔

میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں مجھے آزاد کر دیں۔ورنہ شاہ میر پتا نہیں کیا کر لیں۔___ ایمان نے کہا اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑا۔

مراد میں سینے پر ہاتھ باندھے اور اسے دیکھتا رہا پھر اس کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔

میں ایسا کرکے آپ کو دو ٹکے کا نہیں کرنا چاہتا۔۔___ مراد نے کہا۔

آپ خواہ مخواہ مجھے اہمیت دے رہے ہیں میری ذات کی کوئی اہمیت نہیں ہے میں ونی میں آئی تھی میں صرف کام کے لئے بنی ہوں میں ایک غلام ہوں باندی ہوں اور اس سے زیادہ میری کوئی حیثیت نہیں ہے۔___ ایمان اب چارپائی کے کنارے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔

مراد حیرت سے اسے دیکھتا جا رہا تھا۔

میں نے کہا نہ آپ اپنا سامان باندھ لیں۔صبح ہوتے ہی ہم دونوں یہاں سے چلے جائیں گے۔___ مراد نے کہا۔

آپ کو جانا ہے تو چلے جائیں لیکن مجھے کہیں نہیں جانا____ ایمان نے کہا اس کا سر جھکا ہوا تھا۔

میں آپ کو اس طرح سے اب اس گھر میں چھوڑ کر نہیں جا سکتا مجھے کسی پر بھی بھروسہ نہیں رہا اب خاص کر شاہ میر پر۔ میں آپ کو اس کے ساتھ اس گھر میں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔___ مراد نے اس بار سختی سے کہا۔

ایمان سوچ میں پڑ گئی۔

میں نے کبھی بھی آپ کے بارے میں نہیں سوچا اس طرح سے۔میرے دل میں ہمیشہ سے شاہ میر تھے۔میرے لئے بہت مشکل ہے ان کے علاوہ کسی اور کا سوچنا۔___ ایمان نے چہرہ دوسری طرف پھیر کر کہا۔

اب کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔ ___ مراد کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔

________________

بے وقوف لڑکی کیوں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہی ہو؟جب کہ قسمت میں تمہیں اتنا اچھا موقع دیا. چلی جاؤ مراد کے ساتھ۔۔۔ ساجدہ نے صرف تم سے کام کروانے کے لیے یہ سب کیا ہے۔تاکہ وہ تمہیں ساری زندگی نوکرانی بنا کر رکھ سکے وہ بھی مفت کی۔کیونکہ اس نے دیکھ لیا تھا کہ تم شاہ میر کے دل سے اتر چکی ہو۔تم جاؤ گی تو ان کو لگ پتا جائے گا جب سارا کام کرنا پڑ جائے گا ماں بیٹیوں کو۔۔۔___ سکینہ نے سمجھایا۔

پر شاہ میر؟ ___ ایمان نے کہا۔

بھول جاؤ شاہ میر کو۔ذلت اور رسوائی کے سوا اس نے تمہیں دیا ہی کیا ہے۔۔___ سکینہ نے اس کا برین واش کیا۔لیکن پھر بھی اس کا ذہن مراد کو قبول نہیں کر پا رہا تھا۔اور ناہی تو یہاں سے جانا چاہتی تھی۔اسے بس یہی خوف تھا کہ شاہ میر پیچھے کوئی ہنگامہ کرے گا۔اس کے دل میں شاہ میر کا خوف اس قدر بیٹھ چکا تھا کہ وہ اس سے آگے کچھ سوچ ہی نہیں پا رہی تھی۔

__________________

بس اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔ایمان مراد کے ساتھ شہر جا رہی تھی۔او کس دل سے تیار ہوئی تھی وہ نہیں جانتی تھی۔مراد نے ضد کی کہ اسے آنا ہی پڑا۔سکینہ نے بھی اسے بہت سمجھایا۔لیکن وہی ایک خوف اس کے دل میں تھا۔اور اسے شاہ میر کا خیال آ رہا تھا۔وہی شاہ میر کے غصے سے ڈر لگ رہا تھا۔اس کے دل میں شاہ میر کا اتنا خوف بیٹھا چکا تھا کہ اسے یہ بھی ہوش نہیں تھا کہ اب شاہ میر کا اس سے کوئی رشتہ نہیں۔

کچھ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں بنا کسی حق اور باطل اکیاسی رشتے کے ہمارے سروں پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ان کا خوف ہمیں جینے نہیں دیتا ہے۔ان کا خوف ہمیں خوشیاں محسوس کرنے نہیں دیتا ہے۔ان کا خوف ہمیں آزادی تک محسوس کرنے نہیں دیتا۔اور ایسے لوگوں کو ہم خود ہی سر چڑھا لیتے ہیں۔

ایک ایسا شخص جس نے ہر پل کی تذلیل کی۔ایک ایسا شخص جس نے دوستوں کے بیچ میں اس کے راز فاش کئے۔ایک ایسا شخص جس نے مطلب کے لئے محبت دکھائی۔ ایک ایسا شخص جس نے الزام لگایا۔۔۔ جس نے شک کی بنیاد پر اسے صفائی کا موقع دیے بغیر ہی رشتا توڑ دیا۔ایمان کے ذہن میں آج بھی وہی شخص سوار تھا ۔۔۔ وہ اپنے مہربان شوہر کے پہلو میں بیٹھی اس شخص کا سوچ رہی تھی۔۔۔

گاؤں سے شہر تک یہ آٹھ گھنٹے کا سفر بھی اختتام پذیر ہوا۔وہ دونوں بس سے اترے اور مراد نے رکشے والے کو اشارہ کیا۔اپنا سامان اس میں ڈالا۔ایمان کو بٹھایا اور خود بھی بیٹھ گیا۔شام ہونے والی تھی۔

رکشا ایک بلڈنگ کے قریب آ کر رکا۔وہ دونوں رکشے سے اترے۔وہاں پر ایک شخص مراد کے انتظار میں کھڑا تھا۔

یہ لو اپنے فلیٹ کی چابی۔___ اس شخص نے چابی مراد کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔اور آدھا سامان اٹھایا۔آدھا مراد نے اٹھایا۔

بلڈنگ میں تیسری منزل پر موجود ہوں ایک فلیٹ میں داخل ہوئے۔یہ دو کمروں کا ایک نیا فلیٹ تھا۔جس کی دیواروں سے رنگ کی بو آرہی تھی۔سفید رنگ شدہ دیواریں چمک رہی تھیں۔ چھوٹے سے لاؤنچ کے ساتھ اوپن کچن نظر آ رہا تھا۔ اور ایک پتلی سی گلی جیسی جگہ تھی۔آگے دو دروازے دکھائی دے رہے تھے وہ یقینا کمروں کے تھے۔

ضرورت کا جو سامان تم نے لکھ کر دیا تھا وہ میں نے لے کر رکھ دیا ہے جو رہ گیا ہے وہ تم خود لانا اب میں چلتا ہوں۔___ وہ شخص یقیناً میرا دوست تھا۔جس نے مراد کے کہنے پر پہلے سارا انتظام کر رکھا تھا۔اس کا نام جنید تھا۔

کوئی کام ہوا تو فون کر لینا میرا فلیٹ یا سامنے ہی ہے۔___ جنید نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔

ایمان جلدی سے ایک کمرے میں گھس گئی۔اس سے مراد سے الجھن ہو رہی تھی۔وہاں پر خالی کمرے میں ماربل پر ہی بیٹھ گئی اور سوچنے لگی۔

ارے آپ نیچے کیوں بیٹھی ہیں؟___ مراد نے کہا اور لاؤنچ میں موجود فوم کمرے میں لئے آیا۔

اس پر آرام کریں آپ تھک گئی ہونگی۔___ مراد کہہ کر باہر آیا۔وہ سمجھ گیا تھا کہ ایمان اس سے کترا رہی ہے۔

اس نے دوسرا فوم اٹھایا اور دوسرے کمرے میں ڈال دیا۔لاؤنج نے سامان جو رکھا ہوا تھا وہ بے ترتیب تھا۔یہ تو اب صبح ہی جاکر سیٹ ہونا تھا۔

مراد دوسرے کمرے میں لیٹ گیا وہ بہت تھکا ہوا۔پھر اسی کا خیال آیا کہ ایمان کو چائے کی طلب ہوگی۔اسے خود بھی طلب ہو رہی تھی سفر کی وجہ سے۔اور سوچ ہی رہا تھا کہ ڈور بیل بجی۔

مجھے لگا تمہیں چائے کی ضرورت ہے اس وقت۔___ جنید چائے لیکر حاضر ہوگیا۔

واقعی بہت ضرورت تھی۔___ مراد نے تھرماس اس سے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا۔۔۔

یہ پیسے لو اور نیچے ہوٹل سے کھانا بھی کے آؤ۔___ مراد نے اسے پیسے دیئے۔

نہیں آج تم میرے مہمان ہو۔میری بیوی نے کھانا تیار کر لیا ہے۔تم چائے پیو جب تک میں کھانا لے آؤں گا۔___ جنید نے کہا۔

مراد چائے کپ میں بھر کر ایمان کے پاس آیا۔اور اسے چائے پیش کی۔اس نے دیکھا ایمان کا موڈ خراب ہے۔

میرا غصّہ چائے پر مت اتاریں۔___ مراد نے چائے اس کے سامنے رکھی اور دوسرے کمرے میں آگیا۔

ایمان نے چائے کو دیکھا اسے طلب بہت تھی۔وہ چائے اٹھا کر پینے لگی۔

__________________

دو دن گھر سے باہر گزارنے کے بعد تیسرے دن شاہ میر گھر آیا تو دیکھا کہ ایمان اور مراد دونوں شہر جا چکے ہیں۔

اماں میری شادی کرواؤ جلدی۔ میں بھی بتا دوں گا مراد کو کہ وہ آخری لڑکی نہیں تھی۔اس سے ابھی لڑکی سے شادی کرواؤ میری۔___ شاہ میر نے ساجدہ سے کہا۔

ہاں بہت اچھی لڑکیاں دیکھ رکھی ہیں میں نے۔___ ساجدہ نے بےبسی سے کہا۔

لڑکی میں نے دیکھ لی ہے آپ بس رشتا لے کر جائیں اس کے گھر۔___ شاہ میر نے کہا تو ساجدہ کا دل ڈوب گیا۔جس کا ڈر تھا وہی ہوا۔

کون سی لڑکی؟___ ساجدہ نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔

چاچا ظہور کی بیٹی نور۔ ___ شاہ میر نے کہا تو ساجدہ غصے سے کھڑی ہو گئی۔

میں ہرگز اس شیطان لڑکی سے تمہاری شادی نہیں کروں گی۔___ ساجدہ بولی۔

اور میں ہر حال اس سے شادی کر کے رہوں گا۔میں میں اس سے شادی کا وعدہ کیا ہے۔___ شاہ میر نے کہا۔

وہ انتہائی بدتمیز لڑکی ہے۔اچھی شکل سے دھوکا مت کھاؤ۔تم سے پہلے نہ جانے کتنے لڑکوں کے ساتھ چکر چلا جا چکی ہے وہ۔___ ساجدہ نے کہا۔

بس کر سے اماں۔۔۔ ایمان سے بھی تو نے ایسے ہی بدگماں کیا تھا مجھے۔تیری وجہ سے آج یہ دن دیکھنا پڑا ہے مجھے۔___ شاہ میر نے غصے سے کہا۔

ایمان سے بد گمان میں نے نہیں اس نور نے کیا تھا تمہیں۔اسی لڑکی کی وجہ سے تم نے ایمان کو چھوڑ دیا تھا۔اسی کے چکر میں پڑ کر اپنا گھر خود خراب کیا تم نے۔___ ساجدہ نے کہا۔

میں کچھ نہیں سنوں گا کہیں میرا رشتہ لے کر جاؤ نور کے گھر۔ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔___ شاہ میر کہتا ہوا نکل گیا۔ساجدہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔

____________

مراد نے سارا گھر سیٹ کر دیا تھا۔لیکن ایمان اس سے بات نہیں کرتی تھی۔وہ بس وقت پر کھانا بناتی تھی باقی کام کرتی تھی اور اپنے کمرے میں گھس جاتی تھی۔دونوں الگ الگ کمروں میں رہ رہے تھے۔

ایک دن مراد اس کے لئے بہت سارے ریڈی میڈ جوڑے اور جوتے لے کر آیا۔وہ جانتا تھا کہ ایمان اس کے ساتھ شاپنگ پر نہیں چلے گی۔لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ان چیزوں کی اسے ضرورت ہے۔

مجھے نہیں چاہئے کچھ۔___ ایمان نے چہرہ دوسری طرف کرتے ہوئے کہا تو مراد مُسکرا دیا اور اس کے قریب آکر بیٹھ گیا۔

آپ ناراضگی میں بھی بہت پیاری لگتی ہیں۔___ مراد نے کہا۔

مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا۔___ وہ تھوڑا دور ہو کر بولی۔

مگر مجھے آپ کے ساتھ ہی رہنا ہے۔___ مراد پھر قریب ہوا۔

آپ جائیں یہاں سے۔۔۔ ___ ایمان نے پریشانی سے کہا۔

اچھا اچھا جاتا ہوں۔میرے جانے کے بعد شاید آپ ان چیزوں پر نظر ڈال لیں… مراد نے کہا۔اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔

ایمان نے کپڑوں کی طرف دیکھا۔پھر ایک ایک کر کے انہیں کھول کر دیکھا۔پہلی بار کوئی اتنے چاہ سے اس کے لیے کچھ لایا تھا۔ایک عجیب سا احساس اسے ہونے کہا۔

_____________

آدھی رات کو مراد اٹھا ۔۔ اس کے قدم ایمان کے کمرے کی جانب بڑھنے لگے۔اس نے ہولے سے دروازے کا ہینڈل گھمایا اور دروازہ کھولا۔ ایمان کمرے میں نیم اندھیرا کیے سو رہی تھی۔کمرے میں نارنجی رنگ کا زیرو بم بلب جل رہا تھا۔مراد آہستہ سے چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور پاس بیٹھ کر اس کہ چہرہ دیکھنے لگا۔

ایمان سو رہی تھی اس کے چہرے پر اطمینان واضح دکھائی دے رہا تھا۔مراد اسے دیکھے گیا۔

انمول لڑکی۔۔۔ دنیا نے تمہیں کتنا بے مول کر دیا تھا۔۔۔ مگر میں ایسا ہونے نہیں دونگا۔___ مراد نے اس کے قریب ہو کر سرگوشی کی۔پھر اس کے چہرے سے ایک لٹ ہٹائی تو اس کی آنکھ کھل گئی۔مراد کو قریب دیکھ کر وہ جیسے اچھل پڑی۔

آ ۔۔ آپ ۔۔ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں اس وقت۔؟؟__ ایمان ایک دم سے اٹھ بیٹھی۔

اپنی بیوی کو دیکھ رہا ہوں۔۔۔ آپ کو کوئی پرابلم؟ ___ مراد نے ابرو اچکا کر کہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *