Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina NovelR50528 Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 04)
Rate this Novel
Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 04)
Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina
شاہ میر نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ نیچے گرا دیا۔
یہ خون بہا میں آئی ہے۔___ شاہ میر نے بتایا۔
ہاں پتہ چل گیا تھا مجھے تمہارے اس کارنامے کا۔کہ تم سب نے ایک لڑکی کو فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھا دیا۔اور اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ بے قصور پر ہاتھ بھی اٹھانے لگے ہو تم۔___ اس لڑکے نے کہا تو ایمان حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
اس کی غلطی تھی میرے مہمان آئے ہوئے تھے۔میں نے اس سے کہا بھی تھا اچھی سی چائے بنانا لیکن اس نے چائے میں چینی کی جگہ نمک ڈال دیا میری کتنی تذلیل ہوئی تو اندازہ نہیں کر سکتے ہو مراد۔___ شاہ میر نے کہا۔
پھر بھی اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم عورت ذات پر ہاتھ اٹھاؤ۔ہماری ایسی تربیت تو نہیں کی تھی ہمارے بڑوں نے۔___ مراد اسے شرمندہ کئے جا رہا تھا۔
یہ ہم میاں بیوی کے آپس کا معاملہ ہے تم بیچ ناہی بولو تو اچھا ہے۔___ شاہ میر کو کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا تو اس نے کہا۔
ٹھیک ہے آپ دونوں کے معاملات آپ ہی جانیں۔میں بہت تھکا ہوا ہوں آرام کرنے جا رہا ہوں لمبا سفر کر کے آیا ہوں۔___ مراد نے ایک نظر ایمان پر ڈالی اور اندر کمرے میں چلا گیا۔
شاہ میر نے ایمان کی طرف دیکھا اور غصے سے باہر نکل گیا۔ایمان حیران تھی کہ یہ شخص کون ہے اس نے پہلے کبھی اسے اس گھر میں نہیں دیکھا تھا۔
مراد اپنے کمرے میں چلا گیا اور سو گیا دوپہر کا وقت تھا۔شام کو ایمان چائے بنا رہی تھی کہ اسے مراد کمرے سے نکلتا دکھائی دیا۔وہ نلکے کے پاس گیا اور منہ دھونے لگا۔پھر باری باری گھر کے تمام افراد چائے پینے کے لئے وہاں پر جمع ہوگئے۔
گاؤں میں شام کی چائے جلدی ہی بن جاتی تھی۔پھر اس کے بعد جلدی سے رات کے کھانے کی تیاری شروع ہو جاتی تھی۔شاہ میر بھی آگیا۔
ارے بیٹا مراد تم کب آئے میں نے تو تمہیں دیکھا ہی نہیں۔؟___ سکینہ نے مراد کو دیکھ کر پوچھا وہ اب چائے پینے کے لئے چارپائی پر بیٹھ چکا تھا۔
دوپہر کو آیا تھا چاچی پھر سو گیا۔ابھی جاگا ہوں۔___ مراد نے بتایا۔
ایمان چائے بناتے ہوئے سن رہی تھی۔کسی سے پوچھنے کی ہمت تو اسے نہیں تھی کہ یہ شخص کون تھا۔ان کی باتوں سے ہی وہ اندازہ لگا سکتی تھی کہ وہ کون ہے۔
اچھا چلو اچھی بات ہے۔چھٹیاں ہیں کیا تمہاری؟ سکینہ نے پوچھا۔
بس چاچی ڈگری لے کر آیا ہوں۔اب نوکری کے لئے باگ دوڑ شروع کردوں۔___ مراد نے کہا۔
شاہ میر کو بھی سمجھاؤ کہ نوکری کرے۔دن رات اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ ہوتا ہے۔وہ سب خود تو کسی کام کے نہیں ہے اس کو بھی بگاڑ دیا۔____ شاہ میر کی ماں ساجدہ نے کہا۔تو شاہ میر نے غصے سے اپنی ماں کو دیکھا۔
اماں گھر میں بیٹھنے دو گی یا نہیں؟جب بھی آتا ہوں میرے دوستوں کی برائی شروع کر دیتی ہو.اور میری اچھی خاصی زمینیں ہیں ان سے آمدنی آجاتی ہے مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے نوکری کرنے کی.___ شاہ میر نے مراد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
میری طرف ایسے مت دیکھو میں نے کچھ نہیں کہا۔تمہاری مرضی نوکری کرو یا زمینداری کرو۔____ مراد نے شاہ میر سے کہا۔
چائے تیار ہو گئی تھی۔صفیہ اٹھی اور پیالیوں میں چائے بھر کے سب کو پیش کرنے لگی۔
پہلے ایمان کو لگا کے مراد شاید سکینہ چاچی کا بیٹا ہے۔لیکن جب اس نے سکینہ کو چاچی کے کر پکارا تو اس کی غلط فہمی دور ہو گئی۔وہ سکینہ اور ساجدہ دونوں کو چاچی کے کر بلا رہا تھا۔
سکینہ بیوہ تھی۔اُسکا ایک بیٹا تھا ضمیر۔ ساجدہ کے تین بیٹے تھے۔ شاہ میر، فرید اور رشید۔ منجھلا بیٹا فرید جو کے اٹھارہ سال کا تھا۔ کرکٹ کھیلتے ہوئے لڑکوں کے ساتھ لڑائی ہوئی۔اس کھیل میں ایمان کا بھائی حیدر بھی شامل تھا۔ایمان کا بھائی بیس سال کا تھا۔ لڑکوں میں ہاتھا پائی شروع ہوئی۔ سب نے ڈنڈے اٹھائے اور ایک دوسرے کو مارنا شروع کر دیا۔حیدر نے زور سے ڈنڈا فرید کے سر پر مارا جس پر وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔اور جرگے کے فیصلے کے مطابق حیدر کی بہن خون بہا میں آگئی۔یہ معاملہ تو سال تک چلتا رہا پھر یہی خون بہا والا فیصلہ ہوا۔
شاہ میر اور مراد ہم عمر تھے دونوں پچیس سال کے تھے۔دونوں چچازاد تھے۔مراد کے والدین فوت ہو چکی تھے۔اس کی بات تو اسے جنم دیتے ہی چلی گئی۔پھر اس کے والد بھی موذی مرض کی وجہ سے وفات پا گئے۔
یہ سب لوگ مل کر اسی گھر میں رہتے تھے۔
مراد زندگی میں آگے بڑھنا چاہتا تھا وہ سمجھ دار تھا۔مگر شاہ میرے دوستوں کی باتوں میں آکر ناکارہ گھر پر بیٹھا ہوا تھا۔اس کے دوستوں سے پیسہ نکالتے تھے اسے خوب لوٹتے تھے کھاتے پیتے تھے اس کے پیسے سے۔شاہ میر کی آنکھوں میں دوستوں کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔
تھوڑی ہی دیر میں ایمان کو سمجھا گیا تھا کہ شاہ میر اور مراد چچازاد ہیں۔مراد شہر میں پڑھتا تھا اور اب ڈگری لے کر واپس آیا ہے۔اور آگے نوکری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
لڑکی اب چائے کی جان چھوڑو اور رات کے کھانے کا سامان جمع کرو۔___ ساجدہ نے اسے اپنے خیالوں میں گم دیکھا تو کہا۔
ایمان اٹھی اور آٹا گوندھنے کے لیے سامان اکٹھا کیا۔پہلے وہ آٹا گوندھ کر رکھ دیتی تھی پھر لکڑیاں لا کر رکھ دی تھیں پھر سالن کی تیاری کر تیزی سالن بنانے کے بعد وہ روٹیاں پکاتی تھی۔
یہ سب کرتے ہوئے وہ اتنا تھک جاتی تھی کہ اس میں مزید کوئی اور کام کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی تھی۔لیکن یا اس کا کوئی غمگسار نہیں تھا کوئی اس کا خیال رکھنے والا نہیں تھا نہ ہی تو میک سے کوئی امید تھی اس لئے وہ اب چپ چاپ گھر کا سارا کام کرتی تھی۔جس کی وجہ سے وہ دن بدن کمزور ہوتی جا رہی تھی۔
کام وہ اپنے باپ کے گھر میں بھی خوب کر دی تھی اس کی سوتیلی ماں سے بہت کام کرواتی تھی۔لیکن وہاں پھر بھی تھوڑا بہت وقت آرام کرو مل جاتا تھا لیکن یہاں تو بس کام ہی کام تھا اس کی جان ہلکان ہو گئی تھی مگر وہ کسی سے کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔تھوڑا بہت سکینہ اس پر ترس کھا لیا کرتی تھی اور اس کی مدد کر ا دیا کرتی تھی ہلکا پھلکا کاموں میں۔اگر سبزی بنانی ہو تو سکینہ سبزیاں کاٹ دیا کرتی تھیں اور ایمان جب تک آٹا گوندھتی تھی۔لیکن ساجدہ اور شامیر کے خوف سے سکینہ زیادہ اس کی مدد نہیں کر پاتی تھی۔
ساجدہ نے سختی سے کہا تو مراد نے ایمان کی طرف دیکھا۔وہ مرجھایا ہوا ایک پھول لگ رہی تھی۔ایمان نے ایک نظر مراد کو دیکھا۔اسی بہت شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔صبح جو کچھ بھی ہوا وہ اس کی وجہ سے شرمندہ تھی۔
مراد اٹھا اور نماز کیلئے وضو کرنے چلا گیا۔وضو کر کے وہ آیا تو اس کے بازوؤں اور چہرے سے پانی ٹپک رہا تھا۔وہ بہت ہی خوبصورت نوجوان تھا۔اس کی ہلکی سی داڑھی تھی جو سے مزید پر کشش بنا رہی تھی۔گالوں کی ہڈیاں ابھری ہوئی تھیں۔وہ باہر ٹانگیں تولیے سے ہاتھ منہ پونچنے لگا۔ وہ آستین فولڈ کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے اس کے بازو نمایاں تھے بے شک وہ مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا۔
وہ عصر کی نماز پڑھنے کے لئے مسجد کی طرف روانہ ہو گیا۔
________________
رات کے کھانے میں ساگ بنا جس کو کھانے کے بعد ایمان کی طبیعت خراب ہوگئی۔وہ معدے کی مریض تھیں ساگ اس کو سوٹ نہیں کرتی تھی۔
کھانا کھانے کے تھوڑی دیر بعد ہی اس نے الٹیاں شروع کر دیں۔سب نے دیکھا وہ بہت برے طریقے سے الٹیاں کر رہی تھی۔شاہ میر نے اسے دیکھا۔اس کا دل کیا وہ اس کی طبعیت پوچھے لیکن پھر اس کی انا آڑے آ گئی اور وہاں سے چلا گیا۔
کیا ہوا بیٹی طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری؟___ ساجدہ سے نظر بچا کر سکینہ نے پوچھا۔
نہیں چاچی ٹھیک نہیں لگ رہی ہے ساگ کھا لیا تھا شاید اس وجہ سے طبیعت بگڑ گئی۔___ اس نے بے حال ہو کر کہا اور چارپائی پر بیٹھ گئی۔
مراد سامنے ہی بیٹھا ہوا تھا۔وہ کمرے کے اندر گئے اور اپنے بیگ سے معدے کے درد کی ایک گولی نکالی۔پھر سکینہ کو کمرے میں بلایا۔
جو جئے گولی ان کو دے دیں۔ معدے کے درد کے لیے فائدہ مند ہے۔___ مراد کو ایمان پر ترس آگیا۔شاہ میر نے تو اسے پوچھا تک نہیں۔
بیٹا یہ گولی کھا لو مراد نے دی ہے وہ کہہ رہا ہے معدے کے درد کے لیے فائدے مند۔___ سکینہ نے اسے گولی دی تو اس نے کھا لی۔
سنو ایمان کہیں تم حاملہ تو نہیں ہو؟___ سکینہ نے آہستہ آواز میں پوچھا تو ایمان نے چونک کر ان کی طرف دیکھا اور نفی میں سر ہلایا۔اپنے کمرے میں چلی گئی اور نڈھال ہو کر چارپائی پر لیٹ گئی۔
______________
موسم نے کروٹ بدلی تھی اب موسم گرما کی آمد آمد تھی۔اس لیے شاہ میر اور اس کے دوست ڈیرے پر آگ نہیں جلاتے تھے اب۔بلکہ رات ہوتے ہی ٹھنڈی ہوا شروع ہو جاتی تھی ہلکی سی جو کے بھلی لگتی تھی۔
وہ سب چارپائیاں ڈال کر وہاں پر بیٹھے ہوتے تھے اور باتیں کرتے تھے مگر آج شامیر کچھ اداس سا تھا۔
کیا بات ہے شاہ میر؟ کن سوچوں میں گم بیٹھا ہوا ہے آج؟___ قاسم نے کہا۔
کچھ نہیں یار بس تیری بھابھی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔سوچ رہا ہوں اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ کل۔___ شاہ میر نے کہا۔
کیوں کیا ہوا بھابھی کو؟___ حامد نے پوچھا۔
پتا نہیں یار بہت الٹیاں کر رہی تھی۔بہت بے حال لگ رہی تھی۔___ شاہ میر واقعی تھوڑا پریشان ہوا۔
کیا ؟ الٹیاں؟ اس کا مطلب ہے تو باپ بننے والا ہے؟___ قاسم نے چونک کر کہا۔
نہیں یار ایسی کوئی بات نہیں۔__ شاہ میر بولا۔
لیکن الٹیاں تو ن شادی شدہ لڑکی تب ہی کرتی ہے جب وہ ماں بننے والی ہوتی ہے۔پھر اس کو چکر بھی آنے لگتے ہیں۔۔۔کہیں ہمارا شک صحیح تو نہیں ہے؟کہ تیری بیوی کا کسی اور کے ساتھ چکر…___ قاسم نے کہا تو شاہ میر غصے سے کھڑا ہوا۔
بس کر دو تم لوگ بہت برداشت کر لیا ہے میں نے بد تمیزی کی بھی کی کوئی حد ہوتی ہے۔جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہو اول فول۔ ذرا تمیز نہیں ہے تم لوگوں کو بات کرنے کی۔میں کیا بے غیرت ہوں جو تم لوگوں کی اتنی گھٹیا باتیں سنو؟___ شاہ میر دھاڑا۔
نہیں تو تو بے غیرت نہیں ہے بس ہم ہی بے غیرت ہیں۔پتہ نہیں کیسی لڑکی سے شادی کر لی ہے۔ لے جاؤ ڈاکٹر کے پاس سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔میں نے کہا تھا نہ کہ کسی اور کا گناہ تیرے سر پر تھونپ دیں گے اور وہی لگتا ہے ہوگیا ہے۔___ قاسم بھی غصے سے کھڑا ہو گیا۔
شاہ میر ۔۔۔ دیکھو اس میں غصہ کرنے والی کوئی بات نہیں ہے۔قاسم صحیح کہہ رہا۔تمہیں ایک بار تصدیق ضرور کرنی چاہیے یہ عزت کا معاملہ ہے۔اگر یہ بات سچ ہے تو تم اسے گھر سے نکال دو۔اور اگر یہ جھوٹ ہے تو پھر ہم تم سے معافی مانگ لیں گے۔لیکن سچائی کو جاننا بہت ضروری ہے۔____ حامد نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر آرام سے سمجھایا۔
شاہ میر تیزی سے وہاں سے نکل گیا اور گھر آیا۔
ایمان ۔۔۔ ایمان ۔۔۔ وہ اتنی زور سے چلا کہ تمام گھر والے جمع ہو گئے جیسے کوئی قیامت آ گئی ہو۔
مراد جو اوپر چارپائی پر لیٹا ہوا ہوا کھا رہا تھا وہ بھی چھت سے جھانک نے لگا۔۔۔
شاہ میر ایمان کے کمرے میں گیا ۔۔ ایمان بے حال ہو کر وہاں لیٹی ہوئی تھی۔گولی کھانے کی وجہ سے اس کی الٹیاں رک گئی تھیں۔
شاہ میر نے اسے ہاتھ سے کھینچ کر اٹھایا۔اور گھسیٹتا ہوا اسے باہر تک لایا۔
بدکردار لڑکی۔ مجھے بتاؤ تم کیوں الٹیاں کر رہی تھیں؟___ شاہ میر پوری قوّت سے چلایا ۔۔۔
