Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina NovelR50528 Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 11)
Rate this Novel
Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 11)
Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina
ایمان کو اپنے پیروں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔
کیا ہوا ہے چاچی آپ چیخ کیوں رہی تھیں؟___ مراد نے پوچھا۔
میں نے دیکھا کوئی آدمی دیوار پھلانگ کر آیا ہے۔___ ساجدہ نے بتایا۔
تم بتاؤ ایمان تم آدھی رات کو یہاں باہر کیا کر رہی تھیں؟__ شاہ میر نے غصے سے کہا۔
ابھی بھابھی کی تفتیش چھوڑو اور چور کو تلاش کرو۔__ مراد میں غصے سے کہا اور اندر سے پستول لے کر آیا۔شاہ میر نے بھی اپنا پستول اٹھایا اور گھر کے چاروں اطراف کی تلاشی دینے لگے۔
یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے۔___ مراد نے کہا۔
میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔___ ساجدہ بولی۔
کہیں تم نے تو کسی کو نہیں بلایا ایمان؟__ شاہ میر نے غصے سے پوچھا۔
یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ میں ایسا کیوں کروں گی میں تو پانی پینے آئی تھی۔___ ایمان نے ڈرتے ہوئے کہا۔
شاہ میر تمیز سے بات کرو ہمیشہ ہی گھٹیا باتیں کرتے ہو مجھے تمہاری یہ عادت بالکل بھی پسند نہیں ہے ذرا لحاظ نہیں ہے تم میں۔___ مراد نے غصے سے کہا۔
سوچنے والی بات ہے مراد ہے یہ کیوں آدھی رات کو باہر کھڑی تھی اور اسی وقت کیوں کوئی دیوار پھلانگ کر آیا وہ تو میں نے چیخ ماری تو وہ بھاگ گیا ہو سکتا ہے شاہ میر سچ کہہ رہا ہو۔___ ساجدہ بولی۔
مجھے پیاس لگی تھی میں بس پانی پینے آئی تھی۔اور میں کس کو بلاؤں گی میں نے تو آج تک گھر سے باہر قدم نہیں نکالا گاؤں میں کوئی مجھے جانتا بھی نہیں ہے ۔___ ایمان کہہ کر رونے لگی۔
اس گاؤں میں نہیں جانتا لیکن تمہارے اپنے گاؤں میں تو بہت سارے لڑکے تمہیں جانتے ہوں گے اور سکتا ہے وہاں سے کوئی آیا ہوں تم سے ملنے۔___ ساجدہ نے شاہ میر کے شک کو مزید ہوا دی۔
شاہ میر کا غصّہ مزید بڑھ گیا اور اس نے ایمان کو مارنا شروع کیا۔
مجھے ہمیشہ سے میرے دوست کہتے تھے کہ تمہاری بیوی بدکردار ہے لیکن میں نے ہمیشہ تمہاری طرفدار کی۔ اپنے دوستوں سے لڑتا رہا۔۔۔ اُن سے بات بند کی ان کے ساتھ بیٹھنا چھوڑ دیا۔ لیکن آج مجھے لگ رہا ہے کہ وہ صحیح کہہ رہے تھے تم واقعی بدکردار ہو۔___ شاہ میر اسے لاتوں سے مار رہا تھا۔
مراد نے آگے بڑھ کر شاہ میر کو قابو کیا۔
مراد نے شاہ میر کا جسم تو قابو کر لیا تھا لیکن اس کی زبان کو قابو نہیں کر سکا۔
ایمان میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔___ شاہ میر نے جب تیسری بار بولا تو ایمان سکتے میں چلی گئی۔
یہ کیا کر دیا شاہ میر تم نے؟ ___ ساجدہ نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے حیرانی سے کہا۔
شاہ میر اب نڈھال سا چارپائی پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا اور لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا۔
وہ کمرے میں چلا گیا اور دروازہ زور سے بند کیا۔
ایمان ابھی تک مٹی میں گری ہوئی تھی۔
مراد افسوس سے اس بیچاری کو دیکھ رہا تھا۔
ساجدہ کی بھی بولتی بند ہوگئی۔
عجیب سی خاموشی فضا میں پھیل گئی کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا بولے۔
سکینہ نے ایمان کو سہارا دے کر اٹھایا اور اسے اپنے کمرے میں لے گئی اور وہاں سلا دیا۔
________________
صبح ہوتے ہی خبر پھیل گئی کہ دو چور گاؤں میں آئے تھے اور دو بھینسیں چرا کر لے گئے۔گاؤں والوں کا کہنا تھا کہ وہ چور کافی گھروں میں گھومتے رہے بھینسوں کی تلاش میں۔بلآخر شکور احمد کے گھر سے بھینسیں چوری کر کے لے گئے۔
اس کا مطلب رات واقعی چور تھے ایمان بےقصور تھی۔__ سکینہ نے کہا۔
کمرے میں ساجدہ سکینہ مراد اور شاہ میر کی میٹینگ چل رہی تھی۔۔۔ رات ہونے والے واقعات کا صرف ان کو پتا تھا باقی گھر والوں کو بتانے سے ساجدہ نے سختی سے منع کیا تھا۔
سجدہ چاچی ساری غلطی آپ کی ہے آپ نے ہی شاہ میر کے شک کو ہوا دی۔
ونی میں آئی ہوئی لڑکی ہے واپس نہیں کر سکتے۔سارا گاؤں ہمارا مذاق اڑائے گا۔___ ساجدہ بولی۔
اور آپ بنا کسی جائز رشتے کے اسے شاہ میر کے ساتھ اس گھر میں بھی نہیں رکھ سکتے اب۔___ مراد نے کہا۔
شاہ میر کی حالت بری تھی وہ بس غصے سے کسی غیر مرئی نقطے کو دیکھے جارہا تھا۔اُسکی آنکھیں سرخ تھیں۔پچھتاوا ہی پچھتاوا تھا۔
مجھے ایک ترکیب آئی ہے۔___ ساجدہ نے سوچ کر بولا۔
کیا؟___ سکینہ بولی۔
ابھی یہ بات ہمارے درمیان ہے۔گھر کے باقی افراد کو بھی نہیں معلوم یہاں تک کہ عافیہ اور صفیہ کو بھی نہیں معلوم کہ کیا ہوا ہے۔ہم اس بات کو راز ہی رکھتے ہیں۔___ ساجدہ بولیں۔
لیکِن راز رکھنے سے کیا ہوگا۔رشتا تو ختم ہوگیا اُسکا اور شاہ میر کا۔___ سکینہ بولی۔
میں اس کا نکاح اپنے چھوٹے بیٹے رشید سے پڑھوا دونگی۔___ ساجدہ کا اتنا کہنا تھا کہ شاہ میر غصے سے اٹھا۔
خبردار اماں جو ایسی بات کی۔میں جان سے مار دونگا اس کو جس نے میری بیوی سے نکاح کا سوچا بھی۔___ شاہ میر نے سرخ آنکھوں کے ساتھ ساجدہ کو دیکھ کر کہا۔
وہ اب تمہاری بیوی نہیں ہے۔___ سکینہ بولی۔
شاہ میر میری پوری بات سن لو پھر غصّہ کرو۔ ہم اسے واپس نہیں بھیج سکتے اگر ایسا کریں گے تو بدنامی ہوگی۔اور بنا کسی جائز رشتے کے اسے یہاں نہیں رکھ سکتے۔ اب ایک یہی راستہ ہے کہ میں اُسکا نکاح رشید۔۔۔___ شاہ میر نے ساجدہ کی بات مکمل نہیں ہونے دی۔
اماں آگے ایک لفظ مت کہنا۔ میں اپنی بیوی اپنے چھوٹے بھائی کو دے دوں؟ جو ابھی صرف پندرہ سال کا ہے؟ کیا عزت رہ جائیگی میری میرے بھائی کی نظر میں؟ کوئی عقل ہے یاں نہیں؟ میں نہیں ہونے دوں گا ایسا کہ میری ہی آنکھوں کے سامنے ایمان میرے بھائی کی بیوی بن کر رہے۔___ شاہ میر پھر دھاڑا۔
میں نے کہا نہ میری بات مکمل ہونے دو۔۔۔___ ساجدہ اب کی بار چیخ کر بولی۔
میں اسے رشید کی بیوی نہیں بنا رہی۔صرف حلالہ کرنے کا کہہ رہی ہوں۔نکاح کے اگلے دِن ہی رشید سے کہیں گے کہ وہ اسے طلاق دے دے۔پھر دوبارہ اس کا نکاح تم سے۔۔۔____ ساجدہ بولی تو مراد غصے سے اٹھ کھڑا ہوا۔
حد ہی ہوگئی۔۔۔___ مراد کہتا ہوا باہر نکل گیا۔وہ مزید اُن کی بكواس نہیں سن سکتا تھا۔
ساجدہ نے مراد کو جاتے ہوئے دیکھا اور پھر اپنی بات جاری کی۔
دیکھو شاہ میر یہی ایک واحد راستہ ہے۔تم کچھ تو صبر کرو۔ورنہ تمہیں ایمان کو واپس بھیجنا ہوگا۔۔۔ اور سارا گاؤں لعنت ملامت کرے گا ہم پر۔کیا عزت رہ جائیگی؟ ___ ساجدہ نے سمجھایا۔
اب کی بار شاہ میر نے اُسکی بات پر کان دھرے۔
لیکِن عدت؟___ سکینہ بولی۔
عدت اسی گھر میں رازداری کے ساتھ اسے مکمل کرواتے ہیں۔کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی۔ اور ایمان کا منہ بھی ہم کی بند کروانا ہوگا۔عدت پوری ہونے کے بعد اس کا نکاح رشید سے کروا کر حلاله کرواتے ہیں۔___ ساجدہ بولی۔
اماں رشید سے نہیں۔۔۔ ضمیر سے۔۔۔ رشید بڑا ہوگا تو وہ اس بات کو یاد کریگا۔میں اس سے نظر نہیں ملا پاؤں گا۔وہ میرا چھوٹا بھائی ہے۔ضمیر بڑا ہے۔ اٹھارہ سال کا ہے۔سمجھدار ہے۔ اور میں اس کے آگے کم شرمندہ ہونگا بنسبت رشید کے۔___ شاہ میر نے اب آرام سے کہا۔
ہاں ضمیر بھی صحیح ہے۔بس ایک نکاح ہی تو کرنا ہے۔رشید نہ سہی ضمیر صحیح۔__ ساجدہ نے کہہ کر سکینہ کو دیکھا۔
سکینہ سوچ میں پڑ گئی۔اُسکا بیٹا بکرا بن رہا تھا۔لیکِن وہ چپ رہی۔ شاہ میر باہر چلا گیا۔اب وہ پرسکون تھا کہ اس مسئلے کا کوئی تو حل نکلا۔وہ اس بات کو اپنی غیرت کے خلاف سمجھ رہا تھا کہ اسکی بیوی کسی اور کے پاس چلی جائے۔
______________
ایمان رات سے بےسدھ کمرے میں پڑی ہوئی تھی۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اتنا سب کچھ ہو گیا ہے وہ تباہ و برباد ہو گئی ہے۔اس کا شاہ میر کا رشتہ ختم ہوگیا ہے۔بھلے شاہ میر کی طرف سے اسے کوئی خوشی میسر نہ تھی۔۔لیکن اسے ایک چھت میسر تھی جس میں وہ خود کو محفوظ تصور کرتی تھی۔اس کے لیے اس گھر کی بہت اہمیت تھی۔ہزاروں ظلم سہنے کے بعد بھی اسے اس گھر کی قدر تھی۔
وہ سارا دن اسی لئے کام کرتی تھی کیونکہ یہ اس کا اپنا گھر تھا۔وہ سوچتی تھی کہ وہ دربدر نہیں ہے۔اسے ایک چھت میسر ہے جس کے نیچے وہ سکون سے سوتی ہے۔جس میں وہ محفوظ ہے اپنے شوہر کے ساتھ۔لیکن آج اس سے یہ تحفظ بھی چھن گیا تھا۔
ایمان جیسی بے سہارا لڑکی سمجھ سکتی تھی کہ ایک گھر ایسی لڑکی کے لیے کتنی بڑی اہمیت رکھتا ہے یہ چار دیواری کتنی عزیز ہوتی ہے اسے۔جس میں اسے تحفظ کا احساس ہے۔
لیکن پھر اسے اپنے والد کا گھر یاد آیا۔اب اسے واپس اپنے والد کے گھر جانا تھا۔وہاں پر بھی سوتیلی ماں کے ظلم و ستم اس کے منتظر تھے۔وہ ایسی لڑکی تھی جیسے نہ میکے میں سکھ تھا نہ سسرال میں۔۔۔
وہ ہمت کر کے اٹھی اور اس نے اپنا سامان باندھا۔اور باہر آئی جہاں سکینہ اور ساجدہ بیٹھیں تھیں۔ پاس ہی شاہ میر اور مراد بیٹھے تھے۔
سکینہ چاچی ان سے کہیں کے میرے ابا کو فون کریں کہ مجھے لینے آئیں۔___ ایمان نے شاہ میر کی طرف دیکھے بغیر کہا۔
تم کہیں نہیں جاؤں گی تم ونی میں آئی ہو اور ونی میں آئی ہوئی لڑکی واپس نہیں جا سکتی۔___ ساجدہ نے سختی سے کہا۔
لیکن اب میں یہاں بھی نہیں رہ سکتی ہوں آپ خود سوچیں کہ آپ کو خدا کا کوئی خوف نہیں ہے؟___ ایمان بولی۔
شاہ میر کا سر جھکا ہوا تھا وہ نیچے زمین کی طرف دیکھتا جا رہا تھا اس کی آنکھیں ابھی بھی غصے سے سرخ تھیں۔ مگر وہ چپ چاپ بیٹھا تھا وہ چاہتا تھا کہ ساجدہ ایمان سے بات کرے شاید وہ ایمان سے نظریں نہی ملا پا رہا تھا۔
تم اسی گھر میں عدت گزاروں گی۔ اور عدت کے بعد تمہارا نکاح ہم ضمیر سے پڑھا دیں گے۔___ ساجدہ سختی سے بولی۔
اور آپ سے کس نے کہہ دیا کہ میں ایسا کرنے پر راضی ہو جاؤ گی۔؟___ ایمان بولی
تمہارا باپ بھی راضی ہوگا۔___ شاہ میر ایک دم اٹھ کھڑا ہوا۔
شاہ میر آرام سے بیٹھ جاؤ مجھے بات کرنے دو۔___ ساجدہ نے بیٹے کو آنکھیں دکھائیں اور اٹھ کر اسکے قریب آئی۔اس کے کان میں سرگوشی کی۔
میں ایسے آرام سے قائل کروں گی تمہارے غصہ پھر سے سب کچھ بگاڑ دے گا بہتر ہے تم چلے جاؤ ابھی یہاں سے۔___ ساجدہ نے ہلکی آواز میں اس کے کان میں کہا۔
شاہ میر نے ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا پھر کچھ سوچ کر وہاں سے چلا گیا۔
سنو لڑکی اگر تم واپس جانا چاہتی ہو تو پھر ٹھیک ہے اپنے باپ سے کہو کہ ہمیں خون بہا کے تیس لاکھ بھیج دے ورنہ پھر اپنے بیٹے کی جان کی قربانی دے دے۔___ ساجدہ نے کہا۔
تم شاہ میر کے غصے سے واقف ہو۔ اگر تم واپس چلی گئیں تو وہ یقینا تمہارے باپ اور بھائی کو مار دے گا۔___ ساجدہ نے مزید ڈرایا۔
مراد ایک نظر ساجدہ بر ڈالی اور وہ بھی وہاں سے چلا گیا۔
پتا نہیں کیا خناس بھرا ہے ان عورتوں کے دماغ میں۔۔۔___ مراد زیرلب بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔
میں ہرگز کسی اور سے نکاح نہیں کروں گی۔اور نہ ہی تو اس گھر میں رہوں گی۔میں کمزور نہیں ہوں۔پہلے جتنا ظلم سہا یہ سوچ کر کہا کہ اپنے شوہر کے گھر میں ہوں۔یہاں کی آدھی عورتیں یہ سوچ کر ہی سسرال کے مظالم برداشت کرتی ہیں کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں ہیں۔لیکن اب جب شوہر ہی اپنا نہیں رہا تو میں کیوں آپ لوگوں کی بات مانوں؟____ ایمان نے کہا۔
کیونکہ تمہیں اپنے بھائی کی جان بچانی ہے۔__ ساجدہ نے کہا۔
اسے حیدر یاد آیا۔۔۔ حالانکہ اس کا حیدر سے کوئی خاص جذباتی تعلق نہیں تھا لیکن وہ شاہ میر کو بھی جان گئی تھی۔
آپ لوگ مجھے میرے والد کے گھر چھوڑ آئیں پھر ابو جو فیصلہ کریں گے وہی میرا فیصلہ ہوگا۔___ ایمان نے کہا۔
سکینہ اسے میری زبان سمجھ میں نہیں آرہی ہے اسے تم اپنی زبان میں سمجھاؤ۔۔۔ ساجدہ نے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
سکینہ اسے اپنے کمرے میں لے آئی۔
دیکھو ایمان یہ وقت سمجھ داری کا ہے۔تم ہر پہلو پر غور کرو تو تمہیں ساجدہ کی بات صحیح لگے گی۔سب سے پہلی بات یہ تھی کہ تمہاری واپس جانے سے تمہاری میکے والوں کو نقصان ہوگا۔یا انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑے گا یا جانی نقصان۔۔تم شاہ میر کو جانتی ہو۔دوسری بات یہ کہ تم ونی میں آئی ہو۔اور یہ سرداروں کا فیصلہ تھا۔واپس جا کر شاید ہی کوئی اور شخص تم سے شادی کرنے پر راضی ہو۔شاہ میر نے غصے میں وہ سب کہا تھا۔یہ تو شکر کرو کہ اس نے الزام لگا کر تمہیں قتل نہیں کیا غیرت کے نام پر۔ورنہ گاؤں میں عورتیں ایسے ہی الزام پر قتل ہو جاتی ہیں۔وہ شاید یہ سب نہیں چاہتا تھا لیکن غصے میں کہہ بیٹھا۔تم عدت کا وقت یہاں آرام سے گزار لو۔پھر ہم تمہارا حلالہ کروا کر واپس شامیر سے تمہارا نکاح کرا دیں گے۔سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا۔وقت کے ساتھ ساتھ تم بھی یہ بات بھول جاؤں گی اور شاہ میر بھی بھول جائے گا۔ابھی ہمارے علاوہ کسی کو یہ معلوم نہیں ہے۔تم سمجھداری سے کام لو۔تم واپس شاہ میر کے پاس آ جاؤ گی اور سب صحیح ہو جائے گا پھر سب لوگ بھول جائیں گے اس واقعے کو۔میری بات یاد رکھو شاہ میر تمہیں جان سے مار دے گا لیکن تمہیں واپس نہیں بھیجے گا تم اس کا حال دیکھ چکی ہو۔بس تمہیں تھوڑی سی قربانی دینی ہوگی اور پھر تم اور شاہ میر دوبارہ سے ایک ساتھ رہنے لگو گے۔تم دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کیا تم واپس شاہ میر کی نہیں ہونا چاہتی؟؟؟؟۔____ سکینہ کے سوال پر ایمان نے اسے زخمی نظروں سے دیکھا۔۔۔۔
