Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 06)

Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina

ایمان صبح دیر سے جاگی تھی۔اس کو ہمت نہیں ہو رہی تھی گھر والوں کا سامنا کرنے کی۔خاص کر مراد کا سامنا کرنے کی۔کیونکہ سکینہ اور سجدہ تو عورتیں تھیں۔لیکن کسی مرد کے سامنے اس طرح سے بےعزت ہونا اس کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔وہ اٹھ تو گئی تھی لیکن اب اس کو ہمت نہیں ہو رہی تھی باہر آنے کی لیکن آنا تو تھا۔اس سے پہلے کہ اس کی ساس اسے صلواتیں سناتی ہوئی اندر آ جاتی وہ خود ہی باہر آ گئی۔

باہر سب چائے پی کر فارغ ہو چکے تھے۔چائے پینے کے بعد اس نے جھاڑو اٹھایا حالانکہ اس میں بالکل بھی ہمت نہیں تھی آج کوئی بھی کام کرنے کی۔شاہ میر اسے دور سے آتا دکھائی دیا۔

صفیہ اور عافیہ آج تم دونوں کام کرو گی یہ آرام کرے گی ڈاکٹر نے اسے آرام کرنے کا کہا ہے اس کی طبیعت صحیح نہیں ہے۔____ شاہ میر نے اپنی دونوں بہنوں سے کہا لیکن ایمان سے نظریں ملانے کی اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی وہ شرمندہ تھا۔

ایمان سن کر حیرت زدہ ہوگی کہ شاہ میر کو اس کا خیال تھا۔لیکن کل جو کچھ بھی ہوا اس کے بعد اس کا دل شاہ میر سے اچاٹ ہو چکا تھا۔دکھ اس بات کا نہیں تھا کہ اس نے الزام لگایا۔دکھ اس بات کا تھا کہ اس نے سب کے سامنے خاص کر مراد کے سامنے ایسی باتیں کہی جس کی وجہ سے وہ انتہائی شرمندگی سے گزر رہی تھی۔

میں ٹھیک ہوں میں سارا کام کر لوں گی۔___ ایمان شاہ میر کی طرف دیکھے بغیر کہا اور جھاڑو دینے لگی۔حالانکہ کوئی کچرہ نہیں ہوتا تھا بس درختوں کے پتے گرے ہوئے ہوتے تھے جن کو وہ ایک سائیڈ پر کر دیتی تھی جھاڑو سے مشکل تو روٹیاں پکانا تھیں جن میں بہت وقت لگتا تھا اور اس کے کمر میں درد ہو جاتا تھا۔

اس نے جھاڑو دینا شروع کیا لیکن تھوڑی ہی دیر میں اس کو چکرآ گیا اور لڑکھڑا کر گر پڑی۔بے ہوش نہیں ہوئی تھی وہ ہوش میں تھی مگر کمزوری کی وجہ سے کھڑی نہیں ہو پائی۔شاہ میر نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا۔

مراد جو چھت پر کھڑا چائے پی رہا تھا۔اس نے یہ منظر دیکھ لیا تو اس کا دل زخمی ہوگیا۔وہ سمجھ گیا کہ شاہ میر اپنی شرمندگی چھپانے کے لیے یہ سب کر رہا ہے۔تماشہ تو اس نے کل رات کر دیا تھا۔اب بات بنا رہا ہے۔اگر اس طرح کا خیال کل رات کو رکھتا جب اس کی طبیعت خراب تھی تو یقینا یہ بہت اچھا عمل ہوتا۔ایمان کی بھی عزت بڑھ جاتی اور اس کے دل میں شاہ میر کےلیے محبت بھی بڑھ جاتی۔مراد نے افسوس سے سر ہلایا اور پھر سے چائے پینے میں مشغول ہو گیا۔

ایمان نے جھٹکے سے اپنے آپ کو شاہ میر کی گرفت سے آزاد کیا۔اس کے لہجے میں بیزاری واضح تھی۔اگر وہ کل رات اسے اس طرح سے تھام لیتا تو یقیناً وہ اس وقت ہواؤں میں اڑ رہی ہوتی۔لیکن اس اتنی تذلیل کے بعد اس کا دل بھی نہیں کر رہا تھا کہ وہ شاہ میر کی شکل بھی دیکھے۔

بلاوجہ ضد مت کرو اور مجھے غصہ بھی مت دلاو چلو کمرے میں۔___ شاہ میر اسے تھام کر اندر کمرے میں لے آیا۔

تم آرام کرو۔___ شاہ میر اسے اپنے کمرے میں لایا تو وہ حیران ہوئی مگر اسے کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی آج۔

شاہ میر نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔پھر اس کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔ایمان غصے سے نظریں دوسری طرف پھیر لیں۔اور اپنا بازو اپنی آنکھوں پر رکھ لیا۔

شاہ میر نے اس کا ہاتھ ہٹایا اور اس کے قریب ہوا۔

کل رات کے لئے بہت شرمندہ ہوں۔___ شاہ میر نے اسکے گال کو چھوتے ہوئے کہا۔

ہونا بھی چاہیے۔___ ایمان بولی۔

شاہ میر اسے دیکھے گیا۔ آج ایمان کو اس کا دیکھنا بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔

ناراض ہو؟___ شاہ میر نے کہا۔

میں ونی میں آئی ہوئی ایک لڑکی ہوں۔میری کیا حیثیت ہے بھلا؟ اور آپ کو میری رضا یاں ناراضگی سے کیا فرق پڑتا ہے؟ آپ نے تو مجھے آج تک بیوی کا مقام ہی نہیں دیا۔میں ونی کے ساتھ ساتھ آپ کے نکاح میں بھی آئی تھی۔پر شاید آپ یہ بات بھول گئے۔___ ایمان نے کہہ کر رونا شروع کر دیا۔شاہ میر مزید شرمندہ ہوا۔

دیکھو تم رونا بند کرو میں معافی مانگ چکا ہوں۔___ شاہ میر نے کہا۔

میں باہر جا رہا ہوں تم آرام کرو۔___ شاہ میر نے کہا اور چلا گیا۔پھر دیر تک ایمان روتی رہی۔

___________________

مراد نے CSS کی تیاری شروع کر دی تھی۔اس کو بچپن سے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کے والدین نہیں ہیں اور اسے اپنے بارے میں خود سوچنا ہے۔اسے کیا کرنا ہے یہ فیصلہ اس نے بہت پہلے ہی کر لیا تھا۔

وہ بچپن سے ہی سمجھدار تھا۔چھوٹی سی عمر میں ہی اسے احساس ہو گیا تھا کہ تعلیم سب سے اہم ہے انسان کی زندگی میں۔اس نے تعلیم کو حاصل کرنے کے لیے اس نے بہت زیادہ جدوجہد کی تھی۔وہ ہمیشہ سے ایک ذہین طالب علم تھا۔اور پھر محنتی بھی بہت تھا۔

میٹرک تک اس نے مقامی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔پھر شہر چلا گیا پڑھنے کے لیے اور وہاں ہاسٹل میں رہ کر پڑھائی کی۔اُسکی تعلیم کے اخراجات اس کے چچا منظور احمد نے اٹھائے۔ کیوں کے زمینوں میں اُسکا بھی حصہ تھا۔

شاہ میر کو تعلیم میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔اس کے ذہن میں بس یہی بات بیٹھ گئی تھی کہ اس کی بہت ساری زمینیں ہیں اور وہ ان زمینوں کا مالک ہے۔یہ باتیں بھی اس کے دوستوں نے اسے سکھائی تھیں۔اس نے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔مراد انجینئرنگ کا طالب علم تھا۔

شروع میں تو ساجدہ نے اپنی بیٹیوں کی منگنی کرنے میں جلدی کر دی۔یہ سوچ کر کہ مراد کا آگے پیچھے کوئی نہیں ہے۔چھوٹی بیٹی عافیہ سکینہ کے بیٹے سے منسوب تھی۔اور بڑی اپنے مامو کے بیٹے سے۔

لیکن مراد کی کامیابیاں دیکھ کر اب ساجدہ کو پچھتاوا ہو رہا تھا۔ کہ کوئی ایک بیٹی تو مراد سے منسوب کی ہوتی۔مُراد ان دونوں کو اپنی بہنوں کے جیسے سمجھتا تھا۔پھر وہ دونوں بھی اسے بھائی کہتی تھیں اور سمجھتی بھی تھیں۔ان دونوں کو شاہ میر سے زیادہ مراد عزیز تھا۔کیوں کہ مراد ان کا بہت خیال رکھتا تھا۔اور شاہ میر ان سے سختی سے بات کرتا تھا۔

اب اس کے روز کا معمول تھا۔وہ چھت پر بیٹھ کر پڑھائی کرتا۔ نیچے کیا ہوتا وہ چھت سے ہی نظارہ کرتا تھا۔ وہ یہاں سے ہی سب کی خیر خبر لیتا رہتا تھا۔اب تو چائے کھانا سب وہ اپنا اوپر ہی لے آتا۔

گاؤں میں جیسے ہی گرمیاں بڑھنی شروع ہو جاتی تھیں۔گاؤں کے لوگ اپنا بسترا زیادہ تر چھتوں میں لگایا کرتے تھے۔چوری چکاری بھی عام تھی گاؤں میں۔آئے دن بھینس چوری ہو جایا کرتی تھیں۔جس کی وجہ سے گاؤں والے اپنے پاس ہتھیار ضرور رکھتے تھے۔اور کبھی کبھار حالات خراب ہو جاتے تھے۔قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے بدامنی بھی ہوتی تھی۔

مراد رات کا کھانا کھانے کے لئے آج نیچے آیا تھا۔اس نے دیکھا کہ آج ایمان کھانا نہیں بنا رہی وہ نظر نہیں آرہی تھی۔

کسی نے بھابھی کو کھانا دیا بھی ہے یا نہیں ؟___ صفیہ نے کھانا مراد کے آگے رکھا تو اس نے پوچھا۔

نہیں وہ محترمہ تو صبح سے کمرے میں پڑی ہوئی ہے۔میرے خیال سے دن کو بھی اس نے کچھ نہیں کھایا۔___ صفیہ بولی۔

ان کی طبیعت صحیح نہیں ہوگی تمہیں اُنہیں کھانا دینا چاہیے تھا وہ صبح سے بھوکی ہیں۔____ مراد نے کہا۔

مراد بھائی ہم اس کے نوکر نہیں ہیں۔اگر اس کو بھوک لگتی تو خود ہی آ کر اٹھا کر کھا لیتی۔صبح سے پڑی ہوئی بہت آرام کر لیا ہے۔کم از کم اب تو اٹھ جائے۔___ عافیہ نے کہا۔

صفیہ تم اندر جاؤ اور ان کو کھانا دے آؤ۔__ مراد نے کہا تو اتنے میں شاہ میر بھی آگیا۔

کچھ اندازہ ہے تمہیں تمہاری بیوی صبح سے بھوکی پیاسی پڑی ہوئی ہے کمرے میں۔کسی نے پانی تک کا نہیں پوچھا ان سے۔____ شاہ میر آکر چارپائی پر بیٹھا تو مراد نے اس سے کہا۔

صفیہ نے کھانا شاہ میر کے آگے رکھا۔

ایمان کا کھانا بھی دے دو ہم دونوں وہیں پر کھا لیں گے۔___ شاہ میر نے کہا۔

شاہ میر کھانا لے کر اندر آ گیا۔

تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا؟ مراد کہہ رہا تھا۔___ شاہ میر نے اسے دیکھ کر کہا۔ پھر دیکھا تو اسکا چہرہ زرد تھا۔شاہ میر نے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھا اسے بخار تھا۔

تمہیں تو بخار ہے۔___ شاہ میر نے کہا۔

میں نے دوائی لے لی ہے بخار کی اتر جائے گا بخار۔___ ایمان نے کہا۔

کھانا کیوں نہیں کھایا صبح تم نے؟___ شاہ میر بولا۔

مجھے بھوک نہیں تھی۔___ وہ بولی۔

اچھا اب کھا لو۔___ شاہ میر نے کھانا اس کے آگے رکھا۔

وہ اٹھ بیٹھی اور اس نے کھانا شروع کیا۔ شاہ میر بھی کھانا کھانے لگا۔

کھانا کھانے کے بعد اس نے برتن باہر رکھے اور خود کمرے میں آگیا۔ایمان اٹھی اور دوسرے کمرے میں جانے لگی جہاں وہ سویا کرتی تھی۔

وہ اٹھی تو شاہ میر میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا۔ایمان کا دل زخمی ہوگیا۔

( بدکردار۔۔۔ جھوٹ بول رہی ہو تم کسی اور کا گناہ میرے سر پر تھوپنا چاہتی ہو۔) ایمان کو شاہ میر کی باتیں یاد آئیں۔اس نے بے دردی سے شاہ میر کا ہاتھ جھٹک دیا۔شاہ میر اپنی جگہ سے اٹھا اور اسے اپنے حصار میں لیا۔

ایمان میں تمہیں کہیں جانے نہیں دونگا۔دو ماہ میں نے کیسے تم سے دور رہ کر گزرے یہ میں ہی جانتا ہوں۔اب میری جیت ہوگئی ہے۔اب میں مزید تم سے دور نہیں رہ سکتا۔___ شاہ میر نے کہا تو ایمان حیران ہو گئی۔

کیسی جیت؟___ اس نے پوچھا۔وہ ابھی تک اس کے حصار میں تھی۔

میرے دوستوں نے کہا تھا کہ میں تم سے کچھ مہینے دور رہوں تاکہ تمہارا کردار واضح ہو جائے۔لیکن کل ڈاکٹر نے بتایا کہ تم ۔۔۔ ___ ایمان نے اس کی بات مکمل ہونے نہیں دی تھی۔اس نے جھٹکے سے خود کو شاہ میر سے الگ کیا۔اور زور سے بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔

وہ اپنے کمرے تک بھاگتی ہوئی آ رہی تھی کہ کمرے کے دروازے پر ہی اس کی ٹکر کسی سے ہوگئی۔نیم اندھیرا ہونے کے باعث صحیح طریقے سے دیکھ نہیں سکی کہ کون ہے۔ایمان گرنے لگی تھی کہ اس شخص نے اسے تھام لیا۔ایمان ایک جھٹکے سے خود کو چھڑایا۔

کون؟ ۔۔ کون ہے؟ ___ ایمان نے پوچھا تو بجلی آگئی اور لاؤنج روشن ہوگیا۔

میں ہوں مراد۔آپ ایسے بھاگ۔۔۔___ مراد ہڑبڑا گیا۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی؟___ ایمان غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

میں نے آپ کو ہاتھ نہیں لگایا صرف آپ کو گرنے سے بچایا ہے۔___ مراد کو اس کی بات بری لگی تھی۔

ہٹو میرے راستے سے۔___ ایمان مراد کو دھکا دے کر اندر گئی اور دروازہ زور سے دے مارا۔

مراد ایک پل کو لڑکھڑا کر دیوار سے جا لگا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *