Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 03)

Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina

ایمان مایوس ہو کر دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ایک امید جو اس کے دل میں تھوڑی دیر پہلے جاگی تھی کہ اس کا گھر صحیح سے بس جانے والا ہے وہ امید ٹوٹ گئی تھی۔

وہ چپ چاپ اٹھ کر چارپائی پر لیٹ گئی اب اس کے آنسو اس کے گالوں پر رواں تھے۔

پتا نہیں تھوڑی دیر میں کیا ہو گیا کیا باہر کسی نے کچھ کہہ دیا ان کو جو اس طرح سے ایک دم بدل گئے۔___ ایمان نے خود سے کہا۔

ونی میں آئی ہوئی لڑکی کو اتنے خواب نہیں دیکھنے چاہیے شاید۔___ وہ پھر بولی۔

وہ سوچتے سوچتے اور آنسو بہاتے بہاتے سوگئی۔صبح کی پہلی کرن اس کمرے کی کھڑکی سے اندر داخل ہوئی تو اس کی آنکھ کھلی۔وہ چپ چاپ سے اٹھ گئی اور باہر آئی۔باہر ایک ہی جگہ تھی جہاں پر پانی والا نلکا لگا ہوا تھا۔ہر کوئی وہاں پر ہی منہ دھوتا تھا۔اسی جگہ کو نہانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔نلکے کے ساتھ ایک پانی کا موٹر بھی لگا ہوا تھا۔لیکن پانی کی موٹر کو صرف نہانے کے لئے اور پھولوں کو پانی دینے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا باقی منہ دھونے کے لیے یا نماز کیلئے وضو کرنے کے لیے نلکا ہی استعمال ہوتا تھا۔نلکے کے چاروں اطراف میں دیوار بنی ہوئی تھی۔اور دروازے کی سائز کا حصہ کھلا ہوا تھا۔جہاں پر چادر ٹنگی ہوئی تھی۔

وہ وہاں تک آئی تو شاہ میر بھی جاگ گیا اور وہ بھی وہاں منہ دھونے کے لیے آیا۔اس نے دیکھا ایمان پہلے سے کھڑی وہاں منہ پر پانی کے چھینٹے مار رہی ہے۔دوستوں کی باتوں کی وجہ سے اس کا دل ایمان سے ایک دم سے ہی اچاٹ ہوگیا تھا اور طبیعت میں بے زاری واضح دکھائی دے رہی تھی۔

ایمان نے اسے دیکھا تو پانی گرانا شروع کیا تھا کہ وہ منہ دھو سکے۔

ہٹو میں خود كر لونگا۔___ شاہ میرنے غصے سے کہا تو ایمان وہاں سے چلی گئی۔

پھر وہ مٹی سے بنے چولہے کے قریب آئی جہاں چائے رکھی ہوئی تھی۔باقی سب بھی وہاں بیٹھ کے چائے پی رہے تھے۔چائے پینے کے بعد ایمان نے جھاڑو اٹھایا اور صفائی شروع کی۔اسے معلوم تھا کہ اس کو یہ کام کرنے کے لیے کہا جائے گا اسی لیے اس نے کسی کے کہنے سے پہلے ہی جھاڑو اٹھا لیا۔

شاہ میر چائے پینے کے بعد باہر نکل گیا تو ایمان کو مایوسی ہوئی۔

لڑکی اب جھاڑو کی جان چھوڑ بھی دو اور آٹا گوندھو پراٹھے پکاؤ۔___ اس کی ساس نے کہا۔

اس نے جھاڑو رکھ دیا اور آٹا گوندھنے کے لیے سامان اکٹھا کیا۔گاؤں میں سویرے ہیں کھانا کھایا جاتا تھا اس لیے سویرے ہی دوپہر کے کھانے کی تیاری شروع کر دیتے تھے۔

ایمان نے لکڑیاں توڑ کر آگ جلائی۔وہ گاؤں میں رہ چکی تھی اس لیے اس سے گاؤں کے سارے کام آتے تھے۔پراٹھے پکانے کے بعد وہ اٹھی تو اس کے کمر میں بہت درد ہونے لگا۔ایک تو جھاڑو دی اوپر سے اتنی روٹیاں پکائیں۔اس کی دونوں نند سیر ساپٹوں میں نکل گئیں۔۔ کبھی اس کے گھر کبھی اس کے گھر ان دونوں کی کام سے چھٹی ہو چکی تھی۔

ایمان تھکن کی وجہ سے ہلکان ہوگئی اور کمرے میں جا کر لیٹ گئی چارپائی پر۔

یہ لوگ اچھے خاصے زمیندار تھے ان کا گھر بھی بڑا اور پکا تھا۔گھر میں کافی کمرے تھے فرش بھی لگی ہوئی تھی اور رنگ و روغن بھی تھا۔گھر تھوڑا شہر کا سا تاثر دے رہا تھا۔ بہت خوبصورت پھول دیوار کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔سولر سسٹم کی تمام تر سہولیات گھر میں موجود تھیں۔

اماں میرا کھانا کدھر ہے؟___ شاہ میر نے آواز لگائی۔ایمان ایک دم سے کھڑی ہوئی اور باہر آئی اس نے شاہ میر کا کھانا سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔اس نے کھانا شاہ میر کے آگے رکھا۔

شاہ میر نے چپ چاپ کھانا کھایا اور پھر سے باہر نکل گیا۔ایمان نے بھی اپنا کھانا کھایا اور دوپہر ر کی نیند سو گئی۔

_______________

شاہ میر حسب معمول اپنے دوستوں کے ساتھ اپنے خاص ڈیرے پر بیٹھا ہوا تھا۔اس کے دوستوں کا مقصد آپ صرف ایمان کو ڈسکس کرنا تھا۔حقیقت میں اس کے سارے دوستوں کو ایمان میں بہت زیادہ دلچسپی تھی۔وہ بہانے بہانے سے ایمان کے بارے میں پوچھتے تھے شاہ میر سے۔ان سب نے سن رکھا تھا کہ خون بہا میں آنے والی لڑکی بہت حسین ہے وہ سب اسے دیکھنا چاہتے تھے لیکن شاہ میر کی غیرت کی وجہ سے چپ تھے۔

شاہ میر کے گھر کے سامنے سے کوئی بھی لڑکا گزر نہیں سکتا تھا وہ اس قدر سخت تھا۔اگر کوئی بھولے بھٹکے سے اس کے گھر کے سامنے آکر کھڑا ہو جائے تو شاہ میر بنا کوئی لحاظ کئیے مار مار کر اس کی درگت بنا دیتا تھا۔

یار سنا ہے تیری بیوی شہر میں بھی رہتی تھی۔___ حامد نے موضوع چھیڑا۔

ہاں ۔___ موبائل پر گیم کھیلتے ہوئے شاہ میر نے مختصر سا جواب دیا۔

پھر تو ضرور تیری بیوی کے پاس موبائل بھی ہوگا۔___ قاسم نے کہا۔

پتا نہیں میں نے نہیں دیکھا اسے آئے ہوئے دو دن ہی ہوئے ہیں میں نے زیادہ غور نہیں کیا۔___ شاہ میر نے موبائل سے سر اٹھائے بغیر ہی جواب دیا۔

یہ جو شہر کی لڑکیاں ہوتی ہے نہ ان کے پاس موبائل بھی ہوتا ہے اور موبائل میں ان کے بڑے چکر بھی ہوتے ہیں۔تو دھیان رکھنا اس بات کا۔اگر کوئی رانگ نمبر سے کال وغیرہ آئے اور بات نہ کرے تو سمجھ جانا کی اس کا کوئی پرانا عاشق بھی ہو سکتا ہے۔____ حامد نے کہا تو شاہ میر نے اسے غصے سے گھورا۔

زبان سنبھال کر بات کرو ذرا۔دوست ہو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کچھ بھی بول دو۔___ شاہ میر تھوڑا سخت ہوا۔

ہم تو تیرے بھلے کے لیے کہتے ہیں جو کچھ بھی کہتے ہیں اگر تجھے ہماری باتیں بری لگتی ہیں تو ٹھیک ہے آئندہ کچھ بھی نہیں کہیں گے۔___ حامد اور قاسم دونوں کہہ کر اٹھنے لگے تو شاہ میر نے انہیں روک لیا۔

بیٹھ جاؤ۔ ایسے ہی ایک بات کی تھی میں نے ناراض ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔___ شاہ میر نے کہا تو وہ دونوں بیٹھ گئے۔

شام کو شاہ میر گھر واپس آیا تو اسے حامد اور قاسم کی باتیں یاد نہیں تھیں۔لیکن پھر کہیں سے باہر موبائل کے بجنے کی آواز آ رہی تھی اس نے دیکھا تو ایک موبائل پڑا ہوا تھا کمرے میں جہاں ایمان رہتی تھی۔

یہ تمہارا موبائل ہے؟___ اس نے ایمان سے پوچھا تو ایمان نے اثبات میں سر ہلایا۔شاہ میر نے کال اٹینڈ کی۔آگے سے اس کی کوئی سہیلی تھی۔شاہ میر نے چپ چاپ موبائل ایمان کے حوالے کردیا ایمان اپنی سہیلی سے باتیں کرنے لگی۔

اگلے روز پھر ایمان کا موبائل بجا اور بجتا ہی رہا۔شاہ میر نے کال اٹینڈ کی مگر آگے سے کوئی کچھ بول ہی نہیں رہا تھا۔شاہ میر ہیلو ہیلو کرتا رہ گیا۔لیکن آگے سے ہنوز خاموشی تھی۔نمبر بھی سیو نہیں تھا کوئی ان نون نمبر تھا۔پھر شاہ میر کو اپنے دوستوں کی باتیں یاد آئیں۔

کون ہے جو بار بار فون کر رہا ہے اور میں اٹھا رہا ہوں تو بات نہیں کر رہا ہے۔___ شاہ میر نے غصے سے ایمان سے پوچھا تو وہ ڈر گئی۔

مجھے نہیں پتہ ضرور کوئی رانگ نمبر ہوگا۔___ایمان نے لرزتی ہوئی آواز میں جواب دیا.

رانگ نمبر کی بچی ضرور تیرا کوئی عاشق ہو گا۔میں اتنا بے غیرت نہیں ہوں کہ یہ سب برداشت کر سکوں۔___شاہ میر نے اس کا فون زور سے دیوار پر مار جو کہ ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا تھا اب.

بدکردار۔۔۔ اگر ایسی کوئی بات ہوئی تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا یاد رکھنا۔___ شاہ میر نے کہہ کر لاتوں اور گھونسوں کی بھر مار کر دی تھی ایمان پر۔

وہ زمین میں ہی پڑی رہی اور مار کھاتی رہی۔

شاہ میر کیا ہوگیا کیوں مار رہے ہو اسے؟___ اس کی چچی سکینہ نے پوچھا اور آگے بڑھ کر ایمان کو اٹھایا۔

چاچی یہ بدکردار لڑکی ہے۔کوئی اس سے بار بار فون کر رہا تھا اور میں اٹھا رہا تھا تو آگے سے خاموشی تھی۔___ شاہ میر نے سرخ چہرے کے ساتھ کہا۔

سکینہ لاجواب ہو گئی۔وہ جانتی تھی گاؤں والی اس معاملے میں بہت غیرت مند ہوتے ہیں۔

تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی ایسی لگتی تو نہیں ہے یہ۔___ سکینہ نے ایمان کی طرف دیکھ کر کہا جو مار کھانے سے بے حال ہو چکی تھی۔شور سن کر گھر کے باقی افراد بھی جمع ہو گئے۔

مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی ہے چاچی۔یہ شہر میں رہتی تھی اور اس کے پاس موبائل بھی تھا۔شہر میں رہنے والی لڑکیوں کے موبائل میں بڑے چکر ہوتے ہیں۔____ شاہ میر نے اپنے دوستوں کا پڑھایا ہوا سبق اپنے گھر والوں کو سنایا۔

ایمان اب حیرت سے اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی۔

میں ایسی لڑکی نہیں ہوں۔ایک رانگ نمبر آ جانے سے میں بدکردار ثابت نہیں ہو جاتی۔ہزاروں لوگوں کے موبائل میں رانگ نمبر آتے ہیں۔تو کیا وہ سب بدکردار ہوئے؟___ ایمان نے روتے ہوئے کہا۔

زبان چلاتی ہے؟___ اس کی ساس نے آگے بڑھ کر اس کے بال کھینچے۔

چھوڑ دے اماں بہت مار چکا ہوں اسے۔___ پتا نہیں کیوں شاہ میر کو اپنی ماں کا اس طرح سے ایمان پر حملہ اچھا نہیں لگا تھا۔

ایمان اپنی جان بچا کر کمرے میں چلی گئی۔اور چارپائی پر لیٹ کر لحاف اپنے اوپر تان دیا۔وہ بیچاری اپنے لحاف کے اندر کانپ رہی تھی۔

_________________

پھر یہ مارکٹائی روز کا معمول بن گئی۔اب چھوٹی چھوٹی باتوں پر شاہ میر اس پر ہاتھ اٹھانے لگا تھا۔انسان جب ایک بار عورت پر ہاتھ اٹھانے کا عادی ہو جائے تو اس کو عادت پڑ جاتی ہے۔شاہ میر کو بھی عادت پڑ چکی تھی۔چاۓ ٹھنڈی ہو ، یاں کھانے میں نمک زیادہ ہو ، تان کپڑے استری نہ کیے ہوں۔۔ ان سب باتوں پر ایمان ہر آئے دن مار کھاتی تھی۔

کبھی کبھی اسے دیکھ کر شاہ میر کا رویہ بدلنے لگتا تھا۔وہ کی طرف قدم بڑھانا چاہتا تھا۔لیکن اس کے دوستوں نے اسے ایمان کے اس قدر خلاف کردیا تھا کہ وہ چاہ کر بھی ایمان سے دور تھا ۔جو پیار کی حقدار تھی اسے دن رات مارا جا رہا تھا۔

یوں دو ماہ بيت گئے۔

____________

ایمان ۔۔۔ ایمان ۔۔۔___ شاہ میر گھر آتے ہی غصے سے چلانے لگا۔

کیا ہوا؟___ ایمان نے ڈر کر کہا۔

میں نے تم سے کہا تھا میرے مہمان ہی اچھی سی چائے بنانا۔اور تم نے چائے میں چینی کی جگہ نمک ڈال دیا؟ میری اتنی تذلیل کرائی مہمانوں کے سامنے۔___ شاہ میر کہہ کر اسے مارنے کے لئے آگے بڑھا اس نے ہاتھ اٹھایا۔ایمان خود کو بچانے کے لیے اپنے دونوں ہاتھ آگے کیے۔

لیکن اس سے پہلے ہی کوئی ایک ہاتھ آگے آیا اور اس نے شاہ میر کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا۔ایمان جھکی ہوئی تھیں نیچے کی طرف خود کو بچانے کے لیے اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ایک مردانہ ہاتھ اسے نظر آیا جس نے شاہ میر کا ہاتھ زور سے پکڑا ہوا تھا۔

پھر ایمان کی نظریں اس کے ہاتھ سے ہوتی ہوئی اس شخص کے چہرے تک گئیں۔وہ جو بھی تھا شاہ میر کا ہم عمر تھا۔نیلے رنگ کی جینس پر سیاہ رنگ کی شرٹ پہلے دائیں کاندھے پر بیگ لٹکائے وہ کھڑا تھا۔اس کی گرفت ابھی تک شاہ میر کے ہاتھ میں مضبوطی سے تھی۔وہ دیکھنے میں شہر کا کوئی بہت ہینڈسم لڑکا لگ رہا تھا۔

شاہ میر عورت پر ہاتھ اٹھانا بزدلوں کا کام ہے۔۔۔تو کب سے اتنا بزدل ہو گیا؟___ ایمان نے اس لڑکے کو کہتے ہوئے سنا تھا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *