Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 08)

Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina

مُحبت؟___ ایمان سوچ میں پڑ گئی۔

اسے یاد آیا وہ مار جو اس نے کھائی پچھلے دو ماہ میں۔وہ الزام جو اس پر لگا۔ وہ دل آزاری جو اس کی ہوئی۔اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد محبت؟؟؟

کیا سوچ رہی ہو اتنا؟.___ شاہ میر نے اسے خیالوں میں گم دیکھا تو کہا۔

محبت کا جواب دینے کے لیے اتنا سوچنا پڑ رہا ہے تمہیں؟___ وہ پھر بولا۔

کیسے ہوتی ہے محبت.. کس سے کی جاتی ہے محبت؟وہ جو محبت کے لائق ہو. وہ جو آپ کو باہر رسوا نہ کرے۔وہ جو آپ کا خیال رکھے۔اسی سے ہوتی ہے محبت۔۔۔___ ایمان سوچ رہی تھی لیکن کہا نہیں۔

شاہ میر اس کے جواب کا منتظر تھا۔ایمان نے اثبات میں سر ہلایا۔وہ جانتی تھی کہ کچھ بھی کہنے سے پھر سے ہنگامہ ہوسکتا تھا۔

شاہ میر خوش ہو گیا۔

________________

عافیہ صفیہ کہاں ہو دونوں تمہارے موبائل آگئے ہیں۔___ شام کو مراد شہر سے لوٹا تو ان دونوں کے لئے موبائل لے کر آیا۔

دونوں خوشی سے بھاگی بھاگی چلی آئیں۔اور موبائل مراد کے ہاتھ سے لے لیے اور کھول کر دیکھنے لگیں مراد کھڑا اُن کو مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا۔

بھائی آپ بہت اچھے ہیں۔___ دونوں نے ساتھ میں کہا۔

مراد چارپائی پر بیٹھ گیا۔

اور کرو ان کا دماغ خراب۔نا کام نہ کاج سارا دن موبائل میں لگی رہتی ہیں۔___ ساجدہ بولی۔

اماں آپ کا بس چلے تو سارا دن ہم سے کام کروائیں آپ۔___ صفیہ نے کہا۔

شاہ میر جو اندر کمرے میں بیٹھا ہوا تھا ایمان کیساتھ آوازیں سن کر باہر آیا۔

کیا ہوا؟ __ شاہ میر نے پوچھا۔

مراد بھائی ہم دونوں کے لیے نئے موبائل لے کر آئے ہیں۔__ عافیہ نے بتایا۔ ایمان بھی باہر آگئی۔

ایسا کرو ایک موبائل ایمان کو دے دو میں تمہیں دوسرا لا دے دوں گا۔___ شاہ میر نے عافیہ سے کہا۔

نہیں میں ہرگز اپنا موبائل نہیں دوں گی۔__ عافیہ نے موبائل اٹھایا اور کمرے میں چلی گئی۔

صفیہ تم اپنا موبائل ایمان کو دے دوں میں تمہارے لئے دوسرا لے آؤں گا۔___ شاہ میر نے اب صفیہ سے کہا۔

میں نہیں دوں گی اپنا موبائل میں جانتی ہوں آپ نہیں لائیں گے۔___ صفیہ نے کہا۔

کیسے نہیں دو گی دیکھتا ہوں۔___ شاہ میر آگے بڑھا اور اس کے ہاتھ سے موبائل چھین لیا۔

ادھر دو میرا موبائل۔__ صفیہ نے غصے سے کہا اور موبائل چھیننے کی کوشش کرنے لگی۔

ایمان دونوں کو دیکھ کر پریشان ہو گئی۔

آپ اسے واپس کر دیں مجھے نہیں چاہئے موبائل۔___ ایمان نے پریشانی سے کہا۔وہ جانتی تھی اب سارا نزلہ اس پر گرے گا۔

دونوں بہن بھائیوں میں ہاتھا پائی شروع ہوگی۔

شاہ میر یہ کیا طریقہ ہے؟ تمہیں اپنی بیوی کو موبائل دینا ہے تو خود شہر جاؤ اور لے کر آؤ میری بہنوں کا کیوں چھین رہے ہو۔؟___ مراد نے کہا۔لیکِن شاہ میر کچھ سن ہی نہیں رہا تھا۔

کل تک تو اس کی شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے تو آج اس کی فرمائشیں پوری کر رہے ہو؟___ ساجدہ کو غصّہ آگیا۔

اماں آپ بیچ میں مت بولیں __ شاہ میر نے کہا۔

ان دونوں کا جھگڑا بہت بڑھ گیا۔

کچھ تو یاد کرو شاہ میر یہ ہمارے بھائی کے قاتل کی بہن ہے۔اور تم اس کے لیے مجھے مار رہے ہو میرا موبائل چھین کر اسے دے رہے ہو؟___ صفیہ رونے لگی۔

شاہ میر نے ایمان کا ہاتھ پکڑا اور موبائل اٹھا کر کمرے کی جانب بڑھنے لگا۔صفیہ پیچھے بھاگی اور ایمان کو مارنے لگی۔

صفیہ تمیز سے۔___ مراد نے کہا۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی؟___ شاہ میر صفیہ کو مارنے کے لیے آگے بڑھا تو مراد نے اسے روک لیا۔

بیوی پر تم خود بھی کئی بار ہاتھ اٹھا چکے ہو۔میں کچھ نہیں بولا کیونکہ میاں بیوی کے آپس کا معاملہ تھا۔لیکن میری بہن کو اگر تم نے مارا تو میں تمہارا حشر کر دوں گا۔___ مراد نے اس کا بازو دبوچتے ہوئے کہا۔

بھاڑ میں جاؤ تم سب۔ ___ شاہ میر نے موبائل زمین میں پھینکتے ہوئے کہا۔صفیہ نے تیزی سے موبائل اٹھایا اور صاف کرنے لگی۔

شاہ میر ایمان کا ہاتھ پکڑ کر اندر کمرے میں چلا گیا۔

توبہ توبہ ۔ ایک دن میں پتہ نہیں کون سا تعویز گھول کر پلا دیا ہے میری بیٹے کو اس لڑکی نے۔کل تک تو اس کی شکل دیکھنے کا روادار نہیں تھا۔اور آج قربان جا رہا ہے۔__ ساجدہ کہہ رونے لگی۔

مراد سر پکڑ کر وہاں بیٹھ گیا۔( یہ لوگ کبھی نہیں سدھریں گے ) اس نے زیر لب کہا تھا۔

_______________

آپ کو اتنا ہنگامہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔آپ کے جانے کے بعد مجھے باتیں سننی پڑیں گی۔___ ایمان نے پریشانی سے کہا۔

کوئی کچھ کہہ کر تو دکھائے تمہیں۔زبان کھینچ لونگا اس کی۔__ شاہ میر نے کہا۔

آپ کی امی مجھے باتیں سنائیں گی کیا ان کی زبان کھینچ سکتے ہیں آپ؟۔___ ایمان رونے لگی۔

تم رو مت۔ __ شاہ میر نے اس کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔

آپ اگر سب سے میرے لئے لڑیں گے تو میرے لئے پریشانی ہوگی۔___ ایمان بولی۔

اچھا تم پریشان مت ہو۔میں تمہارے لئے جلیبیاں لے کر آتا ہوں۔___ شاہ میر نے کہا۔اور وہاں سے چلا گیا۔

________________

وہ ٹیلے کے پاس آیا جہاں جلیبیاں بن رہی تھیں۔اس نے جلیبی والے کو جلیبی کا کہا اور پیسے پکڑا دیے۔تھوڑی سی دور اس کے تینوں دوست کھڑے ہوئے تھے جو اسے دیکھ کر ہنسنے لگے۔شاہ میر اُن کو نظر انداز کرتا ہوا جلیبیاں لیکے آگے بڑھنے لگا۔

وہ دیکھو جورو کا غلام جا رہا ہے۔__ قاسم نے آواز لگائی اور وزیر سے ہاتھ ملا کر تالی بجائی۔

ضرورت اپنی بیوی کے لئے جلیبیاں لیکے جارہا ہے۔___ حامد نے بھی اونچی آواز میں مذاق اڑایا۔

شاہ میر نے اُن کو غصے سے دیکھا۔ اور اُن کو نظر انداز کرکے گھر کی طرف بڑھنے لگا۔

چھوڑ دے اسے۔۔۔ ابھی بیوی کے حسن کی پٹی بندھی ہوئی ہے اس کی آنکھوں میں۔بہت جلد یہ پٹی اتر جائیگی اور واپس ہمارے پاس ہی آئیگا دم ہلاتا ہوا۔___ قاسم نے کہا۔

یار دیدار تو کرا دے اس کی بیوی کا۔ سنا ہے بہت حسین ہے۔ دل بیتاب ہے دیکھنے کو۔ ___ حامد دل پر ہاتھ رکھ کر بولا۔

ہاں کرتے ہیں کوئی منصوبہ بندی اسے دیکھنے کی۔ میں خود دیکھنے کو بےچین ہوں۔ضرور حسین ہے تو شاہ میر مرا جارہا ہے اس کے لیے۔ ورنہ جس کام سے ہم اسے منع کرتے ہیں اس کی مجال نہیں کے شاہ میر اس کے خلاف کچھ کرے۔

لیکِن دیکھیں گے کیسے؟___ وزیر نے کہا۔

سوچتے ہیں کچھ۔___ قاسم نے ٹھوڑی کھجاتے ہوئے کہا۔

__________

ایمان ۔۔۔ ایمان ۔۔۔ شاہ میر نے گھر میں داخل ہوتے ہی آواز لگانے شروع کی۔

ایمان رات کے کھانے کے لیے لکڑیاں اکٹھا کر رہی تھی۔

یہ لو جلیبی ۔۔ شاہ میر نے اسے شاپر تھامتے ہوئے کہا۔

آپ کمرے میں رکھ دیں میں ابھی کام کر رہی ہوں۔___ ایمان بولی۔

ماں کو تو کبھی کچھ لا کر نہیں دیا۔کبھی بہنوں کو بھی کچھ نہیں دیا۔اور اس لڑکی پر مہربانیاں ہو رہی ہیں۔___ ساجدہ تپ گئی۔

آپ کو شوگر ہے اماں سوچنا بھی مت جلیبی کے بارے میں۔___ شاہ میر نے ہنستے ہوئے کہا۔

دیکھ رہی ہوں بڑا ہواؤں میں اڑ رہا ہے آج کل۔__ ساجدہ نے طنز کیا۔ شاہ میر واقعی ہواؤں میں اڑ رہا تھا ایمان کی قربت پا کر۔اسے اب ایمان کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔

لیکن ایمان شاہ میر کے اس رویے سے پریشان تھی۔کیوں کہ اس کی مہربانیوں کا صلہ اسی ساجدہ کے غصے کی صورت میں سہنا پڑ رہا تھا۔

کھا لو گرم گرم ہیں۔ پھر مزہ چلا جائیگا ٹھنڈے ہوگئے تو۔___ شاہ میر اس کے پاس بیٹھتا ہوا بولا۔وہ کھانے لگی۔

ساجدہ کو یہ منظر ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا۔

کل تک تو بڑے دعوے کر رہا تھا بھائی کے قتل کا۔بدلہ لینے کا۔کہاں گیا تمہارا بھائی سے پیار؟ ساجدہ بولی ۔

اماں قتل ایمان نے نہیں کیا۔اور بدلہ تو میں ضرور لونگا بس حیدر میرے ہاتھ لگ جائے کسی دن قسم کھاتا ہوں ویسے ہی ڈنڈا اس کے سر پر نہیں مارا تو نام شاہ میر نہیں میرا۔___ شاہ میر نے کہا۔

ایمان پریشان ہوئی۔( کیا اب بھی وہ حیدر کے قتل کا ارادہ رکھتا) سوتیلا ہی سہی لیکن اسکا بھائی تو تھا۔

__________________

شاہ میر گھر سے باہر گیا تو موقع پر ایمان مراد کے پاس آئی۔صبح کا وقت تھا مراد چائے پی کر اٹھا۔ایمان سامنے آئی تو وہ نظریں جھکا کر آگے بڑھنے لگا۔اسے اس رات والی بات یاد تھی۔وہ بھی ان سے گریزاں ہی رہتا تھا۔

بات سنیں ۔___ وہ جانے لگا تو ایمان نے پیچھے سے پُکارا۔ وہ رُک گیا۔اور مڑ کر ایمان کو دیکھا۔

میں اس رات کے لئے آپ سے معافی چاہتی ہوں۔مجھے آپ سے اس طرح کا رویہ نہیں رکھنا چاہیے تھا۔آپ نے مجھے شاہ میر کی مار کھانے سے بچایا تھا۔میں اس بات کے لئے آپ کی احسان مند ہوں۔مگر اس وقت مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ میں نے پریشانی میں آپ سے وہ سب کہا۔۔۔ ___ ایمان کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی۔ مراد نے اس کی بات کاٹی۔

مجھے نہیں معلوم آپ کو کیا پریشانی تھی۔ لیکِن اتنا کہوں گا آپ نے اچھا نہیں کیا۔میں آپ کی عزت کرتا ہوں۔اس گھر میں صرف ایک میں ہی ہوں جو آپ کی عزت کرتا ہوں۔باقی سب کا حال آپ خود جانتی ہیں۔میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ میں آپ کی عزت کرتا ہوں اور قیامت تک کرتا رہوں گا۔___ مراد کہہ کر تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔

ایمان کا دل بوجھ کر رہ گیا۔اسے پچھتاوا ہو رہا تھا۔

_________________

ایمان اپنے کمرے میں تھی جب ساجدہ اندر آئی اور اس نے ایمان کو بالوں سے پکڑ لیا۔

میری بیٹی پر جادو ٹونا کروایا ہے نہ تم نے؟کل تک تو تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا. اور آج تمہارے پاؤں دھو دھو کر بھی رہا ہے. کونسی پیر فقیر سے لائیو تعویذ مجھے بتاؤ.___ ساجدہ نے اسے مارنا شروع کیا۔

چاچی میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔___ ایمان روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔

میں تجھے ایک بات بتا دوں کہ شاہ میر کا یہ رویہ دو دن کا مہمان ہے۔جیسے ہی تمہاری محبت کا بھوت اس کے سر سے اتر گیا وہ تمہیں پوچھے گا بھی نہیں۔وہ میرا بیٹا ہے اور میں اس سے جانتی ہوں۔ اس لیے بہتر ہے کہ اپنی اوقات میں رہو۔اور تمہاری اوقات ہے کہ تم ونی میں آئی ہو۔___ ساجدہ نے کہہ کر اسکے بال چھوڑ دیے ۔ کمرے کے دروازے سے گزرتے ہوئے مراد نے ساجدہ کا صرف آخری جملہ سنا تھا۔

اللہ ہدایت دے۔۔۔___ مراد کہتا ہوا سیڑھیاں چڑھ گیا۔

______________

ایمان اب شاہ میر کے کمرے میں ہی رہتی تھی۔شاہ میر اب زیادہ وقت گھر میں ہی گزارنے لگا تھا۔اس نے دوستوں کے پاس جانا بھی فی الحال ترک کر دیا تھا۔سارا دن ایمان کی آگے پیچھے گھومتا رہتا تھا۔اپنی بہنوں سے کہتا تھا کہ ایمان کام نہیں کرے گی وہ کام کریں۔اور اسی بات کو لیکر روز جھگڑا شروع ہو جاتا تھا۔ان سب باتوں کی وجہ سے ایمان کو پریشانی سہنی پڑتی تھی۔

اس انسان کی نفرت بھی میرے لیے اتنی تکلیف دہ نہیں تھی جتنی اس کی محبت مجھے اذیت دے رہی ہے۔___ ایمان نے خود سے کہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *