Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina NovelR50528 Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 10)
Rate this Novel
Teri Izzat Aziz Hai Warna (Episode 10)
Teri Izzat Aziz Hai Warna by Pashmina
کچھ دن یوں ہی گزر گئے شاہ میر نے ایمان سے بات چیت بند کر رکھی تھی۔پھر ایک دن اس نے اسے کمرے میں بلا کر پوچھا۔
مجھ سے محبت کرتی ہو یا اپنے باپ سے؟___ شاہ میر نے اُسکی آنکھوں میں دیکھ کر سوال کیا۔
آپ سے۔۔۔___ ایمان بولی۔اور کیا بولتی۔باپ کا نام لیتی تو شاہ میر آپے سے باہر ہو جاتا۔پھر ہنگامہ ہوتا۔ رہنا تو اسے شاہ میر کے ساتھ ہی تھا۔
پھر اس کے لیے میرے ساتھ جھگڑا کیوں کیا ؟ ___ شاہ میر نے پوچھا۔
غلطی ہوگئی۔___ ایمان نے اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے کہا۔اسے اپنی بے بسی پر رونا آ رہا تھا۔اس کی آنکھوں کے سامنے پھر سے جلال احمد کا چہرہ آگیا۔پھر اس نے شاہ میر کی طرف دیکھا۔ باپ کا پلڑا بھاری تھا۔حالانکہ اس باپ نے اس کے ساتھ ناانصافی کی تھی۔لیکن پھر بھی خونی رشتہ تھا۔اور نکاح کا رشتہ عزت احترام اور محبت سے بنتا ہے۔شاہ میر کی طرف سے ہمیشہ ہی اسے پریشانی ہی سہنی پڑی تھی تذلیل سهنی پڑی تھی مار سہنی پڑی تھی۔جو محبت ملی وہ بھی مطلب کے لیے تھی۔
بہت اچھی بات ہے تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔___ شاہ میر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بٹھا یا اور بولا۔
ایک بیوی کے لئے سب کچھ اس کا شوہر ہونا چاہیے۔___ شاہ میر نے کہا۔
پھر سے زندگی روٹین میں آگئی تھی۔سب کچھ نارمل جل رہا تھا۔کچھ عرصہ تو شاہ میر ایمان کے آگے پیچھے گھومتا رہا۔پھر ایمان نے محسوس کیا کہ وہ زیادہ وقت پھر سے گھر سے باہر گزارنے لگا ہے۔ایمان اس سے کوئی بات کرتی تو وہ روکھا سا جواب دے دیتا تھا۔اس کے رویے میں واضح بدلاؤ محسوس کر رہی تھی وہ۔ایسا کیوں ہو رہا تھا اسی سمجھ نہیں آرہی تھی۔
کھانا لاؤں آپ کے لیے؟۔___ شام کو شاہ میر گھر آیا تو ایمان نے اس سے پوچھا۔
سکون سے گھر میں داخل تو ہو لینے دیا کرو۔ تھوڑا بیٹھنے دیا کرو۔ سانس لینے دیا کرو۔جب بھی گھر آتا ہوں ایک سوال کرتی ہو یہ کھائیں گے؟ وہ دکھائیں گے؟ چائے لاؤں؟ میں بیزار ہوگیا ہوں ان باتوں سے۔__ شاہ میر نے بے زاری سے کہا اور چارپائی پر لیٹ گیا ایمان دیکھتی رہ گئی۔
پھر یہ روز کا معمول بن گیا۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس پر غصہ کرنے لگا جن باتوں میں غصہ کرنے والی کوئی بات نہیں ہوتی تھی نارمل باتیں ہوتی تھیں اُن میں بھی غصّہ کرتا تھا۔ایمان کا دل بوجھ جاتا تھا۔
دن کو تو باہر ہوتا ہی تھا اب رات بھی وہ باہر ہی گزارتا تھا اکثر۔رات دیر سے گھر آتا تھا جب ایمان سو چکی ہوتی تھی۔
_____________
ایک دن وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی کہ سکینہ آگئی۔
ایمان مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔___ سکینہ رازداری والے انداز میں کہا تو ایمان تھوڑا پریشان ہوئی۔
کیا بات ہے چاچی؟ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔ آپ کیا بات کرنے والی ہیں؟___ ایمان سنبھل کر بیٹھ گئی اور پریشانی سے بولی۔
مجھے باہر کسی عورت نے بتایا ہے کہ تمہارے شوہر کا کِسی دوسری عورت کے ساتھ چکر چل رہا ہے۔___ سکینہ نے دبی دبی آواز میں بتایا وہ بار بار دروازے کی طرف دیکھتی جا رہی تھی کہ کہیں شاہ میر آ نا جائے اگر اس نے سن لیا تو وہ سکینہ کا حشر کر دے گا رشتے کا لحاظ کیے بغیر۔
ایمان کا دل ڈوب گیا وہ گہری سوچ میں چلی گئی۔اب اسے سمجھ آ گیا تھا کہ شاہ میر کا رویہ اس کے ساتھ روکھا روکھا سا کیوں ہے۔۔۔
آپ سچ بول رہی ہیں؟ کیا یہ خبر پکی ہے؟ ___ ایمان نے پوچھا۔
ہاں ہاں پکی خبر ہے۔میں تو کہتی ہوں کہ کسی بھی روزہ کے کسی پیر بابا کے پاس چلو اور ابھی سے بندوبست کرو۔ورنہ تمہارا شوہر تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔کیسے فدا تھا تم پر دیکھو تم سے باتیں نہیں کرتا ہے۔___ سکینہ نے مشورہ دیا۔
لیکن مجھے ان سب چیزوں پر یقین نہیں ہے۔ تعویز گنڈے پر۔___ ایمان بولی۔
یقین کرنا پڑتا ہے۔___ سکینہ بولی۔
میں تمہیں ایک بات صاف صاف بتا دوں۔یہ سب لوگ ایسے ہی ہیں۔امیر بھی اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے جیسا ہی ہے۔اس نے تم سے دل بہلانہ تھا تم سے دل بہلا لیا۔ اب اس کا دل تم سے بھر گیا ہے۔اب وہ واپس نہیں آنے والا جب تک تم تعویز گنڈے نہ کرو۔گاؤں کی ہر عورت ان حالت میں یہی کرتی ہے۔___ سکینہ نے بتایا۔
گاؤں کی ہر عورت ان حالات میں دعا کیوں نہیں کرتی ہے چاچی وہ تہجد کیوں نہیں پڑھتی ہیں؟ قرآن کیوں نہیں پڑھتی ہیں؟ اللہ کو یاد کیوں نہیں کرتی ہیں؟ مصیبت پڑنے پر ایک مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ کو یاد کریں اور یہ عورتیں سیدھا پیربابا کو یاد کر کے ان کے پاس چلی جاتی ہیں.___ ایمان نے افسوس سے کہا۔
دیکھو ایمان میں ایک بابا کو جانتی ہوں۔___ سکینہ نے ایمان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
ہم دونوں ساتھ چلیں گے۔مجھے بھی اپنے بیٹے کے لیے لینا ہے تعویز کہ اس کا دل پڑھائی میں لگ جائے۔___ سکینہ کو اپنا مطلب تھا۔
نہیں چاچی رہنے دیں۔ بس زندگی گزر ہی جائیگی۔___ ایمان بولی۔
ارے تم نہیں جانتی ہوں ان باہر کی عورتوں کو یہ بہت خبیث عورتیں ہوتی ہیں۔ بیویوں کا پتا کٹوا دیتی ہیں ان کو گھر سے نکلوآتی ہیں۔___ سکینہ نے اسے ڈرایا۔
ایمان سوچ میں پڑ گئی۔
نہیں چاچی شاہ میر کو پتہ چل گیا تو مجھے جان سے مار دے گا میرا گھر سے نکلنا ناممکن ہے۔میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتی۔پہلے ہی زندگی عذاب بنی ہوئی ہے۔ایسا کام کروں گی تو پھنس جاؤں گی۔___ ایمان ڈر گئی۔
جیسے تمہاری مرضی میں تو تمہارے ساتھ مخلص ہوں۔تمہارا بھلا چاہتی ہوں۔میں دیکھ رہی ہوں تمہارا شوہر تمہارے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔تمہاری ساس ضرور اس کی دوسری شادی کروانے کے چکر میں ہے۔مجھے تو لگتا ہے کہ ساجدہ نے ہے شاہ میر پر تعویذ کروائے ہیں تاکہ وہ تمہیں چھوڑ دے۔___ سکینہ نے چسکا لیتے ہوئے کہا۔
ایمان پریشان ہوگئی۔
________________
میرا سیاہ والا سوٹ استری کر دو۔___ شاہ میر نے ایمان سے کہا جب وہ دوپہر کا کھانا کھا رہی تھی۔
وہ تو دھلا ہوا نہیں ہے میں کوئی اور استری کر دوں؟__ ایمان نے کہا
کیا مطلب دھلا ہوا نہیں ہے؟ مجھے آج ہر حال میں وہ پہن کر جانا ہے شہر کام سے جارہا ہوں۔___ شاہ میر نے چلاتے ہوئے کہا۔سب گھر والے کھانا کھا رہے تھی۔
اچھا میں ابھی دھو کر استری کر دیتی ہوں۔___ ایمان نے کھانا آدھے نے چھوڑ دیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
جلدی جلدی ہاتھ جلاؤں شام تک مجھے جوڑا استری چاہیے۔___ شاہ میر کہتا ہوا باہر نکل گیا۔
مراد نے دیکھا ایمان نے کھانا آدھے میں چھوڑ دیا تھا اسے دکھ ہوا۔
پھر مراد بھی باہر چلا گیا۔
شام سے تھوڑی دیر پہلے مراد گھر آیا۔ وہ چھت کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک ایمان کے کمرے سے اس کی سسکیوں کی آواز سنائی دی۔وہ تھوڑا پریشان ہوا۔شاہ میر باہر تھا وہ دیکھ چکا تھا۔باقی گھر والے سب باہر سیر سپاٹوں میں تھے۔
پہلے اس نے سوچا کہ نظر انداز کر کے چلا جائے۔پھر اس کا دل نہیں مانا دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا اس نے پورا دروازہ کھولا اور کمرے میں داخل ہوگیا۔
کیا بات ہے ؟ خیر تو ہے آپ کیوں رو رہی ہیں؟___ مراد نے کہا تو ایمان نے شاہ میر کا سیاہ سوٹ اسے دکھایا جو کہ استری کرتی ہوئی جل چکا تھا۔
یہ جوڑا جل گیا ہے مجھ سے اور تھوڑی دیر بعد ان کو یہ پہن کر جانا تھا۔اب وہ گھر آئیں گے اور میری بری حالت کریں گے۔__ ایمان روئے جا رہی تھی اپنے دوپٹے سے اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔
مراد نے افسوس سے اس کی طرف دیکھا۔اس کی پریشانی بجا تھی۔وہ سمجھ سکتا تھا کہ اس بات پر شاہ میر کتنا غصہ کرے گا۔
مراد تھوڑی دیر وہاں کھڑا رہا اور پھر اپنے کمرے میں آگیا۔اپنی الماری سے ہوبہو ویسا ہی سیاہ رنگ کا سوٹ نکالا۔جو کہ پہلے سے استری کرکے رکھا ہوا تھا۔وہ پھر سے ایمان کے کمرے میں آگیا اور سوٹ اس کے سامنے رکھا۔
میرا اور شاہ میر کا ناپ ایک ہی ہے۔ہم دونوں نے ایک ساتھ ہی یہ سوٹ لیے تھے۔ان دونوں جوڑوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔شاہ میر آئے تو آپ میرا یہ سوٹ اسے دے دیں۔اور اسے یہ مت بتائے گا کہ یہ سوٹ میرا ہے۔اگر اسے معلوم ہوا کہ آپ نے اس کا جوڑا جلا دیا ہے تو وہ غصہ کرے گا۔___ مراد کہتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔
ایمان جوڑا دیکھا وہ بالکل ویسا ہی جوڑا تھا۔ایمان کی جان میں جان آئی۔اس نے جلا ہوا سوٹ چھپا دیا۔تھوڑی دیر بعد شاہ میر گھر آیا۔
سوٹ تیار ہے؟___ اس نے پوچھا ۔۔ ایمان نے ڈرتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور جوڑا اس کے سامنے رکھا۔
شاہ میر لباس تبدیل کرکے تیار ہوا اور باہر چلا گیا۔
تیرا شوہر کسی کام سے باہر نہیں گیا ہے وہ ضرور اس عورت کے پاس گیا ہے۔___ شاہ میر کے جانے کے بعد سکینہ نے ایمان سے کہا۔
آپ صحیح کہہ رہی ہیں۔میں سمجھ گئی تھی۔___ ایمان نے کہا۔
_______________
یہ مرغی ہے۔ میرے دوست آرہے ہیں اسے جلدی سے تیار کر دو۔ ایک گھنٹے کے اندر اندر۔ ___ شاہ میر نے مرغی والا شاپر اسی پکڑاتے ہوئے کہا اور چلا گیا۔
ایمان نے لکڑیاں اکٹھا کی سالن بنانے کے لیے ۔
پھر باقی کا سامان چولہے کے سامنے اکٹھا کیا۔اور نلکے سے پانی بھرنے چلی گئی۔واپس آئی تو دیکھا کہ کتا وہ شاپر لےکر بھاگ رہا ہے ایمان اس کے پیچھے بھاگی لیکن کتا مرغی والا شاپر لے کر بھاگ چکا تھا۔
ایمان کی حالت غیر ہوگئی۔اگر شاہ میر کو پتہ چلا تو وہ اس کا حشر کر دے۔وہ رونے جیسی ہوگی۔دوپہر کا وقت تھا۔گرمی تھی اور ہو کا عالم تھا گھر میں۔گھر کے کچھ افراد باہر تھے تو کچھ سو رہے تھے۔ایمان کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرے۔اس کے پاس پیسے بھی نہیں تھے مرغی منگواتی جلدی میں ۔۔اور نہ ہی تو کوئی اسے لا کر دیتا ہے۔وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی کہ اب کیا کرے۔
اچانک اس سے مراد یاد آیا ۔۔۔ وہ ایک دم سے مراد کے کمرے کی جانب بھاگی اور زور سے دروازہ بجایا۔مراد جو ابھی ابھی سونے کی تیاری کر رہا تھا کیلولہ کیلئے۔اس طرح دروازہ بجنے پر حیران ہو گیا۔
اس نے دروازہ کھولا تو دیکھا سامنے ایمان کھڑی ہوئی ہے۔وہ حواس باختہ لگ رہی تھی۔
خیریت؟___ مراد نے پریشانی سے پوچھا۔
وہ ۔۔۔ وہ ۔۔ کتا مرغی لے گیا۔___ ایمان معصوم سی شکل بنا کر کہا۔
کتا مرغی لے گیا؟؟؟ بات سمجھ نہیں آئی__ مرد کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔
شاہ میر کے دوست آئے تھے ان کے لیے کھانا بنانا تھا۔وہ مرغی لے کر آئے اور مجھے کہا کہ ایک گھنٹے کے اندر سالن تیار کرو۔میں پانی بھرنے گئی تو پیچھے سے کتا مرغی لے اڑا ۔۔۔____ ایمان اب رو دینے کو تھی۔
تو اس میں اتنا پریشانی والی کونسی بات ہے؟___ مراد نے کہا۔۔۔ پھر خود ہی مراد کو یاد آیا کہ شاہ میر غصّہ کرے گا۔
پلیز آپ مجھے کہیں سے بھی مرغی لا کے دے جلدی میں۔ورنہ میں مر جاؤں گی۔___ ایمان اب رونے لگی۔
اچھا اچھا۔۔۔ آپ رونا بند کریں۔___ مراد نے کے کر اپنی جیب سے موبائل نکالا۔اور ایک نمبر ڈائل کیا۔
ہاں صدام۔۔۔ جلدی سے ایک مرغی لاؤ میرے گھر فوراً۔ مہمان آئے ہیں۔___ مراد کسی کو فون پر ہدایت دے رہا تھا۔پھر اس نے فون کاٹ دیا۔
آرہی ہے مرغی۔___ مراد نے کہا اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ایمان پریشان تھی لیکن مراد کو ہنسی آ رہی تھی اس کی حالت دیکھ کر۔اس نے بمشکل اپنی مسکراہٹ کنٹرول کی۔ایمان چولہے کی طرف آئی۔
مرد ابی تک دروازے کی چوکھٹ پر کھڑا مسکرا رہا تھا۔پھر باہر آیا۔۔۔ تاکہ جس کو مرغی کا کہا تھا اس سے لے لے۔۔ وہ اپنی مسکراہٹ چھپانے کے لئے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا رہا تھا۔
ایمان دیکھ رہ تھی کہ مراد اس کی حالت پر مسکرا رہا ہے۔لیکن فی الحال اسے غصہ نہیں آرہا تھا بلکہ وہ پریشان تھی۔تھوڑی دیر میں صدام مری لے کر حاضر ہو گیا۔
یہ لیں مرغی۔___ مراد مرغی اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
وہ اتنی پریشان تھی کہ شکریہ کہنا بھی بھول گئی۔اس نے مرغی لی اور فٹافٹ چلانے لگی۔اور جلدی میں سالن تیار کر دیا۔
ایک گھنٹے بعد شاہ میر کھانا لینے آیا تو سالن تیار تھا۔
ایمان کی جان میں جان آئی۔۔۔
________________
ایک رات ایمان کی طبیعت خراب تھی۔سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔اس نے کمرے میں سے سرد کی گولی تلاش کی لیکن اسے نہیں ملی۔پھر اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا تھا کہ سکینہ سے سر درد کی گولی مانگ سکے۔وہ چاہتی تھی شاہ میر کی نیند خراب نہ ہو۔
وہ جانتی تھی سکینہ بھی اس وقت سو رہی ہوگی۔اس نے دیکھا سکینہ نے دروازے میں کنڈی لگا رکھی ہے۔وہ مایوس ہو کر واپس جانے لگی۔پھر اسے پیاس محسوس ہوئی تو وہ پانی پینے کی غرض سے باہر مٹکے تک آئی۔ مٹکے سے پانی بھرا اور چارپائی پر بیٹھ کر آرام سے پینے لگی۔
ساجدہ کی اچانک آنکھ کھل گئی۔اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو دیکھا آدھی رات کو ایمان باہر کھڑی ہوئی ہے۔
اسی پل میں کوئی چور دیوار کود کر گھر میں داخل ہوا۔وہ شاید چوری کی نیت سے کسی اور گھر میں جا رہا تھا لیکن بھول میں یہاں آگیا۔جیسے ہی اس نے دیوار پھلانگی آواز سن کر ایمان نے چونک کر دیکھا تو در دیوار کے کوئی کھڑا ہوا تھا۔ساجدہ کی نظر بھی اس چور تک گی۔
کون ہے؟؟؟ کون ہے؟؟ ساجدہ نے زور زور سے چلانا شروع کیا تو چور بھاگ گیا۔ساجدہ ایک دم سے باہر نکلی۔
شاہ میر اور مرید بھی ساجدہ کی چیخیں سن کر باہر آئے۔
کیا ہوا اماں؟ اور ایمان تم اتنی رات کو باہر کیا کر رہی ہو؟ شاہ میر نے پوچھا تو ایمان کو اپنے پیروں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔
