Tere Ishq Main Ghafil By Mehak NovelR50514 Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 9)
No Download Link
Rate this Novel
Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 9)
Tere Ishq Main Ghafil By Mehak
ڈنر کر کے اس نے ہانیہ کو کال کرنے کیلئیے موبائل اٹھایا تھا کی اس کے موبائل پے فرحا کی تین سے چار مسڈ کال دیکھ کے اس نے فرحا کو کال بیک کی ھو کی اس نے پہلی رنگ پے ہی اٹینڈ کرلی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
فرحان تم میری کال کیوں نہیں اٹینڈ کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔
فرحا ضروری نہیں کی میں تمہاری ہر کال اٹینڈ کروں۔۔۔۔۔۔
پہلے تو کبھی ایسا نہیں کیا تھا تم نے میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔
پہلے ہمارا رلیشن اور تھا فرحا اور اب اور ہے پہلے تم میری زندگی تھی اور اب کچھ اور ہو بس اسی لئیے اب تم مجھ سے وہ سب بھی ایکسیپٹ نا کرو ۔۔۔۔۔۔۔
پر فرحان
پر کیا فرحا تم نے ہی ہمارا رلیشن ختم کیا تھا میں نے نہیں فرحا فرحا میں تو اب بھی تم سے اتنی ہی محبت کرتا ہوں جتنی پہلے کرتا تھا اب بھی وقت ہے لوٹ آئو فرحا میں اب بھی تمہیں اپنا بنانا چاہتا ہوں فرحا ایک مہینہ مجھ سے دور رہ کے تمییں اندازہ تو ہو ہی گیا ہوگا کی میں جتنی تم سے محبت کرتا ہوں اتنی کوئی نہیں کر سکتا اور وہ رضا تو بلکل نہیں جو ہر لڑکی کی طرف اتنی گندی نظروں سے دیکھتا ہے اس کیلئیے لڑکیا ٹشو پیپر جیسی ہیں فرحا یوز کیا اور پھینک دیا بس اور کچھ نہیں سنبھل جائو فرحا واپس آجائو میرے کئیے میری زندگی ہو تم کوئی ٹشو پیپر نہیں پلیز فرحا ٹرائے ٹو انڈسٹینڈ آئی ایم ویٹنگ بائے۔۔۔۔۔۔فرحان نے اپنی بات کہہ کے کال رکھ دی تھی اور فرحا یہیں سوچ رہی تھی کی واقعی وہ اس سے لو کرتا ہے پر فرحا کواس سے نہیں بلکے اس کے پیسے اسکےنام اس کی شہرت سے محبت تھی جسی وہ کسی بھی طرح اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتی تھی اس لئیے اسے فرحان کے پاس جانا ہی تھا
اوکے فرحا صبح تم اس کے اس جائوگی اور سارا میٹر سوٹ آئوٹ کرلوگی کیوںکی ان پانچ سالوں کی محنت اتنا جلدی تو میں ضایع نہیں ہونے دونگی اور کہیں اس بہنجی کا حسن اسے اپنے چکروں میں نا پھنسا لے کل صبح ہی جائیگی اور اسے سوری کر کے سارا میٹر حل کر لیگی۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی بات کہہ کے اپنے ئیے بلیک کلر کا ڈریس نکالنے لگی جو کی فرحان کا فیورٹ کلر تھا وہ صبح اسے کسی بھی طرح منانے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔
________________________________________
فرحا سے بات کرنے کے بعد وہ فریش ہونے چلا گیا روم میں آکے اس نے الماڑی کھولی اپنے لئے شرٹ ڈھونڈنے لگا کی ایک پنک کلر کی فائل دھڑام سے اس کے پیروں کے قریب گری وہ جھکا تھا فائل کو اٹھاکے واپس رکھنے کیلئیے پر اس پے مس ہانیہ دیکھ کے اس نے اس فائل کو اٹھایا اور آکے بیڈ پے بیٹھ گیا اس فائل میں ہانیہ کے بارے میں وہ سب انفارمیشن تھی جو کی اس نے اس کو جاب پے رکھنے سے پہلے نکلوائی تھی پر تب اس نے اس سب پر صرف ایک سرسری نگاہ ڈالی تھی بس
مس ہانیہ چلیں جی چیک کرلیتے ہیں آپ کی ڈیٹیئلس بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ فائل کو دیکھ کے مسکرایا تھا اور اس نے فائل اوپن کی تھی
او تیری صبح مس ہانیہ کی برتھڈے ہے۔۔۔۔۔۔۔فائل کو چیک کرتے ہوئے اس کی نظر جب برتھ ڈیٹ پے پڑی تو وہ چلا اٹھا تھا
چلیں جی آپ کو وش ہی کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اس نے موبائل اٹھایا اور ہانیہ کو کال کی پر اس کا نمبر بند آرہا تھا اس نے تین بار کال کی پر نمبر بند آرہا تھا
افف اس لڑکی نے بھی آج موبائل بند رکھنا تھا ۔۔۔۔۔۔
اب کیا کروں کیسے وش کروں اس جھلی کو۔۔۔۔۔۔۔
ابھی بھی ایک گھنٹا رہتا ہے تو کیا اس کے گھر جائوں اسے وش کرنے کیلئیے۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے سوچا
پر کسی کو پتا لگ گیا تو۔۔۔۔۔۔
ایسی ہی کسی کو پتا لگے گا چوری چھپ کے جائونگا۔۔۔۔۔
اوئے یے تو کیا سوچ رہا ہے فرحان تجھے اس جھلی کی عادتیں لگ گئی ہے تو کسی کے گھر چوری چھپے جائگا فرحان کاظمی ہو تم ایسے تو نہیں جا سکتے تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اففف یار فرینڈ ہی تو ہے برتھڈے ہے اس کا پتا نہیں آج تک کسی نے وش بھی کیا ہوگا کی نہیں اور وہ تو فرحان کاظمی کی پہلی فرینڈ ہے۔۔۔۔۔
چل اٹھ فرحان اور جا بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اپنی گاڑی کی کیز اٹھائی اور باہر نکل آیا
ایک منٹ ایک منٹ ایسے کیسے جائوگی اس کی برتھڈے ہے اور ایسے خالی ہاتھ جائوگی اچھا تو نہیں لگے گا بلکل نہیں ۔۔۔۔اسنے ایک بیکری کے سامنے اپنی گاڑی روکی اور باہر نکل کے اس کیلئیے اسپیشل کیک بنوایا ۔۔۔۔۔۔۔
سر نام کیا لکھنا ہے۔۔۔۔۔
مس بڑ بڑ![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے مسکرا کے کہا
کیک تیار کرکے وہ سامنے والی شوپ پے گیا اور اس کیلئیے ایک بلیک فراک لیا اور آکے گاڑی میں بیٹھ گیا ابھی گیارہ پینتیس ہورہے تھے اس کی گلی کے باہر اس نے گاڑی روکی اور گلی کے اندر وہ پیدل گیا اس کی گلی میں اندھیرا تھا فرحان اس کے گھر کے سامنے آرکا اب کیسے اندر جائوں مجھے کیا پتا مس بڑبڑ کا کمرا کونسا ہے۔۔۔۔۔۔۔اور کسی کھڑکی سے کیسے جائوں کیا پتا وہ کس کا روم ہو۔۔۔۔۔۔۔اب کیا کروگے فرحان بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔آنا ہی نہیں چاہیے تھا مجھے واپس چلا جاتا ہوں کل کردونگا وش۔۔۔۔۔۔۔
نہیں اب یہاں تک آیا ہوں تو آگے بھی چلا جاتا ہوں چل بیٹا فرحان لے اللہ کا نام اور دروازہ پھلانگ لے۔۔۔۔۔۔۔۔
اوئے عمیر سن یے تو اسی لڑکی کا گھر ہے نا جس نے ہمیں اس دن پیٹا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
ہاں اوئے اور یے تو فرحان ہے نا دا بزنس ٹائیکون اسی کی آفس میں کام کرتی ہےنا یے۔۔۔۔۔۔۔باہر گلی میں کھڑے ان آواروں لڑکوں میں سے ایک نے کہا۔۔۔۔۔۔۔
اپنے کام دیکھو اور اس دن ہمیں کہا تھا تو فکر مت کر اس دن پورے پڑوس کے سامنے ہمیں بے عزت کیا تھا نا آج ہم اسے کرینگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے مس بڑبڑ کیا چوروں والے کام کروا رہی ہو مجھ سے تم۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان آگے بڑھا تھا پھر اندھیرا ہونے کی وجھ سے وہ کسی چیز سے ٹکرایا اور وہ چیز نیچے گر گئی تھی
حلیمہ بیگم جو پانی پینے کیلئے اٹھی تھی ایسے کسی خیز کے ٹوٹنے کے آواز سن جے فورن سہن میں آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔آئے کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کی آہٹ سن کے فرحان جلدی سے اپنے سامنے والے کمرے میں گھنسا تھا ۔۔۔۔
ہائے لگتا ہے یے مس بڑ بڑ مجھے جیل میں ڈلوا کے ہی جان لیگی وہ لمبے لمبے سانس لینے لگا پت جب اس نے مڑ کے دیکھا تو سامنے وہ چارپائی پے لیٹی ہوئی تھی ساری دنیا سے بے نیاز چہرے پے دنیا بھر کی معصومیت سجائے وہ اس کے سامنے سوئی ہوئی تھی فرحان نے جلدے سے دروازہ کو بند کیا پر افسوس وہ لاک کرنا بھول گیا تھا یے اس کی سب سے بڑی غلطی تھی یا قسمت کا لکھا
فرحان اس کے سامنے کھڑا ہوا تھا اس کا بے ساختہ دل چاہا کی وہ اس کے چہرے پے ہاتھ پھیرے اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اس کی اس پنک پنک گال کو چھوا ۔۔۔۔۔اپنی گال پے کسی کا لمس محسوس کر کے اس نے آنکھیں کھولی تھی اسے اپنے اوپر پوری طرح سے جھکا دیکھ کے وہ چیخنے ہی والی تھی کی فرحان نے اس کے موں پے ہاتھ رکھ کےاس کی چیخ کا گلا گھونٹا تھا
کیا کر رہی ہو مروائوگی کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اسے گھورا اور اس کے موں سے ہاتھ ہٹایا
تم یہاں کیا کر رہے کمینے انسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ ہلکی آواز میں چیخی تھی
تمہیں اٹھا کے لے جانے آیاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے غصے سے کہا تھا ایک تو اس کیلئیے اتنی محنت کرکے آیا تھا اور وہ اسے گالیاں سنا رہی تھی
کیا مطلب۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اسے گھورا
تمہارا برتھڈے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں وش کرنے آیا تھا یار۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اسے گھورا
اس کی بات پے ہانیہ نے اسے حیرت سے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہے ایسے کیوں دیکھ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔
تم مجھے وش کرنے آئے ہو۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے آنکھوں میں حیرت لے کے اسے دیکھا
ہاں اور کیوں آئونگا۔۔۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں سے آنسو آئے تھے اس کے بابا کے جانے کے بعد تو وہ خود بھی بھول گئی تھی کی کب اس کی برتھڈے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا رونا مت اب اٹھو یے پہنو۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اسے شاپر پکڑائی۔۔۔۔۔
یے کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔۔۔
ڈریس لایا ہوں تمہارے لیے پلیز جلدی سے ریڈی ہوجائو پھر کیک کٹ کرتے ہیں
اوکے وہ اسے کہہ کے واشروم میں چلی گئی اور پھر دو منٹ بعد وہ اس بلیک فراک میں اس کے سامنے تھی بہت زیادہ پیاری لگ رہی تھی فرحان کی تو نظر بھی اس پر سے ہٹنے سے انکاری ہوگئی تھی
کیا دیکھ رہے ہو ایسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں بہت پیاری لگ رہی ہو یار تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا ٹھینکس۔۔۔۔۔
چلو کیک کٹنگ کرو بارہ ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔
کیا ہوا فرحان نے اسے فراک کو سیٹ کرتے دیکھا تو پوچھا
وہ فراک کافی لمبا ہے مجھ سے نہیں سنبھلرہا۔۔۔۔۔
اوہ کوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان کی بات ابھی ادھے میں تھی کی ہانیہ کا پائوں اپنے دوپٹے میں پھنسا وہ گرنے ہی والی تھی کی فرحان نے اسے پکڑ لیا اور اسے وقت کسی نے دروازہ کھولا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
