Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 11)

Tere Ishq Main Ghafil By Mehak

فرحان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انکی آواز پے وہ اس کا چہرہ چھوڑ کے ان کی طرف متوجہ ہوا تھا

کون ہے یے۔۔۔۔۔۔۔اور اتنی رات کو ہمارے گھر کیا کر رہی ہے اور تم کہسے بے ہیو کر رہے تھے اس سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ہانیہ کے قریب آئی تھی اور اسے زمین سے سہارا دے کے اٹھایا

بہو ہے آپ کی دھوکے سے نکاح ہوا ہےمیرا اس سے اور یے اس سے بھی زیادہ برا رویہ ڈزرو کرتی ہے مام دو ٹکے کی دوکھے باز لڑکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی بات کہہ کے چلا گیا ان کی سنے بغیر اور وہ پیچھے اس کو دیکھتی رہ گئی انکا بیٹا ایسا تونا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی باتیں سن کے ہانیہ کے تو پائوں تلے زمین نکل گئی تھی اس کی آنکھیں بند ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسز رمیز نے اسے پاس والے صقفے پے لٹایا تھا وہ تو یے بھی نہیں جانتی تھی جی یے کون ہے پر ان کو اس پے ترس آیا تھا پر انہیں یقین تھا کی ان کا بیٹا کسی چھوٹی بات پے کسی کے ساتھ ایسا بے ہیو نہیں کرے گا ضرور کچھ بڑا ہوا ہوگا پر انہیں کیسے پتا لگتا وہ تو جا چکا تھا اور یے معصوم سی جان یہاں بے ہوش تھی انہوں نے فرسٹ ایڈ بوکس اٹھایا اور اس کے ماتھے پے آئے زخم کی پٹی کی ہانیہ اپنے ماتھے پے کسی کا لمس محسوس کر کے کسمسائی تھی اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولی تھی اور سامنے کھڑا وجود اسے دیکھ کے مسکرا رہا تھا

پانی۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے خشک ہوتے غلے سے اپنی بات کہی تھی

ہاں بیٹا یے لو۔۔۔۔۔مسز رمیز نے اسے سہارا دے کے بٹھایا اور پھر اسے پانی پلایا

بیٹا اب درد تو نہیں ہورہا نا۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے اسے محبت دیکھ کے کہا

نہیں آنٹی۔۔۔۔۔۔۔بہت ضبط کے بعد بھی اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنا شروع ہوگئے اسے سب سےزیادہ فرحان کے کہے گئے الفاظوں سے ہورہی تھی ںاقی تو ٹھیک ہے اس کے گھر والوں کو وہ اچھے طریقے سے جانتی تھی انہوں نے تو ایسا ہی کہنا تھا پر فرحان سے اسے ایسی امید نا تھی اس جیسی مضبوط دل کی لڑکی بھی آج ٹوٹ کے رہ گئی تھی

بیٹا آپ کا نام کیا ہتے۔۔۔۔۔۔

ہانیہ۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اپنء سسکیوں کے ساتھ کہا

بیٹا رونا بند کرو اور بتائو ایسا کیا ہوا کی میرا بیٹا یو ایسے بیہیو کر رہا تھا وہ ڈنر کے وقت تو بہت خوش تھا تمہاری بات بھی کر رہا تھا مجھے کہہ رہا تھا تم سے مکوائونگا تو آخر ایسا کیا ہوگیا کی اچانک سے وہ اتنا غصے میں اور تم یہان یے نکاح یے سب کیسے ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے اسے محبت سے پچکارا

آنٹی وہ آج میرا برتھڈے ہے وہ مجھے وش کرنے آئے تھے اپنے ساتھ یے بلیک فراک بھی لائے تھے وہ میرے گھر کا دروازہ پھلانگ کے آئے تھے پر کسی نے دیکھ لیا تھا وہ جب روم میں آئے تو مجھے ڈریس دیامیں پہن کے آئے کافی لمبا تھا اس لیے میں سنبھالتے سنبھالتے گر گئے اسنے پکڑلیا اور اسی وقت درواازے پے سب آگئے۔۔۔۔۔اس سے آگے ہانیہ نا بتا پائی اور ان کے سینے سے لگ کے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی اسے کچھ بتانے کی ضرورت بھی نا تھی آگے کی بات مسز رمیز سمجھ گئی تھی پر اس بات میں اس معصوم کی کیا غلطی تھی جو اسے یوں سزا دے رہا تھا اسے جانا ہی نہیں چاہیے تھا اس وقت وہاں انہقں نے سوچ لیا تھا کی صبح وہ انہیں سمجھائینگی اب جو بھی ہو اان کا نکاح ہوا تھا پر اس وقت انہوں نے ہانیہ کو سنبھالنا تھا پہلے تو انہوں نے ہانیہ کو رونے دیاپھر جب اس کی سکیاں آنے لگی تو وہ اسے وہیں بٹھا کے کچن میں گئی اور اس کیلئیے دودھ گرم کیا اس میں نیند کی گولیاں ڈالی اور اس کے پاس آگئی

یے لو بیٹا اسے پی لو۔۔۔۔۔۔

ن ۔۔ن۔۔نہیں آنٹی مجھے کچھ نہیں پینا۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے سسکیوں میں اپنی بات کہی

بیٹا پی لو اگر میری جگہ تمہاری ماں ہوتی تو اسے بھی ایسے ہی کہتی پلیز پے لو میرے لیے ۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے اس کے سر پے ہاتھ پھیرا اور اس کی بات پے ہانیہ نے دودھ پی لیا اور اس کے بعد وہ انہیں فرحان کے روم میں لے آئی تھی اور اسے بیڈ پے لٹا کے اس کے ماتھے ہاتھ پھیرے دھیرے دھیرے ہانیہ کی آنکھیں بند ہونے لگی اور اسے نیند آگئی

__________________________________

گھر سےنکلنے کے بعد وہ سڑک پے بے مقصد گاڑی چلا رہا تھا اسے سکون نہیں مل رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا آخر اس کی زندگی کا اتنا پڑا فیصلہ ایسے کیسے کوئی کر سکتا تھا پر قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے اسے اس سب میں صرف ہانیہ کی غلطی نظر آرہی تھی اس کی زبان ہمیشہ فرفر چلتی تھی اور اس وقت اس کی زبان بلکل بند تھی اس کی نظر میں وہ بھی وہیں چاہتی تھی اسے ہانیہ سے نفرت محسوس ہونے لگی تھی اب وہ فرحا کو کیا جواب دیتا آخر کیا کہتا وہ اسے اس نے تو اسے رات ہی کال کر کے محبت کے بڑے دعوے کیے تھا اب کیا کہتا اگر وہ اسے چھوڑ کے چلی جاتی تو اگر اسے یے سب پتا لگ گیا تو وہ کیا کریگا نہیں وہ ایسا نہیں ہونے دے گا وی فرحا کو نہیں چھوڑ سکتا تھا

آئے ہیٹ یو ہانیہ یے سب تمہاری وجہہ سے ہوا ہے اس سب کی وجہہ صرف تم ہو صرف تم ہانیہ میر صرف تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے ہانیہ کو سوچتے ہوئے نفرت سے کہا تھا

اس نے گاڑی کلب کی طرف دوڑا دی کیوںکی اس وقت وہ گھر تو نہیں جا سکتا تھا جانتا تھا اپنی موں کو اس نے ہانیہ کی وکالت کرنی تھی

_______________________________________

فرحا صبح ہی اس کے پسندیدہ رنگ کی پینٹ شرٹ پہن کے تیار ہو کے اس کی آفس گئی تھی پر اس کی سیکرٹری نے بتایا کی وہ یہاں نہیں آیا تھا خیر وہ اسکے گھر کیلئیے نکلی تھی آج وہ اس سے پیچ اپ کرلینا چاہتی تھی اس کے گھر کے باہر گاڑی پارک کر کے وہ خوشی خوشی اندر داخل ہوئی تھی

فرحان۔۔۔

فرحان۔۔۔۔۔۔

فرحان بیبی کہاں ہو دیکھو میں ملنے آئی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحا گھر میں داخل ہوتے ہی اسے پکارنے لگی پر فرحان کہیں نا ملا اس کی آواز پے مسز رمیز کچن سے باہر نکلیتھی جسے دیکھ کے فرحا کے چہرے سے مسکان غائب ہوئی تھی

تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔انہوں نے فرحا سے پوچھا

آنٹی فرحان سے ملنے آئی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پر کیوں۔۔۔۔۔۔

آنٹی میں جانتی ہوں آپ ناراض ہے کیوںںکی ہمارا لڑائی ہوگئی تھی پر اب میں سب کچھ ٹھیک کرنا چاہتی ہوں بہت جلد آپ کی بہو بن کے اس گھر میں بھی آنے والی ہوں۔۔۔

اس کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔نیچے شور کی آواز سنکے ہانیہ بھی روم سے باہر آئی تھی

کیا مطلب آنٹی۔۔۔۔۔۔۔۔فرحا نے ان کے جواب پے انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا آخر ضرورت کیوں نہیں تھی وہ تو چاہتی تھی کی فرحان کی شادی ہو اور فرحان اس سے علاوہ کسی سے شادی تو کر نہیں سکتا تھا تو کیوں ایسا کہہ رہی تھی وہ

فرحان کی شادی ہوگئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی بات سے فرحا کا زمین پے کھڑا رہنا مشکل ہوگیا تھا اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہونے شروع ہوگئے ان کے جواب پے اندر آتے فرحان کے قدم بھی وہیں جمے تے وہ جو سوچ کے آیا تھا کی فرحا کو کچھ نہیں بتائے گا اور اسے طلاق دے دے گا اور یہاں فرحا کو ایسے پتا چلے گا وہ تو اس نے سوچا ہی نا تھا

فرحا نے ان کی بات پے اوپر کھڑی ہانیہ کو نفرت سے دیکھا۔۔۔۔اور باہر کی طرف مڑی

فرحا۔۔۔۔۔۔۔

فرحا ۔۔۔۔۔۔۔

فرحا۔۔۔میری بات سنو میں تمہیں سب سمجھاتا ہوں فرحا سنو۔۔۔۔۔۔۔فرحان ہانیہ پے ایک نفرت بھری نگاھ ڈال کے فرحا کی پیچھے بھاگا

کیا سمجھائوگے تم مجھے فرحان جو سمجھنا تھا سمجھ چکی ہوں میں اب کیا باقی ہے سمجھنے کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحا اس پے چلائی تھی اور آگےکی طرف بھاگی تھی اس سے پہلے کی فرحان کچھ کہتا فرحا ایک ٹرک سے ٹکرائی تھی اور ایک دردناک چیخ فضا میں بلند ہوئی تھی

فرحا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

_______________________________________

اگر میری فرحا کو کچھ بھی ہوا تو تمہیں چھوڑونگا نہیں میں ہانیہ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اس وقت ہاسپیٹل میں أئی سی یو کے باہر کھڑا تھا فرحا اندر زندگی موت سے لڑ رہی تھی اس کی حالت اس وقت بہت خراب تھی

ڈاکٹر ڈاکٹر فرحا کیسی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر کے آتے ہی وہ اس کیطرف آیا تھا

دیکھیں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے اب ان کی زندگی تو خطرے سے باہر ہے پر اگر انہیں اگلے چوبیس گھنٹے تک ہوش نہیں آیا تو وہ قومہ میں جا سکتی ہیں بس دعا کریں

ڈاکٹر میں اس سے مل سکتا ہوں۔۔۔۔۔

ہاں بس ابھی انہیں روم میں شفٹ کرتے ہیں پھر آپ مل لیجیے گا

_________________________________

فرحا آنکھیں کھولو میری جان دیکھو میں تمہارے پاس ہوں۔۔۔۔۔۔فرحان اس کے کریب اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں مں لیے بیٹھا تھا

بند کرو یےناٹک فرحان اگر اتنی ہی پرواہ تھی تو کیوں کی شادی تم نے میری بیٹی کی زندگی برباد کردی وہ تو ہر وقت فرحان فرحان کرتی رہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحا کی ماں نے اسے غصے سے دیکھا

نہیں آنٹی ایسا نہیں ہے میں فرحا سے محبت کرتا ہوں۔۔۔۔۔

ہاں پتا ہے کتنی محبت کرتے ہو

آنٹی میں آپ کو یقین دلاتا ہوں میں بہت جلد فرحا سے شادی کرلونگا

اگر اس سے محبت کرتے ہو تو اس لڑکی کو طلاق دو جائو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنٹی میں دے ودونگا اسے طلاق۔۔۔۔۔۔۔

نہیں جب تک اسے طلاق نہیں دیتے تب تک یہاں میری بیٹی کے قریب نا آنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے اسے بازو سے پکڑ کے دروازے سے باہر نکالا

________________________________________

کہاں جارہے ہو فرحان۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان اس کے کہتے ہی وہاں سے نکل کے گھر آیا تھا اور ابھی بھی غصے میں سیڑھیاں چھ رہا تھا جب اسے پیچھے سے مسز رمیز کی آواز آئی تھی اس پے اس نے مڑ کے انہیں دیکھا

پھر سے اس معصوم کو سنانے جارہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی ماں اس کے قریب آئی تھی

وہ معصوم نہیں ہے مام آپ جانتی نہیں اسے مام۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا نہیں جانتی میں فرحان اس میں اس کی کیا غلطی ہے اتنی رات کو تم اس کے گھر گئے تھے وہ نہیں آئی تھی سماج کی نظر میں بھی وہ غلط ہوئی اور تم نے بھی اسے اسی نفرت کا نشانہ بنایا آخر اس میں اس کی غلطی کیا ہے وہ بچاری تو سب کی مجرم بن گئی بغیر غلطی کے گھر والوں کیلئیے وہ ان کی عزت کی مجرم بنی سماج کیلئیے ایک کریکٹر لیس گرل اور تم بھی اسے نفرت کر رہی مجھے اس کی غلطی تو بتائو

ماما آپ کو نہیں پتا کل لوگ مجھے کیا کیا کہہ رہے تھے صرف اس کی وجہہ سے اگر وہ کہہ دیتے کچج تو ایسا کچھ نا ہوتا مام آج وہ اپنی لائف میں خوش ہوتی اور وہ اپنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسا تمہیں لگتا ہے فرحان ایسے الزام سن کے اس کا کیا بنا ہوگا اور کل سے تمہاری نفرت کا شکار بھی بن رہی ہے ایک تو اپنی عزت کی یوں رسوائی اوپر سے تمہاری نفرت بھری نگاہیں اس پے کیا اثر کر رہی ہوگی تم لوگوں نے تو اسے زندھ دفن کردیا ہے کیوں ۔۔۔۔۔

مام اس کی وجہہ سے میری فرحا زندگی اور موت سے لڑ رہی ہے آپ کہتے ہیں اس کی کوئی غلطی نہیں تو ٹھیک ہے اب میں اسے طلاق دے دونگا وہ بھی خوش رہے میں بھی

فرحان تم نے شادی کو سمجھ کیا رکھا ہہے گڈے گڈیوں کا کھیل نہیں ہے جو یوں ختم کردوگے تمہیں میری قسم ہے تم اسے طلاق نہیں دوگے ۔۔۔۔۔۔انہوں نے اس کا ہاتھ اپنے سر پے رکھا تھا

مام پلیزمیں اس ے ساتھ نہیں رہ سکتا۔۔۔۔۔

ٹھیک پے صرف چھ مہینے بس اس سے زیادہ میں نہیں کہونگی ۔۔۔۔۔۔۔

مام پلیز۔۔۔۔۔۔۔

اوکے فرحان تمہاری مرضی ہے اگر تمہارے لیے اپنی ماں کی قسمکا بھی کوئی مان نہیں تو۔۔۔۔۔۔

اوکے ماما صرف چھ مہینے اس سے زیادہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی بات کہہ کے روم کی طرف چلا گیا تھا اس نے سوچ لیا تھا کیا وہ ہانیہ کو اتنی اذیت دے گا کی وپ خود ہی چلی جائیگی

جب وہ روم میں آیا تو وہ چلبلی سی لڑکی خاموش تھی ایک دم اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھی اس کو ایسے دیکھ ے اسے تکلیف ہوئے تھے پر وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا

تم میرے کمرے میں کیا کر رہی و۔۔۔۔۔۔۔وہ اس پے چلایا تھا

وہ وہ مجھے آنٹی یہاں لائی تھی۔۔۔۔ہانیہ نے اٹکتے اٹکتے خوف سے اپنی بات مکمل کی تھہ وہ ایسے ڈرنی والی تو نا تھی پر اس شخص کی غصے سے لال آنکھیں اور اس کا لہجہ دیکھ کے وہاندر تک کانپ گئی تھی وہ

دوبارہ یہاں آنے کی ہمت بھی مت کرنا سمجھی تم۔۔۔۔۔۔۔اس نے ہانیہ کو بازو سے پکڑ کے کہا تھا اور بات کہہ کے اس نے اسے باھر دھکیلا تھا جس سے وہ باھر گری تھی اور اس کی بازو میں موجود چوڑیاں ٹوٹ کے اس کی کلائی میں لگی تھی اس کی دبی دبی سسکی نکلی تھی وہ سوچتی رہ گئی اس کی آخر اس کی غلطی کیا تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *