Tere Ishq Main Ghafil By Mehak NovelR50514

Tere Ishq Main Ghafil By Mehak NovelR50514 Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 21) Last Episode

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 21) Last Episode

Tere Ishq Main Ghafil By Mehak

کیسی لگ رہی ہوں میں۔۔۔۔۔ہانیہ نے گرے کلر کا فراک پہنا ہوا تھا کھلے لمبے بال ہلکا سا میک اپ لائٹ جیولری۔۔۔۔۔۔۔۔۔ریڈی ہوکے وہ فرحان کے سامنے کھڑی ہوکے پوچھ رہی تھی فرحان کی نظریں تو ایک پل کو اس پے ٹھر گئی تھی وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی فرحان کا دل کیا وہ اسے دیکھتا رہے۔۔۔۔۔۔

اوہ ہیلو کیا ہوا ہے اہسے کیوں دیکھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اس کے سامنے چٹکی بجائی

کچھ نہیں ۔۔۔۔

اب بتائوگے کیسی لگ رہی ہو۔ں۔۔۔

بہت پیاری لگ رہی ہو ہانیہ۔۔۔۔۔۔۔

اچھا ٹھینکس۔۔۔۔۔

اب چلیں ایسا نا ہو کی دیر ہوجائے۔۔۔۔۔آج انہیں نائیلا کے نکاح پے جانا تھا۔۔۔۔۔۔۔

ہاں چلو۔۔۔۔۔۔

_________________________________________

بہت پیاری لگ رہی ہو آج ہانیہ آپ۔۔۔۔۔۔نوید ہانیہ کے قریب کھڑا ہوا تھا اسے دیکھ کے اس نے مسکرا کے کہا

ٹھینکس بھائی آپ بھی بہت پیارے لگ رہے ہیں۔۔۔۔۔ہانیہ نے بھی مسکرا کے جواب دیا

ہانی اب چاچی کیسی ہے۔۔۔۔۔۔

بھائی امی اب پہلے سے بیٹر ہے۔۔۔۔۔۔ہانی نے بھی مسکرا کے جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔۔پر دور کھڑے فرحان کو ان کا یے مسکرا کر بات کرنا بلکل اچھا نہیں لگا تھا اس لیے ہانیہ کے قریب آیا اور اسے بازو سے پکڑ کے وہاں سے لے آیا اور آکے گاڑی میں بٹھا دیا کیونکہ زیادہ تر فنکشن تو ختم ہوچکا تھا اب بس گھر والے ہی رہتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یے کیا حرکت تھی فرحان ایسے کون لاتا ہے۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اسے آنکھیں دکھائی۔۔۔

تو ایسے کون بات کرتا ہے اپنے کذن سے ۔۔۔۔۔۔ایسے مسکرا مسکرا کے کبھی مجھ سے بات کی ہے جیسی اپنے اس سو کالڈ کذن سے کر رہی تھی تم۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے غصے سے کہہ کے گاڑی اسٹارٹ کی ۔ہانیہ کوتو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا اس کے اس طرح سے کہنے پے آج تو و ہو با ہو ہانیہ کی زبان بول رہا تھا اوہ تو مطلب اسے جیلسی ہورہی تھی

اوہ تو مطلب میرے شوہر کو میرے کذن سے جیلسی ہورہی ہے۔۔۔۔۔۔ہانیہ ںے ہونٹوں کو گول کر کے اوہ کہا

ہرگز نہیں میں کیوں جیلس ہوئونگا۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے جلدی سے بات بدلی

کیونکہ آپ محبت کرتے ہیں مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔

نہیں میں آپ سے بلکل محبت نہیں کرتا ہوں مس ہانیہ۔۔۔۔

یے مجھے بتا رہے یا خود کو ۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اس کے انداز پے جواب دیا اور کار سے اتر گئی وہ گھر کے اندر آئی تو فرحا اندر مسز رمیز کے ساتھ بئٹھی تھی اس نے سلوار قمیص پہنی ہوئی تھی ماتھے پے دوپٹہ بھی تھا اس کے اور ہنس کے مسز رمیز سے بات کر رہی تھی ہانیہ کو اس کو ایسے دیکھ کے حیرانی ہوئی تھی

اوہ ہانیہ شکر ہے کی تم آگئی تمہیں پتا ہے پتا نہیں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی میں۔۔۔۔۔۔اسے دیکھتے فرحا اس کے قریب آئی ہانیہ کو تو آج اس نے پکا بے ہوش کروانے کہ ٹھان لی تھی اس لیے اس سے بھی اتنی خوشگواری سے مل رہی تھی

تم میرا انتظار کر رہی تھی کیوں آج ہی میری سوتن بننے کی ٹھان لی ہے کیا تم نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے حیرانگی سے اسے کہا

نہیں نہیں ایسا بلکل نہیں ہے پاگل لڑکی ۔۔میں نے یے سب خیال دماغ سے نکال دہے ہیں۔۔۔۔۔فرحا نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں ڈالے۔

کیا مطلب فرحا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھو میری بات سنو ادھر آئو بیٹھو تمہیں سب بتاتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔فرحا اسے ایک صوفے پے لائی او اسے بٹھایا

دیکھو تہاری کل والی باتیں میرے دل پے بہت زیادہ اثر کر گئی ہے اس لیے تمہاری ان باتونں کو سوچتے ہوئے میں نے سوچا کی واقعی کسی کی ایسے جی ایف بن کے رہنا ایک طوائف جتنی ہی بات ےہے اور کسی اور کی دوسری بیوی تو میں بننا نہیں چاہتی اس لیے بہتر ہے تھا کی میں کسی کی عزت بن جائوں۔۔۔۔۔۔۔فرحا نے اسے مسکرا کے کہا

فرحان تمہارے ساتھ بھی میرا وقت بہت اچھا گذرا تم میرے اچھے دوست ہمیشہ رہوگے اب خوش رہو تم بھی ہانیہ کے ساتھ میری تو یہیں دعا ہے بائے ٹھینکس۔۔۔۔۔۔۔۔فرحا ان دونوں کو کہتی وہاں سے چلی گئی اور ابھی تک وہ دونوں حیران تھے بٹ ہانیہ خوش تھی کی وہ اپنی لائف میں آگے بڑھ گئی ہے اس نے اس کے خوش رہنے کی سچے دل سے دعا مانگی تھی۔۔۔۔۔۔۔اس کے اس فیصلے پے فرحان کو بھی خوشی ہوئی تھی آخر کو وہ خوش تھی نا چاہتے وئے بھی اسے ہانیہ سے محبت ہوگئی تھی وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا اور وہ فرحا کا دل بھی نہیں توڑنا چاہتا تھا اس لیے آج وہ بہت خوش تھا فرحاہ کے اس فیصلے پے

_________________________________________

اف فرحان اور کتنا ٹائم لگنا ہے اب ہاتھ ہٹا بھی دو میں آنکھیں درد کر رہی ہیں اور کہاں لے کے جارہے ہو مجھے کچھ بتائوگے۔۔۔۔۔

اف ہانیہ کچھ صبر ہی کرلو اتنا بے صبرہ ہونا بھی اچھا نہیں ہے بس کچھ وقت اور ۔۔۔۔۔۔۔یے لو آکئے ہم بس۔۔۔۔۔۔فرحان نے اس کی آنکھوں سے ہاتھ ہٹائے سامنے سمندر تھا سور غروب ہونے والا تھا سامنے دو چیئرس اور ایک ٹیبل بہت خوبصورتی سے ارینج تھی وہ نظارہ بہت پیارا لگ رہا تھا ہانیہ نے بے یقینی سے فرحان کو دیکھا اور فرحان اس کے سامنے پرپوز کرنے کے انداز میں جھکا

آئے لو یو ہانیہ ول یو بی مائن۔۔۔۔۔۔فرحان نے اس کے سامنے ایک رنگ کی اور ہانیہ نے اس کی رنگ فنگر میں رنگ پہنائی اور پھر انہو نے مل کے وہاں وقت اسپینڈ کیا

________________________________________

پانچ سال بعد۔۔۔۔۔

انس۔۔۔۔سنعیہ اب اگر تم لوگوں نے لڑائی بند نا کی تو چپل سے مارونگی تمہیں میں۔۔۔۔۔۔۔

اوہ مما آپ کی چپل کی تو عادت ہوگئی ہے ہمیں اگر کسی اور چز سے مارنے کا بولیں تو بتا دیں پھر ہم لڑنا بند کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔چھوٹی سی سنعیہ نے ہانیہ کے انداز میں ہی اس کو جواب دیا

یس ماما اآپ کی تو چپل بھی کہتی ہے آپ سے کی پلیز ہمیں انس اور سنعیہ پے نا مارنا وہ بہت معصوم ہیں ہم اسے تکلیف نہیں دینا چاہتے۔۔۔۔۔۔انس بھی کہاں پیچھے رنے والا تھا اپنی بہن سے

یا اللہ اللہ اللہ کرو تم دونوں اور معصوم پورے کے پورے فتنے ہو تم دونوں نجانے کس پے گئے ہو تم دونوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اپنا سر پیٹا اب اگر اسے کچھ کہتی تو یا یے لوگ اپنی دادی ہا اپنی نانی کے پاس پہنچ جاتے تھے اور پھر کلاس تو ہانی کی ہی لگتی تھی کی وہ ان کے معصوم بچوں کو مارتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مما آپ کو پتا ہے پاپا کہتے ہیں کی ہم بلکل آپ پے گئے ہیں۔۔۔۔۔سنعیہ نے اپنی گال پے انگلی رکھ کے کہا

سنی شیطان اپنا موں بند رکھ سمجھی تو ورنہ میر ی ہیل والی سینڈل سے پیٹونگی تجھے ار رہی بات تمہارے پاپا کی تو اسے تو ابھی دیکھتی ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ اسے کہ کے فرحان و کال ملائی

ہاں بولو۔۔۔۔کال اٹینڈ کرنے پے دوسری طرف سے مصروفیت سے کہا گیا

آپ گھر آجائیں راور سنبھالین اپنے ان فتنوں کو میں تھک گئی ہوں نہیں تو میں پاگل ومہوجائونگی

رلیکس ہانی میں آتا ہوں

اوکے۔۔۔۔۔

ختم شدہ۔۔۔۔۔💞

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *