Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 5)

Tere Ishq Main Ghafil By Mehak

فرحان کو میٹنگس سے فری ہوتے ہوتے بھی دو بج گئے تھے اس نے موبائل چیک کیا تو فرحا کا میسج آیا ہوا تھا اس نے میسج اوپن کیا تو لکھا ہوا تھا کی میں تم سے ملنا چاہتی ہوں اس کا میسج پڑھ کے فرحان کے چہرے پے مسکان آئی تھی مطلب کل والی پکس کا اثر ہوا تھا اس نے اسے ایک ریسٹورنٹ کا نام بھیجا اور کہا کی آدھے گھنٹے میں اس سے وہاں ملے فورن ہی اس کا اوکے کا ریپلائے آیا فرحان نے موبائل جیب میں رکھا اور اپنے اوفس کے روم کی طرف چلا گیا

کہاں مر گئے تھے تم کب سے یہاں بیٹھی بور ہورہی ہوں میں۔۔۔۔۔

آفس ہے ہزاروں کام ہوتے ہیں میرے۔۔۔۔۔۔اچھا اٹھو چلو تمہاری ڈیوٹی اسٹارٹ

کیا مطلںب۔۔۔۔

مطلب کی محترمہ آپ کی ایک گھنٹے کی میری جی ایف کی نوکری اسٹارٹ ہوتی ہے۔

ہاں تو اس کیلئے کہیں چلنا کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔

اففف یار میری جی ایف مجھ سے ملنا چاہتی ہے تو چلو ریسٹورینٹ چلنا ہے۔۔۔۔۔۔

اچھا تو ایسے کہو نا ہاں چلو۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اپنی چادر درست کی

اف میری ماں میں تو کب سے کہہ رہا ہوں تم ہی کچھ نہیں سمجھتی میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔فرحان اس کے آگے چلا

میں آپ کی ماں ہائے میرا بیٹا میں بوڑھی ہوگئی ہوں نا اس لئیے نہیں سمجھتی۔۔۔۔۔بڑا آیا ڈھنگ سے خود بات نہیں کہتا اور غلطی پھر بھی میری

اچھا یار غلطی میری ہے تمہاری نہیں میں ہی پاگل ہوں جو تم سے سر کھپا رہا ہوں اب بیٹھ جائو پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اس کلئیے فرنٹ ڈور کھولا

ہاں یے صحیح کہا نا ہانیہ میر کبھی غلط نہیں ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اپنا کندھا تھپتھپایا

ویسے اتنا بول کیسے لیتی ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اسے پہلے دن ہی اتنی چپڑ چپڑ اور جواب دیتے دیکھا تو کہا

تم کہنا چاہ رہے ہو کی میں زیادہ بولتی ہوں۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اسے گھورا

میری اتنی مجال کی میں مس بڑ بڑ کے سامنے سچ کہوں۔۔۔۔۔

شکل دیکھے ہی اپنی سڑے ہوئے کدو جیسی ہی پتا نہیں اس چپکلی کو کیسے پسند آگئے تم

مس ہانیہ وہ چپکلی نہیں فرحا ہے پلیز اسے فرحا کہو چپکلی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان کو اس کا فرحا کو چپکلی کہنا اچھا نہیں لگا

ہاں تو کچھ کھلا پلا دیا کرو۔۔۔۔۔۔

اففف میں کیوں تم سے سر کھپا رہا ہوں جب کی پتا ہے کی تم نے اپنی ہی منوانی ہے

تو کیوں کھپا رہے ہو میں نے تھوڑی نا کہا کے اپنا ی چھوٹا سا دماغ مجھ پے کھپائو ویسے بھی ہے ہے نہیں جو ہے وہ بھی ان 12 مہینوں میں ختم ہوجائے گ۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اس کا مذاک بنایا

دیکھیں مس ہانیہ آپ نے فرحا کے سامنے اپنی یے زبان بند ہی رکھنی ہے پلیز

اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔باقی کا رستہ ہانیہ نے چپ رہ کے گذارا فرحان کو بھی بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا واقعی وہ بولتی ہوئی اچھی لگتی تھی اتنے دن وہ بس کام کام انہی میں رہتا تھا پہلی بار کوئی ایسا ملا تھ جس سے وہ باتیں کر رہا تھا

باقی کا سفر یوہیں خاموشی میں گذرا ریسٹورینٹ کے باہر پہنچ کے بھی ہانیہ خاموشی سے اتر گئی اور اس کے پیچھے چلنے لگی فرحان کو بھی گڑبڑ کا احساس ہورہا تھا اس ایک دن میں وہ یے جان گیا تھا کی وہ چپ نہیں رہ سکتی اور ابھی وہ چپ تھی اس کے ایک کہنے پے نا ممکن ضرور اس کے دماغ میں کوئی کھچڑی پک رہی تھی جو کی فرحان کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ ریسٹورنٹ پہنچے تو فرحا وہاں پہلے سے موجود تھی وہ اس کی چیئر کی طرف چلے گئے

ہائے ۔۔۔۔۔۔۔ان کے وہاں پہنچتے فرحا نے اپنے سامنے بڑی سی چادر میں چھپی اس مڈل کلاس لڑکی کو دیکھا اور اسے ہائے کہا پر جواب میں ہانیہ چپ رہی وہ کچھ نا بولی فرحا نے بھی سوچا شاید پینڈو ہے سمجھ نہیں آیا اس لئیے انہیں بیٹھنے کا کہہ کے بیٹھ گئی اتنے میں ہی ایک اور لڑکا ان کے قریب آیا اور فرحا کے پاس والی چیئر پر بیٹھ گیا جس پر فرحان نے سوالیہ نظروں سے فرحا کو دیکھا۔۔۔۔۔۔

اوہ یے ہے مائے نیو بی ایف رضا میر اینڈ رضا یے ہے فرحان کاظمی

اوہ ہائے۔۔۔۔۔۔اس نے ہاتھ آگے کیا جسے فرحان نے مسکرا کے ملا لیا

ہائے۔۔۔۔۔۔

اینڈ یوئر نیم۔۔۔۔۔۔۔رضا نے ہانیہ سے پوچھا جس پے ہانیہ نے کوئی جواب نا دیا

فرحان کیا تمہاری جی ایف گونگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔فرحا نے اس کے نا بولنے پے طنز کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔یا پھر یے گوار ہمارے ساتھ بولنے پے شرمندہ ہورہی ہے۔۔۔۔۔۔

نہیں بہت پیارا بولتی ہے ابھی بولیگی۔۔۔۔۔فرحان نے اس کی طرف مسکراہٹ پاس کی

ہانیہ بول کیوں نہیں رہی ہو۔۔۔۔۔فرحان نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی

آپ نے ہی کہا تھا تمہاری اس چپکلی کے سامنے چپ رہوں تو اب کیسے بولوں بوس کا آرڈر تھا۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اپنی ہنسی دبائی

یار اب ایسا بھی نہیں کہا تھا پلیز بول لو پلیز ہانیہ

نہیں

ہانیہ پلیز۔۔۔۔۔

اوکے

میرا نام ہانیہ میر ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہانیہ نے رضا کو دیکھ کے جواب دیا

نائس نیم۔۔۔۔۔

آئے نو میرا نام ہے تو اچھا تو ہوگا ہی نا۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے کندھے اچکائے

اوکے لنچ ٹائم ہے لنچ کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔

یا وائے ناٹ بیبی فرحا نے رضا کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے اور اس کے کندھے پر اپنا سر

ہانیہ نے پہلے اسے پھر فرحان کو دیکھا جس کے ماتھے پے بل آئے تھے پر ایک ہی پل میں فرحان نے ہانیہ کا ہاتھ کھینچ کے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہانیہ نے پہلے اپنے ہاتھ کو دیکھا جو اس کے ہاتھوں کی گرفت میں تھا پھر فرحا کے ہاتھکوجس کی گرفت اب رضاکے ہاتھ پے ہلکی ہوگئی تھی اس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالنے کی کوشش کی پر فرحان کی گرفت بہت مضبوط تھی اور فرحا ان کے ہاتھوں کو بھت غور سے دیکھ رہی تھی اس لئیے ہانیہ نے اپنا پائوں فرحان کے پائوں پے زور سے مارا

آئوچ۔۔۔۔۔۔۔فرحان اس اچانک حملے پے چیخ اٹھا اور فرحان نے اپنا ہاتھ جلدی سے اس کے ہاتھ ےسے ہٹا دیا

کیا ہوا فرحان ڈوڈ آر یو اوکے۔۔۔۔۔۔رضا نے اس سے پوچھا

ظ

ہاں ہاں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے ہانیہ کو گھورا ۔۔۔۔۔

یے کیا حرکت تھی ہانیہ ۔۔۔۔۔فرحان نے اسے سرگوشی کی

کمینے انسان تم نے میرا ہاتھ کیوں پکڑا میں نے تمہیں کہا تھا کی مجھے چھونا نہیں تھا پھر بھی تم نے چھوا یے تو ٹریلر تھا اگلی بار چپل مارونگی تمہیں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہانیہ نےبھی جلی کٹی سنائی مسکرا کے

کیا باتیں چل رہی ہیں لو برڈس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔رضا نے انیں سرگوشیاں کرتے دیکھا تو پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ نہیں لو یو کہہ رہی۔تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ فرحان نے اسے مسکرا کے جواب دیا جس جواب پر ہانیہ نے اسے گھورا اور فرحا کا چہرا غصے سے لال ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تب تک ویٹر ٹیبلس پر بریانی لگادی تھی

اچھا چلو لنچ کرتے ہیں۔۔۔۔۔رضا نے کہا اور سب نے بریانی کھانی شروع کی سوائے ہانیہ کے۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا ہانیہ تم کھا کیوں نہیں رہی ہو۔۔۔۔۔فرحان نے اس سے پوچھا

نہیں میں نہیں کھا سکتی۔۔۔۔۔

کیوں۔۔۔۔فرحان نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا

کیوںکی میں جس انداز سے کھائونگی تم لوگ امبیریسنگ فیل کروگے۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے کندھے اچکائے

نہیں ایسا نہیں تم کھائو۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے کہا

پکی بات ہے کھائوں۔۔۔۔۔

ہاں کھائو تم۔۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے پھر مجھے نا کہنا بتایا نہیں۔۔۔۔ہانیہ نے پلیٹ سے چمچ نکالا اس میں رائتہ ڈالا مکس کیا اور ہاتھوں سے کھانے لگی۔۔۔۔۔۔

کیا ایسے کیوں دیکھ رہے ہو۔۔۔۔ہانیہ نے ان تینوں کو اپنی طرف دیکھتے دیکھا تو کہا۔۔۔۔۔۔میں نے پہلے ہی بتایا تھا اب مجھے کھانے دو۔۔۔۔۔۔فرحان اس کے انداز پے مسکرایا تھا دل سے وہ سچی تھی ایک دم کھری جیسی تھی ویسی رہتی تھی دکھاوا نہیں کرتی تھی اور اسے اس کی یہیں بات اچھی لگی تھی۔۔۔۔۔

باقی پندرہ منٹ رہتے ہیں میرےایک گھنٹے میں۔۔۔۔کھانے کے بعد ہانیہ نے فرحان کا دھیان وقت کی طرف دلایا

ہاں پتا ہے۔۔۔۔اچھا اب ہم چلتے ہیں۔۔۔۔

اوکے ڈیئر کل ہمارے گھر پے پارٹی ہے چار بجے آجانا آپ اسپیشل انویٹیشن دے رہا ہوں آپ کو۔۔۔۔۔۔۔۔رضا نے اس سے ہینڈ شیک کیا پھر وہ دونو باھر چلے گئے

فرحان نے گاڑی ایک آئسکریم پارلر کے پاس روکی جس پے ہانیہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔ابھی دس منٹ رہتے ہیں میری جی ایف جی چلیں آئسکریم کھاتے ہیں اس نے اس کی سائیڈ کا دروازہ اوپن کیا۔ اور وہ دونوں باھر آئے

ویسے تمہاری اس چپکلی کے ساتھ وہ مینڈک اچھا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔

مینڈک کون۔۔۔ہانیہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا

اڑے وہیں رضا دیکھا نہیں تھا کیسے چپک رہی تھی اس کے ساتھ وہ چپکلی اسے زری شرم نہیں آتی کبھی ایک کے ساتھ تو کبھی دوسرے کے ساتھ اللہ توبہہ

ہانیہ پلیز وہ ایسی نہیں ہے

جی جی میں نے دیکھا ہے کی کیسی ہے وہ۔۔۔۔۔

ہانیہ پلیز آپ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہیں۔۔۔فرحان نے اسے کڑی نظروں سے دیکھا

اوکے باندھے رکھو اپنی آنکھوں پے یے اندھے پن کی پٹی کوئی وقت آئے گا جب کہوگے ہانیہ صحیح تھی

اچھا اب چلو دس منٹ گذر گئے ہیں جناب ۔۔۔

ہمم اوکے چلو تمہیں گھر ڈراپ کردیتا ہوں

نہیں بس کسی بس اڈے پے چھوڑ دو۔۔۔۔۔

وہ کیوں میں چھوڑ آتا ہوں۔۔۔۔

اوہ وہ تمارے امیر لوگوں کا محلا نہیں ہے جہاں کوئی بھی کہیں بھی آجائے اور کوئے پوچھے گا بھی نہیں وہ ہمارے غریبوں کی بستی ہے جہاں کوئے آئے جائے تو ہزاروں سوال پوچھتے ہیں لوگ چھوڑ دو مجھے بس اڈے پے ورنہ خود ہی چلی جاتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔

اچھا چلو۔۔۔۔۔۔چھوڑ دیتا ہقں بس اڈے پے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *