Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 1)

Tere Ishq Main Ghafil By Mehak

آگئی گھر مھارانی صاحبہ مل گئی نوکری تمہیں اڑے بھی نائیلا پانی پلاؤ مہارانی صاحبہ کو ………ابھی اس نے قدم رکھا تھا گھر میں کی چاچی کے طعنے ملنے شروع ہوگئے تھے خیر اسے تو اس سب کی عادت تھی اس نے اپنی چپل اتاری آنگن میں موجود چارپائی پر اپنی چادر اتاری کولر سے پانی نکالا باپ خود مر گیا ان ماں بیٹی کو ہمارے سر پر چھوڑ گیا مصیبتیں کہیں کی ابھی وہ پانی پی رہی تھی کی چاچی کی اگلی بات پے اس نے ضبط سے آنکھیں میچیں

نوکری ڈھونڈنے کی کوشش کر تو رہی ہوں مل جائیگی تو اٹھا لونگی اپنا اور اپنی ماں کا خرچہ خود اور اتنا مت بولیں یہ جس گھر میں رہ رہیں ہے نا آپ وہ میرے مرحوم بابا کی ملکیت ہے اور یہ جس دکان سے گھر کا خرچہ راشن پانی نکل رہا ہے نا وہ بھی میرے بابا کی مہربانی ہے مصیبتیں ہم نہیں آپ لوگ ہیں ہمارے سر پر

توبہ توبہ نا کوئی شرم نا لحاظ ہے اس لڑکی میں بڑوں سے کیسے بات کرتے ہیں کوئی اندازہ ہی نہیں جیسی ماں ویسی بیٹی کچھ تو شرم کرلو لڑکی

مجھے کچھ کہنے سے پہلے اپنے بچوں کو دیکھ لیا کریں چاچی……ہانیہ نے بھی دو ٹوک جواب دیا اور کمرے کی طرف چل دی اپنی ماں کو دیکھنے کیلئیے

صبح سے کسی نے پانی بھی دیا ہے کی نہیں اماں…….ہانیہ نے چارپائی پے نڈھال سی پڑی اپنی ماں سے پوچھا اور ان کیلئیے پانی نکالنے لگی اس کیلئیے پانی نکال کے اسے سہارا دے کے بٹھایا اور پانی پلایا ……..رک اماں میں کھانا لے کے آتی ہوں تیرے لئیے تو تب تک بیٹھ یہیں ہانیہ نے انہیں تکیے کے سہارے بٹھایا اور باھر آگئی کچن میں آئی برتن چیک کیے کسی میں بھی کھانا نہیں تھا اس نے دال اور چاول اٹھائی کھچڑی بنائی

اگر بنا ہی لیا تھا تو سب کیلئیے کھانا بنا لیتی ہاتھ تو نا دکھ جاتے تمہارے چل اب جلدی کر کھلا جا اس منحوس کو اور آ کے کھانا بنا سب کیلئیے میری بچاری نائیلا کتنا کام کرے گی تیری وہ منحوس ماں تو بستر کی ہو کے رہ گئی ہے کسی کام کی نہیں ہے اور ایک تو تجھے تو پورا دن باھر آواراگردی کرنے سے فرصت نہیں

چاچی پہلی بات میں آپ سب کیلئیے کھچڑی بناتی تو کوئی کھاتا نہیں اور دوسری بات میری ماں منحوس نہیں ہی تیسری بات میں باھر آواراگردیاں کرنے نہیں جاتی نوکری ڈھونڈنے جاتی ہوں تاکے آپ کے احسان اتار سکوں اور اپنی ماں کا علاج کروا سکوں

ہاں ہاں پتا ہے کون دیتا ہے انٹر پاس کو نوکری پچھلے تین مہینوں سے رل رہی ہو کہیں نوکری ملی تجھے نہیں ملی نا اس سے بھتر ہے گھر بیٹھ اور کام کاج کر اور رہی تیری ماں کی بات تو وہ اب بڈھی ہو چکی ہے دن پورے ہوچکے ہیں اس کے…….ہانیہ کہہ کے رکی نہیں روم میں چلی گئی اور پیچھے اس کی چاچی اپنی باتیں کہتے رہی

اماں یے لیں دوائی کھائیں ہانیہ نے اپنی ماں کو کھانا کھلایا پھر دوائی دی

بیٹا کیوں جواب دیتی ہو اپنی چاچی کو ہم ان کے ہی رحم و کرم پے ہیں ابھی کم از کم ایک چھت اور سہارا تو ہے نا

اماں ہم صرف اللہ کے رحم و کرم پے ہیں وہیں پالنے والا ہی کوئی انسان نہیں اور رہی بات چھت کی تو یہ گھر ہمارا ہے اور رہی بات دو وقت کی روٹی کی تو اس کا بندوبست بھی کرلونگی میں بہت جلد آپ فکر نا کریں

ہانیہ ادھر آ پت میرے پاس بیٹھ دیکھ میری پیاری بیٹی مجھے تو کینسر ہے زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں اگر میں مر خپ گئی تو تیرا کون خیال رکھے گا یے دنیا بہت ظالم ہے میری بچی ایک اکیلی لڑکی نہیں لڑ سکتی اس سماج سے یہ دنیا جینے نہیں دیتی ایک اکیلی لڑکی کو نا لڑا کر میرا بچا کم از کم تیری شادی تک تیرے چچا کا ہاتھ تو تیرے سر پر رہے گا

دیکھ اماں تجھے کچھ نہیں ہوگا تیرا علاج میں کروالونگی ابھی تو اٹھ اور باھر چل باھر کی تازی ہوا کھا اور میں کھانا بناتی ہوں ورنہ تیری وپ دیورانی پھر باتیں سنائے گی مجھے اور پھر کچھ کہونگی تو تو کہی گی کی میں زبان لڑاتی ہوں اس سے…….ہانیہ نے اپنی ماں کو سہارا دے کے اٹھایا اور باھر آنگن میں آ کے چارپائی پے بٹھایا اور خود کچن میں چلی گئی کھانا بنانے

اسلام علیکم…..ندیم نے گھر میں داخل ہوتے سلام کیا

واعلیکم۔السلام آگیا میرا پت ماں صدقے میرے بچے تو ہانیہ پانی لا ندیم کیلئیے

اففففف ایک تو کھانا بھی بناؤ اوپر سے ان کو پانی بھی پلاؤ خود نہیں پی سکتا یے چاچی کا کماؤ پت ہوںںں

یے لیں پانی……ہانیہ نے بے دلی سے پانی دیا ندیم نے اسے دیکھا جو کالے جوڑے میں لال دوپٹہ کمر میں ڈالے اپنے سنہرے بڑے بالوں کی چوٹے بنائے اپنی کالی گھری آنکھوں میں کاجل ڈالے سیدھا اس کے دل میں اتر رہی تھی پانی لیں ندیم بھائی اسے اپنے آپ کو گھورتا پاکر ہانیہ نے چلا کے کہا

جی شکریہ اس نوازش کا اس نے ہانیہ کے ہاتھ سے مسکرا کے گلاس تھاما

ہوںںںں جب دیکھو گھورتا رہتا ہے کمینہ کہیں کا ایک نمبر کا لوفر نا ہو تو کمینہ انسان اور چاچی تو اس کے گن گاتے نہیں تھکتی شکل اور کام دیکھ لے ایک بار اپنے بیٹے کے

ہانیہ چاۓ بھی بنا دو سب کیلئیے نائیلا کے سر درد ہو رہا ہے بچاری صبح سے کام کر رہی تھی اور نوید بھی تھکا ہارا آیا ہے بچارا

لو جی اب چاۓ بھی بناؤ ان کیلئیے میں تو جیسے فالتو کی ہوں اور اس ڈائن کے سر درد ہے پتا نہیں کونسا کوم کرتی ہے پورے دن میں …….ہانیہ نے نوید کی پشت کو گھورا جس کی وجہہ سے اسے چائی بھی بنانی پڑ رہی تھی

چچی اب کیسی طبیعت ہے آپ کی …….نوید نے ساریہ بیگم سے پوچھا

کیا ہوگا اسے ٹھیک ہی تو ہے ہٹی کٹی بس بیماریوں کے ناٹک ہیں سب اور کچھ نہیں خرچہ ہی کرواتے ہیں اور کیا……….اس سے پہلے کی ساریہ بیگم کوئی جواب دیتی ہلیمہ بیگم نے انہیں کڑی نظروں سے دیکھا ان کی بات پے اندر کچن میں چائے نکالتے ہانیہ کے ہاتھ رکے اس سے پہلے کی ہانیہ کوئی جواب دیتی نوید نے جواب دے دیا

اماں کیا کرتی ہیں آپ چپ رہے نا چاچی سے پوچھا ہے میں نے

ہاں بھئی میری باتیں تو سب کو بری لگتی ہیں نا ہلیمہ بیگم نے نہ بھنے والے آنسو صاف کیے

اماں اب ایسا کس نے کہہ دیا اچھا چھوڑیں چچی آپ بتائیں کیسی طبعیت ہے اب آپ کی

ٹھیک ہوں بیٹا میں بس پتا نہیں اب اور کتنے دن کی زندگی ہے

چائے اس سے پہلے کی نوید کوئی جواب دیتا ہانیہ نے چائے کی ٹرے آگے کی اس نے اس کے چہرے کو چھوتی کچھ آوارا لٹوں کو دیکھا

چائے لیں نوید بھائی اس کی آواز سے وہ ہوش کی دنیا میں آیا چھچھورا کمینہ لوفر ہانیہ کے اس کو سرگوشی میں دیے گئے نام اسے صاف سنائی دیے جنہیں سن کے وہ مسکرایا

___________________

_________________

وہ پچھلے آدھے گھنٹے اس کا ویٹ کر رہی تھی اور کئی چوبیس بار اسے کال کر چکی تھی پر وہ نہیں آیا اس لیئے وہ خود اس کی آفس آ پہنچی تھی

فرہان کہاں ہے ……اس نے سیکرٹری سے پوچھا

سر اپنے کیبن ہیں میم کیوں کیا ہوا میم

اوکے اس نے کہا اور اس کے کیبن کی طرف قدم بڑھائے

میم میم کہاں جارہی ہیں پلیز رک جائیں میم پلیز سر نے منع کیا ہے کی کوئی بھی نا آئے اندر………اس کی سیکرٹری بھی اس کے پیچھے چل دی

وہ کوئی ہوگا یا ہوگی میں فرہا شیخ ہوں فرہان نے مجھے بلکل منع نہیں کیا ہوگا……وہ اپنی ہی رو میں چلتی بولی پر جب اس نے کیبن کا ڈور اوپن کیا تو اس کے پاؤں وہیں تھم گئے

واٹ از دس گوئنگ اون دیئر فرہان……..فرہا نے جب ڈور اوپن کیا تو اندر کوئی لڑکی فرحان کو ہگ کئیے کھڑی تھی اور اسے کس کرنے ہی والی تھی کی فرحا اندر آگئی

فرحا بیبی تم جیسا سوچ رہی ہو ویسا کچھ نہں ہے آئے سوئیر بیبی بلیو می…..فرحان جلدی سے اس لڑکی سے دور ہوا اور فرحا کو صفائی دینے لگا

واٹ بیبی کیا سچ نہیں ہے یے لڑکی یہاں تمہارے ساتھ چپکی ہوئی تھی اگر میں نا آتی تو کس کردیتی اور تم کہہ رہے ہو کی یہ سچ نہیں ہے فرحان تم کیسے کہہ رہے ہو ٹیل می کی سچ کیا ہے

بیبی آئی سوئیر میں نے کچھ نہیں کیا میں تو خود اس سے جان چھڑا رہا تھا یہی آئی تھی

فرحان تم تو بچے ہو نا جو تمہیں کوئی یو بھی ھگ کرلے گا کس کرلے گا اور تم کچھ نہیں کر پاؤگے یو آر آ لائیر چیٹر

بیبی میرا یقین کرو ایسا کچھ نہیں ہے

انف نو مور ایکسکیوزز ا وانا بریک اپ وتھ یو اب مجھ کوئی ٹیکسٹ یا کال نا کرنا اور نا ہی ملنے کی کوشش فرحا اپنی بات کہنے کے بعد روکی نہیں چلی گئی

گیٹ لوسٹ فرام ہیئر باتھ آف یو فرحان غصے میں چیخا تھا

نو فرحا نو 5 سال کے رلیشن کو یوں ایک غلط فھمی کے تحت ختم نہیں ہونے دونگا میں بیبی ان دونوں کے جاتے فرحاننے خود کلامی کی اور اپنی کار کی کیز اٹھا کے باھر کی طرف چل دیا

______________________________________

یا اللہ مجھے جلدی سے کوئی نوکری دلوا دے اماں کی دوائیاں بھی ختم ہونے والی ہے انکا کسی اچھی ہسپتال میں علاج کرواؤں میں جانتی ہوں انٹر پاس ہوں وہ بھی سرکاری اسکول سے نوکری اتنی آسانی سے تو ملے گی نہیں پر میرے مالک تیرے لئیے تو کچھ بھی نا ممکن نہیں میرا دعا قبول فرما…….وہ رات کے کھانے کے بعد عشاء پڑھنے کیلئیے چھت پے آئی تھی اس نے عشاء پڑھ کے دعا مانگی اور مصلہ اٹھایا تو اپنے قریب نوید کو کھڑا پایا شاید اسے نماز میں احساس نہیں ہوا کی وہ کب آیا

تم یہاں کیا کر رہے ہو

وہ میں چچی کیلئیے دوایاں لایا تھا شام کو امی ساتھ تھی تو دے نہیں پایا بس یہیں دینے آیا تھا

ہممم شکریہ وہ اس سے لینا تو نہیں چاہتی تھی پر اپنی ماں کی طبیعیت کی وجہہ سے مجبور تھی

ویسے ایک بات کہوں نوید نے جھجھکتے ہوئے پوچھا کیا پتہ وہ شیرنی اس پر کب جھپٹ پڑے

ہمم بولو

وہ میں آپ سے بڑا ہوں تو آپ مجھے پلیز آپ کہہ کے نہیں پکار سکتی

آپ کہوں تمہیں لائق ہو اس کے جب دیکھو گھورتے رہتے ہو کمینے نا ہو تو ایک نمبر کے چھچھورے ہو تم شکل ڈھنگ کی نا ہو تو بات ہی ڈھنگ کی کر لیا کرو یے کہہ کے وہ رکی نہیں چلی گئی اورنوید صرف اس کی پشت کو دیکھتا رہ گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *