Tere Ishq Main Ghafil By Mehak NovelR50514 Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 12)
No Download Link
Rate this Novel
Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 12)
Tere Ishq Main Ghafil By Mehak
آگئے بیٹا اب کیسی ہوسر درد تو نہیں ہورہا نا۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ جب کچن میں آئی تو مسز رمیز نے اس سے مسکرا کے پوچھا
جی آنٹی اب ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔ہانیہ نے زبردستی چہرے پےمسکان سجائی
بیٹا یےچوٹ کیسے لگی اور تم نے پٹے بھی نہیں کی کتنی بری بات ہے۔۔۔۔۔۔انہوں نے اس کی بازو کو دیکھاں جہاں خون جما ہوا تھا
اس چوٹ کو دیکھ کے پھر سے ہانیہ کو فرحان کا رویہ یاد آگیا وہ ایسا تو نا تھا ہانیہ تو اسے پسند کرنے لگی تھی پرایسی کیا غلطی ہوگئی تھی اس سے جو یوں بی ہیو کر رہا تھا وہ اس سے اس رات وہ اتنے الظام ہی نا برداشت کر پائی اسے ہوش کہاں تھا
آجائو پٹی کروں تمہاری۔۔۔۔۔۔۔۔مسز رمیز اسے حال میں لے آئی اور وہ بھی کسی گڑیا کی طرح ان کے ساتھ چلتی گئی
اوہو کانچ اندر چب گئے ہیں۔۔۔۔۔
سسسس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے کانچ کا ٹکڑا نکلا تو اس کی دبی دبی سسکی نکلی
درد ہورہا ہے۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے اسے محبت سے دیکھا
آنٹی یے درد تو اس درد کے سامنے بہت کم ہے جو آپ کا بیٹا میرے دل پے دے رہا ہے وہ درد بہت زیادہ ہے بہت زیادہ ۔۔۔۔۔
ہانیہ نے اپنی آںکھوں میں آئی نمی صاف کی
اچھا بیٹا آپ کو پتا ہے جب فرحان کے پاپا کی اور میری شادی ہوئی تھی اس وقت میں کسی اور کی محبت میں گرفتار تھی اس کا نام حامد تھا اس شخص کیلئیے پاگل تھی میں پر میرے ماما پاپا نے میری شادی رمیز کے ساتھ کروا دی شروع شروع میں تو میں ان سے بات تک نہیں کرتی تھی انہوں نے مجھے کچھ نہیں کہا وقت دیا اور مجھ سے محبت سے پیش آتے رہے شروع شروع میں میں گھنٹوں روتی رہتی تھی کی مجھے میری محبت نہیں ملی میں کتنی بدنصیب ہوں تمہیں پتا تو ہے بیٹا ہم انسان کتنے نا شکرے ہیں میں بھی ایسے ہی قسمت پر روتی تھی شاید مجھے اس وقت اندازہ نہیں تھا کی میرے رب نے مجھے کتنا پیارا ہمسفر دیا ہے وقت کے ساتھ ساتھ ان کی محبت نے مجھے بدل دیا میری ہر بے رخی کا بدلہ انہوں نے محبت میں دیا اور اسی محبت کی وجہہ سے مجھے بھی ان سے محبت ہوگئی ایک دن میں اور رمیز صاحب کسی کام سے جارہے تھے کی ہماری گاڑی سے ایک عورت ٹکرا گئی اس کی حالت اتنی بری تھی کی ہم اسے فورن ہاسپٹل لے گئے وہ پریگنینٹ تھی ان کے چہرے پر بھی کافی چوٹوں کے نشان تھے میں سمجھ گئی تھی کی شاید ان کو ان کا شوہر مارتا ہے ہم اسے ہاسپٹل لے گئے تو ڈاکٹر نے بتایا کی کنڈیشن بہت بری ہے انہیں آپریشن کرنا ہوگا ہم نے ہاں کردی اور پولیس کو بھی انفارم کردیا کی اس کے گھر میں سے کوئی آجائے۔۔۔۔۔۔۔۔اور آپریشن کے بعد ڈاکٹر نے بتایا کی ان کی کنڈیشن بہت بری تھی جس وجہہ سے وہ بیبی کو نا بچا پائے تب تک پولیس بھی آگئی اور پولیس کے ساتھ حامد کے بھائی کو دیکھ کے میں تو حیران رہ گئی پہلے مجھے لگا کی وہ اس کی بیوی ہے پر پھر مجھے اس نے بتایا کی وہ حامد کی بیوی ہے جسے وہ روزمارتا ہے شراب پیتا ہے اور تو اور اس کی دو بار بیٹیاں ہوئی جسے اس نے اپنے ہاتھوں سے ماردیا اور میں نے گھر آکے سب سے پہلے شکرانے کے نفل ادا کیے کی میرے مالک نے مجھے اس جیسے شخص سے بچا لیا ۔۔۔۔۔۔اسی طرح ہانیہ بیٹا ہماری زندگی میں جو ہوتا ہے اچھا ہوتا بھلے ہی ہم اسےاس وقت نہیں سمجھ پاتے مجھے یقین ہے کی اک وقت آئے گا جب تم بھی شکر ادا کرو گی فرحان کیلئیے جیسے میں نے ادا کیے تھے رمیز کیلئیے
محبت کرتی ہو فرحان سے۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے اپنی بات سمجھانے کے بعد اس سے سوال کیا اور اس کے اس سوال پے ہانیہ نے اپنی نظروں کا رخ ان سے پھیرا تھا
میں نے دیکھی ہے تمہاری آنکھوں میں اس کیلئیے محبت میرا بچہ اور مجھے یقین ہے جیسے رمیز کی محبت نے مجھے بدل ڈالا تھا ویسے ہی تمہاری محبت بھی فرحان کے دل میں جگہ بنا لے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پر آنٹی وہ تو مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں بیٹہ وہ تم سے نفرت نہیں کرتامیں نے اس کی آنکھوں میں تمہارے لئیے پسندیدگی دیکھی ہے یے تو نفرت کا وقتی پردہ پے جسے تمہیں تمہاری محبت سے ہٹانا ہے میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں اس کی پیشانی کو محبت سے چوما تھا
آجائو ناشتہ کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔وہ دونوں ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھے تھے
کہاں جارپے ہو فرحان۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسز رمیز نے باہر کی طرف بڑھتے فرحان سے پوچھا
مام آفس جا رہا ہو۔۔۔۔۔۔۔اس نے بغیر مڑے جواب دیا
آجائو ناشتہ کرو بغیر ناشتہ کیے باہر نہیں جائوگے تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسز رمیز کے کہنے پے وہ ڈائننگ ٹیبل کی طرف آیا
ہانی بیٹا کھانا پروسو فرحان کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں مام میں خود لے لونگا۔۔۔۔فرحان نے غصے سے کہا
فرحان اب آپ اتنے بڑے ہوگئے ہیں کی اپنی ماں سے بے حس کرینگے ہانی بیٹا آپ پروسو اسے کھانا۔۔۔۔۔انہوں ںے فرحان کو کہنے کے بعد پاس میں سہمی کھڑی ہانیہ کو کہا اور ان کے کہنے سے فرحان نے پاس کھڑی ہانیہ کو دیکھا جو پہلے والے ہانیہ تو بلکل نہیں لگ رہی تھی وہ ڈری سہمی کھڑی تھی اسکی آنکھیں جو ہمیشہ چمکتی رہتی تھی آج خوف اور ڈر سے لال تھی اور اس کے ماتھے پے چوٹ دیکھ کے اسے خود پے غصہ آیا اس نے ایک نظر اس کی پلیٹ میں کھانا ڈالتے اس کے ہاتھوں کو دیکھا اس کی کلائی پے بھی پٹی بندھی تھی اس کے ہاتھ بھی کانپ رہے تھے تو کیا واقعی ایک مرد کی توڑی سے بے رخی اور سختی عورت کو سہما کے رکھ دیتی ہے شاید سب کی نہیں پر اپنے پسندیدہ مرد کی سختی اور بے رخی عورت کو توڑ کے رکھ دیتیی ہے
فرحا آئی تھی صبح صبح اور پھر غصے سے باہر چلی گئی تھی بہتر ہوگا تم اب اسے انفارم کردو کی وہ اس گھر نا آئے۔۔۔۔۔۔۔۔
ماما اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اس سو کالڈ مس ہانیہ کی وجہہ سے آئی سی یو میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے ایک نفرت بھری نگاہ ہانیہ پے ڈالی
اوہ سو سیڈ اور اس میں ہانیہ کی کوئی غلطی نہیں ہے اسے سمجھنا چاہیے تھا کی تمہارا نکاح ہو گیا ہے
ماما کوئی فرق نہیں پڑتا اس بات سے بہت جلد میں اسے طلاق دے کے فرحا سے شادی کرلونگا۔۔۔۔۔
اس کی طلاق والی بات پے ہانیہ تو تڑپ ہی اٹھی تھی اس نے اپنے آنسوئوں کو چھپانے کیلئیے اپنا چہرا جھکا کے اس کے آگے دوپٹہ کرلیا تھا
بلکل نہیں تم طلاق بلکل نہیں دوگے اس سب میں اگر کسی کی غلطی ہے تو تمہاری ہے فرحان تمہیں نہیں جانا چاہیے تھا اس کے گھر اتنی رات کو کچھ تو سوچتے تم کیوں گئے اب اس کی عزت کو اتنا رسوا کیا ہے تو اب اس کے ساتھ تو رہنا ہی ہے تم نے اگر نہیں رہنا چاہتے تو سمجھ لینا تمہاری ماں مرگئی تمہارے لیے اور دوبارہ اس دھلیز پے مت آنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی بات پے فرحاننے تڑپکے اپنی ماں کودیکھا تھا اس کے پاس یہیں ایک رشتہ تو تھا دنیا میں بس آج اسے ہانیہ سے اور نفرت ہونے لگی اس کی وجہہ سے اس کی ماں اسے خود سے الگ ہونے کا کہہ رہی تھی
گاڑی نکالو ہم نے فرحا سے۔ملنے ہاسپٹل جانا ہے اور ہانی بیٹا آپ بھی میرے روم میں آجائو۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی بات کہہ کےچلی گئی تھی اور ہانیہ بھی اس کے پیچھے جانے کیلئیے اٹھی اور مڑی تھی کی پیچھے سے اسے فرحان کی آواز آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب تمہاری وجہہ سے ہورہا ہے پتا نہیں کس منحوس گھڑی میں تممجھے ملی تھی میری زندگی برباد کردی ہے تم نے یاد رکھو تمہاری وجہہ سے میری ماں یا میری فرحا کو کچھ ہوا تو چھوڑونگا نہیں تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان اپنی بات کہہ کے جاچکا تھا اس کو پتھر کا کر کے اس کے قدم وہیں جم گئے تھے پر اس نے خود کو سنبھالا اسے ہمت کرنی تھی اسے اپنی محبت کو حاصل کرنا تھا
امی میں اندر آجائوں۔۔۔۔۔۔وہ مسز رمیز کے رومکے باہر کھڑی ان سے اجازت مانگ رہی تھی
ہاں آجائو نئی نئی دلہنہو ایسے اچھی نہیں لگتی یے لو پہن آئو۔۔۔۔۔۔انہوں نے ہانیہ کو لال رنگ کا سوٹ پکڑایا
پر آنٹی۔۔۔۔۔۔
پر ور کچھ نہیں جائو۔۔۔۔۔
ماشااللہ بہت پیاریلگ رہی ہونظر نا لگ جائے۔۔۔۔۔انہوں نے ہانیہ کے بالوں کو کھلا چھوڑ کے ہلکی سی جیولری پہنا کے اس کے سرپر نفاست سے دوپٹہ سجایا تھا ۔۔۔۔۔۔
ایک پل کیلئیے گاڑی میں بیٹھے فرحان کی نظر رکی تھی اس کی ہرٹ بیٹ مس ہوئی تی جب اس کی نظر سامنے سے آتی ہانیہ پے پڑی۔۔۔۔۔۔وہ گاڑی میں بیٹھ گئے تھے فرحان نے گاڑی ہاسپٹل کی طرف دوڑائ تھی نا چاہتے ہوئے بھی اس کی نظر بار بار بھٹک کر ہانیہ کی طرف جارہی تھی وہ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاسپٹل پہنچ کے اس نے گاڑی پارک کی اور انہیں اندر لے آیا اس روم میں جہاں فرحا تھی
آگئے تم میں نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان اندر داخل ہوا تو فرحا کی ماما نے اسے کہا پر پیچھے مسز رمیز اور اس انجان لڑکی کو دیکھ کے وہ چپ ہوگئی وہ یے تو سمجھ گئی تھی وہ انجان لڑکی ہی وہیں ہے جس سے فرحان کا نکاح ہوا تھا
فرحا کیسی ہو شکر ہے تمہیں ہوش آگیا جانتی ہق میں کتنا پریشان تھا۔۔۔۔۔فرحا کو ہوش میں دیکھ کے فرحان فورن اس کی طرف آیا تھا فرحان کو اس کی یوں پریشانی کرتے دیکھ ہانیہ کے دل کو کچھ ہوا تھا
کیسی ہو فرحا بیٹا۔۔۔۔۔۔مسز رمیز اس کی طرف آئی تھی
ٹھیک ہوں آنٹی۔۔۔۔۔۔۔فرحا نے ناپسندیدہ نظروں سے ان کے ساتھ کھڑی ہانیہ کو دیکھا۔۔۔
ہمم گڈ اینڈ مسز یوسف ان سے ملیں یے میری بہو ہے ۔۔۔۔۔۔اور ہانیہ یے ہمارے بہت اچھے بزنس پارٹنر یوسف کی وائف اور فرحا کی ماما باقی فرحا اور آپ تو ایک دوسرے سے مل ہی چکے ہو ۔۔۔۔اس نے مسکرا کے ان سے ہانیہ کاتعارف کیا جس پے فرحا نےغصے سے فرحان کو دیکھا
فرحان ہانیہ کی ماما بھی اسی ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہیں چلیں ہمیں ان سے بھی ملنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پر ماما میں فرحا۔۔۔۔۔۔
فرحان ہم جارہے ہیں آپ بھی آجائیں۔۔۔۔۔۔وہ انہیں کہہ کے باہر کی طرف چلی گئی
فرحا۔۔۔۔۔۔
جائو یہاں سے تم بھی فرحا اس پے چلائی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔اور فرحان اسے بے بسی سے دیکھ کے باہر آگیا
