Tere Ishq Main Ghafil By Mehak NovelR50514 Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 3)
No Download Link
Rate this Novel
Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 3)
Tere Ishq Main Ghafil By Mehak
وہ جب سے گھر آئی تھی تب سے اس کارڈ کو ہاتھ میں لے کے سوچ رہی تھی کی جائے یا نا جائے
بلکل نہیں ہانیہ تو اتنی بھی بےغیرت نہیں ہے کی کسی کی gf بن جاؤ بلکل نہیں اس نے یے کہہ کے تو تجھے طوائف بنا دیا نہیں تو بلکل نہیں جائیگی بلکل نہیں
پر اس نے کہا تھا کے وہ تجھے چھوئگا بھی نہیں
نہیں نہیں کیا بھروسا اس کمینے کی زبان کا کب بدل جائے بلکل نہیں تو نہیں جائگے بلکل نہیں وہ اپنی سوچوں میںں بری طرح الجھی ہوئی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا
اے منحوس کہاں غائب ہوگئی ہو پورا دن تو آواراگردی کرتی رہتے ہے ابھی کہاں مر گئی ہو تیری ماں الٹیاں کر رہی ہے آکے دیکھ اسے پتا نہیں کیا منحوصیت ہے…..وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کی اسے چاچی کی آواز آئی
اماں اماں کیا ہوا ٹھیک تو ہیں نا آپ
یے لیں پانی پییں میں دوائی دیتی ہوں آپ کو اس نے ساریہ بیگم کو پانی اور دوائی دی پھر انہیں لٹایا اور اس کا سر دبانے لگی اماں آپ کو تو بہت تیز بخار ہورہا ہے اماں رک میں پٹیاں رکھتی ہوں اماں ٹھنڈے پانی کی تو لیٹ میں پانی لے کے آئی
وہ پچھلے دو گھنٹے سے ساریہ بیگم کے سر پے ٹھنڈے پانی سے پٹیاں رکھ رہی تھی اب جا کے ان کا بخار کچھ کم ہوا تھا اماں اٹھیں کھانا کھائیں پھر دوائی کھا کے سوجانا دس بج رہے ہیں اماں
آگئی کھانا لینے بنایا تو کچھ نہیں نا کام کے نا کاج کے دشمن اناج کے بس مفت کی روٹیاں توڑتے رہتے ہیں ہانیہ نے ابھی کچن میں قدم رکھا تھا کی ہلیمہ بیگم شروع ہوگئی اس وقت ہانیہ پہلے ہی بھت پریشان تھی بہت ضبط کے بعد بھی اس کی آنکھوں سے آنسوں رواں ہوگئے اس نے جلدی جلدی سے اپنی ماں کیلئے کھانا نکالا اور کمرے میں آگئے کمرے میں آکے اس نے اپنے آنسو صاف کیے وہ اپنی ماں کو اپنے آنسوئوں سے تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی
اماں اٹھ جا اس نے اپنی ماں کو سہارا دے کے بٹھایا پھر کھانا کھلایا اپنے ہاتھوں سے اس کے بعد انہیں دوائی کھلا کے اس نے وقت دیکھا تو ساڈے گیارہ بج رہے تھے وہ جلدی سے اٹھی اسنے وضو کیا اور مصلہ لے کے چھت پے چلی گئی اسے نماز اکیلے میں پڑھنا پسند تھی جہاں کوئی ناہو وہاور اس کا رب بس جہاں وہ سب باتیں کر سکے رو سکے اور وہ جگہ چھت ہی تھی کیوںکہ وہاں کم ہی جاتے تھے سب اس چھوٹے سے گھر میں کوئی اور جگہ ایسے نا تھی جہاں وہ اکیلی رہ سکے اس نے نماز مکمل کی دعا کیلئیے ہاتھ اٹھائے تو بے ساختہ آنکھوں سے آنسوں رواں ہوئے اس نے ان آنسؤں کو بہنے دیا کیوںکہ وہ اپنے دل کا غبار کم کرنا چاہتی تھی کافی دیر رونے کے بعد اس نے اپنے آنسو صاف کیے اور فیصلہ کیا کی صبح وہ اس کی آفیس جائیگی او جاب کرے گی کیوںکی وہ اپنی ماں کو اب کسی اور کے رحم و کرم پے نہیں چھوڑ سکتی تھی وہ اپنے آخری سہارے کو کھونا نہیں چاہتی تھی چاہے اس کے لئے اسے کچھ بھی کرنا پڑے جانتی تھی زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے پر وہ ایسے تو اپنی ماں کو نہیں چھوڑ سکتی تھی جب بچپن میں وہ بیمار ہوتی تھی تو اماں ابا اس کو ٹھیک کرنے کیلئے کچھ بھی کر جاتے تھے نا کی موت کے آسرے یا کسی کے سہارے چھوڑتے تھے اس نے سوچ لیا تھا کی کچھ بھی کرنا پڑے وہ کریگی اپنی ماں کیلئیے ۔۔۔وہ جائے نماز سمیٹ کے اٹھی اور نیچے آئی تو دیکھا نوید ابھی تک جاگ رہا تھا ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا اسے دیکھتے ہی اس کی طرف چلا آیا جیسے اسے کا ویٹ کر رہا ہو پر وہ اسے نظر انداز کرتی آگی بڑھ گئ
سنو ہانیہ دیکھیں آپ نے کھانا نہیں کھایا پلیز کھالیں
نہیں شکریہ مجھے ضرورت نہیں اور تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں پہلے ہی بہت پریشان ہقں اس لئیے پلیزمجھے زیادہ پریشان نا کریں پلیز۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ کہہ کے رکی نہیں اور چلی گئی
یار ایسا کیوں کرتی ہو تم ہانیہ کھا لیتے تو کیا چلا جاتا اتنی محبت سے کہا تھا پھر بھی لڑتی ہو تمہیں اماں اور نائیلا کہتی ہیں یار میں نے تو کچھ نہیں کہا تو کیوں میرے ساتھ ایسا سلوک کرتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔نوید نے تصور میں ہانیہ کو سوچتے ہوئے کہا اور پھر سونے کیلیے اپنی چارپائی پے لیٹ گیا اسے بہت بیچینی ہورہی تھی ہانیہ کی سوجی لال آنکھیں دیکھ کے وہ اس سے بچپن سے محبت کرتا تھا اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا پر کیا کرتا بچارہ وہ بھی مجبور تھا ایک عام سا سرکاری آفیسر تھا کہاں سے تین لاکھ لاتا جو چاچی کا علاج کروا کے ہانیہ کی پریشانی دور کرتا وہ بس دعا ہی کر سکتا تھا جو وہ دن رات کرتا تھا
_______________________________________
کمرے میں آکے ہانیہ نے سب سے پہلے اپنی ماں کا بخار چیک کیا بخار کم تھا اس نے سکون کاسانس لیا اور اپنی چارپائی پے لیٹ گئی وہ بچی نا تھی وہ نوید کی نظروں کو پہچانتی تھی سمجھتی تھی پر وہ جسنتی تھی اپنی چاچی کو کی انہیں اگر بھنک بھی لگی اس بات کی توکیا ہنگاما کرینگی اس لئے وہ ہمیشہ نوید سے سخت رویہ اختیار کرتی تھی وہ اپنے لئیے مزید ٹینشن نہیں چاہتی تھی خیر وہ اپنی سوچوںکو جھٹک کے سوگئ کیقںکی صبح اسے جوب کیلئے جانا تھا
وہ صبح جلدی اٹھی اس نے فجر ادا کی سب کیلئیے ناشتہ بنایا اور اماں کع ناشتہ کر کے وہ جلدی سے تیار ہوئی اور باہر نکل گئی چاچی کی نظروں سے بچ کے وہ اپنا دن خراب نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئیے جلدی جلدی سب کر کے آگئی وہ بس میں بیٹھی اور اس کے آفس آگئی اس وقت 8:30 ہو رہے تھے وہ اس کی آفیس کے باہر کھڑی تھی اس وقت
ہائی اتنی بڑی بلڈنگ شکل سے تو چپراسی لگتا ہے ہوگا کوئی امپلوئی ایسے ہی کہہ رہا تھا اگر امپلوئے ہوا تو چار لاکھ کیسے دیگا مجھے پورا ایگریمنٹ کرواؤنگی اس سے آج کھول دونگی اسکے سارے چٹے پھر پوچھونگی اس سے چل ہانیہ بیٹا چپراسی سے مل لے
مجھے اس چپراسی سے آئے مین فرحان کاظمی سے ملنا ہے ۔۔۔۔اس نے کاؤنٹر پے بیٹھی لڑکی سے کہا
شینا نے اس چادر میں ڈھکی لڑکی کو ایک نظر دیکھا جس کی آنکھوں میں سرما تھا سلوار قمیض بالوں میں تیل لگا کے چوٹی کی ہوئی ھی شکل سے تو پینڈو لگ رہی تھی وہ بلکل
ایسے کیا گھور رہی ہو اس نے خود بلایا ہے بتائو کہاں ہے اس کا کیبن
ویٹ میم میں کال کرتی ہوں سر کو آپ کا نام میم شینا نے کال ملاتے اسے پوچھا
میرا نام تو وہ جانتا ہی نہیں ہے اسے بولو کل بس اسٹاپ والی ملنے آئی ہے
ہیلو سر کوئی لڑکی آئی ہے آپ سے ملنے
کون سی لڑکی اس نے مصروف انداز میں پوچھو
سر وہ کہتی ہے کل بس اسٹاپ والی
اس کے نام پے فرحان کے لبوں پے مسکان آئی تھی وہ جانتا تھا وہ آئی گی
ہمم بھیج دو اسے اس نے کہہ کے کال رکھی اور دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا اس کا متوجہ تبھی اس کی سرمائی چادر دروازے سے ظاھر ہوئی اور پھر وہ اس نے پیلے کلر کے سوٹ پے کل والی سرمائی بڑی سے چادر پہنی ہوئی تھی اس کے بالوں کی کچھ آوارہ لٹیں اس کے چہرے کو چھو رہی تھی اس بڑی کالی آنکھوں میں سرما تھا وہ پیاری لگ رہی تھی ایک پل کیلئےتو اس کی نظریں وہیں ٹھٹھک گئی تھی کیوںکے آج تک اس نے جتنی بھی لڑکیاں دیکھی تھی اس کی سوسائٹی میں وہ خودکو شو کروانے والیاں تھی یے اس سے ملنے والی پہلی لڑکی تھی جو خود کو چھپا رہی تھی
او ہیلو کہاں گم ہوگئی مسٹر چپراسی
اس کے چپراسی کہنے پے اس نے اپنے آس پاس دیکھا
تمہیں ہی کہہ رہی ہوں چپراسی اور کس کو کہونگی یہاں تیرے اور میرے علاوہ یہاں کوئی اور ہے کیا
میں میں تمہیں چپراسی لگتا ہوں
ہاں اور کیا ہانیہ نے کندھے اچکائے
واٹٹٹٹ فرحان کو بہت حہرت ہعئی فرحان دا بزنس ٹائکون جس کی ایک نظر کو لڑکیاں ترستی تھی اور وہ اسے چپراسی کہہ رہی تھی
ویسے ایک بات پوچھوں ہانیہ نے رازدانا انداز میں کہا
ہاں پوچھو بولو کیا پوچھنا ہے
یے سب کہاں سے ہتھیا ہے اتنا بڑا ڈاکا کیسے مارا تم نے ہانیہ اپنی بات کہہ کے اس کے چہرے کو غور سے دیکھ رہی تھی جوکے غصے سے سرخ ہورہا تھا
تم نے مجھے کیا سمجھ رکھا ہے
چپراسی۔۔۔۔۔۔اچھا اچھا چھوڑو بتاؤ کی کرنا کیا ہے وہ بتائو تم مجھے اس نے جب فرحان کے چہرے کے ایسے رےایکشن دیکھے تو اصل مدعے پے آئی
ہم تمہیں 8سے 5 میرے آفیس میں رہنا ہوگا تمہارا کام ڈیلی ایک ہاور کا ہی ہوگا بس ایک ہاور وہ کوئی بھی ہوسکتا ہے اور ہاں میں اس کے 4 لاجھ دونگا بس میری جی ایف بننا ہے میں تمہیں چھوئونگا بھی نہیں آئے پرومس یے رہا اسٹیمپ پیپر تم پڑھ لو اسے پھر سائن کرنا اس نے اسے ایک پیپر دیا جو کی انگلش سے بھرا ہوا تھا اس نے پیپر پکڑ کے سائن کردیے
کیا ہوا پڑھا کیوں نہیں
اگر اتنی انگلش آتی تو تم چپراسی کے پاس نوکری کرتی کیا اچھا ویسے یے بتا یے سب کرناکیوں ہے
کیوںکی میری جی ایف مجھ سے ناراض ہے اور اس نے مجھ سے بریک اپ کرکے کسی اور سے پیچ اپ کرلیا ہے اور میں اسے کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا اسے واپس لانے کا بس یہیں طریقہ ہے سو
اوہ اچھا ویسے مجھے سیلری ایڈوانس مل سکتی ہے کیا
یا شیور وائے ناٹ یے لیں اس میں پورے چار لاکھ ہیں فرحان نے ایک خاکی لفافہ اس کی طرف کیا جسے اس نے فورن پکڑ لیا
ٹھینکس میں نے آج سے کام جوائن کرنا ہے یا کل سے
کام تو کل سے جوائن کرنا ہے بٹ آج میرے ساتھ ایک پک کلک کرنی ہے جسے میں فرحا کو بھیج سکوں
ٹھیک ہے بٹ میری پک کہیں بھی میڈیا وغیرہ پے ناجائے ورنا سچ میں چپراسی بنا دونگی
اوکے۔۔۔۔اس نے پہلی لڑکی دیکھی تھی جو اپنی ایک پک کے بارے میں بھی اتنی سیکیور تھی
یہاں آئو میرے پاس کھڑی ہوئو
ہمم تھوڑا دور ہٹو تم نے کہا تھا ٹچ بھی نہیں کروگے اور ایسے تم مجھ سے ٹچ ہورہے ہو
اوکے فائن وہ اس سے تھوڑا دور ہٹا اور ان دونوں نے سیلفی لی ساتھ
اوکے بائے میں چلتی ہوں کل آٹھ بجے پہنچ جائونگی مسٹر چپراسی بائے
اچھا سنو تمہارا نام کیا ہے وہ جانے کیلئیے مڑی تھی کی فرحان نے اسے پکارا
ہانیہ۔۔۔ہانیہ میر اس نے بغیر مڑے جواب دیا اورچلی گئی فرحان نے بھی وہ پکس فرحا کو واٹس اپ کی پھر میٹنگ کیلئہے نکل گیا
