Tere Ishq Main Ghafil By Mehak NovelR50514 Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 13)
No Download Link
Rate this Novel
Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 13)
Tere Ishq Main Ghafil By Mehak
امی۔۔۔۔۔۔ہانیہ ساریہ بیگم کو دیکھ کے فورن اس کی طرف آگئی اور ان کے گلے لگ کے رونے لگی آنسو آنکھوں میں بندھی باڑ توڑ کر بہنے لگے اس نے اور دل کا سارا غبار آنسوئوں کے ذریعے بہنے لگا مسز ساریہ اپنی مضبوط کو اس طرح سے ہچکولیاں لی کے روتے دیکھ حیران ہوئی ان کی بیٹی بہت مضبوط تھی وہ کبھی بھی ایسے نا روئی تھی تو آج اسے کیا ہوا تھا جو وہ یوں رو رہی تھی ساریہ بیگم نے نظر اٹھا کے دہکھا تو سامنے ایک چالیس پینتالیس سالا خاتون کھڑی تھی اور ایک اٹھائیس سالا لڑکا وہ ان دونوں کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی اتنا تو وہ سمجھ چکی تھی کی ان کی بیٹی کے رونے کا کچھ تعلق ان دونوں سے بھی تھا
کیا ہوا میری جان ایسے کیوں رورہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے ہانیہ کے بالو میں محبت سے ہاتھ پھیرے
پر ہانیہ نے کوئی جواب نا دیا وہ خاموش رہی تو ساریہ بیگم سامنے موجود ان دونوں کو دیکھنے لگی ان کی نظروں کو سمجھتے مسز رمیز نے انہیں مخاطب کیا
میرا نام سعدیہ رمیز ہے اور یے میرا بیٹا فرحان رمیز کاظمی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا بیٹا اللہ تمہیں خوش رکھے تم نے میری بے سہارا بیٹی کو نوکری دی۔۔۔۔۔فرحان کا نام سن کے انہوں نے فرحان و دعایئیں دی
پر آپ دونوں یہاں کیسے۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی بیٹی اور میرے بیٹے کا نکاح ہوچکا ہے
انہوں نے تو گویا ان کے سر پے دھماکہ کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان کے پاس کال آئی تھی آفس سے ضروری اور وہ تو ویسے بھی بہانہ ڈھونڈ رہا تھا جانے کا اس سے ہانیہ کا ایسے رونا بلکل برداشت نہیں ہورہا تھا اس لئیے کال آتے ہی وہ ایکسکیوز کر کے جلدی سے وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔
اس کے جانے کے بعد مسز رمیز نے حلیمہ بیگم کو سب بتایا جو جو ہوا۔۔۔۔۔۔۔
اللہ خیر کرے مجھے بھائی اور بھابھی سے ایسے امید نا تھی میں نے اپنی بچی ان کے آسرے پے چھوڑی تھی اور انہوں نے اتنا بڑا الظام لگایا………..انہوں نے اپنی آنکھوں میںں آئے آنسو صاف کیے
کوئی بات نہیں بہن آپ فکر نا کریں میں ہوں اپنی بیٹی کا خیال رکھنے کیلئیے بیٹی ہے یے میری آپ بے فکر ہوجائیں۔۔۔۔۔۔انہوں نے اسے تسلی دی
ہانی بیٹا رو مت چپ ہوجا جو ہونا تھا ہوگیا پر اب میری ایک بات گانٹ باندھ لے اپنا گھر محبت اور یقین سے چلانا اور کوشش کرنا جتنا ہو سکے رشتے بچانا میری جان بہت رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کی شروعات تو نفرت سے ہوتی ہے پر آگے جاکے وہ بہت زیادہ ضبوط ہوجاتے ہیں پر اس کیلئیے انسان کو اٹل رہنا چاہیے تکلیفیں بہت آئی گی پر میری جان تم بھی ڈٹی رہنا اور جب تک تیرا دل نا مانے تب تک ہار نا ماننا اور جب تیرا دل تھک جائے تو لوٹ آنا تیری ماں ابھی زندھ ہے۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے اس کا ماتھا چوما
اور پھر کچھ دیر کی باتوں کے بعد وہ وہاں سے نکل آئے اور مسز رمیز اسے شاپنگ پے لے گئی تھی کیوںکی اس کے پاس کپڑے وغیرہ نا تھے انہوں نے اسے بہت ساری شاپنگ کروائی اور وہ سب فرحان کی پسند کی ہانیہ اب خود کو ہلکا ہلکا محسوس کر رہی تھی اور شوپنگ کے بعد وہ گھر آگئے تھے
آنٹی میں یے سب کہاں رکھوں۔۔۔۔۔۔گھر آکے ہانیہ نے مسز رمیز سے پوچھا
میری جان پہلی بات میں آپ کی ماما ہوں۔۔۔۔۔۔اور دوسری بات میری جان کی اسے اپنے روم میں رکھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا روم کونسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ جان بوجھ کے انجان بنی
میری جان ہانیہ فرحان کا روم آپ کا روم ہی تو ہے شہزادی۔۔۔۔۔۔۔
ایسے کیا کھڑی ہو جلدی جائو رکھ کے آئو پھر ڈنر بناتے ہیں ملکے ۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے اسے ابھی تک وہیں کھڑا دیکھا تو کہا وہ اس کے چہرے پےخوف دیکھ چکی تھی اس لئیے مسکرا کے کہہ کے اپنے روم میں چلی گئی
اور پیچھے وہ بھی مرے مرے قدم اٹھاتی روم میں چلی گئی پر دروازے کے باہر پہنچ کے اسے اس کا رویہ یاد آیا صبح والا اس کے پائوں وہیں جمے پر اسے ہمت کرنی تھی آج جو بھی ہو وہ اس کے سامنے ہمت سے پیش آئی گی وہ روم میں آئی اور اس نے اپنے سارے کپڑے اور جیولری الماڑی میں جگھ بنا کے سیٹ کیے اور باقی میک اپ وغیرہ کا سامان بھی ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا اور اور کچن میں آگئی اس نے مسز رمیز کے ساتھ فرحان کی فیورٹ ڈشز بنائی تھی اور پھر فریش ہونے چلی گئی فریش ہو کے اس نے گرین کلر کی لونگ شرٹ پہنی بالوں کو جوڑا بنا کے حجاب کیا ہلکا سا میک اپ پنک لپ اسٹک اور ایک ہاتھ میں چوڑیاں چوڑیاں اور دوسری کلائی پے بریسلیٹ پہنا وہ بہت پیاری لگ رہی تھی اس نے ٹھان لیا تھا کی اب وہ اپنے شوہر اپنی محبت کو اپنا بنا کے ہی دم لے گی باہر سے اس کی گاڑی کی آواز آئی اور ہانیہ کا دل زورو شور سے دھڑکنے لگا تھا اس نے جیسے تیسے اپنے دل کو سنبھالا اسے ڈر تو لگ رہا تھا پر وہ اس پے ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئیے بیڈ پے لیٹ کے اپنا موبائل اٹھا کے دیکھنے لگ گئی وہ تھکا ہارا روم میں آیا اس کی نظر سامنے بیٹھی اس پے پڑی وہ بہت پیاری لگ رہی تھی اس کی دھڑکنین روکنے کیلئیے کافی تھی اس کا وہ نکھرا نکھرا روپ فرحان کی نظریں اس پر سے ہٹنے سے انکاری تھی خود کو فرحان کی نظروں کے حصار میں محسوس کر کے اس نے نظریں اوپر کی ایک پل کیلئہے دونوں کی نظریں ٹکرائی اور پھر فرحان نے جلدی سے نظریں پھیر لی
تم یہاں میرے روم میں کیا کر رہی ہو صبح منع کیا تھا نا پھر بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے مصنوعی غصہ دکھایا اس کا غصہ تو اسی وقت جھاگ ہوگیا تھا جس وقت اس کا سجا سنورا روپ دیکھا تھا پر اس پر یے بات بلکل ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا
ہانیہ نے اس کے غصے کا کوئی نوٹس نا لیا وہ اپنے موبائل پے مگن تھی
یے میری الماڑی کی کیا حالت کر دی ہے تم ںے اپنے کپڑے یہاں کیوں رکھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اسے غصے سے کہا پر اس بار بھی اس ے اس کی طرف کوئی دھیان ا دیا بلکءے کانوں میں ہینڈ فری لگادیے اور گانے سننے لگی اب فرحان ہو سچ میں غصہ آرہا تھا وہ اس کے قریب بات کر رہا تھا
مجھے بتائوگی کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے غصے سے کہا
پر اس نے کوئی نوٹس نا دیا اور اپنے موبائل میں مگن رہی
اس بار فرحان کی ہمت جواب دے گئی اور اسے زور سے بازو سے پکڑ کے اپنے قریب کھڑا اور اپنی لال آنکھیں اس کی آنکھوں میں ڈالی ایک پل کیلئیے تو ہانیہ ڈر گئی تھی پر پھر اس نے خود کو سنبھالا کیوںکی اس پر ظاہر نہیں کرنا چہتی تھی اس نے آرام سے کان سے ہیڈ فری نکالا اور اس سے گویا ہوئی
جی آپ نے کچھ کہا ہانیہ نے نارمل انداز میں پوچھا۔۔۔۔۔۔۔
اس کے اس طرح سے کہنے پے فرحان کا دل کیا وہ اپنا سر دیوار میں مار ڈالے
تم میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو اور اپنا سامان یہاں کیون رکھا ہءے۔۔۔۔۔۔
یے صرف آپ کا نہیں میرا بھی روم ہے اور میں میرا سامان یہیں رہے گا اگر آپ کو مسئلہ ہے تو آپ جاسکتے ہیں اور اگر آپ نے مجھے یا میرے سامان کو باہر پھینکنی کی ہمت کی تو میں خود کو ےتین سے چار چوٹیں لگا کے پولیس کے پاس جائونگی اور کہونگی کی میرا شوہر مجھ پے ظلم کرتا ہے کیوںکی میں غریب گھرانے سے تعلق عرکھتی ہوں روز شراب پی کے آتے ہیں اور مجھے مارتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ اسے کہہ کے اس کی پکڑ میں سے اپنا بازو آزاد کرا کے وہاں سے جا چکی تھی اور پچھی وہ اس کی جھوٹ کے بارے میں موں پھاڑے سوچتا رہ گیا وہ کیسے بھول گیا تھا کی وہ لڑکی اسے ہمیشہ سے لاجواب کرتے آئی تھی اور آج بھی وہیں ہوا تھا
وہ نیچے آیا تو اس کی مام اور ہانیہ ڈنر کر رہی تیھی اس کے بغیر ہی بخیر وہ بھی چیئر کھینچ کے اس پے بیٹھ گیا گکھانا سب کی سند کا بنا ہوا تھا اس نے کھانے میں سے نوالہ لگایا اسے اندازہ ہوگیا کی کھانا اس کی مام نے نہیں بنایا۔۔۔۔۔۔
ماما کھانا آپ نے نہیں بنایا۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔
مجھے نہیں کھانا بوکھ نہیں لگی۔۔۔۔۔۔۔وہ اٹھنے ی لگا تھا کی ہانیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کے روک لیا
کھانا تو آپ کو کھانا ہی پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اسے مسکرا کے کہا جس سے اس کا اندر تک جل گیا
میں نہیں کھائونگا۔۔۔۔۔۔۔اس نے دانت پیس کے کہا
سوچ لیں۔۔۔۔۔۔
ہاں مجھے نہیں کھانا۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے نا کھائو اگلے دس دن تک آپ کو گھر میں کھانا نہیں ملے گا۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا اور اپنا کھانا کھانے لگی
تم کون ہوتی ہو فیصلہ کرنے والی یے میرا گھر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
میں آپ کی بیوی ہوں اور ففٹی پسینٹ میرا بھی حق ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ایک انداز سے کہتی پھر کھانا کھانے کگی
اور فرحاںن اسے دیکھتا بیٹھ کیا کھانے کیلئیے کیوںکی وہ دس دن باہر کا کھانا تو بلکل نہیں کھا سیکتا تھا
