Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 16)

Tere Ishq Main Ghafil By Mehak

سنو ۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ جانے کیلئیے مڑی تھی کی پیچھے سے فرحان نے اسے بلا لیا

ہاں جی سرتاج۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے سر کو خم دیا

اکیلی کیسے جائوگی ڈرائونگ آتی ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔۔

نہیں مجھے نہیں آتی پر میں چلی جائونگی ڈرائیور کے ساتھ آئی تھی۔۔۔۔۔۔ہانیہ جانے کیلئیے مڑی۔۔۔

اوکے۔۔۔۔۔ہائے کھانا تو بہت اچھا بناتی ہے یے مس بڑ بڑ پیٹ ہی نہیں بھرتا ۔۔۔۔۔۔فرحان نے کھانے کا لاسٹ نوالہ کھایا اور ہینڈ واش کرنے چلا گیا تھا واپس آیا تو فرحا کی کالس لگی ہوئی تھی اس نے کال بیک کی

کہاں تھے اتنے وقت سے آپ کتنا ٹائم ہوگیا ہے کال کر رہی ہوں میں اٹینڈ کیوں نہیں کر رہے۔۔۔۔۔۔۔

کہیں نہیں فرحا وہ بس میٹنگ میں تھا تم بتائو کیسی ہو اب۔۔۔۔۔۔۔

فرحان یے کیسے بات کر رہے ہو پہلے تو کبھی ایسے نہیں کرتے تھے کہیں اپنی اس بیوی کا اثر تو نہیں پڑ گیا نا تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ وہ۔۔۔۔۔۔فرحا یار تم بھی کیسی اف آئی مین کی آپ کیسی باتیں کر رہے ہو بتائو کیسی ہو۔۔۔۔

ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔۔۔خیر چھوڑو یے بتائو اس کو طلاق کب دوگے۔۔۔۔۔۔۔فرحا اپنے مقصد کی بات پر آئی تھی

فرحا ہیلو ہیلو ۔۔۔۔۔۔۔مجھے تمہاری آواز نہیں آرہی۔۔۔۔۔فرحان نے جان بوجھ کے ایسا کہا کی وہ اسے کیا کہتا کی اس نے شرط رکھی ہے اور وہ تو ویسے بی ابھی غصے میں تھی اگر کچھ ایسا ویسا کہتا تو ضرور وہ اس سے اور خفا ہوجاتی اس لیے فرحان نے کال کٹ کر کے موبائل ہی اوف کردیا ۔۔۔۔۔۔۔اور سیکرٹری کو بلایا

یس سر۔۔۔۔

اکانشا میرے لیے کوئی بھی کال آئے تو کہنا سر میٹنگ میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان کے کہنے پے اس کی سیکرٹری نے اسےمشکوک نگاہوں سے دیکھا آج پہلی بار وہ اسے جھوٹ کہنے کا کہہ رہا تھا

اففف مس ہانیہ پکا تمہارا اثر پڑ گیا ہےمجھ پے اس لیے تو لینگویج بھی چینج ہوگئی ہے۔۔۔۔۔۔۔اب کھڑی کھڑی دیکھ کیا رہی ہو جائو۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جلدی جلدی کام نمٹاتا گھر کیلئیے نکلا گھر پہنچتے پہنچتے بھی اسے نو بج گئے تھے اسنے گاڑی گھر داخلی دروازے سے داخل کی تو دیکھا گھر میں بہت اندھیرا تھا وہ گاڑی پارک کر کے گھر کے اندر داخل ہوا ڈور تو اوپن تھا مطلب وہ گھر پر ہی تھی تو اندھیرا کیوں تھا۔۔۔وہ اندر آیا یہاں بھی کوئی نا تھا روم میں بھی نہیں تھا

ہانیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماما۔۔۔۔۔۔

ہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ انہیں پکار رہا تھا کی دیکھا گھر کی پچھلی طرف سے لائٹنگ آرہی تھی وہ اس طرف آگیا اس نے وال ڈور اوپن کیا تو دیکھا سامنے سوئمنگ پول کے قریب ایک ڈیٹنگ ٹیبل رکھی تھی اور اس کے سامنے پیڑ پر لائٹنگ کی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔زمین پر ہلکی ہلکی گھاس پر ریڈ انڈ وائٹ بلونس بکھرے تھے ۔۔۔۔۔وہ سب تو ٹھیک تھا پر ان کو سجانے والی کہاں تھی وہ اس طرف آیا تو ہانی نے ہلکا ہلکا میوزک اسٹارٹ کیا۔۔۔۔۔اس نے مڑ کے دیکھا تو ہانیہ ریڈ گائون پے کھلے بال وہ بہت زیادہ پیاری لگ رہی تھی اور چاند کی روشنی میں اس کا چہرہ اور پیارا لگ رہا تھا فرحان کی تو نظریں اس پر سے ہٹنے سے انکاری تھی وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

میرے ساتھ ڈانس کروگے مائے لولی ہزبینڈ۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اس کے سامنے ہاتھ پھیلایا جسے فرحان نے تھام لیا۔۔۔۔۔۔اور پھر چاند کی اور کینڈلس کی ہلکی ہلکی روشنی تھی اور ہلکا ہلکا میوزک جس پے وہ ڈانس کر رہے تھے ایک الگ ہی سکون تھا اس ماحول میں۔۔۔۔۔۔۔۔

مریض عشق ہوں میں

کردے دوا۔۔۔۔

مریض عشق ہوں میں۔۔۔

کردے دوا۔۔۔۔

طلب ہے تو۔۔۔۔۔تو ہے نشہ۔۔

جیسے جیسے سونگ چل رہا تھا فرحان ہانیہ میں کھورہا تھا اسے محسوس ہورہا تھا کی یے سونگ نہیں اس کے ہی جذبات ہیں جو وہ بیان کر ہا ہے۔۔

طلب ہے تو ۔۔تو ہے نشہ۔۔۔۔غلام ہے دل یے تیرا۔۔۔۔

فرحان کا دل بھی اس گانے کی لاریکس کی طرح دھیرے دھیرے اس کا غلام ہوتا جارہا تھا ۔۔۔ہانیہ کو نا دیکھے تو اس کی طلب ہونے لگتی تھے۔۔۔۔۔کھل کے زرا جی لوں تجھے ۔۔۔۔آجا میری سانسوں میں آ۔۔۔۔

مریض عشق ہوں میں کردے دوا۔۔۔ہاتھ رکھ دے تو دل پے زرا۔۔۔۔۔۔فرحان کا دل بھی دھیرے دھیرے اس کے عشق میں گرفتار ہوتا جا رہا تھا رات کے اس وقت چاند کی چاندنی میں وہ اس جی باہوں میں تھی اسے اپنے عشق میں گرفتار کر رہی تھی دھیرے دھیرے۔۔۔۔سونگ ختم ہوتے ہی جیسے فرحان ہوش میں آیا تھا

یے سب کیا ہے ہانی۔۔۔

یے یے نا میں نے یہاں لنگر لگایا ہے غریبوں کیلئیے۔۔۔۔اس کے سوال پے ہانیہ نے کڑ کے جواب دیا اس نے اتنی محنت کی تھی اور وہ انجان بن کے پوچھ رہا تھا کی یے سب کیا ہے۔۔۔۔۔

ہانی۔۔۔۔۔۔فرحان نے اس کی بات پے بہ مشکل اپنی ہنسی دبائی تھی۔۔۔۔۔یار کبھی تو سیدھے موں جواب دے دیا کرو۔۔۔۔

یا اللہ کیا دے دیا ہے دینا ہی تھا تو ڈھنگ کا دیتے یے تو ایک دم الو ہے۔۔۔۔۔اس کی بات پے ہانیہ نے آسمان کی طرف دیکھ کے دہائی دی۔۔۔۔۔۔

اچھا بی سیریس یار بتائو۔۔۔۔

میرا دل کر رہا تھا میرے ہزبینڈ کے ساتھ ڈنر کرنے کا تو اسلئے یے سب کیا۔۔۔۔اب چپ کر کے چلو اس چپکلی کے ساتھ تو کافی ڈنر کیے ہیں اب میرے ساتھ کرو۔۔۔۔۔ہانیہ اسے کہہ کے ٹیبل کی طرف چلی گئی اوراپنی چیئر پے بیٹھ گئی وہ بھی اس کے پیچھے آیا اور انہوں نے ساتھ لنچ کیا آج وہ بہت پیاری لگ رہی تھی فرحان کی نظریں اس پر ے ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔ہانیہ نے کھانا کھانے کے بعد اس کی طرف ایک گفٹ پیک کیا

یے کیا ہے۔۔۔۔۔فرحان نے اس گفٹ کو مشکوک نظروں سے دیکھا

ایک تو ہر بات پے اتنے سوال پھر کہتے ہو کی میں الٹے جواب دیتی ہوں اب دیکھ رہے ہو کی گفٹ ہے تو کھولونا۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ کوئی چیز اٹھا کے اس کے سر پر مارتی

فرحان نے جب گفٹ کھولا تو اس کے اندر ایک بریسلیٹ تھا جس کے اوپر ہاف ہرٹ ایف اور ایچھ لکھا تھا اسنے اسے پھر ہانیہ کو دیکھا۔۔۔۔۔پہنو اسے ۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اسے کہا اور اپنی کلائی پے بندھا بریسلیٹ دیکھا جس پے اس ہرٹ کا ہاف حصہ تھا اور ایف اور ایچھ لکھا تھا

میں کیوں پہنوں اسے۔۔۔۔۔۔فرحان نے کندھے اچکائے

کیوںکی میں کہہ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔

اور میں تمہاری بات کیوں مانوںگا۔۔۔۔۔۔

اوکے نا مانو پھر مجھے مت کہنا جو ہوگا ذمیدار تم ہوگے۔۔۔وہ شرارت سے کہہ کے اٹھ گئی وہاں سے۔۔۔

مس ہانیہ بتائو تو کیا کروگی اس کی سنے بغیر وہ وہاں سے چلی گئی تھی اور فرحان نے بریسلیٹ پر ایک مسکراتی نظر ڈال کر اسے اپنی کلائی کی خوبصورتی بنایا تھا اس کے مطابق وہ دھمکی دے گئی ہے کیا پتا کرلے بس اس لیے پہنا ہے پر اس کے دل نے وہ اپنے محبوب کا پہلاتحفہ سمجھ کے اپنایا تھا پر وہ اپنے دل کی نہیں سننا چاہتا تھا شاید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *