Tere Ishq Main Ghafil By Mehak NovelR50514 Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 2)
No Download Link
Rate this Novel
Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 2)
Tere Ishq Main Ghafil By Mehak
اماں اماں کیا ہوا آپ کو….ہانیہ جب عشاء پڑھ کے نیچے آئی تو ساریہ بیگم خون کی الٹیاں کر رہی تھی
چاچو چاچو دیکھیں نا امی کو کیا ہوگیا ہے….
اڑے بھابھی کو تو خون کی الٹیاں ہورہی ہیں بیٹا تم جلدی سے بھابھی کو چادر پہناؤ اور خود بھی پہنو نوید تم جا کےکوئی رکشہ کروا آئو پاس والی سرکاری ہسپتال چلیں
____________________________________
ایک گھنٹہ ہو گیا تھا انکو ہاسپٹل آۓ ہوۓ ڈاکٹر اور ساریہ بیگم اندر آئی سی یو میں تھے ہانیہ مسلسل روۓ جارہی تھی
ڈاکٹر ڈاکٹر کیا ہوا ہے میری اماں کو اب
دیکھیں ہم نے پہلے بھی بتایا تھا انہیں بلڈ کینسر ہے انہیں مسلسل کسی اچھی ہاسپٹل میں علاج کی ضرورت ہے میں آپ کو ایک ہاسپٹل سجیس کرتا ہوں پر اس کی فیس منتھلی تین لاکھ روپے ہیں زندگی موت تو اللہ کے ہاتھوں میں ہیں پر مجھے یہیں لگتا ہے کی اگر واقعی انہیں بچانا چاہتے ہیں تو یہیں آخری حل ہے…ڈاکٹر اپنی بات مکمل کر کے جا چکہ تھا اور پیچھے ہانیہ پریشان وہ تین لاکھ روپے کہاں سے لائیگی اس کی زندگی میں اس کی ماں اس کا آخری سہارا تھی وہ اسی کھونا نہیں چاہتی تھی وہ کیا کرے کہاں سے لائے تین لاکھ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کی وہ کیا کرے گھر آکے بھی پوری رات اسی بات کے بارے میں سوچتے سوچتے گزر گئ
صبح سویر اٹھ کے اس نے نماز ادا کی
یا اللہ میں کیا کروں کہاں سے لاؤں اتنے پیسے یا اللہ تین لاکھ کیا میرے پاس تو تین ہزار بھی نہیں ہے اور کوئے مجھے اگر کوئی نوکری ملی تو بھی پچیس چھبیس ہزار ملینگے میں دن رات نوکری کروں تو بھی میں تین لاکھ نہیں کما سکتی یا اللہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں یا اللہ کہاں سے لاؤں اتنے پیسے یا اللہ میری مدد فرما میرے مولا تو تو رحمان ہے کریم ہے تیرے لئیے تو کچھ بھی ناممکن نہیں تو تو اپنے بندوں کی دعائیں کبھی رد نہیں کرتا یااللہ میری دعا بھی سن لے ہانیہ نے اپنی دعا مکمل کی دوپٹے سے آنسو صاف کئیے جائے نماز سمیٹا اور نیچے کچن میں آگئی جلدی جلدی سے ناشتہ بنانے لگ گئی کیوںکہ اسے پھر انٹرویو کیلئیے بھی جانا تھا اس لئیے جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگی
سن اے منحوس اگر آج بھی باھر آواراگردی کرنے جائے گی تو پہلے ہی کھانا بنا کے جا دوپہر کا مجھ سے نہیں بنتا بڈھی ہوگئی ہوں نائیلا بھی ٹھیک نہیں بو مفت کی روٹیاں توڑتی رہتی ہو کچھ کام بھی کرلیا کر ……ہانیہ ناشتہ بنا کے فارغ ہی ہوئی تھی کی باھر سے ہلیمہ بیگم کی آواز آئی اسے کچھ پہلے سے ہی اندازہ تھا اس لئیے اس نے تیاری کر رکھی تھی خیر اس نے جلدی جلدی ہاتھ چلائے اور فارغ ہوئی جلدی سے اماں کو ناشتہ دوائی دی اور کپڑے چینج کر کے اپنے بھورے بالوں کی چوٹی کی اپنے اوپر چادر لی اور باھر نکل گئی
کہاں جا رہی ہو آؤ میں چھوڑ دیتا ہوں….ہانیہ ابھی آنگن میں ہی پہنچی تھی کی بائک اسٹارٹ کرتے نوید نے اسے جانے کیلئیے تیار دیکھا تو کہا
نہیں میں چلی جاؤنگی مجھے کسے کے احسان کی ضرورت نہیں
اڑے ہانیہ اس میں احسان کیسا میں بھی تو جارہا ہوں تمہیں بھی چھوڑ دیتا ہوں
میں نے کہا نا مجھے ضرورت نہیں پھر بھی پیچھے لگ جاتے ہو جب دیکھو گھورتے رہتے ہو سب جانتی ہوں تمہارے ارادے میں کمینے انسان پر یاد رکھنا ہانیہ میر تمہارے جھانسے میں نہیں آنے والی مجھ سے دور ہی رہا کرو ہانیہ نے اسے انگلی سے وارن کیا اور چلی گئی…..
______________________________________
پوری رات کلب میں رہنے کے بعد ابھی وہ گھر پہنچا تھا
گڈ مارننگ مام….اس نے گارڈن میں ٹھلتی اپنی ماما کو ہگ کیا
فرہان تم نے پھر ڈرنک کی ہے بیٹا
اوہوں مام ڈونٹ وری اٹس کامن کچھ نہیں ہوتا
اس کی ماں اسے شراب پینے پر ہزار بار ڈانٹ چکی تھی پر وہ بلکل نہ سنتا تھا
اچھا بتاؤ رات کہاں تھے یو نو میں کتنی ٹینس ہوگئی تھی میری جان
ماما کچھ نہیں بس کلب میں تھا آل نائٹ مجھے سکون کی طلب تھی اسلئے
بیٹا میں نے کتنی بار بتایا ہے آپ کو سکون اس شراب کلب لڑکیوں ان سب میں نہیں بلکے نماز میں ہے
اوہ مام پلیز صبح صبح میرا موڈ خراب نا کریں پہلے ہی اپ سیٹ ہوں
کیوں کیا ہوا بیٹا پھر لڑائی ہوئی تمہاری فرحاسے
یس مام آئی سوئر میری کوئی غلطی نہیں تھی مام میں اس سے محبت کرتا ہوں آئے لو ہر بٹ ماما وہ سمجھتی ہی نہیں آئے کانٹ لائیو وتھ آؤٹ ہر
اچھا آۓ نو میرا بچا خیر تم جاؤ خیر تم جاو فریش ہوجاؤ جب تک میں تمہارے لیے ناشتہ بناتی ہوں
ہمم اوکے ماما وہ کہتے چلا گیا پتا نہیں کب سدھرے گا یے امیما بیگم نے اس کی پشت کو دیکھ کے کہا انہیں فرحا ایک آنکھ نا بھاتی تھی وہ ماڈرن سی پینٹ شرٹ کھلے لباس پہنتی دوپٹہ سر پے تو چھوڑو کبھی اس نے کندھے پے بھی نا ڈالا تھا خیر پہنی تو اس نے کبھی سلوار قمیض بھی نا تھی اور لڑکوں کے ساتھ گھومنا پارٹیس کلب تو اس کا پیشن تھا وہ تو دن رات دعائیں مانگتی تھی کی ان کے بیٹے کی زندگی میں کوئ سلجھی ہوئی لڑکی آئے جو کی انکے بیٹے کو بھی نیک بنائے اور خود بھی پاکدامن ہو اینڈ شاید ان کی دعا کی قبولیت کا وقت آچکا تھا
فرحان جب فریش ہوکہ نکلا تو اس کے موبائل پے فرحا کے دو میسج اور ایک پک آئی ہو تھی فرحان نے جلدی سے موبائل اٹھایا اور فرحا کا انبوکس چیک کیا اسے لگا شاید کی وہ مان گئی ہوگی رات جو فرحان نے اسے سوری کے طور پے کار گفٹ میں بھیجی تھی اس سے پر جب اس نے میسج چیک کیے تو اس کی اوپر کی سانس اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی اس کے میسیج میں لکھا تھا کی اسے نیو بی ایف مل گیا ہے اور اب وہ اسے میسیج کال نا کرے اور ناہی ملنے کی کوشش کرے پہلے تو اسے کچھ سمجھ ہی نپیں آیا اور پھر فرحان نے اپنی کار کی کئیز اٹھائی اور تیزے سے باہر نکلا باہر نکل کے اس نے اس نے جلدی سے کار نکالی اس کا ارادہ فرحا سے ملنے کا تھا اس نے 2 گھنٹے کا سفر 30 منٹ میں طئے کیا تھا اور فرحا کے گھر کے باہر گاڑی روک کے وہ گھر میں داخل ہوا اور پھر سیدھا فرحا کے روم میں
فرحا ہاؤ ڈیئر یو ٹو ڈو دس …….فرحان فرحا پے چیخا تھا
اس کو ایسے دیکھ کے فرحا کو خوف محسوس ہونے لگا خیر اس نے خود کو کمپوز کیا اور کہا دیکھو فرحان یے میری لائف ہے میں اپنے حساب سے چلونگی تمہارے حساب سے نہیں میری لائف میری مرضی
نہیں فرحا تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی
میں کچھ بھی کر سکتی ہوں یے میری لائف ہے میری مرضی چلے گی تمہاری نہیں تم ہوتے کون ہو مجھ پے یوں حق جتانے والے فرحان
دیکھو فرحا میری بات سنو میں جانتا ہوں تم مجھ سے ناراض ہو میری جان پر پلیز میرے ساتھ ایسا تو مت کرو نا جان ہم بیٹھ کے بات کرتے ہیں نا پلیز تم جو کہو گی میں مانونگا بٹ فرحا پلیز ایسا تو مت کرو نا
دیکھو فرحان مجھے کوئی بات نہیں کرنی تم سے تم جاؤ یہاں سے
پلیز جانی پلیز
فرحان آئے سیڈ گیٹ آؤٹ
فرحان اسے نم آنکھوں سے دیکھتا وہاں سے نکل گیا اور آکے گاڑی میں بیٹھا خالی رستوں پے بے مقصد تین چار گھنٹے گاڑی دوڑانے کے بعد وہ ایک ویران جگہ آکے بیٹھ گیا اس نے اپنا موبائل بھی بند کردیا تھا اس نے گھڑی پے ٹائم دیکھا تو پانچ بج رہے تھے وہ جانتا تھا کی اس کی ماں اس کا انتظار کر رہی ہوگی پریشان ہوگئی ہوگی وہ تو انہیں بتا کی بھی نہیں آیا تھا اس لئیے وہ اٹھا اور آکے گاڑی میں بیٹھا گاڑی اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا پر لگتا ہے آج اس کا بیڈ لک ہی خراب تھا بیچ رستے میں اس کی گاڑی خراب ہوگئی اسٹارٹ بھی نہیں ہورہی تھی وہ کار سے باہر نکلا گاڑی کو دیکھنے کیلئیے اسے خود سے تھوڑا دور بس اسٹیشن پے بیٹھا ایک وجود نظر آیا اس نے خود کو پوری طرح سے دوپٹے سے کور کیا ہوا تھا ناجانے کیوں فرحان کے قدم خود بہ خود اس طرف بڑھے
یا اللہ آج بھی نوکری نہیں ملی اب کیا کروںگی کیسے کراؤنگی اماں کا علاج کہاں سے لاؤنگی ہر مہینے تین لاکھ روپے میرے مالک کیسے اکھٹا کروں کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آرہا تین لاکھ تو دور کی بات ہے یہاں تومجھے سترہ ہزار والی نوکری بھی نہیں ملرہی ہانیہ خود سے ہی باتیں کر رہی تھی کی اسے اپنے پاس کسی اور کا احساس ہوا اس نے دیکھا تو کوئی ستائیس اٹھائیس سالہ لڑکا اسے دیکھ رہا تھا شاید اس نے ہانیہ کی باتیں سن لی تھی
ہاۓ میرا نام فرحان کاظمی ہے…..فرحان اس کے پاس ہی بیٹھ گیا
دیکھو کمینے میں جانتی ہوں تم جیسے ٹھرکیوں کو اچھے سے کہیں لڑکی دیکھی نہیں کی آگئے چھیڑنے پر مجھے عام لڑکیوں جیسا سمجھنے کی غلطی نا کرنا یے جو میرے پاؤں میں جوتی ہے نا تم جیسوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلانے کیلئیے کافی
واٹٹٹٹ اے ای لسن جیسا آپ سمجھ رہی ہیں میں ویسا نہیں ہوں
ہاں جانتی ہوں تم جیسوں کو اچھے طریقے سے گھٹیا انسان خیر میرے پاس اتنا وقت نہیں کی تم سے بیحس کروں ہانیہ اٹھی اور آگے بڑھ گئی ابھی اس نے چند قدم ہی اٹھائے تھے کی اسے فرحان کی آواز آئی
میں تمہیں تین لاکھ پر منتھ دے سکتا ہوں….اس کی آواز پے چلتی ہانیہ کے قدم روکے اور وہ مڑی
تمہیں لگ رہا ہوگا کی میں مزاک کر رہا ہوں پر میں فرحان کاظمی ہوں شاہ انڈسٹری اینڈ کمپنی کا اونر یے رہے میرے کارڈس ان سے تمہیں یقین آجائیگا فرحان نے اسے کارڈس تھمائے
مجھے کیا کرنا ہوگا ….ہانیہ نے بے یقیںے سے کارڈس کو دیکھا اسے یقین نہیں ہورہا تھا کی اس کی دعا قبول ہوگئی ہے پر اس کی اگلی بات پے دعا کی خوشی کہیں دفن ہوئی اور اس کا چہرہ غصے سے لال ہوا
تمہیں ہر روز بس ایک گھنٹے کیلئیے میری جی ایف بننا ہوگا
کیا تم نے مجھے طوائف سمجھ رکھا ہے کمینے انسان گھٹیا شخص مجھے نہیں چاہیئے پیسے میں ڈھونڈ لونگی نوکری
سوچ لو آئے سوئر میں تمہیں ٹچ تک نہیں کرونگا تمہاری آبرو پر آنچ بھی نہیں آنے دونگا اور سیلری بھی 4 لاکھ
گھٹیا انسان تمہاری ماں نے تمہیں یہیں سکھایا ہے کی کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں کمینے انسان مجھے نہیں چاہیے ایسے پیسے وہ یے کہہ کے آگے بڑھ گئی تھی
سوچ لینا اگر صحیح لگے تو میرے کارڈس ہیں تمہارے پاس میرے آفس آجانا انتظار کرونگا تمہارا
