Tere Ishq Main Ghafil By Mehak NovelR50514 Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 4)
No Download Link
Rate this Novel
Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 4)
Tere Ishq Main Ghafil By Mehak
ہانیہ خوشی خوشی گھر آئی وہ بہت خوش تھی فائنلی وہ آج اپنی ماں کا علاج کروا سکتی تھی ایک منٹ ایک منث جھلی ایسے ہی اندر کہاں جا رہی ہو ایسے کیسے بتا دوگی جب کوئی پوچھے گا کی کہاں سے آئے اتنے پیسے تو کیا بتائونگی ایسے تو ہرگز نہینں بتا سکتی کی کسی کی جی ایف بنی ہوں ایسے تو وہ میری ہی جان لے لینگے ہائے اب کیا کروں میں ہاں کہونگی جوب مل گئی پر ایسے کیسے وہ کیا کہینگے کی انٹر پاس کو وہ بھی سرکاری اسکول سے اس کو چار لاکھ کی نوکری کونسا گدھا دے گا کوئی سافٹ ویئر انجینئر تو ہوں نہیں میں ہائے کیا کروں یے مسلئہ جس کی وجہہ سے ہوا ہے اسے ہی کال کرتی ہوں پر کیسے میرے پاس تو موبائل ہی نہیں ہے چل گھر چل کے نوید سے لیتی ہوں موبائل پھر کرتی ہوں کال وہ گھر کا دروازہ کھول کے اندر داخل ہوئی
اسلام علیکم۔۔۔۔۔اسے آنگن میں کوئی نظر نہیں آیا وہ بھی یہیں چاہتی تھی کی کوئی نا ہو شکر ہے کوئی نہیں تھا اس نے جلدی سے اپنے کمرے میں جانا ہی بھتر سمجھا وہ جلدی سے کمرے میں آئی اس کی ماں سوئی ہوئی تھی اس نے اپنی چادر اتاری ٹائم دیکھا تو دن کے 12 بج رہے تھے جلدی جلدی کچن کی طرف چلی گئی ادھر دن والے برتن بھی پڑے ہوے تھے اس نے وہ دھوئے اور کھانا بنایا پر ابھی تک بھی کوئی گھر نا آیا تھا اس نے شکر منایا اور ظھر کی نماز ادا کر کے اٹھی تین بج رہے تھے ابھی بھی گھر پے کوئی نہی تھا اس نے اپنی ماں کیلئیے کھانا نکالا اور اس کے پاس آگئی
اماں اٹھ کھانا کھا لے
اماں ویسے یے سب کہاں گئے ہیں کوئی بھی گھر پر نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔اس نے اپنی ماں کو تکیے کے سہارے بٹھایا اور اسے پانی پلایا
بیٹا شادی پے گئے ہوئے ہیں آتے ہی ہونگی تو بتا ہانی بیٹا صبح صبح کہاں گئی تھی تو
اماں بس نوکری ڈھونڈنے۔۔۔۔اس نے اپنی ماں کے موں میں نوالہ بنا کے ڈالا
بیٹا تو کیوں خود کو خوار کرتی ہی نہیں ملرہی تو چھوڑ دے نا
اماں ایسے کسے مل جائے گی تو فکر نا کر سب ٹھیک ہوجائیگا ابھی تیری ہانی زندہ ہے تو کیوں پریشاںن ہوتی ہے اماں ۔۔۔۔۔۔۔اب وہ کیا بتاتی کی اسے نوکری مل گئی ہے
اللہ تجھے خوش رکھے میری جان ورنہ آج کل کون پوچھتا ہے اپنی بیمار ماں باپ کو۔۔۔۔۔اماں نے اس کے سر پے ہاتھ پھیرا
لے اماں دوائی کھا اس نے اپنی ماں کو دوائی کھلائی
اچھا بیٹا اب تو بھی کھانا کھالے
ہاں اماں بس یے برتن رکھ آئوں۔۔۔۔وہ برتن رکھنے کیلئیے کچن کی طرف جارہی تھی کی دروازہ بجا اس نے برتن کچن میں رکھے اور دروازہ کھولا سامنے نوید کھڑا تھا آج پہلی بار اسے نوید کو دیکھ کے خوشی ہوئی تھی اور نوید نے اس کی خوشی نوٹ کی تھی نوید کے چہرے پر بھی مسکان آئی تھی
نوید بھائی آپ موں ہاتھ دھوئیں میں کھانا لاتی ہوں۔۔۔۔۔وہ نوید کو کہہ کے کچن کی طرف بڑھ گئی جلدی سے کھانا نکالا اور اس کے کمرے کی طرف آئی
نوید بھائی میں اندر آجائوں۔۔۔۔اس نے باہر رک کے اجازت مانگی
ہاں آجائو۔۔۔۔۔نوید کو تو آج وہ جھٹکے پے جھٹکے دے رہیتھی پہلے خوش ہو کے دروازہ کھولا پھر اب کھانا بھی لائی اور اتنی خوشدلی سے اجازت بھی مانگ رہی تی ورنا تو ہمیشہ پٹک کے چلی جاتی تھی
اس نے کھانا رکھا اور سںامنے کھڑی ہوگئی نوید نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
کھائیں نا کھانا بتائیں کیسا بنا ہے
بہت اچھا بنا ہے کھانا
نوید بھائی مجھے آپ کا موبائل چاہیے ایک منٹ کیلئیے وہ مجھے اپنی ایک سہیلی سے بات کرنی ہے
اوہ تو اس لئیے یے مھربانی ہورہی تھی ہم پے نویدنے دل میں کہا اور اسے موبائل دیا
ٹھینکس وہ جلدی سے کمرے سے باہر گئی اور اپنے پرس سے اس کا پرسنل آئی ڈی کارڈ نکالا نمبر ملایا
افف پتا نہیں کہاں مر گیا ہے کمینہ کہیں کا۔۔۔۔۔اس کے کال نا اٹھانے پے ہانیہ نے موبائل کو غصے سے دیکھا جیسے وہ موبائل نا فرحان ہو
ہیلو کون۔۔۔اس بار اس نے کال اٹھائی تھی اور اٹھاتے ہی پوچھا تھا
تمہاری دشمن چپراسی۔۔اس نے دانت پیس کے جواب دیا
اوہ اچھا محترمہ بتائیں کیسے یاد کیا ۔۔۔۔۔۔اس کی آواز سن کے فرحان کے چہرے پے مسکان آئی تھی وہ خود نہیں جانتا تھا کیوں
وہ یے جو مصیبت تم نے میرے کندھے پے مڑی ہے نا اس کا میں کیا کروں
کیا مطلب۔۔۔۔اس کی بات فرحان کو سمجھ نا آئی تھی اس نے کونسی مصیبت مڑی تھی اس کے سر
یے جو جی ایف والا پھندا ڈالا ہے میرے گلے میں اور یے جو پیسے دیے ہیں ان کا کیا بتائوں گھر والوں کو
کی تمہیں میری جی ایف بننے کے پیسے ملے ہیں
تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے پاگل واگل ہوگئے ہو گھر سے جوتے مار کے نکال دیں گی چاچی کی جوتی بھی بہت سخت ہے کچھ اور بتائو
تو کہہ دو کاظمی انڈسٹری میں جاب ملی ہے فرحان کاظمی کی سیکرٹری ہو اور اس کی اتنی ہی سیلری ہوگی
اوکے چپراسی اور ہاں غلطی سے بھی اس نمبر پر کال نا کرنا کذن کا نمبر ہے
تو تم نے مجھے اپنے کذن کے نمبر سے کیوں کال کی ہے کیا مجھ پے یقین نہین ہے حد ہے یار
نہیں میرے پاس موبائل ہی نہیں ہے
کیا اس دور میں بھی تمہارے پاس موبائل نہیں ہے اسے واقعی حیرت ہوئی تھی
ہاں نہیں ہے خیر میں رکھتی ہوں بیلینس میرا ختم ہوراہا ہے چپراسی تمہارا نہیں۔۔۔۔۔۔اس نے یے کہہ کے کال کٹ کردی تھی
جھلی ۔۔۔۔۔۔۔فرحان موبائل کو دیکھ کے مسکرایا چل بیٹا فرحان اٹھ اور جا کے اپنی ٹیمپرری جی ایف کیلئیے موبائل لے آ ایک منٹ آرڈر بھی کر سکتا ہوں میں کیوں ایسے دکانوں پے دھکے کھائوں کیا ہوگیا ہے مجھے فرحان یو آر بیہیونگ لائک ا چیپ پرسن
_______________________________________
یے لیں آپ کا موبائل ٹھینکس نوید بھائی وہ اسے موبائل دے کے برتن اٹھانے لگی اور اسنی بھی کھانا کھایا پھر بیچینی سے اپنے چاچا کا انتظار کر رہی تھی بے صبری سے وہ آئے تو اسے وہ پیسےی دے سکیں اور اپنی ماں کا علاج کروا سکے دروازہ بجا تھا اس نے دوڑ کے خوشی سے دروازہ کھولا تھا چاچا آپ بیٹھیں میں پانی لاتی ہوں
کیا ہوا آج میری بیٹی بہت خوش لگ رہی ہے
ہاں چاچا وہ مجھے نوکری مل گئی کاظمی انڈسڑی میں مسٹر فرحان کاظمی کی سیکرٹری کی اور آپ کو پتا ہے سیلری بھی چار لاکھ ہے چاچا میں اب اماں کا اچھا سا علاج کروانا چاہتی ہوں آپ اماں کو لے چلیں نا اس ہوسپیٹل ہانیہ نے چہکتے ہوئے اپنی بات بتائی وہ جانتی تھی اس کے چاچا بھت خوش ہونگی کیوںکی انہیں ہانیہ اپنی بیٹی کی طرح عزیز تھی
اللہ تمہیں کامیاب کرے ہانی پت جا جا کے چادر پہن اور بھابھی کو بھی لے آ ابھی چلتے ہیں
پر چاچا آپ کھانا تو کھالیں پہلے
نہیں بیٹا میری خوشی سے ہی پیٹ بھر گیا
اچھا چاچا میں پہن کے آتی ہوں
وہ واقعی بہت خوش تھے اپنے بھائی کی آخری نشانی کو اتنا خوش دیکھ کے عالیان کی موت کے بعد ہانیہ نے تو مسکرانا ہی چھوڑ دیا تھا آج وہ آٹھ سال بعد انہیں اتنی خوش نظر آئی تھی انہوں نے سچے دل سے فرحان کو دعا دی تھی جس وجہہ سے آج ان می بیٹی اتنا خوش تھی
_______________________________________
ان کو ہاسپیٹل ایڈمٹ کروا کے وہ دونوں اب گھر آچکے تھے
کہاں گئی تھی رات رات غائب رہتی ہے تو اے منحوس ہماری عزت کا تو کچھ خیال کرلے۔۔۔۔۔وہ ابھی گھر میں داخل ہوئی تھی کی چاچی کے طعنے شروع ہوگئے تھے پر پیچھے سے ایان صاحب کو دیکھ کے وہ چپ ہو گئی تھی
اپنی اس منحوص ماں کو کہاں چھوڑ کے آئی ہے
ہاسپیٹل ایڈمٹ کروا کے آئی ہوں
آئے ہائے اتنے پیسے کہاں سے لائیگی تو ہماری کوئی بینک تو نہیں کھلی نا
مجھے نوکری ملگئی ہے اس کے پیسے سے
تجھ منحوص کو کس نے نوکری دے دی۔۔۔۔۔۔انہیں کسے بھی طرف چین نا تھا ہانیہ نے اپنے بیگ سے بیس ہزار نکال کے انہیں پکڑا دیے
یے لیں میرا اس مہینے کے خرچا ۔۔۔۔۔۔
اتنے پیسے کہاں سے لائی تو۔۔۔۔۔۔کہیں ڈاکا مارا ہے یا اپنی عزت بیچ کے آئی ہے بیغیرت
چاچی پلیز کبھی تو اچھی بات کہہ لیا کریں آپ مجھے نوکری ملی پے کاظمی انڈسٹری میں فرحان کاظمی کی سیکرٹری کی۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اپنی بات کہی اور کمرے میں چلی گئی کیوںکی وہ جانتی تھی ابھی انکی چاچی بھت سارے سوال کرینگی اور وہ ابھی کوئی جواب نہیں دینا چاہتی تھی اس نے نماز پڑھی خدا کا شکر ادا کیا آج وہ بھت خوش تھی اس نے نماز کر کے سونے کیلئیے لیٹ گئی صبح اس کی نوکری کا پہلا دن تھا وہ اچھا سا گذارنا چاہتی۔ تھی۔۔۔۔
________________________________________
صبح جلدی اٹھ کے اسنے ہمیشہ کی طرح نماز ادا کی کھانا بنایا سب کیلئیے اور جلدی جلدی تیار ہوئی اور ساڈے سات بجے گھر سے نکل گئ کیوںکی آٹھ بجے اسے آفس پہنچنا تھا
وہ آفس پہنچ کے سیدھا فرحان کے کیبن میں آئی تھی
اس کا آفیس روم تو بہت پیارا ہے وہ بغور ہر چیز کو دیکھنے لگی آفیس کی وال پے ایک پک لگی تھی جس میں فرحان کسی جینس پہنے لڑکی کے ساتھ کھڑا تھا
یہیں ہوگی اس کی جی ایف جو اس سے ناراض ہے کھاتی پیتی نہیں ہے کیا ایک دم چپکلی جیسی ہے ہانیہ نے اس کے سلم سمارٹ فگر کو چپکلی کا نام دے دیا تھا
پتا نہیں یے امیر لڑکیاں کھاتی پیتی کیوں نہیں ہے اتنی سوکھی ہوئی ہوتی ہیں کے ہوا لگے تو اڑ جائینگی یے ۔۔۔۔۔وہ ابھی اس پک کو دیکھ رہی تھی کی اسے اپنےپیچھے سے فرحان کیآواز آئی
کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔۔۔فرحان نے اسے پک کا جائزہ لیتے دیکھا تو پوچھا
دیکھ رہی ہوں کی یہی ہے ناتمہاری وہ جی ایف۔۔۔۔۔۔اس نے بغیر فرحانکی طرف مڑے جواب دیا
ہاں۔۔۔۔۔کیوں
ویسے جوڑی اچھی لگ رہی ہے نا چپراسی لو چپکلی ہاہاہاہا ہانیہ اس کے سامنے چیئر پر بیٹھی
واٹ تم اسے چپکلی کہہ رہی ہو پر کیوں
دیکھا ہے کیسی سوکھی ہوئی ہے چپکلی
اسے سمارٹ رہنا کہتے ہیں مس ہانیہ
ہاہاہاہاا اگر اسے سمارٹرہنا کہتے ہیں تو یے تو مر جائیں گی
اب سب آپ جیسی تو نہیں ہوتی نا ہانیہ
ہاں جی وہ تو ہے یے میرے کیا میری جوتی کے برابر بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے بھی اسے ترقے با ترقے جواب دیا
افففف میں بھی کس سے بے حس کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔یے لو تمہارا موبائل۔۔۔۔فرحان نے ایک ڈبا اس کی طرف کیا
یے کیوں۔۔۔۔ہانیہ نے اسے گھورا
دیکھو مجھی کسی وقت تمہیں کال کرنی ہو تو اسلئیے
بلکل نہیں میرا ڈیوٹی ٹائم اٹھ سے پانچ ہے اس کےبعد تم کون میں تمہیں نہیں جانتی چپراسی
اوہ پلیز میں جوب کے وقت بھی تو کال کر سکتا ہوں پلیز یار رکھ لو
نہیں میں نہیں لونگی
افففف مس ہانیہ پلیز
مجھے آپ کے احسان کی ضرورت نہیں
مس ہانیہ میں کوئی احسان نہیں کر رہا ہوں یے بھی جوب کا حصہ ہے پلیز
اچھا اوکے۔۔۔۔۔
شکر ہے آپ کو پتا ہے اگر اتنی منتیں میں فرحا کو کرتا تو وہ بھی مان جاتی
ہاں توجائو ناکرو اسےمنتیں چپراسی
اففف اوکے آپ یہیں رہے میری میٹنگ ہے
اوکے جائیں دفع ہوجائیں
۔۔۔۔۔ہانیہ نے لاپرواہی سے جواںب دیا
او میرے خدا کہاں پھنس گیا میں
