Tere Ishq Main Ghafil By Mehak NovelR50514 Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 15)
No Download Link
Rate this Novel
Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 15)
Tere Ishq Main Ghafil By Mehak
فرحان جب باہر نکلا تو ایک منٹ کیلئیے تو اس کی نظر ہانیہ پے ٹھر ہی گئی وہ بہت پیاری لگ رہی تھی اورنج فراک میں اس کا رنگ نکھرا نکھرا لگ رہا تھا وہ پہلے ریڈی نہیں یوتی تھی تب بھی پیاری لگتی تھی اور اب تو قیامت ڈھا رہی تھی فرحان جی نظریں اس پر سے پلٹنے سے انکاری تھی
پیاری لگ رہی ہوں نا جی۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے شرمانے کی نقل کرتےہوئے دوپٹے کو انگلیوں سے مروڑنے لگی
بلکل نہیں بلکل پیاری نہیں لگ رہی ہو۔۔۔۔۔۔فرحان نے کندھے اچکائے اور ڈریسنگ مرر کے سامنے کنگی کرنے لگا
وہ کہتے ہے نا جب دل آجائے گددھی پے تو پری کیا چیز ہے وہیں حال تمہارا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا مطلب یے گدھی کون اور تم کہاں سےپری ہو۔۔۔۔
گدھی وہ چپکلی ہے اور میں واقعی پری نہیں بلکے حور ہوں حور جا جا کے اس کھجور میں اٹکی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے موں کے عجیب عجیب زاویے بگاڑے۔۔۔۔۔۔۔
اففف ایک تو آپ کی لینگویج مجھے سمجھ نہیں آتی مس بڑ بڑ۔۔۔
ہاں ہاں میری کیو سمجھ آئی گی آپ کی آنکھوں پے تو اس چڑیل کی پٹی بندھی ہے ہائے میں معصوم سی بیوی نا جانے کونسا کالا جادو کرلیا ہے اس نے آپ پے کی اس ڈائن کے آگے میں تو نظر آتی ہی نہیں آپ کو۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے فل ڈرامائی اندازمیں کہا
ہاہاہاہاہا آپ اور معصوم مس ہانیہ۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان آج پورے دو دن بعد ہنسا تھا اور اس کا ڈمپل بھی نمایاں ہوا تھا جس پے ہانیہ کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا
آئے نو بہت پیارا ہوں۔۔۔۔۔ہانیہ کو خود کو یقں تکتا پا کر اس نے کہا
بہت پیارے ہو تم۔۔۔
بھاڑ میں جائو کونسا ہمارے ہو تم۔۔۔۔۔۔وہ ہانیہ ہی کیا جو جواب نا دیتی وہ فرحان کو جواب دیتی روم سے باہر چلی گئی
______________________________
وہ جب ناشتہ کیلئیے آیا تو اس کی مام اور وہ مسکرا کے ناشتہ ہی کر رہی تھی وہ ایک نظر ان پے ڈال کے چیئر کھینچ کے اس پے بیٹھ گیا
یے کیا ہے۔۔۔۔۔۔اس نے ڈائننگ ٹیبل پر پڑے ناشتےکی طرف اشارہ کیا جس میں آلو کے پراٹھے رائتہ لسی مکھن موجود تھے
ناشتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اپنی ہنسی دبائی
اسے ناشتہ تو نہیں کہتے یے تو بہت زیادہ ہے![]()
نا جی ناشتہ ہی ہے فل پنجابی ناشتہ۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے لسی کا گلاس اپنے لبوں سے لگایا
مجھے نہیں کھانا مجھے بریڈ اور جیم چاہیے۔۔۔۔۔
نہیں ہے۔۔۔۔
کیا مطلب نہیں ہے۔۔۔۔میں سوچا کیا پھیکا ناشتہ کرنا اس لیے میں نے وہ سکینہ بی کو دے دیے
مجھے نہیں کھانا کھانا۔۔۔۔۔
اوکے مرضی ہے تمہاری ویسی تو ہائے بہت مزے کے بنے ہہں انگلیاں چاٹنے کو دل کر رہا ہے ہائے گرم گرم پراٹھے مکھن لگے ساتھ رائتہ اور لسی آئے ہائےمزے ہی مزے۔۔۔۔۔ہانیہ اسے جیلس کرکے کھانے پے مجبور کر رہی تھی اور وہ بس دیکھتا رہ گیا دل تو اس کا بھی کر رہا تھا پر اب تو وہ کہہ چکا تھا کیا کرتا
فرحان کھا لو پھر آفس کیلئے بھی تو لیٹ ہورہی ہے نا۔۔۔۔۔مسز رمیسز کو اس پے رحم آہی گیا اور ان کے کہتے ہی اس نے پراٹھا اپنی پلیٹ میں نکالا تھا
موم صرف آپ کہہ رہی ہیں اس لیے کھا رہا ہوں۔۔۔۔۔فرحاں نے چبا چبا کے الفاظ بولے
آآ پانی پانی۔۔۔۔۔فرحان کو ایک نوالہ لگاتے ہی ہوش ٹھکانے آگئے تھے وہ کافی تیکھے تھے
اتنے تیکھے۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے پانی پینے کے بعد کہا
تو کیا تمہارے والا پھیکا کھانا کھائونگی مزا ہی تو ان میں ہے۔۔۔۔۔ہانیہ بھی کہہ کے اپنی پلیٹ پے جھک گئی تھی اسے اپنا پراٹھا ٹھنڈا تو بلکل بھی نہیں کرنا تھا اور فرحان بھی کھانے لگا جو بھی تھا ٹیسٹی تھے
ویسے لوگ تو کہہ رہے تھے انہیں یے ہیوی ناشتہ نہیں کرنا پر یہاں تو انہوں نے دو دو پراٹھے کھا لیے ہیں۔۔۔۔۔۔کھانے کے بعد ہانیہ نے اس پے طنز کیا
ہاں وہ وہ ۔۔۔۔۔۔۔اچھا مجھے لیٹ ہورہی ہے بائی۔۔۔۔۔۔جب فرحان سے کوئی بات نا بنی تو وہ چلا گیا اور پیچھے ان دونوں کا زبردست قہقہہ گونجا تھا
________________________________
ابھی میٹنگ سے فری ہوکر وہ اپنی ٹیبل پر سر ٹکائے بیٹھا تھا اس نے آنکھیں موندی تو اسے ہانیہ کا صبح والا روپ نظر آیا
یے مجھے کیا ہورہا ہے بلکل نہیں ہانیہ کے بارے میں نہیں سوچنا ہے بلکل نہیں فرحان۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان خود کی سوچوں کو جھٹک رہا تھا جب ڈور پے نوک ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔آجائیں ۔۔۔۔
اس کے کہنے پے پیون اندر آیا
سر وہ میم آئی ہے۔۔۔۔۔۔۔
کون سی میم۔۔۔۔۔۔
میں آئی ہوں۔۔۔۔۔پیون کے جواب دینے سے پہلے ہانیہ نے دروازے سے جھامک کے کہا اور اندر آگئی اسے دیکھ کے فرحان کے چہرے پے مسکان بکھری تھی
اوکے آپ جائیں۔۔۔۔۔پیون کو کہہ کے وہ ہانیہ کی طرف متوجہ ہوا
تو آپ کیوں آئی ہیں یہاں مس بڑ بڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مس بڑ بڑ اپنے مسٹر چپراسی کیلئیے کھانا لے کے آئی ہی۔۔۔۔۔ہانیہ نے شرمانے کی کوشش کی
مس ہانیہ یے شرمانے کی ایکٹنگ نا کیا کریں آپ سے نہیں ہوگا یے سب۔۔۔۔
ہوںںں۔۔۔۔۔ہانیہ نے موں بنایا
اچھا اب اگر کھانا لائی ہی ہو نکال کے سامنے بھی رکھ دیں تاکی کھا بھی لیں ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے کہنے پے ہانیہ نے ٹفن اوپن کیا جس کے اندر سرسوں کا ساگ مکئی کی روٹی تھی اور ساتھ میں لسی کا تھرماس بھی سامنے رکھا
کھائیں دیکھ کیا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اس پے ایک نظر ڈالی اور پانی کا گلاس قریب کرلیا جانتا تھا ابھی بھی کھانا بہت تیز ہوگا
کیا ایسے بوکھوں کی طرح کھا رہے ہو بتائو بھی تو کیسا بنا ہے۔۔۔
بس اچھا بنا ہے۔۔۔۔فرحان نے موںمیں نوالہ ڈالا
بس اچھا۔۔۔۔۔ہانیہ کا موں کھلا
ہاں بس اچھا۔۔۔۔۔
تو کھا ہی کیوں رہے ہو ریسٹورنٹ سے منگا کے کھا لو یے ادھر دو میں واپسی میں کسی غریب کو دے دونگی ہانیہ نے ٹفن بوکسس اپنی طرف کیے۔۔۔۔۔۔
اڑے نہیں نہیں کھانے کو واپس نہیں بھیجتے۔۔۔۔۔۔۔
اچھا تو میں کھا لیتی ہوں یہیں ویسے بھی بوکھ لگی ہے اور آپ کو اچھا نہیں لگ رہا تو نا کھائیں نا۔۔۔۔۔
افف میری ماں اچھا ہے اب ادھر کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان شاید بھول گیا تھا کی مقابل ہانیہ ہے
ہائے میں آپ کی ماں کچھ تو شرم کرلیں ہائے میں مر گئی۔۔۔۔۔۔
مس بڑ بڑ دھیرے یے آفس ہے۔۔۔۔۔۔۔
اچھا مجھے لگا سڑک ہے۔۔۔۔۔میں تو چلا چلا کے کہوںگی ہائے دیکھو میرا شوہر مجھ سے بلکل محبت نہیں کرتا ہے ۔۔۔۔ہانیہ باقاعدہ چیخی تھی وہ تو شکر فرحان کا روم سائونڈ پروف تھا اس لیے آواز باہر نہیں گئی۔۔۔۔۔۔۔
اوہ محترمہ کیوں گلا خراب کر رہی ہیں اپنا چپ ہوجائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں صحیح کہہ رہے ہو میرا گلا خراب ہوگیا تو تم میری پیاری آواز کیسے سنوگے ویسے آپس کی بات ہے آج چپکلی سے ملنے نہیں گئے کیا۔۔۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں چلتی ہوں آنٹی ویٹ کر رہی ہونگی میرا۔۔۔۔۔۔
