Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 10)

Tere Ishq Main Ghafil By Mehak

تمہارا برتھڈے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں وش کرنے آیا تھا یار۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اسے گھورا

اس کی بات پے ہانیہ نے اسے حیرت سے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہے ایسے کیوں دیکھ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔

تم مجھے وش کرنے آئے ہو۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے آنکھوں میں حیرت لے کے اسے دیکھا

ہاں اور کیوں آئونگا۔۔۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں سے آنسو آئے تھے اس کے بابا کے جانے کے بعد تو وہ خود بھی بھول گئی تھی کی کب اس کی برتھڈے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھا رونا مت اب اٹھو یے پہنو۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اسے شاپر پکڑائی۔۔۔۔۔

یے کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔۔۔

ڈریس لایا ہوں تمہارے لیے پلیز جلدی سے ریڈی ہوجائو پھر کیک کٹ کرتے ہیں

اوکے وہ اسے کہہ کے واشروم میں چلی گئی اور پھر دو منٹ بعد وہ اس بلیک فراک میں اس کے سامنے تھی بہت زیادہ پیاری لگ رہی تھی فرحان کی تو نظر بھی اس پر سے ہٹنے سے انکاری ہوگئی تھی

کیا دیکھ رہے ہو ایسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ نہیں بہت پیاری لگ رہی ہو یار تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھا ٹھینکس۔۔۔۔۔

چلو کیک کٹنگ کرو بارہ ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔

کیا ہوا فرحان نے اسے فراک کو سیٹ کرتے دیکھا تو پوچھا

وہ فراک کافی لمبا ہے مجھ سے نہیں سنبھلرہا۔۔۔۔۔

اوہ کوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان کی بات ابھی ادھے میں تھی کی ہانیہ کا پائوں اپنے دوپٹے میں پھنسا وہ گرنے ہی والی تھی کی فرحان نے اسے پکڑ لیا اور اسے وقت کسی نے دروازہ کھولا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان دونوں نے دروازے کی طرف دیکھا تو ہانیہ کی چچی اس کے کذن چاچا اور کچھ پڑوس کی عورتیں اور مرد اور وہ چار لفنگے لڑکے بھی جن کو ہانیہ نے اس دن پیٹا تھا دروازے پے کھڑے تھے ان لوگوں ک دیکھ کے ہانیہ جلدی سے فرحان سے دور ہٹی تھی۔۔۔۔۔۔۔

آئے ہائے اب یے دن دکھانا رہ گئے تھے ایک بن باپ کی بچی کو پالا تھا یے سوچ کے کی دعائیں ملے گی بھلا کرتو بھلا ہوگا پر تو تو چلی تھی ہمارا ہی موں کالا کرنے تجھے ذری شرم نا أئی یے حرکت کرتے ہوئے میں بھی سوچوں ایسے کیسے تجھے چار لاکھ کی نوکری مل گئی بھئی ہمیں کیا پتا تھا تو یے گل کھلا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی چاچی کی باتوں پے ہانیہ کے آنسو رواں ہوگئے تھے آج خود پے اتنے گندے الظام سن کے اس کا تو دماغ ہی سن ہوگیا تھا کام کرنا بند کر گیا تھا اس کا دل چاہ رہا تھا کی ابھی کے ابھی اسے موت آجائے وہ اگلی سانس بھی نا لے پائے وہ مرجائے۔۔۔۔۔

نہیں ایسا کچھ نہیں ہے آنٹی میں تو اسے برتھڈے وش کرنے آیا تھا بس۔۔۔۔۔۔۔۔اس کو چپ دیکھ کے فرحان نے جواب دیا

ہاں ہاں ہمیں بھی پتا ہے کی اتنا بڑا بزنس مین ایک کام کرنے والے کے گھراس کا برتھڈے وش کرنے آئے گا وہ بھی رات کے اس وقت چوروں کی طرح دروازہ پھلانگ کے۔۔۔۔۔۔۔اس بار کسی اور نے کہا تھا

ہانی بتائو انہیں میں تمہیں وش کرنے آیا تھا بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے ہانیہ کو دیکھا جو کسی اسٹیچیو کی طرح کھڑی تھی

ہانی بولو بتائو انہیں۔۔۔۔۔۔۔اسے چپ دیکھ کے اس نے پھر سے ہانیہ کوکہا

اڑے یے بچاری کیا کہے گی اس وقت تم ہی اس کے گھر آئے ہو ہماری بچی کی عزت خراب کرنے کوئی پیاری اور بھولی بھالی لڑکی دیکھی نہیں کی شروع ہوگئے اور ہماری ہانی تو مجبور تھی تم امیر کوگ ہقوتے ہی ایسے کمینے اور نیچ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس بار کہنے والا اس کا چچا تھا

فرحان کو ہانیہ پے رہ رہ کے غصہ آرہا تھا کی وہ خاموش تھی اور اس کی خاموشی کی وجہہ سے اسے گناھگار مانا جارہا تھا

چل بیٹا نوید مولوی کو بلا کر لا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مولوی کیو۔۔۔۔۔۔۔۔

صرف عزت کے ساتھ کھیلنا آتا ہے تم لوگوں کو پر اب عزت بنانا پڑے گا ہماری ہانی کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے چاچا نے غریبان سے پکڑا تھا

نہیں میں نکاح نہیں کرونگا جب میں نے کچھ کیا ہی نہیں تو میں کیوں نکاح کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے بھی انکی آنکھوں میں دیکھ کے جواب دیا تھا

نکاح تو تمہیں کرنا ہی پڑے گا ۔۔۔۔۔۔ایسے یا ویسے شرافت سے نکاح کرلو ورنا یے جو اتنے سال لگے ہےنا نام کمانے میں ایک ہی منٹ منٹ میں اس خبر سے ختم ہوجانا ہے۔۔۔۔۔۔

نہیں آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واہ بیٹا واہ۔۔۔۔۔آپ لوگ ہمارے عزتوں کے ساتھ کھیل سکتے ہو اور ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا مولوی آگئے۔۔۔۔۔۔۔۔

چلو اب نکاح تو کرنا ہی پڑے گا لے أئو ہانیہ کو باہر حلیمہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب ایک طرف ہانیہ اور ایک طرف فرحان بیٹھے تھے دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے ہانیہ تو اب بھی روئے جارہی تھی اس کے آنسورکنے کا نام نہیں لے رہے تھے آج اس کے کردار پے اتنا بڑا سوال ایسا تو اس نے کبھی نا سوچا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور فرحان کو ہانیہ سے نفرت ہونے لگی تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا آج وہ یوں چپ تھی ویسے تو اس کی زبان فرفر چلتی تھی اور آج ایکدم خوش شاید وہ بھی باقی لڑکیوں جہسی تھی پیسے پے مرنے والی اور ایسے اچھے رشتے کو وہ ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتی تھی

ہانیہ عثمان میر آپ کا نکاح فرحان رمیز کاظمی کی ساتھ کیا جارہا ہے کیا آپ کو قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مولوی کے لفظ اسے اپنے اوپر اس کے کانوں میں گرم سیسے کی طرح پڑ رہے تھے اس نے ایسے تو نا نا سوچا تھا وہ ایسی زندگی تو نہیں چاہتی تھی جس میں اس کا شوہر اس سے محبت ہی نا کرے کیا وہ شاید اتنی ہی بدنصیب تھی کی اسے کبھی کسی کی محبت نصیب نہیں ہوگی ہمیشہ نفرت ہی ملے گی اسے

ہانیہ عثمان میر آپ کا نکاح فرحان رمیز کاظمی کی ساتھ کیا جارہا ہے کیا آپ کو قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی طرف سے کوئی جواب نا پاکر مولوی نے پھرسے پوچھا اور اس کے دوبارہ پوچھنے پے سامنے بیٹھے فرحان نے ایک نفرت بھری نظر سے اس کی طرف دیکھا

قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے دل پے پتھر رکھ کے جواب دیا اور اس کی آنکھوں سے آنسوں رواں تھے

ہانیہ عثمان میر آپ کا نکاح فرحان رمیز کاظمی کی ساتھ کیا جارہا ہے کیا آپ کو قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ عثمان میر آپ کا نکاح فرحان رمیز کاظمی کی ساتھ کیا جارہا ہے کیا آپ کو قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔

نکاح کے بعد انہوں نے فرحان کے ساتھ اسے رخصت کیا تھا اور پورے رستے فرحان نے غصے میں گاڑی دوڑائی تھی اور وہ خاموش سسکیاں لیتی رہی۔۔۔۔۔۔۔

اترو نیچے۔۔۔۔۔ گھر کے سامنے گاڑی روک کے فرحان غصے سے باہر نکلا اور اس کی سائیڈ کا ڈور اوپن کر کے اسے کہا پر اس کا کوئی جواب نا ملںے پے اس نے اسے بازو سے پکڑا اور اسےگھسیٹتا ہوا لاکے حال میں پٹکا تھا اور اس نے اسے اتنی زور سے دھکا دے کے چھوڑا تھا کی وہ زمین پے جاکے گری تھی اور سامنے پڑی میز سے اس کا سر ٹکرایا تھا اس کے سر سے خون نکل رہا تھا اور ہانیہ کے رونے میں اور روانی آئی تھی

بند کرو اپنا یے ناٹک اب یہاں ہو تم جو چاہتی تھی ہوگیا وہ اب کیوں رورہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اس کے چہرے کو دبوچ کے پکڑا تھا اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کے کہا تھا

ہانیہ نے اس کی آنکھوں کو دیکھا جو ہر وقت ٹھنڈی اور نرم رہتی تھی اور اس وقت اس کی آنکھیں غصے سے لال تھی اس میں ہانیہ کو اپنے لئیے نفرت دکھ رہی تھی صرف نفرت اسے اس کی آنکھوں سے خوف آنے لگا تھا وہ بھی اسے ہی غلط سمجھ رہا تھا آخر اس کی غلطی کیا تھی

مسز رمیز جو شور سن کے نیچے آئی تھی اس آواز پے پر نیچے اپنے بیٹے کو کسی لڑکی کا چہرہ پکڑے دیکھا وہ بھی اتنی بے دردی سے ان کی آنکھوں میں غصہ ابھرا تھا انہوں نے ایسی تربیت تو نہیں کی تھی۔۔۔۔۔

فرحان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انکی آواز پے وہ اس کا چہرہ چھوڑ کے ان کی طرف متوجہ ہوا تھا

کون ہے یے۔۔۔۔۔۔۔اور اتنی رات کو ہمارے گھر کیا کر رہی ہے اور تم کہسے بے ہیو کر رہے تھے اس سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ہانیہ کے قریب آئی تھی اور اسے زمین سے سہارا دے کے اٹھایا

بہو ہے آپ کی دھوکے سے نکاح ہوا ہےمیرا اس سے اور یے اس سے بھی زیادہ برا رویہ ڈزرو کرتی ہے مام دو ٹکے کی دوکھے باز لڑکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی بات کہہ کے چلا گیا ان کی سنے بغیر اور وہ پیچھے اس کو دیکھتی رہ گئی انکا بیٹا ایسا تونا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی باتیں سن کے ہانیہ کے تو پائوں تلے زمین نکل گئی تھی اس کی آنکھیں بند ہونے کگی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *