Tere Ishq Main Ghafil By Mehak NovelR50514 Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 6)
No Download Link
Rate this Novel
Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 6)
Tere Ishq Main Ghafil By Mehak
اس نے اسے اپنے گھر کی گلی کے قریب ڈراپ کیا اور آگے وہ پیدل چلنے لگی وہ اپنی ہی سوچوں میں گم چل رہی تھی کی اس کے کانوں میں کسی کی آواز آئی اس نے مڑ کے دیکھا تو کچھ آوارہ لڑکے کھڑے تھے وہ اسے اغنور کر کے چلنے لگی کی ان کی بات پے وہ رکی
اوہو کہاں چلی ہو چھمک چھلو تھوڑا وقت ہمیں بھی دو۔۔۔۔۔۔۔۔ان ٹھرکیوں میں سے ایک نے کہا اس کی بات پے ہانیہ نے انہیں گھورا
ایسے کیوں دیکھ رہی ہو آنکھوں سے قتل کروگے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں بیٹا اردہ تو ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے کہا
ہائے ہم تو تمہارے ڈائلاگس پے ہی مر گئے چھمک چھلو۔۔۔۔۔۔۔
اڑے اڑے ایسے کیسے ابھی تو کچھ دیکھا ہی کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ ان کے قریب گئی اور انکو دیکھ کے مسکرائی اور اپنی چپل اتار کے ان سب کو پیٹنا شروع کردیا
اور بتا بیٹا چھک چھلو کی آنکھیں ہی نہیں جتی بھی قتل کرتی ہے تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہانیہ میر کو چھیڑنے کی۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ انھی ابھی بھی چپل سے مار رہی تھی۔۔۔۔آس پاس بھی لوگ جمع ہوگئے تھے
اڑے معاف کردو بہن اب کسی کو نہیں چھیڑینگے بہن ایک بار معاف کردو۔۔۔۔۔۔آس پاس لوگوں کو جمع دیکھ کے ان کو ڈر لگا ایک یے کم تھی جو باقی بھی مارتے اب
اڑے اتنا جلدی بہن بھی بنا لیا تھوڑی سی تو ہمت رکھو۔۔۔۔۔اور آپ سب نے بھی چوڑیاں پہن رکھی ہے کیا آئو مارو ۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اپنے آس پاس کھڑے لوگوں سے کہا اور خود دور ہوگئی
فرحان جو کی اسے اس کا موبائل دینے آیا تھا جو وہ گاڑی میں ہی بھول گئی تھی اس کا یے روپ دیکھ کے شوک رہ گیا تھا مطلب یے محترمہ صرف بولتی نہیں بلکے ہاتھ پیر بھی اچھے چلاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم یہاں کیا کر رہے ہو میں نے منع کیا تھا نا پھر بھی تم یہاں آئے کیوں۔۔۔۔۔ہانیہ نے اسے دیکھا تو اس کہ طرف آئی اور اس پر چلا اٹھی۔۔۔
میں آیا تو تمہیں موبائل دینے تھا جو تم گاڑی میں بھول گئی تھی پر آپ نے تو ہمیں ہ شوک کردیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اسے موبائل دیا
اڑے یے یے تو ہانیہ میر کے بائییں ہاتھ کا کھیل ہے اسے ایسوں کو تو ایسے ہ سیدھا کرلتی ہے خیر تم جائو یہاں سے کسی نے دیکھ لیا تو میں تو مر گئی جائو دفع ہو یہاں سے اب تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے باھر جانے کا کہہ کے خود بھی گھر کی طرف نکل گئی
گھر پہنچ کر اس نے جلدی جلدی سارے کام ختم کیے کیوںکی اسے اپنی ماں کے پاس ملنے جانا تھا سب کام ختم کرنے کے بعد وہ چاچو یا نوید کا نتظار کرنے لگی اور نوید کے آتے ہی اس نے جلدی جلدی اسے کھانا دیا
نوید بھائی۔۔۔۔۔ہانیہ نے معصومیت سے اسے پکارا اس معصومیت کا مظاھرہ وہ تب ہی کرتی تھی جب اسے کوئی کام ہوتا تھا یے بات نوید اچھے طریقے سےجانتہ تھا پر کیا کرتا وہ جب بھی اس سے اس معصومہت سے بات کرتی اس کے بس میں ہو تو پوری دنیا اس کے قدموں میں لا کے رکھ دیتا
جی جی بولو ہانیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نوید نے اسے مسکراتی نگاہوں سے دیکھا
وہ نوید بھائی مجھے ہاسپٹل جانا ہے اماں سے ملنے تو کیا آپ لے کر چلیں گے مجھے۔۔۔۔۔۔۔
ہاں ہاں کیوں نہیں تم چادر اوڑھ لو میں بائک نکالتا ہوں
اوکے بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نو خوشی سے کہا اور ااپنے کمرہ میں چلی گئی
اگر اتنی محبت سے کہوگی تو کیسے منع کرونگا ہم تو تمہارے غصے اور اکڑ کے بھی صدقے جاتے ہیں تمہاری محبت تو ہماری جان لے لیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔نوید نے مسکرا کے کہا اور بائک نکالنے کیلئے چلا گیا
_____________________________________
ڈاکٹر اماں اب کیسی ہے اور کتنےدن لگینگے۔۔۔ہانیہ نے اپنی ماں سے ملنے کے بعد اب ڈاکٹر سے ان کے بارے میں پوچھ رہی تھی
دیکھیں ابھی انہیں ایڈمٹ ہوئے صرف ایک دن ہوا ہے اور میں اتنا کچھ تو بتا نہیں سکتا پر ہاں ان کاکینسر کا لیول نارمل ہے وہ ٹھیک ہوجائیگی بہت جلد آپ اتنی فکر نا کریں۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر اسے کہہ کے اب جا چکا تھا
ہانیہ چلیں ہم اب گھر کافی لیٹ ہوگئی ہے آٹھ بج رہے ہیں۔۔۔
ہاں نوید بھائی چلیں ۔۔۔۔۔وہ ان کے ساتھ چلنے لگی اور پھر وہ دونوں باہر آگئے ۔۔۔۔۔۔۔
آئسکریم کھائوگی ہانیہ۔۔۔نوید نے ہوسپٹل کے تھوڑا قریب ہی آئسکریم پارلر کو دیکھا تو ہانیہ سے پوچھا
ہاں پر کافی ٹائم ہوگیا ہے دیر ہوجائیگی ہمیں چاچی ڈانٹیگی اس لئیے گھر ہی چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ہاںیہ نےوقت دیکھا تو کہا
نہیں اماں کی فکر نا کرو انہیں میں سنبھال لونگا تم چلو آئیسکریم کھاتے ہی
اچھا اوکے بھائی۔۔۔۔۔۔۔
ہانیہ جوب کا پہلا دن کیسا رہا کیا کیا کیا أئی مین کیسا کام تھا۔۔۔۔۔۔اس نے آئیسکریم کھاتے ہانیہ سے پوچھا
آئیسکریم کھاتی ہانیہ کو کھانسی ہوئی اس کی بات پے ۔۔۔۔۔۔۔
اوہو ہانیہ کیا ہوا أرام سے کھائو۔۔۔۔۔ٹھیک تو ہو نا۔۔۔۔۔
ہاں ہاں ٹھیک ہوں بھائی۔۔۔۔۔اب کیا بتاتی کی کیا کیا آج اس نے جوب پے
اچھا تم نے بتایا نہیں۔۔۔۔۔۔۔اسکی بات ابھی بیچ میں ہی تھی کی ہانیہ پھر سے بول اٹھی
بھائی گھر چلیں میرے سر میں بہت درد ہورہا ہے پلیز۔۔۔۔۔
ہاں ہاں چلو۔۔۔۔۔
ہانیہ نےتو اس کے سوال ختم ہونے پے شکر ادا کیا۔۔۔۔
______________________________________
پورے دن کا تھکا ہارا وہ ابھی گھر پہنچا تھا اس کی ماں اس کا ہی انتظار کر رہی تھی
اڑے مما آپ نے کھانا بھی نہیں کھایا ابھی تک ٹائم دیکھیں دس بج رہے ہیں أپ کو کتنی بار کہا ہےکی میرا انتظار نا کیا کریں اپنا خیال رکھیں آپ ۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اپنی ماں کو ھگ کیا
اڑی میری جان جب تک آپ نہیں کھاتے میرے موں سے نوالہ کیسےاندر جائیگا۔۔۔۔۔
اچھا موم آپ کھانا کگائیں میں موں ہاتھ دھو کے آتا ہوں پھر کھاتے ہیں
وائو فش مائے فیوریٹ ٹھینکس مام۔۔۔۔۔۔۔۔فرحاننے اپنی چیئر پے بیٹھتے ہوئے کہا
فرحان شادی کب کر رہے ہو بیٹا پورادن اکیلے رہ رہکے تھک جاتی ہوں میں گھر میں آپ تو صبح کے گئے شام کو آتے ہیں گھر میں ہم اکیلے رہ رہ کے تھک گئے ہیں اب ہمیں ہماری بہو چاہیے بس
اچھا ماما بس کچھ دن اور صبر کرلیں پھر کرلونگا شادی۔۔۔۔۔
فرحان نہیں ہوتا صبر ہم تھک گئے ہیں اساکیلےپن سے اب ہمیں ہمارے پوتے پوتیاں چاہیے اور آپ بھی اٹھائیس کے ہوگئے ہیں اب یا بڈھے ہوکے شادی کرینگے۔۔۔۔۔۔اس کی ماں نے خفگی ظاہر کی
ماما بس کچھ وقت۔۔۔۔۔
کتنا وقت۔۔۔۔۔
ماما اسی یئر میئرج کرلونگا میں پکا پرومس ۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے ان کا ہاتھ تھام کے وعدہ کیا اور پھر اٹھ کے اپنے روم میں آگیا اور فریش ہوکے اس نے موبائل اٹھایا جس پے فرحا کے دس مسج آئےہوئے تھے اس نے انہیں اغنور کیا اور ہانیہ کے نمبر پے کال ملائ۔۔۔۔
ہانیہ جو ابھی عشاء سے فری ہوئی تھی اپنے موبائل پے کال آئی تو اس نے موبائل اٹھایا تو اسکرین پے چپراسی نام جگمگا رہا تھا اس نے کال کٹ کردی پر ایک بار پھر موبائل بجا اور اس بار اس نے کال اٹھا ہی لی
کیا ہے میں نے بولا تھا نا کی میری جوب بس پانچ بجے تک ہے اس کے بعد آپ کون میں نہیں جانتی۔۔۔۔۔ہانیہ کال اٹھاتے ہی اس پر برس پڑی
اب بولوگی کی کیوں کی کال۔۔۔۔۔۔۔
ہاں وہ وہ مجھے کام تھا
۔۔۔۔۔فرحان نے بہانا بنایا
ہاں جی تو بولیں کونسا کام ہے آپ کو مسٹر چپراسی مجھ سے
فرسٹ میں چپراسی نہیں ہوں مس ہانیہ۔۔۔۔۔
ہاں تو کیا ہے واچمین۔۔۔۔۔
مس ہانیہ پلیز۔۔۔۔۔
ہاں ٹگیک ہے ٹھیک ہے بولیں کیا کام تھا آپ کو مجھ سے ۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں کل بتائونگا بائے۔۔۔۔۔یے کہہ کے فرحان نے کال رکھ دی اور مسکرا کے لیپ ٹاپ پے کام کرنے لگ گیا
عجیب انسان ہے پہلے کام تھا پھر چھوڑو اف چھچھورا چپراسی۔۔۔۔۔۔ویسے جو بھی کہو ہے بہت پیارا ہانیہ اسے یادکر کے مسکرائ۔۔۔نہیں نہیں بلکل نہیں ہانیہ تو نہیں سوچ سکتی اس مینڈک کے بارے میں کنٹرول رکھ اس کی چپکلی ہی کافی ہے اس کیلئے چل اب تو سو جا سکون سے۔۔۔۔۔۔۔
