Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 8)

Tere Ishq Main Ghafil By Mehak

بہت پیاری لگ رہی ہو ہانیہ۔۔۔۔۔۔رضا نے ہانیہ کو گھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہااس کے ان لفظوں پے ہانیہ نے فرحان کے بازو پے گرفت سخت کی تھی ایک لڑکی چاہے کتنی ہی مضبوط کیوں نا ہو ڈر ہی جاتی ہے اس کی بات پے فرحان کے ماتھے پے بل آئے تھے اور اس نے ہانیہ کے ہاتھوں پے ہاتھ رکھا تھا

افکورس بہنیں بھائیوں کو تو پیاری لگتی ہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان کے جواب پے رضا کے چہرے کی ہوائیاں اڑی تھی اور ہانیہ نے اپنی ہنسی دبائی تھی۔۔۔۔ کیوں ہانیہ تمہارا بھائی نے تمہاری تعریف کی ہے ٹھینکس تو کہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے جلے پے نمک چھڑکنے کا کام کیا تھا

ٹھینکس بھائی۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے مشکل سے جملہ مکمل کیا تھا

ویسے آج اتنی بڑی پارٹی میں بھی تمہارا یوں بہن جی ٹائپ بننا ضروری تھی کیا۔۔۔۔۔۔۔۔فرحا کو اس سے جیلسی ہوئی تھی ہر کوئی اس کی تعریف کر رہا تھا اور تو فرحان نے اس کیلئیے جواب دیا تھا اس کے ہاتھوں پے ہاتھ تھےفرحا نے تو یے سب فرحان کو جیلس کرنے کیلئیے کیا تھا پر یہاں تو الٹا ہی سین تھا وہ اسے ہی جیلس کر رہا تھا

فرحا یے تمہیں بہن جی ٹائپ لگ رہا ہے اس کا فراک80,000 کا ڈزائینر فراک ہے اینڈ جیولری بھی کافی ڈزائیننگ ہے اینڈ اگر سر پر دوپٹہ لینے کو تم بہن جی ٹائپ کہتی ہو تو یے غلط ہے سر پر دوپٹہ اسلام کی پرنسسز لیتی ہیں مائنڈ اٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اسے اچھا کھاسا جواب دیا تھا وہ آج پیاری لگ رہی تھی بہت اور فرحا نے اسے بہن جی کہہ دیا تھا اس دوپٹے کی وجہہ سے جو کی اس کو اور خوبصورت بنا رہا تھا سر پر دوپٹہ تو مغربی لڑکیوں کی پہچان ہے ہمیں دوسروں سے الگ بناتا ہے

اس کے جواب پے فرحا وہاں سے واک آؤٹ کرگئی تھی

پلیز آئیں بیٹھیں انجوائے دا پارٹی۔۔۔۔۔۔۔۔رضا انہیں کہہ کے فرحا کے پیچھے پیچھے جا چکا تھا

ہانیہ فرحان ایک ساتھ چل رہے تھے ہانیہ اس کے سنگ کافی محفوظ محسوس کر رہی تھی وہ اس کے دل کو اچھا لگنے لگا تھا پر وہ جانتی تھی وہ کسی اور کا ہے وہ اس بارے میں کچھ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی

کیا واقعی میں یے سوٹ اسی ہزار کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اسے دیکھ کے حیرانی سے پوچھا

ہاں کیوں۔۔۔۔۔۔۔

کیا کیوں یے ایسا سوٹ اسی ہزار کا اگر تممجھے اسی ہزار دیتے تو ایسے اسی سوٹ لادیتے مس چپراسی۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اسے چڑایا

ہانی پلیز یہاں تو چپراسی نا کہو مجھے۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے معصوم شکل بنائی

یے جتنا تمہارا چہرہ معصوم ہے نا تم اتنے ہی کمینے ہو۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اسے دیکھ کے ناک چڑائی اور اس کی اس بات پے فرحان کھل کے ہنسا تھا جس سے اس کا ڈمپل نمایاں ہوا تھا وہ بہت پیارا لگا ہانیہ کا بے ساختہ دل چاہا وہ اس کے ڈمپل کو ٹچ کرے پر وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی

کیا کر رہی ہے ہانیہ یے چپراسی کہاں اور تو کہاں کچھ تو خیال کر اسٹیٹس دیکھ اور وہ پہلے ہی کسی کی محبت میں گرفتار ہے چھوڑ ان سوچوں کو تو دو دن میں اس کی اثیر اس کی دیوانی نہیں ہو سکتی تو ہانیہ میر ہے اور ہانیہ میر رہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے دل میں خود کو ڈپٹا

کیا باتیں کر رہی ہو خود سے ۔۔۔۔

کچھ نہیں۔۔۔۔ویسے ایک بات پوچھوں تم سے۔۔۔۔۔

ہاں پوچھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنی ساری گرلس تمہاری جی ایف بن سکتی تھی وہ بھی بغیر بغیر سیلری کے تو تم نے مجھے ہی کیوں بنایا۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا

کیوںکی اگر میں انہیں بناتا تو ضرور ان کے دل میں میرے لیے خیال آتے وہ پوسیسو ہوجاتی اور جب میں چھوڑتا تو شاید اسے برا لگتا اس کا دل ٹوٹتا اور میں کسی جا دل نہیں توڑنا چاہتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان کا جواب اس کے دل میں اٹھتے سبھی ارمانوں جذباتوں کا گلا گھوٹنے کیلئیے کافی تھا اس کے جواب سے اس کی آنکھوں نمی اتری تھی جسے وہ بڑی مہارت سے چھپا گئی

ہیئی یو بیوٹیفل لیڈی کین یو ڈانس وتھ می۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ کے آگے ایک لڑکے نے ہاتھ کیا تھا۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے پہلے اسے پھر فرحان کو دیکھا

نہیں شی از مائن یوکین گو۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اسے کہا۔۔۔۔۔کاش فرحان کے یے لفظ سچ ہوتے کاش وہ دل سے یے لفظ کہتا

اوکے سوری۔۔۔۔۔وہ سوری کر کے چلا گیا

اور باقی کی پارٹی ہانیہ نے بے دلی سے اٹینڈ کی اور گھر آگئی۔۔۔۔۔۔۔

___________________________________

اسے فرحان کے پاس کام کرتے کرتے ایک مہینہ ہوگیا تھا اس میں اس کی فرحاسے چار سے پانچ بار ملاقات ہوئی تھی وہ اب واقعی جلد سے جلد یے جوب ختم کرنا چاہتی تھی اسے اپنی ماں کی طبیعت تو اہم تھی پر وہ اب اس کے دل میں جگہ بنانے لگا تھا شاید وہ اسے چاہنے لگی تھی اسے اب اس کے ساتھ ایک ایک پل گھنٹوں کا لگتا تھا اسے اس کا ساتھ بھی اچھا لگتا تھا پر وہ خود کو کتنا کنٹرول کرتی ابھی بھی وہ کافی دیر سے ریسٹورینٹ میں فرحان کے ساتھ بیٹھی فرحا کا انتظار کررہی تھی

وہ بار بار اپنی نازک کلائی میں بندھی گھڑی پر ٹائم دیکھ رہی تھی پروقت تھا کی گذرنے کا نام ہی نہیں کے رہا تھا ابھی بھیح سات منٹ رہتے تھے وہ تو رہ رہ کے خود کو کوس رہی تھی کس منحوس گھڑی میں اس نے اس شخص سے ایگریمینٹ کرلیا تھا

کیا لینگی چائے یا کافی اس نے اپنے مخصوص انداز میں پوچھا

نا چائے نا کافی زہر دے دیں مجھے مسٹر فرہان کاظمی

ہاہاہاہاہاہا وہ بھی دے دینگے مس ہانیہ میر پر ابھی نہیں ابھی گیارہ مہینے اور رہتے ہیں میرے ایگریمنٹ مہں اور ان گیارہ مہینوں میں تو آپ ایسا سو چیے گا بھی مت…..وہ جب ہنسا تو اس کا سیدھی گال پے ڈمپل نمایاں ہوا جو اسکی وجاہت کو اور پیارا بنا رہاتھا ایک پل کیلئے تو ہانیہ کو اپنا دل اس کی وجاہت میں ڈوبتا محسوا ہوا

پتا نہیں کونسی منحوس گھڑی تھی جب تم جیسے کمینے انسان کے ساتھ سودا کر لیا میں نے

مس ہانیہ مائنڈ یوار لینگویج

نہیں میں تو ایسے ہی بولونگی بتاؤ کیا کرلوگے نکال دوگے جوب سے جلدی کرو ابھی فارغ کرو

نو نو مس ہانیہ اتنی جلدی تو نہیں آپ میرا ایگریمہنٹ پورا کریں وہ مسکرایا

صحیح کہتی ہوں میں تم ایک نمبر کے کمینے اور نیچ انسان ہو

ہاہاہاہا مس ہانیہ یے بات آپ مجھے پچھلے ایک مہینے میں ایک ہزار بار بتا چکی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک تو تمہاری یے ہنسی گدھے لگتے ہو جب ایسے ہنستے ہو مینڈک۔۔۔۔۔۔۔۔

یے تو آپ کی نوازش ہے جو ایک اور نام سے نواز دیا مجھے آپ نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب سے وہ ساتھ تھی وہ مسکرانے لگا تھا اس کی یے چھوٹی چھوٹی باتیں اور شرارتیں اسے اچھی لگتی تھی

دیکھو مسٹر چپراسی اب اگر تمہاری وہ سو کالڈ چپکلی نا آئی تو میں چلی جائونگی۔۔۔۔۔۔۔

اڑے رلیکس مس بڑبڑ میری چپکلی بھی آجائیگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی فرحا وہاں آپہنچی تھی

ٹپک گئی یے سوکالڈ چپکلی بھی اور اس کا مینڈک بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے دانت پیس کے کہا اس کی آواز ہلکی تھی پر پھر بھی فرحان نے سن لی تھی اور اس نے مشکل سے اپنا قہقہہ روکا تھا وہ ایسے کہتی بہت پیاری لگ رہی تھی

کیسی ہو ہانیہ۔۔۔۔۔۔۔رضا نے ہانیہ کو دیکھا جو بلیک کلرکی بڑی سی چادر میں اس کا گلابی گلابی نکھرا نکھرا رنگ بہت پیارا لگ رہا تھا

الحمداللہ میں ٹھیک ہوں بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے بھی طنزیہ مسکان اس کی طرف اچھالی

اس کے موں سے بھائی سن کے رضا کا موں بنا تھا

اچھا میں چلتی ہوں ۔۔۔۔۔اس کا ایک گھنٹہ پورا ہوگیا تھا

کہاں جارہی ہو ۔۔۔۔۔۔فرحان نے اسے بازو سے پکڑا جس پے اس نے گھورا اور اس کی گھوری کو خاطر میں لاتے ہوئے اس نے اس کا بازو چھوڑدیا

گھر جارہی ہوں ضروری کام ہے مجھے۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ ان کو بائے کر کے نکل آئی تھی بغیر فرحان کی سنے

_________________________________________

مما کیسی ہو۔۔۔۔فرحان گھر میں داخل ہوتے ہی اپنی ماں کی طرف آیا

میں تو ٹھیک ہوں پر میرےبیٹے کے چہرے پے آجکل ہر وقت مسکان رہتے ہے خیر تو ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے فرحان کو بغور دیکھا

مما بس ایسے ہی۔۔۔۔۔۔

نوٹ کڈ جب جھوٹ بولنا نہیں آتا مائے بواۓ تو کیوں بولتے ہو۔۔۔۔

مما ہے ایک پاگل ایسی باتیں کرتی ہے کی میری ہنسی ہی نہیں جاتی بس اس کی باتیں ہی یاد رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

اوہ تو اٹ مینس دال میں کچھ کالا ہے۔۔۔۔۔۔۔

نہیں مما ایسا کچھ نہیں ہے وہ صرف میری فرینڈ ہے۔۔۔۔۔۔اور اس کے بعدفرحان نے انہیں شروع سے لے کے اب تک کی آل اسٹوری بتائ

بری بات فرحان یے تو آپ کے مینرس نہیں کی کسی کو یوں جی ایف بنائیں آپ۔۔۔۔۔اس کی ماما نے اسء جھرکا انہیں غصہ آیا تھا اپنے بیٹے سے انہیں ایسی امید تو بلکل نا تھی

مما آئے سوئر میں نے اسے ٹچ بھی نہیں کیا میں اس کی مجبوری کا بلکل فائدہ نہیں اٹھائونگا بلیو می آپ کو اپنی تربیت پے تو یقین ہے نا۔۔۔۔فرحان ان کے پاس زمین پے بیٹھ گیا تھا اور ان کا ہاتھ کے کہا

تھیٹس مائے بوائے ۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے اس کے ماتھے پے کس کی

تو کب ملا رہے ہیں اپنی مما کو اپنی اس پاگل سی فرینڈ سے۔۔۔۔۔۔۔اس کی ماں نے اس کے بالوں میں محبت سے ہاتھ پھیرا

مما کل لنچ پے ۔۔۔

اوکے مائے سن اب اٹھو اور جائیں فریش ہوجائیں میں کھانا لگاتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *