Tere Ishq Main Ghafil By Mehak NovelR50514 Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 7)
No Download Link
Rate this Novel
Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 7)
Tere Ishq Main Ghafil By Mehak
صبح اس کی آنکھ کھلی تو ساڈے آٹھ ہورہے تھے۔۔۔۔۔
یا اللہ یے کیا کردیا مجھ معصوم کو اتنا لیٹ اٹھا دیا کیا کردیا مجھ معصعوم کےساتھ اب تو وہ چپراسی چھوڑے گا نہیں پر اس چپراسی سے پہلے تو چاچی تجھے نہیں چھوڑیگی ہانیہ بیٹا اٹھ جلدی کر۔۔۔۔۔۔۔وہ جلدی جلدی اٹھی اور فریش ہوئی اس نے گیلے بالوں میں کیچر ڈالا اور باہر آگئی جانتی تھی اسے کام کر کے ہی جانا ہے
اڑے اٹھ گئی تو ہانیہ بیٹا۔۔۔۔۔۔چاچی نے اسے باہر آتے دیکھ کے مسکرا کے کہا ان کا ہے رویہ دیکھ کے ہانیہ کا تو سر چکرا گیا تھا اس نے خودکو چپیڑ ماری چیک کرنے کیلئیے کی خواب تو نہیں دیکھ رہی نا
آۓ ہاۓ خود کو کیوں مار رہی ہے بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں چاچی بس مچھر تھا۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے بہانہ بنایا
چل بیٹا تو بیٹھ نائیلا بہن کیلئیے ناشتہ لا اسے دیر ہو رہی ہوگی نوکری کیلئیے۔۔۔۔۔۔انہوں نے نائیلا کو آواز دی
اوہ تو یے مہربانی نوکری کی وجہہ سے ہورہی ہے۔۔۔۔۔نہیں چاچی میں جارہی ہوں آج دیر ہوگئی ہے سر ڈانٹیں گے ۔۔۔۔۔
اچھا چل ٹھیک ہے بیٹا جا تو اللہ تمہیں کامیاب کرے۔۔۔۔۔انہوں نے ہانیہ کی نظر اتاری اور ہانیہ جلدی سے کمرے میں آئی اور چادر اوڑھ جے بیگ اٹھا کے باہر نکل أئی
اچھا چچی میں چلتی ہوں اللہ حافظ۔۔۔۔
اڑے بیٹا بسوں پے کیوں دھکے کھائیگی نوید چھوڑ آئے گا وہ بھی تو کام پے جارہا ہے نا۔۔۔۔۔۔
نہیں چاچی میں چلی جائونگی۔۔۔۔۔آج تو انہوں نے ٹھان رکھی تھی کی ہانیہ کو حیرت پے حیرت کے جہٹکے دینے ہے
یا اللہ یے پیسہ بھی کیا چیز یے دشمن کو دوست اور دوست کو دشمنبنا دیتا ہے اب دیکھلیں چاچی جو کی مجھ سے کبھی پیار سے بات بھی نہیں کرتی تھی آج تو صدقے واری جارہی ہیں ہائے پیسے یے سب تیرا کمال ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی ہی رو میں خود سے باتیں کرتی چل رہی تجی
_______________________________
وہ اس کی کیبن کے دروازے کے باہر کھڑی سوچ رہی تھی کی اندر جاکے کیا کہے گی لیٹ آنے کی وجہہ تبھی اس کی سیکرٹری روم اے باہر نکلی اس نے ناگوار نظروں سے ہانیہ کو دیکھا کیوںکی فرحان جیسی ڈیشنگ پرسنلٹی جس پے آفس کی سب لڑکیاں مرتی تھی ایک تو خوبصورت اوپر سے اتنا امیر اور اس لڑکی کے ساتھ اتنا ہنس کے بات کرنا آفس کی ہر لڑکی کی آنکھ میں کھٹکنے لگی تھی وہ ہاں وہ پیاری تو بہت تھی بڑی بڑی آنکھیں گلابی رنگت
سنو فرحان اندر ہے کیا۔۔۔۔ہانیہ نے اس سے پوچھا
واٹ فرحان سر ہے وہ تمہارے لمٹ میں بات کرو۔۔۔۔۔۔اکانشا(فرحان کی سیکرٹری) نے اس سے کہا
اففف جو بھی ہے تم مجھے بتائو وہ اندر ہے کی نہیں۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے چڑ کے اس سے پوچھا
نہیں وہ میٹنگ کیلئیے گئے ہوئے ہیں دو بار پوچھ چکے تھے آپ کا مس ہانیہ اب خیر نہیں آپ کی دوسرے دن ہی لیٹ آئی ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اکانشا نے ایک ناگوار نظر اس پے ڈالی اور چلی گئی
اف ایک یے مینڈک اور یے لڑکیاں مکھیوں کی طرح ہر وقت اس کے آس پاس بھٹکتی رہتی ہیں ۔۔۔۔۔ہانیہ اپنے موں بات کرتے اندر آگئی
شکر ہے چپراسی اندر نہیں ہے اب آئے گا تو کہوںگی میں تو کب کی آئی ہوئی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سکون سے بیٹھ گئی اور اس کا انتظار کرنے لگی اور بلا آخر ایک گھنٹے کے بعد اس کاانتظار ختم ہوا
تو آگئی آپ مس ہانیہ۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے کیبن میں داخل ہوتے ہی اسے کہا
میں تو کب کی آئی ہوئی ہوں آپ ہی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اس کے آنکھوں سے آنکہھیں پھیری
فرحان اس کے جھوٹ پے مسکرایا۔۔۔۔۔وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کے جھوٹ نہیں بول سکتی تھی
اچھا مس ہانیہ۔۔۔۔اس نے پانی پیا
یس مسٹر چپراسی۔۔۔۔۔۔ہ
مس ہانیہ پلیز۔۔۔۔۔۔۔
اوکے اوکے مسٹر چپراسی۔۔۔۔۔۔ہانیہ کے لبوں پے بہت پیاری مسکان آئی تھی
اوہ گاڈ میں بھی کس سے سر کھپا رہا ہوں اچھا چلیں اٹھیں ۔۔۔۔۔
کیوں کہاں جانا ہے۔۔۔۔ہانیہ نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
شاپنگ پے۔۔۔۔۔
پر کیوں۔۔۔۔۔
اگر آپ کو یاد ہو تو مس ہانیہ ہمیں انوائٹ کیا تھا رضا نے آج پارٹی ہےچار بجے اس کے گھر اور آپ ایسی ڈریس میں تو بلکل نہیں لے کے جاسکتا ہوں۔۔۔۔۔۔
میں ان کے جیسی جینس شرٹ تو بلکل نہیں پہن سکتی۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اسے آنکھیں دکھائی
مس ہانیہ آپ مت پہننا پینٹ شرٹ پر اٹھیں تو صحیح چلیں ۔۔۔۔۔۔وہ اپنی کار کیز اٹھا کے باہر چلا گیا اور ہانیہ بھی اس کے پیچھے پیچھے آئی۔۔۔۔۔
________________________________________
پرفیکٹ۔۔۔۔۔۔۔تین گھنٹے شاپںگ مال میں گھومنے کے بعد جا کے فرحان کو ڈریس پسند آئی تھی وہ بلو کلر کا فراک تھا بہت زیادہ پیارا ۔۔۔۔
شکر کچھ تو پسند آیا میں نے سنا تھا لڑکیاں شوپنگ میں زیادہ وقت لگاتی ہیں پر تم نے تو حد ہی کرلی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے لمبی سانسیں لی
مس ہانیہ میر یے فرحان کاظمی کی پسند ہے کوئی بھی ایسی ویسی چیز نہیں پسند آتی اب چلیں مجھے اس کے میچنگ جیولری لینی ہے۔۔۔۔۔
کیا ۔۔۔۔۔۔ہانیہ تو چیخ پڑی تھء
افکورس فرحان کاظمیکی جی ایف ہو کوئی عام لڑکی نہیں۔۔۔۔۔۔فرحان اسے کہہ کے آگے نکل گیا اور وہ بھی اس کے پیچھے چل پڑی تقریبن دو بجے کے قریب ان کی شاپنگ پوری ہوئی اور وہ اسے ایک پارلر میں چھوڑ کے خود بھی تیار ہونے چلا گیا وہ اسے لینے ساڑے تین بجے پارلر کے باھر آیا اور ہانیہ کو کال کی وہ اسے پانچ منٹ میں آنے کا کہہ کے کال کٹ کردی وہ باھر گاڑی کو ٹیک لگا کے اس کا انتظار کر رہا تھا کی اسے چوڑیوں کی آواز سنائی دی اس نے چوڑیوں کی کھن کھن پے چہرا اوپر کر کے اسے دیکھا ایک پل کیلئیےتو اس کی آنکھیں اس پے ٹھر گئی وہ بہت پیاری لگ رہی تھی اس بلو کلر پیں اس کا گلابی رنگ اور نکھر گیا تھا اور ہلکا سا میک اپ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی آسمان سے اتری حور کی مانند
اوہو کہاں کھو گئے مجھے پتا یے پیاری لگ رہی ہوں تو کیا اب مجھے نظر لگائوگے ۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اس کے سامنے چٹکی بجائی
بڑی آئی کوئی پیاری نہیں لگ رہی ہو باندری لگ رہی اب بیٹھو دیر ہورہی ہے۔۔۔۔۔فرحان نے مشکل سے اس پر سے نظریں ہٹائی اور اسے کہا وہ اس کی بات پے موں پھلا کے گاڑی میں بیٹھ گئی واور فرحان ڈرائیونگ سیٹ پے اس کی نظر بار بار بھٹک کے اس کی طرف جارہی تھی وہ نہیں جانتا کیوں پر وہ بہت پیاری لگ رہی تھی اور اس نے آج بھی میک اپ میں سر پر دوپٹہ سجایا ہوا تھا اور وہ اسے اور پیارا بنا رہا تھا وہ یوں موں پھلائے اس کے دل میں اتر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
بہت پیاری لگ رہی ہو ہانیہ۔۔۔۔۔۔۔اس کی ناراضگی اس سے برداشت نا ہوئی۔
ٹھینکس۔۔۔۔۔ابھی بھی وہ اس سے موں پھیر کے بیٹھی تھی
مس ہانیہ میں کیا سوچ رہا تھا کی کیوں نا ایک سال ساتھ کام کرنا ہے تو کیوں نا ہم فرینڈس بن جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے جھجکتے ہوئے اپنی بات مکمل کی
نہیں۔۔۔۔۔اس نے یک لفظی جواب دیا
پر کیوں۔۔۔۔۔
کیوں بنو وجہہ۔۔۔۔۔
جب ایک یئر ساتھ کام کرنا ہی ہے تو فرینڈ ہی بن جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اوکے۔۔۔۔
فرینڈس۔۔۔۔۔فرحان نے ہینڈ آگے کیا
فریندس اس نے بھی ہاتھ تھام لیا۔۔۔۔۔
چلو آجائو اندر ۔۔۔۔۔فرحان نے گاڑی ایک ہوٹل کے سامنے روکی اور اس کی طرف کا دروازہ کھولا وہ بھی باہر آکے اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی ان کی جوڑی بہت پیاری لگ رہی تھی ایک شہزادہ تو دوسری شہزادی بہت پیارے لگ رہے تھے وہ ایک ساتھ ساتھ ہوٹل میں داخل ہوکے ہانیہ نےادھر ادھر دیکھا ہر طرف لڑکے لڑکیاں ساتھ ایک دوسرے کی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کھڑے تھے بہت لائوڈ میوزک چل رہا تھا
یے سب کیا ہے فرحان۔۔۔۔۔۔کپل پارٹی ہے تو کپلس ہیں سب آئے نو تمہارے لئیے عجیب ہے بٹ ڈونٹ وری تمہارے ساتھ ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے اس کے ہاتھ پے اپنا ہاتھ رکھا اور آج پہلی ہانیہ نے اپنے علاوہ کوئی اپنا محافظ دیکھا تھا اس نے اسےمسکرا کے دیکھا اس بھیڑ میں داخل ہوتے اس کو جو ڈر لگا تھا اب سب غائب تھا وہ خود کو پرسکون محسوس کر رہی تھی سچ کہتے ہیں الفاظ ہی ہوتے ہیں جو انسان کو دوست اور دشمن بناتے ہیں زبان ہی ہے جو عرش یا فرش پے بٹھاتی ہے اور آج اس کے لفظوں نے اسے محفوظ کیا تھا
ہائے ڈوڈ آگئے تم دونوں۔۔۔۔۔۔رضا اور فرحا ان کے قریب آئے تھے ہانیہ نے فرحا کو دیکھا جس نے ڈیپ گلے کی میکسی پہنی تھی اس کے بال کھلے تھے دوپٹہ سر میں کیا کندھے پے بھی نہیں تھا
بہت پیاری لگ رہی ہو ہانیہ۔۔۔۔۔رضا نے ہانیہ کو گہرے نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا اس کے ان لفظوں پے ہانیہ نے فرحان کے بازو کو پکڑا تھا ایک لڑکی چاہے جتنی ہی مضبوط کیوں نا ہو پر ڈر ہی جاتی ہے اس کی بات پے فرحان کے ماتھے پے بل آئے تھے اور اس نے ہانیہ کے ہاتھوں پے ہاتھ رکھا تھا
افکورس بہنیں بھائیوں کو تو پیاری لگتی ہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔فرحان کے جواب پے رضا کے چہرے کی ہوائیاں اڑی تھی اور ہانیہ نے اپنی ہنسی دبائی تھی۔۔۔۔۔
