Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Main Ghafil (Episode - 14)

Tere Ishq Main Ghafil By Mehak

فرحان اپنی فائلس چیک کررہا تھا کی سامنے ہانیہ نے کچھ پیپرس رکھ دیے

کیا ہے یے۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا

پیپرس۔۔۔۔۔۔

کس چیز کے۔۔۔۔۔۔۔۔

کانٹریکٹ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اپنے چہرے پے آتی لٹوں کو پیچھے کیا

کس چیز کا۔۔۔۔۔۔فرحان نے اسکو بغور دیکھا

اس چیز کا کی اگر تم مجھے چھ مہینے کے بعد طلاق دیتے ہو تو تمہیں اپنی ففٹی پرسینٹ پراپرٹی میرےنام کرنی ہوگی اور اگر ابھی تم مجھے طلاق دیتے ہو تو اپنی ایٹی پرسینٹ پراپرٹی میرے نام کرنی ہوگی۔۔۔۔۔

اور میں اس پے سائن کیوں کروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے کندھےاچکائے

کیوںکی اگر تم نے ان پیپرس پر سائن نا کیا تو میں تمہاری یے پکس میڈیا پے دے دونگی(ہانیہ کے ہاتھ میں کچھ پکس تھی فرحا کی اور اور فرحان کی) اور ساتھ میں یے نکاح نامہ بھی اور کہوںگی کی بیگم کے ہوتے ہوئے بھی کسی اور لڑکی سے چکر چلا رہا ہے اور مجھ پے ظلم بھی کرتا ہے مارتا ہے رات رات کو اس لڑکی کو میرے سامنے گھر لاتا ہے اور یقین مانو فرحان میں ایک لڑکی ہوں اورمیڈیا والے اس بات کا بتنگڑ بنانے میں وقت نہیں لگائینگے انہیں تو ویسے بھی کوئی بھانہ چاہیے ہوتا ہے چینل کی ریٹ بڑھانے کیلئیے اور اتنے بڑے آدمی دا بزنس ٹائکون فرحان رمیز کاظمی کے بارے میں ایسے خبر تو جنگل میں آگ کی طرح پھیلے گی اور اس میں آنٹی میرا پورا ساتھ دے رہی ہے تو جیت تومیری ہی ہوگی تمہاری پھر تو عزت بھی جائیگی اور پراپرٹی بھی اس لئیے بہتر ہے ان پے سائن کرلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کے وہ اسے دیکھ رہیتھی جو اس کی پلیننگ پے موں پھاڑے اسے ہی دیکھ رہا تھا

اس کے بتانے پے وہ یے سب امیجن کرنے لگا اور پھر جھنجھلا گیا۔۔۔۔۔تم میرے ساتھ ایسا کروگی۔۔۔۔

ہاں بلکل فرحان جانی اور قسم سے مجھے بلکل بھی شرم نہیں آئی گی ہے سب کرتےہوئے کتنا مزا آئے گا نا ایک دکھیاری بیوی کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ہائے میں بھی ٹی وی سیریلس کی ہیروئنس کی طرح کہونگی میرے شوہر نے میرے ساتھ دوکھا کیا ۔۔۔۔۔۔۔وہ نائٹین سیونٹیز کی ہروئن کی طرح ماتھے پے ہاتھ رکھی فل ڈرامائی انداز میں کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان آنکھوں کے ساتھ ساتھ موں پھاڑے اسے دیکھ رہا تھا مطلب اس کی اتنی عزت افزائی پے وہ خوش ہورہی تھی اسے اپنی ایکٹنگ کی پڑی تھی۔۔۔۔

اچھا تمہیں نہیں کرنی نا سائن نا کرو ہائے کتنا مزا آئے گا میں تو چلی کل کیلئیے سوٹ نکالنے کل آخر میڈیا میں جانا ہے اور کچھ میک اپ بھی نکال لوں جن سے چوٹوں کے نشان لگ جائیں گے اور تو اور ٹماٹو کیچپ بھی لے آئوں کچن سے اور اس ڈاکٹر سے بھی کنسرن کرلوں جس نے کہا تھا ہیلپ کرنے کا پر پورے ایک لاکھ روپے کے رہا تھا چل کوئی نہیں اسے بھی کہہ دیتی ہوں کی آجائے کل پٹی وغیرہ کا سامان لے کے۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے خوشی خوشی ٹیبل سے وہ پیپر اٹھائے اور اسے کل کی پلیننگ بتانی لگی

رکو۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اسے روکا جس پے ہانیہ نے مڑ کر اسے دیکھا

لائو پیپر یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے اسے کہا

کیا تم ان پے سائن کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔۔۔

اف میری ساری پلیننگ خراب ہوگئی تم نے تو مزا ہی کرکرا کردیا فرحان میں کیا سوچ رہی تھی کی چپراسی کی۔حالت واقعی چپراسی جیسی ہوجائیگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے اس کے سامنے پیپرس رکھے جس پے اس نے سائن کرلیے اور ہانیہ روم سے باہر چلی گئی

افف کیا آفت ہے جتنا میں نے سوچا تھا اس سے بھی کئی گنا زیادہ۔۔۔۔۔۔۔فرحان جھنجھلایا

_____________________________________

یے لیں آنٹی فرحان کے نے پیپرس پر سائن کرلیے۔۔۔۔۔ہانیہ نے وہ پیپرس مسز رمیز کو دیے۔۔۔۔۔

مجھے پتا تھا میرا بچا تم اس سے سائن کرلوگی۔۔۔۔۔مجھے یقین ہے اب وہ چھ مہینے تک تو تمہیں طلاق نہیں دینے والا اوریے بھی یقین ہے کی چھ مہینے میں تم اسے ضرور سیدھا کرلوگی۔۔۔۔۔۔۔مسز رمیز نے اس کا ماتھا چوما

ماما ٹیڑھی چیزوں کو سیدھا کرنا ہانیہ میر کو اف سوری ہانیہ فرحان کاظمی کو اچھے طریقے سے آتا ہے آنٹی۔۔۔۔۔۔۔

ویسے تم نے کیا کہا ایسا جو اس نے پندرہ منٹ میں سائن کرلیا پپرس پر۔۔۔۔

مسز رمیز اس کے ساتھ بیٹھی اور پھر ہانیہ نےبتانا شروع کیا کی اس نے کیا کیا اور مسز رمیز کی ہنسی نہیں رک رہی تھی

اففف ہانیہ بس اب اور نہیں اب میری ہہنسی نہیں رک رہی بیٹا اور نہیں اب بس ۔۔۔۔۔۔۔

آنٹی ابھی تو آپ کے بیٹے کو اور سہنا ہے اسے پتا نہیں ابھی کی اس کا پالا کس سے پڑا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور اب اس لڑکی کا کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈونٹ وری میری کیوٹ ماما اس چپکلی کو تو دو منٹ میں سیدھا کرلونگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے دانت پیس کے کہا جیسے اس کے دانت کے نیچے فرحا ہو

اچھا اب جائو سوجائو میری جان بہت وقت ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔انہوں نے اس کے ماتھے پے بوسہ دیا

اچھا اوکے ماما اپنا خیال رکھنا لو یو۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے مسز رمیز کے گالوں کوکھینچا اور اس کی گال پے کس کی اور اپنے روم میں چلی گئی جب روم میں آئی تو فرحان واشروم میں تھا اس نے جلدی سے اپنے سات آٹھ سوٹ اور کچھ جیولری نیل پالش میک اپ وغیرہ بیڈ پے بکھیرا اور خود بیچ میں بیٹھ گئی سامانوں کے اپنے آس پاس گھیر لیا

یے سب کیا ہے اور میرے بیڈ پے کیا کر رہی ہو تم۔۔۔۔۔فرحان روم میں آیا تو اسے بیڈپے سب کچھ بکھیرا دیکھ کے غصے سے کہا

یےبیڈ صرف آپ کا نہیں میرا بھی ہے فرحان۔۔۔۔۔۔۔

اوکے ۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے خود رلیکس کرنے کیلئیے لمبا سانس کیا اور صوفے پےبیٹھ گیا لیپ ٹاپ لے کے اس کی نظریں ہانیہ پےتھی جو کبھی ایک سوٹ اٹھاتی اس کے ساتھ جیولری میچ کرتی پھر میک اپ یہاں تک کی نیل پالش بھی پر پھر خود ہی اس کو بیزاریت سے دیکھ کے رکھ دیتی تھی پورا آدھا گھنٹا یوں بیٹھ کے تھک گیا آخر بیزار ہوکے اٹھا اور اس کے پاس آیا

کیا مسلئہ ہے ہٹائو ان سب کو مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔۔۔۔۔فرحان نے بیزاریت سے کہا

یار وہ ڈریس نہیں ڈسائڈ ہورہی کونسی پہنو اگر ڈریس ڈھونڈ لیتی ہوں تو پرگر اس کے ساتھ جیولری نہیں ملتی اگر جیقلری میچ ہوجاتی ہے تو پھر میک اپ میچ نہیں ہوتا اگر میک اپ میچ ہوجاتا ہے تونیل پالش میچ نہیں ہو اب بتائو کیا کروں میں۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے میسنی سے شکل بنا کے اسے دیکھا اور فرحان نے ایک اورنج کلر کا فراک اس کے ساتھ اورنج بالے اورنیل پالش نکال کےسائیڈ پے رکھی یے پہن لینا پلیز اب ہٹائو یے سب یہاں سے

اوکے۔۔بس پانچ منٹ۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے وہ ڈریس لیا اور سب سمیٹنی لگی وہ یہیں چاہتی تھی کی فرحان اسے ڈریس چوز کر کے دے جو کی اس نے دے دی تھی وہ جلدی سے سب سمیٹ کے بیڈ کی ایک طرف لیٹ گئی ۔۔۔۔۔۔

تم یہاں سوئوگی۔۔۔۔۔فرحان نے اس سے پوچھا

ہاں جانےمن میں یہیں سوئونگی ۔۔۔۔۔۔

پر کیوں۔۔۔۔۔۔

یے میرا روم ہے میرا بیڈ ہے اور اپنے شوہر کے ساتھ سوئونگی ۔۔۔۔۔۔۔۔

فرحان ہانیہ کو ایک نظر دیکھ کے اس کے اور اپنے بیچ میں تکیوں سے ایک بارڈر بنا کے لیٹ گیا کیوںکی جانتا تھا بےحس کی تب بھی وہ ہی جیتی گی اور وہ اسسے بےحس نہیں کرنا چاہتا تھا تھک گیا تھا وہ اس لیے سوگیا پر اسے نیند نہیں آرہی تھی اس نے کروٹ بدلی ہانیہ بہت سکون سے سورہی تھی وپ بہت پیاری لگ رہی تھی معصوم سے فرحان نے ہاتھ اٹھا کے اس کی روئی جیسی نرم گال کو چھوا

سوتے ہوئی کتنی معصوم لگتی ہو اور ویسے تو توبہ بہت بڑی آفت ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے دیکھ کے اسنے کہا اور پھر فرحا کو سوچتے ہی اس نے کروٹ بدل لی اور سوگیا

______________________________________

ا جی سنتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان سویا ہوا تھا کی اس کو اپنے چہرے پے پانی کی بوندیں گرتی محسوس ہوئی اور کانوں میں آواز پڑی اس نے أنکھں کھول کے دیکھا تو وہ اس کے بلکل سامنے کھڑی تھی اس کے گیلے گیلے بالوں میں سے پانی اس کے چہرے پر گر رہا تھا اس کا چہرہ صاف شفاف لگ رہا تھا پانی سے بھیگا بھیگا فرحان کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی تھی

اجی اتنا غور سے تو نا دیکھو مجھے شرم آتی ہے۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے دانتوں تلے انگلی دبائی

ہٹو پیچھے مجھے اٹھنا ہے۔۔۔۔۔اسےدور کر کے وہ اٹھا تھا اور واشروم میں فریش ہونے چلا گیاتھا

اڑے کپڑے تو لے کے جاتے ہانیہ نے کہا پر شاید وہ جا چکا تھا۔۔۔۔اور ہانیہ ڈریسنگ مرر کے سامنے آکے ریڈی ہونے لگی

ہانیہ سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہانیہ حجاب کر رہی تھی جب اسے فرحان کی آواز سنائی اس نےاپنی ہنسی دبا جے اسے جواب دیا

جی بولیں۔۔۔۔۔۔

ہانیہ مجھے کپڑے لے کے دو پلیز۔۔۔۔۔۔۔

اجی کیا کہہ رہے ہیں آپ مجھے شرم آتی ہے تھوڑا تو سوچ کے کہہ لیا کریں آپ تو صبح صبح ہی شروع ہوجاتے ہیں جی۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے دروازے کے قریب کھڑے ہوکے کہا

ہانیہ کے جواب میں فرحان کا دل چاہا وہ اپنا سر دیوار پر دے مارے۔۔۔۔۔ہانی پلیز۔۔۔۔۔۔۔

اچھا اچھا اوکے۔۔۔۔ہانیہ نے اس کا ڈریس نکالا اور آنکھوں پے ہاتھ رکھ کے ڈریس آگے کیا

یے لیں ڈریس۔۔۔۔۔اس کے کہنے پے فرحان نے ڈریس پکڑ لیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *